Explained with ayahs 28–29
اپنے دلوں میں جھانکو !
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چناچہ وہ حج و عمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ دعا (لبیک لاشریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جارہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کرسکیں۔ فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضامند ہوگا…
Read the full tafseer →سورة الروم 39
یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا چل رہا تھا۔ اس میں جن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائل یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد آگے خالص توحید پر کلام شروع ہورہا ہے۔
سورة الروم 40
مشرکین یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ زمین و آسمان اور اس کی سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے، اس کی مخلوقات میں سے بعض کو خدائی صفات و اختیارات میں اس کا شریک ٹھہراتے تھے، اور ان سے دعائیں مانگتے، ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے، اور مراسم عبودیت بجا لاتے تھے۔ ان بناوٹی شریکوں کے بارے میں ان کا اصل عقیدہ اس تلبیہ کے الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ (شرک کو مذموم و باطل ثابت کرنے کے لئے) تم سے ایک مضمون عجیب تمہارے ہی حالات میں سے بیان فرماتے ہیں (وہ یہ کہ غور کرو) کیا تمہارے غلاموں میں کوئی شخص تمہارا اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے شریک ہے کہ تم اور وہ (باعتبار اختیارات کے) اس میں برابر ہوں جن کا تم (تصرفات کے وقت) ایسا خیال کرتے ہو جیسا اپنے آپس (کے شریک وسہیم آزاد خود مختار کا) خیال کیا کرتے ہو (اور ان سے اجازت لے کر تصرفات کیا کرتے ہو یا کم از کم اندیشہ مخالفت ہی ان سے رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔ پس جب تمہارا غلام جو نوع بشر اور بہت سی چیزوں میں تمہارا شریک ہے اور تمہیں جیسا ہے، فرق…
Read the full tafseer →ضرب لکم مثلا من انفسکم ھل لکم من ما ملکت ایمانکممن شرکاء فی مارزقنم فانتم فیہ سواء تخافو نھم کخیگتکم انفسکم کذلک مفصل الایت لقوم یعقلون (28)
یہ خدا کی صفات اور اس کے حقوق میں دوسروں کی حصہ داری کے خلاف ایک ایسی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے جس پر خود مخاطب کا طرز عمل شاہد ہے۔ فرمایا کہ تمہارے شرک کے خلاف دلیل ڈھونڈھنے کے لئے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہارے باہمی طرز عمل ہی کو اللہ تعالیٰ تمہارے آگے بطور مثال پیش کرتا ہے۔ تم بتائو کہ جور زق و فضل ہم نے تم کو دے رکھا ہے اپنے غلاموں کے لئے بھی تم اس میں اس طرح کی حصہ داری تسلیم کرتے ہو کہ وہ اور تم اس میں برابر شریک ہوجائیں اور تم ان کا بھی…
Read the full tafseer →28-1یعنی جب تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے غلام اور نوکر چاکر جو تمہارے ہی جیسے انسان ہیں وہ تمہارے مال و دولت میں شریک اور تمہارے برابر ہوجائیں تو پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کے بندے چاہے وہ فرشتے ہوں پیغمبر ہوں اولیا وصلحا ہوں یا شجر وحجر کے بنائے ہوئے معبود، وہ اللہ کے ساتھ شریک ہوجائیں جب کہ وہ بھی اللہ کے غلام اور اس کی مخلوق ہیں ؟ یعنی جس طرح پہلی بات نہیں ہوسکتی، دوسری بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرنا اور انھیں بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا یکسر غلط ہے۔
28-2یعنی کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم (آزاد لوگ) آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔…
