Explained with ayahs 11–16
اعمال کے مطابق فیصلے
فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے…
Read the full tafseer →سورة الروم 14
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے اور اس کے حضور پیش ہونے کی ساعت۔
سورة الروم 15
اصل میں لفظ ابلا من استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گم سم ہوجانا، امید کے سارے راستے بند پاکر حیران و ششدر رہ جانا، کوئی حجت نہ پاکر دم بخود رہ جانا۔ یہ لفظ جب مجرم کے لیے استعمال کیا جائے تو ذہن کے سامنے اس کی یہ تصویر آتی ہے کہ ایک شخص عین حالت جرم میں بھرے ہاتھوں (Red- Handed) پکڑا گیا ہے، نہ فرار کی کوئی راہ پاتا ہے، نہ اپنی صفائی میں کوئی چیز پیش کر کے بچ نکلنے کی توقع رکھتا ہے، اس لیے زبان اس کی بند ہے اور وہ انتہائی مایوسی و دل شکستگی کی حالت میں حیران و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ خلق کو اول بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی اس کو پیدا کرے گا پھر (پیدا ہونے کے بعد) اس کے پاس (حساب کتاب کے لئے) لائے جاؤ گے اور جس روز قیامت قائم ہوگی (جس میں اعادہ مذکور ہونے والا ہے) اس روز مجرم (یعنی کافر) لوگ (باز پرس کے وقت) حیرت زدہ رہ جائیں گے (یعنی کوئی معقول بات ان سے نہ بن پڑے گی۔ اور ان کے (تراشے ہوئے) شریکوں میں سے (جن کو شریک عبادت بناتے تھے) ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا اور (اس وقت خود) یہ لوگ (بھی) اپنے شریکوں میں سے منکر ہوجائیں گے (کہ واللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) اور جس روز قیامت قائم ہوئی اس روز (علاوہ واقعہ مذکورہ کے ایک واقعہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ویوم تقوم الساعۃ یبلیس المجرمون ولم یکن تھم من شرکأ ئھم شفعوا کانوا بشرکائھم کفرین (12۔ 13)
’ ابلاس ‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچا ہو کر رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انہوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھرپوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔
’ وکانو بشرکائھم کفسرین اور خود ان کا حال یہ ہوگا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورة قصص کی تفسیر میں ہم یہ…
Read the full tafseer →12-1ابلاس کے معنی ہیں اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کرسکنا اور حیران و ساکت کھڑے رہنا اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مبلس وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے کوئی دلیل نہ سوجھ رہی ہو قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا، یعنی کہ عذاب کے بعد وہ ہر خبر سے مایوس اور دلیل و حجت پیش کرنے سے قاصر ہونگے۔ مجرموں سے مراد کافر و مشرکین ہیں جیسے
کہ اگلی آیت میں واضح ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
4: جو لوگ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے کہ انسان کے مرنے اور گلنے سڑنے کے بعد اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا، یہ ان کا جواب ہے، یعنی ہر چیز کا قاعدہ یہ ہے کہ اسے پہلی بار بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے، لیکن جب کوئی چیز ایک مرتبہ بنالی جائے تو دوبارہ اسی جیسی چیز بنانا اتنا مشکل نہیں ہوتا، یہ آیت بتارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام چیزوں کو پہلی بار پیدا فرمایا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کے لئے انہیں دوبارہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16)
یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی جن کو اللہ کا شریک بناتے تھے جب وقت پر کام نہ آئیں گے تو منکر ہو کر کہنے لگیں گے کہ " واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ " (خدا کی قسم ہم مشرک نہ تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13 وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ مِّنْ شُرَکَآءِہِمْ شُفَعٰٓؤُا وَکَانُوْا بِشُرَکَآءِہِمْ کٰفِرِیْنَ ”
