Ayah 22:29حج کے بعد میل کچیل دور کرنا۔
قول باری ہے (ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں) عبدالملک نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ تفث قربانی کا جانور ذبح کرنے، سر مونڈنے، سر کے بال کٹوانے، ناخن اتارنے اور مونچیں کتروانے نیز بغل کے بال صاف کرنے کو کہتے ہیں۔ عثمان بن الاسود نے مجاہد سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے حسن اور ابو عبیدہ سے بھی یہی روایت ہے ۔ حضرت ابن عمر اور سعید بن جبیر سے قول باری (تفثھم ) کی تفسیر میں ” اپنے مناسک “ مقنول ہے۔ اشعت نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ ” وہ اپنے نسک ادا کریں۔ “ حماد بن مسلمہ نے قیس سے اور انہوں نے عطاء سے روایت کی ہے کہ قول باری (ثم لیقضوا تفثھم ) کا مفہوم ہے کہ اپنے بال اور ناخن صاف کرائیں ۔ ایک قول کے مطابق تفث سر مونڈانے اور غسل وغیرہ کرنے کے ذریعے احرام کے میل کچیل کو دور کرنے کا نام ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب تفث دور کرنے کے سلف نے وہ معافی بیان کئے جن کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے تو یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس میں سر مونڈنا بھی داخل ہے اس لئے کہ سلف نے اس کی یہ تاویل کی ہے اگر تفث اس معنی پر دلالت کرنے والا اسم نہ ہوتا تو سلف اس سے ہرگز یہ معنی نہ لیتے اس لئے کہ لفظ سے وہ معنی لینا ہرگز درست نہیں ہوتا جس کی لفظ تعبیر نہ کرتا ہو۔ یہ چیز حلق یعنی سرمونڈنے کے وجوب کی دلیل ہے اس لئے کہ امر کو وجوب پر محمول کیا جاتا ہے۔ اس لئے ان لوگوں کا یہ قول باطل ہوگیا جو کہتے ہیں کہ حلق احرام کے تحت آنے والی عبادتوں میں داخل نہیں ہے۔
بعض لوگوں کا یہ حال ہے کہ اس امر کے ذریعے ممانعت کو رفع کردیا گیا ہے کیونکہ احرام کھولنے سے پہلے ان باتوں کی ممانعت تھی جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصطادوا اور جب احرام کھول دو تو شکار کرو) نیز فرمایا (فاذا فضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض اور جب جمعہ کی نماز پڑھ کی جائے تو تم زمین پر پھیل جائو) لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔ اس لئے کہ تفث دور کرنے کا حکم تمام مناسک کو شامل ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر اور سلف کے ان حضرات سے منقول ہے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ تمام مناسک کی ادائیگی اباحت کے طور پر نہیں ہوتی بلکہ وجوب کے طور پر ہوتی ہے۔ حلق کی کیفیت بھی یہی ہے اس لئے کہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ تفث دو ر کرنے کے حکم میں حلق کے سوا دوسرے افعال کے سلسلے میں ایجاب مراد ہے اسی طرح حلق کے سلسلے میں بھی ایجاب مراد ہوگا۔
نحر کی نذر پوری کریں
قول باری ہے (ولیوفوا نذورھم اور اپنی نذریں پوری کریں) حضرت ابن عباس کا ول ہے کہ جن اونٹوں کو نحر کرنے کی انہوں نے نذریں مانی تھیں انہیں نحر یعنی ذبح کریں۔ مجاہد کا قول ہے کہ حج کے سلسلے میں جو نذیرں مانی گئی تھیں انہیں پوری کریں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اگر آیت سے نذر والے اونٹوں کا نحر مراد لیا جائے تو قول باری (علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام) میں وہ اونٹ اور جانور مراد نہیں ہوں گے جن کے نحر کی نذر مانی گئی ہو۔ اس لئے کہ اگر یہ مراد ہوتے تو جانوروں کو ذبح کرنے اور ان کا گوشت کھانے کا ہمیں حکم دینے کے بعد ان کا ذکر نہ کرتا اس لئے درج بالا آیت ان جانوروں کے بارے میں ہوگی جن کی نذر نہ مانی گئی ہو اور یہ نفلی طور پر نیز حج تمتع اور حج قران کی بنا پر ذبح کئے جانے والے جانور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے نذر کے طور پر قربان کئے جانے والے جانور مراد نہیں لئے ہیں۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ نذر کی قربانی کا گوشت کھایا نہیں جاتا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ جانوروں کا گوشت کھانے کا حکم دیا ہے۔
یہ بات اس پ دلالت کرتی ہے کہ آیت میں نذر مراد نہیں ہے۔ نذر کا نئے سرے سے ذکر کر کے اس کے ذریعے کئی احکام بیان کئے ہیں اول تو یہ کہ ان کا گوشت نہیں کھایا جائے گا دوم یہ کہ نذر کے جانوروں کی ان ایام میں قربانی دوسرے ایام کی بہ نسبت افضل ہوتی ہے۔ سوم یہ کہ جس چیز کی نذر مانی گئی ہے اسے پورا کرنا واجب ہے اس کے بدلے قسم کا کفارہ ادا کرنا واجب نہیں ۔ یہ کہنا بھی درست ہے کہ حج کی ساری نذریں مراد ہوں خواہ وہ صدقہ ہو یا طواف یا اس قسم کی کوئی اور عبادت۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے مراد ہر وہ نذر ہے ۔ جو ایک مدت تک کے لئے مانی گئی ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں نذر پوری کرنے کے لزوم پر دلالت موجود ہے کیونکہ قول باری ہے (ولیوفوا نذورھم ) اور امر و جوب پر محمول ہوتا ہے اور یہ امام شافعی کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کرنے یا اونٹ کی قربانی کی یا اس جیسی کوئی نذر مانے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ اس قول کے بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نفس نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔
طواف زیارت کا بیان
قول باری ہے صولیطو فوا بالبیت العتیق اور پرانے گھر کا طواف کریں) حسن سے روایت ہے کہ یہ طوف زیارت ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ واجب طواف ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت وجوب کا مقتضی ہے۔ اس لئے کہ یہ امر ہے اور امر و جوب پر محمول ہتا ہے۔ اسے قضائے تفث یعنی میل کچیل دور کرنے کے حکم پر معطوف کیا گیا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ طواف کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ یو م النحر یعنی دسویں تاریخ کو ذبح کے بعد طواف زیارت کے سوا اور کوئی طواف نہیں ہوتا جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے طواف زیارت مراد ہے اور یہ واجب طواف ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس میں طواف قدوم کا احتمال ہے جسے حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے مکہ مکرمہ پہنچ کر ادا کیا تھا اور اس کی ادائیگی کے بعد حج کا احرام کھو لدیا تھا اور اسے عمرہ قرار دیا تھا البتہ حضور ﷺ نے احرام نہیں کھولا تھا۔ اس لئے کہ آپ اپنے ساتھ قربانی کے جانور بھی لائے تھے جو احرام کھولنے میں آپ کے لئے مانع بن گیا اور پھر آپ نے حج ادا کرنے تک اپنا احرام قائم رکھا تھا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ کئی وجوہ کی بنا پر اس سے طواف قدوم مراد لینا درست نہیں ہے۔ اول یہ کہ ذبح کے فوراً بعد اس طواف کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے اور جانوروں کا ذبح یوم النحر کو ہوتا ہے اس لئے کہ ارشاد باری ہے (ویذکروا اسم اللہ فی ایام معلومات علی مانذقھم من بھیمۃ الا نعام فکلوا منھا واطعموا البائس الفقیر ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم ولیطوفوا بالبیت العتیق اور مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں، ان میں سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور پرانے گھر کا طواف کریں) حرف ثم کے حقیقی معنی تراخی یعنی وقفہ ڈال کر کام سر انجام دینے کے ہیں جبکہ طواف قدوم یوم النحر سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت میں طواف قدوم مراد نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قول باری (ولیطوفوا بالبیت العتیق) امر کا صیغہ ہے اور امر وجوب پر محمول ہوتا ہے الا یہ کہ ندب اور استحباب کی کوئی دلالت قائم جائے طواف قدوم واجب نہیں ہے اگر اس سے طواف قدوم مراد لیا جائے گا تو کلام کو اس کے حقیقی معنی سے ہٹانا لازم آئے گا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر اس سے وہ طواف مراد ہوتا جس کا حضور ﷺ کے صحابہ کرام کو حکم دیا گیا تھا جب یہ حضرات مکہ پہنچے تھے تو یہ منسوخ ہوتا اس لئے کہ انہیں حج فسخ کرنے کے لئے اس طواف کا حکم دیا گیا تھا۔ حج فسخ کرنے کا یہ حکم قول باری (واتموا الحج و العمرۃ للہ اللہ کے لئے حج اور عمرے کی تکمیل کرو) کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔
یہ حکم اس روایت کی بنا پر بھی منسوخ ہوچکا ہے جسے ربیعہ نے حارث بن بلال بن حارث سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا۔” اللہ کے رسول ! آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ ہمارا یہ حج خاص طور پر ہمارے لئے فسخ کردیا گیا ہے یا تمام لوگوں کے لئے ؟ “ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا ” خاص طور پر تمہارے لئے۔ “ حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت ابو ذر وغیرہم سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حج پر آنے والا شخص طواف قدوم نہیں کرے گا۔ اگر اس نے عرفات میں جانے سے پہلے یہ طواف کرلیا تو اس کا حج عمرہ بن جائے گا۔ “ حضرت ابن عباس اپنے اس قول کے حق میں آیت (ثم محلھا الی البیت العتیق پھر ان (کے قربان کرنے) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے) سے استدلال کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مسلک اختیار کیا کہ ایسا شخص طواف کی وجہ سے احرام کھول دے گا خواہ اس نے یہ طواف عرفات میں جانے سے پہلے کیا ہو یا بعد میں۔ حضرت ابن عباس کا مسلک یہ تھا کہ یہ حکم بحالہ باقی ہے منسوخ نہیں ہوا۔ نیز یہ کہ حج کی تکمیل سے پہلے اس کا فسخ جائز ہے وہ اس طرح کہ ایسا شخص وقوف عرفہ سہے پہلے طواف کرلے اس کا حج عمرہ میں تبدیل ہوجائے گا۔ تاہم ظاہر قول باری (واتموا الحج والعمرۃ للہ) سے اس حکم کا نسخ ثابت ہوچکا ہے۔ حضرت عمر نے بھی اس کے یہی معنی لئے تھے جب آپ نے یہ فرمایا تھا۔” حضور ﷺ کے زمانے میں جاری دو طرح کے متعہ سے اب میں لوگوں کو روکتا اور اس پر انہیں سزا دیتا ہوں۔ عورتوں کے ساتھ مقعہ اور حج کا مقعہ۔ “ حج کے متعہ یعنی حج کا احرام باندھ کر وقوف عرفہ سے پہلے طواف کر کے احرام کھول کر اسے عمرہ بنا دینے کے سلسلے میں حضرت عمر نے ممانعت کا جو حکم جاری کیا تھا اس کے لئے آپ کا ذہن درج بالا آیت کے ظاہری معنی کی طرف گیا تھا نیز حضور ﷺ کی طرف سے صحابہ کرام کو جو بتادیا گیا تھا کہ فسخ حج کا یہ حکم صرف ان کے لئے خاص تھا۔ تمام لوگوں کے لئے نہیں تھا۔ حضرت عمر کا ذہن اس توقیف کی طرف بھی گیا تھا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے تو اب قول باری (ولیطوفوا بالبیت لعتیق ) سے یہ معنی لینا درست نہیں رہا۔ ہماری اس وضاحت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت میں طواف سے ، طواف زیارت مراد ہے۔
