Ar-Room 30:15

Ar-Room · from ayah 15

30:15

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ ۟فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمۡ فِىۡ رَوۡضَةٍ يُّحۡبَرُوۡنَ‏

تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ (بہشت کے) باغ میں خوش حال ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as for those who had believed and done righteous deeds, they will be in a garden [of Paradise], delighted.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:15

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ (بہشت کے) باغ میں خوش حال ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو ایمان ﻻکر نیک اعمال کرتے رہے وه تو جنت میں خوش وخرم کر دیئے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، ان کو تو جنت میں ایسی خوشیاں دی جائیں گی جو ان کے چہروں سے پھوٹی پڑ رہی ہوں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو وہ باغاتِ جنت میں خوش حال و مسرور کر دیئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ عالی شان باغ میں خوش و خرم رکھے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ تو جنت کے باغیچوں میں شاداں و فرحان ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے وہ تو ایک شاندار باغ میں مسرور ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جو ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے تو وہ ایک عظیم الشان اور (بےمثل) باغ میں شاداں وفرحاں ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک عمل کئے تھے سو وہ باغ میں مسرور ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جو لوگ ایمان لائے تھے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تھے وہ ایک باغ میں مسرور کیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغ میں خوش حال ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then those who believed and acted righteously will be placed in a Garden and will be happy and jubilant.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, those who had believed and had done righteous deeds__they will be in a garden, extremely delighted.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, those who had believed and had done righteous deeds__they will be in a garden, extremely delighted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then as for those who believed and did righteous good deeds, such shall be honored and made to enjoy a luxurious life in a Garden of Delight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for those who believed and did good works, they will be made happy in a Garden.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as for those who had believed and done righteous deeds, they will be in a garden [of Paradise], delighted.

— Saheeh International

The righteously striving believers will happily live in paradise.

— Muhammad Sarwar

Then as to those who believed and did good, they shall be made happy in a garden.

— Muhammad Habib Shakir

Then as for those who believed and worked righteous works, they shall be in a meadow made happy.

— Abdul Majid Daryabadi

Then those who have believed and worked righteous deeds, shall be made happy in a Mead of Delight.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–16

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 19 " ایک باغ " کا لفظ یہاں اس باغ کی عظمت و شان کا تصور دلانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی طرح اردو میں بھی یہ انداز بیان اس غرض کے لیے معروف ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی کو ایک بڑا اہم کام کرنے کو کہے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ تم نے یہ کام اگر کردیا تو میں تمہیں " ایک چیز " دوں گا، تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ چیز عدد کے لحاظ سے ایک ہوگی، بلکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے انعام میں تم کو ایک بڑی قیمتی چیز دوں گا جسے پا کر تم نہال ہوجاؤ گے۔ سورة الروم 20 اصل میں لفظ يّحْبَرُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے مفہوم میں مسرت، لذت، شان و شوکت اور تکریم کے تصورات شامل ہیں۔ یعنی وہاں بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

معارف و مسائل فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ ، يُّحْبَرُوْنَ حبور سے مشتق ہے جس کے معنی سرور اور خوشی کے ہیں اور اس لفظ کے عموم میں ہر طرح کا سرور داخل ہے جو نعمائے جنت سے اہل جنت کو حاصل ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کو یہاں بھی عام رکھا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ یہ ارشاد ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ یعنی کسی شخص کو دنیا میں معلوم نہیں کہ اس کے لئے جنت میں آنکھوں کی ٹھنڈک (اور راحت و سرور) کے کیا کیا سامان جمع ہیں۔ بعض مفسرین نے جو خاص خاص سرور کی چیزوں کو اس آیت کے تحت میں ذکر کیا ہے وہ سب اسی اجمال میں داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحجرون وا ما الذین کفروا وکذبو ابایتتنا ولقای الاخرۃ فاولئک فی العذاب معفسرون (14۔ 16) یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتحمند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’ بالحق ‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یو الفرقان نمایاں ہوگا اور اس دن نیک و بدر اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہوجائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15-1یعنی انھیں جنت میں اکرام و انعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مذید خوش ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–18

5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–16

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16) یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی انعام و اکرام سے نوازے جائیں گے اور ہر قسم کی لذت و سرور سے بہرہ اندوز ہوں گے۔ یہ نیکوں کا ٹھکانہ ہوا۔ آگے بدوں کی جگہ بتلائی ہے۔ مطلب یہ ہے، کہ دونوں میں ایسی تفریق اور جدائی کردی جائے گی جس سے بڑھ کر کوئی جدائی نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–18

آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ” ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–16

13 اس دنیا میں گروہوں اور جماعتوں کی بنیاد یا قوم ہوتی ہے یا وطن یا رنگ یا زبان یا برادری یا مخصوص سیاسی عقائد وغیرہ لیکن قیامت میں ان کی گروہ بندی ان اصولوں کے مطابق ہوگی جو دین کے تقاضے ہیں۔ مثلاً اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندوں کی ایک ہی جماعت ہوگی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بستے ہوں البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کا الگ الگ گروہ ہو۔ قیامت کے منکروں کی الگ جماعت ہوگی، مشرکوں کی الگ، منافقوں کی الگ۔ نیز یہ گروہ بندی بعض جرائم کے لحاظ سے بھی ہوگی۔ جیسے زانیوں کی الگ، ڈاکوؤں کی الگ، متکبروں کی الگ وغیرذلک،۔ ان میں سے صرف پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور وہاں ان کی عزت و تکریم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

14۔ ایک بار پھر جامع الفاظ میں اس حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ جنت کا ترتب ایمان وعمل صالح پر ہوگا، اور عذاب جہنم کا کفر وتکذیب پر۔ (آیت) ” روضۃ “۔ کی تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے۔ عربی محاورہ میں جہاں کثرت یا عظمت کا اظہار منظور ہوتا ہے۔ اسم بجائے معرفہ کے نکرہ لاتے ہیں۔ کما یقال لفلان مال وجاہ اے کثیر وعظیم (کبیر) امام رازی (رح) نے یہاں دو نکتے اور لکھے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین کی جزائے خیر کا ذکر صیغہ فعل (آیت) ” یحبرون “۔ سے کیا ہے نہ کہ صیغہ اسم محبرون سے۔ بخلاف اس کے کافروں کے عذاب کا ذکر صیغہ اسم سے کیا ہے۔ اس میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ صیغہ فعل، تجدد فعل کی خبردیتا ہے۔ یعنی اہل جنت ہر وقت خوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحبرون . سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ باغ میں مسرور ہوں گے۔ فِیْ رَوْضَۃٍ یعنی جنت کے چمن میں جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور پھول کھلے ہوں گے۔ یُحْبَرُوْنَ کا ترجمہ حضرت ابن عباس نے کیا : ان کی عزت کی جائے گی۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : عیش میں ہوں گے۔ ابوعبیدہ نے کہا : وہ خوش ہوں گے۔ حَبرَۃٌ کا معنی ہے خوشی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حبرَۃٌ ہر اچھی نعمت کو کہتے ہیں اور تحبیر کا معنی ہے خوبصورت بنا دینا (آراستہ کرنا) ۔ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے : حَبرَۃٌ بفتح حاء نعمت اور خوش حالی۔ حَبرَۃٌ بکسر حاء نیز بفتح حاء خوبصورتی اور حسن شکل۔ صاحب قاموس نے بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ایک جماعت جنت میں جائے گی تو دوسری دوزخ میں چناچہ جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تھے وہ جن کے باغوں میں مسرور اور صاحب اعزاز ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : ”رَوْضَةٍ“ میں تنوین تعظیم اور تفخیم کے لیے ہے، عظیم اور عالی شان باغ، مراد جنت ہے۔ ”يُّحْبَرُوْنَ“ ”حَبَرَہُ یَحْبُرُہُ“ جب کسی کو ایسا خوش کیا جائے کہ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھے اور ”تَحْبِیْرٌ“ مزین کرنا، چمکا دینا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ عظیم اور عالی شان باغ یعنی جنت میں خوش کیے جائیں گے، انھیں کھانے پینے، رہنے اور دوستوں، بیویوں اور دل میں آنے والی ہر خواہش پوری ہونے کی خوشی عطا کی جائے گی اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی زیارت کی خوشی نصیب ہوگی، جس سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ اس سے مراد بعث ہے۔ وہ عذاب میں مقیم رہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جمع ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ نازل ہوں گے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : احدکم الموت یہاں بھی موت نازل ہوگی، یہ ابن شجرہ کا قول ہے معنی قریب قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–16