جب وہ دیکھیں گے کہ جن سے انہوں نے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کر رہے تو وہ ان کے منکر ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →11 یعنی وہ اپنی نجات سے مایوس ہوجائیں گے اور کسی کی سفارش یا امداد سے بھی۔ اور ان کی حالت ایسی ہوگی۔ جسے کوئی مجرم رنگے ہاتھوں لوگوں کے سامنے جرم کرتا ہوا پکڑا جائے۔ اور ایسے شخص پر سخت افسردگی اور مایوسی کی حالت طاری ہوجاتی ہے کیونکہ اسے اس جرم کی سزا سے بچنے کی کوئی امکانی صورت نظر نہیں آتی۔
Read the full tafseer →12۔ (ان سے کچھ کہتے سنتے نہ بنے گی) (آیت) ” یبلس “۔ ابلاس۔ شدت خوف وغم سے یاس چھا جانے اور لاجواب ہوجانے کا نام ہے۔ الابلاس الحزن المعترض من شدۃ الباس (راغب) قیل ابلس فلان اذا سکت واذا انقطعت حجتہ (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیت نمبر 11 تا 19
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتداء کرتا ہے یعنی انسانوں کی تخلیق کو ظاہر کرتا ہے (عدم سے وجود میں لاتا ہے) اور پھر وہی ان کے مرجانے کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا پھر تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تا اور یا کے ساتھ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم حیرت زدہ رہ جائیں گے اور مشرکین لاجواب ہوجانے کی وجہ سے ساکت (وصامت) رہ جائیں گے، اور ان کا ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارشی نہ ہوگا (یعنی) ان شرکاء میں سے جن کو انہوں نے اللہ کا شریک قرار دیا تھا تاکہ ان کی سفارش کریں، اور وہ بت ہیں، اور یہ بت پرست اپنے شرکاء کا انکار کردیں گے یعنی ان سے اظہاربراءت کردیں گے اور جس دن قیامت…
Read the full tafseer →ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون . اور جس روز قیامت برپا ہوگی (اس روز) مجرم ناامید ہوں گے۔
قتادہ اور کلبی نے کہا : ہر بھلائی سے ناامید ہوں گے۔ مجاہد نے کہا : رسوا ہوں گے۔ فراء نے کہا : ان کا کلام اور عذر منقطع ہوجائے گا۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے : بَلَسٌ وہ شخص جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ مُبْلِس وہ شخص جو اپنے دل کی بات دل میں گھوٹے رکھے اور چپ ہو۔ اَبْلَسَ ناامید ہوگیا ‘ ہکابکا ہوگیا۔ اسی سے لفظ ابلیس بنا ہے ‘ یا ابلیس عمجی لفظ ہے۔ جزری نے النہایہ میں لکھا ہے کہ غم یا خوف کی وجہ سے جو شخص خاموش ہو ‘ اس کو مُبْلِس کہا جاتا ہے۔ اِبْلاس متحیر ہونا۔
Read the full tafseer →وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز مشرکین ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ : ”أَبْلَسَ الرَّجُلُ“ جب کوئی آدمی لاجواب ہو کر خاموش ہوجائے اور اسے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے، مراد ناامید ہونا ہے۔ یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ نجات سے ناامید ہوجائیں گے، کیونکہ ان کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے گا اور انھیں اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کوئی بات نہیں ملے گی۔ مجرموں سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، گناہ گار مسلمان مراد نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
یعنی مومن کافروں سے جدا ہوجائیں گے پھر اس امر کی وضاحت کی کہ وہ کیسے جدا جدا ہوں گے فرمایا : نحاس نے کہا : میں نے زجاج کو کہتے ہوئے سنا : اما کا معنی ہے جس بحث میں ہم پڑے ہوئے ہیں اس کو چھوڑ دو اور کسی دوسری بات میں شروع ہو جائو سیبویہ نے اسی طرح کہا ہے : ضحاک نے کہا : روضہ سے مراد باغ ہے اور ریاض سے مرد باغات ہیں ابو عبید نے کہا : روضہ اسے کہتے ہیں جو نشیبی جگہ میں ہو جب وہ بلند جگہ ہو تو اسے ترعۃ کہتے ہیں ایک اور عالم نے کہا : بہترین روضہ وہ ہوتا ہے جو وہ بلند جگہ پر ہو۔ اعمش نے کہا :
