Ayahs 22:1–5مضغۃ، علقہ کو انسان قرار نہیں دیا جاسکتا
قول باری ہے (مخلقۃ وغیر مخلقۃ جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی ) قتادہ نے کہا۔” جو تام الخلقت بھی ہوتی ہے اور نا تمام بھی۔ “ مجاہد کا قول ہے ” شکل والی بھی اور بےشکل بھی) حضرت ابن مسعود کا قول ہے … کہ جب رحم میں نطفہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ایک فرشتہ اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے ۔ اے رب ! یہ نطفہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا اور اگر تام الخلقت ہوگا تو اس کا رزق اور اس کی عمر، نیز مذکر یا مئونث، نیک بخت ہے یا بدبخت ، فرشتہ یہ تمام تفصیلات در جکر دے گا۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ غیر مخلقہ سے اسقاط کی شکل میں گر جانے والا بچہ مراد ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری مضغۃ مخلقۃ گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی ہوتی ہے) کا ظاہر، اس بات کا مقتضی ہے کہ گوشت کی بوٹی کو انسان قرار نہ دیا جائے جس طرح یہ اس امر کا مقتضی ہے کہ خون کے لوتھڑے کو نطفہ اور مٹی کو بھی انسان نہ کہا جائے۔ رحم میں جنین کے ان تمام مراحل کے بیان سے دراصل اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی قدرت کاملہ اور اپنی مشیت کے نفاظ سے آگاہ کیا ہے کہ ا ن کے نطفہ، علقہ (خون کے لوتھڑے ) اور مضغہ (گوشت کی بوٹی سے جو کسی بھی زاویے سے انسان نہیں ہوتا اور جس میں کوئی ترکیب و تعدیل اعضا نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی شکل ہوتی ہے ایک متناسب الاعضاء اور پورے ڈیل ڈول کا انسان پیدا فرما دیا۔ یہ اس امر کی متقاضی ہے کہ مضغہ کو انسان قرار نہ دیا جائے۔ جس طرح نطفہ اور علقہ انسان نہیں کہلا سکتے۔ جب یہ انسان قرار نہیں دیا سکتا تو اسے حمل بھی قرار نہیں دیا جاسکتا … اس لئے گوشت کے اس لوتھڑے کے اسقاط سے عدت کی مدت ختم نہیں ہوسکتی اس لئے کہ اس میں انسانی صورت کا ظہور نہیں ہوتا اور اس طرح اس کی حیثیت نطفہ جیسی ہوتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں حمل نہیں کہلاتیں اور رحم سے ان کے خروج کی بنا پر عدت کی مدت ختم نہیں ہوتی۔ حضرت ابن مسعود کا قول جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اس پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ جب نطفہ رحم میں آ جاتا ہے تو ایک فرشتہ اسے اپنی ہتھیلی پر اٹھا کر کہتا ہے۔ ” پروردگار ! یہ تام الخلقت ہوگا یا نا تمام۔ “ اگر یہ نا تمام ہوگا تو رحم اسے خون کی شکل میں خارج کر دے گا۔
حضرت ابن مسعود نے بتایا کہ رحم جس خون کو خارج کردیتا ہے وہ حمل نہیں ہوتا خواہ یہ خون لوتھڑے کی شکل میں جم گیا ہو یا اس میں سیلا نپایا جاتا ہو اس سے اس کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ اس میں جب تک انسانی خلقت کا ظہور نہ ہوجائے اس وقت تک یہ حمل نہیں کہلا سکتا اور اس کے خروج سے عدت کی مدت اختتام پذیر نہیں ہوتی کیونکہ یہ پیدا ہونے والا بچہ نہیں ہوتا جس طرح نطفہ اور علقہ، ولد نہیں کہلا سکتے اور ان کے خروج سے عدت ختم نہیں ہوتی۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابو دائود نے ، انہیں محمد بن کثیر نے، انہیں سفیان نے اعمش سے انہیں زید بن وہب نے، انہیں حضرت عبداللہ بن مسعود نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں حضور ﷺ نے فرمایا اور آپ صادق و مصدوق ہیں کہ ” تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ وہ چالیس دنوں تک اپنی ماں کے رحم میں نطفہ کی شکل میں رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک علقہ یعنی خون کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک گوشت کی بوٹی کی شکل اختیار کئے رہتا ہے۔ پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم ملتا ہے چناچہ وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عملی احاطہ تحریر میں لے آتا ہے پھر یہ بھی لکھتا ہے کہ آیا خوش بخت ہوگا یا بدبخت پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ “ حضور ﷺ نے یہ بتایا کہ انسان کی تخلیق کے مراحل یہ ہیں کہ پہلے چالیس دنوں تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن خون کے لوتھڑے کی شکل میں اور پھر چالیس دن گوشت کی بوٹی کی صورت میں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اگر عوتر اپنے رحم سے خون کے لوتھڑے کو خارج کر دے تو اس لوتھڑے کو کسی گنتی میں نہیں لایا جاتا اور اس کی وجہ سے عدت ختم نہیں ہوتی اگرچہ خون کے لوتھڑے کو خارج کر دے تو اس لوتھڑے کو کسی گنتی میں نہیں لایا جاتا اور اس کی وجہ سے عدت ختم نہیں ہوتی اگر چہ خون کا یہ لوتھڑا نطفہ ہی سے اگلے مرحلے کے طور پر یہ شکل اختیار کرتا ہے ۔ اسے کسی شمار میں نہ لانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس میں انسانی صورت کا وجود نہیں ہوتا یعنی کیفیت مضغہ یعنی گوشت کی بوٹی کی ہوتی ہے۔ اس میں انسانی صورت کا وجود نہیں ہوتا اس لئے اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور اس کی حیثیت نطفہ اور علقہ جیسی ہوتی ہے۔
اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ بات جس کی بنا پر انسان گدھے اور دوسرے تمام جانوروں سے متمیز ہوتا ہے وہ اس کا وجود ہے جو انسانی ڈھانچہ اور انسانی شکل وصورت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے جب تک سقط یعنی وقت سے پہلے گر جانے والا حمل انسانی صورت کا حامل نہیں ہوگا وہ ولد نہیں کہلائے گا۔ اس کی حیثیت نطفہ اور علقہ جیسی ہوگی اور ولد نہ ہونے کی وجہ سے عدت ختم نہیں ہوگی یہ بھی ممکن ہے عوتر کے رحم سے خارج ہونے والا سقط جس میں اسنانی نقش ابھی ابھرا نہ ہو، متجمد خون یا کوئی بیماری یا حیض ہو اس لئے اسے ولد قرار دے کر عدت کی عدت کے اختتام کا فیصلہ دے دینا ہمارے لئے جائز نہ ہ وگا۔ ایسے سقط کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی تھی وہ یہ تھی کہ اس میں دونوں احتمال موجود تھے یہ بھی احتمال تھا کہ یہ ولد کی شکل اختیار کرلیتا اور یہ بھی احتمال تھا کہ ولد کی شکل اختیار نہ کرتا۔ اس احتمال اور شک کی بنا پر اسے عدت کو ختم کرنے والا سبب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں انقضاء عدت کے لئے ایسی چیز کا اعتبار بےمعنی اور ساقط ہے جس سے بچے کی تشکیل کا امکان بھی ہوتا ہے اور عدم امکان بھی ۔ کیونکہ فی الحال تو اس میں بچے کے نقوش ظاہر نہیں ہوتے اس لئے اس کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ یہی کیفیت علقہ اور نطفہ کی ہوتی ہے کہ ان میں یہ امکان ہوتا ہے کہ یہ فطری مراحل طے کر کے بچے کی شکل اختیار کرے اور یہ بھی امکان ہوتا ہے کہ ان مراحل کو طے کرنے کی نوبت ہی نہ آئے اور اس سے بچے کی تشکیل نہ ہو سکے۔ حالانکہ رحم ان دونوں چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے اندر یہ دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ نطفہ انسانی رحم مادر میں چالیس دنوں تک نطفہ کی شکل میں اور اگلے چالیس دنوں تک علقہ کی شکل میں رہتا ہے۔
انقضاء عدت کے لئے علقہ اور مضغہ کا اعتبار نہ ہوگا
اس کے باوجود بھی کسی نے انقضائے عدت کے لئے علقہ کا اعتبار نہیں کیا۔ اس لئے مضغہ کا بھی یہی حکم ہوگا۔
اسماعیل بن اسحاق نے درج بالا صورت کے قائلین پر اعتراض کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اس مسلک کا حامی ہے کہ سقط کے خروج کی بنا پر اس وقت تک عدت ختم نہیں ہوتی اور ام ولد آزاد نہیں ہوتی جب کہ اس میں انسانی خلقت مثلاً ہاتھ پائوں وغیرہ کا ظہور نہ ہوگیا جو اسماعیل کے خیال میں یہ مسلک درست نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتادیا کہ گوشت کی وہ بوٹی یعنی مضغہ جس نے ابھی انسانی شکل نہ پائی ہو وہ بھی انسانی خلقت میں داخل ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے آیت میں ذکر کیا ہے جس طرح وہ بوٹی جس نے انسانی شکل پا لی ہو اس میں داخل ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مضغہ کی صورت میں جو بھی چیز ہو خواہ وہ مخلقہ ہو یا غیر مخلقہ وہ حمل کہلائے گی۔ یہاں تک کہ ماں کے پیٹ سے بچے کی پیدائش ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (واوزات الاحمال احلھن ان یضعن حملھن اور حاملہ عورتوں کی عدت کی مدت وضح عمل ہے) اس لئے ایسے سقط کے خروج کی صورت میں عدت کی مدت ختم ہوجائے گی اور ام ولد آزاد ہوجائے گی۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اسماعیل بن اسحاق کا یہ قول اور اس کا یہ استدلال اس کی کوتاہ بینی اور آیت کے مقتضی سے چشم پوشی کی نشاندہی کرتا ہے وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کے ذریعہ یہ خبر نہیں دی ہے کہ علقہ اور مضغہ ولد ہوتا ہے یا حمل، اللہ تعالیٰ نے تو صرف اس امر کا ذکر کیا ہے کہ اس نے ہمیں مضغہ اور علقہ سے پیدا فرمایا جس طرح اس بات کی خبر دی کہ اس نے ہمیں نطفہ اور ٹمی سے پیدا کیا ہے اور یہ بات سب کے لئے واضح ہے کہ جب اس نے یہ خبر دی کہ ہمیں مضغہ اور علقہ سے پیدا کیا گیا ہے تو یہ خبر خود اس امر کی مقتضی ہوگئی کہ ولد نہ تو نطفہ ہو نہ علقہ اور نہ ہی مضغہ اس لئے کہ اگر ان تینوں چیزوں کو ولد قرار دیا جاتا تو یہ کہنا درست نہ ہوتا کہ ولد کی تخلیق ان تینوں چیزوں سے ہوتی ہے اس لئے کہ جو چیز پہلے ہی ولد بن چکی ہو اس کے متعلق یہ کہنا درست نہیں ہوتا کہ اس چیز سے ولد کی تخلیق ہوتی ہے جبکہ وہ چیز خود ولد ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مضغہ یعنی گوشت کی وہ بوٹی جس میں ابھی انسانی نقوش ابھرے نہ ہوں ولد نہیں ہوسکتی۔
