Ar-Room 30:16

Ar-Room · from ayah 16

30:16

وَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓىِٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۟وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآئِ الۡاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِى الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But as for those who disbelieved and denied Our verses and the meeting of the Hereafter, those will be brought into the punishment [to remain].

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:16

اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، تو ایسے لوگوں کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا وہ عذاب میں لادھرے (ڈال دیے) جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تو یہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رہ گئے وہ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ایسے لوگوں کو عذاب میں رکھا جائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رہے وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور انہوں نے جھٹلایا ہوگا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو تو ایسے لوگوں کو (پابجولاں) عذاب میں حاضر کیا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جن لوگوں نے کفر وتکذیب کی تھی ہماری نشانیوں سے اور آخرت کے پیش آنے سے سو وہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جنہوں نے کفر کیا، ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلا دیا وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who disbelieved and gave the lie to Our Signs and to the encounter of the Hereafter, they will be arraigned for chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who had disbelieved and rejected Our verses and the meeting of the Hereafter, they will be brought for punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who had disbelieved and rejected Our verses and the meeting of the Hereafter, they will be brought for punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And as for those who disbelieved and denied Our Ayat, and the meeting of the Hereafter, such shall be brought forth to the torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But as for those who disbelieved and denied Our revelations, and denied the meeting of the Hereafter, such will be brought to doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But as for those who disbelieved and denied Our verses and the meeting of the Hereafter, those will be brought into the punishment [to remain].

— Saheeh International

However, the disbelievers, who called Our revelations and the Day of Judgment lies, will be brought into torment.

— Muhammad Sarwar

And as to those who disbelieved and rejected Our communications and the meeting of the hereafter, these shall be brought over to the chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

And as for those who disbelieved and belied Our signs and the meeting of the Hereafter--these to the torment shall be brought.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who have rejected Faith and falsely denied our Signs and the meeting of the Hereafter,- such shall be brought forth to Punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–16

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 21 یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایمان کے ساتھ تو عمل صالح کا ذکر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ شاندار انجام نصیب ہوگا، لیکن کفر کا انجام بد بیان کرتے ہوئے عمل بد کا کوئی ذکر نہیں فرمایا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کفر بجائے خود آدمی کے انجام کو خراب کردینے کے لیے کافی ہے خواہ عمل کی خرابی اس کے ساتھ شامل ہو یا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

معارف و مسائل فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ ، يُّحْبَرُوْنَ حبور سے مشتق ہے جس کے معنی سرور اور خوشی کے ہیں اور اس لفظ کے عموم میں ہر طرح کا سرور داخل ہے جو نعمائے جنت سے اہل جنت کو حاصل ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کو یہاں بھی عام رکھا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ یہ ارشاد ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ یعنی کسی شخص کو دنیا میں معلوم نہیں کہ اس کے لئے جنت میں آنکھوں کی ٹھنڈک (اور راحت و سرور) کے کیا کیا سامان جمع ہیں۔ بعض مفسرین نے جو خاص خاص سرور کی چیزوں کو اس آیت کے تحت میں ذکر کیا ہے وہ سب اسی اجمال میں داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحجرون وا ما الذین کفروا وکذبو ابایتتنا ولقای الاخرۃ فاولئک فی العذاب معفسرون (14۔ 16) یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتحمند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’ بالحق ‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یو الفرقان نمایاں ہوگا اور اس دن نیک و بدر اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہوجائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–18

5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–16

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16) یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–18

4 یعنی جنت چاہتے ہو تو اللہ پاک کی یاد کرو جو دل، زبان اور اعضاء وجوارح سب سے ہوتی ہے۔ نماز میں تینوں قسم کی یاد جمع کردی گئی۔ اور اوقات فرض نماز کے یہ ہی ہیں جو آیت میں بیان ہوگے۔ یعنی صبح، شام، (جس میں مغرب و عشاء شامل ہیں) دن کے پچھلے وقت (عصر) اور دوپہر ڈھلنے کے بعد (ظہر) کی نمازیں ہیں ان اوقات میں حق تعالیٰ کی رحمت یا قدرت و عظمت کے آثار بہت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ آفتاب عالم اجسام میں سب سے بڑا روشن کرہ ہے جس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیض و تاثیر سے عالم اسباب میں شاید ہی کوئی مادی مخلوق مستشنٰی ہو (جیسا کہ ارض النجوم کے مصنف نے بہت شرح وبسط سے اس کو ثابت کیا ہے) اسی بناء پر سیارہ پرستوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–18

آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ” ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–16

13 اس دنیا میں گروہوں اور جماعتوں کی بنیاد یا قوم ہوتی ہے یا وطن یا رنگ یا زبان یا برادری یا مخصوص سیاسی عقائد وغیرہ لیکن قیامت میں ان کی گروہ بندی ان اصولوں کے مطابق ہوگی جو دین کے تقاضے ہیں۔ مثلاً اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندوں کی ایک ہی جماعت ہوگی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بستے ہوں البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کا الگ الگ گروہ ہو۔ قیامت کے منکروں کی الگ جماعت ہوگی، مشرکوں کی الگ، منافقوں کی الگ۔ نیز یہ گروہ بندی بعض جرائم کے لحاظ سے بھی ہوگی۔ جیسے زانیوں کی الگ، ڈاکوؤں کی الگ، متکبروں کی الگ وغیرذلک،۔ ان میں سے صرف پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور وہاں ان کی عزت و تکریم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

14۔ ایک بار پھر جامع الفاظ میں اس حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ جنت کا ترتب ایمان وعمل صالح پر ہوگا، اور عذاب جہنم کا کفر وتکذیب پر۔ (آیت) ” روضۃ “۔ کی تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے۔ عربی محاورہ میں جہاں کثرت یا عظمت کا اظہار منظور ہوتا ہے۔ اسم بجائے معرفہ کے نکرہ لاتے ہیں۔ کما یقال لفلان مال وجاہ اے کثیر وعظیم (کبیر) امام رازی (رح) نے یہاں دو نکتے اور لکھے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین کی جزائے خیر کا ذکر صیغہ فعل (آیت) ” یحبرون “۔ سے کیا ہے نہ کہ صیغہ اسم محبرون سے۔ بخلاف اس کے کافروں کے عذاب کا ذکر صیغہ اسم سے کیا ہے۔ اس میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ صیغہ فعل، تجدد فعل کی خبردیتا ہے۔ یعنی اہل جنت ہر وقت خوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واما الذین کفروا وکذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ فاولئک فی العذاب محضرون . اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا ‘ وہی لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ آخرت سے مراد ہے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا۔ مُحْضَرُوْنَ یعنی عذاب میں داخل کئے جائیں گے ‘ عذاب سے کبھی غیرحاضر نہیں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا تھا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا وہ لوگ دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا۔۔ : عذاب میں حاضر کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کریں گے، مگر فرشتے انھیں مارتے پیٹتے، باندھتے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لا حاضر کریں گے اور پھر وہ ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے، کبھی نکل نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ اس سے مراد بعث ہے۔ وہ عذاب میں مقیم رہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جمع ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ نازل ہوں گے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : احدکم الموت یہاں بھی موت نازل ہوگی، یہ ابن شجرہ کا قول ہے معنی قریب قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–16

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتب تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی اور ایسا افتراق ہوگا کہ اس کے بعد وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔ ل 2۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت یومئذ یتفرقون کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یعنی جنتی لوگ علیین میں ہوں گے اور یہ لوگ یعنی دوزخی لوگ اسفل السلافلین میں ہوں گے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے آیت فی روضۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جنت کے باغ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت فی روضۃ یحبرون کے بارے میں فرمایا کہ ان کی جنت میں عزت کی جائے گی 5۔ ابن جریر وابن المنذرنے ابن عباس ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَمَّا الَّذِيْنَ [اور وہ جو ہیں جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] وَكَذَّبُوْا [اور جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ہماری نشانیوں کو ] وَلِقَاۗئِ الْاٰخِرَةِ [اور آخرت کی ملاقات کو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [تو وہ لوگ ] فِي الْعَذَابِ [عذاب میں ] مُحْضَرُوْنَ [حاضر کئے ہوئے ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

