Ar-Room 30:18

Ar-Room · from ayah 18

30:18

وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْهِرُوْنَ ۟وَلَـهُ الۡحَمۡدُ فِىۡ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَعَشِيًّا وَّحِيۡنَ تُظۡهِرُوۡنَ

اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کی تعریف ہے۔ اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اُس وقت بھی نماز پڑھا کرو)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Him is [due all] praise throughout the heavens and the earth. And [exalted is He] at night and when you are at noon.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:18

آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کی تعریف ہے۔ اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اُس وقت بھی نماز پڑھا کرو)

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے تیسرے پہر کو اور ﻇہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو) اور اس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں دوپہر ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین میں حمد اسی کو سزاوار ہے۔ نیز پچھلے پہر اور ظہر کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہو رہی ہے اور عشاء کے وقت بھی اور اس وقت بھی جب تم ظہر کرتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی کے لئے ہے تعریف آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور (اسی کی تعریف کرو تم لوگ بھی) دن کے پچھلے حصے میں اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوجاؤ

— مولانا اسحاق مدنی

اور آسمانوں اور زمین میں حمد اسی کی ہوتی ہے اور بعد زوال بھی اور ظہر کے وقت بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں اور رات کو اور جب تم ظہر کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آسمانوں اور زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو اس وقت بھی نماز قائم کیا کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

His is all praise in the heavens and in the earth; (and glorify Him) in the afternoon and when the sun begins to decline.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you enter the time of àuhr (soon after the decline of the sun towards West).

— Muhammad Taqi Usmani

And to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you enter the time of àuhr (soon after the decline of the sun towards West).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And His is all the praise in the heavens and the earth; and in `Ashiyya and when Tuzhirun.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Him be praise in the heavens and the earth! - and at the sun's decline and in the noonday.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Him is [due all] praise throughout the heavens and the earth. And [exalted is He] at night and when you are at noon.

— Saheeh International

To Him belongs all the thanks giving which takes place in the heavens and the earth, in the evenings and the noontime.

— Muhammad Sarwar

And to Him belongs praise in the heavens and the earth, and at nightfall and when you are at midday.

— Muhammad Habib Shakir

And His is all praise in the heavens and the earth! --and at the sun's decline and when ye enter the noon.

— Abdul Majid Daryabadi

Yea, to Him be praise, in the heavens and on earth; and in the late afternoon and when the day begins to decline.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–19

خالق کل مقتدر کل ہے اس رب تعالیٰ کا کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کا جملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد وثنا وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گذرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پوری اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 24 اس آیت میں نماز کے چار اوقات کی طرف صاف اشارہ ہے۔ فجر، مغرب، عصر اور ظہر۔ اس کے علاوہ مزید اشارات جو قرآن مجید میں اوقات نماز کی طرف کیے گئے ہیں، حسب ذیل ہیں اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (نبی اسرائیل، آیت 78) " نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کی تاریکی تک، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو "۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ (ہود، آیت 114) " اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر "۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ، لفظ سـبْحٰنَ اللّٰهِ مصدر ہے، اس کا فعل محذوف ہے یعنی سبحوا اللہ سبحانا، حِيْنَ تُمْسُوْنَ ، یعنی جب تم شام کے وقت میں داخل ہو اور وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، یعنی جب تم پر صبح کا وقت آئے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ جملہ درمیان میں بطور دلیل کے لایا گیا ہے کہ صبح شام اللہ کی تسبیح اس لئے ضروری ہے کہ آسمان و زمین میں صرف وہی مستحق حمد ہے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی حمد کرنے میں مشغول ہیں اور جس طرح شروع آیت میں صبح شام کی تسبیح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحوان، ولہ الحمد فی السموات والارض وعشیاء وحین تظھرون (17۔ 18) اب یہ تقاضا بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی اس یکتائی اور اس کے قانونِ مجازات کا جس کا بیان اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو ہر ایک کا فرض ہے کہ صرف اللہ ہی کی تسبیح کرے شام و صبح اور عشا کے وقت اور ظہ رکے وقت۔ ’ ولہ الحمد فی السموات والارض۔ ‘ یہ اوقاتِ تسبیح کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ بطور تنبیہ و تذکیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جا رہی ہے یہ کوئی بیگانہ دعوت نہیں ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18-1یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ذات مقدسہ کے لئے تسبیح وتحمید ہے، جس سے مقصد اپنے بندوں کی رہنمائی ہے کہ ان اوقات میں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور جو اس کے کمال قدرت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں، اس کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ شام کا وقت رات کی تاریکی کا پیش خیمہ اور سپیدہ سحر دن کی روشنی کا پیامبر ہوتا ہے۔ عشاء شدت تاریکی کا اور ظہر خوب روشن ہوجانے کا وقت ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جو ان سب کی خالق اور جس نے ان تمام اوقات میں الگ الگ فوائد رکھے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تسبیح سے مراد، نماز ہے اور دونوں آیات میں مذکور اوقات پانچ نمازوں کے اوقت ہیں۔ تمسون میں مغرب و عشاء، تصبحون میں نماز فجر، عشیا (سہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–18