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتب تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی اور ایسا افتراق ہوگا کہ اس کے بعد وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔ ل 2۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت یومئذ یتفرقون کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یعنی جنتی لوگ علیین میں ہوں گے اور یہ لوگ یعنی دوزخی لوگ اسفل السلافلین میں ہوں گے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے آیت فی روضۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جنت کے باغ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت فی روضۃ یحبرون کے بارے میں فرمایا کہ ان کی جنت میں عزت کی جائے گی 5۔ ابن جریر وابن المنذرنے ابن عباس ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَمَّا الَّذِيْنَ [تو وہ جو ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور انہوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] فَهُمْ [تو ان لوگوں کی ] فِيْ رَوْضَةٍ [ایک باغ میں ] يُّحْبَرُوْنَ [آؤ بھگت کی جائے گی ] ۔ ر و ض (ن) روضا کسی جگہ کا سرسبز و شاداب ہونا۔ باغ و بہار ہونا۔ روضۃ باغ ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

قیامت کے دن مختلف جماعتیں ہوں گی، مومنین باغوں میں مسرور ہوں گے، مجرمین بدحال ہوں گے ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر جب سب مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ فرما دے گا اور یہ دوبارہ زندہ ہونا قیامت کے دن ہوگا، مرنے والے زندہ ہو کر اس دن حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس کے بعد مجرمین کی حالت بیان فرمائی کہ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ ناامید ہوجائیں گے، ان مجرموں میں مشرک بھی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں مخلوق کو عبادت میں اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے لیے سفارش کریں گے ان میں سے کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

15:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ابتدائے سورت سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ توحید کی وجہ سے تمہیں کفار پر غلبہ ضرور عطا کرے گا لہذا تم اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے پاک سمجھو اور پنج وقتہ نمازوں میں اس کی تسبیح و تقدیس بیان کرو۔ فسبحن اللہ اگرچہ لفظًا جملہ انشائیہ ہے کیونکہ اصل میں فسبحوا سبحانا تھا لیکن معنی خبریہ ہے بقرینہ ولہ الحمد لاخ اور مطلب یہ ہوگا کہ دلائل مذکورہ کی وجہ سے ان اوقات میں شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس ظاہر ہو رہی ہے یا یہ دونوں جملے ہی انشائیہ ہیں۔ فسبحن اللہ کا انشائیہ ہونا تو ظاہر ہے اور جملہ لہ الحمد اگرچہ لفظًا خبر ہے لیکن معنی انشاء ہے کیونکہ اس سے زمین و آسمان کے باسیوں کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–19

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ وقوع قیامت کی عقلی دلیل ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ فِيْ رَوْضَۃٍ يُّحْبَرُوْنَ۝ 15 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–16

ترکیب : یبلس المجرمون یسکتون متحرین آیسین یقال ناظرتہ فابلس اذا سکت و ایس من ان یحتج وکانوا بشرکائھم کفرین ای یکفرون بالھتھم حین یئسوا منھم۔ وقیل کانوا فی الدنیا کافرین بسببھم، یوم کا ناصب یلبس، شفعاء جمیع شفیع اسم لم یکن ولہم خبر مقدم۔ من شرکائہم بیان لشفعاء، یوم یقوم کا عامل۔ یتفرقون یومئذ یوم کی تاکید، ولقاء الآخرۃ مصدر مضاف ہے، مفعول کی طرف یہ آیتنا پر معطوف تحت میں باجار کی مفعول ہے۔ کذبوا کا۔ تفسیر : اللہ یبد الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون یہاں سے معاد یعنی حشر شروع ہوتا ہے اور اس بات کو مدلل کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ مخلوق کو شروع سے پیدا کرتا ہے، یہ بات نہیں کہ پیدا کرکے فارغ ہوگیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

فَاَمَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ فِیْ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَلِقَآیِٔ الْاٰخِرَۃِ فَاُوْلٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۔ (الروم : 15) (پس جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے وہ ایک شاندار باغ میں مسرور ہوں گے۔ اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ ) آخرت میں انسانوں میں تقسیم قیامت میں انسانوں کی تقسیم کو ان دونوں آیات میں کھول کر بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہاں جب انسانوں کو الگ الگ ہونے کا حکم دیا جائے گا تو ان کی تقسیم کسی نسب، خون، رنگ یا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–16