آی ت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ ایام نحر کے گزر جانے سے پہلے پہلے طواف زیارت کرلینا واجب ہے۔ اس لئے امر پر فی الفور عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے الا یہ کہ تاخیر کے جواز پر کوئی دلیل قائم ہوجائے۔ تاہم ایام النحر کے آخر تک اس کی تاخیر کی اباحت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سفیان ثوری وغیرہ نے افلح بن حمید سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے چند صحابہ کرام کی معیت میں حج کیا تھا۔ ان میں حضرت ابو ایوب انصاری بھی شامل تھے۔ جب دسویں تاریخ ہوئی تو ان میں سے کوئی بھی بیت اللہ کی زیارت کو نہیں گیا یہاں تک کہ یوم النفر یعنی واپسی کا دن آگیا۔ ان میں سے صرف وہی لوگ طواف زیارت کے لئے گئے اور اس میں جلدی کی جن کے ساتھ عورتیں تھیں روایت میں یوم النفر کا ذکر ہے ہمارے نزدیک اس سے نفر اول یعنی پہلی واپسی مراد ہے جو ایام نحر کے تیسرے دن یعنی بارہویں ذی الحجہ کو ہوتی ہے۔ اگر ہم ظاہر آیت کو اس کے اصل مفہوم کے اعتبار سے لیں تو اس میں طاف زیارت کو یوم النحر سے مئوخر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی تاہم جب سلف اور فقہاء ، مصار ، ایام نحر کے تیسرے روز تک اس کی تاخیر کی اباحت پر متفق ہوگئے تو ہم نے بھی اسے جائز قرار دیا۔ لیکن ایام تشریق یعنی تیرہویں تاریخ کے آخر تک طواف زیارت کو مئوخر کردیا اس پر دم واجب ہوجائے گا یعنی جرمانے کے طور پر ایک جانور کی قربانی دینی ہوگی۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔
طواف کو مئوخر نہ کرنے کا حکم
اگر یہ کہا جائے کہ جب حرف ثم تراخی کا مقتضی ہے تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ طواف کرنے والا جب تک طواف میں تاخیر کرنا چاہے اسے تاخیر کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس پر طواف زیارت میں تاخیر واجب نہیں ہے۔ دوسری طرف ظاہر لفظ اس کی تاخیر کے ایجاب کا مقتضی ہے اگر اسے اس کے حقیقی معنوں پر محمول کیا جائے۔ جب تاخیر واجب نہیں اور طواف کرنا لامحالہ واجب ہے تو یہ چیز اس امر کی مقتضی ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر یوم النحر کو اس کی ادائیگی لازم ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس میں میل کچیل دور کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے معترض نے ظاہر لفظ سے ہمیشہ اس کی تاخیر کے جواز پر جو استدلال کیا ہے وہ درست نہیں ہے بجہ یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ اس مقام میں حرف ثم سے اس کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں۔ یعنی یہ بات نہیں ہے کہ تراخی کے ساتھ طواف زیارت کرنا واجب ہے۔ اسی بن اپر امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ جس شخص نے ایام تشریق کے آخر تک حلق مئوخر کردیا اس پر دم واجب ہوگا اس لئے کہ قو ل باری (ثم لیقضوا تفثھم) اس امر کا مقتضی ہے کہ یوم النحر کو فی الفور حلق کرایا جائے اور ایام نحر کے آخر تک بالاتفاق اس کی تاخیر کو مباح کردیا ہے لیکن اس سے زائد تاخیر کو مباح نہیں کیا۔ امام ابوحنیفہ کے اس مسلک کے حق میں اس بات سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایام تشریق کے دوسرے دن جو ایام النحر کا تیسرا دن ہے، نفر یعنی واپسی کو مباح کردیا ہے چناچہ ارشاد ہے (واذکروا اللہ فی ایام معدودات فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ اور چند گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذک کرو، جو شخص دو دنوں میں جلدی کرے) اس پر کوئی گناہ نہیں) لیکن طوف زیارت کے بغیر واپسی کی اباحت ممتنع ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اسے نفر اول یعنی ایام الخ کیت یسرے دن سے پہلے طواف زیارت کرنے کا حکم ہے۔
جب آیت نفر اول کی اباحت کو متضمن ہے تو ایسے شخص کا طواف ایام النحر کے اندر ہی مکمل ہوجائے گا۔ اس لئے اسے لامحالہ طواف میں تاخیر کرنے سے روکا گیا ہے اس لئے اگر وہ اس میں تاخیر کرے گا تو کوتاہی کی تلافی کے لئے اس پر ایک دم لازم ہوجائے گا۔
