یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات
رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایک جا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کردوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔ انسانی زبانوں کے اختلاف…
Read the full tafseer →سورة الروم 31
یعنی ان کا عدم سے وجود میں آنا اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا، اور بیشمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب و توازن کے ساتھ کام کرنا، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کر رہا ہے۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ کہ وہ ابتدائی قوت (energy) کہاں سے آئی جس نے مادے کی شکل اختیار کی، پھر مادے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے ساتھ یہ مدہوش کن نظام عالم کیسے بن گیا، اور اب یہ نظام کروڑہا کروڑ صدیوں سے کس…
Read the full tafseer →اسی طرح الوان کا اختلاف ہے کہ ایک ہی ماں باپ سے ایک ہی قسم کے حالات میں دو بچے مختلف رنگوں کے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تو تخلیق و صنعت گری کا کمال تھا، آگے زبانیں اور لہجے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے رنگ مختلف ہونے میں کیا کیا حکمتیں مستور ہیں، ان کا بیان طویل ہے اور بہت سی حکمتوں کا معمولی غور و فکر سے سمجھ لینا مشکل بھی نہیں۔
اس آیت قدرت میں متعدد چیزیں آسمان، زمین، اختلاف السنہ، اختلاف الوان اور ان کے ضمن میں اور بہت سی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں اور وہ ایسی کھلی ہوتی ہیں کہ کسی مزید غور و فکر کی بھی ضرورت نہیں، ہر آنکھوں والا دیکھ سکتا ہے اس لئے اس کے ختم پر ارشاد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ…
Read the full tafseer →ومن ایتہ خلق السموات والارض واختلاف السنتکم والونکم ط ان فی ذلک لایت للعلمین (22)
اُسی حقیقت کی طرف جو اوپر والی آیت میں مذکورہوئی ہے ایک دوسرے زاویے سے توجہ دلائی کہ اگر لوگ غور کری تو ان کو یہ چیز صاف نظر آئے گی کہ اس کائنات میں کثرت کے اندر و حدت مضمر ہے۔ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپید کنار کائنات ہے اور دوسری طرف یہ کرہ زمین ہے۔ بظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے لیکن اس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عاقل یہ تصور نہیں کرسکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کر رہے ہیں بلکہ ان کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے…
Read the full tafseer →22-1دنیا میں اتنی زبانوں کا پیدا کردینا بھی اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں۔ اسی طرح ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا علیہما السلام) سے ہونے کے باوجود رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں کوئی کالا، کوئی گورا اور شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف بولنے کے لہجے جدا جدا اور حتیّٰ کہ آواز بھی ایک دوسرے سے الگ الگ، ایک بھائی دوسرے بھائی سے مختلف ہے لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ پھر بھی کسی ایک ہی ملک کے باشندے، دوسرے ملک کے باشندوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
8: عام طور پر نکاح سے پہلے میاں بیوی الگ الگ ماحول میں پرورش پاتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد ان میں ایسا گہرا رشتہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پچھلے طرز زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک دوسرے کے ہو رہتے ہیں، ان کے درمیان یک بیک وہ محبت پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے، جوانی میں ان کے درمیان محبت کا جوش ہوتا ہے اور بڑھاپے میں اس پر رحمت اور ہمدردی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →ومن ایتہ خلق ۔۔۔۔۔۔ ذلک لایت للعلمین (30: 22) زمین و آسمان کی تخلیق وہ نشانی ہے جس کی جانب قرآن کریم نے بار بار مبذول کرائی ہے لیکن ہم رات اور دن اس زمین کے اوپر رہتے ہیں اور اس آسمان کے نیچے رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کی اس تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ زمین و آسمان اس قابل ہیں کہ ان پر طویل عرصہ تک غور کیا جائے اور بار بار غور کیا جائے اور گہرا غور و فکر کیا جائے۔
