Explained with ayahs 23–25
قیام ارض و سما
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا…
Read the full tafseer →سورة الروم 34
یعنی اس کی گرج اور چمک سے امید بھی بندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی، مگر ساتھ ہی خوف بھی لاحق ہوتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گر پڑے یا ایسی طوفانی بارش نہ ہوجائے جو سب کچھ بہا لے جائے۔
سورة الروم 35
یہ چیز ایک طرف حیات بعد الموت کی نشان دہی کرتی ہے اور دوسری طرف یہی چیز اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خدا ہے، اور زمین و آسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ زمین کی بیشمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اسی پیداوار پر ہے جو زمین سے نکلتی ہے۔ اس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیت بار آوری پر ہے۔ اس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے، خواہ وہ براہ راست زمین پر برسے یا اس کے…
Read the full tafseer →پانچویں آیت قدرت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو بجلی کا کوندنا دکھاتے ہیں جس میں اس کے گرنے اور نقصان پہنچانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور اس کے پیچھے بارش کی امید بھی اور پھر بارش نازل فرماتے ہیں اور اس خشک بےجان زمین کو زندہ ترو تازہ کر کے اس میں طرح طرح کے درخت اور پھل پھول اگاتے ہیں۔ اس کے آخر میں فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ، یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے، کیونکہ برق و باراں اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والی نباتات اور ان کے پھل پھول کی تخلیق منجانب اللہ ہونا یہ عقل و حکمت ہی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا و ینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (24)
اور اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جو اپنے اندر امید دیم اور طمع و خوف دونوں کے پہلو رکھتی ہے۔ یہ ابر رحمت کی بشارت اور اس کا مقدمۃ الجیس بن کر بھی نمودار ہوتی ہے اور کسی قوم کے لئے عذاب کا تازیانہ بن کر بھی۔ پہلی صورت تو عامۃ الورود ہے جس کا تجربہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ دوسری صورت کی مثالیں بھی قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ قرآن نے عاد وثمود کی تباہی کے سلسلے میں صاعقہ، کا ذکر کیا ہے اور ہم اس کے محل میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے…
Read the full tafseer →24-1یعنی آسمان میں بجلی چمکتی ہے اور بادل کڑکتے ہیں، تو تم ڈرتے بھی ہو کہ کہیں بجلی گرنے یا زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے کھیتاں برباد نہ ہوجائیں اور امیدیں بھی وابستہ کرتے کہ بارشیں ہوں گی تو فصل اچھی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
10: ڈر اس بات کا کہ بجلی گر کر کوئی نقصان نہ پہنچا دے، اور امید اس بات کی کہ اس کے نتیجے میں رحمت کی بارش برسے۔
Read the full tafseer →ومن ایتہ یریکم ۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یعقلون (30: 24) ” “۔
بجلی کی چمک اس کائناتی نظام اور اس کی تخلیق کا ایک منظر ہے۔ بعض سائنس دانوں نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ بادلوں کے اندر بجلی موجود ہوتی ہے ۔ جب ان کے دو ٹکڑے باہم ملتے ہیں تو اس ٹکراؤ سے بجلی کا ایک شرارہ بادلوں کے اندر پائے جانے والی بجلی کو مشتعل کردیتا ہے یا یوں ہوتا ہے کہ یہ بادل کسی پہاڑ کی چوٹی سے ٹکراتے ہیں اور ان سے یہ اشتعال پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے یہ بجلی چمک اٹھتی ہے۔ بالعموم اس چمک اور تصادم کے بعد بارش ہوجاتی ہے۔ بہرحال اس کی حقیقت جو بھی ہو ، لیکن یہ اس کائنات میں دست قدرت کا ایک مظاہرہ ہے ، ایک خوفناک مظاہرہ ۔ یہ اللہ کی ان…
