Ayah 22:1لوگو ! اللہ سے ڈرو کہ آنے والی گھڑی کا زلزلہ نہایت ہی سخت چیز ہے :
1۔ ” آنے والی گھڑی “ سے کیا مراد ہے ؟ وہی جس کو عربی زبان میں (ساعۃ) یا (قیامۃ) کہا گیا ہے وہ گھڑی جب اس دنیا کا پورا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا جائے گا ۔ (زلزلۃ) بھونچال یعنی جلا ڈالنے کو کہتے ہیں ۔ امام راغب کہتے ہیں کہ اس میں تکرار حروف تکرار معنی کے لئے کیا گیا ہے اور اس کا مطلب ہے بار بار ہلانا یا بار بار لرزانا اور جھڑجھڑانا ۔ اور ظاہر ہے کہ ہر زلزلہ میں یہ صورت ہوتی ہے خواہ وہ کتنی ہی خفیف ہو اور کتنی ہی کم ۔ یہی وہ زلزلہ ہے جس سے ہرچیز کی ہلاکت ہوجائے گی ۔
جاننا چاہئے کہ فرد ‘ جماعت اور عالم کے احوال میں ایک خاص مناسبت ہے ۔ جس طرح آدمی پیدا ہوتا ہے ‘ بڑھتا ہے ‘ بیمار ہوتا ہے ‘ تندرست ہوتا ہے ‘ گناہگار ہوتا ہے ‘ نیکوکار ہوتا ہے ‘ نیک نام ہوتا ہے ‘ بدنام ہوتا ہے اور خاص طبعی قوانین کی مطابقت سے وہ قوت حاصل کرتا ہے اور ان کی مخالفت سے وہ بیمار ہوتا ہے پھر ایک خاص عمر کو پہنچ کر رفتہ رفتہ اس کے قوائے عمل سرد پڑجاتے ہیں اور انجام کار وہ مر جاتا ہے بعینہ یہی تمام احوال جماعتوں اور قوموں کو بھی پیش آتے ہیں وہ بھی پیدا ہوتی ہیں ‘ تندرست ہوتی ہیں ‘ کمزور وبیمار ہوتی ہیں ‘ گنہگار ہوتی ہے ‘ نیکوکار ہوتی ہیں ‘ بدنام ہوتی ہیں ‘ نیک نام ہوتی ہے اور پھر ایک خاص وقت اور عمر کو پہنچ کر ان کے عملی قوی کمزور ومضحل ہوجاتے ہیں اور وہ فنا ہوجاتی ہیں ۔ دنیا میں اس اصول پر ہزاروں ‘ لاکھوں قومیں پیدا ہو کر فنا ہوچکی ہیں جن کے نام بھی تاریخ کے صفحوں پر آج موجود نہیں ۔ جس احوال پر افراد اور افراد کا مجموعہ جماعتیں اور جماعتوں کا مجموعہ قومیں پیدا ہوتی اور فنا ہوتی ہیں اس اصول پر اقوام عالم کا مجموعہ جو پیدا ہو کر بڑھتا اور ترقی کرتا چلا جا رہا ہے کیا وہ ایک دن فنائے محض کے آغوش میں جا کر نہ سوئے گا ؟ یقینا وہ سوئے گا اور یہی اس کی موت اور فنا ہوگی ۔ قرآن کریم نے قیامت کے ثبوت میں اکثر اقوام عالم کی تباہی کی مثال دے کر سمجھایا ہے اور اس استدلال سے قیامت کا لازم ہونا بیان کیا ہے ۔
جس طرح ایک فرد مختلف قوتوں سے بلکہ متضاد قوتوں سے پیدا کیا گیا ہے بالکل اسی طرح اس کائنات عالم کی ہرچیز کو متضاد عناصر ہی سے پیدا کیا گیا ہے اور جہاں نظر دوڑاؤ گے تضاد ہی تضاد نظر آئے گا ‘ دن ہے تو رات بھی ہے ‘ روشنی تاریکی ‘ سردی گرمی ‘ آگ پانی ‘ بہار خزاں ‘ تندرستی بیماری ‘ دولت و ثروت افلاس ‘ آسمان و زمین ‘ نیکی بدی ‘ خیر وشر اور حیات وموت غرض جس کو بھی دیکھو یہی معلوم ہوگا کہ یہ اربع عناصر کی چہار دیواری متضاد قوی اور حالات کی بنیادوں پر قائم ہے ان میں جب تک اعتدال قائم ہے اس دنیا کی کل چل رہی ہے جس دن ان کے اعتدال میں فرق آیا وہی اس کی فنا کا دن ہوگا ۔ فرد ‘ جماعت ‘ قوم کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس سلسلہ کو جاری کرنے والے نے اس کو باقی رکھنا ہے اور جب اس نے اس کو جاری نہ رکھنا ہو تو جو ہوتا ہے اس کا نام موت ہے اور جس طرح وہ فرد ‘ جماعت ‘ قوم کے لئے تسلیم ہے بالکل اسی طرح وہ عالم کے لئے بھی تسلیم کرنا چاہئے ۔
رہی مدت عمر تو اس کے متعلق نہ کوئی فرد جانتا ہے ‘ نہ جماعت ‘ نہ قوم اور اسی طرح نہ عالم ہی اس کو جانتا ہے لیکن اس نظام عالم کو پیدا کرنے والا ؟ یقینا وہ اس وقت کو جانتا ہے اور اسی کی اطلاع کے مطابق اور اس کے عوارضات میں سے قیامت کا زلزلہ بھی ہے ۔
ایک بار پھر غور کرو کہ جس طرح افراد ‘ جماعتیں اور قوموں میں بیماری کے بعد تندرستی اور تندرستی کے بعد بیماری کی صلاحیت موجود ہے اسی طرح اس نظام کائنات میں بھی تندرستی کے بعد بیماری اور بیماری کے بعد تندرستی کی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ۔ کتنی دفعہ یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ دنیا ظلم وجور سے لبریز ہوگئی اور کشت وخون کے سیلاب نے اس کے امن امان کو غرق کردیا کہ دفعتا وہ پھر ابھری اور اس کا غرق شدہ امن وامان کشتی نوح (علیہ السلام) بن کر کرہ ارض کو بچالیا مختصر یہ کہ بارہا اس باغ ہستی میں خزاں آئی اور پھر بہار کا موسم اس پر چھا گیا ۔ اجرام سماوی کی باہمی مسابقت میں ہماری زمین کئی دفعہ ٹکرا جانے کے قریب پہنچی اور پھر بال بال بچ گئی ، یہ کرے اپنی رفتار میں بسا اوقات گرنے کے قری پہنچے اور پھر سنبھل گئے مگر فساد وصلاح کا یہ نظام اس وقت تک چل رہا ہے اور اسی وقت تک چلتا رہے گا جب تک ان متضاد وقوی اور کائنات کے استدلالات میں اعتدال قائم ہے جس روز اعتدال فنا ہوگا نظام ارض کا پورا کارخانہ بھی درہم برہم ہوجائے گا ۔ اس وقت زمین اپنی عمر کی پوری تاریخ اور کارناموں کے ساتھ اپنے خالق کے سامنے کھڑی ہوگی اور اپنے اوپر کی ہر کوتاہی و قصور کی شہادت اپنی زبان سے دے گی جس کی ابتدا اسی زلزلہ سے ہوگی جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے اس لئے اس کو قرآن کریم کی زبان میں (شیء عظیم) کہا گیا ہے اور دوسری جگہ زمین کی شہادت اس طرح پیش کی گئی ہے کہ :
” جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس روز وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی ۔ کیونکہ تیرے رب نے اس کو حکم دیا ہوگا ۔ اس روز لوگ متفرق حالت میں لوٹیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں ‘ پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور اسی طرح جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا ۔ “ (الزلزال 99 : 1 تا 8)
Ayah 22:2وہ دن ہوگا کہ ہر مرضع بدحواس ہوجائے گی اور ہر حاملہ حمل گرا دے گی :
