Ar-Room 30:27

Ar-Room · from ayah 27

30:27

وَهُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ ؕ— وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ— وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟۠وَهُوَ الَّذِىۡ يَـبۡدَؤُا الۡخَـلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ‌ؕ وَلَهُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کو بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who begins creation; then He repeats it, and that is [even] easier for Him. To Him belongs the highest attribute in the heavens and earth. And He is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:27

وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کو بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جو مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور اسی کی سب سے اونچی شان ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جو اقتدار والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے کہ اول بنا تا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیا دہ آسان ہونا چاہیے اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جو پہلی بار تخلیق کرتا ہے پھر اس کا اِعادہ فرمائے گا اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اُس پر بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہی تو ہے جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ (دوسری بار کی پیدائش) اس پر زیا دہ آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان بالاتر ہے اور وہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا عادہ کرے گا اور یہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے سب سے برتر صفت ہے اور عزیز و حکیم وہی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جو پہلی بار پیدا فرماتا ہے اپنی مخلوق کو پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا اور یہ اس کے لئے کہیں زیادہ آسان ہے اور اسی کی شان سب سے بلند ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والاف

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ (تو) اس کے لئے اور زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان (سب سے) اعلی ہے۔ اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو پھر اسے دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور وہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے اور اس کی شان بہت بلند ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بہت زبردست ہے کمال حکمت والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے ‘

— محترمہ رفعت اعجاز

It is He Who creates in the first instance and it is He Who will repeat the creation, and that is easier for Him. His is the loftiest attribute in the heavens and the earth. He is the Most Mighty, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is He who originates the creation, then will create it again; and it is easier for Him. His is the highest description in the heavens and the earth, and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

It is He who originates the creation, then will create it again; and it is easier for Him. His is the highest description in the heavens and the earth, and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him. His is the highest description in the heavens and in the earth. And He is the All-Mighty, the All-Wise.) Allah says:

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who produceth creation, then reproduceth it, and it is easier for Him. His is the Sublime Similitude in the heavens and the earth. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who begins creation; then He repeats it, and that is [even] easier for Him. To Him belongs the highest attribute in the heavens and earth. And He is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

It is He who begins the creation, then, turns it back. For Him this is very easy. All the exalted attributes in the heavens and the earth belong to Him. He is the Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who originates the creation, then reproduces it, and it is easy to Him; and His are the most exalted attributes in the heavens and the earth, and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And He it is who originateth the creation, then shall restore it, and it is easier for Him. His is the most exalted similitude in the heavens and in the earth; and He is the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who begins (the process of) creation; then repeats it; and for Him it is most easy. To Him belongs the loftiest similitude (we can think of) in the heavens and the earth: for He is Exalted in Might, full of wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

جس کا کوئی ہمسر نہیں فرماتا ہے کہ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے سب اس کے لونڈی غلام ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ ہر ایک اس کے سامنے عاجز و لاچار مجبور وبے بس ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے۔ ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے عادتا آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 38 یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنا اگر اس کے لیے مشکل نہ تھا، تو آخر تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہوجائے گ ؟ پہلی مرتبہ کی پیدائش میں تو تم خود جیتے جاگتے موجود ہو۔ اس لیے اس کا مشکل نہ ہونا تو ظاہر ہے۔ اب یہ بالکل سیدھی سادھی عقل کی بات ہے کہ ایک دفعہ جس نے کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے وہی چیز دوبارہ بنانا نسبۃً زیادہ ہی آسان ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى، لفظ مثل بفتح میم وثاء ہر ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جو دوسرے سے کچھ مماثلت اور مناسبت رکھتی ہو بالکل اس جیسی ہونا اس کے مفہوم میں داخل نہیں اسی لئے حق تعالیٰ کے لئے مثل ہونا تو قرآن میں کئی جگہ آیا ہے، ایک یہیں دوسرے فرمایا مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ لیکن مثل اور مثال سے حق تعالیٰ کی ذات پاک اور وراء الوراء ہے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وھو الذین یدی الخلق ثم یعیدہ وھو اھون علیہ ولہ المثل الاعلی فے السموات والارض وھو العزیز الحکیم (27) یہ اوپر والے ٹکڑے ’ اذا انتم تخرجون ‘ کی دلیل بھی ہے اور اس میں اس توحید کے مضمون کی تمہید بھی ہے جو آگے آرہا ہے۔ قیامت کے دن اتھائے جانے کی یہ دلیل اوپر آیت 11 میں بھی گزر چکی ہے۔ یہاں بعینہ اسی کا اعادہ نہیں ہے بلکہ اس پر وھو اھون علیہ کا اضافہ بھی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ تم سوچو تو اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ اسی نے خلق کو وجود بخشا ہے تو اس کے دوبارہ پیدا کیے جانے کو کیوں مستبعد خیال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27-1یعنی اتنے کمالات اور عظیم قدرتوں کا مالک ہے، تمام مثالوں سے اعلٰی اور برتر (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ) 42۔ الشوری :11)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–27