Read the full tafseer →11: کوئی بھی شخص یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کا غلام اس کی املاک میں اس کے برابر ہوجائے اور کوئی کام کرتے وقت اس سے اسی طرح ڈرنا پڑے جیسے دو آزاد آدمی جو کاروبار میں ایک دوسرے کے شریک ہوں، ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں، اگر یہ بات مشرک لوگ اپنے لیے گوارا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں دوسروں کو کیسے شریک ٹھہرا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ضرب لکم مثلا ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (28)
یہ مثال ان لوگوں کے لیے دی گئی ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ چاہے جن ہوں ، چاہے ملائکہ ہوں ، پتھر ہوں یا درخت ہوں ، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے مالوں میں ، اپنے نوکروں اور غلاموں کو شریک نہیں کرتے ۔ اپنے غلام کو شریک کیا ، اپنے برابر انسان کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ لہٰذا ان کا یہ رویہ بہت ہی عجیب ہے کہ وہ اللہ کا شریک ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں جبکہ اپنے زیردستوں کو اپنے مالوں میں شریک نہیں کرتے۔ یہ ان کا مال خود ان کا تخلیق کردہ بھی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا تخلیق کردہ ہے۔ لہٰذا ان کے موقف میں یہ واضح…
Read the full tafseer →1 یعنی شرک کا قبح و بطلان سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ خود تمہارے ہی احوال میں سے ایک مثال نکال کر بیان فرماتا ہے۔ وہ یہ کہ تمہارے ہاتھ کا مال (یعنی لونڈی غلام) جن کے تم محض ظاہری اور مجازی مالک ہو کیا اپنی روزی اور مال و متاع میں جو حق تعالیٰ نے دے رکھی ہے، تم ان کو برابر کا شریک تسلیم کرسکتے ہو جس طرح مشترک اموال و جائیداد میں اپنے بھائی بند حصہ دار ہوتے ہیں اور ہر وقت کھٹکا رہتا ہے کہ مشترک چیز میں تصرف کرنے پر برہم جائیں یا تقسیم کرنے لگیں یا کم از کم سوال کر بیٹھیں کہ ہماری اجازت اور مرضی کے بدون فلاں کام کیوں کیا۔ کیا ایسا ہی کھٹکا ایک آقا کو اپنے غلام یا نوکر کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر نہیں…
Read the full tafseer →ہَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ ”
ظاہر ہے کوئی آقا اپنے کسی غلام کو کبھی بھی اپنی ملکیت اور اپنی جائیداد میں اس طرح تصرف کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کا حق اور اختیار خود اس کے برابر ہوجائے۔ گویا یہ امر محال ہے۔
تَخَافُوْنَہُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ط ”
یعنی کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے خدشات اور اندیشے تم اپنی ذات اور اپنے مال و اسباب کے بارے میں رکھتے ہو ان لونڈی غلاموں کے بارے میں بھی تمہیں ایسے ہی اندیشے لاحق ہوئے ہوں ؟ تم لوگ اپنے آپ ‘ اپنی اولاد ‘ اپنی ملکیت کے بارے میں تو ہر وقت متفکرّ رہتے ہو کہ کہیں…
Read the full tafseer →28 یعنی یہ مثال تمہارے حسب حال ہے جس سے بات باسانی تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے۔ مثال یہ ہے کہ فرض کرو تمہارے کچھ غلام ہیں۔ کیا تم ان غلاموں میں اپنا مال و دولت تقسیم کرسکتے ہو کہ وہ تمہارے ہمسر بن جائیں۔ تم تو اس بات سے اس طرح خائف ہوجاؤ گے جیسے تم اپنے ان بھائی بندوں سے ڈرتے ہو جو تمہاری جائیداد میں پہلے سے شریک ہیں۔ اگر تم اس مشترکہ جائیداد میں کچھ تصرف کرنے لگو تو وہ تمہیں روک بھی سکتے ہیں۔ تمہارا محاسبہ بھی کرسکتے ہیں اور مشترکہ جائداد کو تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں۔ اب اگر تم اپنے غلاموں کو اپنی جائیداد میں برابر کا شریک بنالو۔ تو ان کے تمہارا غلام ہونے کے باوجود تمہیں ضرور ان سے…