اونچی جگہ کے باغوں سے بڑھ کر کوئی باغیچہ جو گھاس والا ہو سرسبز و شاداب ہو جس پر موسلادھار بارش نے سخاوت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔
3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ [اور جس دن ] تَقُوْمُ [قائم ہوگی ] السَّاعَةُ [وہ گھڑی (قیامت)] يُبْلِسُ [تو شاید مایوس ہوں گے ] الْمُجْرِمُوْنَ [مجرم لوگ ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
(ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) پھر دنیاوی ہلاکت کے بعد موت کے بعد بھی برے کاموں میں لگنے والوں کا برا انجام ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ہی نہیں ان کا مذاق بھی اڑایا، ان کے اپنے اعمال ہی موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، قولہ تعالیٰ : ثم کان عاقبۃ الذین اسآؤا بنصب ” العاقبۃ “ واضافتہ الی الموصول ونصبھا علیٰ انھا خبر کان وقولہ تعالیٰ : ” السوء “ تانیث الاسوء کالحسنیٰ تانیث الاحسن، وھی مرفوعۃ علیٰ انھا اسم کان وھذا علی قرأۃ حفص ومن وافقہ وقرء الحرمیان وأبو عمرو ” عاقبۃ “ بالرفع علیٰ انہ اسم کان و ” السوء “ بالنصب علی الخبریۃ۔ اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔
اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…
Read the full tafseer →12:۔ اثبات قیامت کے بعد قیامت کے بعد قیامت کے دن مجرمین اور مومنین کے احوال کا ذکر کیا گیا۔ یہ مجرمین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مجرمین ہر طرف سے مایوس و ناامید ہوں گے۔ پلے میں کوئی عمل نہیں ہوگا شرک کی وجہ سے تمام اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے اور جن معبودوں کی سفارش پر اعتماد تھا وہ بھی کام نہ آئیں گے اور اللہ کے عذاب سے ان کو بچا نہ سکیں گے اور اس وقت انہیں یقین ہوگا کہ دنیا میں جن کو کارساز اور شفیع غالب سمجھ کر پوجتے رہے وہ تو عبادت کے لائق ہی نہ تھے اور نہ وہ کارسازی اور مشکل کشا ہی تھے۔ ولم یکن لھم من شرکاء ھم شرکاء سے تمام معبودان غیر اللہ مراد ہیں جن کو مشرکین کارساز اور سفارشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔
وقوع قیامت کی عقلی دلیل
ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ 12
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
ساعة
السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187]
( س و ع ) الساعۃ
( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ترکیب : یبلس المجرمون یسکتون متحرین آیسین یقال ناظرتہ فابلس اذا سکت و ایس من ان یحتج وکانوا بشرکائھم کفرین ای یکفرون بالھتھم حین یئسوا منھم۔ وقیل کانوا فی الدنیا کافرین بسببھم، یوم کا ناصب یلبس، شفعاء جمیع شفیع اسم لم یکن ولہم خبر مقدم۔ من شرکائہم بیان لشفعاء، یوم یقوم کا عامل۔ یتفرقون یومئذ یوم کی تاکید، ولقاء الآخرۃ مصدر مضاف ہے، مفعول کی طرف یہ آیتنا پر معطوف تحت میں باجار کی مفعول ہے۔ کذبوا کا۔
تفسیر : اللہ یبد الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون یہاں سے معاد یعنی حشر شروع ہوتا ہے اور اس بات کو مدلل کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ مخلوق کو شروع سے پیدا کرتا ہے، یہ بات نہیں کہ پیدا کرکے فارغ ہوگیا،…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (الروم : 12)
(اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم مایوس ہوجائیں گے۔ )
روزِ آخرت مجرموں کی حالت
یُبْلِسُ … ابلاس سے ہے جس کے معنی ہیں سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گم سم ہوجانا۔ قیامت کے دن جب قیامت کے مخالفین کو اچانک اس سے واسطہ پڑے گا تو وہ انتہائی مایوس، حیران اور ششدر رہ جائیں گے۔ انھیں اس طرح اچانک قیامت کے برپا ہونے کا تصور تک نہ تھا۔ وہ زندگی بھر اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور اگر کبھی اقرار کیا بھی تو نہایت بےنیازی اور بےدلی کے ساتھ۔ اب جبکہ اچانک انھیں ایک ایسی حقیقت دکھائی دے گی جسے وہ محض ایک واہمہ سمجھتے تھے تو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : کفار جس دن کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے حضور پیش کرے گا اور اس دن مشرکین کی یہ حالت ہوگی۔
