Explained with ayahs 23–25
قیام ارض و سما
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا…
Read the full tafseer →سورة الروم 33
فضل کو تلاش کرنے سے مراد رزق کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنا ہے۔ انسان اگرچہ بالعموم رات کو سوتا اور دن کو اپنی معاش کے لیے جدو جہد کرتا ہے، لیکن یہ کلیہ نہیں ہے۔ بہت سے انسان دن کو بھی سوتے اور رات کو بھی معاش کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسی لیے رات اور دن کا اکٹھا ذکر کر کے فرمایا کہ ان دونوں اوقات میں تم سوتے بھی ہو اور اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہو۔
یہ چیز بھی ان نشانیوں میں سے ہے جو ایک خالق حکیم کی تدبیر کا پتہ دیتی ہیں۔ بلکہ مزید برآں یہ چیز اس بات کی نشان دہی بھی کرتی ہے کہ وہ محض خالق ہی نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر غایت درجہ رحیم و شفیق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں کے لیے…
Read the full tafseer →چوتھی آیت قدرتانسانوں کا سونا رات میں اور دن میں اسی طرح ان کی تلاش معاش ہے رات میں اور دن میں اس آیت میں تو نیند کو بھی دن و رات دونوں میں بیان فرمایا ہے اور تلاش معاش کو بھی اور بعض دوسری آیات میں نیند کو صرف رات میں اور تلاش معاش کو دن میں بتلایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ رات میں اصل کام تلاش معاش کا ہے اور کچھ سونے آرام کرنے کا بھی وقت ملتا ہے۔ اس لئے دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ بعض مفسرین نے تاویل کر کے اس آیت میں بھی نیند کو رات کے ساتھ اور تلاش معاش کو دن کے ساتھ مخصوص کیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں۔
سونا اور تلاش معاش زہد و توکل کے منافی نہیں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ سونے کے وقت سونا اور…
Read the full tafseer →ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاء کم من فضلہ ان فی ذلک لایت یقوم یسمعون (23)
’ ابتغا ئو کم من فضلہ ‘ کا عطف ’ منامکم ‘ پر ہے اس وجہ سے آیت کا مطب یہ ہوگا کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات بنائی جس میں تم سوتے ہو اور دن بنایا جس میں تم اس کے رزق و فضل کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہو۔ اس مفہوم کی نظیریں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔
’ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون ‘ فرمایا کہ اس میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو بات کو سنیں۔ رات اور دن کے توافق کے اندر توحید کی جو دلیل ہے اور شب میں سونے کے بعد صبح کو اٹھنے میں قیامت کا جو اشارہ ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ…
Read the full tafseer →23-1نیند کا باعث سکون و راحت ہونا چاہیے وہ رات کو ہو یا بوقت قیلولہ، اور دن کو تجارت و کاروبار کے ذریعہ سے اللہ کا فضل تلاش کرنا، یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →9: رات کے وقت سونے اور دن کے وقت اللہ کا فضل یعنی روزگار تلاش کرنے کا یہ نظام اللہ تعالیٰ ہی نے بنایا ہے، اس کے لئے انسانوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، اگر یہ کام لوگوں کی صوابدید پر چھوڑدیا جاتا تو کچھ لوگ ایک وقت سونا چاہتے اور دوسرے لوگ اسی وقت کام میں مشغول ہو کر ان کی نیند خراب کرتے۔
Read the full tafseer →ومن ایتہ منامکم ۔۔۔۔۔۔ لقوم یسمعون (30: 23) ” “۔ اس آیت میں بھی کائناتی مظاہر اور ان کے ساتھ انسانی احوال میں تبدیلی کی بات کی گئی ہے اور دونوں کے درمیان تعلق دکھایا گیا ہے۔ جس کے ذریعے اس عظیم الجثہ موجودات کے اندر ربط ظاہر ہوتا ہے اور ان کے درمیان ہم آہنگی بتائی جاتی ہے۔ شب و روز کے اختلاف کے ساتھ انسان کا سونا اور جاگنا اور اس دنیا میں رزق حلال کے لئے جدوجہد کرنا مربوط ہے۔ رزق حلال کو یہاں فضل الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے بشرطیکہ وہ آرام کے بعد رزق حلال کے لیے جدوجہد کریں اللہ نے اس کائنات کو یوں بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے اس کی جدوجہد آسان کر دے اور وہ اس کرہ ارض پر خوشگواری سے رہ سکے۔ اس…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ انسان کی دو حالتیں بدلی جاتی ہیں، سو یا تو بیخبر پتھر کی طرح اور روزی کی تلاش میں لگا تو ایسا ہوشیار کوئی نہیں۔ اصل تو رات ہے سونے کو اور دن تلاش کو، پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں۔