Read the full tafseer →31۔ (جس سے اسی مسئلہ شرک و توحید پر مزید روشنی پڑے گی)
32۔” ظاہر ہے کہ کوئی غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔ پس جب تمہارا غلام جو نوع وغیرہ میں تمہارا شریک ہے۔ صرف ایک امر اضافی اس میں اور تم میں موجب امتیاز ہے، تمہارے خاص حق امتیاز میں تمہارا شریک نہیں ہوسکتا۔ تو تمہارے قرار دیئے ہوئے معبودات باطلہ کو جو کہ حق تعالیٰ کے غلام اور کسی کمال ذاتی یا وصفی میں خدا کے مماثل نہیں، بلکہ بعض تو ان میں سے خود مخلوقات الہیہ کے مصنوع ہیں۔ یہ معبودین خاص حق تعالیٰ کے حق معبودیت میں کس طرح اس کے ساتھ شریک ہوسکتے ہیں۔ “ (تھانوی (رح) یہ انسان تو تمہارے محض مجازی غلام ہیں، انسانی اوصاف میں تمہارے شریک، تم ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →ضرب لکم مثلاً من انفسکم . اللہ ایک مضمون عجیب تمہارے ہی حالات میں بیان کرتا ہے جو تمہاری ہی حالت سے اخذ کی گئی ہے۔ یہ مثال تمہارے حالات سے بہت قریب ہے۔
ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم فاتنتم فیہ سواء تخافونھم
کخیفتکم انفسکم . کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ‘ شریک ہے کہ تم اور وہ اس میں برابر ہوں جن کا تم ایسا خیال کرتے ہو جیسا اپنے آپس کا خیال کرتے ہو۔
ضَرَبَ ، اللہ نے بیان کیا۔
لَکُمْ ، یہ مشرکوں سے خطاب ہے۔
مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ، یعنی تمہارے مملوکوں میں سے۔
تَخَافُوْنظھُمْ کہ صرف کرنے میں تم کو ان کا اندیشہ لگا رہتا ہو۔
کَخِیْفَتِکُمْ…
Read the full tafseer →اے کفار مکہ اللہ تعالیٰ تم سے ایک عجیب مضمون تمہارے جیسے انسانوں میں سے بیان کرتا ہے۔
شان نزول : هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ (الخ)
طبرانی نے ابن عساکر سے روایت کیا ہے کہ مشرکین اس طرح تلبیہ پڑھا کرتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک۔ اس کے بعد کہا کرتے تھے الا شریکا ھو لک تملکہ ومالک یعنی نعوذ باللہ تیرا صرف ایک شریک ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ھل لکم (الخ) یعنی کیا تمہارے غلاموں میں کوئی تمہارا اس مال میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے شریک ہے اور جبیر نے بواسطہ داؤد بن ابی ہند اور ابو جعفر محمد بن علی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
Read the full tafseer →ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ۔۔ : یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا آ رہا تھا، اب خالص توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے شرک کے باطل ہونے کی مثال خود تمہاری ذات سے بیان فرمائی، تاکہ تمہیں کہیں دور نہ جانا پڑے۔ اپنے بارے میں یہی غور کرلو کہ تمہارے غلام جو تمہاری ملکیت میں ہیں، کیا ان میں سے کوئی بھی اس رزق میں تمہارا شریک ہے جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے کہ وہ اور تم اس کے مالک ہونے میں برابر ہوجاؤ اور اپنے اس غلام سے اسی طرح ڈرو جیسے تم آزاد لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ جواب ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں، غلام آقا کے اور مملوک مالک کے برابر کبھی نہیں ہوسکتا۔ تو پھر جب تم…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔
فرمایا، پھر فرمایا، پھر فرمایا پہلا من ابتدائیہ ہے گویا فرمایا : اس نے مثال اخذ کی اور تمہارے جو سب سے زیادہ قریبی شے ہے اس سے مثال کو اخذ کیا وہ تمہاری ذاتیں ہیں دوسرا من تبعیض کے لئے ہے تیسرا من زائدہ ہے استفہام کی تاکید کے لئے ہے آیت قریش کے کفار کے لئے نازل ہوئی۔ وہ تلبہ میں کہا کرتے تھے یہ سعید بن جبیر کا قول ہے : قتادہ نے کہا : یہ ایسی ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے لئے بیان فرمائی ہے معنی ہے کیا تم میں سے کوئی راضی ہے کہ اس کا مملوک اس کے مال اور نفس میں اس کی مثل ہو جب تم خود اس بات پر اپنے لئے راضی نہیں ہو تو تم نے اللہ تعالیٰ کے لئے کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین اس طرح تلبیہ کہتے تھے لبیک اللہم لبیک لا شریک لک الا شریک ہو لک تملکہ وما ملک یعنی اے اللہ میرے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کو تو نے شریک کرلیا اور تو اس کا مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، آیت ہل لکم من مالکت ایمان من شرکاء کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام اس مال میں شریک ہے جو تم کو دیا ہے۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ہل لکم من ما ملکت کے بارے میں فرمایا کہ یہ معبودوں میں ہے اور اس بارے میں فرماتے ہیں کہ تم ڈرتے ہو ان سے کہ وہ تمہارے خلاف نہ بن جائے…
Read the full tafseer →ضَرَبَ لَكُمْ [اس نے بیان کی تمہارے لئے ] مَّثَلًا [ایک مثال ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۭ [تہارے جییؤں میں سے ] هَلْ لَّكُمْ [کیا تمہارے لئے ] مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ [اس میں سے جن کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ ] مِّنْ شُرَكَاۗءَ [کوئی بھی شریک ہے ] فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ [اس میں جو ہم نے روزی دی تم کو ] فَاَنْتُمْ فِيْهِ [نتیجتاً تم لوگ اس میں ] سَوَاۗءٌ [برابر ہو جاؤ] تَخَافُوْنَهُمْ [جیسے تمہارا ڈرنا ] كَخِيْفَتِكُمْ [جیسے تمہارا ڈرنا ] اَنْفُسَكُمْ ۭ [اپنے نفوس (یعنی اپنوں) سے ] كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ [اس طرح ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [آیات کو ] لِقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ایک خاص مثال سے شرک کی تردید اور توحید کا اثبات
مشرکین جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلوق کو شریک کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر ایک سوال فرمایا اور وہ یہ کہ تم لوگوں کو ہم نے مال دیا ہے، اس مال میں تمہارے غلام اور باندیاں بھی ہیں، تم ان کے مالک ہو۔ مال تو تمہارے پاس غلام باندیوں کے علاوہ بھی ہے لیکن غلاموں اور باندیوں کے پاس سمجھ ہے کیونکہ وہ انسان ہیں، ان سے تم خدمت لیتے ہو، دوسرے مال کے اٹھانے اور رکھنے اور خرچ کرنے میں انہیں استعمال کرتے ہو، ان غلاموں اور باندیوں سے کام تو لیتے ہو لیکن تم نے انہیں اپنے مالوں میں شریک تو نہیں کیا ؟ اگر تم انہیں اپنے مالوں میں شریک کرلیتے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →22:۔ یہ معبود برحق اور معبود باطل کی تمثیل ہے جس سے شرک کا بطلان واضح ہوتا ہے۔ من انفسکم یعنی یہ تمثیل تمہارے ہی احوال سے منتزع ہے (ضرب لکم مثلا) یتبین بہ بطلان الشرک (من انفسکم) ای منتزعا من احوالہا التیھی اقرب الامور الیکم واعرفہا (روح ج 21 ص 37) ۔ کخیفتکم انفسکم میں انفسکم سے اپنی جنس کے آزاد لوگ مراد ہیں مثل خیفتکم من ھو من نوعکم من الاحرار المساھمین لکم (روح) ۔ حاصل تمثیل یہ ہے کہ ہم نے تمہیں جو اموال و املاک عطا کیے ہیں ان میں تم اپنے غلاموں کو شریک کر کے ان کو اپنے برابر کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہو یہاں تک کہ وہ ملک و تصرف میں دیگر آزاد لوگوں کی سطح پر آجائیں اور انہیں بھی وہی شوکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
