Ar-Room 30:25

Ar-Room · from ayah 25

30:25

وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ؕ— ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً ۖۗ— مِّنَ الْاَرْضِ ۖۗ— اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ۟وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ بِاَمۡرِهٖ‌ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةً  ‌ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ ‌ۖ اِذَاۤ اَنۡـتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of His signs is that the heaven and earth remain by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:25

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جونہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وه تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ ایک پکار دے کر تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم فورا نکل پڑو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا جبھی تم نکل پڑو گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے (نظامِ) اَمر کے ساتھ قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) ایک بار پکارے گا تو تم اچانک (باہر) نکل آؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمہیں زمین سے ایک ہی دفعہ پکارے گا تو اچانک تم نکل آؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اس کی نشانیوں میں سے) ایک یہ کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے (بلاستون) قائم ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں ایک ہی دفعہ زمین میں سے پکارے گا تو تم زمین سے نکل کھڑے ہوگے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے نکلنے کے لئے ایک ہی بار پکارے گا تو تم دفعتہ نکل پڑو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین قائم ہیں اسی کے حکم (و ارشاد) سے پھر جب وہ تم کو بلائے گا ایک ہی بار زمین سے تو تم سب کے سب یکایک نکل پڑو گے (اپنی اپنی قبروں سے)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم یک بارگی نکل پڑوگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ قائم ہیں آسمان و زمین اس کے حکم سے پھر جب وہ تمہیں پکارے گا ایک ہی بار زمین سے (نکلنے کے لیے) تو تم دفعۃً نکل پڑو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے نکلنے کے لیے آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

And of His Signs is that the sky and the earth stand firm by His command. Then no sooner than He summons you out of the earth you will come forth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And it is among His signs that the sky and the earth stand firm by His command. Then, when He will call you from the earth, by a single call, you will be coming out all at once.

— Muhammad Taqi Usmani

And it is among His signs that the sky and the earth stand firm by His command. Then, when He will call you from the earth, by a single call, you will be coming out all at once.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among His signs is that the heaven and the earth stand by His command. Then afterwards when He will call you by a single call, behold, you will come out from the earth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of His signs is this: The heavens and the earth stand fast by His command, and afterward, when He calleth you, lo! from the earth ye will emerge.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of His signs is that the heaven and earth remain by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth.

— Saheeh International

Some other evidence of His existence is that both the heavens and the earth stand firm at His command. When He will call you from the earth, you will start to come out.

— Muhammad Sarwar

And one of His signs is that the heaven and the earth subsist by His command, then when He calls you with a (single) call from out of the earth, lo! you come forth.

— Muhammad Habib Shakir

And of His signs is that the heaven and the earth stand fast by His command, and thereafter, when He calleth you, a call from the earth, lo! ye shall come forth.

— Abdul Majid Daryabadi

And among His Signs is this, that heaven and earth stand by His Command: then when He calls you, by a single call, from the earth, behold, ye (straightway) come forth.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

قیام ارض و سما اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–26

سورة الروم 36 یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے حکم سے ایک دفعہ وجود میں آگئے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل قائم رہنا اور ان کے اندر ایک عظیم الشان کارگاہ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر اس کا حکم انہیں برقرار نہ رکھے تو یہ سارا نظام یک لخت درہم برہم ہوجائے۔ سورة الروم 37 یعنی کائنات کے خالق و مدبر کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے کہ اسے اس کے لیے بہت بڑی تیاریاں کرنی ہوں گی، بلکہ اس کی صرف ایک پکار اس کے لیے بالکل کافی ہوگی کہ آغاز آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب ایک ساتھ زمین کے ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–26

چھٹی آیت قدرت یہ ہے کہ آسمان و زمین کا قیام اللہ ہی کے امر سے ہے، اور جب اس کا امر یہ ہوگا کہ یہ نظام توڑ پھوڑ دیا جائے تو یہ سب مضبوط مستحکم چیزیں جن میں ہزاروں سال چل کر بھی کہیں کوئی نقصان یا خلل نہیں آتا، دم کے دم میں ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجائیں گی اور پھر اللہ تعالیٰ ہی کے امر سے دوبارہ سب مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یہ چھٹی آیت قدرت درحقیقت پہلی سب آیات کا ماحصل اور مقصد ہے، اسی کے سمجھانے کے لئے اس سے پہلی پانچ آیتیں بیان فرمائی ہیں اور اس کے بعد کئی آیات تک اسی مضمون کا ذکر فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–26

ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا و ینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (24) اور اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جو اپنے اندر امید دیم اور طمع و خوف دونوں کے پہلو رکھتی ہے۔ یہ ابر رحمت کی بشارت اور اس کا مقدمۃ الجیس بن کر بھی نمودار ہوتی ہے اور کسی قوم کے لئے عذاب کا تازیانہ بن کر بھی۔ پہلی صورت تو عامۃ الورود ہے جس کا تجربہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ دوسری صورت کی مثالیں بھی قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ قرآن نے عاد وثمود کی تباہی کے سلسلے میں صاعقہ، کا ذکر کیا ہے اور ہم اس کے محل میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25-1یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو آسمان و زمین کا یہ سارا نظام، جو اس وقت اس کے حکم سے قائم ہے، درہم برہم ہوجائے گا اور تمام انسان قبروں سے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–27

10: ڈر اس بات کا کہ بجلی گر کر کوئی نقصان نہ پہنچا دے، اور امید اس بات کی کہ اس کے نتیجے میں رحمت کی بارش برسے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

“۔ ومن ایتہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل لہ قنتون (30: 25 – 26) آسمانوں اور زمین کا انتظام و قیام نہایت ہی سلیم و متین انتظام ہے جس کی حرکات متعین ہیں اور ان میں ایک سیکنڈ کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر سے ہے۔ کوئی مخلوق یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یا اس کے سوا کوئی اور یہ انتظام کر رہا ہے اور کوئی عقلمند شخص اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی کرنے والے مدبر کے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ زمین و آسمان اللہ کے کھڑے کرنے سے کھڑے ہیں۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں ، اس کے مطیع فرمان ہیں۔ ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 پہلے آسمان و زمین کا پیدا کرنا مذکور ہوا تھا یہاں ان کے بقاء و قیام کو بتلایا کہ وہ بھی اسی کے حکم سے ہے مجال نہیں کہ کوئی اپنے مرکز ثقل سے ہٹ جائے۔ یا ایک دوسرے پر گر کر نظام کائنات کو درہم برہم کر دے۔ 8 یعنی زمین و آسمان جب تک اس کا حکم ہے قائم رہیں گے۔ پھر جس وقت دنیا کی میعاد پوری ہو جائیگی اللہ تعالیٰ کی ایک پکار پر تم سب قبروں سے نکلے چلے آؤ گے میدان حشر کی طرف۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ” ہماری زمین ‘ سورج ‘ نظام شمسی اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں اور سیاروں کا ایک عظیم الشان اور لامتناہی نظام بھی اس کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اس نظام کے اندر ایسے ایسے ستارے بھی ہیں جن کے مقابلے میں ہمارے سورج کی جسامت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ اتنے بڑے بڑے اجرام سماویہ اللہ ہی کے حکم سے اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں اور یوں اس کی مشیت سے کائنات کا یہ مجموعی نظام چل رہا ہے۔ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً ق مِّنَ الْاَرْضِق اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ” قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی شان ”کُن فیکُون“…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 اللہ تعالیٰ نے جہاں آسمان اور زمین کا ذکر کیا تو اس سے مراد کائنات کا نظام ہوتا ہے۔ جس میں لاتعداد اجرام فلکی محو گردش ہیں۔ اور موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین اور چاند اور کئی دیگر سیارے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ عموماً سمجھا یہ جاتا ہے کہ ہر سیارے کی کشش ثقل اسے ایک مخصوص مقام پر جکڑے ہوئے ہے۔ مگر بات صرف اتنی نہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں سورج ہی سب سے بڑا ستارہ اور سیارہ ہے۔ لہذا اس کی کشش ثقل یا قوت جاذبہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ ہر سیارہ کو اپنی طرف کھینچ لے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ لہذا ضروری ہے کہ کوئی ایسی مقتدر اور قادر مطلق ایسی ہستی موجود ہو جو باوجود قوت جاذبہ کی کشش کے ان سیاروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ خود بخود نہیں بلکہ ارادۂ الہی سے۔ اوپر ذکر پیدائش کا ئنات کا تھا، اب ذکر نظام عالم کے قیام کا ہے۔ یہ سب اللہ کے ارادہ ومشیت کے ماتحت وقائم ہے جو نہ کسی آلہ کا محتاج ہے نہ سہارے کا۔ والتعبیر بالامر للمبالغۃ فی کمال القدرۃ والغنی عن الالۃ (بیضاوی) (آیت) ” تقوم السمآء والارض بامرہ “۔ مادی علوم م اسباب کا جال جتنا بھی پھیلاتے جائیں، آخر کہیں تو ان کا سلسلہ ختم ہوگا۔ اور اسی آخری سبب کا نام امرالہی ہے۔ پھر خود ہر سبب قریبی وظاہری بھی بغیر اس امرالہی کے تمامتر غیرموثر۔ 25۔ یہ اس وقت جب موجودہ نظام عالم کو درہم وبرہم کرکے ایک دوسرا نظام قائم کرنا اس کی مشیت و حکمت کو منظور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–27