2۔ (تذھل) کی اصل ذ ہ ل ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک لفظ قرآن کریم میں اس جگہ بیان ہوا ہے اور (ذھل) ایک چیز کو چھوڑ دینا ہے خواہ اس کو ارادتا چھوڑا جائے یا کسی دوسری مصروفیت سے وہ چھوٹ جائے اور دراصل اس جگہ اس وقت جب وہ زلزلہ شروع ہوگا تو بدحواس ہو کر ہر جاندار کا فطری تقاضوں کو بھول جانے کا تصور پیش کیا گیا ہے کہ وہ زلزلہ اتنا شدید ہوگا کہ انسان تو انسان حیوانوں تک سب کے سب اپنے فطری تقاضوں کو بھی بھول جائیں گے یعنی ایسے مدحوش ہوں گے کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوگا کہ کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے ؟ چونکہ مرضع کا اپنے بچہ کو دودھ پلانا اور حاملہ کو اپنے حمل کو اٹھانا ‘ ایک فطری امر ہے اور مرضع کا تعلق بچہ سے اور حاملہ کا تعلق حمل سے بہت ہی گہرا ہوتا ہے اس لئے اس جگہ ان دونوں باتوں کا ذکر کرکے اس کی شدت کو بیان کیا گیا ہے کہ ایسی گھبراہٹ ہوگی کہ ماں دودھ پلانے والے بچہ کو چھوڑ دے گی اور حاملہ حمل گرا دے گی جو کہ سخت ترین غم ہی کے باعث ممکن ہو سکتا ہے اور پوری کائنات کے بسنے والے اس طرح بدحواس ہوجائیں گے کہ گویا وہ مدہوش ہیں یعنی شراب پی کر بدمست ہوچکے ہیں حالانکہ وہاں شراب کا کوئی تصور بھی نہیں ہوگا حقیقت یہ ہوگی کہ عذاب الہی کی شدت اتنی سخت ہوگی کہ ان سب کی صورت یہ ہوجائے گی ، اس جگہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان آیات کریمات میں دراصل قیامت کا حال بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ عذاب الہی کا خوف دلا کر لوگوں کو اچھے اعمال کی طرف رغبت دلانا مقصود ہے تاکہ اس دن کی سختی سے وہ ڈر کر اپنے اعمال کو درست کرلیں اور شان خداوندی کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ جس اللہ نے اس نظام دنیا کو بنایا ہے اور پھر بنا کر اس کو چھوڑ نہیں دیا بلکہ وہ خود ہی اس نظام کو باقاعدہ اپنے قانون قدرت کے مطابق چلا رہا ہے اور یہ کہ اس کے اس نظام کا تم سب لوگ بھی ایک حصہ ہو اور تم ہی ہو جن کی خاطر یہ سب کچھ بنایا گیا ہے اودھم نہ مچاؤ بلکہ ضابطہ کے پابند ہو کر زندگی گزارو اس لئے کہ تم ہی وہ ہو جو خدا کے ہاں جواب دہ بھی ہو تم جیو گے تو آخر کب تک ؟ اور یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا تو کب تک ؟ جس طرح تم فنا ہوتے ہو یقینا یہ نظام عالم بھی فنا ہوگا اور اس کے فنا ہوتے ہی تم سب کے اعمال کا بھی فیصلہ ہوجائے گا اور ازیں بعد اس فانی نظام سے نکل کر تم کو ابدی نظام میں داخل کردیا جائے گا اور انہی اعمال کے نتیجہ میں وہاں تمہارا مقام متعین کیا جائے گا اور پھر یہ بات واضح ہے کہ اچھے عمل کا بدلہ بھی اچھا ہی ہوگا اور برے عمل کا نتیجہ بھی برا ہی ملے گا ۔
Ayah 22:3لوگوں میں کتنے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑنا شروع کردیتے ہیں :
3۔ ” لوگوں میں ایسے بھی ہیں “ یہ مخصوص لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ” لوگوں میں سے ایسے “ جو نہایت عقل مند صاحب عقل وفکر ‘ صاحب طاقت وقوت ‘ صاحب عزت وجاہ ‘ ایسے جو تقوی وورع میں منتخب قسم کے ہیں اور اسی طرح ” لوگوں میں سے ایسے بھی “ جو بیوقوف ونادان ‘ بےعقل وناسمجھ ‘ کوتاہ عقل ‘ کو دن وونافہم ‘ جاہل ‘ احمق اور بدھو ہیں گویا عام لوگوں میں سے خاص خواہ وہ تحسین میں خاص ہوں یا تقبیح میں اور اس جگہ یہ دوسری قسم ہی مراد ہے یعنی لوگوں میں سے کچھ ایسے ناسمجھ ‘ نافہم ‘ جاہل اور احمق بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنا شروع کردیتے ہیں ، کہا گیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی کہ وہ ایک نہایت ہی جھگڑالو آدمی تھا جس نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے نبی اعظم وآخر ﷺ سے جھگڑا شروع کردیا اور حشر ونشر کا بھی یہ قائل نہ تھا ۔ شان نزول کے طور پر اگر یہ سمجھ لیا جائے تو صحیح ہے لیکن ایسے لوگوں کی نہ اس وقت کمی تھی اور نہ آج ہے ۔ شرک اس وقت بھی عام تھا اور آج بھی ہے ۔
1۔ دنیا کی مشہور ترین قوموں میں عیسائی ‘ یہودی ‘ مجوسی اعلانیہ مشرک تھے اور آج بھی ہیں جو دو خدا ‘ تین خدا اور ان گنت خداؤں کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور آج بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں ۔ ان سب کی تفصیل تو بہت لمبی ہے لیکن ابتدا سب کی یہی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بہت سی صفات ہیں اور لوگوں نے ان مختلف صفات ہی کو مختلف اور مستقل مجسم وجود قرار دے لیا اور ان کے الگ الگ نام رکھ لئے اور آج بھی یہی صورت حال قائم ہے ۔
2۔ بزرگوں کی تعظیم بھی جب حد اعتدال سے تجاوز کرگئی تو شرک کا باعث بنی اور یہ شرک آج باقی قوموں کی طرح خود قوم مسلم میں بھی موجود ہے اور اس کو شخصیت پرستی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ، عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس بیماری کے باعث خدا تسلیم کیا اور رام چندر ‘ کرشن کو بھی اس خوش اعتقادی نے آدمی سے خدا بنا دیا اور قرآن کریم نے اس کی پر وز تردید کی لیکن افسوس کہ آج وہی چیز مسلمانوں نے خود اپنا لی اور ان کی اکثریت نے آج بھی اپنے اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں ۔
3۔ درمیانی واسطوں کا شرک اس وقت بھی موجود تھا اور آج بھی اس کی کثرت پائی جاتی ہے ۔ اس کا اصل ضرر یہ ہے کہ خدا سے انسان کو جس درجہ کا تعلق ‘ جس قسم کا عجز ونیاز جس مرتبہ کی محبت اور جس درجہ کی التجا درکار ہے اس کا رخ دوسری جانب بدل جاتا ہے ، ہزاروں لاکھوں آدمی ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ دیوتا اور اولیاء کرام کائنات اور زمین و آسمان کے خالق نہیں ہیں تاہم وہ ہر قسم کی حاجتیں اور مرادیں انہیں دیوتاؤں ‘ داتاؤں اور اولیاء کرام سے مانگتے ہیں ‘ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں ۔ ان کی نذر ونیاز مانتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں جو کھلا شرک ہے اس وقت آپ بڑوں بڑوں کا تجزیہ کر کے دیکھیں گے جو ملک کے اہم عہدوں پر فائز ہیں اور اس ملک کی اہم شخصیتیں ہیں تو سب کو آپ اس میں مبتلا پائیں گے ۔
4۔ شرک کا ایک بڑا ذریعہ خوارق عادات کی نسبت غلط فہمی بھی ہے وہ کام جو اللہ تعالیٰ سے خاص ہیں کوئی انسان ان کو نہ کرسکتا ہے اور نہ اس سے ہو سکتے ہیں ان کی نسبت انسانوں کے ساتھ روا رکھی گئی ۔ استعارات اور تمثیلات کو حقیقت کا روپ دے کر ان صفات کو انسانوں کے ساتھ خاص کردیا اور یہی خیال رفتہ رفتہ دیوتا ‘ اوتار ‘ ولی اللہ سے ترقی کرتے کرتے بالآخر خدائی تک پہنچ گیا اور انسانوں کو خالق ‘ مالک حقیقی ‘ مردوں کو زندگی بخشنے والے ‘ مختار کل اور علم غیب کے جاننے والے تصور کرلیا گیا ۔
5۔ حرام و حلال کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے خاص تھا لیکن لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) ‘ مذہبی پیشوایاں کو تحریم وتحلیل کا مجاز سمجھا گویا وہ جس چیز کو چاہیں حلال کردیں اور جس کو چاہیں حرام کردیں یہ شرک اس وقت بھی پایا جاتا ہے اور آج بھی اس کی کمی نہیں ہے ۔