Read the full tafseer →5 بجلی کی چمک دیکھ کر لوگ ڈرتے ہیں کہیں کسی پر گر نہ پڑے۔ یا بارش زیادہ نہ ہوجائے جس سے جان و مال تلف ہوں۔ اور امید بھی رکھتے ہیں کہ بارش ہو تو دنیا کا کام چلے۔ مسافر کبھی اندھیرے میں اس کی چمک کو غنیمت سمجھتا ہے کہ دور تک راستہ نظر آجائے۔ اور کبھی خوف کھا کر گھبراتا ہے۔
6 یعنی اسی سے سمجھ لو کہ مرے پیچھے تمہارا پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 24 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا ”
آسمانوں میں بادلوں کا چھانا اور بجلی کا چمکنا بھی اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے جس میں لوگوں کو بجلی کے گرنے اور طوفان وغیرہ کا خوف بھی ہوتا ہے جبکہ باران رحمت کے برسنے کی امید بھی۔
Read the full tafseer →21 بجلی اور بارش دونوں میں خوف اور امید یا فائدہ کے پہلو موجود ہیں۔ بجلی کی کڑک اور چمک سے جہاں یہ خطرہ ہوتا ہے کہیں گر کر تباہی نہ مچائے۔ وہاں اس سے اندھیرے میں نظر بھی آنے لگتا ہے نیز بجلی کی کڑک اور چمک عموماً زیادہ بارش ہونے کی علامت بھی ہوتی ہے۔ اور بارش کے باعث رحمت میں تو کسی کو شک نہیں تاہم اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہوجائے تو یا سیلاب کی صورت اختیار کرلے تو اس سے کئی طرح کے نقصان بھی پہنچ سکتے ہیں۔
22 زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا انحصار زمین کی پیداوار پر ہے۔ اللہ نے زمین پر بارش برسا کر زمین کو زندہ کیا تو گویا اس نے تمام مخلوق کو زندہ کیا۔ اب اس بارش کے برسنے میں جو عوامل کام کرتے…
Read the full tafseer →23۔ چناچہ باخدا اہل علم اگر چاہیں تو ان اشارات سے فائدہ اٹھا کر پورے پورے علوم بارش اور زمین اور کائنات فضائی سے متعلق مرتب کرسکتے ہیں۔ (آیت) ” یریکم ...... طمعا “۔ یعنی ایک طرف تو تمہیں بافراط بارش سے امیدیں بڑی بڑی قائم ہوجاتی ہیں اور تم ان سے آس بھی ہر طرح کی لگانے لگتے ہو۔ اور دوسری طرف طوفانی بارش سے اندیشے بھی بہت زیادہ لگے رہتے ہیں ...... آیت کے مفہوم میں اگر توسع سے کام لیاجائے تو زمانہ حال کی ساری برقی ترقیات بھی اس کے تحت میں آجاتی ہیں۔ برقی آلات سے جدید انسان کیسی امیدیں زندگی کے ہر شعبہ میں ترقیوں کی بھی قائم کرتا ہے اور پھر یہی مشینیں کس درجہ اس کی ہلاکت و بربادی کا باعث بھی بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیت نمبر 20 تا 27
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →ومن ایاتہ یریکم البرق خوفًا وطعمًا وینزل من السماء ماءً فیحی بہ الارض بعد موتھا
ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون اور اسی کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی اور وہ ہی اوپر سے پانی برساتا ہے پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
خَوْفًا یعنی بجلی گرنے کا ڈر ہوتا ہے جب کہ سفر کی حالت میں ہو۔
وَطَمَعًا اور بارش کی امید ہوتی ہے جب کہ اپنے اپنے گھروں میں ہو۔
خَوْفًا وَّطَمَعًا دونوں فعل مذکور یا محذوف کی علت ہیں ‘ یا حال۔ زمین کے مرنے سے مراد ہے خشک ہوجانا اور زندہ کرنے سے مراد ہے…
Read the full tafseer →اور اس کے دلائل قدرت میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں آسمان پر بارش کے وقت بجلی چمکتی ہوئی دکھاتا ہے جس سے مسافر کو تو بارش کا ڈر ہوتا ہے کہ سامان سب بھیگ جائے گا اور مقیم کو بارش سے امید ہوتی ہے کہ کھیتی سیراب ہوجائے گی اور وہی آسمان سے بارش برساتا ہے کہ پھر اس سے زمین کے خشک اور اس کے بنجر ہوجانے کے باوجود پھر اسے تروتازہ کردیتا ہے اس امر میں بھی ان لوگوں کے لیے جو اس کے لیے اللہ کی طرف سے ہونے کی تصدیق کرتے ہیں قدرت خداوندی کی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَـعًا : یعنی بجلی کی گرج اور چمک سے امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی اور دوسری طرف ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گرپڑے، یا اتنی زیادہ بارش نہ ہوجائے کہ مکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔
وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَيُحْيٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا : اس میں مرنے کے بعد زندگی پر بھی استدلال ہے اور اس بات پر بھی کہ بارش صرف اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے نہ کہ محض مادہ کی ترکیب سے۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ : بارش سے مردہ زمین کے زندہ ہونے کو مرنے کے بعد زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔
پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔
2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] يُرِيْكُمُ [(کہ) وہ دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] الْبَرْقَ [بجلی ] خَوْفًا [خوف کے لئے ] وَّطَمَـعًا [اور آرزو کے لئے ] وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ [اور وہ اتارتا ہے آسمان سے ] مَاۗءً [کچھ پانی ] فَيُحْيٖ بِهِ [پھر وہ زندہ کرتا ہے اس سے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کے مردہ ہونے کے بعد ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک نشانیاں ہیں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [عقل (استعمال ) کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →ہفتم وہشتم : بجلی کے چمکنے اور آسمان سے پانی نازل فرمانے اور اس کے ذریعہ زمین کو زندہ فرمانے کا تذکرہ فرمایا۔ جب بجلی چمکتی ہے تو انسان ڈرتے بھی ہیں اور بارش ہونے کی امید بھی رکھتے ہیں، کیونکہ عام طور پر بجلی چمکنے کے بعد بارش ہوجاتی ہے اور جب بارش ہوجاتی ہے تو مردہ زمین میں زندگی آجاتی ہے، زمین سرسبز ہوجاتی ہے اور کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، عقلمندوں کو چاہیے کہ اس میں غور کریں اور سوچیں، بجلی چمکی، خوف و ہراس طاری ہوا، بارش کی امید بندھی، پانی برسا، زمین سرسبز ہوئی، یہ سب کیسے ہوا ؟ کس کی قدرت سے ہوا ؟ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ…
Read the full tafseer →دلیل پنجم
ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا وینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون۔
اور منجملہ دلائل قدرت کے نشانیوں کے یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے ڈر کے لئے اور امید کے لئے بجلی کے گرنے سے تم کو جان کا ڈر ہوتا ہے اور بارش کی طمع ہوتی ہے خدا کی قدرت کو دیکھو کہ اس نے ایک چیز میں بیک وقت دو متضاد صفتوں کو جمع کردیا برق ایک ہے کوئی اس سے ڈر رہا ہے اور کوئی اس سے امید لگا رہا ہے اور آسمان کی طرف سے یا بادل سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس کے سبب سے زمین کو مردگی اور پژمردگی کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی اس سر سبز اور شاداب کردیتا ہے بیشک اس برق اور باراں میں قدرت الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
19:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ خوفا وطمعا دونوں یریکم کے مفعول لہ ہیں ای لالقاء الخوف و الطمع یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں بادلوں کی چمک دکھاتا ہے جس سے تمہارے دلوں میں خوف وامید کے ملے جلے جذبات رونما ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف بجلی گرنے کا ڈر ہوتا ہے اور دوسری طرف باران رحمت کے نزول کی امید ہوتی ہے۔ خوفا من الصاعقۃ و طمعا فی الغیث (مدارک ج 3 ص 207) ۔ پھر آسمان سے باران رحمت نازل فرما کر بنجر اور ناکارہ زمین کو زندہ اور زرخیز بنا دیتا ہے۔ عقل فہم والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ یہاں جو دلائل مذکور ہوئے وہ اعلی سے ادنی کی طرف تنزل کے طور پر مذکور ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