اسماعیل نے کہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتادیا کہ گوشت کی وہ بوٹی یعنی مضغہ جس نے ابھی انسانی شکل نہ پائی ہو وہ بھی انسانی خلقت میں داخل ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے آیت میں ذکر کیا ہے جس طرح وہ بوئی جس نے انسانی شکل پا لی ہو اس میں داخل ہے۔ “ اسماعیل کا یہ استدلال اگر درست مان لیا جائے تو اس سے اس پر یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ نطفہ کے بارے میں بھی یہی بات کہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خلقت انسانی کے ذکر کے ضمن میں نطفہ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ جس طرح مضغہ کا ذکر کیا ہے اس بنا پر نطفہ کو بھی ولد اور حمل قرار دینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کے سلسلے میں اس کا بھی ذکر فرمایا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ہمیں مضغہ سے پیدا کیا ہے جو مخلقہ بھی ہوتا ہے اور غیر مخلقہ بھی۔ مخلقہ شکل والے مضغہ کو کہتے ہیں اور غیر مخلقہ، بےشکل مضغہ کا نام ہے۔ جب یہ کہنا درست ہے کہ اس نے تمہیں شکل والے مضغہ سے پیدا کیا یہ جبکہ شکل والا مضغہ ولد ہوتا ہے۔ تو اب بےشکل والے مضغہ کے ولد ہونے میں کوئی امتناع نہیں ہے جب کہ اس نے فرما دیا کہ ” تمہیں اس نے بےشکل والے مضغہ سے پیدا کیا ۔ “
اس کے جوا ب میں کہا جائے گا کہ مخلقہ کے یہ معنی لینا درست ہے کہ گوشت کی وہ بوٹی جس میں انسانی شکل کے بعض گوشے ابھر آئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ ” اس نے تمہیں اس بوٹی سے پیدا کیا “ تخلیق کا اتمام اور اس کی تکمیل مراد لی ہے۔ اس لئے وہ چیز جس میں ابھی تخلیق کا عمل ابھرا نہ ہو اس میں اور نطفہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا، اس لئے کہ اس میں بھی صورت گری نہیں ہوتی۔ اس لئے قول باری ” اس نے تمہیں اس بوٹی سے پیدا کیا “ کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس نے اس بوٹی سے بچے کی تخلیق کی اگرچہ اس تخلیق سے پہلے یہ بوٹی بچے کی شکل میں نہیں تھی۔ آیت کے الفاظ کا یہی حقیقی مفہوم اور اس کا ظاہر ہے رہ گیا قول باری (واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ) تو یہ بات واضح ہے کہ اس سے بچے کو جنم دینا مراد ہے۔ اس لئے پیدا ہونے والا اگر ولد نہیں ہوگا تو وہ مراد نہیں ہوگا جس کے اندر غور و فکر کا ادنیٰ مادہ بھی ہے اے اس بارے میں کوئی اشکال پیش نہیں آسکتا۔
اسماعیل نے کہا ہے ۔” آیت میں مذکورہ مضغہ اور اس سے ماقبل مذکور علقہ یا تو ولد ہوگا یا ولد نہیں ہوگا۔ اگر وہ تخلیق سے پہلے ولد ہے تو اس کا حکم تخلیق سے پہلے اور تخلیق کے بعد یکساں ہوگا اور اگر وہ تخلیق تک ولد نہیں ہوگا تو پھر اسے اپنے باپ کا وارث نہیں ہونا چاہیے۔ جب باپ کا اس وقت انتقال ہوجائے جس وقت ماں کے پیٹ میں اس کا حمل ٹھہر جائے اور ابھی اس کی تخلیق نہ ہوئی ہو۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ کوتاہ بینی کی ایک اور مثال ہے اور فقہاء کے اجماع کی بنا پر یہ ایک متناقض استدلال ہے۔
زیادہ سے زیادہ مدت حمل دو یا چار سال ہے
وہ اس طرح کہ سب کو اس بات کا علم ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی چھوڑ کر وفات پا جائے اور اس کی بیوی دو سال کی مدت پر بچے کو جنم دے جیسا کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ سے زیادہ مدت بعض فقہاء کے نزدیک دو سال ہے یا چار سال کی مدت پر بچے کو جنم دے جیسا کہ حمل کی زیادہ سے مدت، دوسرے فقہاء کے نزدیک چار سال ہے تو ان دونوں صورتوں میں وہ بچہ اپنے باپ کا وارث قرار پائے گا۔ اب یہ بات واضح ہے کہ ایسا بچہ اپنے باپ کی وفات کے وقت ماں کے پیٹ میں نطفہ کی شکل میں ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے باپ کا وارث ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ طنفہ نہ تو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی ولد اور اس کی وجہ سے عدت کی مدت بھی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی ام ولد آزاد ہوتی ہے۔ اس وضاحت سے اسماعیل کے استدلال کا فساد اور اس کے قول کا انتقاض واضح ہوگیا۔ اس کا ولد ہونا اس کی میراث کی علت نہیں ہوتی اس لئے کہ اگر مردہ بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی پیدائش کی بنا پر حاملہ کی عدت ختم ہوجاتی ہے اور ماں کا ولد ہونا ثابت ہوجاتا ہے لیکن مردہ بچہ وارث نہیں بنتا۔ بعض دفعہ بچہ اپنے باپ کے نطفے سے نہیں ہوتا لیکن وہ اس کا وارث بن جاتا ہے جبکہ وہ فراش یعنی نکاح وغیرہ کی بنا پر وہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ آپ نہیں ہوتا بلکہ وہ صاحب فراش یعنی اس عورت کے شوہر کا بیٹا قرار پاتا ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ میراث کے حکم کا تعلق باپ سے اس کے نسبت کے ثبوت کے ساتھ ہوتا ہے، اس بات کے ساتھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے باپ کے نطفے سے ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ولد زنا، زانی کا وارث نہیں ہوتا اس لئے کہ اس سے اس کے نسبت کا ثبوت نہیں ہوتا حالانکہ وہ اس کے نطفے سے ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ میراث کے ثبوت کا تعلق اس امر کے ساتھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کے نطفے سے ہے بلکہ اس امر کے ساتھ ہے کہ اس کے نسب کا اس سے ثبوت ہوتا ہے جیسا کہ ہم درج بالا سطور میں بیان کر آئے ہیں۔
اسماعیل نے مزید کہا ہے۔” اگر یہ کہا جائے کہ بیٹا اپنے باپ کا صرف اس بنا پر وارث ہوتا ہے کہ اس کا وجود اس اصل سے ہوتا ہے جب وہ زندہ رہ جاتا ہے تو وہ وارث ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی وارث بناتا ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا اگر یہ بات ہے تو پھر اس کی وجہ سے عدت کی مدت ختم نہیں ہونی چاہیے خواہ اس کی خلقت کی تکمیل کیوں نہ ہوگئی ہو یہاں تک کہ وہ زندہ پیدا ہوجائے۔ “
