Explained with ayahs 20–21
بتدریج نظام حیات
فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بےوقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قدآور زورآور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی…
Read the full tafseer →سورة الروم 28
یعنی خالق کا کمال حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی بلکہ اسے دو صنفوں (Sexes) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں، جن کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اور پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں۔ مزید برآں وہ خالق حکیم ان دونوں صنفوں کے افراد کو آغاز آفرینش سے برابر اس تناسب کے ساتھ پید کیے…
Read the full tafseer →دوسری آیت قدرتیہ ہے کہ انسان ہی کی جنس میں اللہ تعالیٰ نے عورتیں پیدا کردیں جو مردوں کی بیبیاں بنیں، ایک ہی مادہ سے ایک ہی جگہ میں ایک ہی غذا سے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ دو مختلف قسمیں پیدا فرما دیں جن کے اعضاء وجوارح، صورت و سیرت، عادات و اخلاق میں نمایاں تفاوت و امتیاز پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت و حکمت کے لئے یہ تخلیق ہی کافی نشانی ہے۔ اس کے بعد عورتوں کی اس خاص نوع کی تخلیق کی حکمت و مصلحت یہ بیان فرمائی لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا یعنی ان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہیں ان کے پاس پہنچ کر سکون ملے۔ مرد کی جتنی ضروریات عورت سے متعلق ہیں ان سب میں غور کیجئے تو سب کا حاصل سکون…
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان خلق لکم من النفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ ط ان فی ذلک لایت تقوم یتفکرون (21)
اب ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے ووجود سے خارج کی ایک عظیم نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے تمہارا جوڑا پیدا کیا تاکہ تم اس سے تسکین و راحت حاصل کرو اور اس تسکین و راحت کے حصول کے لئے تمہارے درمیان محبت و ہمدردی ودیعت فرمائی… فرمایا جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں۔
اس کے اندر ایک واضح نشانی تو اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے مقصد وجود کی تکمیل اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر…
Read the full tafseer →21-1یعنی تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ وہ تمہاری بیویاں بنیں اور تم جوڑا جوڑا ہوجاؤ زوج عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرد عورت کے اور عورت مرد کے لیے زوج ہے۔ عورتوں کے جنس بشر ہونے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پہلی عورت۔ حضرت حوا کو حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔ پھر ان دونوں سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا۔
21-2مطلب یہ ہے کہ اگر مرد اور عورت کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہوتی، مثلاً عورتیں جنات یا حیوانات میں سے ہوتیں، تو ان سے سکون کبھی حاصل نہ ہوتا جو اس وقت دونوں کے ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ ایک دوسرے سے نفرت وحشت ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کمال رحمت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
8: عام طور پر نکاح سے پہلے میاں بیوی الگ الگ ماحول میں پرورش پاتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد ان میں ایسا گہرا رشتہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پچھلے طرز زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک دوسرے کے ہو رہتے ہیں، ان کے درمیان یک بیک وہ محبت پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے، جوانی میں ان کے درمیان محبت کا جوش ہوتا ہے اور بڑھاپے میں اس پر رحمت اور ہمدردی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لقوم یتفکرون (30: 21)
لوگوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے جذبات جنس مخالف کے ساتھ کیا ہوتے ہیں۔ دونوں اجناس کے شعور اور اعصاب ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور اپنے جذبات اور میلانات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے لیے بےپناہ کشش رکھتے ہیں۔ یہ جذبات اور میلانات ان کو بیشمار کاموں اور مشقتوں پر آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن جس ذات حکیم نے یہ سب کچھ کیا ہے اس کے دست قدرت کی طرف میاں بیوی کے رجحانات جاتے ہی نہیں۔ جس خالق نے ان نفوس کے اندر یہ کشش اور یہ میلان رکھا ہے اسے کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔ حالانکہ میاں بیوی کے اس تعلق کی وجہ سے انسان کے جسم ، اس کی روح ، اس کے اعصاب بلکہ…