آیت نمبر 20 تا 27 ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ ثم اذا دعا کم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون اور اسی کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے (اپنے اپنے دائرہ میں) قائم ہیں پھر جب وہ تم کو بلائے گا تو یکدم تم زمین سے برآمد ہوجاؤ گے۔ لفظ ثُمَّ تاخیر زمانہ کو بتارہا ہے یا قیامت کی عظمت شان کو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک مِنَ الْاَرْضِ کا تعلق تَخْرُجُوْنَ سے ہے یعنی تم زمین سے برآمد ہوجاؤ گے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہ غلط ہے کیونکہ اِذَا کا تعلق دعا سے ہے یعنی جب اللہ تم کو زمین کے اندر سے بلائے گا۔ ابن عسکر نے لکھا ہے کہ زید بن جابر شافعی نے آیت واسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب قیامت کے دن اللہ عالی تمہیں اسرافیل ؑ کی زبانی قبروں سے بلائے گا تو تم ایک دم نکل پڑو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرمایا، اب فرماتے ہیں کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ اتنے عظیم آسمان و زمین اور ان میں موجود سورج، چاند اور ستارے کسی ستون یا تھامنے والی چیز کے بغیر محض اس کے امر کے ساتھ اپنی اپنی جگہ قائم ہیں اور اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ) [ الأنبیاء : 33 ] ”سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ اس نے ہر ایک میں اپنی کمال حکمت کے ساتھ نہایت باریک اور درست حساب کے ساتھ جذب و دفع کی ایسی قوت رکھ دی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–26

ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔ پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–26

اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی 1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔ 2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] اَنْ تَــقُوْمَ [کہ قائم ہیں ] السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ [آسمان اور زمین ] بِاَمْرِهٖ ۭ [اس کے حکم سے ] ثُمَّ اِذَا [پھر جب ] دَعَاكُمْ [وہ پکارے گا تم لوگوں کو ] دَعْوَةً ڰ [ایک (ہی) پکار ] مِّنَ الْاَرْضِ ڰ (تو) زمین میں سے ] اِذَآ اَنْتُمْ [جب ہی تم لوگ ] تَخْرُجُوْنَ [نکل پڑو گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

نہم اور دہم : یہ فرمایا کہ آسمان اور زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں۔ تین آیات میں پہلے آسمان اور زمین کے پیدا فرمانے کا تذکرہ تھا اور اس آیت کریمہ میں آسمان اور زمین کی بقا کا تذکرہ ہے، جب تک ان کے باقی رکھنے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے اس وقت تک باقی رہیں گے اور جب قیامت کے دن ان کا حال بدلنے کا ارادہ ہوگا تو اس وقت ان کی حالت بدل جائے گی، آسمان پھٹ پڑیں گے اور زمین میں زلزلہ آجائے گا، آسمان کو اپنی مقررہ جگہ پر اور موجودہ حالت پر قائم رکھنا اور زمین کو اس کی مقررہ جگہ پر اور موجودہ حالت پر باقی رکھنا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے اس میں کسی اور کا کچھ بھی کوئی دخل نہیں۔ سورة فاطر میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–27