قیامت کے بارے میں مشرک اس لیے لاپرواہی کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں رب تعالیٰ کا مقرب سمجھ کر پوجتا ہوں اور ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتا ہوں۔ وہ قیامت کے دن مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے کیونکہ یہ اس کے پیارے اور مقرب ہیں اسے لیے ان کی سفارش مسترد نہیں ہوگی۔ حالانکہ اس دن صورت حال اس قدر ہولناک ہوگی کہ جو لوگ دنیا میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ مرشد کے بغیر قیامت کے دن نجات نہ ہوگی اور مرید ہمارے جھنڈے تلے ہوں گے۔ جوں ہی اپنے مریدوں کو دیکھیں گے تو…
Read the full tafseer →قراءت : ابو عمرو اور سہل نے یرجعون یاء سے پڑھا ہے۔
12: وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ (اور جب قیامت قائم ہوگی ناامید ہوں گے) مایوس و حیران ہونگے عرب کہتے ہیں ناظرتہ فابلس جبکہ بول نہ سکے اور دلیل پیش کرنے سے مایوس ہوجائے۔ الْمُجْرِمُوْنَ (مجرم) یعنی مشرکین۔
Read the full tafseer →12۔ ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون “ قتادہ اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ بھلائی سے ناامید ہوں گے ۔ فراء کا قول ہے کہ ان کا کلام اور عذر منقطع ہوجائے گا۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ رسواہوں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
8 تا 12۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کریں کس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے اور اس فکر کے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غور کریں تو اچھی طرح جان لیں کہ یہ تمام مخلوق بےکار پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
آیت نمبر : 11-16
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے ‘ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا پھر نیکو کاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا : (ویوم تقوم الساعۃ) ” اور جس دن قیامت برپا ہوگی “ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز (یبلس المجرمون) ” گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔ “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے اس روز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
12 قیامت کی ہولناکی کی تذکیر و یاددہانی : سو غافل دنیا کو اس ہولناک دن کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرم لوگ ہک دھک رہ جائیں گے "۔ کہ جس قیامت کو وہ مانتے ہی نہ تھے اور جس کے وقوع کو وہ ناممکن سمجھتے تھے اور اس کو زندگی بھر جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے تھے وہ آج اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہے۔ اب نہ اس سے بھاگنے کی کوئی صورت اور نہ بچنے کا کوئی راستہ اور نہ اس کے لئے کمائی کرنے کا کوئی امکان۔ اس لئے اس سے وہ ہک دھک اور دم بخود رہ جائیں گے۔ " ابلاس " دراصل اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص حجت و دلیل سے عاجز آ کر بالکل ساکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز
تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
آیات 11 تا 19
اسرارومعارف
خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔
اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا…
Read the full tafseer →4 ۔ کیونکہ ان سے اپنے آپ کو بےقصور ثابت کرنے کے لئے کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔
Read the full tafseer →(30:12) یوم۔ فعل محذوف کا مفعول۔ ای اذکر یوم۔ بعد میں آنے والے فعل کا ظرف بھی ہے۔
تقوم الساعۃ۔ قیامت برپا ہوگی۔