5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

تسبیح کا یہ حکم اور حمد سابق فقرات و آیات میں بیان کردہ مشاہد قیامت کے بعد آتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل ایمان جنت کے ایک مخصوص باغ میں خوش و خرم ہوں گے۔ اور کافر اور جھٹلانے والے ، عذاب اور سزا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تو یہ تسبیح دراصل بطور نتیجہ یہاں لائی گئی ہے اور سابقہ مناظر قیامت دراصل اس مطالعہ کائنات کے لئے تمہید تھے کہ یہ وسیع کائنات اور اس کے نشیب و فرار ، نفس انسانی اور اس کی نفسیات و عجائبات اور اللہ کی یہ تخلیق اور اس کے اسرار و رموز یہ سب لایعنی نہیں ہیں۔ ان پر قیامت کے نتائج مرتب ہوں گے۔ پس سابقہ مناظر قیامت اور موجودہ مطالعہ کائنات کے اندر مکمل ربط و مناسبت ہے یہاں تسبیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–18

4 یعنی جنت چاہتے ہو تو اللہ پاک کی یاد کرو جو دل، زبان اور اعضاء وجوارح سب سے ہوتی ہے۔ نماز میں تینوں قسم کی یاد جمع کردی گئی۔ اور اوقات فرض نماز کے یہ ہی ہیں جو آیت میں بیان ہوگے۔ یعنی صبح، شام، (جس میں مغرب و عشاء شامل ہیں) دن کے پچھلے وقت (عصر) اور دوپہر ڈھلنے کے بعد (ظہر) کی نمازیں ہیں ان اوقات میں حق تعالیٰ کی رحمت یا قدرت و عظمت کے آثار بہت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ آفتاب عالم اجسام میں سب سے بڑا روشن کرہ ہے جس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیض و تاثیر سے عالم اسباب میں شاید ہی کوئی مادی مخلوق مستشنٰی ہو (جیسا کہ ارض النجوم کے مصنف نے بہت شرح وبسط سے اس کو ثابت کیا ہے) اسی بناء پر سیارہ پرستوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–18

آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ” ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