6۔ وہ آداب و اعمال جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں وہ اوروں کے ساتھ بھی برتے جانے لگے یہ شرک فی العبادت یا شرک فی الصفات ہے اور ہوتے ہوتے یہ شرک شرک فی الذات سرایت کر گیا ۔ سجدہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے خاص تھا ‘ ہے اور رہے گا لیکن اہل مذاہب نے بتوں ‘ قبروں اور مقتدایان مذہب کے لئے بھی روا رکھا اگرچہ اس کو کسی نے سجدہ عبادت قرار دیا اور کسی نے سجدہ تعظیمی سمجھا ۔ یہ شرک بھی دوسرے سارے شرکوں کو طرح پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے ۔
7۔ اللہ تعالیٰ کی ذات علام الغیوب ہے ‘ تسلیم لیکن لوگوں نے اس وصف میں بھی دوسرے لوگوں کو شریک کردیا اور آج بھی اس وقت کی طرح انبیاء ‘ اولیاء اور صالحین کو غیب کے جاننے والے مانا جاتا ہے اور جن کو ولی اللہ ‘ پیرومرشد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ شرک بھی پہلے شرکوں کی طرح عام ہے اور اس میں مسلمانوں کا سواد اعظم بھی برابر کا شریک ہے ۔
8۔ مخفی قوتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کا شریک ٹھہرایا گیا اور کائنات میں غیبی اسباب وعلل یعنی سحر ‘ طلسم جنات و شیاطین اور ارواح خبیثہ اور اس طرح کی دوسری قوتوں کو غیبی تصرف وقدرت کا اعتقاد قائم کیا گیا اور پھر ان سے بچنے کے لئے ان کی دہائی پکاری جانے لگی اور نذریں چڑھائی جانے لگیں ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی تعلیم نے ان سب خرافات کا قلع قمع کیا اور اللہ رب العزت کے سوا تمام دوسری مخفی قوتوں کا ڈر انسانوں کے سینوں سے نکال کر پھینک دیا لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اس شرک میں مبتلا نظر آتی ہے اور علماء کہلوانے والے ہی اس کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں ، دعائے کلمات الہی کے سوا ہر نوع کی جھاڑ پھونک ‘ منتر ‘ تعویذ ‘ گنڈے اس شرک کا ایک اہم حصہ ہیں ۔
9۔ وہ تمام ادہام و خرافات جس نے لوگوں کو لرزہ براندام کر رکھا تھا اور جن کو لوگ مؤثر اور متصرف سمجھتے تھے نبی اعظم وآخر ﷺ نے اس کا طلسم توڑ دیا اور اعلان فرمایا کہ لا عدوی ولا طیرہ ولا صفر ولا ھامہ (بخاری ومسلم ‘ ابو داؤد ‘ ابن ماجہ) ” نہ چھوت ہے نہ فال بد کوئی شے ہے نہ انسان یا چوپائے کے پیٹ سے سانپ نکل کر اس کو تکلیف پہنچاتا ہے نہ الو کا بولنا کوئی اثر رکھتا ہے “ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ العیافہ والطیرہ والطرق من الجبت “۔ (ابوداؤد ‘ ابن ماجہ) ” پرندوں کی بولی سے فال لینا ‘ ان کے اڑنے سے فال لینا اور کنکری پھینک کر یا خط کھینچ کر فال بتانا شیطانی کام ہیں ۔ “ اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ ’ لا غول (ابوداؤد) ” غول بیابانی بھی کوئی چیز نہیں “ اور اسی طرح قرآن کریم نے اعلان فرمایا کہ یہ (بحیرہ) (سائبہ) (وصیلۃ) اور (حام) اللہ تعالیٰ نے نہیں ٹھہرائے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ آج اس قسم کا شرک بھی عام ہے اور کوئی اس کو شرک تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ۔
10۔ شفاعت کا غلط مفہوم بھی شرک کا باعث تھا جو عربوں اور عیسائیوں میں رائج تھا اور یہودی بھی اس میں برابر کے شریک تھے ان سب کا خیال تھا کہ اللہ تک پہنچنے کے لئے کوئی وسیلہ اور واسطہ ہونا ضروری ہے بغیر واسطہ اور سفارش کے ہم بخشے نہیں جائیں گے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ دیکھو کسی شہنشاہ کے دربار میں انسان سفارشیوں اور مقربوں کے علاوہ نہیں پہنچ سکتا اس لئے وہ اپنے تصور میں جن کو بزرگ خیال کرتے تھے ان کو سفارشی بھی سمجھتے تھے اور زور دے کر کہتے تھے کہ (آیت) ” ھولآء شفعاء نا عند اللہ “۔ (یونس 10 : 18) ” یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں “۔ قرآن کریم نے ان کو یہ جواب دیا کہ (آیت) ” اتنبؤن اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض سبحنہ وتعالی عما یشرکون “۔ (یونس 10 : 18) ” کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں پاک ہے وہ اور بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔ “ کیا آج اس شرک کی کوئی کمی ہے ؟
مندرجہ بالا شرک کی اقسام کی طرح اور بھی بہت سی اقسام ہیں لیکن لوگ ان ساری قسموں کے شرک میں مبتلا تھے اور ہیں اور جب بھی ان سے اس طرح کی کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ ایک جھگڑا شروع کردیتے ہیں اور یہی وہ جھگڑا ہے جس کا زیر نظر آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ جاہل بھی ہیں اور اکھڑو بیوقوف بھی ‘ بات کو سوچنے کے لئے تیار نہیں لیکن جھگڑنے میں شیر ہیں اور ان کو لاکھ سمجھائیں بات کو سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ‘ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ شیطان شریر کی پیروی کرنے والے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ شیطان کا لفظ انسان اور جن دونوں کو شامل ہے شیطان تو پہلے ہی شیطان ہے لیکن جب شیطان مرید یعنی وہ شیطان جو خیر سے بالکل خالی اور شر میں ڈوبا ہوا ہے (مرید) اور (مارد) دونوں ہم معنی ہیں ایسے لوگوں کی حالت اس وقت بھی کٹ حجتیاں کرنا اور خواہ مخواہ کا جھگڑا کرنا تھا اور آج بھی ہے ۔
Ayah 22:4یہ بات طے ہے کہ جو اس کو دوست رکھتا ہے اس کو وہ عذاب سعیر تک پہنچا دیتا ہے :
4۔ یہ انہیں شیطان کے ارادت مندوں کا بیان ہے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے قرآن کریم نے اس کی بڑی وضاحت کی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لئے انسانوں کو گمراہ کرنے کی مہلت طلب کی تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو دی گئی اور دراصل یہ انسان کے مکلف ہونے کا بیان ہے جس کی تفہیم کے لئے یہ پیرایہ اختیار کیا گیا ہے اور حقیقت اس کی قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے کہ انسان متضاد قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے اور اس کے اندر دونوں متضاد قوتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کرتی رہتی ہیں اور اکثریت پر شیطانی قوتیں غالب رہتی ہیں اور اس جگہ بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ شیطان کی تو خدا کی طرف سے یہ مقررہ ڈیوٹی ہے کہ وہ جس جس کو چاہے دوست بنائے لیکن جس نے بھی اس کو دوست بنایا وہ سیدھا جہنم کے راستے پر چل نکلا کیونکہ جو اس کی ذمہ داری ہے وہ وہی کرے گا ، زندگی سلب کرنے والے سے کوئی زندگی طلب کرنے لگے تو انجام کیا ہوگا ؟ ادریس (علیہ السلام) کی طرف منسوب کہانی تو آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں پھر انجام کیا ہوا تھا ؟ انسان کو بار بار یہ بتایا گیا ہے کہ یہ تیرا ابدی دشمن ہے اس سے بچ کر رہنا ہمیشہ تجھے الٹی راہ چلائے گا اور اگر تو نے اس کا کہا مان لیا تو سمجھ لے کہ تباہی تیرا مقدر ہوگی ۔ اب اگر کوئی یہ سوال شروع کر دے کہ زہر آخر کیوں زہر ہے ؟ اور اس زہر کو کیوں پیدا کیا گیا ہے ؟ جب پیدا کرنے والے نے اس کے خواص بھی تم کو بتادیئے تو اب کوئی زہر کھائے گا تو بہرحال وہ مرے گا ، کیا زہر کھا کر مرنے والے کا یہ اعتراض صحیح ہے کہ یہ سارا قصور تو زہر پیدا کرنے والے اور زہر بنانے والے کا ہے ؟ ہرگز نہیں دراصل سارا قصور زہر کھانے والے کا ہے بالکل اسی طرح اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اس کا کام بھی واضح کردیا لیکن اس کے باوجود کوئی اس کو دولت بنائے اور اس سے یارانہ قائم کرے تو اس کا نتیجہ بھی واضح ہے کہ وہ سیدھا جہنم میں اس کو پہنچا دے گا کیونکہ اس کے لئے یہی سیدھی راہ ہے ۔
Ayah 22:5دوبارہ زندگی ملنے سے انکار کرنے والوں سے استفسار کیا جا رہا ہے :
5۔ لوگ ! تم کو دوبارہ اٹھائے جانے پر شک ہے ‘ آخر کیوں ؟ دوبارہ زندگی پر تعجب اور استبعاد اس لئے ہے کہ اللہ رب العزت کے دائرہ قدرت کی پوری وسعت تمہاری سمجھ میں نہیں آئی جس رب ذوالجلال والاکرام نے آسمان بنائے ‘ زمین بنائی ‘ آسمان سے پانی برسایا ‘ مردہ زمین کو زندہ کردیا اور اس میں کھیتیاں ‘ سبزہ اور درخت اگائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پانی کے ایک قطرہ سے انسان بنایا کیا وہ ان کے فنا کے بعد دوبارہ انکی ایجاد پر قادر نہیں ؟ حیات کا یہ سارا کارخانہ پہلے نیست ومعدوم تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہست وموجود کیا پھر رفتہ رفتہ اس کو معدوم کردیا تو جس نے پہلے بغیر کسی سابق مثال کے اس کارخانے کو پیدا کیا ‘ کیا وہ دوبارہ اس کو پیدا نہیں کرسکتا ؟ جس نے نقش اول بنایا نقش ثانی کھینچنے پر اس کو قدرت نہیں ؟ کیا نقش اول مشکل ہوتا ہے یا نقش ثانی ؟ رہا نقش اول تو وہ دور نہ جاؤ خود اپنے وجود کو دیکھو کہ تم ہو ؟ ہاں ! بلاشبہ تم ہو تو تمہارا ہونا ہی نقش اول ہے اور اب ذرا اپنے نقش اول کی تھیوری پر غور کر و کہ تم کیا تھے اور کیا ہوگئے ؟
ہاں ! تم وہی ہو جس کی پیدائش کا معاملہ اس طرح ہے کہ اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہاری جنس اول کو اور دوسری جگہ اس مٹی پر گزرے گئے ادوار اور اس کی کیمیاوی صورتوں کو بھی تفصیل سے بیان کیا پھر جنس اول کے بعد اللہ نے تمہاری پیدائش کو نطفہ کے ساتھ وابستہ کردیا اور نطفہ بھی تمہاری جنس کی دونوں اصناف مرد وزن کے اندر پیدا کیا اور دونوں اصناف کے اس نطفہ کو رحم مادر میں رکھ کر اس کی مختلف صورتیں بدلتے ہوئے نطفہ سے علقہ ‘ علقہ سے مضغہ ‘ مضغہ سے مخلقہ اور بعد ازیں حمل کی مدت پوری کرنے کے بعد صحیح و سلامت انسان پیدا کردیتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مخلقہ کی بجائے غیر مخلقہ ہو کر ناقص الاعضاء اور غیر تمام مردہ پیدا ہوجاتا ہے ، پھر جب ہم تم کو کامل اور مکمل بچہ کی شکل بنا کر پیدا کردیتے ہیں تو اپنے کنٹرول سے باہر نہیں کردیتے بلکہ اپنے قانون کے مطابق اس وقت تک بڑھاتے رہتے ہیں جب تک چاہتے ہیں پھر تم میں وہ بھی ہیں جن کو شباب تک پہنچا کر یا اس سے پہلے ہی قبض کرلیتے ہیں اور وہ بھی ہیں جن کو ایک مکمل عمر تک باقی رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان پر وہ وقت بھی آجاتا ہے کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتا ۔
اس طرح پیدائش سے موت تک انسانی زندگی جن جن مرحلوں سے گزرتی ہے اور ہر مرحلہ میں نازک سے نازک جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ان کے جتنے تقاضے ہوتے ہیں اور پھر جس فیاضی اور حکمت سے ان کو پورا کیا جاتا ہے اگر انسان صرف انہی پر غور کرے تو بےاختیار یہ کہہ اٹھے گا کہ علیم ‘ حکیم ہے وہ خالق جس نے انسان کو پیدا کیا اور بلا ریب وحدہ ‘ لا شریک ہے وہ ذات والاصفات جس کی حکمت اور جس کے علم کے جلوے انسانی زندگی کے ہر موڑ پر چشم بینا کو نظر آتے ہیں پھر انسان جب جوانی تک پہنچتا ہے تو کتنے جتن کرتا ہے کہ وہ جوانی کو بحال رکھ سکے لیکن کیا کوئی اس میں کامیاب بھی ہوا ؟ ذرا غور کر دیکھو کہ یہ ذات ایک قطرہ آب سے انسان کو پیدا کرسکتی ہے اور اس کے سفینہ حیات کو زندگی کے متلاطم سمندر سے گزار کر موت کے ساحل پر لنگر انداز کردیتی ہے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ پھر تمہیں زندہ کر دے ۔ تعجب ہے کہ باقی ساری تبدیلیوں کو تم تسلیم کرلو اور اس آخری تبدیلی سے کلیۃ انکار کر دو یہ سراسر جہالت اور بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟ (ارذل العمر) سے کیا مراد ہے ؟ اس کی وضاحت خود جملہ کے اندر کردی گئی ہے کہ یہ زندگی کا وہ دور ہے جب بڑھاپے کی وجہ سے عقل وفہم کی قوتیں بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں ‘ غور وفکر کی صلاحتیں سلب ہوجاتی ہیں ‘ یادداشت کا خزانہ خالی ہوجاتا ہے اور یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس نے کسی مکتب میں قدم نہیں رکھا وہی شخص جو کبھی وقار ومتانت کا پیکر ہوا کرتا تھا اب ایسی حرکتیں کرنے لگتا ہے کہ بےاختیار ہنسی آجاتی ہے کہ حضرت العلام اب کیا کر رہے ہیں ۔
توحید الہی کی اتنی بڑی لمبی اور طویل دلیل بیان کرنے کے بعد قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی دوسری دلیل بیان کردی جو اس پہلی دلیل سے بھی وزنی اور طولانی ہے ، پہلی دلیل انسان کی اندرونی دلیل تھی اور اب اس کے ماحول اور باہر کی دنیا کی طرف توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ اے انسان ! تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بےآب وگیاہ نظر آتی ہے پھر جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ کس قدر نرم و گداز ہوجاتی ہے اور زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ نہایت ہی خوشنما نباتات سے ہری بھری ہوجاتی ہے اور اے انسان ! جب تو اپنی زندگی میں اس زمین کو بار بار مرتے اور زندہ ہوتے دیکھتا ہے تو پھر آخر اس زمین سے اپنے لئے دوبارہ جی اٹھنا تو کیوں بعید از امکان سمجھتا ہے ۔ ہر موسم کے ساتھ اس زمین کا مردہ ہو کر زندہ ہوجانا تو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو کیا یہ قیامت کا مشاہدہ قیامت کے بپا ہونے سے پہلے تجھے نہیں کرایا جارہا ہے پھر اگر ذرا تو اس بارش کے قطرات پر غور کر کے دیکھے کہ اس زمین کے زندہ کرنے کے لئے جو رب کریم نے پیدا کئے ہیں اور ان قطرات کو پیدا کرنے کے لئے اس کائنات کے ایک ایک ذرہ سے لے کر سورج جیسے اتنے بڑے سیارے تک ہرچیز اس کے لئے عمل پیرا ہے تب جا کر یہ قطرات تیار ہوتے ہیں تو ہوش ٹھکانے آجائے تو پالیا ‘ پالیا کا نعرہ بلند کر دے کہ ہر قسم کی روئیدگی میں حسن و خوبی کا منظر پیش کردینے والا بلاشبہ قادر ہے کہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کر دے ۔