خلق السموات کا مفہوم کیا ہے کہ اللہ نے یہ عظیم ، پیچیدہ اور نہایت ہی وسیع کائنات تخلیق کی ہے۔ اس عظیم اور وسیع کائنات کے ایک نہایت ہی معمولی حصے کا علم ہم ابھی تک حاصل کرسکے ہیں۔ افلاک اور فلکی کر ات کا یہ عظیم اور لاتعداد اژدھام ،…
Read the full tafseer →2 سب انسان ایک ماں باپ سے بنائے، ملا کر بسائے، پھر تمام روئے زمین پر ان کو پھیلادیا۔ سب کی جدا جدا بولیاں کردیں۔ ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک میں جا کر زبان کے اعتبار سے محض اجنبی ہوگیا۔ پھر دیکھو شروع دنیا سے آج تک کتنے بیشمار آدمی پیدا ہوئے مگر کوئی دو آدمی ایسے نہ ملیں گے جن کا لب و لہجہ، تلفظ، طرز تکلم بالکل یکساں ہو۔ جس طرح ہر آدمی کی شکل و صورت اور رنگت وغیرہ دوسرے سے ممتاز ہے، آواز اور لب و لہجہ بھی بالکل الگ ہے کوئی دو شخص ایسے نہ ملیں گے جن کی آواز اور رنگ، روپ میں کوئی مابہ الامتیاز نہ ہو۔ ابتدائے عالم سے آج تک برابر نئی نئی صورتیں اور بولنے کے نئے نئے طور نکلتے چلے آتے ہیں۔ اس خزانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط ”
پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان بولی جانے والی طرح طرح کی زبانوں کے اندر پایاجانے والا تنوّع بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسی طرح مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے مختلف رنگ بھی اس کی صناعی اور خلاقی کے مظاہر کی مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک ہی نسل سے تعلق کے باوجود کوئی زرد رو ہے تو کوئی سرخ رو ‘ کوئی سفید فام ہے تو کوئی سیاہ فام۔
Read the full tafseer →19 سب سے پہلے تو انسان ایک ہی جیسے عناصر کا مرکب ہے پھر ایک کا منہ، زبان، گلا اور لب سب کچھ ایک جیسے ہیں لیکن آواز اور لب و لہجہ ہر شخص کا دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی آواز سریلی اور شریں ہوتی ہے کسی دوسرے کی بھاری اور ناگوار۔ حالانکہ توائے نطفہ سب انسانوں کے ایک جیسے ہیں۔ پھر ہر ایک علاقہ اور ملک کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے کہیں عرب زبان بولی جاتی ہے، کہیں فارسی، کہیں انگریزی، کہیں پشتو، کہیں اردو غرضیکہ سینکڑوں کی قسم کی زبانیں ہیں اور یہ انواع ہیں۔ پھر ایک ہی علاقہ میں چند میلوں کے فاصلہ پر ہی زبان میں ذیلی قسم کی تبدیلیاں اور محاورات میں اختلاف ہوتے ہیں جن میں فرق صرف اس علاقہ کے لوگ…
Read the full tafseer →21۔ (کہ اسی اختلاف لون و زبان سے تمدن زندہ ہے اور اس کا تنوع قائم ہے) یہ اختلاف طبعی اس لئے نہیں کہ اس کی بنیاد پر ایک دوسرے پر ظلم روا رکھا جائے اور ایک قوم دوسری قوم کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگے۔ (آیت) ” ان ..... للعلمین “۔ ان بنیادوں پر چاہیں تو باخدا اہل علم علوم طبعی اور علوم اجتماعی کے پورے پورے دفتر تیار کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیت نمبر 20 تا 27
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →ومن ایتہ خلق السموت والارض واختلاف السنتکم والوانکم ان فی ذلک لایت للعلمین
اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا اور تمہاری بولیوں کا اور رنگوں کا مختلف ہونا اس میں بڑی نشانیاں ہیں اہل عالم کے لئے۔
اِخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ سے مراد ہے زبانوں اور بولیوں کا اختلاف۔ اللہ نے ہر قوم کو ایک خاص زبان سکھا دی اور اس میں خاص الفاظ القاء کر دئیے اور اس زبان کے بولنے پر اس کو قدرت عطا کی ‘ یا زبانوں کے اختلاف سے مراد ہے بولنے کے طریقوں کا اور آوازوں کی کیفیتوں کا اختلاف کہ ایک کی آواز دوسرے سے الگ ہے ‘ ایک کا دوسرے سے اشتباہ نہیں ہوتا۔
اَلْوَانِکُمْ سے مراد ہے جلد ‘ بدن کے…
Read the full tafseer →اور اسی کی وحدت وقدرت کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا علیحدہ علیحدہ ہونا ہے کہ کسی کی زبان عربی تو کسی کی فارسی اور کسی کی رنگت سیاہ اور کسی کی سفید ان مذکورہ باتوں میں جن و انس کے لیے نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی جو بہت سی نشانیوں پر مشتمل ہے، آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے، جس کے مقابلے میں تمہیں پہلی یا دوسری دفعہ پیدا کرنا بالکل ہی معمولی بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں سال سے چلا آنے والا زمین اور آسمانوں کا نظام اور ان میں موجود سورج چاند اور بیشمار وسیع و عریض سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کا سلسلہ جو دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے (دیکھیے ذاریات : 47) رب تعالیٰ کی بےپایاں قدرتوں کی واضح نشانی ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔
پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔
2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ] وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۭ [اور تمہارے رنگوں اور تمہاری بولیوں کا اختلاف ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــلْعٰلِمِيْنَ [علم والوں کے لئے ] ۔
نوٹ۔ 1: انسان جیسے اشرف المخلوقات کو مٹی سے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کھلا ثبوت ہے۔ کیونکہ اس دنیا کے عناصر ترکیبیہ میں سب سے زیادہ ادنیٰ درجہ کا عنصر مٹی ہے جس میں حس و حرکت اور شعور ادراک کا کوئی شمہ نظر نہیں آتا۔ مشہور چار عناصر آگ ، پانی ، ہوا اور مٹی میں سے مٹی کے سوا اور سب…
Read the full tafseer →چہار : انسان کی بولیوں اور رنگتوں کا تذکرہ فرمایا، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق کا دیگر آیات میں بھی تذکرہ ہے، ان دونوں کا وجود سب کے سامنے عیاں ہے، ظاہر ہے، آسمان اور زمین بڑی چیزیں
ہیں، بنی آدم آسمان کے نیچے رہتے ہیں، زمین کے فرش پر بستے ہیں انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کا مظاہرہ ہے، انسانوں کو بولنے کی صفت سے متصف فرمانا اور اسے الفاظ و کلمات سکھانا اور بات کرنے کی قوت اور استعداد عطا فرمانا یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور اس میں قدرت الٰہیہ کا مظاہرہ بھی ہے، جس کسی کو گونگا بنا دیا وہ بول نہیں سکتا اور جس کسی…
Read the full tafseer →دلیل سوم
ومن ایتہ خلق السموت والارض۔
اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے کہ آسمان تو غایت درجہ بلند اور زمین غایت درجہ پست اور زمین کے قطعات باہم مختلف اور من جملہ دلائل قدرت کے تمہاری زبانوں کا اور رنگتوں کا مختلف ہوتا ہے ہر خطہ کی زبان الگ کوئی عربی کوئی فارسی اور کوئی ترکی اور کوئی ہندی وغیرہ وغیرہ اور ہر ایک کا لب و لہجہ مختلف اور کسی کا رنگ سرخ اور کسی کا سفید اور کسی کا کالا وغیرہ وغیرہ یہ کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضا نہیں بلکہ خداوند عالم کی کاریگری ہے بیشک اس میں یعنی زبانوں اور لہجوں اور رنگتوں کے مختلف ہونے میں اس کی قدرت و حکمت کی بہت سی نشانیاں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
18:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کی زبانوں اور ان کے رنگوں کا اختلاف بھی دلائل قدرت میں سے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ علم والوں کے لیے اس میں عبرت کا بہت سامان ہے۔ ومن ایتہ منامکم الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے تم دن اور رات میں آرام و راحت کے لیے نیند بھی کرتے ہو اور ان اوقات میں اپنی روزی بھی تلاش کرتے ہو۔ غور سے سننے والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور کارسازی کے دلائل موجود ہیں۔ یہ تمام انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں لہذا اس کا شکر ادا کرنا، اسی کو کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارنا بندوں پر فرض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر مجرموں کی گرفتاری اور خدا تعالیٰ کے حضور پابند سلاسل پیشی کا ذکر فرمایا اللہ نے ان اوقات کا ذکر کیا۔ جن میں تجدید نعمت ہوتی ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح اور عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا کہ وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور اس مشاہدے کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ساتھ یہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر بھی دلیل بنتی ہے کہ جس طرح یہاں پر اللہ تعالیٰ مردہ چیز سے زندہ نکالتا…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ 22
الاختلافُ والمخالفة
والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال :
فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37]
( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ
الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ۔ (الروم : 22)
(اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ بیشک اس کے ندر بہت سی نشانیاں ہیں، اصحابِ علم کے لیے۔ )
اہلِ علم کو تخلیقِ ارض و سما، زبانوں اور رنگوں کی نشانیوں کی طرف ہدایت
