Explained with ayahs 28–29
اپنے دلوں میں جھانکو !
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چناچہ وہ حج و عمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ دعا (لبیک لاشریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جارہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کرسکیں۔ فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضامند ہوگا…
Read the full tafseer →سورة الروم 41
یعنی جب کوئی شخص سیدھی سیدھی عقل کی بات نہ خود نہ سوچے اور نہ کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لیے تیار ہو تو پھر اس کی عقل پر اللہ کی پھٹکار پڑجاتی ہے اور اس کے بعد ہر وہ چیز جو کسی معقول آدمی کو حق بات تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے، وہ اس ضدی جہالت پسند انسان کو الٹی مزید گمراہی میں مبتلا کرتی چلی جاتی ہے۔ یہی کیفیت ہے جسے " بھٹکانے " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ راستی پسند انسان جب اللہ سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی طلب صادق کے مطابق اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اسباب ہدایت پیدا فرما دیتا ہے، اور گمراہی پسند انسان جب گمراہ ہی ہونے پر اصرار کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے لیے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ (شرک کو مذموم و باطل ثابت کرنے کے لئے) تم سے ایک مضمون عجیب تمہارے ہی حالات میں سے بیان فرماتے ہیں (وہ یہ کہ غور کرو) کیا تمہارے غلاموں میں کوئی شخص تمہارا اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے شریک ہے کہ تم اور وہ (باعتبار اختیارات کے) اس میں برابر ہوں جن کا تم (تصرفات کے وقت) ایسا خیال کرتے ہو جیسا اپنے آپس (کے شریک وسہیم آزاد خود مختار کا) خیال کیا کرتے ہو (اور ان سے اجازت لے کر تصرفات کیا کرتے ہو یا کم از کم اندیشہ مخالفت ہی ان سے رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔ پس جب تمہارا غلام جو نوع بشر اور بہت سی چیزوں میں تمہارا شریک ہے اور تمہیں جیسا ہے، فرق…
Read the full tafseer →بل اتبع الذین غلموا ھوائھم بغیر علم فمن یھدی من اضل اللہ وما لھم من نصرین (29)
الذین ظلموا ‘ سے مراد یہی مشرکین ہیں جنہوں نے شرک جیسے ’ ظلم عظیم ‘ کا ارتکاب کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ عقل سے رہنمائی حاصل کرنے والی مخلوق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں اور بدعات کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ ’ بغیر علم ‘ میں ’ علم ‘ سے مراد دلیل و حجت ہے۔ یعنی اس پیروی میں انہوں نے علم اور دلیل کو رہنما نہیں بنایا ہے بلکہ آنکھ بند کرکے خواہشوں کے پیچھے چل پڑے ہیں۔
’ فمن یھدی من اضل اللہ۔ ‘ یعنی جو اللہ کے قانون کی زد میں آکر گمراہی ہوچکے ہوں بھلا ان کو کون راہ یاب کرسکتا ہے ! اللہ نے رہنمائی کے لئے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے…
Read the full tafseer →29-1یعنی اس حقیقت کا انھیں خیال ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بےبہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بےعلمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیروکار ہیں۔
29-2کیونکہ اللہ کی طرف سے ہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب اور آرزو ہوتی ہے، جو اس طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں، انھیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
29-3یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب پھیر دے۔
Read the full tafseer →12: یعنی اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں اسے ہدایت کی توفیق نہ دی ہو۔
Read the full tafseer →بل اتبع الذین ۔۔۔۔۔ لھم من نصرین (29)