مردہ بچے کی پیدائش پر ماں کی عدت ختم ہوجاتی ہے
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اسماعیل نے یہ کہہ کر بات کو گڈ مڈ کردیا ہے اور مسئلہ زیر بحث میں غیر متعلقہ پہلو سے گفتگو کی ہے۔ وہ اس طرح کہ اسماعیل کے مدمقابل نے وجوب میراث کو عدت کے خاتمہ کی علت قرار نہیں دیا ہے نہ یہ کہ اس کی وجہ سے ماں ام ولد بن جاتی ہے۔ اہل اسلام کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس لئے کہ مردہ بچے کی پیدائش کی صورت میں سب کے نزدیک ماں کی عدت ختم ہوجاتی ہے لیکن وہ مردہ بچہ اپنے باپ کا وارث قرار نہیں دیا جاتا بعض دفعہ بچہ وارث ہوجاتا ہے لیکن عدت ختم نہیں ہوتی جبکہ ماں کے پیٹ میں دو بچے ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو جنم دے دے اس صورت میں پہلے پیدا ہونے والا بچہ اپنے باپ کا وارث بن جاتا ہے لیکن ماں کی عدت ختم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ دوسرے بچے کو جنم نہیں دے دیتی ہے۔ اگر دوسرا بچہ مردہ پیدا ہو تو وہ اپنے باپ کا وارث نہیں ہوتا لیکن ماں کی عدم ختم ہوجاتی ہے ۔ جب صورتحال یہ ہے کہ بچے کے لئے بعض دفعہ میراث ثابت ہوجاتی ہے لیکن اس کی پیدائش کے ساتھ ماں کی عدت ختم نہیں ہوتی اور بعض دفعہ عدت ختم ہوجاتی ہے لیکن پیدا ہونے والا بچہ وارث نہیں ہوتا تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان دونوں میں سے کوئی دوسرے کے لئے اصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ اس کا اعتبار درست ہے، اس طرح اسماعیل نے اپنی طرف سے اعتراض کے طور پر جو نکتہ اٹھایا تھا وہ ختم ہوگیا اور اس نکتے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
اسماعیل نے مزید کہا ” اگر یہ کہا جائے کہ وہ حمل ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک ایسی بات کا مکلف بنائے جس کی معرفت کے لئے ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ عورتوں کو اس کا علم ہوتا ہے اور وہ اپنے جسم یا رحم سے گرنے والے گوشت کی بوٹی یا خون اور اس علقہ کے درمیان فرق کرلیتی ہیں جس سے حقیقتہ بچے کی تخلیق ہوتی ہے۔ تقریباً تمام عورتوں کو جسم یا رحم سے گرنے والے گوشت کی بوٹی یا خون اور علقہ کے درمیان کوئی التباس نہیں ہوتا عورتوں کے اندر اس بات کی شناخت کرنے والی عورتوں کا ضرور وجود ہوتا ہے اس لئے اگر دو عوتریں یہ گواہی دے دیں کہ اسقاط کی شکل میں رحم سے باہر آ جانے والی چیز علقہ ہے تو ان کی گواہی قبول کرلی جائے ۔ امام شافعی نے بھی کہا ہے کہ اگر عورت کا اسقاط ہوجائے اور باہر آ جانے والی چیز علقہ ہو یا مضغہ جس میں انسانی خلقت کی کوئی چیز نمایاں نہ ہو تو ایسی صورت میں اسے عورتوں کو دکھایا جائے گا اگر اسے دیکھنے کے بعد عورتیں یہ کہہ دیں کہ اگر یہ لوتھڑا رحم مادر میں رہ جاتا تو اس سے بچے کی تخلیق ہوسکتی تھی تو اس صورت میں ماں کی عدت ختم ہوجائے گی اور لونڈی کا ام ولد ہونا ثابت ہوجائے گا لیکن اگر عوتریں یہ کہہ دیں کہ اس لوتھڑے سے بچے کی تخلیق نہیں ہوسکتی تو اس صورت میں عدت ختم نہیں ہوگی اور نہ ہی لونڈی ام ولد بنے گی۔ “
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں پہنچ کر اسماعیل کو امام شافعی کے قول کا سہارا لینے کے سوا اور کوئی چارہ نظر نہیں آیا جبکہ اس قول کا محال اور فاسد ہونا بالکل واضح ہے۔ وہ اس طرح کہ کسی شخص کو ایسے دو علقہ کے درمیان کا فرق کا کوئی علم نہیں ہوتا جن میں سے ایک بچہ بن سکتا ہو اور دوسرے سے نہ بن سکتا ہو۔ اس فرق کا علم اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ کسی نے ایسے علقات کا مشاہدہ کیا ہو جن سے بچے بن سکتے ہوں اور جن سے بچے نہ بن سکتے ہوں اور پھر اپنے تجربے کی بنا پر ان دونوں قسموں کے علقات میں کسی علامت کے ذریعے فرق کرسکتا ہے جو ایک قسم کے علاقت میں پائی جاتی ہو اور دوسری قسم میں نہ پائی جاتی ہو۔ وہ اس سلسلے میں اپنے ظن غالب اور تجربے سے کام لے سکتا ہے ۔ جس طرح عرب کے بہت سے بدویوں کو بارش برسانے والے بادل اور نہ برسنے والے بادلوں کی پوری شناخت ہوتی تھی۔ یہ شناخت انہیں ان نشانیوں کے ذریعے حاصل ہوجاتی تھی جن میں اکثر حالات کے اندر کوئی تخلف نہیں ہوتا تھا ۔ اب رہ گئی علقات کی بات تو بچہ بننے سے پہلے دونوں قسموں کے علقات کے درمیان فرق کا مشاہدہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے مخصوص کرلیا ہے۔ صرف اس فرشتے کو اگٓاہ کیا جاتا ہے جسے پیدا ہونے والے بچے کے کوائف لکھنے کا حکم ملتا ہے یعنی اس کا رزق کتنا ہوگا، یہ کتنے سال جئے گا، اس کا عمل کیسا ہوگا اور خوش قسمت ہوگا یا بدقسمت وغیرہ۔