ان اللہ علی کل شیء قدیر :
Ayah 22:6بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جو مردو وں کو زندہ کرنے والی ہے :
6۔ پیچھے جو کچھ بیان ہوا ہے یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اللہ ہی حق ہے ، مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان کہ موت کے بعد دوبارہ کوئی زندگی نہیں بالکل باطل ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہی سچ ہے اور یہ بھی کہ تمہارا یہ خیال محض باطل خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ محض ایک خیالی اور فرضی وجود ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کے لئے مان لیا گیا ہے نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حقیقی فاعل ومختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت ‘ اپنے ارادے ‘ اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات کی ایک ایک چیز کی تدبیر کر رہا ہے اور اس طرح یہ بھی کہ اس نے یہ نظام محض دل بہلانے کے لئے کھلونے کے طور پر نہیں بنایا کہ ایک وقت تک کھیل کر اس کو یونہی توڑ پھوڑ کر ملیا میٹ کر دے گا وہ حق ہے اس کے سارے کام سنجیدہ اور بامقصد ہیں جو پر از حکمت ہیں اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں اس لئے اس نے موت وحیات کا نظام بھی ایک مقصد کے تحت بنایا ہے کہ تم کو تمہارے کئے کا پورا پورا صلہ دے گا ۔
Ayah 22:7بلاشبہ قیامت بپا ہونے والی ہے اور بلاشبہ وہ تم کو زندگی عطا کرے گا :
7۔ دنیا میں ایک سرے کی کوئی چیز موجود نہیں ہے جس کا شروع ہے یقینا اس کا آخر بھی ہے ۔ اگر اس کائنات کا کوئی شروع ہے تو اس کا آخر کیوں نہیں ؟ یقینا اس کا آخر ہے اور اس کا نام قیامت یا ” ساعۃ “ ہے ۔ غور کرو کہ جو پانی کے ایک قطرہ سے عاقل وبالغ انسان بنا کر کھڑا کرتا ہے اور زمین کے خشک اور چٹیل میدان ہوجانے کے بعد باغ و بہار کردیتا ہے اس کے لئے انسانوں کو از سر نو زندہ کردینا کیوں مشکل ہوجائے گا ؟ اس لئے کان کھول کر سن لو کہ یقینا قیامت کو بپا ہونا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا تم شیطان کی وسوسہ انگیزیوں سے دھوکا کھا کر اس یوم حساب کا انکار نہ کردینا ورنہ کف افسوس ملو گے اور ندامت سے ہونٹ کاٹو گے لیکن اس وقت ایسا کرنے سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔ اس زندگی سے اس زندگی کا راز حاصل کرلو گے تو تمہارا انجام یقینا بخیر ہوگا ۔ اس جگہ آیت 5 سے آیت 7 تک ایک مجموعی نظر ڈال لو کہ اس میں بعث بعد الموت کا اثبات ہے جس میں پہلے دلائل بیان کئے ہیں پھر ان سے نتائج نکالے ہیں ۔ چناچہ ارشاد الہی ہے کہ :
ا : (آیت) ” ذلک بان اللہ ھو الحق “۔ اللہ کی ہستی ایک حقیقت ہے ۔
ب : (آیت) ” وانہ یحی الموتی “۔ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے ۔
ج : (آیت) ” وانہ علی کل شیء قدیر “۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔
د : (آیت) ” وان الساعۃ اتیۃ لا ریب فیھا “۔ ایک مقررہ گھڑی آنے والی ہے ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں۔
ہ : (آیت) ” وان اللہ یبعث من فی القبور “۔ جو مر گئے ہیں ‘ اللہ انہیں اٹھا کھڑا کرے گا ۔
یہ پانچ باتیں ہیں جن پر اس مقام کی موعظت نے روشنی ڈالی ہے ‘ یہ شک کو دور کرتی اور اذعان ویقین کی طمانیت پیدا کردیتی ہے ۔ جو موعظت ایسی ہو ‘ اسے قرآن اپنی اصطلاح میں دلیل ‘ برہان اور حجت سے تعبیر کرتا ہے ‘ نہ کہ دلیل مصفلحہ منطق وفنون جدلیہ ۔ اب غور کرو ان پانچ باتوں کے لئے یہاں دلیل کی روشنی کس طرح نمایاں ہوئی ہے ؟ فرمایا (آیت) ” ان کنتم فی ریب من البعث “۔ اگر تم شک میں پڑے ہو کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو اس بات پر غور کرو جو بیان کی جاتی ہے تمہارا سارا شک اور استغراب دور ہوجائے گا ۔
تخلیق حیات اور اعادہ حیات :
(آیت) ” فانا خلقنکم من تراب “۔ تمہیں یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ انسان مر کر پھر اٹھ کھڑا ہو یعنی زندگی کا دوسرا اٹھان تمہیں عجیب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر یہ بات عجیب ہے تو کیا اس سے زیادہ یہ بات عجیب نہیں کہ زندگی کا پہلا اٹھان ظہور میں آگیا ؟ تم اپنی ہستی میں تو شک نہیں کرسکتے ؟ اچھا یہ ہستی کس طرح ظہور میں آئی ؟ دوسری مرتبہ اگر انسانی زندگی اٹھے گی تو یہ زندگی کی ابتدا نہیں ہوگی ۔ زندگی کا اعادہ ہوگا لیکن اس کی ابتدا کیونکر ہوئی ؟ (من تراب) مٹی سے یعنی (من صلصال من حمآء مسنون) (15 : 28) مٹی کا گارا جس میں مدتوں تک خ میرا اٹھتا رہا اور پھر کھنکھارنے لگا سب سے پہلے زندگی کا جرثومہ اسی میں نمودار ہوا تھا پھر حکمت الہی نے اسے درجہ تکمیل تک پہنچایا ، سوال یہ ہے کہ اگر زندگی عدم حقیقی سے وجود میں آسکتی تھی تو کیا ایک مرتبہ وجود میں آ کر پھر دہرائی نہیں جاسکتی ؟ زیادہ عجیب بات کونسی ہے ؟ کسی چیز کی ابتدائی پیدائش یا پیدائش کے بعد اعادہ ؟ اگر تمہارے لئے ابتدائی پیدائش میں کوئی اچنبھا نہیں تو اعادہ میں کیوں ہو ؟ کیوں تم قطعی فیصلہ کر دو کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ؟ جس قدرت پر یہ دشوار نہیں ہوا کہ زندگی پیدا کر دے اس پر یہ کیوں دشوار ہونے لگا کہ پیدا شدہ زندگی کو کہ بکھر گئی ہے پھر سمیٹ دے ‘ اگر کمہار نئی مٹی سے نیا برتن بنا سکتا ہے تو یقینا ٹوٹے ہوئے برتن کے ٹکڑوں کو بھی دوبارہ ڈھال سکتا ہے ۔
پیدائش کا تناسلی سلسلہ اور قانون تحول :
