Al-Hajj 22:9

Al-Hajj · from ayah 9

22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ— لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّنُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۟ثَانِىَ عِطۡفِهٖ لِيُضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌ؕ لَهٗ فِى الدُّنۡيَا خِزۡىٌ‌ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Twisting his neck [in arrogance] to mislead [people] from the way of Allah. For him in the world is disgrace, and We will make him taste on the Day of Resurrection the punishment of the Burning Fire [while it is said],

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:9

خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں ایسے شخص کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکادے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اپنی گردن کو (تکبّر سے) مروڑے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اﷲ کی راہ سے بہکا دے، اس کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس حال میں کہ اپنا پہلو موڑنے والا ہے، تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کرے، اس کے لیے دنیا میں ایک رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور از راہ تکبر حق سے) اپنا پہلو موڑتے ہیں تاکہ دوسروں کو اللہ کی راہ سے بہکا دیں ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تکبر سے اینٹھتے ہوئے، کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لئے دنیا میں روسائی ہے اور ہم قیامت کے دن ان کو آگ کا عذاب چکھائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تکبر سے گردن اکڑائے ہوئے تاکہ اس طرح یہ دوسروں کو بھی بہکا سکیں اللہ کی راہ سے ایسے لوگوں کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم ان کو مزہ چکھائیں گے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے عذاب کاف

— مولانا اسحاق مدنی

تکبر و گردن کشتی کرتے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے بےراہ کردے ایسے شخص کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(تکبر سے) اپنی کروٹ موڑ کر (چل دیتا ہے) تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلانے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تکبر سے منہ موڑ لیتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے رستے سے گمراہ کر دے ‘ اس کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They wrangle arrogantly, intent on leading people astray from the Way of Allah. Such shall suffer disgrace in this world and We shall cause them to taste the chastisement of burning (in the Next).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

turning his side away to lead (people) astray from the way of Allah. For him there is disgrace in this world, and We will have him taste the punishment of Fire on the Day of Judgment

— Muhammad Taqi Usmani

turning his side away to lead (people) astray from the way of Allah. For him there is disgrace in this world, and We will have him taste the punishment of Fire on the Day of Judgment

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Bending his neck in pride, and leading (others) too (far) astray from the path of Allah. For him there is disgrace in this worldly life, and on the Day of Resurrection We shall make him taste the torment of burning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Turning away in pride to beguile (men) from the way of Allah. For him in this world is ignominy, and on the Day of Resurrection We make him taste the doom of burning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Twisting his neck [in arrogance] to mislead [people] from the way of Allah. For him in the world is disgrace, and We will make him taste on the Day of Resurrection the punishment of the Burning Fire [while it is said],

— Saheeh International

They turn away (from the Truth) to lead people away from the path of God. Their share in this world will be disgrace and on the Day of Judgment a burning torment.

— Muhammad Sarwar

Turning away haughtily that he may lead (others) astray from the way of Allah; for him is disgrace in this world, and on the day of resurrection We will make him taste the punishment of burning:

— Muhammad Habib Shakir

Bending his neck, that he may lead astray from the way of Allah; his shall be humiliation in the world, and We shall make him taste on the Day of Judgment the torment of Burning.

— Abdul Majid Daryabadi

(Disdainfully) bending his side, in order to lead (men) astray from the Path of Allah: for him there is disgrace in this life, and on the Day of Judgment We shall make him taste the Penalty of burning (Fire).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

گمراہ جاہل مقلدلوگ چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل ملقدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ وہ بےعقلی اور بےدلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپرواہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپرواہی کی اور نہ مانے۔ اور آیت میں ہے جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول ﷺ یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْحَجّ 14 پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو خود گمراہ ہیں۔ اور اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو خود ہی گمراہ نہیں ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

