Ar-Room 30:14

Ar-Room · from ayah 14

30:14

وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىِٕذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ۟وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ يَوۡمَئِذٍ يَّتَفَرَّقُوۡنَ‏

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the Day the Hour appears - that Day they will become separated.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:14

جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس دن قیامت برپا ہوگی، اس روز لوگ مختلف قسموں میں بٹ جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگ (نفسا نفسی میں) الگ الگ ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن وہ الگ الگ ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن قیامت قائم ہوگی لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس دن قیامت واقع ہوگی مومن و کافر دونوں الگ الگ ہوجائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز لوگ (اپنے اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر) بٹ جائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز (سب لوگ) جداجدا ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day when the Hour will come to pass, people will be split into groups.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the day when the Hour (Qiyamah : the Day of Judgement)) will take place__it will be on that day that they will turn into separate groups.

— Muhammad Taqi Usmani

And the day when the Hour (Qiyamah : the Day of Judgement)) will take place__it will be on that day that they will turn into separate groups.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on the Day when the Hour will be established -- that Day shall they be separated.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In the day when the Hour cometh, in that day they will be sundered.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the Day the Hour appears - that Day they will become separated.

— Saheeh International

When that day comes, (people) will be separated from one another.

— Muhammad Sarwar

And at the time when the hour shall come, at that time they shall become separated one from the other.

— Muhammad Habib Shakir

On the Day whereon the Hour arriveth, that Day they shall be separated.

— Abdul Majid Daryabadi

On the Day that the Hour will be established,- that Day shall (all men) be sorted out.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–16

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 18 یعنی دنیا کی وہ تمام جتھ بندیاں جو آج قوم، نسل، وطن، زبان، قبیلہ و برادری، اور معاشی و سیاسی مفادات کی بنیاد پر بنی ہوئی ہیں، اس روز ٹوٹ جائیں گی، اور خالص عقیدے اور اخلاق و کردار کی بنیاد پر نئے سرے سے ایک دوسرے گروہ بندی ہوگی۔ ایک طرف نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی قوموں میں سے مومن و صالح انسان الگ چھانٹ لیے جائیں گے اور ان سب کا ایک گروہ ہوگا۔ دوسری طرف ایک ایک قسم کے گمراہانہ نظریات و عقائد رکھنے والے، اور ایک ایک قسم کے جرائم پیشہ لوگ اس عظیم الشان انسانی بھیڑ میں سے چھانٹ چھانٹ کر الگ نکال لیے جائیں گے اور ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھنا چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ خلق کو اول بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی اس کو پیدا کرے گا پھر (پیدا ہونے کے بعد) اس کے پاس (حساب کتاب کے لئے) لائے جاؤ گے اور جس روز قیامت قائم ہوگی (جس میں اعادہ مذکور ہونے والا ہے) اس روز مجرم (یعنی کافر) لوگ (باز پرس کے وقت) حیرت زدہ رہ جائیں گے (یعنی کوئی معقول بات ان سے نہ بن پڑے گی۔ اور ان کے (تراشے ہوئے) شریکوں میں سے (جن کو شریک عبادت بناتے تھے) ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا اور (اس وقت خود) یہ لوگ (بھی) اپنے شریکوں میں سے منکر ہوجائیں گے (کہ واللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) اور جس روز قیامت قائم ہوئی اس روز (علاوہ واقعہ مذکورہ کے ایک واقعہ یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحجرون وا ما الذین کفروا وکذبو ابایتتنا ولقای الاخرۃ فاولئک فی العذاب معفسرون (14۔ 16) یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتحمند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’ بالحق ‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یو الفرقان نمایاں ہوگا اور اس دن نیک و بدر اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہوجائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14-1اس سے مراد ہر فرد کا دوسرے فرد سے الگ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ مطلب مومنوں کا اور کافروں کا الگ الگ ہونا ہے اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے اور ان کے درمیان دائمی جدائی ہوجائے گی، یہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے یہ حساب کے بعد ہوگا۔ چناچہ اسی علیحدگی کی وضاحت اگلی آیات میں کی جارہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–18

5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–16

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16) یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی نیک و بد ہر قسم کے لوگ الگ کر دئیے جائیں گے اور علیحٰدہ علیحٰدہ اپنے ٹھکانہ پر پہنچا دیے جائیں گے۔ جس کی تفصیل اگلی آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَءِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ” بنی نوع انسان کی یہ تقسیم polarization کس بنیاد پر ہوگی ؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–16