Read the full tafseer →1 یعنی اول مٹی سے ایک آدم کو پیدا کیا پھر اسی کے اندر سے اس کا جوڑا نکالا تاکہ اس سے انس اور چین پکڑے اور پیدائشی طور پر دونوں صنفوں (مرد عورت) کے درمیان خاص قسم کی محبت اور پیار رکھ دیا۔ تاکہ مقصود ازدواج حاصل ہو۔ چناچہ دونوں کے میل جول سے نسل انسانی دنیا میں پھیل گئی۔ کما قال تعالیٰ (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً ) 4 ۔ النسآء :1)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط ”
پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان بولی جانے والی طرح طرح کی زبانوں کے اندر پایاجانے والا تنوّع بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسی طرح مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے مختلف رنگ بھی اس کی صناعی اور خلاقی کے مظاہر کی مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک ہی نسل سے تعلق کے باوجود کوئی زرد رو ہے تو کوئی سرخ رو ‘ کوئی سفید فام ہے تو کوئی سیاہ فام۔
Read the full tafseer →18 یعنی مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا پیدا کرتا ہے جو انسانیت کے لحاظ سے ایک ہی جنس ہے۔ لیکن جسمانی ساخت کے لحاظ سے یہ دو قسمیں ہیں۔ جو دونوں ایک دوسرے کے طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی۔ مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور دونوں میں ایک دوسرے کے لئے اس قدر کشش رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے سے الگ رہ کر سکون حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کس جوڑے کو لڑکے ہی عطا کرتا جاتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیں اور کسی ملی جلی اولاد دیتا ہے مگر نوع انسانی پر کبھی کوئی ایسا دور نہیں آیا کہ دنیا میں مرد اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ انھیں بیویاں نہ مل سکیں اور یا عورتیں اس کثیر تعداد میں پیدا…
Read the full tafseer →20۔ آیت، آیات احکام میں بہت اہم ہے اور گویا اسلام کے مجلسی وخانگی نظام زندگی کے لئے سنگ بنیاد ہے۔ یہاں تین باتیں بطور اصل کے بیان ہوئیں :۔ (1) مردوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری بیویاں تمہاری ہی، ہم جنس مخلوق ہیں۔ ترکیب حیات میں تمہاری ہی مثل۔ تمہاری ہی جیسی خواہشیں، جذبات و احساسات رکھنے والی، مخلوق بےروح نہیں ہیں۔ (آیت) ” من انفسکم “۔ (2) انکی غایت آفرینش یہی ہے کہ وہ تمہارے لئے سرمایہ راحت وتسکین و باعث سکون خاطر ہوں، تمہارا دل ان سے لگے۔ جی ان سے بہلے۔ (آیت) ” لتسکنوا الیھا “۔ (3) تمہارے ان کے تعلقات بنیاد ہی باہمی محبت، اخلاص وہمدردی پر ہونا چاہیے۔ (آیت) ” جعل بینکم مودۃ ورحمۃ “۔ اسلام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیت نمبر 20 تا 27
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجًا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃً ورحمۃً
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بیویاں بنائیں تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم (میاں بیوی) میں محبت اور ہمدردی پیدا کی۔
مِنْ اَنْفُسِکُمْ میں مِنْ ابتدائیہ ہے کیونکہ حضرت حواء کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا پھر مردوں کے نطفہ سے عورت کو پیدا کرنے کا سلسلہ جاری کیا۔ یا مِنْ بیانیہ ہے کیونکہ عورتیں بھی مردوں ہی کی جنس سے ہیں ‘ کسی اور حیوان کی جنس سے نہیں ہیں۔
لِتَسْکُنُوْا یعنی تم عورتوں کی طرف مائل ہو اور ان سے انسیت کرو۔ اتحاد جنسیت موجب انسیت ہے اور اختلاف جنسیت باعث…
Read the full tafseer →اور اس کی علامت قدرت وحدانیت سے یہ امر ہے کہ تمہارے فائدے کے لیے اس نے تمہاری جنس کی بیویاں بنائیں یہ کہ تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ رہ کر آرام سے ہے اور تم دونوں میں محبت و ہمدردی پیدا کی کہ یہ بیوی کو خاوند سے محبت اور خاوند کو بیوی کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے یا یہ کہ چھوٹے کو بڑے کے ساتھ محبت اور بڑے کو چھوٹے پر شفقت اور اس کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے ان مذکورہ امور میں عقل مندوں کے لیے قدرت خداوندی کی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی کمال قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہاری خاطر (نہ کہ اپنے کسی فائدے کے لیے) خود تمھی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف جاکر سکون حاصل کرو۔ ”سَکَنَ عِنْدَہُ“ کا معنی ہے جسمانی طور پر کسی کے پاس جا کر رہنا اور ”سَکَنَ إِلَیْہِ“ قلبی اور روحانی طور پر کسی کے پاس راحت و سکون پانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہے کہ ہمارے والد ماجد آدم ؑ کو جنت میں رہ کر بھی، جہاں ہر نعمت موجود تھی، سکون اسی وقت حاصل ہوا جب اللہ تعالیٰ نے خود ان کی ذات سے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔
پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔
2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس نے بنایا تمہارے مابین ] اَنْ خَلَقَ لَكُمْ [کہ اس نے پیدا کئے تمہارے لئے ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [تمہاری جانوں سے ] اَزْوَاجًا [جوڑے ] لِّتَسْكُنُوْٓا [تاکہ تم لوگ سکون پکڑو ] اِلَيْهَا [ان کی طرف ] وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ [اور اس نے بنایا تمہارے مابین ] مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۭ [محبت اور رحمت ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّــقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّتَفَكَّرُوْنَ [غور و فکر کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →دوم : یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑے پیدا فرما دئیے جو تم ہی میں سے ہیں یعنی عورت مرد جو آپس میں شرعی نکاح کے ذریعہ زوجین بن جاتے ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے۔ اگر وہ بیویاں پیدا نہ فرماتا تو انسان کو زندگی گزارنا دو بھر ہوجاتا۔ بیویوں کے تذکرہ میں جو (خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ) فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عورتیں جو تمہاری بیویاں ہیں یہ تمہاری ہی جنس سے ہیں، اگر یہ ہم جنس نہ ہوتیں تو الفت کے ساتھ زندگی نہ گزرتی، اسی لیے (لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا) بھی فرمایا، مطلب یہ ہے کہ ان بیویوں کی تخلیق تمہارے لیے ہے تاکہ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے تمہیں سکون حاصل ہو۔ اس سے…
Read the full tafseer →دلیل دوم
ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون۔
اور منجملہ اس کی آیات قدرت کے یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری ذاتوں سے یعنی تمہاری جنس سے جوڑے پیدا کئے یعنی عورتیں تاکہ ہم جنس ہونے کی وجہ سے ان کی طرف میل کرو اور ان سے مل کر سکون حاصل کرو اور چین پکڑو اس لئے کہ ہم جنس ہونا سیلان طبیعت اور رغبت کا سبب ہے اور خلاف جنس ہونا نفرت کا باعث ہے۔ نظم
بجنس خود کند ہر جنس آہنگ ندارد ہیچ کس از جنس خود ننگ
بجنس خویش دار ومیل ہرجنس فرشتہ با فرشتہ انس باانس
اور رکھ دیا تمہارے درمیان باہمی محبت والفت عقد تزویج ہوتے ہی آپس میں محبت اور الفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
18:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کی زبانوں اور ان کے رنگوں کا اختلاف بھی دلائل قدرت میں سے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ علم والوں کے لیے اس میں عبرت کا بہت سامان ہے۔ ومن ایتہ منامکم الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے تم دن اور رات میں آرام و راحت کے لیے نیند بھی کرتے ہو اور ان اوقات میں اپنی روزی بھی تلاش کرتے ہو۔ غور سے سننے والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور کارسازی کے دلائل موجود ہیں۔ یہ تمام انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں لہذا اس کا شکر ادا کرنا، اسی کو کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارنا بندوں پر فرض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر مجرموں کی گرفتاری اور خدا تعالیٰ کے حضور پابند سلاسل پیشی کا ذکر فرمایا اللہ نے ان اوقات کا ذکر کیا۔ جن میں تجدید نعمت ہوتی ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح اور عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا کہ وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور اس مشاہدے کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ساتھ یہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر بھی دلیل بنتی ہے کہ جس طرح یہاں پر اللہ تعالیٰ مردہ چیز سے زندہ نکالتا…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 21
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ،
( نس ) النفس
کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَـکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَـکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمِ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الروم : 21)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ )
انسان کے وجود سے خارج کی چند نشانیاں
اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا کمال یہ ہے کہ اس نے صرف انسان کو پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ وہ چیزیں بھی پیدا فرمائیں جو…
Read the full tafseer →فہم ال قرآن