ثَانِيَ عِطْفِهٖ ، عطف کے معنے جانب اور کروٹ کے ہیں یعنی کروٹ موڑنے والا۔ اس سے مراد اس کا اعراض کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ثانی عطفہ ان کے کبر و غرور کی تصویر ہے۔ جب کوئی شخص غرور کے ساتھ کسی سے اپنا رخ موڑتا ہے تو شانے جھٹک کر موڑتا ہے۔ آدمی کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دستبردار ہونے کے لئے بھی تیار نہ ہو تو اس کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی ہے اور اس کا انتقام وہ اپنے غرور کا مظاہرہ کر کے لینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ یعنی یہ سارا طنطنہ اور یہ ساری حمیت کسی حق کی حمایت کے لئے نہیں بلکہ صرف اس لئے ہے کہ سج طرح وہ خود خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے دوسروں کو بھی اسی طرح بھٹکا دے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ آدمی کا خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہونا، اگر اس کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہو، اس سے مایوس کردینے والی چیز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–9

9۔ 1 ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ (وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا) 31۔ لقمان :7) (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ) 63۔ المنافقون :5) (اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ) 17۔ الاسراء :83)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

7: آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کچھ لوگ اس لالچ میں اسلام لائے کہ اسلام کی وجہ سے انہیں دنیا میں کچھ فوائد حاصل ہوں گے ؛ لیکن جب ان کی توقع پوری نہیں ہوئی ؛ بلکہ کوئی آزمائش آگئی تو دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، یہ آیت ان کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ یہ لوگ حق کو حق ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے ؛ بلکہ دنیا کے مفادات کی خاطر قبول کرتے ہیں، اور ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی جنگ میں اس نیت سے ایک کنارے کھڑا ہوگیا ہو کہ دونوں لشکروں میں سے جس کا پلہ بھاری نظر آئے گا اسکے ساتھ ہوجاؤں گا ؛ تاکہ کچھ مفادات حاصل کرسکوں، سبق یہ دیا گیا ہے کہ اسلام پر عمل اس لالچ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–10

ومن الناس ……بظلام للحمید (10) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اعراض وتکبر کے ساتھ۔ 5 یعنی جو شخص بدون حجت و دلیل محض عناد سے خدا کی باتوں میں جھگڑتا ہے اور غرض یہ ہو کہ دوسرے لوگوں کو ایمان و یقین کی راہ سے ہٹا دے اس کو دنیا میں خدا تعالیٰ ذلیل کرے گا اور آخرت کا عذاب رہا سو الگ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

آیت 8 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ” ایسے لوگ بغیر کسی علمی دلیل اور الہامی رہنمائی کے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

9 اب شخص دراصل تین جرائم کا مرتکب ہوتا ہے ایک تو اس نے جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر وحی الٰہی کا انکار کیا۔ جبکہ اس کے پاس نہ کوئی تجرباتی دلیل تھی، نہ عقلی اور نہ نقلی۔ دورے تکبر اور پندار نفس کا مظاہرہ کیا اور تیسرے اور لوگوں کو بھی راہ حق سے دور رکھنے کا سبب بنا۔ لہذا اس عذاب شدید سے بہتر واضح طور پر بتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے ہی بھیجے ہوئے اعمال کا بدلہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کو خواہ مخواہ عذاب دینے کا شوق نہیں اور نہ ہی کسی پر ظلم کرنا اللہ کے شایان شان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