دلیل ششم ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ۔ اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے یہ ہے کہ آسمان بدون ستون کے قائم ہے اور زمین پانی پر ٹھہری ہوئی ہے اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہے اس میں کسی ایتھر اور نیچر کو ذرہ برابر دخل نہیں۔ یہاں تک دلائل قدرت کا بیان ختم ہوا ظاہر میں یہ دلائل چھ ہیں لیکن درحقیقت دس سے زیادہ ہیں۔ ایک من ایاتہ کے ساتھ ایک دوسری دلیل بھی مذکور ہے ان سب دلائل کا حاصل یہ ہے کہ یہ تمام نظام عالم جس کا ان آیات قدرت میں ذکر ہوا وہ سب اللہ کے ارادہ اور مشیت سے چل رہا ہے اور ایک دن یہ سارا نظام درہم وبرہم ہوجائے گا پھر اس وقت یہ ہوگا کہ وہ جب تم کو پکار کر زمین کے اندر سے بلاوے گا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:۔ یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت و وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ سارا نظام کائنات اسی کے حکم سے قائم ہے اور دنیا کی میعاد ختم ہونے کے بعد قیامت کے دن جب وہ تمہیں بلائے گا یعنی اس کے حکم سے قائم ہے۔ اور دنیا کی میعاد ختم ہونے کے بعد قیامت کے دن جب وہ تمہیں بلائے گا یعنی اس کے حکم سے جب اسرافیل صور پھونکے گا تو تم سب زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آؤ گے۔ ولہ من فی السموات الخ یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوق کا وہی خالق ومالک ہے اور تمام جن و انس انبیاء (علیہم السلام) اور ملائکہ کرام سب اس کے مطیع فرمانبردار ہیں اور سب خالصۃً اسی کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–27

قدرتی بجلی بطور نشانی اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں اب اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتہِ اور یہ بھی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے یریکم البرق خوفاً وطمعاً کہ وہ دکھاتا ہے تم کو بجلی خوف اور امید سے۔ یہ آسمانی بجلی کا ذکر ہورہا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے تو اس سے نقصان ہوجانے کا خوف بھی آتا ہے اور نزول رحمت بھی امید بھی ہوتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ مسافروں کے لیے باعث خوف ہوتی ہے کہ بجلی ان کے اوپر نہ آگرے۔ جب کسی مقام پر بجلی گرتف ہے تو سخت نقصان ہوتا ہے۔ کہیں آگ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ۝ 0 ۭ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَۃً۝ 0 ۤۖ مِّنَ الْاَرْضِ۝ 0 ۤۖ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ۝ 25 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–26

ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔ تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً صلے ق مِّنَ الْاَرْضِ صلے ق اِذَآ اَنْـتُمْ تَحْزُجُوْنَ ۔ (الروم : 25) (اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تم کو زمین سے پکارے گا تو تم دفعۃً نکل پڑو گے۔ ) ایک اور نشانی کا ذکر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک مزید نشانی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اس بات کا تو یقین ہے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے لیکن تم یہ بات بھول جاتے ہو کہ اس نے جس طرح ان کو پیدا فرمایا ہے اسی طرح ان کا مسلسل قائم رہنا اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بارہویں نشانی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات عظیم المرتبت ہے اسی طرح اس کی قدرت اور کام عظیم اور عدیم المثال ہیں۔ زمین و آسمان پر غور فرمائیں کہ آسمان کسی سہارے کے بغیر قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ زمین پانی پر بچھائی گئی ہے۔ اس کے باوجود نہ اس میں جھول ہے اور نہ ہی کسی مقام سے پانی میں غرق ہوئی ہے۔ زمین و آسمان صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے حکم ثانی تک قائم رہیں گے۔ قیامت کے دن زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور میں پھونک مارنے کا حکم دے گا۔ اسرافیل کے صور پھونکنے کے ساتھ ہی لوگ اپنے اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آسمان و زمین کا قیام : 25: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ (اور ان کی نشانیوں میں سے کھڑا ہونا) بغیرستونوں کے قائم رہنا۔ السَّمَآ ئُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ (آسمان اور زمین کا اسی کے حکم سے ہے) اس کے قائم کرنے نمبر 2۔ اس کی تدبیر و حکمت سیثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ (پھر جب وہ تمہیں بلائے گا) اٹھنے کیلئے۔ دَعْوَۃً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ (بلانا یکدم تو تم زمین سے نکل کھڑے ہوگے) اپنی قبور سے۔ یہ جملہ بھی مفرد کے موقع پر معنوی اعتبار سے یریکمؔ کی طرف واقع ہے۔ گویا اس طرح فرمایا ومن آیاتہ قیام السمٰٰوٰت والارض واستمساکھا بغیر عمدٍ ثم خروج الموتٰی من القبور اذا دعاھم دعوۃ واحدۃ یاھل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔” ومن آیاتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ “ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستون کے کھڑا کیا۔ بعض نے کہا کہ وہ اللہ کے حکم سے چکر لگاتا ہے۔ ثم اذا دعاکم دعوۃ من الارض ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ کیا ہے قبروں سے ۔” اذا انتم تخرجون “ پھر تمہیں پکار اجائے گا جب تم اپنی اپنی قبروں سے برآمدہوجاؤگے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–26