قول باری (ولیطوفوا بالبیت العتیق) کے الفاظ کے معانی واضح اور ان کی مرادظاہر ہے اس لئے یہ طواف کے جواز کا مقتضی ہے چاہے یہ طواف حدث یا خیابت کی حالت میں یا برہنہ ہو کر یا سر کے بل یا گھسٹ گھسٹ کر کیوں نہ کیا گیا ہو اس لئے کہ آیت میں یہ کوئی ذکر نہیں ہے کہ طہارت وغیرہ اس میں شرط ہے اگر ہم اس میں طہارت وغیرہ کی شرط لاگئیں گے تو نص میں ایک ایسی چیز کا اضافہ کردیں گے جو اس میں داخل نہیں ہے جبکہ نص میں اضافہ جائز نہیں ہوتا الایہ کہ اس جیسا کوئی نص ہو جس کے ذریعے اس نص کا نسخ جائز ہوسکتا ہو۔ اس لئے آیت کی اس امر پر دلالت ہو رہی ہے کہ ایک انسان اگر درج بالا ممنوعہ صورتوں میں سے کسی صورت میں طواف کرے گا تو بھی اس پر جواز کا حکم لگ جائے گا۔ قول باری (ثم لیقضوا تفثھم ولیو فوانذور ھم و لیطوفوا بالبیت العتیق) اس امر کا بھی مقتضی ہے کہ آیت میں مذکورہ افعال کی اس ترتیب سے ہٹ کر کوئی شخص اگر انہیں ادا کرے گا تو ایسا کرنا اس کے لئے جائز ہوگا۔ اس لئے کہ آیت میں ترتیب پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے اگر کسی نے میل کچیل دور کرنے سے پہلے طواف زیارت کرلیا یا میل کچیل دور کرنے کے بعد طواف کیا تو آیت کا مقتضی یہ ہے کہ ہر صورت میں ان مناسک کی ادائیگی ہوجائے گی اس لئے حرف وائو ترتیب کا موجب نہیں ہوتا۔ فقہاء نے بھی بالا تفاق طواف زیارت سے پہلے حلق اور سلے ہوئے کپڑے پہن لینے کی اباحت کردی ہے۔ اسی طرح طواف زیارت سے پہلے بیوی کے ساتھ ہمبستری پر پابندی اور ممانعت کے مسئلے میں بھی ان میں اتفاق رائے ہے۔
البتہ خوشبو لگانے اور شکار کرنے کی اباحت کے مسئلے میں ان کے مابین اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے۔ کچھ حضرات کا قول ہے کہ طواف زیارت سے پہلے یہ دونوں امور مباح ہیں۔ ہمارے اصحاب اور عامتہ الفقہاء کی یہی رائے ہے ۔ حضرت عائشہ اور سلف میں سے دوسرے حضرات کا بھی یہی قول ہے حضرت عمر اور حضرت ابن عمر کا قول ہے کہ جب تک طواف زیارت نہیں کرے گا اس وقت تک اس کے لئے بیوی، خوشبو اور شکار کی حلت نہیں ہوگی۔ کچھ فقہاء کا یہی قول ہے۔ سفیان بن عینیہ نے عبدالرحمٰن بن القاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی اور بیت اللہ کے طواف سے پہلے احرام کھولنے پر خوشبو لگائی تھی۔ نظر اور قیاس کی جہت سے بھی اس پر دلالت ہو رہی ہے وہ اس طرح کہ تمام حضرات طواف زیارت سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہن لینے اور حلق کی اباحت پر متفق ہیں حالانکہ ان دونوں چیزوں کو احرام فاسد کرنے میں کوئی دخل نہیں ہوتا اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ خوشبو اور شکار کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہو۔
بیت العتیق
قول باری (بالبیت العتیق ) کی تفسیر میں معمر نے زہری سے اور انہوں نے حضرت ابن الزبیر سے روایت کی ہے کہ بیت اللہ کو بیت عتیق کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کہ اسے جابر لوگوں کی گرفت سے آزاد کردیا ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو جابر حکمرانوں کے قبضہ میں آنے سے آزاد رکھا ہے۔ ایک قول کے مطابق دنیا کے بتکدے میں یہ خدا کا پہلا گھر تھا اس کی بنیاد حضرت آدم (علیہ السلام) نے رکھی، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کی تجدید ہوئی۔ اس بنا پر یہ قدیم ترین گھر ہے اور اسی لئے اس کا نام بیت عتیق رکھا گیا ہے۔
Ayah 22:30قول باری ہے (ذلک ومن یعظم حرمات اللہ فھو خیر لہ عند ربہ۔ یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد (اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا لحاظ کرے تو یہ اس کے رب کے ہاں خود اسی کے لئے بہتر ہوگا) اس سے مراد … واللہ اعلم… یہ ہے کہ احرام کے دوران ان تمام افعال و حرکات سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے اور احرام کے دوران اس کی منہیات کے ارتکاب کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے، اجتناب کیا جائے جنہیں اس نے حرام قرار دیا ہے تاکہ اس کے حج اور احرام دونوں کی حفاظت ہوجائے۔ اس کا یہ رویہ اس کے رب کے نزدیک اس کی کوتاہی ، غفلت اور لاپرواہی کے رویے سے بہتر ہے۔
حلال جانور
قول باری ہے (واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم اور تمہارے لئے مویشی جانور حلال کئے گئے ما سوا ان چیزوں کی جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ ” ماسوا ان چیزوں کے جو اللہ کی کتاب میں تمہیں پڑھ کر سنائی گئی ہیں یعنی مردار، خون، سور کا گوشت ضرب کھا کو، اوپر سے گر کر اور ٹکر کھا کر مرجانے والے جانور، درندے کا پھاڑ ا ہوا جانور اور آستانے پر ذبح کیا ہوا جانور۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تمہارے لئے احرام کی حالت میں مویشی جانور یعنی اونٹ ، گائے، بیل اور بھیڑ بکریاں حلال کردیئے گئے ہیں ما سوا شکار کے جو تمہیں بتایا جا چکا ہے۔ اس لئے کہ محرم کے لئے شکار حرام ہے۔
بت ناپاک ہیں
قول باری ہے (فاجتنبوا الرجس من الاوثان پس بتوں کی گندگی سے بچو) یعنی بتوں کی عظمت بجا لانے سے بچو، ان کی تعظیم نہ کرو اور ان پر مشرکین کی طرح جانوروں کے چڑھاوے چڑھانے سے پرہیز کرو، اللہ تعالیٰ نے بتوں کو رجس کے نام سے موسوم کیا تاکہ ان کی گندگی ظاہر ہوجائے اور ان کی بےمائیگی واضح ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پلید سمجھنے کا اس لئے حکم دیا کہ مشرکین ان پر اپنے جانوروں کی قربانی کرتے تھے اور انہیں ان جانوروں کے خون سے لت پت کردیتے تھے اور ان تمام نجاستوں کے باوجود ان کی عظمت بجا لاتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی تعظیم اور ان کی پرستش سے روک دیا اور گندگی اور نجاست کی ان صورتوں کی بنا پر جن کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے انہیں رجس کے نام سے موسوم کیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے رجس کہا ہے کہ ان سے اسی طرح اجتناب ضروری ہے جس طرح گندگیوں اور نجاستوں سے۔
