Explained with ayahs 17–19
خالق کل مقتدر کل ہے
اس رب تعالیٰ کا کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کا جملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد وثنا وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گذرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پوری اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت…
Read the full tafseer →سورة الروم 22
یہ " پس " اس معنی میں ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہوگیا کہ ایمان و عمل صالح کا انجام وہ کچھ اور کفر و تکذیب کا انجام یہ کچھ ہے تو تمہیں یہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ نیز یہ " پس " اس معنی میں بھی ہے کہ مشرکین و کفار حیات اخروی کو ناممکن قرار دے کر اللہ تعالیٰ کو دراصل عاجز و درماندہ قرار دے رہے ہیں۔ لہذا تم اس کے مقابلہ میں اللہ کی تسبیح کرو اور اس کمزوری سے اس کے پاک ہونے کا اعلان کرو۔ اس ارشاد کے مخاطب نبی ﷺ اور آپ کے واسطے سے تمام اہل ایمان ہیں۔
سورة الروم 23
اللہ کی تسبیح کرنے سے مراد ان تمام عیوب اور نقائص اور کمزوریوں سے، جو مشرکین اپنے شرک اور انکار آخرت سے اللہ کی طرف منسوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ، لفظ سـبْحٰنَ اللّٰهِ مصدر ہے، اس کا فعل محذوف ہے یعنی سبحوا اللہ سبحانا، حِيْنَ تُمْسُوْنَ ، یعنی جب تم شام کے وقت میں داخل ہو اور وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، یعنی جب تم پر صبح کا وقت آئے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ جملہ درمیان میں بطور دلیل کے لایا گیا ہے کہ صبح شام اللہ کی تسبیح اس لئے ضروری ہے کہ آسمان و زمین میں صرف وہی مستحق حمد ہے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی حمد کرنے میں مشغول ہیں اور جس طرح شروع آیت میں صبح شام کی تسبیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحوان، ولہ الحمد فی السموات والارض وعشیاء وحین تظھرون (17۔ 18)
اب یہ تقاضا بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی اس یکتائی اور اس کے قانونِ مجازات کا جس کا بیان اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو ہر ایک کا فرض ہے کہ صرف اللہ ہی کی تسبیح کرے شام و صبح اور عشا کے وقت اور ظہ رکے وقت۔
’ ولہ الحمد فی السموات والارض۔ ‘ یہ اوقاتِ تسبیح کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ بطور تنبیہ و تذکیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جا رہی ہے یہ کوئی بیگانہ دعوت نہیں ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16-1یعنی ہمیشہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں رہیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تسبیح کا یہ حکم اور حمد سابق فقرات و آیات میں بیان کردہ مشاہد قیامت کے بعد آتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل ایمان جنت کے ایک مخصوص باغ میں خوش و خرم ہوں گے۔ اور کافر اور جھٹلانے والے ، عذاب اور سزا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تو یہ تسبیح دراصل بطور نتیجہ یہاں لائی گئی ہے اور سابقہ مناظر قیامت دراصل اس مطالعہ کائنات کے لئے تمہید تھے کہ یہ وسیع کائنات اور اس کے نشیب و فرار ، نفس انسانی اور اس کی نفسیات و عجائبات اور اللہ کی یہ تخلیق اور اس کے اسرار و رموز یہ سب لایعنی نہیں ہیں۔ ان پر قیامت کے نتائج مرتب ہوں گے۔ پس سابقہ مناظر قیامت اور موجودہ مطالعہ کائنات کے اندر مکمل ربط و مناسبت ہے
یہاں تسبیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
4 یعنی جنت چاہتے ہو تو اللہ پاک کی یاد کرو جو دل، زبان اور اعضاء وجوارح سب سے ہوتی ہے۔ نماز میں تینوں قسم کی یاد جمع کردی گئی۔ اور اوقات فرض نماز کے یہ ہی ہیں جو آیت میں بیان ہوگے۔ یعنی صبح، شام، (جس میں مغرب و عشاء شامل ہیں) دن کے پچھلے وقت (عصر) اور دوپہر ڈھلنے کے بعد (ظہر) کی نمازیں ہیں ان اوقات میں حق تعالیٰ کی رحمت یا قدرت و عظمت کے آثار بہت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ آفتاب عالم اجسام میں سب سے بڑا روشن کرہ ہے جس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیض و تاثیر سے عالم اسباب میں شاید ہی کوئی مادی مخلوق مستشنٰی ہو (جیسا کہ ارض النجوم کے مصنف نے بہت شرح وبسط سے اس کو ثابت کیا ہے) اسی بناء پر سیارہ پرستوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ”
ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →14 یعنی مشرکین کے عقائد باطلہ سے اللہ کی تزیہہ بیان کرو۔ مشرکین اپنے عقائد باطلہ کی ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ اللہ اکیلا اس ساری کائنات کا انتظام کیسے سنبھال سکتا ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ کچھ اختیارات دوسری ہستیوں کو تفویض کر دے۔ لہذا مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہ ایسے بیہودہ اور لچر عقائد سے اللہ کی پاکیزگی بیان کریں۔ اکثر مفسرین نے یہاں تسبیح سے مراد نماز لی ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ یہاں نمازوں کے اوقات بیان ہوئے ہیں۔ مشرکوں کی اکثریت ایسی ہری ہے جو انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات اور تاثیر کے قائل تھے۔ اور سورج کی تاثیر سے چونکہ تمام زمینی مخلوق متاثر ہوتی ہے۔ لہذا اسے معبود اکبر سمجھ کر…
Read the full tafseer →15۔ (دل سے بھی۔ جس کے اندر ایمان وتصدیق آگئی، اور زبان سے بھی جس کے اندر اقرار اور اذکارآگئے اور عمل سے بھی جس کے اندر ساری عبادتیں آگئیں، خصوصا نماز) (آیت) ” فسبحن اللہ “۔ صیغہ خبر کا ہے، لیکن معنی امر کے ہیں۔ اور سبحان قائم مقام سبحوا کا ہے۔ اخبار فی معنی الامر (بیضاوی) اے سبحوا اللہ تسبیحا (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیت نمبر 11 تا 19
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…
Read the full tafseer →فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو جیسی اس کے لئے زیبا ہے شام کے وقت اور صبح کے وقت
Read the full tafseer →سو تم مغرب و عشاء اور صبح کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیا کرو۔
Read the full tafseer →فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ : ”سُبْحَان اللّٰہِ“ فعل محذوف ”سَبِّحُوْا“ کا مفعول مطلق ہے۔ ”پس تم اللہ کی تسبیح کرو“ میں ”پس“ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم جان چکے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کا حال کیا ہوگا اور اللہ کی آیات کا انکار اور ان تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوگا، تو تم پر لازم ہے کہ جنت کے عالی شان باغوں میں جانے کے لیے اور عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔ اسے ہر شریک، ہر عیب اور ہر کمزوری سے پاک مانو۔ مشرکین و کفار اللہ کے شریک بنا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو قیامت قائم کرنے سے عاجز قرار دے رہے ہیں، تم ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا اعلان کرو اور اس کی تسبیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔
اس میں تین قول ہیں (1) ان اوقات میں عبادت کے امرا اور نماز پر برانگخیۃ کرنے کے ساتھ مومومنوں کو خطاب ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر ہے (2) آپ سے عرض کی گئی کہاں ؟ فرمایا اللہ کا فرمان ہے : اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ مراد صبح کی نماز ہے، عصر کی نماز، مراد ظہر کی نماز، یہ ضحاک اور سعید بن جبیر کا قول ہے : حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے : آیت میں چار نمازوں پر تنبیہ ہے مغرب، صبح، عصر اور ظہر، علماء نے کہا عشاء اور ایک اور آیت میں ہے۔ (ہود 114) اور پردہ کے اوقات میں ہے۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر کا کہنا ہے کہ یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ الفریابی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وقت میں سے ادنی وقت صبح اور شام کا ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت
2۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت نافع بن ازرق، ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا، کیا پانچوں نمازوں کو آپ قرآن میں پاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! تو یہ آیت تلاوت کی آیت فسبحن اللہ حین تمسون سے مراد ہے مغرب کی نماز آیت وحین تصبحون سے مراد ہے صبح کی نماز آیت وعشیا سے مراد ہے عصر کی نماز آیت وحین تظہرون سے مراد ہے ظہر کی…
Read the full tafseer →فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ [تو (بیان کرو) اللہ کی پاکیزگی ] حِيْنَ [جب ] تُمْسُوْنَ [تم لوگ شام کرتے ہو ] وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ [اور جب صبح کرتے ہو ] ۔
م س و
(ن) مسوا وعدہ کرکے دیر لگانا۔
(افعال) امساء شام میں داخل ہونا۔ یعنی شام کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
صبح و شام اور دن کے پچھلے اوقات میں اللہ کی تسبیح کرنے کا حکم
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا کہ شام کے وقت اور صبح کے وقت اور دن کے پچھلے اوقات میں اور ظہر کے وقت اللہ کی پاکی بیان کرو، اوقات مذکورہ میں اللہ کی تسبیح اور تنزیہ بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے درمیان میں یہ بھی فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ہے، یعنی آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں اور جو لوگ اہل کفر ہیں ان کا وجود ہی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کے لیے کافی ہے گو زبان سے اس کی حمد بیان نہ کرتے ہوں، جیسا کہ سورة النور میں فرمایا (اَلَمْ تَرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔
اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ابتدائے سورت سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ توحید کی وجہ سے تمہیں کفار پر غلبہ ضرور عطا کرے گا لہذا تم اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے پاک سمجھو اور پنج وقتہ نمازوں میں اس کی تسبیح و تقدیس بیان کرو۔ فسبحن اللہ اگرچہ لفظًا جملہ انشائیہ ہے کیونکہ اصل میں فسبحوا سبحانا تھا لیکن معنی خبریہ ہے بقرینہ ولہ الحمد لاخ اور مطلب یہ ہوگا کہ دلائل مذکورہ کی وجہ سے ان اوقات میں شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس ظاہر ہو رہی ہے یا یہ دونوں جملے ہی انشائیہ ہیں۔ فسبحن اللہ کا انشائیہ ہونا تو ظاہر ہے اور جملہ لہ الحمد اگرچہ لفظًا خبر ہے لیکن معنی انشاء ہے کیونکہ اس سے زمین و آسمان کے باسیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔
وقوع قیامت کی عقلی دلیل
ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…
Read the full tafseer →فَسُـبْحٰنَ اللہِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر
«1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة .
( س ب ح ) السبح
۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔
تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ ۔ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ۔ (الروم : 17، 18)
(پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔ اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں، اور ( تسبیح کرو) عشاء کے وقت بھی، اور جس وقت تم ظہر کرتے ہو۔ )
توحید اور قانونِ مجازات کا تقاضا
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک اور ہر لحاظ سے یکتا ہے اور اس کے قانونِ مجازات کے تحت ہر انسان کو اس کی عدالت میں پیش ہونا اور جزاء و سزا سے گزرنا ہے۔ تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کا مؤثر ترین ذریعہ ” رب “ کے حضور نماز پڑھنا اور اس کا ثنا خواں رہنا ہے۔
کفار ” اللہ “ کی ذات کے منکر اور اس کے احکام اور ملاقات کو قولاً اور فعلاً جھٹلانے والے ہیں۔ جس وجہ سے جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ جہنم سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ پر سچا ایمان لایا جائے اور اس کے احکام کی تعمیل کی جائے جس کا عملی مظاہرہ یہ ہے کہ آدمی صبح، شام، سہ پہر اور ظہر کے وقت اپنے رب کو یاد کرے یہ اس لیے بھی لازم ہے کہ زمین کا ذرّہ ذرّہ اور آسمانوں کا چپہ چپہ اپنے رب کی حمد بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ گویا کہ انسان کے گردوپیش اور اوپر نیچے کا ماحول…
