Ar-Room 30:13

Ar-Room · from ayah 13

30:13

وَلَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىِٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَكَانُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ كٰفِرِیْنَ ۟وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعٰٓؤُا وَكَانُوۡا بِشُرَكَآئِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there will not be for them among their [alleged] partners any intercessors, and they will [then] be disbelievers in their partners.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:13

ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہوں نے جن کو اللہ کا شریک مان رکھا تھا، ان میں سے کوئی ان کا سفارشی نہیں ہوگا، اور خود یہ لوگ اپنے مانے ہوئے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے (خود ساختہ) شریکوں میں سے ان کے لئے سفارشی نہیں ہوں گے اور وہ (بالآخر) اپنے شریکوں کے (ہی) مُنکِر ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارش کرنے والے نہیں ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان کے شریکوں میں کوئی بھی ان کا سفارشی نہ بنے گا اور وہ خود بھی اپنے شریکوں کے منکر ہوجائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کے لئے سفارش کرنے والا نہیں بنے گا اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے (من گھڑت) شریکوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہیں بن سکے گا اور خود ہی اپنے ان شریکوں کے منکر ہوجائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے (گڑھے ہوئے) شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور یہ لوگ (خود) اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے ]

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں ہوں گے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی ان کے لیے سفارش کرنے والے اور وہ خود بھی اپنے شریکوں کا انکار کرنے والے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

None whom they had associated with Allah in His Divinity will intercede on their behalf; rather, they will disown those whom they had set up as Allah's associates in His Divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will have no intercessors from among their (so-called) _partners of Allah‘, and they themselves will reject their (such) _partners‘.

— Muhammad Taqi Usmani

They will have no intercessors from among their (so-called) _partners of Allah‘, and they themselves will reject their (such) _partners‘.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No intercessors will they have from those whom they made equal with Allah, and they will reject and deny their partners.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There will be none to intercede for them of those whom they made equal with Allah. And they will reject their partners (whom they ascribed unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there will not be for them among their [alleged] partners any intercessors, and they will [then] be disbelievers in their partners.

— Saheeh International

None of the idols will intercede for them and they will reject their idols.

— Muhammad Sarwar

And they shall not have any intercessors from among their gods they have joined with Allah, and they shall be deniers of their associate-gods.

— Muhammad Habib Shakir

And not from their associate-gods, there will be intercessors for them, and unto their associate-gods they will be unbelievers.

— Abdul Majid Daryabadi

No intercessor will they have among their "Partners" and they will (themselves) reject their "Partners".

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–16

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 16 شرکاء کا اطلاق تین قسم کی ہستیوں پر ہوتا ہے۔ ایک ملائکہ، انبیاء، اولیاء اور شہداء و صالحین جن کو مختلف زمانوں میں مشرکین نے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے کر ان کے آگے مراسم عبودیت انجام دیے ہیں۔ وہ قیامت کے روز صاف کہہ دیں گے کہ تم یہ سب کچھ ہماری مرضی کے بغیر، بلکہ ہماری تعلیم و ہدایت کے سراسر خلاف کرتے رہے ہو، اس لیے ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں، ہم سے کوئی امید نہ رکھو کہ ہم تمہاری شفاعت کے لیے خدائے بزرگ کے سامنے کچھ عرض معروض کریں گے۔ دوسری قسم ان اشیاء کی ہے جو بےشعور یا بےجان ہیں، جیسے چاند، سورج، سیارے، درخت، پتھر اور حیوانات وغیرہ۔ مشرکین نے ان کو خدا بنایا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ خلق کو اول بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی اس کو پیدا کرے گا پھر (پیدا ہونے کے بعد) اس کے پاس (حساب کتاب کے لئے) لائے جاؤ گے اور جس روز قیامت قائم ہوگی (جس میں اعادہ مذکور ہونے والا ہے) اس روز مجرم (یعنی کافر) لوگ (باز پرس کے وقت) حیرت زدہ رہ جائیں گے (یعنی کوئی معقول بات ان سے نہ بن پڑے گی۔ اور ان کے (تراشے ہوئے) شریکوں میں سے (جن کو شریک عبادت بناتے تھے) ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا اور (اس وقت خود) یہ لوگ (بھی) اپنے شریکوں میں سے منکر ہوجائیں گے (کہ واللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) اور جس روز قیامت قائم ہوئی اس روز (علاوہ واقعہ مذکورہ کے ایک واقعہ یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