یبلس۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ابلاس (افعال) مصدر۔ ناامید ہوں گے۔ چپ ہوں گے۔ رسوا ہوں گے۔ دلیل سے عاجز ہوکر یا غم و یاس کی وجہ سے خاموش ہوجانا ۔ ابلس الرجل اذا سکت وانقطعت حجتہ جب آدمی چپ ہوجائے اور اس کے دلائل ختم ہوجائیں اور وہ مزید کہنے سے عاجز ہوجائے تو کہتے ہیں ابلس الرجل۔ بعض کا خیال ہے کہ ابلیس بھی اسی سے مشتق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔
الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ کردیے جائیں گے پھر مومن اور کافر کبھی جمع نہ ہوں گے جس طرح دنیا میں نیک وبد سب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ اپنے ٹھکانے پر پہنچادیے جائیں گے یعنی جو لوگ جنتی ہیں جنت میں اور جو لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں چلے جائیں گے اس کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکل آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھی کوئی نیک کام نہ کیا، لپ بھر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اب دوزخ میں وہ لوگ رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
حل لغات : یبلس ۔ ابلاس سے ہے ۔ بمعنی مایوسی ۔ ابلیس کے معنے میں ۔ اللہ کی رحمتوں سے قطعی مایوس ہوجانے والا ۔
Read the full tafseer →12۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو اس دن مجرم لوگ مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔ ابلاس کے معنی ہیں مایوسی ، رسوائی ، حیرت ، مطلب یہ ہے کہ قیامت جب قائم ہوجائے گی تو آس توڑ دیں گے پہلے سے منکر تھے اب وہ چیز سامنے آجائے گی تو سوائے رسوائی اور مایوسی کے اور کیا ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 8۔ یعنی کوئی معقول بات ان سے بن نہ پڑے گی۔
Read the full tafseer →جب قیامت برپا ہوگی تو مجرم آس توڑ کر رہ جائیں گے :
12۔ جب قیامت قائم ہوگی تو بلاشبہ مجرم ہکا بکا رہ جائیں گے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تو اس کے بپا ہونے پر یقین ہی نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے جس کام کے ہونے کی انسان کو توقع نہ ہو اگر وہ اچانک ہوجائے تو وہ ہکا بکا نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا ۔ جن لوگوں کو اس جگہ رزق کی فراوانی حاصل ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اللے تللے کر رہے ہیں جب ان کے سامنے قیامت کا ذکر آتا ہے تو وہ منہ چڑھا کر رہ جاتے ہیں کہ یہ خواہ مخواہ کے ڈھکوسلے ان لوگوں نے بنا رکھے ہیں قیامت ویامت کچھ بھی نہیں اور اس طرح کی کتنی ہی بکواس بازیاں ہیں جو وہ کر جاتے ہیں جب اس طرح کے لوگ اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ (Have they not travelled on earth - 30:9). It means that the Makkans live in a land where there is neither any cultivation and industry nor any tall and beautiful buildings, but for the sake of trade they do travel to Syria and Yemen. So, have they not seen, during the course of their trips, what was the fate of the earlier people, whom Allah Ta’ ala had endowed with skills to make use of the land? For instance, they had the skill to draw underground water by excavating the earth for irrigating fields and gardens, and dig out concealed precious minerals,…
Read the full tafseer →14 "The Hour": the Hour of returning to Allah and appearing before Him.
15 The word iblas in the Text means to be dumbfounded on account of a sudden shock and despair, to be confounded on finding one-self in a hopeless situation, to stand aghast on finding no means of help and support. When this word is used for a culprit, it depicts a person who is caught red-handed, who then find no way to escape, nor expects to save himself by offering a plea in self-defense; therefore, he stands dumb and dejected and depressed.
One should also understand that "the criminals" here does not only imply those…
Read the full tafseer →