قدرتی بجلی بطور نشانی
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں اب اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتہِ اور یہ بھی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے یریکم البرق خوفاً وطمعاً کہ وہ دکھاتا ہے تم کو بجلی خوف اور امید سے۔ یہ آسمانی بجلی کا ذکر ہورہا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے تو اس سے نقصان ہوجانے کا خوف بھی آتا ہے اور نزول رحمت بھی امید بھی ہوتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ مسافروں کے لیے باعث خوف ہوتی ہے کہ بجلی ان کے اوپر نہ آگرے۔ جب کسی مقام پر بجلی گرتف ہے تو سخت نقصان ہوتا ہے۔ کہیں آگ…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِہٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَـعًا وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَيُحْيٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 24
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًاوَّطَمَعًاوَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَیـُحْیٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (الروم : 24)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو دکھاتا ہے بجلی، جس میں خوف بھی ہے اور امید بھی، اور اتارتا ہے آسمان سے پانی، پس زندہ کردیتا ہے اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر امید و بیم سے استدلال
اللہ تعالیٰ کی وہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ کی بعض صفات اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نویں، دسویں اور گیارہویں نشانی۔
انسان کی زندگی اور اس کے رزق کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہے۔ اگر ایک مدّت تک بارش نہ ہو تو نہ صرف پہاڑوں میں پھوٹنے والے چشمے خشک ہوجاتے ہیں بلکہ زمین کا پانی بھی اتنا نیچے چلا جاتا ہے کہ اس کا حاصل کرنا لوگوں کے لیے ناممکن بن جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں۔ ہوائیں انہیں اٹھا کر فضا میں کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ بخارات بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ فرشتہ انہیں ہانک کر وہاں لے جاتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ انہیں برسنے کا حکم صادر فرماتا ہے۔ بارش سے مردہ…
Read the full tafseer →بادل کا پانی اتارنا :
24: وَمِنْ ٰایٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ (اور اس کے نشانہائے قدرت میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے) ۔
نحو : یریکم میں دو صورتیں ہیں۔ نمبر 1۔ اَنْ کو مضمر مان لیں جیسا کہ قراءت ابن مسعود ؓ میں ہے۔ (تمہارا بجلی دیکھنا) نمبر 2۔ فعل کو مصدر کی جگہ لیا گیا۔ اس مثال کی تشریح اسی طرح کی جاتی ہے تسمع بالمعیدی خیر من ان تراہ۔ ای ان تسمع او سماعک خَوْفًا (ڈر کی بناء پر) کڑک سے یا سیلاب سے ڈر کر وَّ طَمَعًا ( اور طمع میں) بارش کی۔ نمبر 2۔ خطرہ مسافر کیلئے اور طمع مقیم کیلئے ہے۔
: یہ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام قرار دیا ای…
Read the full tafseer →24” ومن آیاتہ یریکم البرق خوفا “ بچلی گرنے کا ڈرہوتا ہے جب کہ سفر کی حالت میں ہو۔ وطمعا اور بارش کی امید ہوتی ہے جب کہ اپنے اپنے گھروں میں ہو۔ وینزل من السماء ماء فیحی بہ “ آسمان سے بارش برستی ہے ۔ الارض بعد موتھا اس زمین کے خشک ہونے کے بعد بارش کا پانی اس میں جذب ہوجاتا ہے ۔ ان فی ذلک لایات لقوم یعقلون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 24
یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ وہ تم پر بارش برساتا ہے جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بارش برسانے سے قبل وہ تمہیں اس کے مقدمات کا مشاہدہ کراتا ہے ‘ مثلاً بجلی کی چمک اور بجلی کی کڑک ‘ جس سے امید وابستہ ہوتی ہے اور اس سے خوف بھی آتا ہے۔ (ان فی ذلک لایت) ” بلاشبہ اس میں ضرور نشانیاں ہیں “ جو اس کے بےپایاں احسان ‘ لامحدود علم ‘ کامل مہارت اور عظیم حکمت پر دلالت کرتی ہیں ‘ نیز اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندگی بخشی (لقوم یعقلون) ” ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “ وہ جو…
Read the full tafseer →24 آسمانی بجلی میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جس میں طمع اور خوف دونوں پائے جاتے ہیں۔ یعنی اس میں اس بات کا خوف بھی ہوتا ہے کہ کہیں یہ بجلی جان لیوا ثابت نہ ہوجائے یا اس کے ساتھ برسنے والی بارش کسی بڑے سیلاب اور طوفان کا باعث نہ بن جائے۔ اور ساتھ ہی یہ امید بھی بندھتی ہے کہ اب باران رحمت بر سے گی اور اس سے طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل ہوں گے۔ زمین کو نئی زندگی ملے گی اور اس میں قسما قسم کی پیداواریں ہوں گی۔ ہریالی ہوگی اور گل و گلزار جنم لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو قدرت کے اس عظیم الشان مظہر کے رحمت والے پہلو کو ہم لوگ آئے دن اپنی کھلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل
تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیات 20 تا 27
اسرارومعارف
تخلیق انسانی :
اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…
Read the full tafseer →11 ۔ اس آیت میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے اور وہ اس طرح کہ نیند موت ہے اور جاگ کر روزی کے لئے دوڑ دھوپ کرنا زندگی کے بعد موت سے مشابہ ہے۔ 12 ۔ یعنی بجلی کی گرج اور چمک سے ایک امیدبندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی اور دوسری طرف ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گرپڑے یا اتنی زیادہ بارش نہ ہوجائے کہ مکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔ 13 ۔ اس میں بحث بعد الموت پر بھی استدلال ہے اور اس پر بھی کہ بارش صرف اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے نہ کہ محض مادہ کی ترکیب سے۔
Read the full tafseer →(30:24) یریکم البرق سے قبل ان مصدریہ مقدرہ ہے ای ومن ایتہ ان یریکم البرق اور اس کی نشانیوں میں سے اس کا تمہیں بجلی دکھانا بھی ہے ان کو حذف کرکے فعل کو مرقوع لایا گیا ہے۔ اگلی آیت میں ہے ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض۔
کو فا وطمعا۔ منصوب ہونے کی دو وجوہات ہیں :۔
(1) مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام لایا گیا ہے ای ارادۃ کووارادۃ طمع اور یہ دنوں مفعول لہ ہیں۔
(2) یہ دونوں حال ہیں بمعنی خائفین وطامعین۔
یریکم البرق خوفا وطمعا۔ اس کا بجلی دکھانا خوف کے ارادہ سے اور طمع کے ارادہ سے یا وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے خوف کی راہ سے بھی اور امید کی راہ سے بھی (خوف اس امر کا کہ بجلی گرے تو جان و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔
تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔
(ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…
Read the full tafseer →[11] بجلی ڈرنے کی بھی چیز ہے کیونکہ جہاں گرتی ہے اس کو جلا کر بھسم کردیتی ہے اور یہ امید کی بھی چیز ہے کہ جوں جوں کو ندے گی باران رحمت برسے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1: ان تمام آیات میں فکروعلم کی دعوت ہے ۔ وجہ کہا گیا ہے ۔ کہ کائنات کے رموز و اسرار پر غور کرو ۔ اور یہ دیکھو ۔ کہ یہ کارگریاں کس درجہ کامل وجامع قوانین پر قائم ہے ۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرو ۔ زبانوں ، اور رنگتوں کے امتیازفات کو گہری نظر سے دیکھو ۔ فطرت کا ہر مظہر تمہارے آرام اور تمہاری آسائش وآسودگی کے لئے ہے ۔ رات کو دن کے تھکے ہارے سو جاتے ہیں ۔ دن کی روشنی میں اپنا کام کاج کرلیتے ہوں ۔ یہ تقسیم کتنی ضروری ہے ؟ آسمان پر بادل گھرکر آتے ہیں بجلی کوندتی ہے ۔ تم ڈرتے بھی ہو اور امید بھی رکھتے ہو ۔ کہ اگر بارش ہوجائے تو مردہ اور خشک زمین زندہ ہوجائے گی ۔ کھیت لہلہا اٹھیں گے ۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ اور اس کے نشانات قدرت میں سے یہ بھی بات ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم اور ارادے سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم سب پکارتے ہی نکل پڑو گے۔ یعنی زمین و آسمان اسی کے ارادے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے اٹھانا چاہے گا تو تم کو آواز دے گا اور تم زمین سے نکل آئو گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کھڑا ہے اس میں تارے چلتے ہیں جس کی اور جگہ فرمایا پھرتے ہیں ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 1۔ اس میں بیان ہے ان کے ابقاء کا، اور اوپر خلق السموات والارض میں ذکر تھا ان کے حدوث کا، اور یہ تمام نظام عالم جو مذکور ہوا یعنی تمہارا سلسلہ توالد و تناسل کا جاری ہونا اور باہم ازدواج ہونا اور آسمان و زمین کا بہیت کذائیہ موجود و قائم ہونا اور السنہ و الوان کا اختلاف اور لیل و نہار کے انقلاب میں خاص مصلحتوں کا ہونا اور بارش کا نزول اور اس کے مبادی آثار کا ظہور۔ یہ سب اسی حیوة اولی کے بقاء سلسلہ تک ہے، اور ایک روز یہ سب ختم ہوجاوے گا۔
2۔ اور دوسرا نظام شروع ہوجاوے گا جو مقصد و مقام ہے۔
Read the full tafseer →نشانات الہی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے :
24۔ بادلوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا اور اس ملنے سے کڑک وبرق کا پیدا ہونا روز مرہ کے مشاہدات میں سے ایک مشاہدہ ہے جس سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ بلاشبہ کڑک پہلے پیدا ہوتی ہے اور برق بعد میں لیکن دیکھنے والوں کو برق پہلے نظر آتی ہے اور کڑک بعد میں جس سے یہ اصول و قانون معلوم ہوگیا کہ برق کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہے اور اس ایک اصول و قانون نے انسان کے لئے کتنی ایجادات کی راہیں کھول دیں جو بلاشبہ انسانوں کے لئے مفید بھی ہیں اور مضر بھی اور یہ خوف اور طمع سے تعبیر کرکے بتا دیا کہ اس کا فائدہ…
Read the full tafseer →Fifth sign of divine omnipotence
Allah Ta’ ala shows the flash of lightning to people in which there is risk of its striking, thus destruction. At the same time, there is a hope for rain following the lightning. The rain does follow with His will and gives rise to numerous types of vegetation. At the end of the verse, it is said فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (Surely in this there are signs for a people who understand - 30:24), because the mysteries of lightning and rain, and the resultant growth of vegetation can be understood by those with intellect.
Read the full tafseer →34 That is, "Its thunder and lightning give hope that rain will come and help the crops, but at the same time they cause a fear that the lightning may strike somewhere, or heavy rain may fall, which may wash away everything."
35 This thing, on the one hand, points to the life hereafter, and on the other, proves that God exists, and there is One God alone, Who is controlling the earth and the heavens. innumerable creatures of the earth live on the products that come out from the earth. These products depend on the productivity of the earth. The productivity depends on the rain, whether it…
Read the full tafseer →