ویوم تقوم الساعۃ یبلیس المجرمون ولم یکن تھم من شرکأ ئھم شفعوا کانوا بشرکائھم کفرین (12۔ 13) ’ ابلاس ‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچا ہو کر رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انہوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھرپوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔ ’ وکانو بشرکائھم کفسرین اور خود ان کا حال یہ ہوگا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورة قصص کی تفسیر میں ہم یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13-1شریکوں سے مراد معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہوگا ۔13-2یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہوجائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ تو کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کردیں گے کہ یہ لوگ انھیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بیخبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–18

5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–16

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16) یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 11–13

1 یعنی جن کو اللہ کا شریک بناتے تھے جب وقت پر کام نہ آئیں گے تو منکر ہو کر کہنے لگیں گے کہ " واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ " (خدا کی قسم ہم مشرک نہ تھے)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

آیت 13 وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ مِّنْ شُرَکَآءِہِمْ شُفَعٰٓؤُا وَکَانُوْا بِشُرَکَآءِہِمْ کٰفِرِیْنَ ” جب وہ دیکھیں گے کہ جن سے انہوں نے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کر رہے تو وہ ان کے منکر ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 دنیا میں جن چیزوں کو اللہ کا شریک سمجھاتا جاتا رہا ہے یا اس کی صفات و اختیارات میں شریک بنایا جاتارہا ہے ان کی تین ہی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ ایک بےجان اشیاء جیسے پتھر کے بت یا شمس و قمر اور ستارے یا دوسرے شجر و حجر۔ دوسرے ایسے جاندار جنہوں نے کبھی اپنی خدائی کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ جیسے ملائکہ، انبیائ، اولیاء اور صالحین۔ نیز بعض جاندار حیوانات، جیسے سانپ اور گائے وغیرہ۔ ان میں انبیاء اور صالحین تو ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو شرک سے سختی سے منع بھی کرتے رہے چہ جائیکہ وہ خود خدائی اختیارات کے طالب ہوں اور تیسرے وہ جاندار جو اپنی خدائی سے لوگوں سے منوانا چاہتے ہیں جیسے شیاطین، اللہ کے نافرمان بادشاہ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–19

آیت نمبر 11 تا 19 ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولم یکن لھم من شرکاءھم شفعوا . اور جن کو انہوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا۔ یعنی اللہ کی عبادت میں جن کو انہوں نے اس خیال سے شریک قرار دے لیا تھا کہ وہ معبود ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے تو (ان کا یہ خیال غلط نکلے گا اور) کوئی شریک بھی ان کی شفاعت نہیں کرے گا۔ چونکہ آنے والا یہ واقعہ یقینی ہے اس لئے بصیغۂ ماضی بیان کیا۔ وکانوا بشرکاءھم کفرین . اور وہ اپنے (بنائے ہوئے) شرکاء کے منکر ہوجائیں گے۔ یعنی شفاعت سے نراس ہوجائیں گے تو اپنے معبودوں کا انکار کردیں گے۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دنیا میں وہ اپنے ان شرکاء کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان بتوں کے پجاریوں کے لیے ان معبودوں میں سے ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا کہ عذاب الہی سے بچانے کے لیے ان کی سفارش کرے اور یہ لوگ خود بھی اپنے معبودوں کی پرستش سے منکر ہوجائیں گے۔ اور عرض کریں گے کہ اللہ کی قسم اے پروردگار ہم مشرک نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَاۗىِٕهِمْ شُفَعٰۗـــؤُا : یعنی مشرکین نے جن ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا رکھا تھا ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت نہیں کرے گی، کیونکہ اس دن نہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر سفارش کرسکے گا اور نہ کسی ایسے شخص کے حق میں سفارش ہو سکے گی جس کے لیے شفاعت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن نہ ہو۔ دیکھیے آیت الکرسی اور سورة طٰہٰ (109)۔ وَكَانُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ كٰفِرِيْنَ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (167) اور سورة انعام (22، 23)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