17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–27

آیت نمبر : 25-27 اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ‘ ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ (لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس) (المؤمن : 04/75) ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔ “ (ولہ من فی السموٰت والارض) ” اور اسی کے لیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے ‘ وہ اپنی مخلوق میں کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 آسمان اور زمین کا قیام اور ان کی بقاء اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں "۔ سو وہ قادر مطلق ان کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تھامے ہوئے ہے کہ خالق بھی وہی ہے اور قادر وقیوم بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ورنہ اس کے سوا اور کس کے بس میں ہوسکتا ہے کہ وہ ان عظیم الشان کروں کو تھام سکے ۔ { وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِہ } ۔ (فاطر : 41) سو جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آسمان و زمین کا یہ نظام اٹل ہے کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ وہ سخت غلطی پر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–27

اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–27

آیات 20 تا 27 اسرارومعارف تخلیق انسانی : اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اس نے ایسی کشش رکھی ہے کہ ہر چیز اپنے مرکز ثقل پر قائم ہے اور ایک جسم دوسرے جسم کو اس طرح کھینچے ہوئے ہے کہ وہ جسم آپس میں ٹکراتے نہیں۔ اگر اس کا حکم نہ ہو تو سب جسم ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں اور یہ نظام درہم برہم ہوجائے۔ 2 یعنی جس قادر مطلق نے یہ محیر العقول نظام قائم کیا ہے اس کے لئے یہ ہرگز مشکل نہیں ہے کہ وہ تمہیں یک بارگی پکارے اور تم اس کی آواز سن کر فوراً کھڑے نہ ہوجائو۔ یہاں پکارنے سے مراد ” نغمہ ثانیہ “ یعنی نغمہ بعث ہے۔ جیسے فرمایا : ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:25) ان تقوم السماء والارض بامرہ میں ان مصدریہ ہے۔ ای قیام السماء والارض بامرہ۔ تقوم مضارع واحد مؤنث غائب ۔ وہ کھڑی ہے۔ وہ قائم ہے۔ یعنی آسمان اور زمین اس کے حکم سے کھڑے ہیں۔ یا قائم ہیں۔ ثم اذا دعاکم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون : ثم عطف کے لئے ہے اذا شرطیہ ہے اور دوسرا اذا مفاجاتیہ ہے۔ پہلا جملہ شرطیہ ہے دوسرا جزائیہ ہے یہ ساری عبارت معطوف ہے اور اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ ؎ کانہ قیل : ومن ایتہ قیام السماء والارض بامرہ ثم خروجکم من قبورکم بسرعۃ اذا دعاکم۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین کا کھڑے رہنا اور اس کے بلانے پر قبروں سے تمہارا فورا نکل آنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–27

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔ تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–27

منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔ (ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–26

[12] یعنی فرشتے اور جن و انس وغیرہ جتنی بھی صاحب حیات اور صاحب ارادہ مخلوق ہے سب اضطراراً قانون الٰہی کی پابند ہے۔ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ اس کے قوانین تکوینی کو توڑ کر باہر جاسکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