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن نہ صرف عابد اپنے معبودوں کی عبادت کے انکاری ہوں گے بلکہ وہ ان سے اپنا دامن بھی بچالیں گے۔ قیامت کے دن عابد اپنے معبودوں سے الگ ہوجائیں گے۔ ان الفاظ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ دونوں کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے۔ 1 مشرک دنیا میں اپنے معبودوں کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر تعظیم کرتے ہیں۔ اس تعظیم میں ان کے سامنے مؤدّب ہو کر کھڑے ہونا، ہاتھ جوڑنا جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرونیاز پیش کرنا شامل ہے یہی تو عبادت ہے۔ جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ مگر اکثر مشرک اسے بزرگوں کی تعظیم کے طور پر اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے کرتے ہیں۔ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مومن کا اکرام ہوگا : 15: فَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ (پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے وہ باغات) فِیْ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوْْنَ (میں مزے لے رہے ہونگے) روضۃ باغ کو کہتے ہیں اس کو نکرہ لائے کیونکہ اس کا معاملہ مبہم ہے اور تنوین تفخیم شان کیلئے ہے یحبرون اتنا خوش ہونا جس سے چہرہ ٹمٹمانے لگے اور خوشی کا اثرچہرے پر نظر آئے۔ پھر اس میں اختلاف ہے کیونکہ خوشی کی وجوہ بہت ہیں۔ نمبر 1۔ ان کا اکرام کیا جائے گا۔ نمبر 2۔ زیور پہنائے جانا۔ نمبر 3۔ جنت میں سریلی آواز کا سننا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 15۔” فاما الذین آمنواوعملوا الصالحات فھم فی روضۃ “ یعنی جنت کے چمن میں جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور پھول کھلے ہوں گے۔” یحبرو و “ کا ترجمہ ابن عباس ؓ نے یہ کیا ہے کہ ان کی عزت کی جائے گی۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ وہ عیش میں ہوں گے۔ ابوعیدہ نے کہا کہ وہ خوش ہوں گے حبرہ کا معنی ہے خوشی یہ بھی کہا گیا ہے کہ حبرہ ہر اچھی نعمت کو کہتے ہیں اور تحبیرکا معنی یہ ہے کہ خوبصورت بنادینا۔ امام اوزاعی (رح) نے یحییٰ بن کثیر کا قول نقل کیا ہے کہ یحبرون جنت کے آسمان کا نام ہے ۔ اوزاعی کا بیان ہے کہ اسرافیل نہایت خوش آواز تھے ۔ جب وہ گانا شروع کرتا ہے تو ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کی نماز اور تسبیح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–16

14 تا 16۔ جس طرح دنیا میں نیک و بدسب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اسی طرح حشر میں حساب و کتاب تک تو سب نیک و بد ایک ہی جگہ ہوں گے پھر بغیر حساب و کتاب کے ستر ہزار آدمی امت محمد ﷺ یہ میں کے جنت میں داخل ہوں گے جس کا ذکر صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس کے بعد حساب و کتاب ہوگا اور حساب و کتاب کہ بعد جو لوگ جنت میں داخل ہونے کے قابل ہوں گے وہ جنت میں اور جو لوگ دوزخ میں جانے کے قابل ہوں گے وہ دوزخ میں چلے جاویں گے اس کے بعد وہ گنہگار لوگ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان سے انبیاء اور ملائکہ اور نیک لوگوں کی شفاعت سے دوزخ میں سے نکالے جا کر جنت میں داخل کئے جاویں گے پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–16

آیت نمبر : 11-16 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے ‘ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا پھر نیکو کاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا : (ویوم تقوم الساعۃ) ” اور جس دن قیامت برپا ہوگی “ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز (یبلس المجرمون) ” گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔ “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے اس روز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 اہل ایمان کیلئے عظیم الشان خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے ہوں گے وہ ایک عظیم الشان باغ میں شاداں وفرحاں ہوں گے "۔ " حبر " اور " حبور " دراصل اس خوشی کو کہا جاتا ہے جس کا اثر انسان کے چہرے بشرے پر ظاہر ہو ۔ " إذا سَرَّ سُرُوْرًا تَہَلَّلَ بِہٖ وَجْہُہ ‘ وَظَہَرَ فِیْہِ اَثَرُہ " ۔ (المراغی : ج 21 ص 32) ۔ سو اہل جنت کی خوشی ان کے چہروں بشروں پر ظاہر و ہویدا ہوگی اور ان کے چہرے چمک دمک رہے ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ " روضتہ " کی تنکیر و تنوین تعظیم شان کیلئے ہے۔ یعنی انکو وہاں عظیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرارومعارف خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ یعنی ان کی خوب خاطرداری اور مہمان نوازی ہوگی اور ہر لمحہ تازہ سرور حاصل ہوتا رہے گا۔ بعض نے لکھا ہے کہ ” یحبون “ کے معنی ہیں ” ان کو گیت اور نغموں سے لذت اندوز کیا جائے گا۔ بہرحال ” یحبون “ کا لفظ ہر قسم کی خوشی اور انعام و اکرام کو شامل ہے۔ (قرطبی۔ کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:15) روضۃ : الروض اصل میں اس زمین کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو اور سرسبز بھی ہو چناچہ کہا جاتا ہے اراض الوادی وادی میں پانی وافر ہوگیا۔ باغ و سبزہ زار کو روضۃ کہتے ہیں اس کی جمع ریاض ہے قرآن مجید میں روضت آئی ہے۔ مثلاً والذین امنوا وعملوا الصلحت فی روضت الجنت (42:22) روضت الجنت باغات کی پربہار جگہیں۔ یہاں روضہ سے مراد جنت ہے اور تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ یحبرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ حبر یحبر حبرا (باب نصر) مصدر۔ ان کو خوش کیا جائے گا۔ ان کی عزت کی جاوے گی۔ ان کو نعمتیں دی جائیں گی۔ الحبر وہ نشان جو عمدہ اور خوبصورت معلوم ہو چناچہ حدیث شریف میں ہے یخرج رجل من النار قد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–19

لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔ الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–17

خدا کی قدرت کے انمول اور منفر کرشمے دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح اور ہماری پاکی بیان کیا کرو، اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ آیت جامع ہے واسطے اوقات صلوۃ کے ، تصبحون سے فجر کی نماز اور تظہرون سے ظہر کی نماز اور عشیا سے عصر کی نمازی اور تمسون سے مغرب کی نماز اور عشاء کی نماز ہے یعنی پانچوں وقت تم ہماری تسبیح اور حمد وثنا کیا کرو، اس میں ہی تمہاری بہتری ہے ورنہ تمہارے لیے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں تم جانتے ہو اللہ کی قدرت کو، اس کی شان یہ ہے کہ بےجان چیز میں سے جاندار نکال کے موجود کردیتا ہے کسی کے خیال میں آتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

بہترین زاویہ نگاہ 1: قیامت کے دن تمام لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز پیدا کردیا جائے گا ۔ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبول کیا تھا ۔ اور ہمیشہ اعمال صالحہ کے لئے کوشاں رہے تھے جنات نعم میں شالواں فرحاں پھر ینگے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ۔ اور خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا ۔ آخرت کا خوف دل سے نکال دیا ۔ اور بالکل سرکش ہوگئے ۔ یہ جہنم کے عذاب میں پڑے دکھ اٹھائیں گے ۔ بات یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ممکن ہے ۔ کہ جرائم پیشہ لوگ قانون اور عدالت کی نگاہوں سے پوشیدہ رہیں ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ عوام کی نگاہوں میں نیک اور پارسا ہوں ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دے سکیں اور مکافات عمل کے ہمہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

15۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے تو وہ بہشت میں مسرور اور خوشحال ہو گے۔ یعنی ان کی خوب آئو بھگت ہوگی اور خاطر تواضع ہو رہی ہوگی ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان لانے والوں کو جنت کے بالاخانوں میں رکھا جائے گا اور وہ بہت خوش ہوں گے : 15۔ (یحبرون) کی اصل ح ب ر ہے اور حبر کے معنی زینت کرنے اور خوشی ومسرت کے آثار ظاہر ہونے کے ہیں ۔ یہ لفظ اس جگہ صرف ایک بار استعمال ہوا ہے اور سورة الزخرف میں ایک بار لفظ (تحبرون) کا استعمال ہوا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے نیک عمل بھی کئے وہ بلاشبہ اپنے اعمال کے نتائج حاصل کرنے سے ہماری مراد اس جگہ انعامات جنت ہیں جو جنتیوں کو پیش کئے جانے والے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

Commentary فَهُمْ فِي رَ‌وْضَةٍ يُحْبَرُ‌ونَ (They will be in a garden, extremely delighted - 30:15). Yuhbarun (يُحْبَرُ‌ونَ ) is derived from hubur, (حَبُور)which means happiness, joy, or delight. This word encompasses all types of delight, which the dwellers of paradise will draw from the bounties of Paradise. The Holy Qur'an has not specified this, and has rather kept it generalized. At another place it is said فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّ‌ةِ أَعْيُنٍ (32:17) that is, ` no one knows in this world what delight and joy is in store for them (the people of Paradise) in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19 "A Garden": A garden of bliss and perfect happiness as a reward and source of everlasting joy. 20 The word yuhbarun in the original implies this: "They will be lodged in it with honour, will remain happy and be provided with every kind of pleasure."

Read the full tafseer →