15 اور یہ عمل ہر وقت جاری وساری ہے۔ اللہ تعالیٰ حیوانات کی بےجان غذاؤں سے نطفہ کو، پھر نطفہ سے حیوانات کو پیدا کرتا رہتا ہے اور اس عمل میں انسان بھی شامل ہے۔ اور پرندوں سے انڈے کو، پھر انڈے سے زندہ پرندہ کو پیدا کرتا رہتا ہے اور اللہ کا یہ کارنامہ سب لوگوں ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔ 16 یعنی جب مردہ زمین پر بارش پڑتی ہے تو اس سے نباتات، پودے اور درخت ہی نہیں اگ آتے بلکہ حیوانات بھی آگ آتے ہیں موسم برسات آتا ہے تو ہزارہا مینڈک ٹرانے لگتے ہیں۔ جھینگر اور پپی ہے درختوں پر بولنے لگتے ہیں اور بیشمار قسم کے حشرات الارض اگ آتے ہیں جن کا پہلے نام و نشان تک نہ تھا۔ سوچنے کی بات ہے کہ جاندار مخلوق آخر کیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ ’ کہ یہ اوقات تجدد نعمت وزیادت ظہور آثارقدرت کے ہیں۔ ان میں تجدید تسبیح کی مناسب ہے۔ بالخصوص نماز کیلئے یہی اوقات مقرر ہیں۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” تمسون “۔ میں مغرب و عشاء کی نمازیں آگئیں۔ (آیت) ” تصبحون “۔ میں صبح کی نماز کی طرف اشارہ ظاہر ہے۔ (آیت) ” عشیا “ میں اشارہ نماز عصر کی جانب ہے (آیت) ” تظھرون “۔ سے مراد نماز ظہر ہے۔ (آیت) ” سبحن اللہ الہ الحمد “۔ تسبیح قرب ذاتی کا مقام ہے اور حمدقرب صفاتی کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولہ الحمد فی السمٰوٰت والارض وعشیًا وحین تظہرون . اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی حمد ہوتی ہے اور (پاکی بیان کرو) پچھلے پہر اور ظہر کے وقت۔ فَسُبْحَانَ اللہ یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق (بیان نوع کے لئے) ہے اور فاء کا ما بعد نیتجہ ہے ماقبل کا یعنی اللہ ہی جب خالق اول اور معید آخر ہے تو اس کی تسبیح بیان کرو۔ تسبیح سے نماز مراد ہے۔ حِیْنَ تُمْسُوْنَ جب تم وقت شام میں داخل ہوجاتے ہو ‘ اس سے مراد مغرب کی نماز ہے۔ تاریخ اور مہینوں کا حساب کرنے کے لئے شرعاً رات پہلے آتی ہے جس کا آغاز مغرب سے ہوتا ہے اس لئے نماز مغرب کا پہلے ذکر کیا۔ اللہ کے فضل سے دن سلامتی سے گزر گیا اور اللہ نے اپنی فطری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تمام آسمان اور زمین والوں پر اسی کا شکر و اطاعت واجب ہے اور اسی طرح نماز ظہر اور عصر کی نماز کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیا کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : اس آیت میں ”وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ“ کا تعلق ”فسبحن اللہ“ کے ساتھ ہے۔ مسلسل عبارت یوں ہے : ”فَسُبْحَان اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ۔“ ”وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ کا جملہ درمیان میں معترضہ ہے، یعنی صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے، آسمانوں میں اور زمین میں جہاں بھی خوبی کی کوئی بات ہے اس خوبی کا مالک اور اس پر حمد کا حق دار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سو تسبیح کے ساتھ تحمید کا فریضہ بھی ادا کرو۔ 3…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1:۔ اس میں تین قول ہیں (1) ان اوقات میں عبادت کے امرا اور نماز پر برانگخیۃ کرنے کے ساتھ مومومنوں کو خطاب ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر ہے (2) آپ سے عرض کی گئی کہاں ؟ فرمایا اللہ کا فرمان ہے : اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ مراد صبح کی نماز ہے، عصر کی نماز، مراد ظہر کی نماز، یہ ضحاک اور سعید بن جبیر کا قول ہے : حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے : آیت میں چار نمازوں پر تنبیہ ہے مغرب، صبح، عصر اور ظہر، علماء نے کہا عشاء اور ایک اور آیت میں ہے۔ (ہود 114) اور پردہ کے اوقات میں ہے۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر کا کہنا ہے کہ یہ آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–19

1۔ الفریابی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وقت میں سے ادنی وقت صبح اور شام کا ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت 2۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت نافع بن ازرق، ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا، کیا پانچوں نمازوں کو آپ قرآن میں پاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! تو یہ آیت تلاوت کی آیت فسبحن اللہ حین تمسون سے مراد ہے مغرب کی نماز آیت وحین تصبحون سے مراد ہے صبح کی نماز آیت وعشیا سے مراد ہے عصر کی نماز آیت وحین تظہرون سے مراد ہے ظہر کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَهُ [اور اس کے لئے ہی ہے ] الْحَمْــدُ [تمام شکر و سپاس ] فِي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں میں ] وَالْاَرْضِ [اور زمین میں ] وَعَشِـيًّا [اور سہ پہر کے وقت ] وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ [اور جب دوپہر کرتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