Read the full tafseer →پانچوں نمازیں :
( علیہ السلام) 17: جب وعدے اور وعید کا ذکر کیا تو اس کے بعد ایسی چیز ذکر کی جو وعدے تک پہنچانے والی اور وعید سے محفوظ کرنے والی تھی۔ پس فرمایا۔ فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ (پس تم اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرو) اس سے مراد ظاہری تسبیح ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو عیب سے پاک قرار دینا ہے اور ان اوقات میں ان کی خیر سے تعریف کرنا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ظاہری نعمتوں کی تجدید ہوتی ہے۔ نمبر 2۔ نماز مراد ہے۔ ابن عباس ؓ سے سوال کیا گیا کیا پانچ نمازیں قرآن سے ثابت ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں اور یہ آیت تلاوت فرمائی یہ مصدر ہونے کی بناء پر منصوب ہے مطلب یہ ہے اس چیز سے پاک قرار دو جو اس کی…
Read the full tafseer →17۔” فسبحان اللہ “ اللہ کی پاکی بیان کرو معنی اس کا یہ ہے کہ اللہ کے لیے نماز اداکرو۔” حین تمسون “ جب تم شام کے وقت میں داخل ہو اور اس سے مراد نماز مغرب اور نماز عشاء ہے۔” وحین تصبحون “ یعنی تم داخل ہوجاؤصبح کے وقت اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیت نمبر : 17-19
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام ‘ عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات ‘ پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17 توحید خداوندی اور قانون مجازات کا تقاضا تسبیح خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم سب اللہ ہی کی تسبیح کرو ہر حال میں "۔ یعنی جب تم لوگوں کو اہل کفر و باطل اور اصحاب صدق و یقین کے ان دونوں گروہوں کا حال معلوم ہوگیا تو اللہ کی تسبیح و پاکی بیان کرتے رہا کرو کہ وہ تمہیں دوسرے گروہ سے بچا کر پہلے گروہ میں داخل فرما دے اور جبکہ یہ سب کچھ اللہ پاک ہی کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت مطلقہ کا فضل و کرم اور انعام و احسان ہے تو تسبیح و تقدیس اور حمد و ثنا کا مستحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو اللہ پاک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کے قانون عدل و مجازات کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اس وحدہ لاشریک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز
تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرارومعارف
خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔
اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
1 ۔ یعنی زمین و آسمان والوں کو اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہنا چاہیے۔ 2 ۔ پہلے مبدا و معاد میں اپنی عظمت کا ذکر فرمایا۔ اب ان اوقات میں اپنی تنزیہہ وتحمید کا حکم دیا کیونکہ ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت کا کامل ظہور ہوتا ہے اور تسبیح قلب و لسان اور جوارح تینوں سے ہوتی ہے اور نماز بھی تینوں قسم کی تسبیح پر مشتمل ہے۔ اس لئے علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہاں تسبیح سے مراد نماز پڑھنا ہے اور اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے۔ صبح سے فجر کی نماز مراد ہے اور شام (مساء) سے مغرب و عشا کی اور عشیا (سہ پہر) سے عصر اور دوپہر سے ظہر کی۔ (رازی، ابن کثیر) ان اوقات خمسہ میں عبادت و نماز کے اسرار و…
Read the full tafseer →(30:17) فسبحن اللہ :ترتیب کا ہے ماقبل پر مابعد کی ترتیب کے لئے۔ سبحان مدر ہے اور بوجہ مصدر منصوب ہے اس سے فعل نہیں آتا ۔ اس کی اضافت فعل مفرد کی طرف لازم ہے خواہ وہ اسم ظاہر ہو جیسے سبحان اللہ یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنہ یہ صرف خدا کی شان میں آتا ہے اور اس کے معنی ہیں پاکی بیان کرنا۔ آیت ہذا میں اس سے قبل فعل امر محذوف ہے ای فسبحوا سبحان اللہ پس تم تسبیح پڑھو سبحان اللہ (اس صورت میں سبحان اللہ کا نصب بوجہ امر کے بھی ہوسکتا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔
الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