ربط کلام : تخلیق انسانی کا دارومدار میاں بیوی کے ملاپ پر ہے اس لیے اب میاں بیوی کے تعلقات کا ذکر ہوتا ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی تسکین اور نسل کو جاری رکھنے کے لیے اسی سے اس کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا۔ پھر مستقل طور پر میاں، بیوی کا رشتہ قائم فرمایا۔ اس رشتہ کے تین بنیادی تقاضے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ناپید ہوجائے۔ تو ازدواجی زندگی بےلطف، بےقراری اور ناہمواری کا شکار ہوجاتی ہے 1 میاں بیوی کے درمیان پُر سکون ماحول ہونا چاہیے جو باہمی اتحاد اور اعتماد کے بغیر ممکن نہیں۔ 2 اتحاد اور سکون باہمی محبت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ 3 باہمی محبت واحترام کے…
Read the full tafseer →ازواج کا پیدا کرنا :
21: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْآ اِلَیْھَا (اور اس کے نشا نہائے قدرت میں سے یہ ہے کہ تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تمہیں ان کے پاس آرام ملے) یعنی حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور ان کے بعد عورتوں کو مردوں کی صلب سے پیدا فرمایا۔ یہ من ابتدائیہ ہے یا تمہاری ہم شکل اور ہم جنس کسی اور جنس سے نہیں اس صورت میں من بیانیہؔ ہے کیونکہ دونوں ایک جنس ہوں تو الفت و سکون ہوتا ہے۔ اور دو مختلف جنسیں ہوں تو نفرت ِعرب کہتے ہیں سکن الیہ ای مال الیہ۔ وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَ دَّۃً وَّ رَحْمَۃً (اور…
Read the full tafseer →21۔” ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا “ بعض نے کہا کہ تمہاری جنس سے یعنی نبی آدم سے ۔ بعض نے کہا کہ حضرت حواء علیہماالسلام کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا۔” لتسکنوالیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ “ پھر ان جوڑے جوڑے کے اندر آپس میں محبت پیداکردی تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں ۔ کوئی بھی چیز دوسری سے زیادہ محبوب اور انس اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک آپس میں محبت رحم پیدانہ ہوجائے ۔” ان فی ذلک لابات لقوم یتفکرون “ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر : 21-20
یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے ‘ اس کی عظمت کے کمال ‘ اس کی مشیت کے نفوذ ‘ اس کی قوت و اقتدار ‘ اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بےپایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ (ومن ایتہ ان خلقکم من تراب) ” اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ یہ تھی نسل انسانی کے جد امجد ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق (ثم اذآ انتم بشر تنتشرون) ” پھر اب تم انسان ہو کر جابجا پھیل رہے ہو۔ “ اور اس نے تمہیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمہیں اس اصل سے تخلیق کیا اور پھر تمہیں زمین کے…
Read the full tafseer →21 زوجین کے وجود میں دلائل قدرت و حکمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا فرمائیں خود تمہاری اپنی جنس سے تاکہ ان سے تم سکون حاصل کرسکو اور اس نے تمہارے درمیان رکھ دی محبت اور رحمت۔ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں "۔ جو اس بارے غور و فکر سے کام لیتے ہیں کہ کس نے ان کے اندر ایسے جذبات و احساسات رکھے اور ایسے تقاضے پیدا فرما دئیے کہ مرد اور عورت میں سے ہر ایک دوسرے کا محتاج اور اس قدر محتاج ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ناقص اور ادھوری ہے۔ اور انکو ایسی فطرت وجبلت پر پیدا فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل
تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیات 20 تا 27
اسرارومعارف
تخلیق انسانی :
اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی تمہاری جنس سے۔ 7 ۔ یعنی مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس اور عورت اپنی فطرت کے تقاضے مرد کے پاس پائے اور اس طرح دونوں مل کر سکون و اطمینان حاصل کریں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” کسی جانور کا جوڑا مقرر نہیں کیا صرف انسان کا جوڑا مقرر ٹھہرایا اس میں نسل کے سوا نسیت اور چین ہے اور پیار و محبت تا جہاں کی بستی ہو۔ جو کوئی جوڑا مقرر نہ کرے یعنی زنا کرے، نکاح نہ کرے وہ انسان سے حیوان ہوا۔ “ (موضح) 8 ۔ حالانکہ بسا اوقات نکاح سے پہلے میاں بیوی میں شناسائی تک نہیں ہوتی مگر رشتہ نکاح میں منسلک ہوجانے کے بعد یہ حالت ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے پر جان چھڑکنے کو تیار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(30:21) من انفسکم۔ تم ہی میں سے۔ یعنی تمہاری ہی جنس سے۔
ازواجا۔ جوڑے۔ زوج کی جمع۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر یو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ یہاں ازواجا سے مراد بیویاں ہیں (منصوب بوجہ مفعول ہونے کے) ۔