صبح و شام اور دن کے پچھلے اوقات میں اللہ کی تسبیح کرنے کا حکم اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا کہ شام کے وقت اور صبح کے وقت اور دن کے پچھلے اوقات میں اور ظہر کے وقت اللہ کی پاکی بیان کرو، اوقات مذکورہ میں اللہ کی تسبیح اور تنزیہ بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے درمیان میں یہ بھی فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ہے، یعنی آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں اور جو لوگ اہل کفر ہیں ان کا وجود ہی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کے لیے کافی ہے گو زبان سے اس کی حمد بیان نہ کرتے ہوں، جیسا کہ سورة النور میں فرمایا (اَلَمْ تَرَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

16:۔ یہ بھی بعث و نشور پر عقلی دلیل ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ بےجان سے جاندار کو اور جاندار سے بےجان کو پیدا کرسکتا ہے اور خشک زمین کو زندہ اور زرخیز بنا دیتا ہے اسی طرح وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا کہ وہ توحید پر قائم رہیں آخر اللہ تعالیٰ ان کو مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا۔ مسلمانوں کا مشرکین پر غلبہ جہاں ایمان والوں کے لیے خوشی کا باعث ہوگا وہ مشرکین کے حق میں عذاب خداوندی ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کی بھلائی کے لیے آگے توحید پر تیری عقلی دلیلیں ذکر کیں تاکہ مسئلہ خوب واضح ہوجائے مسلمانوں کی بھلائی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–19

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ وقوع قیامت کی عقلی دلیل ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَہُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْہِرُوْنَ۝ 18 حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–26

ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔ تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ ۔ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ۔ (الروم : 17، 18) (پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔ اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں، اور ( تسبیح کرو) عشاء کے وقت بھی، اور جس وقت تم ظہر کرتے ہو۔ ) توحید اور قانونِ مجازات کا تقاضا جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک اور ہر لحاظ سے یکتا ہے اور اس کے قانونِ مجازات کے تحت ہر انسان کو اس کی عدالت میں پیش ہونا اور جزاء و سزا سے گزرنا ہے۔ تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کا مؤثر ترین ذریعہ ” رب “ کے حضور نماز پڑھنا اور اس کا ثنا خواں رہنا ہے۔ کفار ” اللہ “ کی ذات کے منکر اور اس کے احکام اور ملاقات کو قولاً اور فعلاً جھٹلانے والے ہیں۔ جس وجہ سے جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ جہنم سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ پر سچا ایمان لایا جائے اور اس کے احکام کی تعمیل کی جائے جس کا عملی مظاہرہ یہ ہے کہ آدمی صبح، شام، سہ پہر اور ظہر کے وقت اپنے رب کو یاد کرے یہ اس لیے بھی لازم ہے کہ زمین کا ذرّہ ذرّہ اور آسمانوں کا چپہ چپہ اپنے رب کی حمد بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ گویا کہ انسان کے گردوپیش اور اوپر نیچے کا ماحول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اسی ہی کیلئے تعریف آسمانوں اور زمین میں ہے) یہ جملہ معترضہ ہے سمجھدارلوگ جو آسمان و زمین میں ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا چاہیے۔ نحو : فی السٰموٰت یہ الحمد سے حال ہے۔ وَعَشِیًّا (اور پچھلے پہر) ۔ اس میں صلاۃ العصر آگئی۔ نحو : اس کا عطف حین تمسون پر ہے۔ وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ (اور جب تم دوپہر کرتے ہو) اس میں صلاۃ الظھر آگئی۔ عرب کا محاورہ ہے۔ اظھر ای دخل فی وقت الظہر۔ وہ وقت ظہر میں داخل ہوا۔ اکثر مفسرین کا قول یہ ہے پانچوں نمازیں مکہ میں فرض ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔ـ” ولہ الحمد فی السموات والارض “ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ تمام باشندگان ارض وسماء اللہ کی حمد کرتے اور اسی کی عبادت کرتے ہیں ۔” وعشیا “ اور پچھلے پہر آخرنہار اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔” وحین تظھرون “ اور جب وہ دوپہر کے وقت میں داخل ہوتے ہوں یعنی سورج کی گرمی کا غلبہ ہوتا ہے یہ ظہرکا وقت ہے ۔ نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کیا پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن مجید میں کہیں ہے ؟ فرمایا ہاں۔ پھر یہی دونوں آیتیں پڑھ دیں اور فرمایا یہ آیت پانچوں نمازیں اور ان کے اوقات کو حاوی ہیں ۔ حضرت بوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے سبحان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–26