ہوائے نفس کا پھر نہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ کوئی ضابطہ ہوتا ہے۔ بس نفس انسانی کی بدلتی ہوئی خواہشات آگے آگے ہوتی ہیں اور انسان ان کے پیچھے ہوتا ہے۔ جس طرف میلان ہوا ، اسی طرف ڈھل گیا۔ جہاں کوئی ڈر ہوا ، رک گیا ، جہاں ذرا بھی امید اور لالچ پیدا ہوا دوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ نہ ایسا شخص کسی حد پر رکتا ہے ، نہ حق و باطل کا محافظ رکھتا ہے اور نہ حلال و حرام کی تمیز کرتا ہے اور نہ اپنے تصورات و اعمال کو کسی ترازو میں تولتا ہے ۔ جب کوئی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں رہتی ، ایسا شخص گمراہی کی راہوں پر اس قدر دور چلا جاتا ہے کہ واپسی کی…
Read the full tafseer →2 یعنی یہ بےانصاف لوگ ایسی صاف و واضح باتوں کو کیونکر سمجھیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہی نہیں بلکہ جہالت اور ہوا پرستی سے محض اوہام و خواہشات کی پیروی پر تلے ہوئے ہیں۔
3 یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی بےانصافی جہل اور ہوا پرستی کی بدولت راہ حق پر چلنے اور سمجھنے کی توفیق نہ دی۔ اب کون طاقت ہے جو اسے سمجھا کر راہ حق پر لے آئے یا مدد کر کے گمراہی اور تباہی سے بچا لے لہذا ایسوں کی طرف سے زیادہ متحسر اور غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان سے قطع نظر کر کے آپ ﷺ ہمہ تن اپنے پروردگار کی طرف توجہ کیجئے۔ اور دین فطرت پر جمے رہیے۔
Read the full tafseer →فَمَنْ یَّہْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط ”
اگر کسی کی ہٹ دھرمی کی سزا کے طور پر اللہ ہی نے اس کی گمراہی پر مہر ثبت کردی ہو تو وہ ہدایت کیسے پاسکتا ہے ؟
وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ”
اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں دین کی بنیاد اور اصل روح بیان ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →29 بات یہ نہیں کہ ان مشرکوں کو حقیقت کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ شرک کے اس دھندے میں ان کے بہت سے دنیوی مفادات وابستہ ہیں۔ مہنتوں اور پروہتوں اور مجاوروں کو ایسے ہی عقائد کی وجہ سے نذرانے وصول ہوتے ہیں اور یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ جس میں کچھ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔ وہ اپنے مریدوں یا عبادت گزاروں کو کئی قصے کہانیاں گھڑ کر سناتے، ان کی بزرگی اور اولیائی کی شان سے ڈراتے دھمکاتے اور انھیں نذرانے دینے پر مجبور بنا دیتے ہیں۔ نیز یہ لوگ اپنے مریدوں کو شفاعت کی خوشخبریاں سناتے رہتے ہیں۔ کہ فلاں پر صاحب سے اپنا وابستہ کرلینا ہی ان کی شفاعت اور اخروی نجات کی ضمانت ہے۔ اس طرح عابد و معبود…
Read the full tafseer →33۔ یعنی باوجود اس تبیین و تفصیل اور اس توضیح وتشریح کے یہ لوگ دلائل پر غور نہیں کرتے۔ بےانصافی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اتباع اپنی خواہشوں کا کئے جاتے ہیں۔
34۔ (جو انہیں عذاب سے رہائی دلاسکے) یہ ان گمراہوں کی معذوری کا بیان نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ ایسے بد پرہیز لاعلاج مریضوں کے حق میں زیادہ غم وتردد سے کام نہ لیجئے، ہماری طرف توجہ رکھیئے۔ (آیت) ” من اضل اللہ “۔ اللہ کی طرف سے یہ اضلال یا گمراہی ان لوگوں کے عناد اور کجروی کے لازمی نتیجہ کے طور پر ہوگی۔ (آیت) ” لھم “۔ ضمیر کا صیغہ جمع (آیت) ” من اضل اللہ “۔ کے معنی کے اعتبار سے ہے۔ (آیت) ” والجمع باعتبار المعنی (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →بل اتبع الذین ظلموا اھواء ھم بغیر علم . (ا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے) بلکہ ظالم اپنی خواہشات کے پیچھے بغیر جانے چلتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یعنی جن لوگوں نے شرک کر کے اپنے اوپر خود ظلم کیا کہ اپنی جانوں کو عذاب کا مستحق بنایا۔
بِغَیْرِ عِلْمٍ یعنی ان باتوں کو جانے بغیر جن کو جاننا ان پر لازم تھا۔