10: ڈر اس بات کا کہ بجلی گر کر کوئی نقصان نہ پہنچا دے، اور امید اس بات کی کہ اس کے نتیجے میں رحمت کی بارش برسے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وھو الذی یبدء وا ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” “۔ اس سورة میں آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق کا ذکر پہلے بھی ہوا ہے۔ اس طویل سفر اور کائنات کی سیر کے بعد ازسر نو اس کا ذکر اس اضافے سے کیا جاتا ہے۔ وھو اھون علیہ (30: 27) ” اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے “۔ حالانکہ اللہ کے لیے کوئی چیز نہ آسان ہے اور نہ مشکل ہے اس کا معاملہ تو یہ ہے۔ انما امرہ ۔۔۔۔۔ کن فیکون ” اس کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا ، پس وہ ہوجاتی ہے “۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس انداز میں سمجھاتے ہیں جس طرح ، اللہ جانتا ہے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں۔ لوگوں کے ہاں پہلی تخلیق سے اعادہ آسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی قدرت الہٰی کے سامنے تو سب برابر ہیں لیکن تمہارے محسوسات کے اعتبار سے اول بار پیدا کرنے سے دوسری بار دوہرا دینا آسان ہونا چاہیے پھر یہ عجیب بات ہے کہ اول پیدائش پر اسے قادر مانو اور دوسری مرتبہ پیدا کرنے کو مستبعد سمجھو۔ 11 یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی شان اس کی ہے۔ آسمان و زمین کی کوئی چیز اپنے حسن و خوبی میں اس کی شان و صفت سے لگاؤ نہیں کھا سکتی۔ مساوی ہونا تو کجا، وہ تو اس سے بھی بالا و برتر ہے جہاں تک مخلوق اس کے جلال و جمال کا تصور کرسکتی ہے۔ بلکہ جو خوبی کسی جگہ موجود ہے وہ اسی کے کمالات کا ادنیٰ پر تو ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " آسمان کے فرشتے نہ کھائیں نہ پیئیں نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–27