اچھا یہ تو ابتدائی پیدائش ہوئی ۔ اس کے بعد پیدائش کا جو سلسلہ قائم ہوا ٗاس کا کیا حال ہے ؟ اس کا حال یہ ہے کہ دو حقیقتیں ہر وقت تمہارے سامنے آتی رہتی ہیں ۔ ایک یہ کہ انسانی وجود کا پورا درخت صرف ایک بیچ سے پیدا ہوتا ہے جس کا نام ” نطفہ “ ہے لیکن نطفہ کیا ہے ؟ کیا گوشت پوست ہے ؟ ہڈیوں کا ڈھانچا ہے ؟ ڈیل ڈول ہے ؟ شکل و صورت ہے ؟ عقل و حواس ہے ؟ نہیں ‘ کچھ بھی نہیں ہے اور پھر سب کچھ ہے ، ایک قطرہ حقیر مگر اسی سے انسان کا حجم ‘ اس کی قامت ‘ اس کی صورت ‘ اس کی ساری معنوی قوتیں ظہور میں آجاتی ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں یکسر تغیر وتحول کا قانون جاری ہے ۔ شکم مادر میں جنین کو دیکھو کتنی مختلف حالتوں سے گزرتا ہے ؟ نطفہ سے علقہ علقہ سے مضغہ ‘ مغضہ سے عظم لحم ‘ عظم ولحم سے شکل و صورت پھر پیدائش کے بعد بچے کو دیکھو ‘ کس طرح یکے بعد دیگر نشو وبلوغ کے درجے بدلتا رہتا ہے ؟ جوان آدمی کو دیکھو ‘ کس طرح جسم وعقل کے کمال تک پہنچتا ہے اور پھر زوال کی طرف پلٹتا ہے گویا انسان کی ہستی سراسر تبدل ہے ‘ تطور ہے ‘ تحمول ہے ۔ ایک حالت سے بدل کر دوسری حالت میں داخل ہوتے رہنا ہے ۔
عالم نباتات اور اعادہ تحول :
یہی حال عالم نباتات کا ہے ، زمین کی گود میں بھی زندگیاں اور پیدائشیں ہیں جس طرح یہاں ” نطفہ “ ہے وہاں بھی تخم اور تخم کے ذرات ہیں ۔ تم دیکھتے ہو کہ اس کی گود زندگیوں سے بالکل خالی ہوگئی ، پھر دیکھتے ہو کہ زندگیوں کی فراوانی سے شاداب ہوگئی ۔ یہ انقلاب کس طرح ظہور میں آیا ؟ اسی طرح کہ محض ایک تخم سے ‘ تخم کے ایک ذرہ سے ‘ حیات نباتاتی کی ایک جوہری تلقیح سے ‘ پورا وجود نباتاتی پیدا ہوگیا اور تبدل وتحول کی تمام حالتیں اس پر بھی اسی طرح گزریں جس طرح تمہاری ہستی پر گزرتی رہتی ہیں ۔
ساتھ ہی غور کرو ‘ یہاں ایک تیسرا قانون بھی کام کر رہا ہے تم دیکھتے ہو کہ تبدل کے لئے ایک اجل مسمی ہے یعنی ایک مقررہ وقت جونہی وہ وقت آیا ‘ احیاء و اجسام ظہور میں آگئے ۔ (نطفۃ) کو دیکھو (نقر فی الارحام مانشآء الی اجل مسمی) وہ اندرونی طور پر بنتا رہتا ہے ‘ مگر ایک مقررہ وقت تک ارحام کے اندر چھپا رہتا ہے اجسام نباتیہ کو دیکھو ‘ ان کی زندگی کا جو ہر موجود ہوتا ہے ‘ مگر ابھرتا نہیں ‘ ابھرتا کب ہے ؟ (اذا انزلنا علیھا المآئ) جب بارش کی گھڑی آتی ہے اور زندگی کے بروز ونمود کا اعلان کردیتی ہے اس وقت (آیت) ” اھتزت وربت وانبتت من کل زوج بھیج “ کا عالم نمایاں ہوجاتا ہے۔
تخم حیات اور اعادہ نشتہ :
یہ انسان وحیوان کی کامل ہستی جو محض ” نطفہ “ سے ظہور میں آجاتی ہے کیوں ظہور میں آتی ہے ؟ اس لئے کہ اس میں جوہر حیات بالقوۃ موجود ہے اور پھر وہ بالفعل نمود کرتا ہے ۔ اچھا اگر تمہاری روزانہ زندگی کا یہ معاملہ تمہارے لئے عجیب نہیں تو یہ بات کیوں عجیب ہوجائے کہ اسی طرح کوئی نطفہ حیات ہے جو مرنے کے بعد بھی موجود رہتا ہے اور اس سے دوبارہ وجود انسانی ظہور میں آجائے گا ؟ تم کہو گے ‘ اس کی کوئی مثال نہیں لیکن تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو جب کہ اس کی مثال ہمیشہ تمہاری نگاہوں سے گزرتی رہتی ہے ؟ (آیت) ” وتری الارض ھامدۃ “۔ تم زمین کو دیکھتے ہو ‘ وہی زمین جو کچھ عرصہ پہلے شاداب تھی ‘ یک قلم سوکھ گئی ہے ۔ پھر جب اس کی زندگی کی (اجل مسمی) آجاتی ہے ‘ یعنی پانی برسنے لگتا ہے تو اچانک مرئی ہوئی شادابی دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے اور ہر تخم نباتی اٹھ کھڑا ہوتا ہے ‘ جس طرح نباتات کا اعادء نشۃ کا یہ منظر ہمیشہ دیکھتے رہتے ہو ٹھیک اسی طرح انسانی زندگی کے اعادہ نشۃ کا معاملہ بھی سمجھو بارش نے نئی زندگی نہیں پیدا کردی ۔ اسی پیدا شدہ زندگی کو دہرا دیا جو زمین کو آغوش میں محفوظ موجود تھی ، قیامت کی اجل مسمی بھی نئی زندگی پیدا نہیں کرے گی ، اسی پیدا شدہ زندگی کو دہرا دے گی جو کائنات کی آغوش میں موجود ہے ۔ اب تم کہو گے اگر موجود ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتی ؟ لیکن تمہیں کونسی چیز دکھائی دیتی ہے ؟ تمہیں نطفہ میں انسان اور تخم میں درخت دکھائی دیتا ہے ؟ تم کہو گے کہ نطفہ اور تخم تو دکھائی دیتا ہے اور زندگی کے جو جراثیم آنکھوں سے نہیں دیکھے جاسکتے ‘ آلات کے ذریعے دیکھ لئے جاسکتے ہیں ، ہاں دیکھ لئے جاسکتے ہیں ‘ مگر اس لئے کہ زیادہ دقیق نہیں ‘ جو دقیق نہیں تھے وہ تمہیں صاف نظر آتے رہے ، جو دقیق تھے وہ ہزاروں برس تک نظر نہیں آئے یہاں تک کہ تم نے طاقتور خوردبینیں ایجاد کیں پس تم کیسے حکم لگا سکتے ہو کہ ان سے بھی دقیق تر تخم ہائے حیات موجود نہیں ؟ اگر تمہیں صرف اتنی سی بات کیلئے دس ہزار برس تک انتظار کرنا پڑا تو نطفہ حیوانی کے جراثیم دیکھ لو تو تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ ان سے بھی دقیق تر تخم ہائے حیات کے لئے تمہیں چند ہزار برس اور مطلوب نہیں ؟ اور ان کا مرئی نہ ہونا ان کی معدومیت کا قطعی ثبوت ہے ؟ اب دیکھو مندرجہ صدر موعظت سے ان پانچوں باتوں پر کس طرح اذعان ویقین کی روشنی پڑ رہی ہے ؟
ا : (آیت) ” ان اللہ ھو الحق “۔ کیونکہ یہ سب کچھ بغیر اس کے نہیں ہو سکتا کہ خالقیت اور قدرت کی ایک حقیقت کام کر رہی ہے ۔ تم وجدانی طور پر ایسا اعتقاد رکھنے پر مجبور ہو۔
ب : (آیت) ” انہ یحی الموتی “۔ کیونکہ زندگی نہ تھی اس نے اس کو پیدا کیا اور پھر برابر اسے دہراتا رہتا ہے ۔
ج : (آیت) ” انہ علی کل شیء قدیر “۔ کیونکہ جس کی قدرت نے ایک ایسے مواد سے جو مٹی اور پانی کا ملا جلا کیچڑ تھا زندگی کا شعلہ روشن کیا اور اس کا ایسا نظم قائم کردیا کہ نطفہ کا ایک قطرہ اور تخم کے ایک ذرہ سے پیدائشیں نکلتی اور زندگیاں بنتی رہتی ہیں ‘ اس کی قدرت سے کونسی بات بعید ہو سکتی ہے ؟
د : (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ لا ریب فیھا “۔ ایک مقررہ گھڑی قیامت کی ضرور آنے والی ہے کیونکہ یہاں تبدیلی کا قانون نافذ ہے اور ہر تبدیلی کے لئے ایک اجل مسمی مقرر ہے ، پس جس طرح بارش کی مقررہ گھڑی تمام اجسام نباتیہ کو موت کی حالت سے زندگی کی حالت میں لے آتی ہے ضروری ہے کہ نوع انسانی کے لئے بھی ایک ایسی ہی اجل مسی ہے ۔
ہ : (آیت) ” وان اللہ یبعث من فی القبور “۔ اور جب وہ گھڑی آئے تو تمام اموات لہلہاتی ہوئی کو نپلوں کی طرح اٹھ کھڑی ہوں ۔ (من فی القبور) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مردے قبر نامی محل دفن میں مدفون کئے گئے ہیں بلکہ عربی کا محاورہ ہے کہ مردوں کو اصحاب قبور کہتے ہیں (ما انت بمسمع من فی القبور) یعنی تو مردوں کو مخاطب نہیں کرسکتا زندوں ہی سے بات چیت کی جاسکتی ہے ۔
قرآن کی اصطلاح میں ” بعث “ ” موت “ اور ” حیات “ ۔