فمن یھدی من اضل اللہ . سو جس کو اللہ نے گمراہ کردیا اس کو کون ہدایت کرسکتا ہے۔ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی جب وہ خواہشات نفسانی کے پیرو ہوگئے اور اللہ کی بھیجی ہوتی ہدایت کو انہوں نے ٹھکرا دیا تو اب کون ان کو ہدایت کرسکتا ہے۔
وما لھم من نصرین . اور ان کا کوئی مددگار نہیں (کہ ان کو نفسانی آفات سے…
Read the full tafseer →بلکہ ان کافروں یعنی یہود و نصاری اور مشرکین نے اپنے شرکیہ خیالات کا بلا کسی صحیح دلیل و حجت کے اتباع کر رکھا ہے۔
سو جس کو اللہ ہی اپنے دین سے گمراہ کرے اس کو کون دین کے راستے پر لاسکتا ہے۔
اور ان یہود و نصاری اور مشرکین کا عذاب الہی سے کوئی بھی حفاظت کرنے والا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ : یعنی آیات کو کھول کر بیان کرنے کا فائدہ ان لوگوں کو ہے جو عقل کے پیچھے چلیں، مگر یہ لوگ جنھوں نے شرک کے ارتکاب کا ظلم کیا، جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں، یہ عقل کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور شرک کا اصل وہ خواہشیں اور آرزوئیں ہی ہیں جو شیطان اپنے پیچھے چلنے والوں کے دلوں میں پیدا کردیتا ہے۔ جن کا نہ انھیں علم ہوتا ہے اور نہ حقیقت میں کہیں ان کا وجود ہوتا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (112 تا 120) اور سورة نجم (23 تا 25)۔
فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا…
Read the full tafseer →جب حجت ان پر قائم ہوگئی تو یہ ذکر کیا کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان کی عبادت میں اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں اور اس میں اسلاف کی تقلید کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں، اس آیت میں قدریہ کا رد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین اس طرح تلبیہ کہتے تھے لبیک اللہم لبیک لا شریک لک الا شریک ہو لک تملکہ وما ملک یعنی اے اللہ میرے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کو تو نے شریک کرلیا اور تو اس کا مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، آیت ہل لکم من مالکت ایمان من شرکاء کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام اس مال میں شریک ہے جو تم کو دیا ہے۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ہل لکم من ما ملکت کے بارے میں فرمایا کہ یہ معبودوں میں ہے اور اس بارے میں فرماتے ہیں کہ تم ڈرتے ہو ان سے کہ وہ تمہارے خلاف نہ بن جائے…
Read the full tafseer →بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ [بلکہ پیروی کی ان لوگوں نے جنہوں نے ] ظَلَمُوْٓا [ظلم کیا ] اَهْوَاۗءَهُمْ [اپنی خواہشات کی ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ [کسی علم کے بغیر ] فَمَنْ يَّهْدِيْ [تو کون ہدایت دے گا ] مَنْ [اسے جس کو ] اَضَلَّ اللّٰهُ ۭ [گمراہ کیا اللہ نے ] وَمَا لَهُمْ [اور نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنْ نّٰصِرِيْنَ [کوئی مدد کرنے والوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ایک خاص مثال سے شرک کی تردید اور توحید کا اثبات
مشرکین جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلوق کو شریک کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر ایک سوال فرمایا اور وہ یہ کہ تم لوگوں کو ہم نے مال دیا ہے، اس مال میں تمہارے غلام اور باندیاں بھی ہیں، تم ان کے مالک ہو۔ مال تو تمہارے پاس غلام باندیوں کے علاوہ بھی ہے لیکن غلاموں اور باندیوں کے پاس سمجھ ہے کیونکہ وہ انسان ہیں، ان سے تم خدمت لیتے ہو، دوسرے مال کے اٹھانے اور رکھنے اور خرچ کرنے میں انہیں استعمال کرتے ہو، ان غلاموں اور باندیوں سے کام تو لیتے ہو لیکن تم نے انہیں اپنے مالوں میں شریک تو نہیں کیا ؟ اگر تم انہیں اپنے مالوں میں شریک کرلیتے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →23:۔ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی اس قدر دلائل کے بعد مسئلہ توحید میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن اس کے باوجود مشرکین ان میں غور و فکر نہیں کرتے بلکہ خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتے ہوئے بلا دلیل وحجت اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں والذین ظلموا ھم المشرکون (بحر ج 7 ص 171) ۔ ان معاندین کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان سے توفیق ہدایت سلب کرلی گئی ہے اس لیے اب انہیں کوئی بھی راہ راست پر نہیں لاسکتا اور نہ ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی بچا سکتا ہے۔ فمن یھدی الخ استفہام انکاری ہے۔ ای لایقدر علی ہدایتہ احد (ابو السعود ج 5 ص 722) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
شرک کی مثال
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا۔ جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں ۔ پھر آخر میں فرمایا کہ اللہ کی صفت بلند ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مماثلت نہیں رکھتی۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے شرک کی قباحت کو سمجھانے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے ضرب لکم مثلاً من انفسکم اللہ نے تمہارے لیے تمہارے نفسوں میں سے ہی ایک مثال بیان کی ہے۔ یعنی یہ مثال خود تمہارے افراد اور سوسائٹی میں پائی جاتی ہے ، اور وہ یہ ہے ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی ایسا ہے جو ہماری عطا کردہ روزی میں تمہارا شریک ہو فانتم فیہ…
Read the full tafseer →بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ 0 ۚ فَمَنْ يَّہْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللہُ 0 ۭ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 29
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : من انفسکم فمن للابتداء و فی قولہ من ما ملکت للتبعیض والثالثہ مزید لتاکید الاستفہام الجاری مجری النفی۔ و معنی من انفسکم انہ اخذ مثلاً و انتزعہ من اقرب شیء منکم وھی انفسکم فالمعنی ھل ترضون لانفسکم ان یکون لکم شرکاء من بعض عبید کم یشاء کو نکم فیما رزقکم فانتم ایہا السادات والعبید فی ذلک المرزوق سواء تخافون العبیدان یستعبدوا بالتصرف کخیفتکم انفسکم ای کما یخاف بعضکم بعضا من الاحرار فانتم فیہ سواء والجملۃ فی موضع نصب جواب الاستفہام ای ھل لکم۔ فطرۃ اللہ الزموھا اوعلیکم بھا منیبین الیہ راجعین الیہ من اناب اذا رجع مرۃ بعد اخریٰ وھو حال من الضمیر فی المناصب المقدر لفطرۃ اللہ اوفی اقم لان الایۃ…
Read the full tafseer →بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْآ اَھْوَآئَ ھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍج فَمَنْ یَّھْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (الروم : 29)
(مگر یہ ظالم بےدلیل اپنی ہَوائے نفس کے پیچھے چل رہے ہیں تو کون اس شخص کو راستہ دکھاسکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو، ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہوسکتا۔ )
ہَوائے نفس کی پیروی کرنے والوں کا انجام
بعض دفعہ انسان کسی صحیح بات کو بھی قبول کرنے میں اس لیے تأمل کرتا ہے کہ وہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایسی صورت میں بات کہنے والے کا فرض یہ ہے کہ وہ آسان سے آسان دلیل کے ذریعے اپنے مخاطب کو سمجھانے کی کوشش کرے۔ چناچہ مخاطب اگر واقعی حُسنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں توحید کے ایسے دلائل دیے گئے ہیں جس سے ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان چیزوں سے مستفید ہوتا ہے۔ اب انسان کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے اس کی نفسانی کیفیت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
