Explained with ayahs 17–19
خالق کل مقتدر کل ہے
اس رب تعالیٰ کا کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کا جملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد وثنا وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گذرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پوری اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت…
Read the full tafseer →سورة الروم 25
یعنی جو خد ہر آن تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ کام کر رہا ہے وہ آخر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بخشنے سے عاجز کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ ہر وقت زندہ انسانوں اور حیوانات میں سے فضلات (WasteMatter) خارج کر رہا ہے جن کے اندر زندگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر لمحہ بےجان مادے (dead Matter) کے اندر زندگی کی روح پھونک کر بیشمار جیتے جاگتے حیوانات، نباتات اور انسان وجود میں لارہا ہے، حالانکہ بجائے خود ان مادوں میں جن سے ان زندہ ہستیوں کے جسم مرکب ہوتے ہیں، قطعا کوئی زندگی نہیں ہوتی، وہ ہر آن یہ منظر تمہیں دکھا رہا ہے کہ بنجر پڑی ہوئی زمین کو جہاں پانی میسر آیا اور یکایک وہ حیوانی اور نباتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ، لفظ سـبْحٰنَ اللّٰهِ مصدر ہے، اس کا فعل محذوف ہے یعنی سبحوا اللہ سبحانا، حِيْنَ تُمْسُوْنَ ، یعنی جب تم شام کے وقت میں داخل ہو اور وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، یعنی جب تم پر صبح کا وقت آئے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ جملہ درمیان میں بطور دلیل کے لایا گیا ہے کہ صبح شام اللہ کی تسبیح اس لئے ضروری ہے کہ آسمان و زمین میں صرف وہی مستحق حمد ہے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی حمد کرنے میں مشغول ہیں اور جس طرح شروع آیت میں صبح شام کی تسبیح…
Read the full tafseer →3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ویحی الارض بعد موتھا وکذلک تخرجون (19)
’ اخراج ‘ کے معنی جس طرح کسی چیز سے کسی چیز کے نکالنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کے ظاہر کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہ منکرین قیامت کے استبعاد کو رفع فرمایا ہے کہ تم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو بہت مستبعد سمجھتے ہو حالانکہ اس دنیا کے ہر گوشہ میں زندہ کر مردہ سے ظہور میں آتے اور زندہ پر موت کو طاری ہوتے دیکھتے ہو۔ اس کی مثال کے طور پر فرمایا کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک اور مردہ ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بارش کے ایک ہی چھینٹے سے اس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار کردیتا…
Read the full tafseer →19-1جیسے انڈے کو مرغی سے، مرغی کو انڈے سے۔ انسان کو نطفے سے، نطفے کو انسان اور مومن کو کافر سے، کافر کو مومن سے پیدا فرماتا ہے۔
19-2یعنی قبروں سے زندہ کر کے۔
Read the full tafseer →6: جاندار کو بےجان سے نکالنے کی مثال جیسے انڈے سے مرغی اور بےجان کو جاندار سے نکالنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ مثال دی ہے کہ زمین قحط کی وجہ سے مردہ ہوچکی ہوتی ہے، اور اس میں کچھ اگانے کی صلاحیت نہیں رہتی، لیکن اللہ تعالیٰ بارش برساکر اسے دوبارہ زندگی بخشتے ہیں، اسی طرح انسانوں کو بھی مرنے کے بعد وہ دوبارہ زندہ کردیں گے۔
Read the full tafseer →یخرج الحی ۔۔۔۔۔ وکذلک تخرجون (30: 19)
” ہاں وہ زندہ چیزوں سے مردوں کو نکالتا ہے اور مردہ چیزوں سے زندہ کو نکالتا ہے “۔ اور یہ ایک دائمی عمل ہے۔ نہ رکنے والا عمل ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس میں توقف نہیں ہوتا۔ رات اور دن ہر وقت یہ عمل جاری ہے ، ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔ زمین کی سطح میں سے چپے چپے پر جاری ہے۔ فضائے کائنات میں جاری ہے ، سمندر کی تہوں میں جاری ہے ، ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ، یہ عمل کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے ، یہ تو ایک معجزہ ہے ، لیکن رات اور دن اسے دیکھتے دیکھتے ہم اس کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ اس کا معجزانہ پہلو نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے حالانکہ ہر لحظہ نئ آن اور شان کے…
