Ar-Room 30:26

Ar-Room · from ayah 26

30:26

وَلَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ۟وَلَهٗ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوۡنَ

اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Him belongs whoever is in the heavens and earth. All are to Him devoutly obedient.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:26

آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کے زیر حکم ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، سب اسی کے اطاعت گزار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اسی کا ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے سب کے سب اسی کے فرمانبردار ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی کے مملوک ہیں، سب اسی کے فرمانبردار ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے سب ہی اس کے حکم کے بندے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی کی ملک ہیں جو کوئی بھی موجود ہیں آسمانوں اور زمین میں سب اسی کے تابع ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں۔ سب اسی کے حکم کے تابع فرمان ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی (فرشتے اور انسان وغیرہ) ہیں اسی کے مملوک ہیں اور سب اس کے فرمانبردار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

To Him belong all who are in the heavens and all who are on the earth. All are in obedience to Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Him belong all those in the heavens and the earth. All (of them) are obedient to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

To Him belong all those in the heavens and the earth. All (of them) are obedient to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Him belongs whatever is in the heavens and the earth. All are obedient to Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Him belongeth whosoever is in the heavens and the earth. All are obedient unto Him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Him belongs whoever is in the heavens and earth. All are to Him devoutly obedient.

— Saheeh International

Everyone in the heavens and the earth belongs to Him and is subservient to Him.

— Muhammad Sarwar

And His is whosoever is in the heavens and the earth; all are obedient to Him.

— Muhammad Habib Shakir

His is whosoever is in the heavens and the earth; all are unto Him obedient.

— Abdul Majid Daryabadi

To Him belongs every being that is in the heavens and on earth: all are devoutly obedient to Him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

جس کا کوئی ہمسر نہیں فرماتا ہے کہ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے سب اس کے لونڈی غلام ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ ہر ایک اس کے سامنے عاجز و لاچار مجبور وبے بس ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے۔ ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے عادتا آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–26

سورة الروم 36 یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے حکم سے ایک دفعہ وجود میں آگئے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل قائم رہنا اور ان کے اندر ایک عظیم الشان کارگاہ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر اس کا حکم انہیں برقرار نہ رکھے تو یہ سارا نظام یک لخت درہم برہم ہوجائے۔ سورة الروم 37 یعنی کائنات کے خالق و مدبر کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے کہ اسے اس کے لیے بہت بڑی تیاریاں کرنی ہوں گی، بلکہ اس کی صرف ایک پکار اس کے لیے بالکل کافی ہوگی کہ آغاز آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب ایک ساتھ زمین کے ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–26

چھٹی آیت قدرت یہ ہے کہ آسمان و زمین کا قیام اللہ ہی کے امر سے ہے، اور جب اس کا امر یہ ہوگا کہ یہ نظام توڑ پھوڑ دیا جائے تو یہ سب مضبوط مستحکم چیزیں جن میں ہزاروں سال چل کر بھی کہیں کوئی نقصان یا خلل نہیں آتا، دم کے دم میں ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجائیں گی اور پھر اللہ تعالیٰ ہی کے امر سے دوبارہ سب مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یہ چھٹی آیت قدرت درحقیقت پہلی سب آیات کا ماحصل اور مقصد ہے، اسی کے سمجھانے کے لئے اس سے پہلی پانچ آیتیں بیان فرمائی ہیں اور اس کے بعد کئی آیات تک اسی مضمون کا ذکر فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–26

ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا و ینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (24) اور اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جو اپنے اندر امید دیم اور طمع و خوف دونوں کے پہلو رکھتی ہے۔ یہ ابر رحمت کی بشارت اور اس کا مقدمۃ الجیس بن کر بھی نمودار ہوتی ہے اور کسی قوم کے لئے عذاب کا تازیانہ بن کر بھی۔ پہلی صورت تو عامۃ الورود ہے جس کا تجربہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ دوسری صورت کی مثالیں بھی قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ قرآن نے عاد وثمود کی تباہی کے سلسلے میں صاعقہ، کا ذکر کیا ہے اور ہم اس کے محل میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26-1یعنی اس کے تکوینی حکم کے آگے سب بےبس اور لاچار ہیں۔ جیسے موت وحیات، صحت و مرض، ذلت و عزت وغیرہ میں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–27