13 اس دنیا میں گروہوں اور جماعتوں کی بنیاد یا قوم ہوتی ہے یا وطن یا رنگ یا زبان یا برادری یا مخصوص سیاسی عقائد وغیرہ لیکن قیامت میں ان کی گروہ بندی ان اصولوں کے مطابق ہوگی جو دین کے تقاضے ہیں۔ مثلاً اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندوں کی ایک ہی جماعت ہوگی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بستے ہوں البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کا الگ الگ گروہ ہو۔ قیامت کے منکروں کی الگ جماعت ہوگی، مشرکوں کی الگ، منافقوں کی الگ۔ نیز یہ گروہ بندی بعض جرائم کے لحاظ سے بھی ہوگی۔ جیسے زانیوں کی الگ، ڈاکوؤں کی الگ، متکبروں کی الگ وغیرذلک،۔ ان میں سے صرف پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور وہاں ان کی عزت و تکریم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون . اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز (لوگ) فریق فریق ہوجائیں گے۔ مقاتل نے کہا کہ حساب کے بعد فریق فریق ہوجائیں گے۔ مؤمنوں کو جنت کی طرف اور کافروں کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا ‘ پھر یہ دونوں فریق کبھی جمع نہیں ہوں گے۔ اس کی تفصیل اگلی آیت میں کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ : دنیا میں مومن و کافر اور موحد و مشرک اکٹھے رہ رہے ہیں، ان کے درمیان وطن، نسب، کاروبار، پیشے اور دوستی وغیرہ کے تعلقات بھی ہوتے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کے درمیان ایسی جدائی واقع ہوجائے گی کہ پھر کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے، چناچہ کہا جائے گا : (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ) [ یٰس : 59 ] ”اور الگ ہوجاؤ آج اے مجرمو !“ اور تمام اہل محشر دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، فرمایا : (فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ) [ الشورٰی : 7 ] ”ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ اس سے مراد بعث ہے۔ وہ عذاب میں مقیم رہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جمع ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ نازل ہوں گے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : احدکم الموت یہاں بھی موت نازل ہوگی، یہ ابن شجرہ کا قول ہے معنی قریب قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–16

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتب تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی اور ایسا افتراق ہوگا کہ اس کے بعد وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔ ل 2۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت یومئذ یتفرقون کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یعنی جنتی لوگ علیین میں ہوں گے اور یہ لوگ یعنی دوزخی لوگ اسفل السلافلین میں ہوں گے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے آیت فی روضۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جنت کے باغ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت فی روضۃ یحبرون کے بارے میں فرمایا کہ ان کی جنت میں عزت کی جائے گی 5۔ ابن جریر وابن المنذرنے ابن عباس ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ [اور جس دن برپا ہوگی قیامت ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] يَّتَفَرَّقُوْنَ [لوگ الگ الگ ہوجائیں گے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 14 ۔ میں فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ الگ الگ فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ یعنی دنیا کی تمام جتھ بندیاں جو آج قوم ، نسل، وطن، قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر بنی ہوئی ہیں، اس روز ٹوٹ جائیں گی اور خالص عقیدے اور کردار کی بنیاد پر نئے سرے سے ایک دوسری گروبندی ہوگی۔ ایک طرف نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی قوموں میں سے مومن و صالح انسان الگ چھانٹ لئے جائیں گے اور ان سب کا ایک گروہ ہوگا۔ دوسری طرف ایک ایک قسم کے گمراہانہ نظریات و عقائد رکھنے والے ، اور ایک ایک قسم کے جرائم پیشہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–14

(ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) پھر دنیاوی ہلاکت کے بعد موت کے بعد بھی برے کاموں میں لگنے والوں کا برا انجام ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ہی نہیں ان کا مذاق بھی اڑایا، ان کے اپنے اعمال ہی موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، قولہ تعالیٰ : ثم کان عاقبۃ الذین اسآؤا بنصب ” العاقبۃ “ واضافتہ الی الموصول ونصبھا علیٰ انھا خبر کان وقولہ تعالیٰ : ” السوء “ تانیث الاسوء کالحسنیٰ تانیث الاحسن، وھی مرفوعۃ علیٰ انھا اسم کان وھذا علی قرأۃ حفص ومن وافقہ وقرء الحرمیان وأبو عمرو ” عاقبۃ “ بالرفع علیٰ انہ اسم کان و ” السوء “ بالنصب علی الخبریۃ۔ اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ یہ قیامت کے دن مومنوں اور کافروں کے انجام کی تفصیل ہے۔ یتفرقون یعنی اہل جنت اور اہل جہنم جدا جدا ہوجائیں گے۔ ای یتمیز اھل الجنۃ من اھل النار (خازن و معالم ج 5 ص 169) ۔ فاما الذین امنوا الخ بشارت اخروی ہے اس میں ایمان والوں کے انجام کا ذکر ہے کہ وہ جنت میں انعام واکرام سے نوازے جائیں گے اور وہاں خوش و خرم رہیں گے۔ واما الذین کفروا الخ یہ تخویف اخروی ہے اس میں منکرین توحید اور جاحدین آخرت کا انجام مذکور ہے کہ وہ عذاب جہنم میں مبتلا کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–19