المثل الا علےٰ 1: اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ جو حشر ونشر کے منکر تھے اور یہ نہیں مانتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی حاصل کرینگے ارشاد ہے کہ یہ بتاؤ جب تم اس حد تک تسلیم کرتے ہو کہ ابتداً تمام کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔ اور یہ بھی مانتے ہو کہ جب یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں ۔ اس وقت کوئی دوسری ذات اس کے شریک وسہیم میں نہ تھی تو پھر ان لینے میں کوئی تامل ہے ۔ کہ وہ دوبارہ بھی ایسا کرسکتا ہے ۔ کیا ایک ہی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً زیادہ آسان نہیں ہے ولہ المثل الاعلےٰ کہنے سے غرض یہ ہے کہ یہ تمہیں سمجھانے کے لئے ہم کہتے ہیں ۔ کہ کائنات انسانی کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 24–25

24۔ اور اس کے نشانات قدرت میں سے یہ بھی بات ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم اور ارادے سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم سب پکارتے ہی نکل پڑو گے۔ یعنی زمین و آسمان اسی کے ارادے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے اٹھانا چاہے گا تو تم کو آواز دے گا اور تم زمین سے نکل آئو گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کھڑا ہے اس میں تارے چلتے ہیں جس کی اور جگہ فرمایا پھرتے ہیں ۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

ف 1۔ اس میں بیان ہے ان کے ابقاء کا، اور اوپر خلق السموات والارض میں ذکر تھا ان کے حدوث کا، اور یہ تمام نظام عالم جو مذکور ہوا یعنی تمہارا سلسلہ توالد و تناسل کا جاری ہونا اور باہم ازدواج ہونا اور آسمان و زمین کا بہیت کذائیہ موجود و قائم ہونا اور السنہ و الوان کا اختلاف اور لیل و نہار کے انقلاب میں خاص مصلحتوں کا ہونا اور بارش کا نزول اور اس کے مبادی آثار کا ظہور۔ یہ سب اسی حیوة اولی کے بقاء سلسلہ تک ہے، اور ایک روز یہ سب ختم ہوجاوے گا۔ 2۔ اور دوسرا نظام شروع ہوجاوے گا جو مقصد و مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اسی کے حکم سے قائم ہے اور اسی کے حکم کا پابند : 25۔ آسمان کیا ہے ؟ وہی کچھ جو تم کو نظر آرہا ہے وہ حد نظر کا نام ہے لیکن اس فضا میں کتنی بڑی مخلوق اور بھی موجود ہے یہ اتنا بڑا سورج ‘ چاند اور ستارے وسیارے مختلف قسم کی گیسیں اور ہوائیں اور اس کثرت سے پانی کہ اس کی کثرت کا آج تک کوئی اندازہ ہی نہ لگا سکا یہ سب کچھ کس کے حکم سے قائم ہے اور اس پانی پر غور کرو کہ کس طرح اس کو اڑا دیا گیا ہے کہ وہ اس فضا میں ہوا بن کر اڑتا بھی اکثر اوقات نظر نہیں آتا بلاشبہ یہ کرہ زمین کسی نے کندھے پر انہیں اٹھا رکھا اور اس کی ہرچیز کس طرح اپنی اپنی جگہ قائم ہے اور ہزاروں لاکھوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–26

Sixth sign of divine omnipotence Existence of the sky and earth is by the command of Allah. When He will command the breakup of this system, this strong arrangement, which is working since thousands of years perfectly without a slight depreciation, will end up in no time. Then by the command of Allah all the dead will assemble in the plain for reckoning. The sixth sign of divine omnipotence is in fact the sum and substance of the previous five signs, and they were in fact revealed to explain and elaborate this verse. The subject of this verse continues in the next few verses.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36 That is, "Not only have they come into being by His Command, but their continuous existence and the functioning in them of a grand workshop of life constantly is also due to His Command. If His Command dces not sustain them even for a moment, the entire system should break down at once." 37 That is, "It is not at all difficult for the Creator and Controller of the universe to raise you back to life; for this He will have to make no preparation. His one call will be enough to raise and muster together from every corner of the earth all human beings who have been born since the beginning of…

Read the full tafseer →