13۔ یعنی بجز بےعقلی اور بےعملی کی راہ سے ضلالت پھیلاتے رہنے کے یہ شخص نہ کوئی عقلی دلیل اپنے پاس رکھتا ہے اور نہ نقلی۔ (آیت) ” ھدی “۔ سے مراد ہے دلیل عقلی۔ اور (آیت) ” کتب منیر “۔ سے وحی الہی۔ اے لا سندلہ من استدلال او وحی (بیضاوی) (آیت) ” ثانی عطفہ “۔ لفظی معنی ہیں اپنا شانہ پھیر لینے والا، مراد ہے تکبر کرنے والا، زعم وپندار میں مبتلا رہ کر اکڑنے والا، ثنی العطف عبارۃ عن الکبر والخیلاء (کشاف) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ آیت میں اشارہ خصوصی ابوجہل سے متعلق ہے۔ آج ” روشن خیال “۔ تجددو ” نواز “۔ طبقات بھی اسی ذہنیت کو لئے ہوئے ابھرے ہیں۔ صفات الہی پر بڑی بلندآہنگی سے گفتگو کے لیے نکلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثانی عطفہ لیضل عن سبیل اللہ تکبر کرتے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ (یعنی دین حق) سے (لوگوں کو) بےراہ کر دیں۔ عِطْفپہلو۔ جانب عِطْفَیْندونوں پہلو ‘ دایاں بایاں۔ روگردانی اور اعراض کے وقت جس حصۂ بدن کو آدمی موڑ لیتا اور گھما لیتا ہے اس کو عطف کہتے ہیں۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد ہے گردن نیوڑانا۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جب اس کو حق کی طرف بلایا جاتا ہے تو غرور اور تکبر سے وہ گردن نیوڑاتا اور رخ پھیر لیتا ہے کذا قال ابن عطیۃ وابن زید وابن جریج۔ لہ فی الدنیا خزی ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق اس کے لئے دنیا میں رسوائی (ذلت) ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلانے والی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ خزی سے مراد ہے قتل و قید…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) تاکہ دوسرے لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے بےراہ کردیں ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے یعنی بدر کے دن ذلیل ہو کر مارا جائے گا اور ہم قیامت کے دن جلتی ہوئی آگ کا عذاب یا سخت عذاب اس کو چکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ۔۔ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہی الفاظ اس سے پہلے آیت (3) میں گزرے ہیں، پھر انھیں دوبارہ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہاں قیامت کے قیام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق ان کج بحث جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو علم سے سراسر عاری اور محض مقلد ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جبکہ یہاں ان جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو گمراہی کے پیشوا ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت : ”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ“ میں واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے (آیت : 3 کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں) اسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثَانِیَ عِطْفِہٖ (وہ اپنے پہلو کو موڑنے والا ہے) یہ حال ہے یعنی وہ اپنی گردن کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے تکبر و بڑھائی کی وجہ سے موڑنے والا ہے۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) اس کے دین سے لَہٗ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ (ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے) یوم بدر میں قتل ہونا۔ وَّ نُذِیْقُہٗ یَوْمَ الِْقیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ (اور ہم اس کو قیامت کے دن جلنے کا عذاب چکھائیں گے) ان کے لئے دونوں جہانوں یعنی دنیا و آخرت کا عذاب جمع کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–10

۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر۔ یعنی ان ساری چیزوں سے مراد ایک ہی ہے کیونکہ کسی چیز کو زیادہ کہا جاتا ہے اگرچہ وہ ایک ہوتی ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم آیت ثانی عطفہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اعراض کرنے والا ہے تکبر کی وجہ سے اور وہ صرف دیکھتا ہے ایک جانب میں۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ کے بارے میں فرمایا کہ اپنے سر کو ٹیڑھا کرتے ہوئے منہ موڑتے ہوئے اعراض کرتے ہوئے وہ ارادہ نہیں کرتا سننے کا جو اس کو کہا گیا۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ثَانيَ عِطْفِهٖ : اپنے پہلو کو موڑنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِيُضِلَّ : تاکہ وہ گمراہ کرے (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کے راستہ سے ] [ لَهٗ : اس کے لئے ہے ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ خِزْيٌ: ایک رسوائی ] [ وَّنُذِيْقُهٗ : اور ہم چکھائیں گے اس کو ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ عَذَابَ الْحَرِيْقِ : شعلے کا عذاب ] ع ط [ عَطْفًا : (س) مائل ہونا۔ لگام موڑنا۔] [ عِطْفٌ ہر چیز کا کنارہ۔ پہلو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9] نوٹ۔ 1: کہتے ہیں مَرَّ ثَانِیَ عِطْفِہٖ وہ تکبر کے ساتھ چلا (المنجد) ۔ اس طرح یہ دراصل تکبر کے اظہار کے لئے عربی محاورہ ہے۔ ” اس میں تین کیفیتیں شامل ہیں۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