آیت 27 وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ ط ” یہ بعث بعد الموت کے بارے میں عقلی دلیل ہے جو قرآن میں متعدد بار دہرائی گئی ہے۔ معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی اس دلیل کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی کام کا پہلی دفعہ کرنا دوسری دفعہ کرنے کے مقابلے میں نسبتاً مشکل ہوتا ہے ‘ اور جب کسی کام کو ایک دفعہ سر انجام دے دیا جائے اور اس سے متعلق تمام مشکلات کا حل ڈھونڈ لیا جائے تو اسی کام کو دوسری مرتبہ کرنا نسبتاً بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اہل عرب جو قرآن کے مخاطب اول تھے ‘ وہ اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اور اس پوری کائنات کا خالق اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة النمل کی آیت نمبر 74 اور سورة العنکبوت کی آیت نمبر 17 کے حواشی 27 یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن اور خوبی میں اللہ کی شان اور صفات سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ بلکہ اگر کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو وہ اسی کے کمالات کا ادنیٰ پرتو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ امکان حشر وبعث پر جو شبہ پیدا ہوتا تھا۔ اسکے ازالہ کے بار بار اس حقیقت کا استحضار کرایا ہے کہ جس خدا کا موجداول ہونا، خالق کائنات ہونا، تم خود تسلیم کرتے ہو، اسی کیلئے تو اس صفت احیاء کا اثبات کیا جارہا ہے، تم آخر اسے اس کیلئے ناممکن یا مستعبد ہی کیوں سمجھتے ہو ؟۔ 28۔ (تمہارے معیار اور تمہاری عادت کے اعتبار سے) حقیقۃ اس قادر مطلق کیلئے تو زیادہ آسان اور کم آسان کا کوئی سوال ہی نہیں۔ یہ سب درجے اور اضافتیں تو ہمارے نسبت سے ہیں۔ (آیت) ” ھو “۔ ضمیر اعادہ واحیاء کے لئے ہے۔ والضمیر للاعادۃ (روح) 29۔ (کہ نہ آسمانوں میں کوئی ایسا بڑا ہے نہ زمین میں) جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” ولہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–27

آیت نمبر 20 تا 27 ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھو الذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ وھوا ھون علیہ . اور وہی تو ہے جو ابتدائی تخلیق کرتا ہے پھر دوبارہ اسی کو پیدا کر دے گا۔ اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے (ابتدائی تخلیق سے) زیادہ آسان ہے۔ ربیع بن خثیم ‘ حسن ‘ قتادہ اور کلبی نے کہا : اَھْوَنُ (زیادہ آسان) سے اس جگہ ھَیِّنٌ (سہل) مراد ہے کیونکہ اللہ کے لئے کوئی امر دشوار ہی نہیں ہے (کہ ایک فعل کے مقابلہ میں دوسرے فعل کو زیادہ آسان کہا جاسکے) وزن اسم تفضیل بمعنی صفت مشبہ عربی میں آتا ہے۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : اس جگہ اَھْوَنُ کا استعمال بطور ضرب المثل کیا ہے (حقیقت مراد نہیں ہے) یعنی دوبارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ وہی ہے جو پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے اور پھر وہی قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے نزدیک بہ نسبت پہلی بار پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمان و زمین والوں میں اس کی شان قدرت سب سے بلند ہے اور وہ اپنی بادشاہت و سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ (الخ) ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ فرمانے کے بارے میں متعجب ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی وہ وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے اور پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ : اللہ تعالیٰ نے یہ بات بندوں کے کہنے اور کرنے کے لحاظ سے فرمائی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو پہلی دفعہ اور دوسری دفعہ پیدا کرنا برابر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم یہ تو مانتے ہو کہ تمام مخلوقات کو پہلی بار اسی نے پیدا کیا ہے اور یہ بھی سمجھتے ہو کہ جس نے ایک دفعہ کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے اس چیز کو دوبارہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے تمہارے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے لیے، جس نے پہلی بار تمام مخلوقات بنائی ہے، دوسری مرتبہ اسے پیدا کرنا زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