جھوٹی گواہی کا بیان
قول باری ہے (واجتنبوا قول الزور اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو) زور جھوٹ کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ جھوٹ کی تمام صورتوں کے لئے عا م ہے۔ جھوٹ کی سب سے سنگین صورت اللہ کا انکار ہے۔ نیز اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ اس میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن احمد بن حنبل نے، انہیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے، انہیں عبید کے دو بیٹوں محمد اور یعلیٰ نے سفیان العصفری سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حبیب بن النعمان سے اور انہوں نے حضرت خریم بن فاتک سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضور ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی پھر فرمایا (عدلت شھادۃ الزوربالا شراک باللہ ۔ جھوٹی گواہی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر قرار دیا گیا ہے) پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی (فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء للہ غیر مشرکین بہ پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو، یکسو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو) وائل بن ربیعہ نے حضرت عبداللہ مسعود سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا۔ جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ “ پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت کی ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن العباس
(مس پرنٹ ہے چیک کرلیں)
ابو حنیفہ کا قول ہے کہ اسے تعزیری سزا نہیں دی جائے گی۔ ہمارے نزدیک یہ قول اس پر محمول ہے کہ اگر وہ توبہ کرے۔ لیکن اگر وہ اس پر اصرار کرے تو میرے نزدیک اسے تعزیری سزا دنیے میں فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک جھوٹی گواہی دینے والے کو پیٹا جائے گا۔ اس کا منہ کالا کر کے اس کی تشہیر کی جائے گی اور پھر اسے قید میں ڈال دیا جائے گا۔ عبداللہ بن عامر نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کے پاس جھوٹی گواہی دینے والے ایک شخص کو لایا گیا۔ آپ نے اس کے کپڑے اتروا لئے اور پورا دن اسے لوگوں کے سامنے کھڑا رکھا اور فرمایا :” یہ فلاں بن فلاں ہے، اسے پہچان لو۔ “ پھر اسے قید میں ڈال دیا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں العباس بن الوید البزاز نے، انہیں خلف بن ہشام نے ، انہیں حما دبن زید نے حجاج سے، انہوں نے مکحول سے کہ حضرت عمر نے جھوٹی گواہی دینے والے کے متعلق فرمایا کہ اس کی پشت پر پٹائی کی جائے گی، سر مونڈ دیا جائے گا، منہ کالا کیا جائے گا اور طویل عرصے تک اسے قید میں رکھا جائے گا۔
Ayahs 22:31–32شعائر اللہ کا احترام
قول باری ہے (ذلک ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو) جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے) اہل لغت کا قول ہے کہ شعائر شعیرہ کی جمع ہے، یہ اس علامت کا نام ہے جو اس چیز کا احساس دلاتی ہے جس کیلئے اسے مقرر کیا گیا ہے۔ قربانی کے اونٹوں پر علامت قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ تم ان پر ایسی علامتیں قائم کر دو جن سے یہ احساس ہو کہ یہ ھدی یعنی قربانی کے جانور ہیں۔ اس بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ شعائر حج کے تمام مناسک کی علامتوں کا نام ہے۔ ان میں سے رمی جمار اور صفا و مروہ کے درمیان سعی بھی ہیں۔
حبیب المعلم نے عطا بن ابی رباح سے روایت کی ہے کہ ان سے شعائر اللہ کے متعلق دریافت کیا گیا، انہوں نے جواب دیا کہ شعائر اللہ، اللہ کی قائم کردہ حرمتیں ہیں یعنی اللہ کی طاعت کا اتباع اور اس کی معصیت سے اجتناب ، یہ اللہ کے شعائر ہیں۔
شریک نے جابر سے اور انہوںں نے عطاء سے قول باری (ومن یعظم شعائر اللہ) کی تفسیر میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ ” اللہ کے شعائر کو عظیم سمجھنا اور انہیں فروغ دینا۔ “ ابن نجیع نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ” یہ اللہ کے شعائر کو عظیم سمجھنا انہیں حسین بنانا اور فروغ دینا ہے۔ “
عکرمہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے، مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ حسن بصری کا قول ہے کہ ” اللہ کے شعائر، اللہ کے دین کا نام ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ کہنا درست ہے کہ آیت میں یہ تمام معانی اللہ کی مراد ہیں اس لئے کہ آیت میں ان تمام کا احتمال موجود ہے۔
Ayah 22:33قربانی کے اونٹ کی سواری کا بیان