Read the full tafseer →5 یعنی انسان کو نطفہ سے، نطفہ کو انسان سے، جانور کو بیضہ سے اور بیضہ کو جانور سے، مومن کو کافر سے، کافر کو مومن سے پیدا کرتا ہے اور زمین جب خشک ہو کر مرجاتی ہے تو رحمت کے پانی سے پھر زندہ کر کے سرسبز و شاداب کردیتا ہے۔ غرض موت وحیات حقیقی ہو یا مجازی، حسی ہو یا معنوی، سب کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر تم کو زندہ کر کے قبروں سے نکال کھڑا کرنا اس کے نزدیک کیا مشکل ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 19 یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ”
مثلاً انڈے میں بظاہر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ‘ لیکن اس میں سے اللہ کی قدرت سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے۔
وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ”
مثلاً مرغی جاندار ہے اور اس سے انڈا برآمد ہوتا ہے جو بظاہر بےجان ہے۔ اسی طرح زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ برآمد ہونے کی بہت سی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔
وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ”
جس طرح اللہ تعالیٰ بظاہر مردہ زمین سے فصلیں اور دوسرے نباتات نکالتا ہے اسی طرح وہ تمہیں بھی اس میں سے نکال کر حاضر کرلے گا ‘ چاہے تمہارے اجزاء تحلیل ہو کر کسی بھی شکل میں ہوں اور کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
15 اور یہ عمل ہر وقت جاری وساری ہے۔ اللہ تعالیٰ حیوانات کی بےجان غذاؤں سے نطفہ کو، پھر نطفہ سے حیوانات کو پیدا کرتا رہتا ہے اور اس عمل میں انسان بھی شامل ہے۔ اور پرندوں سے انڈے کو، پھر انڈے سے زندہ پرندہ کو پیدا کرتا رہتا ہے اور اللہ کا یہ کارنامہ سب لوگوں ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔
16 یعنی جب مردہ زمین پر بارش پڑتی ہے تو اس سے نباتات، پودے اور درخت ہی نہیں اگ آتے بلکہ حیوانات بھی آگ آتے ہیں موسم برسات آتا ہے تو ہزارہا مینڈک ٹرانے لگتے ہیں۔ جھینگر اور پپی ہے درختوں پر بولنے لگتے ہیں اور بیشمار قسم کے حشرات الارض اگ آتے ہیں جن کا پہلے نام و نشان تک نہ تھا۔ سوچنے کی بات ہے کہ جاندار مخلوق آخر کیسے…
Read the full tafseer →17۔ ( اور اپنے ان تکوینی وتخلیقی عجائبات کے نمونے دن رات ہر آن دکھاتا رہتا ہے) (آیت) ” یخرج الحی من المیت “۔ جیسے انڈے سے مرغی کا پیدا کرنا۔ (آیت) ” یخرج المیت من الحی “۔ جیسے مرغی سے انڈہ پیدا کرنا۔
18۔ یہ مادہ پرست منکرین بعث و قیامت کے جواب میں ہے، قرآن ان سے کہتا ہے کہ جس شے کو تم ناممکن کہہ رہے اور سمجھ رہے ہو اس کی نظیریں اور مثالیں تو اس زندگی میں اپنی آنکھ سے ہر روز دیکھتے رہتے ہو۔ اس کے عدم امکان پر جمے رہنا تو بےبصیرتی کی انتہا ہے۔ (آیت) ” من آیتہ “۔ یعنی اس کی قدرت و حکمت وصنعت کی نشانیوں میں سے۔ (آیت) ” من ایتہ “۔ کا یہی مفہوم اس رکوع بھر میں ہر جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیت نمبر 11 تا 19
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…
Read the full tafseer →یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی . وہ نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے (جیسے انسان
کو نطفہ سے اور پرندہ کو انڈے سے) اور نکالتا ہے بےجان کو جاندار سے (یعنی نطفہ اور انڈے کو حیوان سے) ۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کے پیچھے موت اور موت کے پیچھے زندگی لاتا ہے ‘ موت وحیات کا تبادل کرتا ہے) ۔
ویحی الارض بعد موتھا . اور زمین کو (سبزہ پیدا کر کے) زندہ کرتا ہے اس کے مرنے کے (یعنی خشک ہوجانے) کے بعد۔
وکذلک تخرجون اور اسی طرح تم مرنے کے بعد زندہ کر کے قبروں سے نکالے جاؤ گے۔ یعنی جب تم مشاہدہ کر رہے ہو کہ بےجان کو اللہ جاندار بنا کر نکالتا ہے تو پھر مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھائے جانے کا تم کیوں انکار…
Read the full tafseer →وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتا ہے یعنی بچے اور جانوروں کو نطفہ سے اور پرندے کو انڈے سے اور کھجور کو گھٹلی سے اور بےجان کو جاندار سے باہر لاتا ہے یعنی انسان اور جانوروں سے نطفہ اور پرندے سے انڈا اور کھجور سے گٹھلی اور زمین کو اس کے خشک اور بنجر ہوجانے کے بعد پھر زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ زندہ کیے جاؤ گے اور قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ۔۔ : کائنات میں دن کو رات سے اور رات کو دن سے بدلنے اور صبح و شام اور عشاء اور ظہر و عصر کا تغیر برپا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی قدرت کے کمال، یعنی زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالنے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کردینے کا بیان فرمایا۔ (مزید دیکھیے آل عمران : 27) اور ان تبدیلیوں کو بطور دلیل ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح تم بھی قیامت کے دن دوبارہ زمین سے زندہ کر کے نکال کھڑے کیے جاؤ گے۔ یعنی تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ کائنات کا یہ کارخانہ اسی طرح جاری ہے کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکلتا ہے۔ زمین مردہ پڑی ہوتی ہے، اس میں سبزی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔
اس میں تین قول ہیں (1) ان اوقات میں عبادت کے امرا اور نماز پر برانگخیۃ کرنے کے ساتھ مومومنوں کو خطاب ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر ہے (2) آپ سے عرض کی گئی کہاں ؟ فرمایا اللہ کا فرمان ہے : اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ مراد صبح کی نماز ہے، عصر کی نماز، مراد ظہر کی نماز، یہ ضحاک اور سعید بن جبیر کا قول ہے : حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے : آیت میں چار نمازوں پر تنبیہ ہے مغرب، صبح، عصر اور ظہر، علماء نے کہا عشاء اور ایک اور آیت میں ہے۔ (ہود 114) اور پردہ کے اوقات میں ہے۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر کا کہنا ہے کہ یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ الفریابی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وقت میں سے ادنی وقت صبح اور شام کا ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت
2۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت نافع بن ازرق، ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا، کیا پانچوں نمازوں کو آپ قرآن میں پاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! تو یہ آیت تلاوت کی آیت فسبحن اللہ حین تمسون سے مراد ہے مغرب کی نماز آیت وحین تصبحون سے مراد ہے صبح کی نماز آیت وعشیا سے مراد ہے عصر کی نماز آیت وحین تظہرون سے مراد ہے ظہر کی…
Read the full tafseer →يُخْرِجُ [وہ نکالتا ہے ] الْـحَيَّ [زندہ کو ] مِنَ الْمَيِّتِ [مردہ میں سے ] وَيُخْرِجُ [اور وہ نکالتا ہے ] الْمَيِّتَ [مردہ کو ] مِنَ الْـحَيِّ [زندہ میں سے ] وَيُـحْيِ [اور وہ زندہ کرتا ہے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کی موت کے بعد ] وَكَذٰلِكَ [اور اس طرح ] تُخْرَجُوْنَ [تم لوگ نکالے جاؤ گے ] ۔
البقرہ کی آیت۔ 28 ۔ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم لوگ اللہ کا کیسے انکار کرتے جب حال یہ ہے کہ تم لوگ مردہ حالت میں تھے تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ اس آیت کی وضاحت کو ہم یہاں دوبارہ نقل کر رہے ہیں۔ ــ” سمندر سے پانی کا بھاپ بن کر اٹھنا، بادل بننا ، پانی برسنا، پودے اگنا، پودوں کا…
Read the full tafseer →(یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ) (الآیۃ) (اللہ تعالیٰ مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے) اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان فرمایا ہے کہ وہ جاندار کو مردہ سے اور مردہ کو جاندار سے نکالتا ہے۔ مفسرین نے اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ مردہ سے نطفہ مراد ہے جو بےجان ہے، اور بعض حضرات نے اس کی مثال بچہ اور انڈے سے دی ہے کہ چوزے کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے نکالتا ہے۔ (وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا) (اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرماتا ہے) یعنی جب زمین خشک ہو کر مردہ ہوجاتی ہے اس میں ایسی جان ہی نہیں رہتی جس سے کھیتی اور گھاس وغیرہ پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔
اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
16:۔ یہ بھی بعث و نشور پر عقلی دلیل ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ بےجان سے جاندار کو اور جاندار سے بےجان کو پیدا کرسکتا ہے اور خشک زمین کو زندہ اور زرخیز بنا دیتا ہے اسی طرح وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا کہ وہ توحید پر قائم رہیں آخر اللہ تعالیٰ ان کو مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا۔ مسلمانوں کا مشرکین پر غلبہ جہاں ایمان والوں کے لیے خوشی کا باعث ہوگا وہ مشرکین کے حق میں عذاب خداوندی ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کی بھلائی کے لیے آگے توحید پر تیری عقلی دلیلیں ذکر کیں تاکہ مسئلہ خوب واضح ہوجائے مسلمانوں کی بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔
وقوع قیامت کی عقلی دلیل
ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…
Read the full tafseer →يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ وَيُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا 0 ۭ وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ 1 9ۧ
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط وَکَذٰلِکَ تُخرَجُوْنَ ۔ (الروم : 19)
(وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔ )
منکرینِ قیامت کی غلط فہمی کا ازالہ
اخراج کے معنی جس طرح کسی چیز سے کسی چیز کو نکالنے کے آتے ہیں، اسی طرح پیدا کرنے کے بھی آتے ہیں۔ منکرینِ قیامت ازسرنو زندگی کو بہت مستبعد خیال کرتے تھے۔ ان کے استبعاد کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ تم ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ زندہ انسانوں اور حیوانات میں سے فضلات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کے حضور نماز پڑھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہی زندہ سے مردہ اور مردے سے زندہ پیدا کرتا ہے اور اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور زمین میں بکھیر دیا۔
اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کے حضور اس لیے جھکنا ہے کیونکہ وہی زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے جس کا ایک واضح ثبوت یہ دھرتی ہے جس کا انسان پوری زندگی مشاہدہ کرتا اور اس پر بسیرہ کرتا ہے بالخصوص صحرا میں رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ جب بارش نہ ہو تو وہاں بسنے والے لوگ اس قدر مایوس ہوجاتے ہیں کہ انہیں ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔ جونہی بارشیں ہوتی ہیں تو وہی صحرا اس…
Read the full tafseer →19: یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ (وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے) پرندہ انڈے سے یا انسان نطفہ سے یا مومن سے کافر۔ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ( اور میت کو زندہ سے نکالتا ہے) انڈہ پرندے سے یا انسان سے نطفہ یا مومن سے کافر۔
قراءت : المیّتُ میں المیْت دونوں مقام پر مکی وشامی، ابو عمرو، ابوبکر، حماد نے تخفیف سے پڑھا ہے۔ اور دیگر نے تشدید سے۔
وَیُحْیِ الْاَرْضَ (اور وہ زمین کو زندہ کرتا ہے) ۔ نباتات کے ذریعہ اس کے مرجانے کے بعد بَعْدَ مَوْتِھَا (مردہ ہونے کے بعد) زمین کے مرجانے سے خشک ہونا مراد ہے۔ وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ (اور اسی طرح تمہیں نکالا جائے گا) ۔
قراءت : حمزہ، علی، خلف نے…
Read the full tafseer →تفسیر۔ 19۔ یخرج الحی من ا لمیت ویخرج المیت من الحی ویحی الا رض بعد موتھا وکذلک تخرجون “ حمزہ اور کسائی نے تخر جون پڑھا ہے تاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے تاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیت نمبر : 17-19
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام ‘ عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات ‘ پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
20 انسان کا خود اپنا وجود قدرت و حکمت خداوندی کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم سب کو پیدا فرمایا مٹی سے "۔ کہ تمہارے جدِّ امجد اور اصل اول حضرت آدم کو تو اس نے اس مٹی سے براہ راست اور بلاواسطہ پیدا فرمایا۔ اور تم سب بھی اس کی اولاد اور نسل ہونے کے سبب بالواسطہ طور پر اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہو۔ نیز خود تمہارے جسموں کے اندر کاربن، کیلشیم اور لوہا وغیرہ جیسے اجزء زمین کی صورت میں اس مٹی کاست ۔ { سُلالَۃ من طِیْن } ۔ بھی ایک حیرت انگیز اور نہایت پر حکمت طریقے سے رکھ دیا گیا ہے۔ اور پھر اس سب کا خلاصہ اور نچوڑ مادئہ تولید کے ان باریک جراثیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل
تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرارومعارف
خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔
اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی جیسے مردہ زندہ سے اور زندہ مردہ سے نکلتا ہے، اسی طرح… (دیکھئے آل عمران آیت 97، انعام آیت :95) 4 ۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ کائنات کا یہ کارخانہ اسی طرح جاری ہے۔ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکلتا ہے۔ زمین مردہ پڑی ہوتی ہے۔ اس میں سبزی اور تروتازگی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، لیکن پانی برستے ہی طرح طرح کی سبزیاں آگ آتی ہیں اور ہزاروں قسم کے جانور پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے قادر مطلق کے لئے جس کی قدرت سے یہ سب کچھ ہوا۔ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →(30:19) یحی الارض بعد موتھا۔ وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ زمین کی موت اور زندگی مجازی ہے۔ مراد یہ ہے کہ خشک بےآب وگیاہ ۔ بنجر زمین کو اپنی قدرت سے سرسبز و شادات کردیتا ہے۔