ارشاد باری ہے (اللہ یعلم ماتحمل کل انثی وما تغیض الارحام ” وما تزداد۔ اللہ کو علم رہتا ہے اس کا جو کچھ کسی عورت کے حمل میں ہوتا ہے اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے) اللہ جل شانہ کو ہی ہر چیز کا علم ہے لیکن اس مقام پر اس نے رحم مادور میں استقرار پانے والے حمل اور اس میں کمی بیشی کے علم کو اپنی ذات کے لئے خاص کر کے ہمیں یہ بتادیا کہ اس کے سوا کسی اور کو اس کا علم نہیں ہے۔ اس کا تعلق غیب کے علم سے ہے جو صرف اس کی ذات تک اور کسی برگزیدہ پیغمبر کی ذات تک محدود ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے (عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احداً الا من رتضی من رسول وہی غیب کا جاننے والا ہے سو وہ غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہاں البتہ کسی برگزیدہ پیغمبر کو)
Ayahs 22:6–18قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر سجدہ کیا جائے۔ اسی طرح مفصل کے مقامات سجود اور حم کی آیت (ا ن کنتم ایاہ تعبدون) پر سجدہ کیا جائے۔ “ امام شافعی کا قول ہے کہ قرآن میں سجدوں کی تعداد چودہ ہے۔ سورة ص کا سجدہ اس میں شامل نہیں ہے اس لئے کہ وہ سجدئہ شکر ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ امام شافعی نے سورة حج کے آخری سجدے کو سجدہ شمار کیا۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے سورة ص میں سجدہ کیا تھا۔ حم کے سجدے کے بارے میں حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ” میں سجدہ کی دو آیتوں میں سے آخری آیت پر سجدہ کرتا ہوں۔ “ ان کا یہ قول ہمارے اصحاب کے قول کے مطابق ہے۔ حضرت زید بن ثابت نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے سورة النجم میں سجدہ نہیں کیا تھا جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا کہنا ہے کہ آپ نے سجدہ کیا تھا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ابت کی روای تکے مطابق حضور ﷺ کا سورة النجم میں سجدہ نہ کرنا اس پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ سجدہ واجب نہیں ہے۔ اس لئے کہ عین ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے اس لئے سجدہ نہ کیا ہو کہ آی تسجدہ کی تلاوت کا وقت ان اوقات میں سے ہو جن میں سجدہ کرنے کی ممانعت ہے اور اس بنا پر آپ نے اس سجدے کو جائز وقت تک کے لئے مئوخر کردیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس آیت سجدہ کی تلاوت کے وقت بےوضو ہوں اور با وضو ہونے تک اسے موخر کردیا ہو۔ حضرت ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ (اذا السماء انشقت) اور (اقرا جاسم ربک الذی خلق) کی آیات سجود پر سجدہ کیا تھا۔
سورئہ حج کے دوسرے سجدے میں اختلاف ائمہ
سورئہ حج کے آخری سجدہ کے بارے میں سلف کے اندر اختلاف رائے ہے۔ حضرت عمر حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نیز حضرت ابوالدرداء، حضرت عمار اور حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ ان حضرات نے سورة حج میں دو سجدوں کا قول کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ سورت دو سجدوں کی بنا پر دوسری سورتوں پر فضیلت رکھتی ہے۔ خارجہ بن مصعب نے ابو حمزہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ سورة حج میں ایک سجدہ ہے۔ سفیا ن بن عینیہ نے عبدالاعلی سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ پہلا سجدہ عزائم میں سے ہے یعنی واجب ہے اور دوسرا سجدہ تعلیم ہے۔ منصور نے حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔” سورة حج میں ایک سجدہ ہے “ حسن، ابراہیم، سعید بن جبیر، سعید بن مسیب اور جابر بن زید سے مروی ہے کہ سورة حج میں ایک ہی سجدہ ہے۔ ہم نے پہلے حضرت ابن عباس سے منقول روایت کا ذکر کیا ہے کہ سورة حج میں دو سجدے ہیں۔ سعید بن جبیر کی روایت میں حضرت ابن عباس نے یہ بیان کیا کہ پہلا سجدہ واجب اور دوسرا سجدہ تعلیم ہے۔ اس کا مفہوم ۔ واللہ اعلم … یہ ہے کہ پہلا سجدہ ہی وہ سجدہ ہے جسے آیت تلاوت کرنے پر بجالانا واجب ہے اور دوسرا سجدہ اگرچہ اس میں سجدہ کا لفظ موجود وہ صرف نماز کی تعلیم کے لئے ہے جس میں رکوع اور سجود کی ادائیگی ہوتی ہے۔ اس کا مفہوم اس روایت کے مفہوم کی طرح ہے جو سفیان نے عبدالکریم سے اور انہوں نے مجاہد سے نقل کی ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سورة حج کے آخر میں جو سجدہ ہے وہ صرف نصیحت و موعظت کے لئے ہے وہ حقیقت میں سجدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ (ارکعوا واسجدوا رکوع اور سجدود نہ کرو) اور ہم رکوع و سجود کرتے ہیں۔
اس طرح حضرات ابن عباس کے قول کا وہی مفہوم ہے جو مجاہد کے قول کا ہے۔ ایسا معلوم ہتا ہے کہ سلف میں سے جن حضرات سے یہ مروی ہے کہ سورة حج میں دو سجدے ہیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ اس صورت میں دو مقامات پر سجدے کا ذکر ہے، پہلا سجدہ ہی واجب ہے دوسرا سجدہ واجب نہیں جیسا کہ اس بارے میں حضرت ابن عباس کی رائے ہے۔ سورة حج کی دوسری آیت سجدہ مقامات سجود میں سے نہیں۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اس آیت میں سجدے کے ساتھ رکوع کا بھی ذکر ہوا ہے جب کہ رکوع اور سجود کو یکجا کرنا نماز کے ساتھ مخصوص ہے اس لئے دراصل اس آیت میں نماز کا حکم ہے اور نماز کا حکم جس میں سجدہ بھی اشمل ہے مقام سجدہ نہیں ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ قول باری (اقیموا الصلوۃ نماز قائم کرو) مقام سجدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اشراد ہے (یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعی معی الرکعین ۔ اے مریم ! اپنے رب کی اطاعت گزار بن جائو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) یہ آیت مقام سجدہ نہیں ہے۔ اسی طرح ارشاد باری ہے (فسبح بحمد ربک وکن من الساجدین) اپنے رب کے حمد کی تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے بن جا) یہ آیت بھی مقام سجدہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس میں نماز پڑھنے کا حکم جس طرح قول باری (وارکعوا مع الراکعین) میں نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