پیدائش کا آغاز کرنے سے مراد رحم میں اس کی ولادت سے قبل نطفہ کو رحم کے ساتھ چسپاں کرنا ہے جہاں تک اس کے اعادہ کا تعلق ہے تو موت کے بعد بعث کے لئے دوسرے نفحہ کے ساتھ اسے زندہ کرنا ہے انسان کی پیدائش کا آغاز جو معلوم ہے اسے اس کے اعادہ پر دلیل بنایا ہے جو مخفی ہے یہ غائب کا شاہد پر استدلال کرنا ہے پھر اسے اپنے اس ارشاد کے ساتھ موکد کیا، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر ؓ سے قرأت کی ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البروج) عام قرأت کی دلیل ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الاعراف) ہون ھین کے معنی میں ہے یعنی دوبارہ زندہ کرنا اس پر آسان ہے یہ ربیع بن خثیم اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ (6) ھون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے الصاحف میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا مردوں کو زندہ کرنے سے کفار تعجب کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی وہوالذی یبدؤو الخلق ثم یعیدہ وہو اہوں علیہ اور وہی ذات ہے جس نے پہلی بات مخلوق کو پیدا فرمایا پھر دوبارہ اس کو پیدا کرے گا اور وہ اس پر آسان ہے یعنی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا اس پر آسان ہے اس کے پہلا بار پیدا کرنے سے۔ 2۔ آدم بن ابی ایاس والفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانبار والبیہقی فی السماء والصفات مجاہد (رح) سے آیت وہوا اہوں علیہ کے بارے میں فرمایا کہ دو بارہ پیدا کرنا یہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [اور وہ ] الَّذِيْ [وہی ہے جو ] يَبْدَؤُا [پہل کرتا ہے ] الْخَــلْقَ [پیدا کرنے کی ] ثُمَّ يُعِيْدُهٗ [پھر وہ واپس لائے گا اس کو ] وَهُوَ اَهْوَنُ [اور یہ زیادہ آسان ہے ] عَلَيْهِ ۭ [اس پر ] وَلَهُ [اور اس کے لئے ہی ہے ] الْمَثَلُ الْاَعْلٰى [اعلی ترین مثال (یعنی صفت)] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ [آسمانوں اور زمین میں ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخری آیت میں ابتدا اور اعادہ کا تذکرہ فرمایا : (وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ) (اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا) (وَ ھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) (اور اسے دوبارہ پیدا فرمانا پہلی بار پیدا فرمانے کے بہ نسبت زیادہ آسان ہے) یہ لوگوں کی سمجھ کے اعتبار سے فرمایا ہے کیونکہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ کسی چیز کا دوبارہ وجود میں لانا پہلی دفعہ لانے کے اعتبار سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث قدسی میں فرمایا : فاما تکذیبہ ایای فقولہ لن یعیدنی کما بدأنی وَلَیْسَ اوّل الخلق باھون عَلَیَّ من اعادتہ (ابن آدم یوں کہہ کر مجھے جھٹلاتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

دلیل ششم ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ۔ اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے یہ ہے کہ آسمان بدون ستون کے قائم ہے اور زمین پانی پر ٹھہری ہوئی ہے اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہے اس میں کسی ایتھر اور نیچر کو ذرہ برابر دخل نہیں۔ یہاں تک دلائل قدرت کا بیان ختم ہوا ظاہر میں یہ دلائل چھ ہیں لیکن درحقیقت دس سے زیادہ ہیں۔ ایک من ایاتہ کے ساتھ ایک دوسری دلیل بھی مذکور ہے ان سب دلائل کا حاصل یہ ہے کہ یہ تمام نظام عالم جس کا ان آیات قدرت میں ذکر ہوا وہ سب اللہ کے ارادہ اور مشیت سے چل رہا ہے اور ایک دن یہ سارا نظام درہم وبرہم ہوجائے گا پھر اس وقت یہ ہوگا کہ وہ جب تم کو پکار کر زمین کے اندر سے بلاوے گا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–27