تخرجون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ اخراج (افعال) مصدر سے۔ تم نکالے جاؤ گے (قبروں میں سے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔
الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔
(ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…
Read the full tafseer →[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة آل عمران حواشی 11, 10 صفحہ 164 اور سورة انعام حواشی 34, 33 صفحہ 329۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 1: خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ جن چیزوں کو ہم انسداد کہتے ہیں ۔ ان کو اس طرح ترکیب دیتا ہے ۔ کہ ان میں تضاد بالکل دور ہوجاتا ہے ۔ اور بظاہر ناممکن چیزیں اس کی قدرت کاملہ سے واقعات کی صورت اختیار کرلیتی ہیں موت اور زندگی باہم بالضد ہیں ۔ مگر وہ مردوں کو جلاتا اور زندوں کو موت کی آغوش میں دے دیتا ہے ۔ اسی طرح مٹی ایک بےجان چیز ہے ، مگر وہ اسی بےجان شئے سے انگوریاں پیدا کرتا ہے ۔ جو انسانی زندگی کا ایک عنصر ثابت ہوتی ہے ۔
حل لغات :۔ یحی الاراض ۔ فجا ہے عرض یہ ہے کہ زمین جب خشک ہوجاتی ہے تو اللہ باران رحمت سے اس کو تازہ بنا دیتا ہے السنتکم بصنہ ۔ تبع السباق کسی زبان ۔ الولیقکف ۔ ملوعان لین کی جمع ہے…
Read the full tafseer →19۔ وہ جاندارکو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے اور وہی زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ بھی مرنے کے بعد زمین سے نکالے جائو گے۔ یعنی انسان کے نطفے سے اور نطفے کو انسان سے جانور سے انڈے اور انڈے سے جانور کو مومن سے کافر کو کافر سے مومن کو اور جب زمین خشک ہوتی ہے تو پھر اس کو برسات میں زندہ کردیتا ہے اور زمین میں روئیدگی ہوجاتی ہے اور اسی طرح تم کو بھی مرنے کے بعد قبروں سے نکال کھڑا کرے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مٹی مردے سے جیتے جان دار۔ 12
Read the full tafseer →ف 4۔ مثلا نطفہ اور بیضہ سے انسان اور بچہ، انسان اور پرندہ سے نطفہ اور بیضہ۔
Read the full tafseer →مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالنے والا اللہ ہی دوبارہ زندہ کر دے گا :
19۔ زیر نظر آیت کا مضمون پیچھے عروۃ الوثقی جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 27 جلد سوم میں سورة المائدہ کی آیت 110 جلد چہارم میں سورة ابراہیم کی آیت اول میں بیان کیا جا چکا ہے تفصیل وہیں سے ملاحظہ کریں ۔ ہمارے مفسرین نے اس میں انڈے اور مرغی کی مثال بیان کی ہے اور جدید معترضین نے انسانی اور حیوانی فضلات اور بےجان مادے کی مثالیں بھی بیان کی ہیں ان سے انکار نہیں کرتے جو ان کی سمجھ میں آیا بلاشبہ صحیح لیکن ہماری زندگی کے لئے سبق جس میں میسر آئے اور وہ مثال بھی خود قرآن کریم کی تصدیق کردہ ہو تو زیادہ صحیح اور زیادہ بہتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ
So, proclaim Allah's purity when you see the evening and when you see the morning. And to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you enter the time of Zuhr (soon after the decline of the sun towards West). (30:17-18)
The word 'subhan' (سُبْحَانَ ) is an infinitive which means 'to declare the purity of someone from defects'. The phrase 'subhanallah' (فَسُبْحَانَ اللَّـهِ ) is meant to proclaim Allah's purity from all…
Read the full tafseer →25 That is . "How can that God Who is doing all this perpetually in front of your eyes, be helpless in raising tnan to life after death? He is causing absolutely dead matter to be discharged from living men and animals. He is ever bringing into existence countless animals and human beings by breathing life into dead matter, whereas the substances themselves which make up the bodies of the living beings are absolutely without life He is making you witness the ' phenomenon that wherever water becomes available, lands previously lying barren start blooming and blossoming with animal and…
Read the full tafseer →