شرک کی مثال
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا۔ جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں ۔ پھر آخر میں فرمایا کہ اللہ کی صفت بلند ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مماثلت نہیں رکھتی۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے شرک کی قباحت کو سمجھانے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے ضرب لکم مثلاً من انفسکم اللہ نے تمہارے لیے تمہارے نفسوں میں سے ہی ایک مثال بیان کی ہے۔ یعنی یہ مثال خود تمہارے افراد اور سوسائٹی میں پائی جاتی ہے ، اور وہ یہ ہے ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی ایسا ہے جو ہماری عطا کردہ روزی میں تمہارا شریک ہو فانتم فیہ…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 7
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 0 ۭ ہَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَاۗءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْہِ سَوَاۗءٌ تَخَافُوْنَہُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ 0 ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 28
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : من انفسکم فمن للابتداء و فی قولہ من ما ملکت للتبعیض والثالثہ مزید لتاکید الاستفہام الجاری مجری النفی۔ و معنی من انفسکم انہ اخذ مثلاً و انتزعہ من اقرب شیء منکم وھی انفسکم فالمعنی ھل ترضون لانفسکم ان یکون لکم شرکاء من بعض عبید کم یشاء کو نکم فیما رزقکم فانتم ایہا السادات والعبید فی ذلک المرزوق سواء تخافون العبیدان یستعبدوا بالتصرف کخیفتکم انفسکم ای کما یخاف بعضکم بعضا من الاحرار فانتم فیہ سواء والجملۃ فی موضع نصب جواب الاستفہام ای ھل لکم۔ فطرۃ اللہ الزموھا اوعلیکم بھا منیبین الیہ راجعین الیہ من اناب اذا رجع مرۃ بعد اخریٰ وھو حال من الضمیر فی المناصب المقدر لفطرۃ اللہ اوفی اقم لان الایۃ…
Read the full tafseer →ضَرَبَ لَکُمْ مَّثَلاً مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ط ھَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ مِّنْ شُرَکَآئَ فِیْ مَارَزَقْنٰـکُمْ فَاَنْـتُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ تَخَافُوْنَھُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (الروم : 28)
(وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے، کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں تمہارے حصہ دار ہیں اس مال میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے، یوں کہ تم (اور وہ) برابر کے حصہ دار بن گئے ہو، حتیٰ کہ تم ڈرنے لگو ان سے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو، اس طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں توحید کے ایسے دلائل دیے گئے ہیں جس سے ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان چیزوں سے مستفید ہوتا ہے۔ اب انسان کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے اس کی نفسانی کیفیت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
اے لوگو ! تمہارے لیے تمہارے نفس کی ایک کیفیت پیش کی جاتی ہے اس پر توجہ کرو اور اسے سمجھنے کے لیے اپنی عقل سے کام لو۔ وہ کیفیت اور مثال یہ ہے کہ جن غلاموں کے تم مالک ہو اور جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں کیا تم اپنے زرخرید غلاموں کو برابر کے شریک کرنے کے لیے تیار ہو ؟ تمہارے نفسوس کی کیفیت تو یہ ہے کہ تم اپنے مال میں غلاموں کی شراکت کے تصور سے اس طرح کانپتے ہو جس…