یعنی مومن کافروں سے جدا ہوجائیں گے پھر اس امر کی وضاحت کی کہ وہ کیسے جدا جدا ہوں گے فرمایا : نحاس نے کہا : میں نے زجاج کو کہتے ہوئے سنا : اما کا معنی ہے جس بحث میں ہم پڑے ہوئے ہیں اس کو چھوڑ دو اور کسی دوسری بات میں شروع ہو جائو سیبویہ نے اسی طرح کہا ہے : ضحاک نے کہا : روضہ سے مراد باغ ہے اور ریاض سے مرد باغات ہیں ابو عبید نے کہا : روضہ اسے کہتے ہیں جو نشیبی جگہ میں ہو جب وہ بلند جگہ ہو تو اسے ترعۃ کہتے ہیں ایک اور عالم نے کہا : بہترین روضہ وہ ہوتا ہے جو وہ بلند جگہ پر ہو۔ اعمش نے کہا : اونچی جگہ کے باغوں سے بڑھ کر کوئی باغیچہ جو گھاس والا ہو سرسبز و شاداب ہو جس پر موسلادھار بارش نے سخاوت کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–13

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔ 3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ [اور ان کے لئے نہیں ہوگا ] مِّنْ شُرَكَاۗىِٕهِمْ [ان کے شریکوں میں سے ] شُفَعٰۗـــؤُا [کوئی شفاعت کرنے والا ] وَكَانُوْا [اور وہ لوگ ہوجائیں گے ] بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ [اپنے شریکوں کا ] كٰفِرِيْنَ [انکار کرنے والے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–14

(ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) پھر دنیاوی ہلاکت کے بعد موت کے بعد بھی برے کاموں میں لگنے والوں کا برا انجام ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ہی نہیں ان کا مذاق بھی اڑایا، ان کے اپنے اعمال ہی موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، قولہ تعالیٰ : ثم کان عاقبۃ الذین اسآؤا بنصب ” العاقبۃ “ واضافتہ الی الموصول ونصبھا علیٰ انھا خبر کان وقولہ تعالیٰ : ” السوء “ تانیث الاسوء کالحسنیٰ تانیث الاحسن، وھی مرفوعۃ علیٰ انھا اسم کان وھذا علی قرأۃ حفص ومن وافقہ وقرء الحرمیان وأبو عمرو ” عاقبۃ “ بالرفع علیٰ انہ اسم کان و ” السوء “ بالنصب علی الخبریۃ۔ اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ قیامت کے دن جب مشرکین اپنے خود ساختہ سفارشیوں کی امداد سے مایوس ہو کر حقیقت حال پر آگاہ ہوجائیں گے تو معبودانِ باطلہ کی الوہیت کا انکار کریں گے۔ بشرکائہم کافرین ای بالہتہم و شرکتہم ھیث یئسوا منھم ووقفوا علی کنہ امرھم (روح ج 21 ص 25) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–19

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ وقوع قیامت کی عقلی دلیل ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمْ يَكُنْ لَّہُمْ مِّنْ شُرَكَاۗىِٕہِمْ شُفَعٰۗـؤُا وَكَانُوْا بِشُرَكَاۗىِٕہِمْ كٰفِرِيْنَ۝ 13 شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–16

ترکیب : یبلس المجرمون یسکتون متحرین آیسین یقال ناظرتہ فابلس اذا سکت و ایس من ان یحتج وکانوا بشرکائھم کفرین ای یکفرون بالھتھم حین یئسوا منھم۔ وقیل کانوا فی الدنیا کافرین بسببھم، یوم کا ناصب یلبس، شفعاء جمیع شفیع اسم لم یکن ولہم خبر مقدم۔ من شرکائہم بیان لشفعاء، یوم یقوم کا عامل۔ یتفرقون یومئذ یوم کی تاکید، ولقاء الآخرۃ مصدر مضاف ہے، مفعول کی طرف یہ آیتنا پر معطوف تحت میں باجار کی مفعول ہے۔ کذبوا کا۔ تفسیر : اللہ یبد الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون یہاں سے معاد یعنی حشر شروع ہوتا ہے اور اس بات کو مدلل کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ مخلوق کو شروع سے پیدا کرتا ہے، یہ بات نہیں کہ پیدا کرکے فارغ ہوگیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ مِّنْ شُرَکَآئِ ہِمْ شُفَعٰٓـؤُا وَکَانُوْا بِشُرَکَآئِ ہِمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (الروم : 13) (اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا، اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔ ) مشرکین کی مایوسی کا سبب مشرکین کی مایوسی کا سبب ایک یہ بھی ہوگا کہ جن شرکاء کی شفاعت کے بھروسے پر انھوں نے کبھی توحید کا راستہ اختیار نہ کیا اور جس نے بھی انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان اور عمل صالح کے بغیر بخشش کا کوئی ذریعہ نہیں۔ جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھ بیٹھے ہو اور تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے، وہ تو خود قیامت کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–13