قرآن کی اس موعظت کو ٹھیک طور پر سمجھ لینے کے لئے ضروری ہے کہ چند مقامات واضح ہوجائیں ۔
اولا : قرآن نے جا بجا حیات بعد الموت کو (بعث) سے تعبیر کیا ہے ۔ (بعث) کے معنی اٹھ کھڑا ہونے کے ہیں ۔ گویا اس کے نزدیک یہ معاملہ ایسا ہوگا جیسے کوئی سو رہا تھا ‘ پر اٹھ کھڑا ہوا ۔ وہ اسے خلقت کے ” اعادہ “ سے بھی تعبیر کرتا ہے ۔ (آیت) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ “۔ (21 : 104)
ثانیا : موت اور حیات کا اطلاق وہ صرف انہی دو حالتوں پر نہیں کرتا جو فلسفیانہ اصطلاح کی معدومیت اور تخلیق ہیں بلکہ ہر ایسی حالت پر کرتا ہے جس میں زندگی کی نمود مفقود ہوجائے یا بالفاظ دیگر صورت معدوم ہوجائے اور پھر نمایاں اور متشکل ہوجائے ، اس باب میں اس کا اطلاق اس درجہ وسیع ہے کہ نیند کی حالت پر بھی اس نے موت کا اطلاق کیا ہے اور دراصل یہ خود عربی زبان کا لغوی اطلاق ہے ، بعد کو موت اور حیات نے جو فلسفیانہ معانی پہن لئے وہ قرآن کی زبان نہیں ہے ۔
انسان کا مشاہدہ اور اعتقاد بھی یہی ہے ” نطفہ “ کو ہم زندہ نہیں کہتے ‘ حالانکہ اس میں زندگی کا جرثومہ موجود ہے ۔ آم کی گٹھلی اور پتھر کے ایک ٹکڑے میں ہم کوئی فرق نہیں کرتے دونوں ہماری زبان ‘ ہمارے اعتقاد اور ہمارے مشاہدہ میں بےجان ہیں ‘ حالانکہ علمی اصطلاح میں گٹھلی بےجان نہیں ۔ اس میں نباتی زندگی کا تخم موجود ہے ۔ پس قرآن کریم کے اختیارات لغویہ کو کہ لغت کے اعتبار سے ہیں ‘ علمی مصطلحات پر ڈھالنا نہیں چاہئے ۔ اس کی زبان میں ” موت “ عام ہے خواہ انعدام محض ہو ‘ خواہ انعدام صورت ہو۔ اسی طرح ” حیات “ بھی عام ہے ‘ خواہ معدومیت محضہ سے تخلیق ہو ‘ خواہ کسی جوہر حیات سے بروز وانبعاث ہو ۔ چناچہ جس طرح وہ اس ابتدائی حالت کو موت سے تعبیر کرتا ہے جو عدم محض کی حالت تھی ؟ اسی طرح نطفہ کی اور تخم ہائے نباتات کی حالت کو بھی موت سے تعبیر کرتا ہے اور کہتا ہے پہلی زندگی مٹی سے ہوئی جب کہ حیات حیوانی میں سے کچھ نہ تھا ‘ پھر نطفہ سے ہوتی ہے جبکہ نطفہ کا جوہر حیات موجود ہوتا ہے ۔
ثالثا : اس نے حشر اجساد کے معاملہ کو بھی اسی حالت سے تشبیہہ دی ہے ‘ جو نطفہ سے زندگی کے ابھرنے اور تخم سے درختوں کے نکلنے کی حالت ہوتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا انسان کی دوسری زندگی کا ظہور اس طرح کا ظہور نہ ہوگا جیسا کہ ابتدائی تخلیق کا ظہور تھا یعنی بغیر کسی اصل حیات کے حیات ظہور میں آگئی تھی بلکہ ایسا ہوگا جیسا نطفہ سے ‘ ایک نئی پیدائش اور بزور نباتات سے ایک نیا انبعاث ظہور میں آجاتا ہے یعنی اصل حیات بالقوہ موجود ہوتی ہے اور یہ بالفعل ظہور میں آجاتی ہے ۔ اسی لئے وہ اسے (بعث) سے تعبیر کرتا ہے یعنی جیسے کوئی آدمی بہت دیر تک سوتا رہا تھا ‘ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور یہی وجہ ہے کہ اس نے انبعاث کے احساسات و واردات ایسے بیان کئے ہیں جیسے نیند کے بعد بیدار ہونے پر طاری ہوا کرتے ہیں ، مثلا جا بجا کہا ہے ‘ اس وقت لوگ سوچیں گے ‘ ہم کتنے عرصہ حیات بیخبر رہے ؟ کوئی کہے گا تھوڑی دیر ۔ کوئی کہے گا زیادہ عرصہ تک اور پھر یہی وجہ ہے کہ وہ اس حالت کو اعادہ حیات سے تعبیر کرتا ہے اور عالم ہستی کے تبدل وتحول سے استدلال کرتا ہے یعنی جب فطرت کائنات کے ہر گوشہ میں تبدل حالت کا قانون کام کر رہا ہے اور یہاں ہر قدم پر تبدل اور ہر منزل پر تجدد ہے تو کیوں تمہیں اس سے انکار ہو کہ ایک اور تبدل بھی پیش آنے والا ہے اور اس کا نام بعث وحشر ہے ؟
انسان اپنی ہستی کی جس منزل تک پہنچ چکا ہے ‘ وہاں سے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھے کتنے بیشمار تبدلات ہیں جن سے اس کی ہستی گزرتی رہی ہے ؟ پھر اگر ماضی میں بیشمار تبدلات ہوچکے ہیں تو کیوں مستقبل میں بھی نہ ہوں ؟ کیوں تبدلات کا سفر اسی منزل تک پہنچ کر رک جائے ؟ کیوں اس پر تعجب ہو کہ جہاں ایک ہزار تبدیلیاں ہوچکی ہیں وہاں ایک آخری تبدیلی اور بھی ہونے والی ہے ؟ ہم نے اضافی حیثیت سے یہاں ” آخری “ کہہ دیا ‘ ورنہ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ تبدل بھی آخری ہوگا ؟ (آیت) ” وما اوتیتم الا قلیلا “۔
رابعا : ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں جو چیز بھی اپنا وجود پالیتی ہے ‘ پھر اس کی حقیقت معدوم نہیں ہوتی صرف صورت معدوم ہوجاتی ہے اور اسی صورت کا انعدام ہمارے لئے اس کا معدوم ہوجانا ہوتا ہے ۔ تم درخت کو چیر کر تختہ بنا لیتے ہو ۔ اب درخت معدوم ہوگیا ۔ تختہ پیدا ہوگیا ‘ مگر جو چیز معدوم ہوگئی وہ کیا تھی ؟ صورت یا حقیقت ؟ محض صورت جو پیدا ہوگئی وہ کیا پیدا ہوئی ؟ نئی حقیقت یا نئی صورت ۔ کیونکہ درخت پر جو تبدیلی طاری ہوئی ‘ وہ صرف صورت کی ہوئی ‘ حقیقت تختے کی بھی وہی ہے جو درخت کی تھی ، اب تختہ جلا دو تختہ نابود ہوگیا ‘ راکھ پیدا ہوگئی ، راکھ بھی اڑا دو راکھ نابود ہوگئی ، منتشر ذرات پیدا ہوگئے ‘ مگر ان دونوں حالتوں میں بھی جو انعدام ہوا وہ کس چیز کا ہوا ؟ محض صورت کا ، اگر تم منتشر ذروں کا بھی تعاقب کرسکتے ہو تو کر دیکھو صورت بدلتی جائے گی حقیقت کبھی معدوم نہیں ہوگی ، کیونکہ یہاں ہر گوشہ میں تبدل صرف صورت کے لئے ہے حقیقت کیلئے نہیں ہے ۔
لیکن صورت کے اس تبدل کا سلسلہ کس نقطہ پر جا کر ختم ہوتا ہے ؟ اس کا کھوج ہم آج تک نہ پا سکے ۔ ہماری جستجو کا قافلہ ہمیشہ کی طرح اب بھی رواں ہے ، ہم نے عرصہ تک عناصر کا خواب دیکھا ، ہم مدتوں جزء لا یتجزی کی سراغ رسانی میں رہے ہم نے ذی مقراطیسی سالمات پر صدیوں تک اعتماد کیا اب ہم الیکڑون (ELECTRON) کی مثبت اور منفی لہروں میں اسے دیکھ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ آگے بڑھیں گے یا یہیں رکے رہیں گے ، البتہ اس آخری منزل نے حقیقت کا ایک نیا جلوہ آشکارا کردیا ہے یعنی یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مادہ کا آخری بقایا محض ایک جامد ذرہ ہی ہے بلکہ حرکت و خواص حرکت کی ایک مشتعل قوت ہے اور نہیں معلوم اس نقطہ قوت میں فعل وانفعال کی کتنی دنیائیں پوشیدہ ہیں۔
تبدل صورت اور بقاء حقیقت سے استدلال :