Ayahs 22:19–25مکہ مکرمہ کی اراضی کا حکم اور اس کے مکانات کو اجارے پر دینے کا بیان
قول باری ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد اور اس مسجد حرام کی زیارت میں بھی مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے جسمیں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں) اسماعیل بن مہاجر نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ مناخ لاتباع ربا عھا ولد تو اجر بیو تھا مکہ مکرمہ اونٹوں کے بٹھانے کی جگہ ہے یعنی لوگوں کے قیام کا مقام ہے اس کے قطعات اراضی نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی اس کے مکانات کو اجاڑے پر دیا جائے گا یعنی کرائے پر چڑھایا جائے گا) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صحابہ کرام حرم کے پورے علاقے کو مسجد سمجھتے تھے جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والے لوگوں کے حقوق برابر تھے۔ یزید بن ابو زیاد نے عبدالرحمٰن بن سابط سے قول باری (سواء بن العاکف فیہ والباد) کی تفسیر میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ حج اور عمرے کی نیت سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں کہ وہ وہاں بنے ہوئے مکانات میں سے جہاں بھی رہنا چاہئیں رہ سکتے ہیں البتہ ان مکانات میں آباد مکینوں کو باہر نہیں نکال سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ (العاکف فیہ) سے مقامی باشندے اور (مالباد) سے باہر سے آنے والے لوگ مراد ہیں۔ مکانات میں رہائشی حقوق کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں اس لئے مقامی باشندوں کے لئے باہر سے آنے والوں سے مکانات کے کرائے وصول کرنا مناسب نہیں ہے۔
جعفر بن عون اعمش سے اور انہوں نے ابراہیم نخعی سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (مکۃ حرمھا اللہ لایحل بیع رباعھا ولا اجارۃ بیو تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والی جگہ قرار دیا ہے، یہاں کی اراضی کو فروخت کرنا اور یہاں کے مکانات کو اجارہ یعنی کرایہ پر دینا حلال نہیں ہے) ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید بن ابی حسین سے، انہوں نے عثمان بن ابی سلیمان سے اور انہوں نے علقمہ بن نضلہ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانوں میں مکہ کی اراضی کو سوائٹ (چھوڑی ہوئی زمین) کہا جاتا تھا جو شخص محتاج ہوتا وہ بھی وہاں سکونت پذیر ہوجاتا اور جو غنی ہوتا وہ بھی نہ ہاں ٹھہر جاتا ۔
سفیان ثوری نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے ایک دفعہ اعلان کیا۔” مکہ والو ! تم اپنے مکانات کے دروازے نہ لگوائو تاکہ باہر سے آنے والے لوگ جہاں چاہیں اپنے ڈیرے ڈال لیں۔ “ عبید اللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے اہل مکہ کو حاجیوں پر اپنے دروازے بند کر دنیے سے منع فرما دیا تھا۔ ابن ابی نجیع نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ۔ ” جو شخص مکہ مکرمہ کے مکانات کا کرایہ کھاتا ہے وہ آگ سے اپنا پیٹ بھرتا ہے۔ “ عثمان بن الاسود نے عطا بن ابی رباح سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” مکہ مکرمہ کے مکانات کو فروخت کرنا اور انہیں کرائے پر چڑھانا مکروہ ہے۔ “ لیث بن سعد نے قاسم سے روایت کی ہے کہ جو شخص مکہ مکرمہ کے مکانات کا کرایہ کھاتا وہ گویا آگ کھاتا ہے۔ “ معمرنے لیث سے، انہوں نے عطاء، طائوس اور مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ سب حضرات مکہ مکرمہ کے کسی قطعہ اراضی کو فروخت کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ اس سلسلے میں جو روایات مقنول ہیں ۔ ان کا ہم نے ذکر کردیا نیز صحابہ کرام اور تابعین عظام سے مکہ مکرمہ کے مکانات اور قطعات اراضی کی فروخت کے سلسلے میں جو کراہت منقول ہے وہ بھی ہم نے بیان کردیا نیز یہ کہ مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں۔ یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان حضرات نے قول باری (والمسجد الحرام) کی تفسیر میں سارا حرم مراد لیا ہے۔ کچھ لوگوں سے مکہ مکرمہ کے مکانات کی بیع اور انہیں کرائے پر دینے کی اباحت منقول ہے۔ ابن جریج نے ہشام بن حجیر سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” مکہ مکرمہ میں میرا ایک مکان تھا جسے میں کرائے پردے دیا کرتا تھا۔ میں نے طائوس سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کا کرایہ اپنے استعمال میں لے آئو۔ “ ابن ابی نجیع نے مجاہد اور عطاء سے قول باری (سواء العاکف فیہ والباد) کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” مکہ مکرمہ کی تعظیم و تحریم میں دونوں یکساں ہیں۔ “ عمرو بن دینار نے عبدالرحمن بن فروخ سے رای ت کی ہے کہ نافع بن عبدالحارث نے چار ہزار درہم پر صفوان بن امیہ سے اس شرط پر حضرت عمر کا بنایا ہوا دارالسجن (قید خانہ) خریدا تھا کہ اگر حضرت عمر راضی ہوگئے تو بیع ہوجائے گی ورنہ چار ہزار صفوان کے ہوں گے۔ عبدالرحمٰن نے معمر سے روایت کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا کہ حضرت عمر نے وہ چار ہزار کی رقم لے لی تھی۔