17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–19

آیت نمبر : 17-19 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام ‘ عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات ‘ پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

17 توحید خداوندی اور قانون مجازات کا تقاضا تسبیح خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم سب اللہ ہی کی تسبیح کرو ہر حال میں "۔ یعنی جب تم لوگوں کو اہل کفر و باطل اور اصحاب صدق و یقین کے ان دونوں گروہوں کا حال معلوم ہوگیا تو اللہ کی تسبیح و پاکی بیان کرتے رہا کرو کہ وہ تمہیں دوسرے گروہ سے بچا کر پہلے گروہ میں داخل فرما دے اور جبکہ یہ سب کچھ اللہ پاک ہی کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت مطلقہ کا فضل و کرم اور انعام و احسان ہے تو تسبیح و تقدیس اور حمد و ثنا کا مستحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو اللہ پاک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کے قانون عدل و مجازات کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اس وحدہ لاشریک کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرارومعارف خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–18

1 ۔ یعنی زمین و آسمان والوں کو اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہنا چاہیے۔ 2 ۔ پہلے مبدا و معاد میں اپنی عظمت کا ذکر فرمایا۔ اب ان اوقات میں اپنی تنزیہہ وتحمید کا حکم دیا کیونکہ ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت کا کامل ظہور ہوتا ہے اور تسبیح قلب و لسان اور جوارح تینوں سے ہوتی ہے اور نماز بھی تینوں قسم کی تسبیح پر مشتمل ہے۔ اس لئے علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہاں تسبیح سے مراد نماز پڑھنا ہے اور اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے۔ صبح سے فجر کی نماز مراد ہے اور شام (مساء) سے مغرب و عشا کی اور عشیا (سہ پہر) سے عصر اور دوپہر سے ظہر کی۔ (رازی، ابن کثیر) ان اوقات خمسہ میں عبادت و نماز کے اسرار و…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:18) ولہ الحمد فی السموت والارض یہ جملہ معطوف بھی ہوسکتا ہے اور اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے بمعنی اور (اس کی تسبیح میں یوں بھی کہو) اسی کے لئے ہیں ساری تعریفیں آسمانوں میں اور زمین میں۔ یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ وعشیاو۔ اس کا عطف حین تمسون یا حین تصبحون پر ہے ۔ بعد دوپہر۔ بقول امام اصفہانی رحمۃ اللہ کے زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ اہل لغت سے اس کے کئی معانی منقول ہیں :۔ (1) زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک۔ اسی لئے ظہر اور عصر کو صلوتا العشی بولتے ہیں۔ (2) دن کا پچھلا وقت۔ (3) زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ (4) نماز مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ وحین تظھرون اور جب تم دوپہر گرتے ہو۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–19

لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔ الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–27

منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔ (ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–19