4 یعنی جو سن کر محفوظ رکھتے ہیں۔ کما فی تفسیر ابن کثیر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا۔ سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں۔ " (موضح) یہ لفظ " یسمعون " اختیار کرنے کا نکتہ ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 23 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط ”
تمہارا رات کے وقت سونا ‘ دوپہر کے وقت قیلولہ کرنا ‘ اور پھر آرام کے ان اوقات کے علاوہ معاشی دوڑ دھوپ میں سرگرم عمل رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ”
یہ سب نشانیاں یقیناً ان لوگوں کے لیے ہیں جو انسانی کانوں یعنی دل کے کانوں سے سنتے ہیں ‘ نہ کہ محض حیوانی کانوں سے۔
Read the full tafseer →20 کام کاج کرنے کے بعد انسان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اگر آرام نہ کرے تو جینا ہی محال ہوجائے۔ لیکن آرام سے مراد یہ نہیں کہ انسان کچھ وقت کام نہ کرے یا بستر پر لیٹ جائے بلکہ جب تک اسے گہری نیند نہ آئے نہ اس کی تھکن دور ہوتی ہے اور نہ وہ مزید کام کاج کرنے کے قابل ہوتا ہے اور محض کام چھورنے یا لیٹے رہنے سے مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ نیند کیا چیز ہے اس کی کیفیت اور ماہیت کیا ہے ؟ یہ ایسا سربستہ راز ہے جسے انسان ابھی تک نہیں پاسکا۔ اس نے خواب آور دوائیں بھی دریافت کرلیں اور گولیاں بھی بنالیں مگر وہ اس کی ماہیت کو نہیں پاسکا کہ خواب کے دوران انسان سے کیا چیز کم ہوجاتی ہے کہ اس کے حواس کام کرنا چھوڑ…
Read the full tafseer →22۔ (آیت) ” من فضلہ “۔ فضل اللہ کے ایک معنی محاورہ میں اللہ کے دیئے رزق کے بھی آتے ہیں۔ اور وہی یہاں مراد ہیں۔ الرزق من کسبہ (کبیر) اے طلب معاشکم (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ استراحت کے لئے سونا اور اسی طرح اسباب معاش کا حاصل کرنا منافی کمال نہیں کیونکہ موقع فضل وکرم میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ البتہ ان میں انہماک ممنوع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیت نمبر 20 تا 27
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاؤکم من فضلہ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون
اور اسی کے نشانہائے قدرت میں سے ہے تمہارا رات کو اور دن کو سونا اور اللہ کے فضل کو (رات میں اور دن میں) طلب کرنا۔ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو (بصیرت اور فہم کے کانوں سے) سنتے ہیں۔
یا یہ مطلب ہے کہ رات میں تمہارا سونا اور دن میں روزی کو طلب اور تلاش کرنا قدرت و مصلحت کی نشانی ہے۔ دو حروف عطف کے ساتھ دو فعلوں کو دو اوقات میں ساتھ ملا دیا تاکہ اس بات کی تنبیہ ہوجائے کہ اگر ایک فعل دن کے ساتھ اور ایک فعل رات کے ساتھ (عادتاً ) مخصوص ہے لیکن ہر کام ہر وقت ہوسکتا ہے (رات کو کمائی اور دن کو نیند بھی ہوسکتی ہے) اس…
Read the full tafseer →اور اس کے دلائل قدرت میں سے تمہارا رات میں سونا لیٹنا اور ان میں اس کا رزق تلاش کرنا ہے اس میں بھی ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ان باتوں کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ : یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کے کمال قدرت اور اس کے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی تمہارا رات اور دن میں سونا ہے۔ جس کے ساتھ بےاختیار تمہاری ہر سرگرمی ختم اور تمہارے حواس ظاہری کے تمام اعمال بند ہوجاتے ہیں اور تمہیں اپنے گرد و پیش کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ اس سے پہلے کام کاج اور حرکت و محنت کی وجہ سے تمہارے جسم میں جو ٹوٹ پھوٹ اور تھکاوٹ ہوئی تھی، نیند عطا کرنے والا مالک نیند کے دوران جسم کی مرمت کر کے اور تھکاوٹ دور کر کے دوبارہ کام کاج کے قابل بنا کر تمہیں پھر بیدار کردیتا ہے۔ جس طرح نیند اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔
پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔
2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] مَنَامُكُمْ [تم لوگوں کی نیند ] بِالَّيْلِ [رات میں ] وَالنَّهَارِ [اور دن میں ] وَابْتِغَاۗؤُكُمْ [اور تمہارا تلاش کرنا ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [اس کے فضل میں سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّسْمَعُوْنَ [سنتے ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: انسان مسلسل محنت نہیں کرسکتا بلکہ ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لئے آرام درکار ہوتا ہے۔ اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نیند کا ایک زبردست داعیہ رکھ دیا جو اس کے ادارے کے بغیر ، حتیٰ کہ اس کی مزاحمت کے باوجود، خودبخود اسے آ…
Read the full tafseer →پنجم اور ششم : السنہ اور الوان کی نعمت کا تذکرہ فرمانے کے بعد انسانوں کے سونے اور رزق تلاش کرنے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسانوں کا سونا اور سونے کے لیے مجبور ہونا اور نیند کا آجانا اور آرام پانا جو عموماً رات کو ہوتا ہے اور بہت سے افراد دن میں بھی سو جاتے ہیں خاص کر جنہیں قیلولہ کی عادت ہوتی ہے، یہ سونا اور آرام پانا سب اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور اس کی قدرت کی نشانی بھی، انسان بعض مرتبہ سونا نہیں چاہتا لیکن نیند کا غلبہ اسے سلا ہی دیتا ہے اور بہت مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سونے کی نیت سے لیٹا، دماغ تھکا ہوا ہے جسم تھکن سے بےجان ہو رہا ہے آنکھیں میچتا ہے، کروٹیں بدلتا ہے، پوری رات…
Read the full tafseer →دلیل چہارم
ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاؤکم من فضلہ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔
اور من جملہ اس کی آیات قدرت کے تمہارا رات میں اور دن میں سونا ہے کہ سونے سے قوائے بدنیہ کو راحت اور سکون حاصل ہوتا ہے اور منجملہ دلائل قدرت کے اللہ کے فضل کو یعنی رزق کو تلاش کرنا ہے کہ اس کی تلاش میں محنت اور مشقت اٹھاتے ہو اس میں یعنی سونے میں اور طلب معاش میں بہت سی آیات قدرت ہیں ان لوگوں کے لئے جو گوش ہوش سے سنتے ہیں اور جو بدبخت نیچر کے سامنے گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں وہ کچھ نہیں سنتے۔
یہاں تک دلائل انفس کا ذکر تھا اب آگے دلائل آفاق کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
19:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ خوفا وطمعا دونوں یریکم کے مفعول لہ ہیں ای لالقاء الخوف و الطمع یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں بادلوں کی چمک دکھاتا ہے جس سے تمہارے دلوں میں خوف وامید کے ملے جلے جذبات رونما ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف بجلی گرنے کا ڈر ہوتا ہے اور دوسری طرف باران رحمت کے نزول کی امید ہوتی ہے۔ خوفا من الصاعقۃ و طمعا فی الغیث (مدارک ج 3 ص 207) ۔ پھر آسمان سے باران رحمت نازل فرما کر بنجر اور ناکارہ زمین کو زندہ اور زرخیز بنا دیتا ہے۔ عقل فہم والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ یہاں جو دلائل مذکور ہوئے وہ اعلی سے ادنی کی طرف تنزل کے طور پر مذکور ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر مجرموں کی گرفتاری اور خدا تعالیٰ کے حضور پابند سلاسل پیشی کا ذکر فرمایا اللہ نے ان اوقات کا ذکر کیا۔ جن میں تجدید نعمت ہوتی ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح اور عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا کہ وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور اس مشاہدے کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ساتھ یہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر بھی دلیل بنتی ہے کہ جس طرح یہاں پر اللہ تعالیٰ مردہ چیز سے زندہ نکالتا…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِہٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَاۗؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ 23
نوم
النّوم : فسّر علی أوجه كلّها صحیح بنظرات مختلفة، قيل : هو استرخاء أعصاب الدّماغ برطوبات البخار الصاعد إليه، وقیل : هو أن يتوفّى اللہ النّفس من غير موت . قال تعالی:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] . وقیل : النّوم موت خفیف، والموت نوم ثقیل، ورجل نؤوم ونُوَمَة : كثير النّوم، والمَنَام : النّوم . قال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] ، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَابْتِغَـآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۔ (الروم : 23)
(اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل کو تمہارا تلاش کرنا ہے، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور سے سنتے ہیں۔ )
آیت کے ترجمے کی وضاحت
اس آیت کی توجیہ کی ایک صورت یہ ہے وَابْتِغَـآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ کا عطف مَنَامُکُمْ پر کیا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات بنائی جس میں تم سوتے ہو۔ اور دن بنایا جس میں تم اس کے فضل یعنی رزق کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ساتویں اور آٹھویں نشانی۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بیشمار اور اَن گنت ہیں۔ لیکن اس کی قدرت کی کچھ ایسی نشانیاں اور نعمتیں ہیں جن سے استفادہ کیے بغیر کوئی آدمی رہ نہیں سکتا ان میں نیند بھی شامل ہے۔ نیک ہو یا بد، چھوٹا ہو یا بڑا، کافر ہو یا مسلمان، نیند ایسی نعمت ہے جسے انسان کی جبلّت میں رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے، نیند کی آغوش میں جانا ہر ایک کی فطری ضرورت اور مجبوری ہے۔ اس فطری ضرورت میں انسان کی زندگی مضمر ہے۔ جوں ہی آدمی نیند کی آغوش میں جاتا ہے تو اس کی جسمانی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے یہاں تک کہ انسان کا غم بھی ہلکا ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →رات کی نیند :
23: وَمِِنْ ٰایٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ اور اس کے نشانہائے قدرت میں سے تمہارا یہ رات کو سونا) وَ النَّھَارِ وَابْتِغَآ ؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (اور دن کو اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرنا) نمبر 1۔ یہ لف و، نشر مرتب ہے ومن آیاتہ منامکم وابتغاؤکم من فضلہ بالّیل والنھار۔ البتہ اول دونوں ساتھیوں میں اور پچھلے دونوں ساتھیوں میں فاصلہ کیا گیا۔ نمبر 2۔ تمہارا دونوں زمانوں میں نیند کرنا اور دونوں میں رزق طلب کرنا۔
مسلک ِجمہور :
اول زیادہ بہتر ہے کیونکہ قرآن مجید میں بار بار استعمال ہوا ہے اور سب سے درست معنی وہ ہے جس کو قرآن بیان کرے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ…
Read the full tafseer →تفسیر 23۔” ومن آیاتہ منامکم باللیل والنھار وابتغاء کم من فضلہ “ یعنی تم رات کو سوتے ہو اور دن کو ذریعہ معاش تلاش کرتے ہو یعنی وہ تمہیں پھیردیتا ہے۔ معیشت کے طلب کرنے میں ۔” ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یسمعون “ غور و فکر اور اعتبار روالا سماع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 23
یعنی آیات و معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے تدبر و تفکر کے ساتھ سننے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون) (القصص : 82/37) ” اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات کے وقت سکون حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ “ نیز یہ آیت کریمہ اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ کسی وقت سکون حاصل کریں تاکہ وہ آرام…
Read the full tafseer →23 نیند کی نعمت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے تم لوگوں کا دن رات کا سونا جاگنا بھی ہے۔ سو تمہاری یہ نیند جس کے بارے میں تم سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے بھی کئی اعتبار سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ پہلے تو تم لوگ یہی دیکھو کہ دن رات میں اپنے اوپر طاری ہونے والی اس نیند اور اس کی حقیقت و ماہیت کے احاطہ و ادراک ہی سے تم لوگ قاصر و عاجز ہو۔ بڑے سے بڑا فلسفی بھی اور سب دانشور مل کر بھی اس کے بارے میں آخرکار اتنا ہی کہہ اور بتاسکیں گے کہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان پر ازخود طاری ہوجاتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل
تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیات 20 تا 27
اسرارومعارف
تخلیق انسانی :
اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…
Read the full tafseer →10 ۔ سونے سے تمہاری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(30:33) منامکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری نیند۔ نوم، نیام ، منام ، نوام نیند۔ خواب۔ منام اسم ظرف بھی ہے بمعنی خواب گاہ
ابتغاء کم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تلاش کرنا۔ چاہنا۔ ابتغاؤکم تمہارا تلاش کرنا۔ تمہارا طلب کرنا۔ تمہارا چاہنا۔
فضلہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا فضل (یعنی خدا کا فضل) فضل اس عطیہ کو کہتے ہیں جو دینے والے پر فرض نہیں ہوتا۔ یہاں فضل سے مراد رزق، اسباب معاش ہے۔ لقوم یسمعون ۔ ان لوگوں کے لئے جو (گوش ہوش) سے سنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔
تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔
(ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[10] فضل تلاش کرنے سے مراد معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1: ان تمام آیات میں فکروعلم کی دعوت ہے ۔ وجہ کہا گیا ہے ۔ کہ کائنات کے رموز و اسرار پر غور کرو ۔ اور یہ دیکھو ۔ کہ یہ کارگریاں کس درجہ کامل وجامع قوانین پر قائم ہے ۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرو ۔ زبانوں ، اور رنگتوں کے امتیازفات کو گہری نظر سے دیکھو ۔ فطرت کا ہر مظہر تمہارے آرام اور تمہاری آسائش وآسودگی کے لئے ہے ۔ رات کو دن کے تھکے ہارے سو جاتے ہیں ۔ دن کی روشنی میں اپنا کام کاج کرلیتے ہوں ۔ یہ تقسیم کتنی ضروری ہے ؟ آسمان پر بادل گھرکر آتے ہیں بجلی کوندتی ہے ۔ تم ڈرتے بھی ہو اور امید بھی رکھتے ہو ۔ کہ اگر بارش ہوجائے تو مردہ اور خشک زمین زندہ ہوجائے گی ۔ کھیت لہلہا اٹھیں گے ۔ اسی…
Read the full tafseer →23۔ اور اس کے نشان ہائے قدرت میں سے یہ بات ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید دلانے کو بجلی کی چمک دکھاتا ہے اور وہ آسمان کی جانب سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک ہوجانے کے بعد زندہ اور ترو تازہ کردیتا ہے ۔ بیشک اس امر مذکور میں ان لوگوں کیلئے قدرت خداوندی کی بڑی نشانیاں ہیں جو صحیح عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے بجلی کے گرنے کا خوف بھی ہوتا ہے اور بارش کے ہونے کی امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے اور پانی سے زمین کو اس کے مرجانے اور خشک ہوجانے کے بعد از سر نو زندگی عطا فرماتا ہے اور زندہ کردیتا…
Read the full tafseer →ف 7۔ گو رات کو زیادہ اور دن کو کم ہو۔
Read the full tafseer →اس نیند میں جو رات اور دن میں پوری کی جاتی ہے بھی نشانیاں ہیں :
23۔ قرآن کریم کی زبان کس قدر فطرت انسانی کا خیال رکھتی ہے اگر اس نے نیند کا تعلق سو بار رات سے جوڑا ہے تو ایک دو بار رات کے ساتھ دن کا نام بھی لے لیا گیا ہے کیونکہ انسان کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور حالات کے ساتھ ساتھ اس کو کچھ نہ کچھ ضرور بدلنا پڑتا ہے بلاشبہ اکثر وبیشتر انسانوں کی اکثریت رات کو سوتی اور دن کو معیشت کے لئے مصروف رہتی ہے لیکن بعض انسانوں کو مکمل طور پر رات کو دن اور دن کو رات بنانا پڑتا ہے لہذا وہ اپنی مجبوری کے باعث رات کو کماتے اور دن کو نیند پوری کرتے ہیں اس لئے رات کے ساتھ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے دن کا…
Read the full tafseer →Fourth sign of divine omnipotence
Human sleep and economic activities both in daytime and at night have been mentioned in verse 32 as the fourth sign of Allah's omnipotence. Unlike some other verses, both night and day have been mentioned in this verse as times of sleep; similarly, economic activities are mentioned as activities performed both in daytime and at night. In other verses, sleep is described as something done at night, and earning of sustenance as an act of daytime. The reason is that the major purpose of night is to sleep, and some economic activities are also performed as a…
Read the full tafseer →33 "To seek bounty" is to seek the livelihood. Though man generally sleeps at night and works for his living in the day, this is not a law. Many people also sleep in the day and work for their livelihood at night. That is why the night and the day both have been mentioned and it has been said: "In both day and nights you sleep as well as work for your livelihood. " This also is a Sign which points to the design of the Wise Creator: Furthermore, it also points to the fact that He is not merely a Creator but also extremely Compassionate and Merciful to His creations, and is more anxious than…
Read the full tafseer →