Read the full tafseer →28: ضَرَبَ لَکُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ (اللہ تعالیٰ ایک مضمون تمہارے ہی حالات میں سے بیان کرتے ہیں) یہ مثال ان لوگوں کے لئے بیان فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کا شریک تجویز کرتے ہیں۔
نحو : منؔ یہ ابتدائیہ ہے گویا اس طرح فرمایا۔ اس نے ایک مثال لی اور وہ تمہارے سب سے قریب چیز یعنی تمہارے نفوس سے لی ہے۔ ھَلْ لَّکُمْ ( کیا تمہارے لیے ہے) اے آزاد لوگو ! مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (ان میں سے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں) یعنی تمہارے غلاموں میں سے۔
نحو : منؔ تبعیضیہ ہے۔
مِّنْ شُرَکَآ ئَ (کوئی شریک )
نحو : منؔ تاکید استفہام کیلئے لایا گیا ہے جو کہ نفی کے قائم…
Read the full tafseer →تفسیر 28” ضرب لکم مثلا من انفسکم “ تمہارے ہی حالات بیان کرتا ہے اور یہ حالات تمہارے ہی حالات سے اخذکیے گئے ہیں۔ پھر آگے یہ مثال قائم کی ہے ۔” ھل لکم من ماملکت ایمانکم تمہارے غلام ہوں یاباندیاں ۔” من شرکاء فیما رزقناکم “ یعنی تمہارے دیئے ہوئے مال میں ” فانتم “ اور وہ فیہ سواء کہ تم سب ملکیت اور تصرف میں برابر ہو وہ بھی تمہاری طرح تصرف کرتے ہوں ۔
” تخافونھم کخیفتکم انفسکم “ جیسے تم کو اپنے لوگوں کا اندیشہ رہتا ہے اور وہ تمہاری طرح آزاد ہیں استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا اس کو تم عارسمجھتے ہو۔ باوجودیہ کہ تم سب آدمی ہو۔ پھر بھی غلاموں کے ساتھ مالی شرکت اور مساویانہ تصرف گوارہ نہیں ۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28‘ 29۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے سمجھانے کو یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ جو تمہارے لونڈی غلام ہیں کیا وہ ہماری دی ہوئی روزی میں تمہارے ساجھی ہیں یا تم ان سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ اپنے بھائی بندوں سے ڈرتے ہو مطلب یہ ہے کہ وہ غلام لونڈی تمہارے مال میں شریک نہیں نہ تم کو ان سے مال کے بانٹ لینے کا ڈر ہے نہ غلام کو یہ اختیار ہے کہ تم سے مال بٹائے ایسا ہی خدا کا کوئی شریک نہیں کیونکہ سب اللہ کے لونڈی غلام ہیں حاصل یہ ہے کہ جب تم کو غلاموں کا شریک ہونا نہیں بھاتا تو خدا کے ساتھ کیوں شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا ہم قرآن کی آیتوں کو اس طرح سے کھول کر سمجھ دار لوگوں کو سمجھاتے ہیں لیکن ان ظالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت نمبر : 29-28
اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمہارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم) ” کیا تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کرسکو “ جن کے بارے میں تمہارا خیال ہو کہ وہ تمہارے برابر ہیں (تخافونھم کخیفتکم انفسکم) ” تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ “ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کرلے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام…
Read the full tafseer →33 تردید شرک کے لیے ایک مثال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام انکار فرمایا گیا کہ " کیا تمہارے غلاموں میں کوئی ایسا ہوسکتا ہے جو تمہارا برابر کا شریک ہو ؟ "۔ کہ تم ان کی اجازت اور مرضی کے بغیر کوئی تصرف نہ کرسکو اور تمہیں ان کے ناراض ہوجانے، بگڑ جانے اور کام خراب کرنے کا کوئی خوف و اندیشہ ہو وغیرہ وغیرہ ؟ کیا تمہارے غلاموں میں سے کسی کی بھی یہ پوزیشن ہوسکتی ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو جب تم لوگ اپنے غلاموں اور نوکروں میں سے کسی کو اپنے ساتھ اس طرح شریک بنانے کو تیار نہیں ہو حالانکہ انسان ہونے میں، مخلوق ہونے میں، اللہ کے بندے اور اس کے مملوک ہونے میں تم لوگ آپس میں برابر ہو۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ
تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی جب تم اپنے لونڈی غلاموں کو، جو تمہاری ہی طرح آدم کی اولاد اور اللہ کی مخلوق ہیں، اپنے برابر کا اور مال و دولت میں شریک بنانا گوارا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی مخلوق میں بعضوں کو اس کا شریک کیوں گردانتے ہو ؟ کیا جن لوگوں کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اور غلام نہیں ہیں۔ دیکھیے سورة نحل آیت 71 (شوکانی)
Read the full tafseer →(30:28) ضرب مثلا۔ اس نے ایک مثال بیان کی ہے۔ الضرب کثیر المعانی لفظ ہے۔ اس کے اصل معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنا یعنی مارنا کے ہیں مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلا
(1) فاضربوا فوق الاعناق (8:12) ان کے گردنوں کے اوپر مارو، یعنی مار کر ان کی گردنیں اڑا دو ۔
(2) ضرب الارض بالمطر۔ زمین پر بارش کا برسنا۔
(3) ضرب الدراہم (دھات کو کوٹ کر) دراہم میں ڈالنا۔
(4) ضرب فی الارض۔ بمعنی سفر کرنا۔ (کیونکہ انسان پیدل چلتے وقت زمین پر پاؤں رکھتا ہے۔ اسی سے ہے فاضرب لہم طریقا فی البحر (20:77) پھر ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنا لینا۔
(5) ضرب الحیمۃ۔ خیمہ لگانا۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
لغات القرآن آیت نمبر ( 28 تا 32 ) ۔
ضرب (اس نے چلایا۔ بیان کیا) ۔ ایمان (داہنا (ہاتھ) ۔ سواء (برابر) ۔ اھوآئ (ھوائ) (خواہشیں۔ تمنائیں) ۔ اقم (قائم کر) ۔ وجھ (چہرہ) ۔ حنیف (اللہ ہی کا ہوجانا) ۔ فطرۃ اللہ (دین اسلام۔ اللہ کی فطرت) ۔ دین القیم (بہترین دین) ۔ منیبین (رجوع کرنے والے۔ پلٹنے والے ) ۔ فرقوا (وہ گروہ بن گئے۔ جداجدا ہوگئے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ) ۔ فرحون (خوش اور مگن رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 32) ۔ ” دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکت سے آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا رواج تو ختم ہوچکا ہے لیکن نزول قرآن کے وقت غلام اور لونڈیوں کا نہ صرف رواج تھا بلکہ انسانوں کی…
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو سمجھانے کو یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ جو تمہارے لونڈی غلام ہیں کیا وہ ہماری دی ہوئی روزی میں تمہارے ساجھی ہیں بھلا تم اپنے غلاموں میں سے کسی کو اپنے برابر ہوناپسند کرتے ہو، وہ برابر ہوکرمال میں تصرف کرنے لگے، یا تم ان سے ایساڈرتے ہو جیسا کہ اپنے بھائی بندوں سے ڈرتے ہو، مطلب یہ ہے کہ وہ غلام لونڈی تمہارے مال میں شریک نہیں نہ تم کو ان سے مال کی بانٹ لینے کا ڈر ہے نہ غلام کو یہ اختیار ہے کہ تم سے مال بٹائے، پھر غور کرو جب غلام کو جو تمہارا بنایا ہو انہیں وہ بھی اللہ کا بندہ ہے تم جیسا پھر تم اپنے مال میں جو تم کو اللہ نے دیا ہے تمہارا بنایا ہو انہیں،…
Read the full tafseer →[14] اس سے ملتا جلتا مضمون سورة نحل کی آیت 71 صفحہ 612 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے مال و متاع میں اپنے غلاموں کو برابر کا شریک نہیں کرتے تو پھر یہ کیسے سمجھ بیٹھے ہو کہ اللہ اپنی واحدانیت میں اپنے بندوں کو شریک کرے گا۔
Read the full tafseer →انتہائی ذلت