10: ڈر اس بات کا کہ بجلی گر کر کوئی نقصان نہ پہنچا دے، اور امید اس بات کی کہ اس کے نتیجے میں رحمت کی بارش برسے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

“۔ ومن ایتہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل لہ قنتون (30: 25 – 26) آسمانوں اور زمین کا انتظام و قیام نہایت ہی سلیم و متین انتظام ہے جس کی حرکات متعین ہیں اور ان میں ایک سیکنڈ کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر سے ہے۔ کوئی مخلوق یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یا اس کے سوا کوئی اور یہ انتظام کر رہا ہے اور کوئی عقلمند شخص اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی کرنے والے مدبر کے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ زمین و آسمان اللہ کے کھڑے کرنے سے کھڑے ہیں۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں ، اس کے مطیع فرمان ہیں۔ ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی آسمان و زمین کے رہنے والے سب اسی کے مملوک بندے اور اسی کی رعیت ہیں، کس کی طاقت ہے کہ اس کے حکم تکوینی سے سرتابی کرسکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–27

آیت 27 وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ ط ” یہ بعث بعد الموت کے بارے میں عقلی دلیل ہے جو قرآن میں متعدد بار دہرائی گئی ہے۔ معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی اس دلیل کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی کام کا پہلی دفعہ کرنا دوسری دفعہ کرنے کے مقابلے میں نسبتاً مشکل ہوتا ہے ‘ اور جب کسی کام کو ایک دفعہ سر انجام دے دیا جائے اور اس سے متعلق تمام مشکلات کا حل ڈھونڈ لیا جائے تو اسی کام کو دوسری مرتبہ کرنا نسبتاً بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اہل عرب جو قرآن کے مخاطب اول تھے ‘ وہ اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اور اس پوری کائنات کا خالق اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اللہ کی مملوک اور وہ ان کا خالق اور مالک ہے اور کوئی بھی چیز اس کے حکم تکوینی سے سرتابی کی مجال نہیں رکھتی ہر چیز اللہ اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق سرگرم عمل ہے اور یہی ہر چیز کا سجدہ ہے اور یہی ہر چیز کی تسبیح ہے۔ حتیٰ کہ انسان بھی طبیعی امور میں اللہ کے مقررہ قوانین کا پابند ہے۔ وہ چاہے بھی تو جوانی کو واپس نہیں لاسکتا۔ نہ موت کو ٹال سکتا ہے۔ نہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی اگر سرکشی ہے تو محض اختیاری امور میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ (تکوینی طور پر) یعنی فرشتہ، جن، انسان، جتنی بھی صاحب حیات وصاحب ارادہ مخلوق ہے۔ سب اضطرارا قانون الہی کی پابند ہے۔ کسی کو مجال سرتابی نہیں۔ کسی کیلئے ممکن نہیں کہ اس کے قوانین تکوینی کے حدود توڑ کر باہر جاسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–27