21:۔ یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کو ابتداء اسی نے پیدا کیا اور وہی دوبارہ مخلوق کو زندہ کرے گا یہ اس کے لیے بہت ہی آسان ہے جو اللہ ایسا قادر و متصرف ہے وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ ولہ المثل الاعلی الخ سب سے بڑی صفت ہے یعنی وحدانیت اللہ تعالیٰکے لیے مخصوص ہے۔ وہ ذات وصفات میں متفرد اور یگانہ ہے اور زمین و آسمان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ عن مجاھد المثل الاعلی قول لا الہ الا اللہ ولہ الوصف بالوحدانیۃ (بھر ج 7 ص 170) ۔ عن قتادۃ و مجاھد ان (المث الاعلی) لا الہ الا اللہ و عللہما اراد بذلک الواحدانیۃ فی ذاتہ تعالیٰ و صفاتہ سبحانہ (روح ج 21 ص 37) ۔ وھو العزیز الحکیم۔ اس کی قدرت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–27

قدرتی بجلی بطور نشانی اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں اب اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتہِ اور یہ بھی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے یریکم البرق خوفاً وطمعاً کہ وہ دکھاتا ہے تم کو بجلی خوف اور امید سے۔ یہ آسمانی بجلی کا ذکر ہورہا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے تو اس سے نقصان ہوجانے کا خوف بھی آتا ہے اور نزول رحمت بھی امید بھی ہوتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ مسافروں کے لیے باعث خوف ہوتی ہے کہ بجلی ان کے اوپر نہ آگرے۔ جب کسی مقام پر بجلی گرتف ہے تو سخت نقصان ہوتا ہے۔ کہیں آگ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ وَہُوَاَہْوَنُ عَلَيْہِ۝ 0 ۭ وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 27ۧ بدأ يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7] ( ب د ء ) بدء ات بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَھُوَالَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ط وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وْالْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الروم : 27) (اور وہی ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے، اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے سب سے برتر صفت ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ ) سابقہ دلیل کی مزید تسہیل تبلیغ و دعوت کا اصول یہ ہے کہ بعض دفعہ بات کو بار بار کہا جاتا ہے۔ البتہ اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ کہنے کا انداز ایسا پر شکوہ اور دلآویز ہو کہ سننے والا اس پر توجہ دیے بغیر نہ رہ سکے۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات کبریا کی مذکورہ بالا صفات اور قدرتیں ہیں اسی ذات اکبر نے پوری مخلوق کو ابتدا سے پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق، زمین و آسمان کی پیدائش، لیل ونہار کی گردش اور اپنی دوسری قدرتوں کا تذکرہ اور شمار کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ جس ذات نے یہ سب کچھ پیدا کیا اسی نے پوری مخلوق اور انسان کو پہلی دفعہ پیدا فرمایا اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرنے کے بعد اپنے حضور حاضر کرے گا۔ مخلوق اور انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے بالکل آسان کام ہے۔ وہ اپنی ذات اور تخلیق کے حوالے سے اعلیٰ اور بےمثال ہے۔ زمین و آسمانوں میں اس کی ذات اور صفات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعادئہ خلق اس کے لئے بہت آسان ہے : 27: وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (اور وہ وہی ذات ہے جس نے مخلوق کی ابتداء کی پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا) وہ ان کو پیدا کرتا ہے پھر ان کو دوبارہ اٹھانے کیلئے زندہ کرے گا۔ وَھُوَ (اور وہ) بعث اَھْوَنُ (زیادہ آسان ہے) ۔ عَلَیْہِ یہ عندکم کے معنی میں ہے کیونکہ اعادہ تمہارے ہاں نئے سرے سے پیدا کرنے کی نسبت آسان ہے، پھر تم اعادہ کا کیوں انکار کرتے ہو۔ نکتہ : ھوا ھون علیہ میں صلہؔ کو مؤخر کیا اور ھو علیّ ھیِّن ] مریم : 9[ میں مقدم کیا۔ کیونکہ وہاں مریم میں تخصیص مقصود ہے گویا اختصاص کا کوئی مقصد نہیں اس لئے مؤخر کردیا۔ قولِ ابو عبیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27” وھوالذی یبدٔاالخلق ثم یعیدہ “ پہلے ان کو پیدا کیا پھرا ن کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔” وھو اھون علیہ “ ربیع خیثم حسن قتادہ اور کلبی نے کہا کہ اھون سے اس جگہ معین مراد ہے کیونکہ اللہ کے لیے کوئی امردشوار ہی نہیں ہے۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکایہی قول آیا ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا کہ اس جگہ اھون کا استعمال بطور ضرب المشل بیان کیا ہے یعنی دوبارہ پیداکرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہوتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہو۔ یہ بات تمہاری عقل کے بھی مطابق ہے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارے نزدیک اعادہ ابتداء سے زیادہ آسان ہوتا ہے ۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ مخلوق کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