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے۔ ان کا عدم سے وجود میں آنا اور بیشمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب اور توازن کے ساتھ کام کرنا، اور کہیں کسی خرابی کا ظہور میں نہ آنا اور کسی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی قدرت کی پانچویں اور چھٹی نشانی۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں عظیم تر نشانیاں یہ ہیں کہ اس نے آسمانوں کو ٹھوس صورت میں پیدا کیا اور بغیر ستونوں کے ٹھہرایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے خوبصورت بنایا اور شہاب ثاقب کے ذریعے اس کی حفاظت فرمائی۔ آسمان کو اس طرح قائم دائم فرمایا ہے کہ آج تک نہ جھکا ہے اور نہ ہی کہیں سے اس میں دراڑ واقع ہوئی ہے۔ یہ قیامت تک جوں کا توں کھڑا اور لوگوں کو دکھائی دیتا رہے گا۔ زمین پر غور فرمائیں کہ اسے تہہ بہ تہہ سات زمینوں میں تقسیم کیا اور پوری کی پوری زمین پانی پر بچھائی اور ٹھہرائی ہے۔ زمین اپنی وسعت اور وجود کے اعتبار سے اتنی…
Read the full tafseer →تخلیق ارض و سماء ‘ اختلاف رنگ :
22: وَمِنْ ٰایَاتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کی پیدائش) وَ اخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ (اور تمہاری بولیوں کا مختلف ہونا ہے) نمبر 1 : السنہ سے مراد لغات کا مختلف ہونا، نمبر 2۔ بولنے کے طریقوں اور آوازوں کی کیفیتوں کا مختلف ہونا۔ وَاَلْوَانِکُمْ (اور تمہارے رنگوں کا) سیاہ، سفید وغیرہ۔ اور اسی اختلاف سے تعارف و پہچان پیدا ہوئی ورنہ اگر انسان باہمی ہم شکل اور ایک طرح کے ہوتے تو التباس اور تجاہل پیدا ہوتا اور مصلحتیں معطل ہو کر رہ جاتیں۔ اس میں واضح علامت قدرت ہے۔ ایک باپ اور ماں سے پیدا ہوئے اور ان کی کثرت تعداد کو سوائے…
Read the full tafseer →22۔” ومن آیاتہ خلق السموات والارض واختلاف السنتکم “ اس سے مراد بولیاں ‘ زبان ‘ عربی وعجمی اور دوسری لغات میں اختلاف مراد ہے۔” والوانکم اور تمہارے رنگوں میں اختلاف ہے ۔ کوئی سفید ہے تو کوئی کالا اور کوئی سرخ۔ ان فی ذلک لایات للعالمین حفص نے للعالمین لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 22
اہل علم وہ لوگ ہیں جو مقام عبرت کو سمجھتے ہیں اور آیات الٰہی میں تدبر کرتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں۔ اللہ کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اسے پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان اور اس کے کامل اقتدار پر دلالت کرتی ہے جو ان بڑی بڑی مخلوقات کو وجود میں لایا ‘ نیز یہ تخلیق اللہ کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان مخلوقات کی تخلیق میں کمال درجے کی مہارت اور وسعت علم پائی جاتی ہے کیونکہ خالق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں پورا علم رکھتا ہو۔ (الا یعلم من خلق) (الملک : 76/41) ” بھلا جس نے پیدا کیا ہے…
Read the full tafseer →22 زبانوں اور رنگوں کے باہمی اختلاف میں عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور خود تم لوگوں کی زبانوں اور رنگوں کے اختلاف میں بھی عظیم الشان نشانیاں ہیں۔ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور عنایت و رحمت بےنہایت کی۔ سو ذرا دیکھو اور سوچو اے عقلمندو کہ کس طرح آسمان و زمین کے ان عظیم کروں کو پیدا فرما کر ایک ایسے نظام کشش و جاذبیت میں باہم جکڑ دیا کہ نہ یہ باہم ٹکرانے پائیں نہ ان کی کارکردگی میں کبھی ذرہ برابر کوئی فرق آئے۔ اور کتنے ہی عظیم الشان اور بےحد و حساب فوائد و منافع ہیں انسانوں کیلئے اور دوسری گوناگوں اور طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل
تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیات 20 تا 27
اسرارومعارف
تخلیق انسانی :
اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…
Read the full tafseer →9 ۔ حالانکہ تم سب ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد ہو اور تمہارے قوائے کی ساخت بھی ایک جیسی ہے مگر زبانیں اور رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ بعض اقات ایک ملک میں سینکڑوں زبانیں اور ان کے ہزاروں لہجے ہوتے ہیں۔ اگر یہ زبانوں اور رنگوں کا اختلاف نہ ہوتا تو بڑی مشکل پیش آتی اور ایک کو دوسرے سے پہچاننے میں دشواریاں ہوتیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(30:33) منامکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری نیند۔ نوم، نیام ، منام ، نوام نیند۔ خواب۔ منام اسم ظرف بھی ہے بمعنی خواب گاہ
ابتغاء کم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تلاش کرنا۔ چاہنا۔ ابتغاؤکم تمہارا تلاش کرنا۔ تمہارا طلب کرنا۔ تمہارا چاہنا۔
فضلہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا فضل (یعنی خدا کا فضل) فضل اس عطیہ کو کہتے ہیں جو دینے والے پر فرض نہیں ہوتا۔ یہاں فضل سے مراد رزق، اسباب معاش ہے۔ لقوم یسمعون ۔ ان لوگوں کے لئے جو (گوش ہوش) سے سنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔
تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔
(ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[10] فضل تلاش کرنے سے مراد معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1: ان تمام آیات میں فکروعلم کی دعوت ہے ۔ وجہ کہا گیا ہے ۔ کہ کائنات کے رموز و اسرار پر غور کرو ۔ اور یہ دیکھو ۔ کہ یہ کارگریاں کس درجہ کامل وجامع قوانین پر قائم ہے ۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرو ۔ زبانوں ، اور رنگتوں کے امتیازفات کو گہری نظر سے دیکھو ۔ فطرت کا ہر مظہر تمہارے آرام اور تمہاری آسائش وآسودگی کے لئے ہے ۔ رات کو دن کے تھکے ہارے سو جاتے ہیں ۔ دن کی روشنی میں اپنا کام کاج کرلیتے ہوں ۔ یہ تقسیم کتنی ضروری ہے ؟ آسمان پر بادل گھرکر آتے ہیں بجلی کوندتی ہے ۔ تم ڈرتے بھی ہو اور امید بھی رکھتے ہو ۔ کہ اگر بارش ہوجائے تو مردہ اور خشک زمین زندہ ہوجائے گی ۔ کھیت لہلہا اٹھیں گے ۔ اسی…
Read the full tafseer →22۔ اور اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے تمہارا رب اور دن میں سونا اور نیند سے راحت حاصل کرنا ہے اور تمہارا اللہ تعالیٰ فضل یعنی روزی کا تلاش کرنا ہے بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ رات میں زیادہ سوتے ہو دن کو کم قیولہ وغیرہ کرلیتے ہو اور رات دن کے اس سونے سے راحت حاصل کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی روزی تلاش کرتے ہو یعنی دن کو زیادہ عام طور سے اور رات کو کم ۔
بہر حا ل ! سونے کا بھی اختیار اور کمانے کا بھی اختیار چاہے رات میں سوئو دن میں کمائو یا دن میں سوئو رات میں کمائو ۔ غرض ! دن کا بھی شغل اور رات کا بھی شغل ، آرام کا بھی سامان ، یہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 5۔ لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو۔
6۔ نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →انسانوں کی مختلف زبانوں اور مختلف رنگتوں میں بھی نشانیاں ہیں ‘ دانش مندوں کے لئے :
22۔ گزشتہ آیت 20 سے قرآن کریم نے جو مضمون بیان کرنا شروع کیا ہے اور جو اس کے لئے پیرایہ اختیار کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیات کریمات سے جن میں انفس وآفاق کے نشانات سے استدلال کیا ہے اور انداز استدلال بھی توحید الہی اور تدبر و تفکر کو ملا کر پشے کیا گیا ہے اور ہر صاحب فکر اور صاحب علم وفضل کو دعوت دی گئی ہے جو علوم جدیدہ اور علم آسمانی کی یکسانیت کو ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جو لوگ آسمانی علوم اور ان علوم جدیدہ کو آپس میں مخالف ثابت کرتے ہیں قرآن کریم ان لوگوں کو مخاطب کرنے کے قابل ہی نہیں سمجھتا…
Read the full tafseer →The same way there are differences of colour and hue. It is seen that babies of different colour and hue take birth from the same parents under the same circumstances. All this is the marvel of Allah's creation. The wisdom behind the difference of colours requires a lengthy description which is beyond our scope, but many of these wisdoms can be easily understood by a little reflection.
While referring to this sign of the divine omnipotence, this verse has mentioned creation or many things, such as sky, earth, the difference of languages and dialects, difference of colour in humans, which are…
Read the full tafseer →31 That is, "Their coming into existence from nothingness and their being established an eternal law, and the functioning in them of innumerable forces in great harmony and equilibrium, contain many Signs of the reality that One Creator, and One only, has brought the entire universe into existence, and He alone is running this grand system. On the one hand, by reflecting over the origin of the initial energy that assumed the form of matter, then the transformation of the matter into so many elements, then the combination of the elements in a wonderful and wise proportion and coming into being…
Read the full tafseer →