خدا کی قدرت کے انمول اور منفر کرشمے دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح اور ہماری پاکی بیان کیا کرو، اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ آیت جامع ہے واسطے اوقات صلوۃ کے ، تصبحون سے فجر کی نماز اور تظہرون سے ظہر کی نماز اور عشیا سے عصر کی نمازی اور تمسون سے مغرب کی نماز اور عشاء کی نماز ہے یعنی پانچوں وقت تم ہماری تسبیح اور حمد وثنا کیا کرو، اس میں ہی تمہاری بہتری ہے ورنہ تمہارے لیے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں تم جانتے ہو اللہ کی قدرت کو، اس کی شان یہ ہے کہ بےجان چیز میں سے جاندار نکال کے موجود کردیتا ہے کسی کے خیال میں آتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔
Read the full tafseer →ف 2: یہ آیات مطلقاً اس بات پر دال نہیں ۔ کہ لیل ونہار کے ان مختلف اوقات میں تم لوگ اس کے مظاہر جلال وقدرت کو ملاحظہ کرو ۔ اور پھر اس کی تسبیح بیان کرو ۔ کہ اللہ تعالیٰ کس طرح رات کی تاریکی کو صبح کی روشنی میں بدل دیتا ہے ۔ اور کیونکر عشا اور ظہر میں حرارت اور روشنی کا تغاوت پیدا کردیتا ہے ۔ نمازوں کی تعین ان آیتوں میں نہیں ہے ۔
Read the full tafseer →17۔ سو تم لوگ جب شام کرو اور جب صبح کرو تو اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور پاک اللہ کو یاد کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو یعنی ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی پاکی بیان کیا کرو اور سب سے بہتر اس کی یاد اور پاکی نماز میں ادا ہوتی ہے تو مطلب یہ ہے کہ صبح ، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 2۔ یعنی آسمان میں فرشتے اور زمین میں بعض اختیارا اور بعض اضطرارا اس کی حمدو ثنا کرتے ہیں، پس جب وہ ایسا محمود الصفات کامل الذات ہے تو تم کو بھی ضرور اس کی تسبیح کرنا چاہئے۔
3۔ اس لئے کہ یہ اوقات تجدد نعمت و زیادت ظہور آثار قدرت کے ہیں، ان میں تجدید تسبیح کی مناسب ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم صبح ہو یا شام یعنی ہر وقت :
17۔ گزشتہ آیات میں ایمان وکفر کی مکمل وضاحت کردی گئی ہے اور دونوں کی پہچان بالکل آسان ہے یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں رہی کہ اسلام کیا ہے اور کفر کیا ہے ؟ ایمان کے دعوی کے بعد انسان پر کیا لازم آتا ہے اور کفر پر قائم رہنا کس چیز کا نام ہے تو اب اس وضاحت کے بعد مسلمان اور کافر کی پہچان بھی یقینا ہوجائے گی لہذا نسلی ایمان اور نسلی کفر کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایمان وکفر کی پہچان کے ساتھ نسل کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مشرکین و کفار شرک کے مرتکب ہو کر اور حیات اخروی کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کو عاجز و درماندہ ثابت کر رہے ہیں اور تم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ
So, proclaim Allah's purity when you see the evening and when you see the morning. And to Him be praise in the heavens and the earth, and in the afternoon and when you enter the time of Zuhr (soon after the decline of the sun towards West). (30:17-18)
The word 'subhan' (سُبْحَانَ ) is an infinitive which means 'to declare the purity of someone from defects'. The phrase 'subhanallah' (فَسُبْحَانَ اللَّـهِ ) is meant to proclaim Allah's purity from all…
Read the full tafseer →22 "So", here, implies: "When you have come to know the good results of belief and righteous acts and the evil consequences of disbelief and denial of the Truth, you should adopt the following conduct." It also means: "By holding the life Hereafter to be impossible, the polytheists and disbelievers are, in fact, holding AIIah to be helpless. Therefore, as against them, you should glorify Allah, and proclaim that He is free from this weakness." This Command has been addressed to the Holy Prophet and through him to all the believers.
23 "To glorify Allah" means to proclaim Allah's being free…
Read the full tafseer →