Explained with ayahs 20–21
بتدریج نظام حیات
فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بےوقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قدآور زورآور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی…
Read the full tafseer →سورة الروم 26
خبردار رہنا چاہیے کہ یہاں سے رکوع کے خاتمہ تک اللہ تعالیٰ کی جو نشانیاں بیان کی جارہی ہیں وہ ایک طرف تو اوپر کے سلسلہ کلام کی مناسبت سے حیات اخروی کے امکان و وقوع پر دلالت کرتی ہیں، اور دوسری طرف یہی نشانیاں اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ صرف ایک خدا اس کا تنہا خالق، مدبر، مالک اور فرمانروا ہے جس کے سوا انسانوں کا کوئی معبود نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے تقریر ماسبق ما بعد دونوں کے ساتھ مربوط ہے۔
سورة الروم 27
یعنی انسان کا مایہ تخلیق اس کے سوا کیا ہے کہ چند بےجان مادے ہیں جو زمین میں پائے جاتے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ (امر) ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا (یا تو اس طرح کہ آدم ؑ مٹی سے پیدا ہوئے جو مشتمل تھے تمام ذریت پر اور یا اس طرح کہ نطفہ کی اصل غذا ہے اور اس کی اصل عناصر ہیں جس میں جزو غالب مٹی ہے) پھر تھوڑے ہی روز بعد (کیا ہوا کہ) تم آدمی بن کر (زمین پر) پھیلے ہوئے پھرتے (نظر آتے) ہو اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ اس نے تمہارے (فائدے کے) واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں بنائیں (اور وہ فائدہ یہ ہے کہ) تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بی بی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی، اس (امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی نشانیاں ہیں…
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان خلقکم منتراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون (20)
یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے وہ تمام تر تمہارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لئے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمہاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والے ہستی بن کر تمام روئے زمین پر پھیل گئے۔ ’ اذا ‘ یہاں اس عظیم قدرت و شان کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے۔ یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کردیا ! مطلب یہ…
Read the full tafseer →20-1اذا فجائیہ ہے مقصود اس سے ان اطوار کی طرف اشارہ ہے جن سے گزر کر بچہ پورا انسان بنتا ہے جس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کی گئی ہے تَنْتَشِرُو نَ سے مراد انسان کا کسب معاش اور دیگر حاجات و ضروریات بشریہ کے لئے چلنا پھرنا ہے۔
Read the full tafseer →7: یہاں سے آیت نمبر : 37 تک اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی بہت سی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اگر کوئی شخص حقیقت پسندی اور انصاف سے ان پر غور کرے تو اسے نظر آئے گا کہ ان میں سے ہر چیز گواہی دے رہی ہے کہ جس ذات نے کائنات کا یہ محیر العقول نظام بنایا ہے، وہ اپنی خدائی میں کسی شریک کا محتاج نہیں ہوسکتی، اور نہ یہ بات معقول ہے کہ اتنے عظیم الشان کارناموں کے بعد چھوٹے چھوٹے خداؤں کی ضرورت محسوس کرے۔
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان خلقکم ۔۔۔۔۔ تنتشرون (30: 20) ۔ مٹی مردہ اور ساکن ہے۔ اس مٹی ہی سے انسان کو پیدا کیا گیا ۔ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آیا ہے :
لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا “۔ (المومنون :12) مٹی دراصل انسان کا اصل الاصول ہے لیکن یہاں انسانی شخصیت کے اس اصل مادے کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ انسان مکمل شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ ذرا تخلیق انسان کے اصل مادے کو دیکھو اور پھر تخلیق شدہ مکمل انسان کو دیکھو ، دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔ خصوصاً یہ اصول بیان کرنے کے بعد کہ
یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی (30: 19) ” وہ زندہ سے…
Read the full tafseer →6 یعنی آدم کو مٹی سے بنایا، پھر دیکھو قدرت نے اسے پھیلایا کہ ساری زمین پر اس کی ذریت چھا گئی اور زمین میں پھیل کر کیسی کیسی عجیب و غریب ہشیاریاں اس مٹی کے پتلے نے دکھلائیں۔