قیامت کے دن مختلف جماعتیں ہوں گی، مومنین باغوں میں مسرور ہوں گے، مجرمین بدحال ہوں گے ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر جب سب مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ فرما دے گا اور یہ دوبارہ زندہ ہونا قیامت کے دن ہوگا، مرنے والے زندہ ہو کر اس دن حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس کے بعد مجرمین کی حالت بیان فرمائی کہ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ ناامید ہوجائیں گے، ان مجرموں میں مشرک بھی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں مخلوق کو عبادت میں اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے لیے سفارش کریں گے ان میں سے کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

15:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ابتدائے سورت سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ توحید کی وجہ سے تمہیں کفار پر غلبہ ضرور عطا کرے گا لہذا تم اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے پاک سمجھو اور پنج وقتہ نمازوں میں اس کی تسبیح و تقدیس بیان کرو۔ فسبحن اللہ اگرچہ لفظًا جملہ انشائیہ ہے کیونکہ اصل میں فسبحوا سبحانا تھا لیکن معنی خبریہ ہے بقرینہ ولہ الحمد لاخ اور مطلب یہ ہوگا کہ دلائل مذکورہ کی وجہ سے ان اوقات میں شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس ظاہر ہو رہی ہے یا یہ دونوں جملے ہی انشائیہ ہیں۔ فسبحن اللہ کا انشائیہ ہونا تو ظاہر ہے اور جملہ لہ الحمد اگرچہ لفظًا خبر ہے لیکن معنی انشاء ہے کیونکہ اس سے زمین و آسمان کے باسیوں کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–19

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ وقوع قیامت کی عقلی دلیل ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَاۗئِ الْاٰخِرَۃِ فَاُولٰۗىِٕكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ۝ 16 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–16

ترکیب : یبلس المجرمون یسکتون متحرین آیسین یقال ناظرتہ فابلس اذا سکت و ایس من ان یحتج وکانوا بشرکائھم کفرین ای یکفرون بالھتھم حین یئسوا منھم۔ وقیل کانوا فی الدنیا کافرین بسببھم، یوم کا ناصب یلبس، شفعاء جمیع شفیع اسم لم یکن ولہم خبر مقدم۔ من شرکائہم بیان لشفعاء، یوم یقوم کا عامل۔ یتفرقون یومئذ یوم کی تاکید، ولقاء الآخرۃ مصدر مضاف ہے، مفعول کی طرف یہ آیتنا پر معطوف تحت میں باجار کی مفعول ہے۔ کذبوا کا۔ تفسیر : اللہ یبد الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون یہاں سے معاد یعنی حشر شروع ہوتا ہے اور اس بات کو مدلل کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ مخلوق کو شروع سے پیدا کرتا ہے، یہ بات نہیں کہ پیدا کرکے فارغ ہوگیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

فَاَمَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ فِیْ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَلِقَآیِٔ الْاٰخِرَۃِ فَاُوْلٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۔ (الروم : 15) (پس جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے وہ ایک شاندار باغ میں مسرور ہوں گے۔ اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ ) آخرت میں انسانوں میں تقسیم قیامت میں انسانوں کی تقسیم کو ان دونوں آیات میں کھول کر بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہاں جب انسانوں کو الگ الگ ہونے کا حکم دیا جائے گا تو ان کی تقسیم کسی نسب، خون، رنگ یا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–16

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن نہ صرف عابد اپنے معبودوں کی عبادت کے انکاری ہوں گے بلکہ وہ ان سے اپنا دامن بھی بچالیں گے۔ قیامت کے دن عابد اپنے معبودوں سے الگ ہوجائیں گے۔ ان الفاظ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ دونوں کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے۔ 1 مشرک دنیا میں اپنے معبودوں کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر تعظیم کرتے ہیں۔ اس تعظیم میں ان کے سامنے مؤدّب ہو کر کھڑے ہونا، ہاتھ جوڑنا جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرونیاز پیش کرنا شامل ہے یہی تو عبادت ہے۔ جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ مگر اکثر مشرک اسے بزرگوں کی تعظیم کے طور پر اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے کرتے ہیں۔ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا وَلِقَآ یِٔ الْاٰخِرَۃِ (اور پھر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا) لقایٔ الآخرۃ سے بعث بعد الموت مراد ہے۔ فَاُولٰٓپکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ (وہ لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے) اقامت پذیر ہونگے اور اس سے غائب نہ ہونگے اور نہ ان سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : وما ھم بخارجین منھا ] المائدہ : 37[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16” واما الذین کفروا وکذبوا بایاتنا والقاء الا خرۃ “ آخرت سے مراد قبروں سے زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔” فاولنک فی العذاب محضرون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–16