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ وقوع قیامت کی عقلی دلیل ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ۝ 14 ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ تَّفْرِيقُ ( فرقان) أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–16

ترکیب : یبلس المجرمون یسکتون متحرین آیسین یقال ناظرتہ فابلس اذا سکت و ایس من ان یحتج وکانوا بشرکائھم کفرین ای یکفرون بالھتھم حین یئسوا منھم۔ وقیل کانوا فی الدنیا کافرین بسببھم، یوم کا ناصب یلبس، شفعاء جمیع شفیع اسم لم یکن ولہم خبر مقدم۔ من شرکائہم بیان لشفعاء، یوم یقوم کا عامل۔ یتفرقون یومئذ یوم کی تاکید، ولقاء الآخرۃ مصدر مضاف ہے، مفعول کی طرف یہ آیتنا پر معطوف تحت میں باجار کی مفعول ہے۔ کذبوا کا۔ تفسیر : اللہ یبد الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون یہاں سے معاد یعنی حشر شروع ہوتا ہے اور اس بات کو مدلل کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ مخلوق کو شروع سے پیدا کرتا ہے، یہ بات نہیں کہ پیدا کرکے فارغ ہوگیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ۔ (الروم : 14) (اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن (سب انسان) الگ الگ ہوجائیں گے۔ ) ایک اہم حقیقت کا انکشاف اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یوں تو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کے ہر فرد کو ایسی صلاحیتوں اور خصوصیات سے نوازا ہے کہ وہ بجائے خود ایک ایسی مکمل اکائی ہے کہ جو اپنے ذاتی نظریات و اعمال کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔ اس کے اندر احساسات کی ایک دنیا آباد ہے، عقل کا فانوس روشن ہے، قوت ارادی موجود ہے جس نے اسے استقامت اور عزیمت کا راستہ دکھایا ہے۔ لیکن ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–16

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن نہ صرف عابد اپنے معبودوں کی عبادت کے انکاری ہوں گے بلکہ وہ ان سے اپنا دامن بھی بچالیں گے۔ قیامت کے دن عابد اپنے معبودوں سے الگ ہوجائیں گے۔ ان الفاظ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ دونوں کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے۔ 1 مشرک دنیا میں اپنے معبودوں کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر تعظیم کرتے ہیں۔ اس تعظیم میں ان کے سامنے مؤدّب ہو کر کھڑے ہونا، ہاتھ جوڑنا جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرونیاز پیش کرنا شامل ہے یہی تو عبادت ہے۔ جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ مگر اکثر مشرک اسے بزرگوں کی تعظیم کے طور پر اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے کرتے ہیں۔ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّا عَۃُ یَوْمَپذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ (اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن وہ سب منتشر ہوجائیں گے ) نحو : یتفرقون کی ضمیر کا مرجع مومن و کافر سب ہیں۔ اسلئے کہ مابعد اس پر دلالت کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14۔ ویوم تقوم الساعۃ یومئذیتفرقون “ یعنی اہل جنت کو اہل نار سے ممتاز کردیں گے۔ مقاتل کا بیان ہے وہ حساب وکتاب کے بعد جنت وجہنم کی طرف جداکیے جائیں گے۔ پھر وہ کبھی بھی آپس میں جمع نہیں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–16

14 تا 16۔ جس طرح دنیا میں نیک و بدسب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اسی طرح حشر میں حساب و کتاب تک تو سب نیک و بد ایک ہی جگہ ہوں گے پھر بغیر حساب و کتاب کے ستر ہزار آدمی امت محمد ﷺ یہ میں کے جنت میں داخل ہوں گے جس کا ذکر صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس کے بعد حساب و کتاب ہوگا اور حساب و کتاب کہ بعد جو لوگ جنت میں داخل ہونے کے قابل ہوں گے وہ جنت میں اور جو لوگ دوزخ میں جانے کے قابل ہوں گے وہ دوزخ میں چلے جاویں گے اس کے بعد وہ گنہگار لوگ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان سے انبیاء اور ملائکہ اور نیک لوگوں کی شفاعت سے دوزخ میں سے نکالے جا کر جنت میں داخل کئے جاویں گے پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–16