27۔ معتبر سند سے ابن ابی حاتم میں عکرمہ کی رویت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ مر کر پھر جینے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مر کر مٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کسی طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کی سمجھ کے موافق ان کو سمجھایا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نہ پہلی دفعہ انسان کا پیدا کرنا کچھ مشکل تھا نہ دوسری دفعہ کچھ مشکل ہے لیکن یہ لوگ اگر اپنی سمجھ کے موافق بھی غور اور فکر کریں تو ان کی سمجھ میں آجاوے گا کہ ایک شخص ایک دفعہ جب ایک کام کو کر چکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام سہل ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–27

آیت نمبر : 25-27 اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ‘ ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ (لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس) (المؤمن : 04/75) ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔ “ (ولہ من فی السموٰت والارض) ” اور اسی کے لیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے ‘ وہ اپنی مخلوق میں کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 اعادئہ خلق ابدائِ خلق سے آسان تر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ۔ یعنی دوبارہ پیدا کرنا ۔ اس کیلئے زیادہ آسان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اللہ پہلی مرتبہ پیدا فرماتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا اور یہ اس کے لیے کہیں زیادہ آسان ہے۔ یعنی تمہارے خیال اور تجربے کے مطابق۔ کیونکہ تمہارا خیال اور تجربہ یہی ہے کہ دوبارہ بنانا پہلی بار بنانے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ ورنہ حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ کے لئے یہ سب ایک برابر ہے کہ وہاں اسباب و مواد کی ترتیب وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہاں تو { کُنْ فَیَکُوْنُ } کی شان کار فرما ہوتی ہے۔ جو چاہا ہوگیا۔ جس کا ارادہ فرمایا کردیا۔ البتہ تم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–27

اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–27

آیات 20 تا 27 اسرارومعارف تخلیق انسانی : اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ’ د یعنی تمہارے کہنے اور کرنے کے لحاظ سے “ مطلب یہ یہ کہ تم اس چیز کو تو مانتے ہو کہ تمام مخلوقات کو پہلی بار اسی نے پیدا کیا ہے اور یہ بھی سمجھتے ہو کہ جس نے ایک دفعہ کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لئے اسی چیز کو دوبارہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے پہلی بار تمام مخلوقات بنائی ہے دوسری مرتبہ اسے پیدا کرنا آسان تر ہونا چاہیے۔ (قرطبی ۔ شوکانی)5 کیونکہ کوئی اس کے جوڑ کا نہیں۔ تمام عمدہ صفات اس میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ دوسری کسی مخلوق میں یہ بات نہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” آسمان کے فرشتے نہ کھائیں نہ پئیں نہ حاجت بشری رکھیں، سوائے بندگی کے کچھ کام نہیں اور زمین کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:27) یبدوا الخلق ثم یعیدہ (ملاحظہ ہو آیت 11) ۔ اھون۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ ھان یھون ھونا (نصر) مھان و مھانۃ ذلیل و حقیر ہونا۔ مسکین ہونا۔ اھون بڑا آسان۔ بہت ہی سہل۔ المثل الاعلی : مثل و مثل دونوں ہم معنی ہیں جیسے نقض و نقض۔ یہ دو طرح استعمال ہوتا ہے ایک بمعنی وصف دوسرا بمعنی مشابہ۔ اگرچہ مثل (بمعنی وصف) انسان کے لئے بھی لایا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ سے منسوب صفات کے وہ معنی نہیں جو بشر سے منسوب صفات کے لئے جاتے ہیں۔ المثل کو معرف باللام کرکے صرف خدا کی ذات کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے المثل الاعلی۔ عظیم الشان و صف۔ الوصف لیس لغیرہ۔ ایسا وصف جو کسی دوسرے میں ممکن نہیں۔ مثل ال معرفہ کے ساتھ قرآن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–27