معاندین کا متکبرانہ طرز عمل اور آخرت میں ان کا عذاب و رسوائی روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض حضرات کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ اخنس بن شریق تھا اور بہت سے حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ سبب نزول جو بھی ہو بہر حال آیت کا عموم ہر اس شخص کی مذمت اور دنیا و آخرت کی ذلت اور بد حالی کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بےت کے سوال کرے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول نہ کرے۔ نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ اس کی عقل رہبر ہے اور نہ اس کے پاس کوئی کتاب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–10

اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

17:۔ ” ثَانِيَ عِطْفِهٖ الخ “ یہ ” یُجَادِلُ “ کے فاعل سے حال ہے یعنی حق سے اعراض کرتے اور اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہوئے وہ جھگڑا کرتا ہے ” لِیُضِلّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ “ یہ اس کے جدال کی غرض وغایت اور علت ہے۔ یعنی جدال سے اس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ متعلق یجادل علۃ لہ فان غرضہ من الجدال الاضلال عن سبیلہ تعالیٰ وان لم یعترف بانہ اضلال (روح ج 17 ص 122) ۔ 18:۔ ” لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْيٌ الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” وَ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ الخ “ تخویف اخروی۔ ” ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ الخ “ ای یقال لہ فی الاخرۃ اذا دخل النار (قرطبی ج 12 ص 16) جب آخرت میں وہ جہنم میں داخل ہوگا اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–17

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثَانِيَ عِطْفِہٖ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0ۭ لَہٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّنُذِيْقُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِيْقِ۝ 9 ثنی الثَّنْي والاثنان أصل لمتصرفات هذه الکلمة، ويقال ذلک باعتبار العدد، أو باعتبار التکرير الموجود فيه ويقال للاوي الشیء : قد ثَناه، نحو قوله تعالی: أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ [هود/ 5] ، وقراءة ابن عباس : (يَثْنَوْنَى صدورهم) ( ث ن ی ) الثنی والاثنان ۔ یہ دونوں ان تمام کلمات کی اصل ہیں جو اس مادہ سے بنتے ہیں یہ کبھی معنی عدد کے اعتبار سے استعمال ہوتے ہیں اور کبھی تکرار معنی کے لحاظ سے جو ان کے اصل مادہ میں پایا جاتا ہے۔ ثنا ( ض) ثنیا ۔ الشئی کسی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–13

تفسیر : قیامت کے دلائل بیان کر کے پھر انہیں بےہودہ لوگوں کے جاہلانہ حجت و مجادلہ کا ذکر فرماتا ہے۔ قال و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتاب منیر۔ بعض کہتے ہیں پہلی آیت ومن الناس الخ نضربن حارث کے حق میں اور یہ ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں دونوں جگہ نضر مراد ہے محض ذم کے مبالغہ کے لیے اس کا اعادہ کیا۔ انسان کسی مقصد پر جو حجت قائم کرتا ہے یا کوئی عقیدہ دل میں جماتا ہے۔ تو یا علم بالبد یہیات یا استدلال و نظر سے یا وحی والہام سے پھر جس کو یہ تینوں باتیں کسی بات کی طرف ہدایت نہ کریں اور وہ اس پر جھگڑے تو سخت نادان ہے بغیر علم میں بدیہیات ولا ھدی میں نظریات اور ولا کتاب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۔ ثَانِیَ عِطْفِہٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط لَہٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّنُذِیْقُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ (الحج : 8، 9) (اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ (تکبر سے) گردن مروڑے ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ہم قیامت کے دن انھیں آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ ) مجادلین بےعقل اور امی محض تھے اس آیت کا پہلا حصہ آیت تین میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا ‘ اے اللہ کے رسول ﷺ جلانے کو تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے۔ ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ یعنی ابوہریرہ ؓ بھول گئے کہ نبی ﷺ نے کتنی مدت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: ثَانِیَ عِطْفِہٖ (وہ اپنے پہلو کو موڑنے والا ہے) یہ حال ہے یعنی وہ اپنی گردن کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے تکبر و بڑھائی کی وجہ سے موڑنے والا ہے۔ قراءت : حسن (رح) کہتے ہیں کہ ثانی عطفہ عین کے فتح سے پڑھا جائے گا۔ ای مانع تعطفہ إلی غیرہ۔ یعنی جو اس کو غیر کی طرف موڑنے والا ہے۔ لِیُضِلَّ (تاکہ وہ گمراہ کرے) یہ مجادلہ کی علت ہے۔ قراءت : مکی اور ابو عمرو نے لِیَضِلَّ پڑھا ہے۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) اس کے دین سے لَہٗ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ (ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے) یوم بدر میں قتل ہونا۔ وَّ نُذِیْقُہٗ یَوْمَ الِْقیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ (اور ہم اس کو قیامت کے دن جلنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔ ثانی عطفہ، روگردانی کرنا تکبر کی وجہ سے ۔ مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد ہے گردن پھیرنا ، ابن جریج کا قول ہے کہ حق سے پھرجانا تکبر کی وجہ سے ۔ عطف ایک جانب کو کہتے ہیں عطف الرجل کہاجاتا ہے جو شخص اپنی گردن دائیں یا بائیں موڑ دے۔ انسان اعراض کے وقت جس حصہ کو بدن کو موڑلیتا ہے اور گھمالیتا ہے اس کو عطف کہتے ہیں۔ اس کی مثال واذاتتلی علیہ ، ایتنا ولی مستکبرا، ، اور دوسری جگہ ارشاد ہے ، واذاقیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ،۔۔ لیضل عن سبیل اللہ۔ تاکہ وہ اللہ کے دین سے لوگوں کو گمراہ کردے۔ لہ فی الدنیا خزی، اس سے مراد عذاب ہے جو بدر کے دن قتل کردیے گئے ۔ اس دن نضر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط بدر کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–10