اے لوگو ! تمہارے لیے تمہارے نفس کی ایک کیفیت پیش کی جاتی ہے اس پر توجہ کرو اور اسے سمجھنے کے لیے اپنی عقل سے کام لو۔ وہ کیفیت اور مثال یہ ہے کہ جن غلاموں کے تم مالک ہو اور جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں کیا تم اپنے زرخرید غلاموں کو برابر کے شریک کرنے کے لیے تیار ہو ؟ تمہارے نفسوس کی کیفیت تو یہ ہے کہ تم اپنے مال میں غلاموں کی شراکت کے تصور سے اس طرح کانپتے ہو جس…
Read the full tafseer →29: جب انہوں نے اس سے اثر نہ لیا تو ان سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا۔ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (بلکہ ظالموں نے اتباع کی) ظلموا یعنی شرک کر کے اپنے اوپر ظلم کیا۔ جیسا ان الشرک لظلم عظیم ] لقمان : 13[ میں ہے۔
اَھْوَآ ئَ ھُمْ بِغَیْرِعِلْمٍ (اپنی خواہشات کی بغیر علم کے) ای اتبعوا اھواء ھم جاہلین جہالت کا ارتکاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی خواہشات کی اتباع کی۔
فَمَنْ یَّھْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ـ(جس کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے) اضل اللہ ای اضلہٗ
اللہ ضمیر مفعولی حذف ہے۔ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (اور ان کیئے کوئی مددگار نہ ہوگا) جو عذاب کے سلسلہ میں ان کی…
Read the full tafseer →29۔” بل اتبع الذین ظلموا “ انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک کیا ۔ اھواء ھم شرک کرنے پر ۔ بغیرعلم جہالت کی وجہ سے ان کاموں کو جوان پر واجب تھے۔” فمن یھدی من اضل اللہ “ یعنی اللہ اس کو گمراہ کرے گا۔” ومالھم من نصرین “ اور کوئی ان سے عذاب کو روکنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28‘ 29۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے سمجھانے کو یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ جو تمہارے لونڈی غلام ہیں کیا وہ ہماری دی ہوئی روزی میں تمہارے ساجھی ہیں یا تم ان سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ اپنے بھائی بندوں سے ڈرتے ہو مطلب یہ ہے کہ وہ غلام لونڈی تمہارے مال میں شریک نہیں نہ تم کو ان سے مال کے بانٹ لینے کا ڈر ہے نہ غلام کو یہ اختیار ہے کہ تم سے مال بٹائے ایسا ہی خدا کا کوئی شریک نہیں کیونکہ سب اللہ کے لونڈی غلام ہیں حاصل یہ ہے کہ جب تم کو غلاموں کا شریک ہونا نہیں بھاتا تو خدا کے ساتھ کیوں شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا ہم قرآن کی آیتوں کو اس طرح سے کھول کر سمجھ دار لوگوں کو سمجھاتے ہیں لیکن ان ظالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت نمبر : 29-28
اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمہارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم) ” کیا تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کرسکو “ جن کے بارے میں تمہارا خیال ہو کہ وہ تمہارے برابر ہیں (تخافونھم کخیفتکم انفسکم) ” تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ “ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کرلے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام…
Read the full tafseer →34 خواہشات کی پیروی ہلاکت و تباہی کی راہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ان لوگوں کی گمراہی کے اصل سبب کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ظالم لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں بغیر کسی علم ۔ اور دلیل ۔ کے۔ اور جس کفر و باطل کو انہوں نے اپنا رکھا ہے اس کی لیے نہ کوئی علم اور دلیل ہے نہ ہوسکتی ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو کسی علم وحجت اور دلیل و سند سے کوئی غرض ہی ہوتی ہے۔ ان کو تو اپنی خواہشات کی پرستش و پیروی سے غرض ہوتی ہے اور بس۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ علم و معرفت اور سند و دلیل کے بغیر محض خواہشات کے پیچھے چلنا اصل بیماری اور تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ کیونکہ جو لوگ اتباع ھویٰ ۔ خواہش پرستی ۔ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ
تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →ف 7 اللہ تعالیٰ کی طر گمراہی کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہر چیز کا خلاق ہے ورنہ انسان کی گمراہی کا سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے۔
Read the full tafseer →(30:29) بل حرف اضراب ہے بمعنی بلکہ۔ یعنی یہ عقل سے تو کام لیتے نہیں بلکہ بےانصافی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنی خواہشات کا اتباع کر رہے ہیں۔
یھدی : یھدی یھدی ھدایۃ (ضرب) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب وہ ہدایت کرتا ہے۔ من یھدی میں من سوالیہ ہے۔ کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟
من اضل اللہ : من موصوفہ ہے اضل ماضی صیغہ واحد مذکر غائب۔ اضلال (افعال) مصدر جس کو اللہ نے گمراہ کیا۔ (اللہ کی طرف سے اضلال یا گمراہی ان لوگوں کی کج روی کے لازمی نتیجہ کے طور پر ہے)
مالہم نہیں ہے ان کے لئے (ہم صیغہ جمع باعتبار معنی ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی (حمائیتی) نہ ہوگا۔ ای لمن اضل اللہ تعالیٰ یعنی جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
لغات القرآن آیت نمبر ( 28 تا 32 ) ۔
ضرب (اس نے چلایا۔ بیان کیا) ۔ ایمان (داہنا (ہاتھ) ۔ سواء (برابر) ۔ اھوآئ (ھوائ) (خواہشیں۔ تمنائیں) ۔ اقم (قائم کر) ۔ وجھ (چہرہ) ۔ حنیف (اللہ ہی کا ہوجانا) ۔ فطرۃ اللہ (دین اسلام۔ اللہ کی فطرت) ۔ دین القیم (بہترین دین) ۔ منیبین (رجوع کرنے والے۔ پلٹنے والے ) ۔ فرقوا (وہ گروہ بن گئے۔ جداجدا ہوگئے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ) ۔ فرحون (خوش اور مگن رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 32) ۔ ” دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکت سے آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا رواج تو ختم ہوچکا ہے لیکن نزول قرآن کے وقت غلام اور لونڈیوں کا نہ صرف رواج تھا بلکہ انسانوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں مشرکین کو الزام دے کر اور ان سے مایوسی ظاہر فرما کر نبی ﷺ کی طرف خطاب کرکے حکم دیتا ہے کہ اے لوگو تم اپنا منہ اللہ کی عبادت کے لیے سیدھارکھو ان آیتوں میں یہ اللہ کی وحدانیت کی تاکید ہے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کے اس دین اسلام کی پیروی کروجس پر اس نے پیدا کیا ہے۔
صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو بےدین کردیتے ہیں پس خدا کی عبادت کرو، اور خدا سے ڈرو، اور نماز کی پابندی کرو کیونکہ تمام عیب سے بچاتی ہے اور شرک مت کرو۔ اس کے بعد مشرکوں کا حال بیان کیا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[15] فطرت سے مراد دین اسلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایمان پر پیدا کیا۔ جیسا کہ
صحیحین کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی اس عہد الست پر (اعراف آیت 172) جو اللہ نے روز اول میں لیا تھا۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو عیسائی، یہودی یا مجوسی وغیرہ بنا لیتے ہیں۔ چناچہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ دین الٰہی پر قائم رہو جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
[16] یعنی اللہ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس کو تم اپنے اختیار سے بدل کر خراب نہ کرو۔ مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 78 صفحہ 234۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
مذہب کا جدید ترین معیار