قرآن کہتا ہے جب تم دیکھ رہے ہو کہ یہاں تبدل صورت اور بقاء حقیقت کا قانون ہر گوشہ میں کام کر رہا ہے تو پھر تم نے کیسے سمجھ لیا کہ ایک انسانی ہستی وجود میں آکر پھر مطلقا نابود ہوجاتی ہے اور اس کی کوئی حقیقت جوہری باقی نہیں رہتی ؟ فطرت کا جو قانون وجود ہستی کے ہر گوشہ میں نافذ ہے وہ زندگی اور روح کے لئے کیوں معطل ہوجائے ؟ وہ انسان کی زندگی کے لئے کیوں معطل ہوجائے جو کرہ ارضی کی تمام مخلوقات کا ماحصل اور سلسلہ تخلیق کا منتہی اور مقصود ہے ؟ نہیں یہاں کوئی ہستی بھی جو وجود میں آجائے نابود محض نہیں ہو سکتی ۔ بلاشبہ اس کی صورت مٹ جاتی ہے مگر حقیقت نہیں مٹے گی ۔ اس کی صورت پر ہزار تبدیلیاں طاری ہوجائیں مگر بالآخر کوئی نہ کوئی حقیقت جوہری ضرور باقی رہے گی ، وہ ایک دانہ تخم کی طرح ہو ‘ ایک نطفہ پیدائش کی طرح ہو ‘ ایک ذرہ حیات کی طرح ہو مگر ممکن نہیں کہ موجود نہ ہو ۔ وہ کسی نہ کسی حالت میں ضرور موجود رہتی ہے اور پھر جونہی بعث و اعادہ کی گھڑی آئے گی اور زندگی کا صور پھونکا جائے گا ہر انسانی زندگی اس سے نمودار ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح نطفہ پیدائش سے شکم مادر میں تخم نباتی سے آغوش ارضی میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔
یہاں کوئی ہستی جو پیدا ہوجائے ‘ پھر نابود نہیں ہوجاتی ۔ وہ کسی مخفی نشیمن میں سوئی رہتی ہے ۔ اب اسے دوبارہ خلق کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ صرف اٹھا دینے کی ضرورت ہوتی ہے ، نباتات کی ہستی ذرات تخم کی نشیمنوں میں سوئی رہتی ہے جب نمو وبروز کا موسم آتا ہے تو وہ نئی ہستیاں پیدا نہیں کردیتا سوئی ہوئی ہستیوں کو بیدار کردیتا ہے ۔ اسی طرح انسان کی ہستی بھی کسی نہ کسی ذرہ تخم میں بند ہو کر سو رہتی ہے اور جب وقت آئے گا تو اٹھ کھڑی ہوگی تم اسے دیکھتے نہیں لیکن تم اور کتنی حقیقتوں کو دیکھ رہے ہو ؟ تمہیں اس حقیقت کا پتہ نہیں لیکن تم نے اور کتنی حقیقتوں کا پتہ لگا لیا ہے ؟ تمہارے عدم ادراک سے حقیقت معدوم نہیں ہو سکتی تم اگر اعتقاد وجود کے لئے مشاہدہ وجود کو شرط سمجھ لو گے تو تم کو آدھی دنیا سے انکار کردینا پڑے گا تم نے اگر ایسا سمجھ لیا ہوتا تو آج حقائق مادیہ کی دو تہائی حقیقتیں غیر معلوم ہوتیں ، تم عرفان حقیقت کی راہ میں صرف حواس کے سہارے چل نہیں سکتے تمہیں ادراک عقلی کا سہارا پکڑنا پڑتا ہے اور پھر جب یہ سہارا بھی جواب دے دیتا ہے تو تم رک جاتے ہو اور انتظار کرتے ہو تمہیں اس گوشہ میں بھی مان لینا چاہئے اور انتظار کرنا چاہئے ۔
خامسا : قرآن نے بعث وحشر کے معاملہ کا جس طرح ذکر کیا ہے اور عالم نباتات کے اعادئہ حیات کی مقررہ گھڑی سے جس طرح اسے تشبیہہ دی ہے اس سے ایسا متبادر ہوتا ہے کہ تبدل کائنات کے معاملہ کو بھی موسموں کی تبدیلیوں کا سا معاملہ تصور کرنا چاہئے ، دنیا میں ہم دیکھتے ہیں ‘ خزاں و بہار ‘ خشک سالی وسیرابی ‘ گرمی وسردی کے مختلف موسم آتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح تبدل کائنات کا بھی ایک موسم ہے اور ہمارے سال کی طرح اس کا بھی کوئی سال اور ہماری روز شماریوں کی طرح اس کی بھی روز شماری ہے لیکن ہم اپنی تقویم پر جو کائنات کے صرف ایک حقیر کرہ کی سیروگردش کا نتیجہ ہے اس کی تقویم کو قیاس نہیں کرسکتے ۔ اس کی مدت کوئی بڑی ہی طولانی مدت ہے ‘ اتنی طولانی کہ ہماری وقت شماری کا پچاس ہزار سال اور اس کا صرف ایک دن ، چناچہ آگے چل کر سورة معارج میں پڑھو گے (آیت) ” تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “۔ (70 : 4) ہمارے سال کے موسموں کی طرح اس کا بھی ایک موسم ختم ہوتا اور دوسرا موسم شروع ہوتا ہے ‘ یہاں جب حیات ارضی کا موسم آتا ہے تو اس کی محرک اول بارش ہوتی ہے ‘ بارش گرتی ہے اور اموات نباتات کو زندگی کا حکم مل جاتا ہے ۔ (آیت) ” اھتزت وربت وانبتت من کل زوج بھیج “۔ ٹھیک اسی طرح جب سال کائنات کا وہ مقررہ موسم آئے گا تو بارش ہی کی طرح زندگی کا کوئی صور پھونک دیا جائے گا (آیت) ” فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ “۔ (69 : 13) اور اس مجرد حکم سے تمام اموات انسانی اٹھ کھڑی ہوں گی (آیت) ” یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشرہ مھطعین الی الداع “۔ (54 : 7 ‘ 8)
علم اس مقام میں نہیں کہ جرات انکار کردے :
آخر میں ایک اصل عظیم نہیں بھولنی چاہئے جہاں تک مسئلہ حیات کی حقیقت کا تعلق ہے علم انسانی کے سامنے کوئی یقینی روشنی موجود نہیں ۔ ہم اس وقت تک یہ بھی نہیں جان سکے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ ارنست ہیکل ( Ernst Hacckal) کے لفظوں میں ہم زیادہ سے زیادہ جو کرسکے ہیں وہ صرف یہی ہے کہ ” اس کے آنے کا انتظار کریں اور جب آجائے تو اس کے اطورا واحوال اور خواص وافعال کے تعاقب میں نکل جائیں ۔ “ لیکن وہ ہے کیا ؟ آتی کہاں سے ہے ؟ وہ جاتی کہاں ہے ؟ تو اس بارے میں علم انسانی کا قدم اس جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا جہاں ہزاروں برس سے متحیر و درماندہ کھڑا ہے ۔
جب حقیقت حیات کے بارے میں ہماری عقلی معلومات کا یہ حال ہے تو کیا ہمیں ایسا مقام حاصل ہے کہ وحی الہی کے اعلانات علم ویقین کے معاملہ میں نفی و انکار کی جرات کریں ؟ اگر کریں گے تو یہ ویسی ہی جرات ہوگی جیسے اسی سورت میں جدال فی اللہ بغیر علم سے تعبیر کیا ہے ۔ (آیت) ” ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیرا)
Ayah 22:8جاہل ہیں ‘ علم کی روشنی موجود نہیں اور اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں :
8۔ مثل ہے کہ ” آنکھوں سے نظر نہ آئے نام نوربھری “ جہالت ہے کہ کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور علم نام کی شے موجود ہی نہیں اور جھگڑ رہے ہیں تو اللہ کی ذات میں گویا ایسا احمق کہ جس میں فہم و فراست نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں جس نے کسی جاننے والے سے پوچھ کر بھی اپنی جہالت کو بھی دور نہیں کیا اور ایسا بدنصیب ہے کہ کسی صحیفہ آسمانی کو کھول کر بھی نہیں دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے رسول ﷺ سے جھگڑا کرتا ہے ‘ کس ناطے سے ؟ اس کے پاس مال و دولت ہے ‘ اولاد ہے ‘ خاندان اور برادری ہے اس لئے وہ غرور اور نخوت سے اکڑ اکڑ کر چلتا ہے ۔ اپنے چیلوں چانٹوں کو ساتھ رکھتا ہے اور ان کے آگے آگے چلتا ہے اس نے اپنا ستیاناس تو کر ہی لیا ہے ۔
اور اب دوسروں کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے دن رات کوشش کر رہا ہے ۔ کوئی پوچھے کہ تیرے پاس بحث وتمحیث کے لئے رہ گئی ہے تو وہ صرف اللہ ہی کی ذات ہے ؟ حالانکہ تیرا شمار اگر انسانوں میں ہے تو وہ فقط شکل و صورت کے لحاظ سے ہے تیرے پاس انسانی اوصاف میں سے تو ایک وصف بھی نہیں ۔ تف ہے تیرے پر اور تیری اس حرکت پر جو تو نے اختیار کی ہے ۔