آیت نمبر 20 تا 27 ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون . اور اسی کے (پیدا کئے ہوئے اور مملوک) ہیں وہ جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں سب کے سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔ کلبی نے کہا : آیت میں صرف وہ (اہل عقل) مراد ہیں جو اللہ کے اطاعت گزار اور فرماں بردار ہیں (کافر اور گنہگار مسلمان مراد نہیں ہیں) صحیح یہ ہے کہ اطاعت سے مراد ہے تخلیقی اور تکوینی فرمان پذیری (جس میں ارادہ اور اختیار کو دخل نہیں ہے۔ ہر سرکش کافر بھی حکم تکوینی سے سرکشی نہیں کرسکتا ‘ امر تشریعی کی خلاف ورزی کرتا ہے) آیت میں امر تکوینی کا عموم مراد ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہر ایک (بغیر کسی اختیار کے) پیدا ہونے ‘ جینے ‘ مرنے اور قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور تمام آسمان و زمین سب اسی کی ملکیت میں ہیں اور کافروں کے علاوہ سب اسی کے اطاعت گزار ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ۔۔ : یعنی یہ اور اس سے اگلی آیت پچھلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہیں۔ یعنی یہ خیال مت کرو کہ وہ اس کے بلانے پر کیسے نکل آئیں گے، کیونکہ آسمان و زمین میں جو بھی ہے اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ”کُنْ“ کہے اور کوئی شخص اس کے حکم سے انحراف کرسکے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–26

ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔ پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–26

اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی 1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔ 2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَهٗ مَنْ [اور اسی کا ہے وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین میں ہے ] كُلٌّ لَّهٗ [سارے اسی کی ] قٰنِتُوْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

نہم اور دہم : یہ فرمایا کہ آسمان اور زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں۔ تین آیات میں پہلے آسمان اور زمین کے پیدا فرمانے کا تذکرہ تھا اور اس آیت کریمہ میں آسمان اور زمین کی بقا کا تذکرہ ہے، جب تک ان کے باقی رکھنے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے اس وقت تک باقی رہیں گے اور جب قیامت کے دن ان کا حال بدلنے کا ارادہ ہوگا تو اس وقت ان کی حالت بدل جائے گی، آسمان پھٹ پڑیں گے اور زمین میں زلزلہ آجائے گا، آسمان کو اپنی مقررہ جگہ پر اور موجودہ حالت پر قائم رکھنا اور زمین کو اس کی مقررہ جگہ پر اور موجودہ حالت پر باقی رکھنا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے اس میں کسی اور کا کچھ بھی کوئی دخل نہیں۔ سورة فاطر میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

دلیل ششم ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ۔ اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے یہ ہے کہ آسمان بدون ستون کے قائم ہے اور زمین پانی پر ٹھہری ہوئی ہے اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہے اس میں کسی ایتھر اور نیچر کو ذرہ برابر دخل نہیں۔ یہاں تک دلائل قدرت کا بیان ختم ہوا ظاہر میں یہ دلائل چھ ہیں لیکن درحقیقت دس سے زیادہ ہیں۔ ایک من ایاتہ کے ساتھ ایک دوسری دلیل بھی مذکور ہے ان سب دلائل کا حاصل یہ ہے کہ یہ تمام نظام عالم جس کا ان آیات قدرت میں ذکر ہوا وہ سب اللہ کے ارادہ اور مشیت سے چل رہا ہے اور ایک دن یہ سارا نظام درہم وبرہم ہوجائے گا پھر اس وقت یہ ہوگا کہ وہ جب تم کو پکار کر زمین کے اندر سے بلاوے گا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–27

21:۔ یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کو ابتداء اسی نے پیدا کیا اور وہی دوبارہ مخلوق کو زندہ کرے گا یہ اس کے لیے بہت ہی آسان ہے جو اللہ ایسا قادر و متصرف ہے وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ ولہ المثل الاعلی الخ سب سے بڑی صفت ہے یعنی وحدانیت اللہ تعالیٰکے لیے مخصوص ہے۔ وہ ذات وصفات میں متفرد اور یگانہ ہے اور زمین و آسمان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ عن مجاھد المثل الاعلی قول لا الہ الا اللہ ولہ الوصف بالوحدانیۃ (بھر ج 7 ص 170) ۔ عن قتادۃ و مجاھد ان (المث الاعلی) لا الہ الا اللہ و عللہما اراد بذلک الواحدانیۃ فی ذاتہ تعالیٰ و صفاتہ سبحانہ (روح ج 21 ص 37) ۔ وھو العزیز الحکیم۔ اس کی قدرت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–27