لتسکنوا الیہا۔ لام تعلیل کا ہے۔ تسکنوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ لام کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا ہے۔ سکن الی۔ آرام لینا۔ آرام حاصل کرنا۔ لتسکنوا الیہا تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ازواجا کے لئے ہے۔
مودۃ۔ مصدر۔ ودیود (باب سمع) محبت، دوستی، ولی۔ رغبت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔
تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔
(ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[10] فضل تلاش کرنے سے مراد معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فلسفہ ازدواج
2: قرآن حکیم میں یہ عجیب خصوصیت ہے ۔ کہ وہ نہایت اختصار کے ساتھ بعض دفعہ اشاروں اشاروں میں وہ وہ نکات سمجھا دیتا ہے ۔ کہ عقل و فراست کے کئی دفتر بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔
غور فرمائیے ۔ معاشرتی صورت حال میں یہ کتنا اہم مسئلہ ہے ۔ کہ عورت کا درجہ ازدواجی نقطہ نگاہ سے کیا ہے ؟ اور کیونکر زندگی کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے ؟ قرآن کہتا ہے ۔ کہ ان تعلقات سے مقصود جنسی اور معاشرتی تسکین ہے ۔ قلب وروح کی ضمانیت ہے ۔ لتسکنوا الیھا اور اس کو صحیح معنوں میں خوشگوار بنانے کا طریق یہ ہے کہ دونوں فریقین برابر کی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ مرد اپنی قوت و توانائی سے ناجائز فائدہ…
Read the full tafseer →21۔ اور اس کے نشان ہائے قدرت و حکمت سے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری بولیوں کا اور تمہاری رنگتوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بھی ہے بلا شبہ اس بات میں اور ان چیزوں میں جاننے والوں اور اہل دانش کے لئے بڑی نشانیاں اور بڑے پتے ہیں ۔ یعنی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا تمہاری بولیوں کا الگ الگ ہونا کہ ہندوستانی کو اہل عرب نہ سمجھیں اور عرب کی بولی یورپ میں نہ سمجھی جائے جاپان کی بولی انگلستان میں نہ سمجھی جائے۔ ایسا ہی رنگوں کا اختلاف کوئی کالا کوئی گورا ، کوئی سانوالا، ہر ایک کی رنگت خدا سے ایک کا ناک نقشہ الگ۔
یہ سب باتیں ایسی ہیں جن میں اہل علم اور اہل دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں اور ان امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 5۔ لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو۔
6۔ نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →موجودہ پیدائش کے سلسلہ میں بہت نشانیاں ہیں لیکن فکر کرنے والی قوم کے لئے :
21۔ موجودہ انسانی زندگی کا راز اس سے وابستہ کردیا گیا کہ ایک ہی جنس کی دو اصناف مقرر کردی گئیں اور ہر دو اضاف کے ایک کام لگا دیا گیا جب وہ کام ان دونوں اصناف نے سرانجام دے دیا تو اس کے نتیجہ میں انہیں دونوں اصناف کے سے ایک صنف یا بعض اوقات دونوں اصناف کو ایک ہی جوڑ میں پروان چڑھا دیا جس کے نتیجہ میں انہی اصناف کے سیل کی مزید اصناف پیدا ہونا شروع ہوگئیں اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک قائم رکھا گیا مکلف انسان اسی جوڑ سے پیدا ہوتا رہے گا اور اسی ایک ہی جنس کی دونوں اصناف کا فطری میل اور ایک دوسرے کی تڑپ ان کے اندر ودیعت کردی…
Read the full tafseer →Second sign of the divine omnipotence
Allah Ta’ ala has created women in the same genus as that of man and they are made their wives as lifelong partners. Men and women are created from the same matter, yet there is a world of difference in their built, appearance, looks, character, habits, morals, disposition etc. If one seeks to recognize God, even this creation provides an excellent example of His supreme power. The wisdom behind the creation of this particular sex is said to be لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (So that you may find tranquility in them - 21). If one ponders, it becomes evident that…
Read the full tafseer →28 That is, "The Creator's perfect wisdom is such that He has not created man in one sex only but in two sexes, which are identical in humanity, which have the same basic formula of their figure and form, but the two have been created with different physical structures, different mental and psychological qualities, and different emotions and desires. And then there has been created such a wonderful harmony between the two that each is a perfect counterpart of the other. The physical and psychological demands of the one match squarely with the physical and psychological demands of the other.…
Read the full tafseer →