دلائل حشرو نشر : 5۔ 10:۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کا ذکر فرما کر یہاں اخیر رکوع تک دو دلیلیں حشر کی بیان فرمائی ہیں ‘ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اس نے پانی مٹی کا کام لے لیا ‘ اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ہے ‘ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بنایا جا کر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی۔ دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کہ حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–9

آیت 8 یہ جھگڑا جس کا ذکر آیت نمبر 3 اور 4 میں بھی گزر چکا ہے سرکش شیطان کے مقلد کا جھگڑا ہے اور اسی کی خاطر ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا : (یجادل فی اللہ) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے (بغیر علم) بغیر کسی صحیح علم کے (ولا ھدی) وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھے لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ (ولا کتب منیر) ” اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 اِعراض و استکبار کا نتیجہ ضلال واضلال ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ بہکا سکے اللہ کی راہ سے دوسروں کو۔ اور اس طرح وہ ان کو بھی محروم کر دے حق و ہدایت کے نور سے۔ تاکہ یہ دونوں آپس میں ہمرنگ و ہم مشرب ہوجائیں اور بالآخر دونوں ہلاکت و تباہی کے نہایت ہی عمیق اور ہولناک گڑھے میں جاگریں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کبر و غرور اور اعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسا شخص جس کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دست بردار ہونے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–13

مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:9) ثانی۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ ثنی یثنی (ضرب) ثنی مصدر۔ عطفہ۔ اس کا شانہ۔ اس کا پہلو۔ عطف۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ عطف کے معنی جانب وپہلو کے ہیں۔ اور اس کی جمع اعطاف ہے جیسے حمل کی جمع احمال ہے۔ عطف الانسان۔ سر سے لے سرین تک انسان کے دونوں جانب یعنی پہلو ہیں اور یہ بدن کا وہ حصہ ہے جس کو وہ موڑ سکتا ہے اور ثنی عطفہ کا استعمال منہ موڑنے اور سختی برتنے کے لئے ہوتا ہے۔ جیسے نای بجانبہ۔ (اس نے پہلو تہی کی) اور صعر بخدہ (اس نے اپنا گال پھلایا) جب اس کا تعدیہ بذریعہ علی ہوتا ہے تو اس کا استعمال شفقت اور میلان کے معنی میں ہوتا ہے چناچہ عطف علیہ (وہ اس پر مہربان ہوا) اور جب بذریعہ عن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت ابوجہل وغیرہ ایک جماعت کفار کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں جھگڑا کرتے، اور اس کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ مشرک اللہ کی قدرتین آنکھوں سے دیکھ کر دوبارہ پیدائش کو جھٹلاتے ہیں اور حشر کا ذکر سن کر طرح طرح ایسی بےسند مکڑائی کی باتیں (فضول ) جو بناتے ہیں کہ جن باتوں کے سبب سے خود بھی گمراہی میں پھنستے ہیں اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ان کی یہ باتیں دنیا میں ان کو رسوا اور عقبی میں سخت عذاب کا سزا وار ٹھہراویں گی کیونکہ ظلم کے طور پر تو اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا نہیں چاہتا لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–11