بقول امام ابوحنیفہ مکہ کے مکانات فروخت ہوسکتے ہیں اراضی نہیں
امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ مکہ مکرمہ کے مکانات کی عمارتوں کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میں اراضی کی فروخت کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ سلیمان نے امام محمد سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا۔ میں موسم حج میں مکہ مکرمہ کے مکانات اجارہ پر دینے کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اسی طرح اس شخص سے کرایہ لینا مکروہ سمجھتا ہوں جو وہاں آ کر قیام کرے اور پھر واپس چلا جانے، لیکن ایسا شخص جو وہاں آ کر مقیم ہوجائے اور ایسا شخص جو وہاں آ کر پناہ لے لے ان سے کرایہ وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ “ حسن بن زیاد نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ مکہ مکرمہ کے مکانات کو فروخت کرنا جائز ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف میں سے ان حضرات نے مسجد الحرام سے حرم کا پورا علقاہ صرف اس لئے مراد لیا ہے کہ شع کی جہت سے مسجد حرام کا اسم پورے حرم کو شامل ہے کیونکہ یہ بات درست نہیں ہے کہ آیت کی تاویل میں ایسے معنی لئے جائیں جن کا آیت کے الفاظ میں احتمال موجود نہ ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان حضرات کو توقیف یعنی کسی شرعی دلیل کی بنا پر یہ علم ہوا تھا کہ مسجد کے اسم کا اطلاق پورے حرم پر ہوتا ہے۔ اس پر یہ قول باری (الا الذینء اھدتم عنہ المسجد الحرام )
ان لوگوں کے سوا جن کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا) بھی دلالت کرتا ہے آی ت میں ایک روایت کے مطابق حدیبیہ مراد ہے جو مسجد حرام سے دور لیکن حرم سے قریب واقع ہے۔ ایک روایت کے مطابق حدیبیہ بالکل حرم کے کنارے واقع ہے۔
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم نے روایت کی ہے کہ اس موقع پر حضور ﷺ کا خیمہ حل یعنی حرم کے باہر علاقے میں تھا ۔ اور آپ کا مصلی یعنی نماز گاہ حرم کے اندر تھا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مسجد حرام سے پورا حرم مراد لیا ہے۔ اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر وصدعن سبیل اللہ وکفربہ والمسجد ا الحرام و اخراج اھلہ منہ اکبر عند اللہ لوگ پوچھتے ہیں ماہ احرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ لوگوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے ) اس سے شہر مکہ سے مسلمانوں کو نکالنا مراد ہے جب مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر گئے تھے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام سے پورے حرم کی تعبیر کی ہے۔ مسجد حرام سے پورا حرم مرا ہے اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے صومن یردفیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم اور اس میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے) اس سے مراد وہ شخص ہے جو حرم کے اندر ظلم کے ذریعے اس کی حرمت کو ختم کرنے کا مرتکب ہوگا جب یہ بات ثابت ہوگئی تو قول باری (سوا ن العاکف فیہ والباد) اس امر کا مقتضی ہوگیا کہ تمام لوگ وہاں رہنے اور ٹھہرنے کے لحاظ سے یکساں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ آی ت میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ تمام لوگ مسجد حرام کی تعظیم اور اس کی حرمت کے اعتقاد کے وجوب میں یکساں ہیں تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت دونوں باتوں پر محمول ہے یعنی تمام لوگ مسجد حرام کی تعظیم اور حرمت نیز وہاں قیام اور سکونت کے لحاظ سے یکاسں ہیں۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ وہاں کی زمین کی فروخت جائز نہ ہو اس لئے کہ جس طرح خریدار کو وہاں سکونت اختیار کرنے کا حق ہے اسی طرح غیر مشتری کو بھی یہی حق حاصل ہے اس لئے خریدار کو اس جگہ پر قبضہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہ وگا جس طرح اسے اپنے مملوکہ اشیاء سے فائدہ اٹھانا جائز ہوتا ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس پر کسی کو ملکیت نہیں ہوتی۔
مکان اجارہ پر دیا جاسکتا ہے