قدرتی بجلی بطور نشانی اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں اب اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتہِ اور یہ بھی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے یریکم البرق خوفاً وطمعاً کہ وہ دکھاتا ہے تم کو بجلی خوف اور امید سے۔ یہ آسمانی بجلی کا ذکر ہورہا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے تو اس سے نقصان ہوجانے کا خوف بھی آتا ہے اور نزول رحمت بھی امید بھی ہوتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ مسافروں کے لیے باعث خوف ہوتی ہے کہ بجلی ان کے اوپر نہ آگرے۔ جب کسی مقام پر بجلی گرتف ہے تو سخت نقصان ہوتا ہے۔ کہیں آگ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ كُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ۝ 26 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–26

ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔ تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلٌّ لَّـہٗ قٰـنِـتُوْنَ ۔ (الروم : 26) (آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اس کے بندے ہیں، سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔ ) سابقہ آیت پر دلیل اس سے پہلے کی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک پکار پر زمین کے ہر گوشے سے انسان نکل آئیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک پکار پر سب انسانوں کا اپنی اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونا اس لیے ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے سب اسی کی مخلوق، اسی کے مملوک اور اسی کے فرمانبردار ہیں۔ کسی کی کیا مجال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرسکے اور اس کی پکار سن کر تعمیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بارہویں نشانی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات عظیم المرتبت ہے اسی طرح اس کی قدرت اور کام عظیم اور عدیم المثال ہیں۔ زمین و آسمان پر غور فرمائیں کہ آسمان کسی سہارے کے بغیر قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ زمین پانی پر بچھائی گئی ہے۔ اس کے باوجود نہ اس میں جھول ہے اور نہ ہی کسی مقام سے پانی میں غرق ہوئی ہے۔ زمین و آسمان صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے حکم ثانی تک قائم رہیں گے۔ قیامت کے دن زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور میں پھونک مارنے کا حکم دے گا۔ اسرافیل کے صور پھونکنے کے ساتھ ہی لوگ اپنے اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمام اس کے غلام : 26: وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ (اور اسی ہی کے لئے ہے جو آسمان و زمین ہیں اور تمام اس کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں) وہ اس کے مطیع ہیں کیونکہ اس کے افعال کا وجود ان میں پایا جاتا ہے ان سے رک نہیں سکتا یا اس کی غلامی کا اقرار کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26۔” ولہ من فی السموات والارض کل لہ قانتون “ اس سے مراد فرمانبردار مطیع ہیں ۔ کلبی کا بیان ہے کہ آیت میں صرف وہ اہل عقل مراد ہیں جو اللہ کے اطاعت گزار اورفرماں بردار ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہر ایک پیدا ہونے جینے مرنے اور قیامت کے دن اٹھنے میں حکم کا بندہ ہے خواہ حکم عبادت سے سرکشی کرتاہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–26

17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–27

آیت نمبر : 25-27 اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ‘ ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ (لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس) (المؤمن : 04/75) ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔ “ (ولہ من فی السموٰت والارض) ” اور اسی کے لیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے ‘ وہ اپنی مخلوق میں کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

28 کائنات پوری میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سو وہ سب اسی کا ہے خَلْقًا وَ مِلْکًا ومُلْکًا وَ تَصَرُّفًا یعنی سب کو پیدا بھی تنہا اسی نے کیا ہے۔ سب کا مالک اور بادشاہ بھی وہی ہے اور سب پر حکم اور تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی کے حکم و ارشاد کا پابند اور اسی کی ملکیت ہے۔ کسی کی جان نہیں کہ اس کے حکم و ارشاد سے سرتابی کرسکے۔ پس اس کی اس کائنات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–27

اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–27

آیات 20 تا 27 اسرارومعارف تخلیق انسانی : اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی تکوینی طور پر سب اس کے مطیع و متضاد ہیں کوئی چیز بھی اس کے امر تکوینی سے سر مو انحراف نہیں کہ سکتی۔ یا ” ہر چیز زبان حال یا قال سے اس کی عبویدت کا اعتراف کر رہی ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:26) قنتون۔ اسم فاعل جمع مذکر قانت واحد اطاعت گزار۔ فرمانبردار۔ القنوت کے معنی خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں۔ قنت یقنت قنوت (باب نصر) خاکساری کرنا ۔ اطاعت کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–27

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔ تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–27

منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔ (ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–26

[12] یعنی فرشتے اور جن و انس وغیرہ جتنی بھی صاحب حیات اور صاحب ارادہ مخلوق ہے سب اضطراراً قانون الٰہی کی پابند ہے۔ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ اس کے قوانین تکوینی کو توڑ کر باہر جاسکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

المثل الا علےٰ 1: اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ جو حشر ونشر کے منکر تھے اور یہ نہیں مانتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی حاصل کرینگے ارشاد ہے کہ یہ بتاؤ جب تم اس حد تک تسلیم کرتے ہو کہ ابتداً تمام کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔ اور یہ بھی مانتے ہو کہ جب یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں ۔ اس وقت کوئی دوسری ذات اس کے شریک وسہیم میں نہ تھی تو پھر ان لینے میں کوئی تامل ہے ۔ کہ وہ دوبارہ بھی ایسا کرسکتا ہے ۔ کیا ایک ہی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً زیادہ آسان نہیں ہے ولہ المثل الاعلےٰ کہنے سے غرض یہ ہے کہ یہ تمہیں سمجھانے کے لئے ہم کہتے ہیں ۔ کہ کائنات انسانی کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

26۔ اور جتنے انسان اور فرشتے آسمان و زمین میں موجود ہیں سب اس کے مملوک ہیں اور سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں ۔ یعنی جو ذی عقل مخلوق آسمان و زمین میں ہے سب اسی کی مملوک ہے مراد اس سے فرشتے اور ارواح طیبہ اور زمین میں انسان سب اللہ تعالیٰ کی مملوک ہیں اور سب اسی کے حکم کے تابع ہیں کوئی اختیاری اور کوئی اضطراری۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین وآسمان کی ہرچیز اس کے لئے آج بھی فرمانبردار ہے : 26۔ اس دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جو اختیار دیا ہے تو وہ محض انسان کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ انسانوں ہی میں سے وہ انسان بھی ہیں جو نافرمانیوں پر نافرمانیاں کئے چلے جا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اختیار ہے ورنہ انسان کے سوا اس پوری کائنات کے اندر ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو ایک ذرہ برابر اختیار رکھتی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوجائے یا اس کے حکم کے خلاف کوئی قدم بھی اٹھائے ، رات کو آرام کے ساتھ بستر پر لیٹ جاؤ جس پر اب لیٹنے کی عادت ہی آپ کو نہیں رہی کہ زمانہ کی غفلت اس وقت تم کو بستر کے قریب جانے دیتی ہے جب بستر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–26

Sixth sign of divine omnipotence Existence of the sky and earth is by the command of Allah. When He will command the breakup of this system, this strong arrangement, which is working since thousands of years perfectly without a slight depreciation, will end up in no time. Then by the command of Allah all the dead will assemble in the plain for reckoning. The sixth sign of divine omnipotence is in fact the sum and substance of the previous five signs, and they were in fact revealed to explain and elaborate this verse. The subject of this verse continues in the next few verses.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

38 That is, "If it was not difficult for Him to create you in the first instance, how can it be difficult for Him to re-create you? Your first creation was not difficult for Him because your present existence is a living proof of that. Now it is simple commonsense that the re-making of a thing should be relatively easier for the one who trade it for the first time .

Read the full tafseer →