[10] یعنی اللہ کی بندگی تو کرتا ہے مگر دل کے جماؤ سے نہیں۔ اس کی حالت اس مذبذب آدمی کے مانند ہے جو کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آ ملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے کھسک جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

(ف 1) مشرکین کا ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جنہیں کچھ تو اللہ سے تعلق ہوتا ہے اور کچھ اپنے بتوں اور دیوتاؤں سے ، کبھی وہ خانقاہ ہیں سر بسجود نظر آتے ہیں ، اور کبھی صحن مسجد میں کبھی خدا کے سامنے جھکتے ہیں ، کبھی اپنے دیوتاؤں کی شرن میں ، انہیں اگر خدا کی عبادت پر آمادہ بھی کیا جائے ، تو وہ صرف آزمائش وامتحان کی حد تک قائم رہتے ہیں ، یعنی جب تک ان کی سنی گئی اور کام ہوتے رہے ، خدا کو مانتے رہے اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہے ، اور جہاں اللہ تعالیٰ نے ذرا امتحان میں ڈال دیا ، جھٹ سے الگ ہوگئے کہ خدا ہماری نہیں سنتا یہ بدبخت نہیں جانتے کہ خدا آزمائشوں اور تجربوں سے بالا ہے ، وہ اگر ہماری آرزوؤں کو سن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) تکبر سے اپنا پہلو موڑ کر جھگڑا کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے … صحیح راستے سے لوگوں کو بےراہ کرے ایسے شخص کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ہم اس کو قیامت کے دن بھی عذاب سوزاں کا مزا چکھائیں گے اور جلانے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–11

ف 7۔ یہ امور مذکورہ کی حکمت ہیں، یعنی ہم نے وہ تصرفات مذکورہ اس لئے ظاہر کئے کہ اس میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک حکمت اور غایت یہ تھی کہ ہم کو قیامت کا لانا اور مردوں کو زندہ کرنا منظور تھا، تو ان تصرفات سے ان کا امکان لوگوں پر ظاہر ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسے انسان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا : 9۔ (ثانی عطفہ) کے معنی ہی اس نے اعراض کیا ‘ الگ ہوگیا نخوت وتکبر کے باعث جسے کہتے ہیں کہ ” میں بھی اور کوئی اور بھی “ گویا یہ وہ حالت ہے جس میں انسان غرور وتکبر کے ساتھ کسی سے اپنا رخ موڑتا ہے تو شانہ جھٹک کر موڑتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت ہوتی ہے جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو اور اہل واولاد کی کثرت بھی جس کو ہماری زبان باپ واولاد والا آدمی کہا جاتا ہے لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اگر اس کے پاس نہ ہو تو کوئی صحیح دلیل موجود نہ ہو جو اس کے جی میں آئے کرے اور جو جی میں آئے کہے لیکن اس سے کوئی دلیل طلب کرنے کی جرات ہی نہ کرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

ثَانِيَ عِطْفِهِ (Turning his side away - 22:5) The word عِطْفِ ` itf means ` side of the body', and the expression means ` to turn on one's side' - in other words ` to oppose'.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

14. Verse 3 mentioned those people who have themselves gone astray, but verse 9 mentions those who have not only deviated from the right way themselves but are also bent upon misleading others from it.

Read the full tafseer →