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔ تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–27

منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔ (ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] آیت 21 سے یہاں تک جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائل یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اب آگے خالص توحید کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

المثل الا علےٰ 1: اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ جو حشر ونشر کے منکر تھے اور یہ نہیں مانتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی حاصل کرینگے ارشاد ہے کہ یہ بتاؤ جب تم اس حد تک تسلیم کرتے ہو کہ ابتداً تمام کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔ اور یہ بھی مانتے ہو کہ جب یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں ۔ اس وقت کوئی دوسری ذات اس کے شریک وسہیم میں نہ تھی تو پھر ان لینے میں کوئی تامل ہے ۔ کہ وہ دوبارہ بھی ایسا کرسکتا ہے ۔ کیا ایک ہی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً زیادہ آسان نہیں ہے ولہ المثل الاعلےٰ کہنے سے غرض یہ ہے کہ یہ تمہیں سمجھانے کے لئے ہم کہتے ہیں ۔ کہ کائنات انسانی کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

27۔ اور وہی ہے جو ابتداء مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس پر بہت آسان ہے اور آسمان و زمین میں اس کی شان سب سے بلند اور بالا تر ہے اور وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی اول بار پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے جو سب کو تسلیم ہے اور دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا ۔ جیسا کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہے اور یہ بات یعنی ایک چیز کو ایک مرتبہ بنا کر اس کو دوبارہ بنا لینا مخاطبین کے اعتبار سے آسان اور سہل بھی ہے پھر دوسری زندگی سے کیوں انکار کرتے ہو اس کی کہاوت اور اس کی صفات اور اس کی شان سب سے بلند وبالا تر ہے اور وہ عزیز ہے حکیم ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح)…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلی بار پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور دوبارہ لوٹانے والا بھی وہی ہے : 27۔ پہلی پیدائش کون سی ہے ؟ وہی جس میں والدہ ‘ والد اور ولد کی کوئی بحث نہیں بلکہ وہ ایک مخلوق تھی جس کو انسان اول کہا گیا وہ جتنی بھی تھی اور جہاں بھی تھی ۔ اس کے بعد وہ مخلوق آئی جس میں مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ والد ‘ والدہ اور ولد کی بحث پیدا ہوگئی جو اس وقت تک جاری وساری ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی یہ سب مخلوق اللہ تعالیٰ ہی کی ہے لیکن ضابطہ کے مطابق ان میں سے کسی ایک کا نام آجائے تو دوسرے کا وجود خود بخود لازم آتا ہے مثلا کسی شخص کے متعلق آپ کو علم ہے کہ وہ والد ہے تو اس کے والد ہونے سے لازم آتا ہے کہ کوئی اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–29

لَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ (For Him is the highest attribute - 30:27) The word مَثَل mathal is used for any such thing which has resemblance and similarity with something else, but its being exactly like that is not necessary. Therefore, the Qur'an has used the word 'mathal' for Allah Ta’ ala at several places, as in this very verse, and in another but Allah Ta’ ala's Being is completely beyond resemblance. (That is why the word 'mathal' has been translated above as 'attribute', which is also a possible lexical meaning of the word.)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

38 That is, "If it was not difficult for Him to create you in the first instance, how can it be difficult for Him to re-create you? Your first creation was not difficult for Him because your present existence is a living proof of that. Now it is simple commonsense that the re-making of a thing should be relatively easier for the one who trade it for the first time .

Read the full tafseer →