قول باری ہے (لکم فیھا منافع الی اجل مسمی تمہیں ایک وقت مقرر تک ان (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے) حضرت ابن عباس، ابن عمر مجاہد اور قتادہ کا قول ہے ۔ تمہیں ان جانوروں کے دودھ ا ن کی اون اور ان کی سواری سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے یہاں تک کہ انہیں قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے۔ پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔ “ محمد بن کعب القرظی سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔ عطاء کا قول ہے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ ان کی قربانی کردی جائے۔ عروہ بن الزبیر کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اور آپ کے ہم مسلک حضرات اس پر متفق ہیں کہ قول باری (الی اجل مسمی ) سے مراد یہ ہے کہ ان جانوروں کو قربانی کے لئے مقرر کرلیا جائے۔” اجل مسمی کا ان حضرات کے نزدیک یہی مفوہم ہے۔ اس کے بعد ان کی سواری کو ان حضرات نے پسند کیا ہے۔ عطاء بن ابی رباح اور ان کے ہم مسلک حضرت ا کہنا ہے کہ بدنہ یعنی قربانی کے لئے متعین ہونے کے بعد ان کی سواری ہوسکتی ہے۔ عروہ بن الزبیر کا قول ہے کہ اس پر سواری کرے گا لیکن اسے گرانبار نہیں بنائے گا۔ اس کے بچے سے جو دودھ بچے گا اسے دودھ لے گا۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ سے ایسی روایات منقول ہیں جن سے وہ حضرات استدلال کرتے ہیں جو ایسے جانوروں کی سواری کی اباحت کے قائل ہیں۔ حضرت ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو بدنہ یعنی قربانی کا اونٹ ہنکا کرلے جاتے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا ” بھلے آدمی ! اس پر سوار ہو جائو۔ “ اس نے جواب دیا۔” یہ بدنہ ہے۔ “ آپ نے پھر فرمایا ” بھلے آدمی ! اس پر سوار ہو جائو۔ “ شعبہ نے قتادہ سے، انہوںں نے حضرت انس سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ روایت اس پر محمول ہے کہ آپ نے ضرورت کی بنا پر اس پر سوار ہونے کی اباحت کردی تھی۔ آپ کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ اس شخص کو اس کی سواری کی ضرورت ہے۔ یہ بات دوسری بہت سی روایات میں بیان کردی گئی ہے۔
ان میں سے ایک روایت وہ ہے جس کے راوی اسماعیل بن جعفر ہیں، انہوں نے حمید سے اور انہوںں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کا گذر ایک شخص پر ہوا جو اپنے ساتھ بدنہ لئے جا رہا تھا لیکن خود پیدل چل رہا تھا، اس پر تھکن کے آثار واضح تھے آپ نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا۔ اس نے جواب میں عرض کیا کہ یہ بدنہ ہے۔ لیکن آپ نے پھر فرمایا ” اس پر سوار ہو جائو۔ “ حضرت جابر سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا :” میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تمہیں اس پر سوار ہونے کی مجبوری پیش آ جائے تو اس وقت تک معروف طریقے سے اس کی سواری کرو جب تک تمہیں کوئی اور سواری نہ مل جائے۔ “ ابن جریج نے ابوالزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ ” میں نے ہدی کی سواری کے بارے میں حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تمہیں اس کی ضرورت پیش آ جائے تو دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار رہو۔ “ ان روایات میں یہ بیان کردیا گیا کہ قربانی کے جانور پر سوار ہونے کی اباحت بشرط ضرورت ہے۔ وہ اس کے منافع کا مالک نہیں ہوتا اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ وہ اسے سواری کی خاطر کرائے پردے نہیں سکتا۔ اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ اس کے منافع کا مالک ہوتا تو اسے کرائے پر دینے کے لئے عقد اجارہ کا بھی مالک ہوتا جس طرح وہ اپنی دوسری تمام مملوکہ اشیاء کے منافع کا مالک ہوتا ہے۔
ہدی کے قربان ہونے کی جگہ کا بیان
قول باری ہے (واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم) تاقول باری (لکم فیھا منافع الی اجل مسمی ثم محلھا الی البیت العتیق ) یہ بات تو واضح ہے کہ آیت میں مراد وہ جانور ہیں جو بطور ہدی یا بدنہ متعین ہوجائیں یا وہ جانور مراد ہیں جنہیں اپنے ذمہ عائد شدہ واجب کی ادائیگی کے لئے ہدی بنایا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ ایسے جانور جن کے یہ اوصاف ہوں ان کے قربان ہونے کی جگہ قدیم گھر کے پاس ہے۔ بیت سے یہاں سارا حرم مراد ہے کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ قربانی کے جانور نہ تو بیت اللہ کے پاس اور نہ ہی مسجد حرام کے اندر ذبح کئے جاتے ہیں، جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ سارا حرم مراد ہے اور بیت اللہ کے ذکر سے پورے حرم کی تعبیر مراد ہے۔ اس لئے کہ پورے حرم کی حرمت کا تعلق بیت اللہ کے وجود کے ساتھ ہے۔ اسامہ بن زید نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (عرفۃ کلھا موقف، وضی کلھا منحروکل فجاج مکۃ طریق و منحر، سارا عرفات جائے وقوف ہے، سارا منی بائے ذبح ہے۔ مکہ کے تمام درے (پہاڑی راستے) جائے ذبح اور راہیں ہیں۔ آیت کا عموم اس امر کا مقتضی ہے کہ تمام ہدایا یعنی قربانی کے جانوروں کی قربانی کی جگہ حرم ہو اور حرم سے باہر ذبح کی صورت میں اس کی ادائیگی نہ ہو۔ اس لئے کہ آیت نے ان ہدایا کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔
احصار کی بنا پر بھیجے جانے والے قربانی کے جانور کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اس کے قربان ہونے کی جگہ بھی حرم ہے۔ اس لئے کہ قول باری ہے (ولا تحلقوا رئو وسکم حتی یبلغ الھدی محلہ اور تم اپنے سر نہ مونڈو جب تک ہدی اپنے قربان ہونے کی جگہ پر نہ پہنچ جائے) اس آیت میں قربان ہونے کی جگہ مجمل تھی یکن جب یہ ارشاد ہوا (ثم محلھا الی البیت الغیق) تو پہلی آیت کے اجمال کی اس آیت میں تفصیل بیان ہوگئی ۔ اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ احصار کی بناء پر بھیجے جانے والے جانور کی قربانی بھی حرم میں ہو۔ ان تمام ہدایا کے متعلق فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے جن کا وجوب احرام کی وجہ سے ہتا ہے۔ مثلاً شکار کرنے کا جرمانہ، سر کی تکلیف پر لازم ہونے والا فدیہ اور دم تمتع وغیرہ، سب کے نزدیک ان ہدایا کے قربان ہونے کی جگہ حرم ہے۔ اس لئے احصار کی بنا پر بھیجے جانے والے ہدی کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے اس لئے کہ اس کے وجوب کا تعلق بھی احرام کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے اسے بھی حرم کے اندر ہی قربان ہونا چاہیے۔
Ayahs 22:34–36قول باری ہے (والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے) ایک قول کے مطابق بدن ان اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو موٹے تازے ہونے کی بنا پر بھاری جسم کے ہوگئے ہوں۔ جب کسی اونٹنی کو کھلا پلا کر موٹا تازہ کردیا جائے تو کہا جاتا ہے (بدنت الفاقۃ “ میں نے اونٹنی کو موٹا تازہ کردیا) نیز کہا جاتا ہے ” بدن الرجل “ آدمی موٹا ہوگیا اس جہت سے ان اونٹں کو بد نہ کہا جاتا ہے پھر اونٹوں کو بدن کہا جانے لگا خواہ وہ اونٹ دبلے پتلے ہوں یا موٹے تازے بدنہ کا اسم اونٹوں کے لئے خاص ہے تاہم جب گائے بدنہ کے حکم میں ہوگئی تو اس پر بھی بدنہ کا اطلاق ہونے لگا۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے ایک بدنہ میں سات حصوں کی اجازت دے دی اور گائے میں بھی سات حصوں کی گنجائش پیدا کردی اس بنا پر گائیں بھی اونٹوں کے حکم میں ہوگئیں۔ اسی بنا پر جس طرح ایک شخص جو قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے جاتا ہے اونٹ کے گلے میں پٹہ ڈالنے کی بنا پر احرام میں داخل ہوجاتا ہے اسی طرح گائے کے گلے میں پٹہ ڈالنے کی صورت میں بھی وہ احرام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اونٹ اور گائے کے سوا قربانی کے کسی اور جانور کے گلے میں پٹہ نہیں ڈالا جاتا۔ صرف بدن کے ساتھ یہ دونوں باتیں یعنی پٹہ ڈالنا اور اس کے ذریعے احرام میں داخل ہوجانا مخصوص ہیں۔ دوسرے تمام ہدایات کی یہ خصوصیت نہیں ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ” گائے بھی بدن میں سے ہے۔ “
ہمارے اصحاب کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔” اللہ کے لئے مج ھپر ایک بدنہ ہے۔ “ تو آیا ایسے بدنہ کی قربانی مکہ کے بغیر کسی اور جگہ بھی جائز ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے کہ جائز ہے۔ امام ابو یوسف کا قول ہے کہ مکہ مکرمہ کے سوا کسی اور جگہ اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ تاہم ہمارے اصحاب کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص ہدی ذبح کرنے کی نذر مانے تو اس پر اسے مکہ مکرمہ میں لے جا کر ذبح کرنا لازم ہوگا، اگر کوئی شخص یہ کہے ” مجھ پر اللہ کے لئے ایک جزو (یعنی بکری یا اونٹ ہے۔ “ تو اس کے لئے جائز ہوگا کہ جہاں چاہے اسے ذبح کرلے۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ جس شخص نے جزو (ذبح کرنے کی نذر مانی ہو وہ اسے جہاں چاہے ذبح کرسکتا ہے اور جب بدنہ ذبح کرنے کی نذر مانے گا تو اسے مکہ مکرمہ میں ذبح کرے گا۔ حسن بصری اور عطاء سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اسی طرح عبداللہ بن محمد بن علی، سالم اور سعید بن المسیب سے بھی مروی ہے۔ حسن بصری اور سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ اگر ایک شخص اپنے اوپر ہدی لازم کر دے تو اسے مکہ مکرمہ میں ذبح کرے گا اور اگر بدنہ کی نذر مانی ہو تو جس جگہ کی نیت ہو وہاں اسے ذبح کرے گا۔ مجاہد کا قول ہے کہ بدنہ کی قربانی صرمکہ میں ہوگی۔ امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ بدنہ کی حیثیت جزو (یعنی بکری یا اونٹ کی طرح ہے۔ اور یہ بات اسے کسی خاص مقام پر لے جانے کی مقتضی نہیں ہے۔ ایسا شخص گویا اونٹ یا بکری وغیرہ کی نذر ماننے والے کی طرح ہوگا۔ لیکن ہدی اس امر کا متقضی ہے کہ اسے کسی خاص جگہ لے جایا جائے۔ ارشاد باری ہے (ھدایا بالغ الکعبۃ ہدی جو کعبہ کو پہنچنے والا ہو) اللہ تعالیٰ نے کعبہ تک پہنچنے کو ہدی کی صفت قرار دیا۔ امام ابو یوسف کے حق میں قول باری (والدبن جعلنا ھالکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر) آیت میں اسم بدنہ اس مفہوم کا اغادہ کر رہا ہے کہ وہ ہدی کی طرح تقرب الٰہی کا ذریعہ اور عبادت ہے اس لئے کہ ہدی کا اسم اس مفہوم کا مقتضی ہے کہ وہ ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لئے کی جاتی ہے۔ جب ہدی کی ذبح مکہ کے سوا اور کہیں جائز نہیں تو بدنہ کی ذبح کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ درج بالا استدلال سے یہ نتیجہ لازم نہیں آتا۔ اس لئے کہ ہر وہ ذبیحہ جو تقرب الٰہی کی خاطر عمل میں لایا جاتا ہے حرم کے ساتھ اس کا مختص ہونا ضروری نہیں ہے اس لئے کہ اضحیہ بھی تقرب الٰہی کی خاطر ہوتا ہے لیکن وہ دنیا کی کسی بھی جگہ ہوسکتا ہے اس لئے کہ بدنہ کو شعائر اللہ کی صفت کے ساتھ متصف کرنے کی یہ بات لازم نہیں آتی کہ حرم کے ساتھ اس کی تخصیص ہوگئی۔