3: آج مذہب کے لئے جدید ترین معیار صداقت یہ ہے کہ وہ فطرت کے آئین کے مطابق ہو ۔ آج یہ سمجھا جاتا ہے ۔ کہ ان قوانین میں جو مہروماہ میں اور جبل وکاہ میں کافر ما ہیں ۔ اور ان اخلاقی قوانین کے متبع و سرچشمہ میں کوئی فرق نہیں ۔ جن کو ہم شریعت یا مذہب کہتے ہیں ۔ وہ قلیم مادیت کے ضابطے ہیں ۔ اور یہ دنیائے روحانیت کے قواین ۔ دونوں کا سرچشمہ فطرت اور اس کا غیر مبدل حسن ہے ۔ قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال قبل اس حقیقت کو اتنا جامع اور واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔ مذہب کا اتنا تخیل اور اتنا واضح انداز بیان ! یہ اس بات کی دلیل ہے ۔ کہ قرآن اس ذات کا کلام ہے جس کی…
Read the full tafseer →29۔ سمجھانے کے باوجود یہ لوگ حق کی پیروی نہیں کرتے بلکہ یہ ظالم اور ناانصاف لوگ بغیر کسی صحیح دلیل کے اپنی نفسانی خواہشات اور خیالات کی پیروی کرتے ہیں سو جس کو اللہ تعالیٰ بےرا ہ رکھے اس کو کون راہ دکھا سکتا ہے اور کون صحیح راہ پر لگا سکتا ہے اور ایسے گمراہوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ۔
یعنی یہ لوگ ان دلائل کا قاطعہ کو نہیں مانتے بلکہ یہ ظالم اپنی نفسانی خواہشات پر بدون کسی صحیح دلیل کے چلتے ہیں بدی پر چونکہ جم چکے ہیں اور ظلم کے اور شرک کے خوگر ہوچکے ہیں ، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کا ہاتھ ان کے سروں پر سے اٹھا لیا ہے۔ اسی کو فرمایا من اضل اللہ اور اللہ تعالیٰ جب کسی نالائق پر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 4۔ مطلب فطرت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص میں خلقة یہ استعداد رکھی ہے کہ اگر حق کو سنے اور سمجھنا چاہے تو وہ سمجھ میں آجاتا ہے، اور اس کے اتباع کا مطلب یہ ہے کہ اس استعداد اور قابلیت سے کام لے اور اس کے مقتضا پر کہ ادراک حق ہے عمل کرے، غرض اس فطرت کا اتباع چاہئے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ایسا کہنے والے اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور علم ان کے پاس نہیں ہے :
29۔ ایک صاف اور سیدھی بات کو بھی اگر کوئی عقل وفکر سے سمجھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ عقل کو قریب بھی نہ بھٹکنے دے ‘ نہ خود سمجھے اور نہ ہی کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لئے تیار ہو تو اس کی عقل پر بلاشبہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اپنے قانون کے مطابق مہر لگا دیتا ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ضد اور جہالت پر اڑ جاتا ہے اور کوئی معقول بات بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کو اس کی ضد اور ہٹ دھرمی سمجھنے دیتی ہے بلاشبہ وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور گمراہ آدمی ظاہر ہے کہ گمراہی کو ہی پسند کرے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ (For Him is the highest attribute - 30:27) The word مَثَل mathal is used for any such thing which has resemblance and similarity with something else, but its being exactly like that is not necessary. Therefore, the Qur'an has used the word 'mathal' for Allah Ta’ ala at several places, as in this very verse, and in another but Allah Ta’ ala's Being is completely beyond resemblance. (That is why the word 'mathal' has been translated above as 'attribute', which is also a possible lexical meaning of the word.)
Read the full tafseer →41 That is, "When a person neither thinks on the right lines himself, nor is prepared to listen to a well-wisher, his intellect comes under the curse of Allah. After this everything that can help reasonable person to reach the Truth, only helps this stubborn and ignorant person to be involved more and more deeply in further deviation and error. This is what has been conveyed in the word "leading astray". When a truth-loving person invokes Allah for the grace of guidance, AIlah creates for him maximum means of the guidance according to the sincerity of his invocation. And when a strayed person…
Read the full tafseer →