امام ابوحنیفہ نے وہاں کے مکانات کو اجارہ پر دینا صرف اس صورت میں جائز رکھا ہے جب عمارت اجارہ پر دینے والے کی ملکیت میں ہو اس صورت میں وہ اپنی ملکیت کی اجرت وصول کرے گا لیکن زمین کی اجرت جائز نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص کسی اور کی زمین پر کوئی عمارت تعمیر کرے تو وہ عمارت کو اجارہ پردے سکتا ہے۔ قول باری (العاکف فیہ والباد) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ عاکف سے مراد مقامی باشندے ہیں اور بادی سے مراد باہر سے آنے والے ہیں۔
الحاد کی تشریح
قول باری ہے (ومن یردفیہ بالحاد بظلم اور اس میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیا رکرے گا ) حق اور راستی سے ہٹ کر باطل کی طرف میلان کو الحاد کہتے ہیں۔ قبر کے اندر بنی ہوئی لحد کو لحد اس لئے کہتے ہیں کہ یہ قبر کے ایک طرف ہوتی ہے۔ قول باری ہے (وذروا الذین یلحدون فی اسمائہ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے اسماء میں الحاد کرتے ہیں) نیز فرمایا (لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی ۔ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ اس کی ناحق نسبت کرتے ہیں عجمی ہے) یعنی اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ لوگ اس قرآن کی ناحق نسبت کرتے ہیں۔ قول باری (بالحاد) میں حرف باء زائد ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (تنبت بالدلعن یہ روغن اگاتی ہے) یعنی ” تنبت الدھن “ یا جس طرح یہ قول باری ہے (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ۔ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ہو) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :” مکہ مکرمہ میں اپنے نوکر پر اس کی طاقت سے بڑھ کر کام لینے کے ذریعے ظلم کرنا الحاد ہے۔ حضرت عمر کا قول ہے ۔ ” مکہ مکرمہ میں طعام کا ذخیرہ کرلینا الحاد ہے۔ “ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مکہ میں گناہوں کی طرف میلان مراد ہے۔
حسن بصری کا قول ہے کہ الحاد سے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا مراد ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ الحاد مذموم فعل ہے اس لئے کہ یہ حق اور راستی سے ہٹ جانے اور باطل کی طرف مائل ہوجانے کا نام ہے۔ باطل سے ہٹ کر حق کی طرف میلان پر الحاد کے اسم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ الحاد ایک مذموم اسم ہے اللہ تعالیٰ نے حرم کے اندر الحا کرنے والے کو حرم کی حرمت کی عظمت کے پیش نظر درد ناک عذاب کی خصوصی طو رپر دھمکی دی ہے ۔ جن حضرات نے آیت کی تفسیر کی ہے ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ الحاد کی بنا پر وعید کا تعلق پورے حرم کے ساتھ ہے صرف مسجد حرام اس کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قول باری اوا المسجد الحرام الذی جعلنا لا للناس سواء ن العاکف فیہ والباد۔ میں سارا حرم مراد ہے اس لئے کہ قول باری (ومن یردفیہ بالحاد) میں ضمیر حرم کی طرف راجح ہے حالانکہ حرم کا اس سے پہلے ذکر نہیں آیا ہے صرف یہ قول باری ہے (والمسجد الحرام) اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مسجد سے اس جگہ پورا حرم مراد ہے۔ عمارہ بن ثوبان نے روایت کی ہے، انہیں موسیٰ بن زیاد نے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یعلی بن امیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (احتکار الطعام بمکۃ الحاد مکہ مکرمہ میں طعام کی ذخیرہ اندوزی الحاد ہے) عثمان بن الاسود نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ ” مکہ مکرمہ میں طعام کی فروخت الحاد ہے۔ جالب یعنی باہر سے مال لے کر آئے والا مقیم یعنی وہاں کے باشندے کی طرح نہیں ہے۔ “
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوئی امتناع نہیں کہ قول باری (بالحاد بظلم) سے تمام گناہ مراد ہوں اور اس طرح طعام کی ذخیرہ اندوزی نیز ظلم و شرک بھی ان میں داخل ہوجائیں۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حرم کے اندر گناہ کا ارتکاب دوسرے مقام پر اس کے ارتکاب سے زیادہ سنگین ہوتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن حضرات نے مکہ مکرمہ میں جا کر اقامت گزین ہونے کو مکروہ سمجھا ہے ان کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ مکہ کے اندر گناہ کے ارتکاب پر عذاب کئی گنا ہوجاتا ہے اس بنا پر انہوں نے وہاں ترک سکونت کو ترجیح دی ہے کہ کہیں وہاں رہتے ہوئے کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھیں اور اس طرح کئی گنا عذاب کے سزا وار بن جائیں۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (یلحد بمکۃ رجل علیہ مثل نصف عذاب اھل الارض ۔ مکہ مکرمہ میں ایک شخص اگر الحاد کا مرتکب ہوگا اسے زمین کے تمام لوگوں کے عذاب کا نصف عذاب دیا جائے گا۔ حضور ﷺ سے یہ ارشاد بھی مروی ہے (اعتی الناس علی اللہ رجل قتل فی الحرم و رجل قتل غیر قاتلہ ورجل قتل بدحول الجاھلیۃ اللہ کے نزدیک تین قسم کے انسان سب سے بڑھ کر سرکش گنے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ شخص جو حرم کے اندر قتل کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایک وہ شخص جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کر دیات ہے اور ایک وہ جو زمانہ جاہلیت کی دشمنی اور عداوت کی بنا پر زمانہ اسلام میں کسی کو قتل کردیتا ہے۔ )