14 تا 16۔ جس طرح دنیا میں نیک و بدسب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اسی طرح حشر میں حساب و کتاب تک تو سب نیک و بد ایک ہی جگہ ہوں گے پھر بغیر حساب و کتاب کے ستر ہزار آدمی امت محمد ﷺ یہ میں کے جنت میں داخل ہوں گے جس کا ذکر صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس کے بعد حساب و کتاب ہوگا اور حساب و کتاب کہ بعد جو لوگ جنت میں داخل ہونے کے قابل ہوں گے وہ جنت میں اور جو لوگ دوزخ میں جانے کے قابل ہوں گے وہ دوزخ میں چلے جاویں گے اس کے بعد وہ گنہگار لوگ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان سے انبیاء اور ملائکہ اور نیک لوگوں کی شفاعت سے دوزخ میں سے نکالے جا کر جنت میں داخل کئے جاویں گے پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–16

آیت نمبر : 11-16 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے ‘ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا پھر نیکو کاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا : (ویوم تقوم الساعۃ) ” اور جس دن قیامت برپا ہوگی “ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز (یبلس المجرمون) ” گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔ “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے اس روز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

16 اہل کفر و باطل کی ذلت و بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور انہوں نے جھٹلایا ہوگا ہماری آیتوں اور آخرت کی پیشی کو "۔ سو ایسے لوگ اس طرح پکڑے اور جکڑے ہوئے دوزخ میں ڈالے جائیں گے کہ ان کیلئے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ " َای مُدْخَلُوْنَ فِیْہِ لَا یَغِیْبُوْنَ عَنْہَ " ۔ (المراغی) سو { محضرون } کے اس لفظ سے اہل کفر و باطل کی ذلت و رسوائی اور ان کی بےبسی و لاچاری کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ ان کو پکڑ اور جکڑ کر اس طرح لایا جائے گا جس طرح سنگین مجرموں کو لایا جاتا ہے۔ جس سے ان کی انتہائی تذلیل و تحقیر بھی ہوگی اور پھر وہاں کی پکڑ اور جکڑ کی تو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرارومعارف خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–18

1 ۔ یعنی زمین و آسمان والوں کو اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہنا چاہیے۔ 2 ۔ پہلے مبدا و معاد میں اپنی عظمت کا ذکر فرمایا۔ اب ان اوقات میں اپنی تنزیہہ وتحمید کا حکم دیا کیونکہ ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت کا کامل ظہور ہوتا ہے اور تسبیح قلب و لسان اور جوارح تینوں سے ہوتی ہے اور نماز بھی تینوں قسم کی تسبیح پر مشتمل ہے۔ اس لئے علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہاں تسبیح سے مراد نماز پڑھنا ہے اور اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے۔ صبح سے فجر کی نماز مراد ہے اور شام (مساء) سے مغرب و عشا کی اور عشیا (سہ پہر) سے عصر اور دوپہر سے ظہر کی۔ (رازی، ابن کثیر) ان اوقات خمسہ میں عبادت و نماز کے اسرار و…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:16) محضرون۔ اسم مفعول جمع مذکر احصضار (افعال) مصدر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ ضیاء القرآن میں ہے :۔ علامہ ابن منظور لسان العرب میں اس (لفظ محضرون) کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :۔ الحاضر القوم النزول علی ماء یقیمون بہ ولا یرحلون عنہ یعنی وہ قوم جو کسی چشمہ پر اقامت گزیں ہوجائے اور وہاں سے کوچ کرنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتی ہو۔ اسے اہل عرب الحاضر کہتے ہیں۔ آیت میں بھی المحضرون کا یہی معنی ہے کہ انہیں عذاب جہنم میں مبتلا کردیا جائے گا نہ اس کی میعاد ختم ہوگی اور نہ وہ کسی حیلہ سے وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے پر قادر ہوں گے ! یعنی ہمیشہ ہمیشہ اس میں مبتلا رہیں گے۔ اسی لئے علامہ قرطبی نے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–19

لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔ الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–17

خدا کی قدرت کے انمول اور منفر کرشمے دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح اور ہماری پاکی بیان کیا کرو، اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ آیت جامع ہے واسطے اوقات صلوۃ کے ، تصبحون سے فجر کی نماز اور تظہرون سے ظہر کی نماز اور عشیا سے عصر کی نمازی اور تمسون سے مغرب کی نماز اور عشاء کی نماز ہے یعنی پانچوں وقت تم ہماری تسبیح اور حمد وثنا کیا کرو، اس میں ہی تمہاری بہتری ہے ورنہ تمہارے لیے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں تم جانتے ہو اللہ کی قدرت کو، اس کی شان یہ ہے کہ بےجان چیز میں سے جاندار نکال کے موجود کردیتا ہے کسی کے خیال میں آتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

بہترین زاویہ نگاہ 1: قیامت کے دن تمام لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز پیدا کردیا جائے گا ۔ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبول کیا تھا ۔ اور ہمیشہ اعمال صالحہ کے لئے کوشاں رہے تھے جنات نعم میں شالواں فرحاں پھر ینگے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ۔ اور خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا ۔ آخرت کا خوف دل سے نکال دیا ۔ اور بالکل سرکش ہوگئے ۔ یہ جہنم کے عذاب میں پڑے دکھ اٹھائیں گے ۔ بات یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ممکن ہے ۔ کہ جرائم پیشہ لوگ قانون اور عدالت کی نگاہوں سے پوشیدہ رہیں ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ عوام کی نگاہوں میں نیک اور پارسا ہوں ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دے سکیں اور مکافات عمل کے ہمہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

16۔ اور جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کر رکھی تھی اور کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کی اور آخرت کے پیش آنے کی تکذیب کی تھی تو یہ لوگ عذاب میں گرفتارہوں گے اور عذاب میں حاضر کئے جائیں گے یعنی کفر کے خوگر رہے اور آیات الٰہی اور قیامت کے ملنے اور پیش آنے کے جھٹلاتے رہے تو یہ لوگ عذاب میں مجرموں کی طرح گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفر کرنے والے اور جھٹلانے والے عذاب الہی میں گرفتار ہوں گے : 16۔ قرآن کریم کا انداز بیان بھی بہت عجیب ہے کہ وہ دراصل بغیر کسی بحث وتمحیث کے بات ہی ایسے رنگ میں کرتا ہے کہ اس کی حقیقت خود بخود عیاں ہوجاتی ہے ، غور کرو کہ اس جگہ بھی اور بہت جگہ بھی اور بہت سی دوسری جگہوں پر بھی جہاں ایمان لانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے تو ساتھ ہی ان کے اچھے اعمال کا ذکر بھی آگیا ہے ۔ (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” اما الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ اور پھر جب کفار کا ذکر کیا تو ان کے کفر ہی کا فقط ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

Commentary فَهُمْ فِي رَ‌وْضَةٍ يُحْبَرُ‌ونَ (They will be in a garden, extremely delighted - 30:15). Yuhbarun (يُحْبَرُ‌ونَ ) is derived from hubur, (حَبُور)which means happiness, joy, or delight. This word encompasses all types of delight, which the dwellers of paradise will draw from the bounties of Paradise. The Holy Qur'an has not specified this, and has rather kept it generalized. At another place it is said فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّ‌ةِ أَعْيُنٍ (32:17) that is, ` no one knows in this world what delight and joy is in store for them (the people of Paradise) in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 One thing here is noteworthy. "Good works" have been mentioned as a necessary adjunct of the "faith", which will earn one the blissful Garden, but no mention has been made of the "evil acts" while mentioning the evil end of "disbelief . This clearly indicates that disbelief by itself is enough to mar the destiny of a person, whether it is accompanied by the evil act or not.

Read the full tafseer →