ف 1: خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ جن چیزوں کو ہم انسداد کہتے ہیں ۔ ان کو اس طرح ترکیب دیتا ہے ۔ کہ ان میں تضاد بالکل دور ہوجاتا ہے ۔ اور بظاہر ناممکن چیزیں اس کی قدرت کاملہ سے واقعات کی صورت اختیار کرلیتی ہیں موت اور زندگی باہم بالضد ہیں ۔ مگر وہ مردوں کو جلاتا اور زندوں کو موت کی آغوش میں دے دیتا ہے ۔ اسی طرح مٹی ایک بےجان چیز ہے ، مگر وہ اسی بےجان شئے سے انگوریاں پیدا کرتا ہے ۔ جو انسانی زندگی کا ایک عنصر ثابت ہوتی ہے ۔ حل لغات :۔ یحی الاراض ۔ فجا ہے عرض یہ ہے کہ زمین جب خشک ہوجاتی ہے تو اللہ باران رحمت سے اس کو تازہ بنا دیتا ہے السنتکم بصنہ ۔ تبع السباق کسی زبان ۔ الولیقکف ۔ ملوعان لین کی جمع ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18۔ اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی تعریف اور حمد وثناء ہوتی ہے اور تم سہ پہر اور دوپہر کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور اسی کی خوبی ہے آسمان اور زمین میں اور پچھلے وقت اور جب دوپہر ہو یعنی آسمان و زمین میں اسی کی حمد وثناء اور اسی کی تعریف کا چرچا ہے خواہ زبان حال سے ہو یا زبان قال سے ہو اور تم لوگ پچھلے پہر اور دوپہر یعنی ظہر اور عصر کی نماز پڑھا کرو ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے ان آیات سے نماز اوقات بتائے ہیں اور فرمایا ہے ان آیات سے پانچ وقت کی نماز ثابت ہوتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پاک اللہ کو یاد کرو اور اس کیخوبی آسمان و زمین میں ہو رہی ہے ان چار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

ف 2۔ یعنی آسمان میں فرشتے اور زمین میں بعض اختیارا اور بعض اضطرارا اس کی حمدو ثنا کرتے ہیں، پس جب وہ ایسا محمود الصفات کامل الذات ہے تو تم کو بھی ضرور اس کی تسبیح کرنا چاہئے۔ 3۔ اس لئے کہ یہ اوقات تجدد نعمت و زیادت ظہور آثار قدرت کے ہیں، ان میں تجدید تسبیح کی مناسب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمان و زمین میں حمد کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے : 18۔ جس طرح اصل تسبیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نقائص سے جو لوگوں نے خوش فہمی اور کم عقلی کی بنا پر اس کی طرف منسوب کردیئے ہیں پاک وصاف بیان کیا جائے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا اس طرح اصل تحمید یہ ہے کہ اس کے کمالات کو ظاہر کیا جائے اور اس کی صفات کو واضح طور پر بیان کیا جائے ، جس طرح کے کمالات کے بیان کرنے کی وقت ضرورت محسوس کرے اس طرح کے کمالات کا بیان کرنا ہی ضروری ہے ، یہ کس طرح ممکن ہے ؟ اس طرح کہ دنیا میں جتنے علوم رائج ہوتے جا رہے ہیں ان سب علوم کو مسلمان بڑھ چڑھ کر حاصل کریں گے اور جن کمالات کے بیان کرنے کی جہاں ضرورت پیش آئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُ‌ونَ So, proclaim Allah's purity when you see the evening and when you see the morning. And to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you enter the time of Zuhr (soon after the decline of the sun towards West). (30:17-18) The word 'subhan' (سُبْحَانَ ) is an infinitive which means 'to declare the purity of someone from defects'. The phrase 'subhanallah' (فَسُبْحَانَ اللَّـهِ ) is meant to proclaim Allah's purity from all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 This verse clearly points to the times of the Fajr (morning), Maghrib (evening). 'Asr (late afternoon) and the Zuhr (early afternoon) Prayers. Besides this, the other allusions made to the times of the Prayer in the Qur'an are as follows: "Establish the Salat from the declining of the sun to the darkness of the night, and be particular about the recital of the Qur'an at dawn." (Bani Isra'il 78) "Establish the ,Salat at the two ends of the day and in the early part of the night." (Hud: 114). "And glorify your Lord with His praise before the rising of the sun and before its setting, and…

Read the full tafseer →