Read the full tafseer →آئندہ آیات کا اسلوب اور انداز بہت منفرد ہے۔ ان میں اللہ کی خلاقیّ کی علامات اور اس کی رحمت کے مظاہر کا ذکر تکرار کے ساتھ اس طرح ہوا ہے کہ ہر آیت کے آغاز میں وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اور آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس سے ملتا جلتا ا انداز ہم سورة النمل اور سورة الشعراء میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ سورة النمل کے پانچویں رکوع میں بھی آفاقی و انفسی آیات الٰہیہ کا ذکر اسی طرح تکرار کے ساتھ کیا گیا ہے اور ہر آیت کے آخر میں ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِکے الفاظ آئے ہیں۔ جبکہ سورة الشعراء میں ایک تسلسل کے ساتھ عبرت انگیز تاریخی حقائق و بصائر کا ذکر ہوا ہے اور ہر واقعہ کے آخر میں…
Read the full tafseer →17 انسان کیا ہے ؟ چند عناصر کا مجموعہ جو سطح ارضی پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ مثلاً سوڈی، کیلشم، کاربن، اور چند دوسرے نمکیات اور یہ انسان میں کتنی کتنی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ بھی حضرت انسان نے پتہ لگا لیا ہے مگر انھیں عناصر کو اسی مقادر میں لے کر ایک زندہ انسان پیدا کردینا اس کی بساط اور اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ روح کی چیز ہے، کہاں سے آتی ہے اور کب آتی ہے۔ یہ سمجھنا بھی ناممکنات سے ہے۔ پھر اس مٹی کے پتلے کے اندر اللہ تعالیٰ جذبات، احساسات، عقل، شعور، ارادہ، اختیار اور بیشمار قوتیں پیدا کردی ہیں جو از خود کام کر رہی ہیں اور اسی میں انسان کے ارادہ کو ذرہ بھر دخل نہ ہوگا۔ سامنے سے کسی خطرناک…
Read the full tafseer →19۔ (اور ساری نوع انسان کے درمیان طرح طرح کے خانگی، مجلسی معاشری، تمدنی تعلقات قائم ہوگئے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیت نمبر 20 تا 27
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں سے کہ جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ اس نے تم کو یعنی تمہاری اصل آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب دفعۃً تم خون اور گوشت کے انسان بن کر زمین میں پھیلے پھرتے ہو اور اسی کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں چناچہ حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور (دیگر) تمام عورتوں کو مردوں اور عوتوں کے نطفہ سے پیدا کیا گیا تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور ان سے الفت کرو اور تم سب کے اندر محبت اور ہمدردی پیدا کی یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں اللہ کی کاری گری میں غور وفکر کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان خلقکم من تراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون . اور اللہ کی نشانیوں میں سے (یعنی اس
امر کے دلائل میں سے کہ اللہ قیامت برپا کرنے پر قادر ہے) یہ بات ہے کہ اس نے تم کو (یعنی تمہاری اصل بنیاد آدم کو) خاک سے بنایا ‘ پھر کچھ ہی مدت کے بعد تم آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔
یعنی پہلے تم بالکل جماد تھے۔ نہ تمہارے اندر حس تھی ‘ حرکت ‘ بس مٹی تھے پھر اللہ نے تم کو انسان بنا دیا اور یکدم تم انسان ہو کر زمین پر پھیل گئے۔
Read the full tafseer →اور اس کی وحدانیت وقدرت اور اپنے نبی کو نبوت عطا کرنے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تمہیں آدم ؑ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو اور پھر تم سب آدمی بن کر زمین پر فائدہ اٹھا رہے ہو۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ۔۔ : یہاں سے چھ آیات تک ایسی نشانیوں یعنی عجیب و غریب چیزوں کا بیان ہے جو ایک تو اوپر کے سلسلہ کلام کے مطابق اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا محاسبہ کرے اور انھیں جزا و سزا دے۔ دوسرے وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کائنات نہ خود بنی ہے، نہ خودبخود چل رہی ہے اور نہ ہی ایک سے زیادہ ہستیوں نے اسے بنایا ہے، بلکہ اسے اکیلے اللہ نے پیدا فرمایا ہے، وہی اسے چلا رہا ہے، اس کارخانہ ہستی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ یہ چھ کی چھ آیات ”ۧوَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ“ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔
پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔
2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] اَنْ خَلَقَكُمْ [کہ اس نے پیدا کیا تم کو ] مِّنْ تُرَابٍ [کسی مٹی سے ] ثُمَّ اِذَآ [پھر جب ہی ] اَنْتُمْ [تم لوگ ] بَشَرٌ [بشر (ہو جاتے) ہو ] تَنْتَشِرُوْنَ [جو پھیل جاتے ہو ] ۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر اور توحید کے دلائل یہ پوری آٹھ آیات کا ترجمہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور مخلوقات میں تصرف فرمانے کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور تصرفات بیان فرماتے ہوئے بار بار یوں فرمایا ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں، یہ بات چار جگہ فرمائی ہے۔ اولاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) اور ثانیاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ) اور ثالثاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) اور رابعاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) فرمایا ہے، درحقیقت ان آیات میں جن مظاہر قدرت کو بیان فرمایا ہے، ان…
Read the full tafseer →دلیل اول
ومن ایتہ ان خلقکم من تراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون۔
اور خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک امر یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اچانک تم آدمی ہو کر زمین میں پھیل پڑے اور اسباب معاش کے مہیا کرنے کے لئے چلنے پھرنے لگے انسان کی جسمانی صورت اور اس کی روحانی حقیقت جس سے وہ اشیاء کا ادراک کرتا ہے حکمت کاملہ کا مخزن ہے کہ یہ جسم خاکی کس طرح عناصر اربعہ سے مرکب ہو کر علم و حکمت کا چشمہ بن گیا ظاہر ہے کہ نہ تو خود بخود ایسا ہوگیا اور نہ کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضا ہے بلکہ کسی قدیر وعلیم کے علم وقدرت کا کرشمہ ہے اسی طرح قیامت کے دن اجزا منتشر کو جمع کر کے دوبارہ زندگی بخشی جائے گی۔
: بنی…
Read the full tafseer →17:۔ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جد اعلی ٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر ان سے ان کی اولاد کا سلسلہ جاری کیا اور ان کو زمین میں آباد کیا۔ و من ایتہ ان خلق لکم الخ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ من انفسکم ای من شکل انفسکم و جنسھا (مدارک ج 3 ص 306) ۔ یعنی تمہاری جنس میں سے اور انسانی شکل و صورت میں تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون و راحت حاصل کرو اور رشتہ ازدواج کی بنا پر تمہارے درمیان محبت و شفقت کے تعلقات پیدا کردئیے۔ ان فی ذلک الخ بشر کو مٹی سے پیدا کرنے، اس کی نسل پھیلانے، اس کی جنس سے اس کا جوڑ پیدا کرنے اور زوجین کے درمیان محبت و الفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر مجرموں کی گرفتاری اور خدا تعالیٰ کے حضور پابند سلاسل پیشی کا ذکر فرمایا اللہ نے ان اوقات کا ذکر کیا۔ جن میں تجدید نعمت ہوتی ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح اور عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا کہ وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور اس مشاہدے کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ساتھ یہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر بھی دلیل بنتی ہے کہ جس طرح یہاں پر اللہ تعالیٰ مردہ چیز سے زندہ نکالتا…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 6
وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْـتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ ۔ (الروم : 20)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم بشر بن کر روئے زمین پر پھیلتے چلے جارہے ہو۔ )
انسان کا وجود، قدرت الٰہی کا مشاہدہ
عقیدہ سے متعلق بیشتر گمراہیوں کا سبب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت اور حکمت و دانش کے بارے میں صحیح تصور قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ جب زمین پر انسانی حکومتوں کے انتظام و انصرام کو دیکھتا ہے تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ ایک بڑا بادشاہ اپنی تمام تر قوت وہیبت کے باوجود تنہا کسی ملک کا نظام نہیں چلا سکتا، اس لیے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کے حضور نماز پڑھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہی زندہ سے مردہ اور مردے سے زندہ پیدا کرتا ہے اور اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور زمین میں بکھیر دیا۔
اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کے حضور اس لیے جھکنا ہے کیونکہ وہی زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے جس کا ایک واضح ثبوت یہ دھرتی ہے جس کا انسان پوری زندگی مشاہدہ کرتا اور اس پر بسیرہ کرتا ہے بالخصوص صحرا میں رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ جب بارش نہ ہو تو وہاں بسنے والے لوگ اس قدر مایوس ہوجاتے ہیں کہ انہیں ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔ جونہی بارشیں ہوتی ہیں تو وہی صحرا اس…
Read the full tafseer →دلائل قدرت ‘ انسانی تخلیق :
20: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ (اور اس کی ربوبیت اور قدرت کی علامات میں سے ہے) ۔ اَنْ خَلَقَکُمْ (تمہارا پیدا کرنا ہے) ۔ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ (مٹی سے پھر کچھ مدت کے بعد تم آدمی بن کر) کم سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد مراد ہے۔ تَنْتَشِرُوْنَ (تم پھیلے پھرتے ہو) تم ان چیزوں میں تصرف کرتے ہو جن میں تمہارا سامان معیشت ہے۔
مسئلہ : اذا مفاجات کیلئے ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ثم فاجاتم وقت کو نکم بشرا منتشرین فی الارض پھر اچانک تمہارے بشر بن جانے پر تم زمین میں پھیلے پھرتے ہو۔
Read the full tafseer →20۔ ومن آیا تہ ان خلقکم من تراب “ یعنی تمہاری اصل حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ ثم اذا انتم بشرتنتشرون “ پھر ان سب مخلوق کو زمین پر پھیلادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر : 21-20
یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے ‘ اس کی عظمت کے کمال ‘ اس کی مشیت کے نفوذ ‘ اس کی قوت و اقتدار ‘ اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بےپایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ (ومن ایتہ ان خلقکم من تراب) ” اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ یہ تھی نسل انسانی کے جد امجد ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق (ثم اذآ انتم بشر تنتشرون) ” پھر اب تم انسان ہو کر جابجا پھیل رہے ہو۔ “ اور اس نے تمہیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمہیں اس اصل سے تخلیق کیا اور پھر تمہیں زمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
20 انسان کا خود اپنا وجود قدرت و حکمت خداوندی کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم سب کو پیدا فرمایا مٹی سے "۔ کہ تمہارے جدِّ امجد اور اصل اول حضرت آدم کو تو اس نے اس مٹی سے براہ راست اور بلاواسطہ پیدا فرمایا۔ اور تم سب بھی اس کی اولاد اور نسل ہونے کے سبب بالواسطہ طور پر اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہو۔ نیز خود تمہارے جسموں کے اندر کاربن، کیلشیم اور لوہا وغیرہ جیسے اجزء زمین کی صورت میں اس مٹی کاست ۔ { سُلالَۃ من طِیْن } ۔ بھی ایک حیرت انگیز اور نہایت پر حکمت طریقے سے رکھ دیا گیا ہے۔ اور پھر اس سب کا خلاصہ اور نچوڑ مادئہ تولید کے ان باریک جراثیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل
تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
آیات 20 تا 27
اسرارومعارف
تخلیق انسانی :
اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل…
Read the full tafseer →5 ۔ کئی حالتوں سے مراد انسان کے مختلف اطوار ہیں جن سے گزر کر آخرپورا آدمی بن کر وجود میں آجاتا ہے۔ (دیکھئے سورة مومنون آیت 12، 14)
Read the full tafseer →(30:20) ثم ازا : اذا مفاجاتیہ ہے۔ ثم تراخی فی الوقت کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس صورت میں معنی ہوں گے۔ کچھ مدت گزرنے کے بعد (تم آدمی بن کر زمین میں پھیل گئے ہو) یا یہ تراخی فی الرتبہ کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ بمعنی پھر تم اچانک (مٹی کے پتلے سے) بشر بن کر زمین میں پھیل گئے ہو۔
تنتشرون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ انتشار (افتعال) مصدر۔ تم پھیلتے ہو ۔ تم منتشر ہوتے ہو، تم چلتے پھرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔
تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔
تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔
(ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[10] فضل تلاش کرنے سے مراد معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فلسفہ ازدواج
2: قرآن حکیم میں یہ عجیب خصوصیت ہے ۔ کہ وہ نہایت اختصار کے ساتھ بعض دفعہ اشاروں اشاروں میں وہ وہ نکات سمجھا دیتا ہے ۔ کہ عقل و فراست کے کئی دفتر بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔
غور فرمائیے ۔ معاشرتی صورت حال میں یہ کتنا اہم مسئلہ ہے ۔ کہ عورت کا درجہ ازدواجی نقطہ نگاہ سے کیا ہے ؟ اور کیونکر زندگی کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے ؟ قرآن کہتا ہے ۔ کہ ان تعلقات سے مقصود جنسی اور معاشرتی تسکین ہے ۔ قلب وروح کی ضمانیت ہے ۔ لتسکنوا الیھا اور اس کو صحیح معنوں میں خوشگوار بنانے کا طریق یہ ہے کہ دونوں فریقین برابر کی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ مرد اپنی قوت و توانائی سے ناجائز فائدہ…
Read the full tafseer →20۔ اور اس کی حکمت وقدرت کی نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم یکا یک تھوڑے ہی دنوں میں انسان ہو جو طرف پھیلے ہوئے ہو ۔ یعنی مٹی سے مطلب یہ ہے کہ ایسے عناصر سے بنایا جن میں مٹی کے اجزا سب سے زیادہ ہیں آخر جو غذا کھائی جاتی ہے جس سے خون اور مادہ منویہ کی تولید ہوتی ہے وہ مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔
اور اس کی قدرت و حکمت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں اور جوڑے بنائے تا کہ تم ان سے آرام و اطمینان حاصل کرو اور تم کو ان سے آرام ملے اور اس نے تم میاں بیویوں کے مابین محبت اور ہمدردی پیدا کی اس بات میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 5۔ لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو۔
6۔ نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →مٹی سے تم کو پیدا کردینا اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے :
20۔ زیر نظر آیت گزشتہ آیت کی تشریح کے لئے بیان کی جا رہی ہے اس میں انسان کی پہلی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے وہ پہلی پیدائش جب کہ ابھی انسانی زندگی کا کوئی نام ونشان اس کائنات ارضی میں موجود نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس مٹی پر جو ایک جگہ جامد پڑی تھی ایسے کیمیائی عمل کیے کہ وہ مختلف ادوار سے گزرتی گئی اور ہر دور نے اس پر ایک ایسا اثر چھوڑا کہ وہ نہ دیکھی اور نہ سمجھی گئی طاقت کے طور پر زندگی کی طرف پھر نے لگی اور مزید ادوار میں مختلف صورتیں اختیار کرتے کرتے ایک ایسی زندگی میں تبدیل ہوگئی جس زندگی کو انسان کی پیدائش اول سے تعبیر کیا…
Read the full tafseer →Commentary
After narrating the incident of the war between Rum and Persia in the beginning of Surah Ar-Rum, it was declared that the cause of the misguidance of the infidels and their heedlessness towards the truth was their excessive love for material life and paying no heed to the Hereafter. After that, any possible misgiving regarding resurrection on the Dooms Day and about the rewards and punishment after reckoning was clarified from different angles. Then it was suggested that one should, at the first place, look and ponder within his Self, and then should look around and note what had…
Read the full tafseer →26 It should be noted that from here to the end of verse 27, the Signs of Allah that are being mentioned point, on the one hand, to the possibility and occurrence of the life hereafter, in the context of the foregoing discourse, and on the other, the same Sings also point to the reality that this universe is neither Godless nor under many gods, but One God alone is its Creator, Disposer, Master and Ruler, except for Whom there should be no other deity of man. Thus, this section (vv.20-27) is fully well connected, with the discourse preceding it and the discourse following it
27 That is. "The…
Read the full tafseer →