آیت نمبر : 11-16 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے ‘ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا پھر نیکو کاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا : (ویوم تقوم الساعۃ) ” اور جس دن قیامت برپا ہوگی “ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز (یبلس المجرمون) ” گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔ “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے اس روز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 قیامت کا دن فرق وتمیز کا دن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب لوگ بٹ جائیں گے۔ دنیا کے سب رشتے اس روز ٹوٹ جائیں گے اور اس کے بعد وہاں پر ایک نئی گروپ بندی ہوگی جو کہ کفر و ایمان، توحید و شرک اور تقویٰ و پرہیزگاری کی بنیاد پر قائم ہوگی۔ اور وہ آخری اور قطعی تقسیم ہوگی۔ اور ایسی قطعی اور دائمی کہ اس کے کے بعد وہ کبھی باہم ملنے نہ پائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ } (یسین : 59) ۔ نیز فرمایا گیا { اَلْاَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } (الزخرف : 67) نیز فرمایا گیا {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرارومعارف خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ فرقے یعنی گروہ، چناچہ ایک گروہ مومنوں کا ہوگا جو جنت میں جائے گا اور دوسرا کافروں، منافقوں اور مشرکوں کا جو ابدا ً جہنم میں جائے گا۔ فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر (شوریٰ :7) یہ حساب و کتاب مکمل ہوجانے کے بعد کی کیفیت ہے۔ چناچہ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ اس کے بعد یہ دونوں گروہ آپس میں کبھی نہ ملیں گے، چناچہ آگے اسی کی تفصیل آرہی ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:14) یتفرقون۔ مضارع جمع مذکر غائب تفرق (تفعل) مصدر ۔ وہ الگ ہوجائیں گے۔ یعنی مومن الگ۔ کافر الگ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–19

لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔ الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–14

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ کردیے جائیں گے پھر مومن اور کافر کبھی جمع نہ ہوں گے جس طرح دنیا میں نیک وبد سب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ اپنے ٹھکانے پر پہنچادیے جائیں گے یعنی جو لوگ جنتی ہیں جنت میں اور جو لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں چلے جائیں گے اس کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکل آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھی کوئی نیک کام نہ کیا، لپ بھر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اب دوزخ میں وہ لوگ رہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

بہترین زاویہ نگاہ 1: قیامت کے دن تمام لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز پیدا کردیا جائے گا ۔ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبول کیا تھا ۔ اور ہمیشہ اعمال صالحہ کے لئے کوشاں رہے تھے جنات نعم میں شالواں فرحاں پھر ینگے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ۔ اور خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا ۔ آخرت کا خوف دل سے نکال دیا ۔ اور بالکل سرکش ہوگئے ۔ یہ جہنم کے عذاب میں پڑے دکھ اٹھائیں گے ۔ بات یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ممکن ہے ۔ کہ جرائم پیشہ لوگ قانون اور عدالت کی نگاہوں سے پوشیدہ رہیں ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ عوام کی نگاہوں میں نیک اور پارسا ہوں ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دے سکیں اور مکافات عمل کے ہمہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن سب لوگ متفرق اور جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ابرار اور فجازیا اہل جنت اور اہل جہنم الگ الگ ہوجائیں گے آگے اسی کی تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب قیامت قائم ہوگی تو سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے : 14۔ قیامت کے حالات کا ذکر کس صفائی سے کیا جا رہا ہے اور جو کہا جا رہا ہے بلاشبہ اس کو اس طرح ہونا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں ایک ذرہ برابر بھی کمی بیشی ممکن نہیں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ دنیا کی تقسیم جو لوگوں نے قوم ‘ نسل ‘ قبیلہ ‘ برادری ‘ وطن ‘ زبان اور اس طرح کی دوسری تقسی میں کرلی ہیں سب کی سب ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائیں گی اور اس روز آدم سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک ساری امتوں میں سے جتنے نیک لوگ ہیں بلکہ ایمان لانے والے ہیں ان سب کو ملا کر ایک گروہ بنا دیا جائے گا اور باقی سب کی تقسیم بھی ان کے مشترکہ گناہوں کے بل پر کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–14

أَوَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ (Have they not travelled on earth - 30:9). It means that the Makkans live in a land where there is neither any cultivation and industry nor any tall and beautiful buildings, but for the sake of trade they do travel to Syria and Yemen. So, have they not seen, during the course of their trips, what was the fate of the earlier people, whom Allah Ta’ ala had endowed with skills to make use of the land? For instance, they had the skill to draw underground water by excavating the earth for irrigating fields and gardens, and dig out concealed precious minerals,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 That is, "All communities and groups that have been formed in the world on the basis of race, country, language, tribe and clan, and economic and political interests, will break, and the people will be re-grouped on the basis of true belief, morality and character. On the one hand, all the believing and righteous people will be separated froth all the nations of mankind and put in one group, and on the other, people professing every false ideology and committing every kind of crime in the world will be sorted out severally from the multitudes of mankind and put into separate groups. In…

Read the full tafseer →