2: کس قدر تکلیف دہ تخیل ہے کہ انسان انسان کے سامنے جھکے اور اس درجہ اس کو عزت و تکریم کا مستحق سمجھے کہ اس کی پوجا کرے اور اس سے ڈرے اور دل میں اس کا خوف رکھے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا مالک اور مملوک کا درجہ برابر ہے ۔ کیا غلام آقا کی برابری کرسکتا ہے ۔ پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ خدا کے بندوں کو اس مالک الملک اور آقا کے مقابلہ میں لاکھڑا کرتے ہو ۔ کیا یہ بےعلمی اور جہالت کی بات نہیں ۔ کیا یہ سراسر انسانیت کے درجہ سے گری ہوئی بات نہیں ؟ کتنا بڑا ظلم ہے کہ حقیر اور ذلیل انسان کو الوہیت کی مسند پر بٹھا دیا جائے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ گمراہی اور ضلالت کا وہ مقام ہے جہاں رشدوہدایت…
Read the full tafseer →28۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تم ہی میں سے اور تمہارے ہی احوال و حالات میں سے ایک عجیب مضمون اور عجیب کہاوت اور مثال بیان فرماتا ہے وہ یہ کہ کیا اس مال و متاع میں جو ہم نے تم کو دیا ہے اور عطا فرمایا ہے تمہارے وہ مملوک یعنی لونڈی اور غلام جن کے تم مالک ہو شریک ہیں کہ تم اور وہ مملوک اس مال و متاع کی شرکت میں دونوں برابر ہوں اور اختیارات میں دونوں مساوی ہوں اور تم ان سے اسی طرح اندیشہ کرتے ہو اور ڈرتے ہو جس طرح تم اپنوں سے ڈرتے ہو ہم اسی طرح اپنی توحید کے دلائل تفصیل کے ساتھ ان لوگوں کے لئے بیان کیا کرتے ہیں جو سمجھ سے کام لیتے ہیں اور صحیح عقل رکھتے ہیں ۔ یعنی شرک کی مذمت اور اثبات توحید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 3۔ ظاہر ہے کہ غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →اللہ تم کو تمہاری ذات ہی سے ایک مثال دیتا ہے تم عقل کے ناخن لے کر اسے سن لو :
28۔ غور کرو کہ ایک آقا ہے اور ایک اس کا غلام ! کیا دونوں کا تعلق ایک جنس سے نہیں ؟ بلاشبہ دونوں کی جنس ایک ہے حالات زمانہ نے دونوں میں کتنا بڑا فرق کردیا ہے اور یہ فرق ضروری نہیں کہ غلام اور آقا ہی میں ہو بلکہ ہر ایک صاحب ملکیت اور اس کے ملازم کے درمیان موجود ہے ۔ ایک دکان ‘ فیکٹری اور ادارہ کا مالک ہے اور دوسرا اس دکان ‘ فیکٹری ادارہ میں ملازم ‘ دونوں کے حالات واحوال برابر نہیں ہو سکتے کہ دکان ‘ فیکٹری اور ادارہ میں کتنا نفع ہوتا ہے یا کتنا نقصان ملازم کو اس کی کوئی فکر نہیں اور نہ ملازم اس میں شریک ہے اور نہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ (For Him is the highest attribute - 30:27) The word مَثَل mathal is used for any such thing which has resemblance and similarity with something else, but its being exactly like that is not necessary. Therefore, the Qur'an has used the word 'mathal' for Allah Ta’ ala at several places, as in this very verse, and in another but Allah Ta’ ala's Being is completely beyond resemblance. (That is why the word 'mathal' has been translated above as 'attribute', which is also a possible lexical meaning of the word.)
Read the full tafseer →39 In the forgoing section, arguments have been given both for Tauhid and for the Hereafter; now the discourse turns to only Tauhid.
40 The mushriks, even after admitting that Allah is the Creator and Master of the earth and heavens and all that they contain, held some of His creatures as associates in His attributes and powers, and prayed to them, presented offerings and performed rites of worship before them. Their belief regarding their self-made associates is found in the words of the Talbih that they used to pronounce while going round the Ka'bah. They said: "Here I am, O Allah, here I…
Read the full tafseer →