فہم القرآن ربط کلام : کفار جس دن کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے حضور پیش کرے گا اور اس دن مشرکین کی یہ حالت ہوگی۔ قیامت کے بارے میں مشرک اس لیے لاپرواہی کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں رب تعالیٰ کا مقرب سمجھ کر پوجتا ہوں اور ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتا ہوں۔ وہ قیامت کے دن مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے کیونکہ یہ اس کے پیارے اور مقرب ہیں اسے لیے ان کی سفارش مسترد نہیں ہوگی۔ حالانکہ اس دن صورت حال اس قدر ہولناک ہوگی کہ جو لوگ دنیا میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ مرشد کے بغیر قیامت کے دن نجات نہ ہوگی اور مرید ہمارے جھنڈے تلے ہوں گے۔ جوں ہی اپنے مریدوں کو دیکھیں گے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ مِّنْ شُرَکَآ ئِ ھِمْ (اور ان کے شرکاء میں سے کوئی بھی نہ ہوگا) ان میں سے جن کی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سواء عبادت کی ہوگی اور ان کو سفارشی فرض کیا۔ شُفَعٰٓؤُا (سفارشی) کتابت ِقرآن میں یہ لفظ الف سے قبل وائو سے ہی لکھا جائے گا۔ جیسا کہ علمؤا بنی اسرائیل لکھا جاتا ہے۔ السوأی کا لفظ بھی یاء سے قبل الف کے ساتھ اس ہمزہ کو قائم رکھتے ہوئے اس حرف کی صورت میں جس سے اس کی حرکت ہے۔ وَکَانُوْا بِشُرَکَاپھِمْ کٰفِرِیْنَ (وہ اپنے شرکاء کے انکاری ہوجائیں گے) نمبر 1۔ وہ اپنے شرکاء کا شدت و قوت سے انکار کردیں گے۔ نمبر 2۔ دنیا میں وہ ان شرکاء کی وجہ سے کافر بنے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔” ولم یکن لھم من شرکائھم شفعاء وکانوابشرکائھم کافرین “ وہ منکرہوجائیں گے اور اپنے اعمال سے برأت اختیار کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–13

8 تا 12۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کریں کس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے اور اس فکر کے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غور کریں تو اچھی طرح جان لیں کہ یہ تمام مخلوق بےکار پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–16

آیت نمبر : 11-16 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے ‘ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا پھر نیکو کاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا : (ویوم تقوم الساعۃ) ” اور جس دن قیامت برپا ہوگی “ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز (یبلس المجرمون) ” گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔ “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے اس روز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 قیامت کے روز مشرکوں کے حال بد کا ذکر : سو اس سے قیامت کے دن مشرکوں کی مایوسی اور انکے اپنے شرکاء کے انکار کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انکے من گھڑت شریکوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہیں ہوگا "۔ اور ان کے ان من گھڑت سفارشیوں میں سے کوئی بھی ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ جن کی مدد و امداد اور حاجت روائی و مشکل کشائی کی یہ لوگ دنیا میں آس لگائے بیٹھے تھے کہ یہ ہمیں کافی ہیں۔ ہم جو چاہیں کریں۔ یہ ہمیں چھڑوا اور بخشوا دیں گے۔ ہم بس انہی کا لڑ پکڑے رہیں گے۔ انہی کو نذریں نیازیں دیتے رہیں گے اور بس۔ سو آج یہ لوگ اپنے جن خودساختہ اور من گھڑت سفارشیوں پر تکیہ کیے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–19

آیات 11 تا 19 اسرارومعارف خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ کیونکہ اس روز کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کسی دوسرے کی سفارش نہ کرسکے گا اور پھ سفارش کی بھی اسی کی کرسکے گا جس کی سفارش کی اجازت ملے گی۔ 6 ۔ کیونکہ اس وقت انہیں اپنے ان شریکوں کی حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ یہ نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اگر نفع پہنچا سکتے تو اس موقع پر ان کے ضرور کام آتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:13) لم یکن۔ مضارع نفی جحد بلم۔ اگرچہ مضارع کے ساتھ لم اسے ماضی منفی میں تبدیل کردیتا ہے لیکن یہاں اس کا استعمال تحقیق کے لئے آیا ہے۔ بمعنی تحقیق نہیں ہوں گے ان کے لئے ان کے شریکوں میں سے شفاعت کرنے والے۔ شرکائہم۔ مضاف مجاف الیہ۔ ان کے شریک۔ اصل میں مراد ہے ان کے وہ معبود ان باطل جن کو انہوں نے اللہ کا زریک ٹھہرایا ہوا تھا۔ لم یکن لہم من شرکائہم شفعؤا تحقیق ان کے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہوئے معبودوں میں سے ان کی شفاعت کرنے والے نہیں ہوں گے۔ یعنی کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا۔ بصورت فعل ماضی معنی یقین پیدا کر رہا ہے۔ وکانوا بشرکائہم کفرین۔ اس کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–19

لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔ الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–14

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ کردیے جائیں گے پھر مومن اور کافر کبھی جمع نہ ہوں گے جس طرح دنیا میں نیک وبد سب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ اپنے ٹھکانے پر پہنچادیے جائیں گے یعنی جو لوگ جنتی ہیں جنت میں اور جو لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں چلے جائیں گے اس کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکل آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھی کوئی نیک کام نہ کیا، لپ بھر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اب دوزخ میں وہ لوگ رہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

بہترین زاویہ نگاہ 1: قیامت کے دن تمام لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز پیدا کردیا جائے گا ۔ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبول کیا تھا ۔ اور ہمیشہ اعمال صالحہ کے لئے کوشاں رہے تھے جنات نعم میں شالواں فرحاں پھر ینگے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ۔ اور خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا ۔ آخرت کا خوف دل سے نکال دیا ۔ اور بالکل سرکش ہوگئے ۔ یہ جہنم کے عذاب میں پڑے دکھ اٹھائیں گے ۔ بات یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ممکن ہے ۔ کہ جرائم پیشہ لوگ قانون اور عدالت کی نگاہوں سے پوشیدہ رہیں ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ عوام کی نگاہوں میں نیک اور پارسا ہوں ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دے سکیں اور مکافات عمل کے ہمہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

13۔ اور ان کے خود ساختہ اور بنائے ہوئے شرکاء میں سے کوئی بھی ان کی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور یہ لوگ اپنے ان خود ساختہ شرکاء سے خود ہی منکر ہوجائیں گے اور انکار کردیں گے ۔ یعنی جن کو اپنے زعم باطل میں اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے رکھا تھا ان میں سے کوئی ان کی سفارش کو نہ آئے گا تو یہ ان کی شرکت ہی سے انکار کردیں گے چناچہ یہ ان کی شریک فی الاولہیت کا قول کرتے تھے اس لئے اس دن قسمیں کھاکھاکر انکار کریں گے۔ واللہ ربنا ما کنا مشرکین ۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جن کو اللہ کا شریک بتاتے تھے۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کی سفارش نہیں کرے گا : 13۔ جب سے یہ دنیا پیدا ہوئی اس وقت سے لے کر آج تک اور آج سے قیامت تک جتنے لوگوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے یا آئندہ ٹھہرائیں گے ان سب کو تین قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں ‘ رسولوں ‘ ملائکہ ‘ ولیوں ‘ اور پیروں ‘ بزرگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہوگا بلاشبہ یہ سب کے سب قیامت کے روز اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے برملا کہہ دیں گے کہ ان لوگوں نے یہ سب کچھ بغیر ہماری مرضی کے کیا ہم نے ان کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا اور قرآن کریم نے ان سب کی مثال کے لئے سیدنا عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–14

أَوَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ (Have they not travelled on earth - 30:9). It means that the Makkans live in a land where there is neither any cultivation and industry nor any tall and beautiful buildings, but for the sake of trade they do travel to Syria and Yemen. So, have they not seen, during the course of their trips, what was the fate of the earlier people, whom Allah Ta’ ala had endowed with skills to make use of the land? For instance, they had the skill to draw underground water by excavating the earth for irrigating fields and gardens, and dig out concealed precious minerals,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 "Associates" (shuraka') includes three kinds of beings: (1) The angels, prophets, saints, martyrs and the righteous men, to whom the polytheists assigned divine attributes and powers in different ages and whom they worshipped as gods. On Resurrection Day, they will say to their worshippers, "You did whatever you did without our consent, rather against our teachings and guidance. Therefore, we have nothing to do with you. Do not place any hope in us that we will intercede for you before AIIah Almighty." (2) Inanimate things like the moon, the sun, the planets, trees, stones, animals, etc.…

Read the full tafseer →