نحر کھڑا کر کے کیا جائے
قول باری ہے (فاذاکروا اسم اللہ علیھا صواف۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو) یونس نے زیادہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا تھا کہ وہ ایک شخص سے جو اپنی اونٹنی کو بٹھا کرنحر کر رہا تھا، یہ فرما رہے تھے کہ اسے کھڑا کرو اور اس کے پائوں باندھ کرنحر کرو۔ یہی ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔ ایمن بن نابل نے طائوس سے اس قول باری کی تفسیر نقل کی ہے کہ (صواف) کے معنی کھڑا کر کے “ نحر کرنے کے ہیں۔ سفیا ن نے منصور سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جن حضرات نے اس لفظ کی (صواف) قرأت کی ہے ان کے نزدیک اس کا مفوہم یہ ہے کہ انہیں کھڑا کر کے ان کے اگلے پیر جوڑ کر باندھ دیئے جائیں اور پھر نحر کیا جائے اور جن حضرات نے ” صوافن “ قرأت کی ہے ان کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ انہیں کھڑا کر کے نحر کیا جائے جبکہ ان کی ٹانگیں رانوں سے ملا کر باندھ دی گئی ہوں۔ اعمش نے ابو ظبیان سے اور انہوں نے حضرات ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے ” صوافن “ کی قرأت کی اور معنی یہ بیان کئے کہ ” ٹانگوں کو رانوں سے ملا کر باندھا گیا ہو۔ “ نحر کرنے والا بسم اللہ اللہ اکبر پڑھے گا ۔ اعمش نے ابو الضحیٰ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس کو اس آیت کی تفسیر کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سنا تھا، انہوں نے فرمایا ” حالت قیام میں ٹانگیں رانوں سے ملا کر بندھی ہوئی۔ “ جویبر نے ضحاک سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن مسعود ” صوافن “ کی قرأت کرتے تھے اور اس کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ اس کا ایک اگلا پیر باندھ دیا جائے اور وہ تین پائوں پر کھڑا ہو۔ قتادہ نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ” صوافی “ کی قرأت کی ہے اور فرمایا کہ اس کے معنی ہیں ” شرک کے ہر شائبہ سے پاک “ حضرت ابن عمر ” اور عروہ بن الزبیر سے مروی ہے کہ انہیں قبلہ رخ کھڑا کر کے ان کا نحر کیا جائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف نے اس لفظ کی تین ظرح سے قرأت کی ہے ایک قرأت ” صراف “ کی ہے جس کے معنی ہیں ” صفوں میں کھڑا کر کے “ دوسری قرأت ” صوافی “ کی ہے جس کا مفہوم ہے۔ شرک کے ہر شائبہ سے پاک ۔ “ اور تیسری قرأت ” صوافن “ کی ہے جو اس معنی میں ہے کہ ” اس کی ٹانگ قیام کی حالت میں اور ان سے ملا کر باندھ دی جائے۔ “
قول باری ہے (فاذا وجبت جنوبھا اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پٹک جائیں) حضرت ابن عباس، مجاہد اور ضحاک وغیرہم سے مروی ہے کہ ” جب وہ زمین پر گرجائیں “ اہل لغت کا کہنا ہے کہ وجوب، سقوط کو کہتے ہیں اسی سے محاورہ ہے ” وجبت الشمس “ یعنی سورج غروب ہونے کی جگہ میں گرگیا۔ قیس بن الخطبی کا ایک شعر ہے۔
اطاعت بنو عوف امیراً نھا ھم عن السلم حتی کان اولی واجب
بنو عوف نے ایک ایسے سردار کی اطاعت کی جس نے انہیں صلح کرنے سے روک دیا اور پھر جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں وہی سب سے پہلے مارا گیا ۔ یعنی وہی پہلا مقتول تھا جو قتل ہو کر زمین پر گرا۔
اسی طرح اونٹوں کو جب کھڑا کر کے نحر کیا جاتا ہے تو وہ اپنے پہلوئوں کے بل زمین پر گرجاتے ہیں۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (صواف) سے کھڑا کر نامراد لیا ہے۔
اس لئے کہ اگر اونٹ بیٹھا ہوا ہو تو اس صورت میں اضافت کے بغیر یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ گرگیا ہے۔ البتہ اضافت کے ساتھ یہ بات کہی جائے گی مثلاً ” وہ اپنے پہلو کے بل گرگیا۔ “ لیکن اگر اونٹ کھڑا ہو اور پھر اس کا نحر کیا جائے تو اس صورت میں لامحالہ اس پر سقوط کے اسم کا اطلاق کیا جائے گا۔ اگر اونٹ بیٹھا بیٹھا مر کر اپنے پہلو پر الٹ جائے تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ ” یہ اپنے پہلو پر گرگیا ہے۔ “ اس بنا پر لفظ کے اندر دونوں معنوں کا احتمال ہے لیکن زیادہ ظاہر معنی یہ ہے کہ قیام کی حالت میں اس کا نحر کیا جائے اور پھر وہ اپنے پہلو پر گرجائے۔
قول باری ہے (فاذا وجبت جنوبھا فکلوا منھا) اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ پہلو کے بل گرنے سے اس کی موت مراد ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے صرف گر جانا مراد نہیں ہے بلکہ سقوط سے موت مراد ہے اور موت کو سقوط سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ چیز اس پر دال ہے کہ اس کی موت کے بعد ہی اس کا گوشت کھانا جائز ہوگا اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے کہ (مابان من البھیمۃ وھی حیۃ فھی میتۃ جانور کے جسم کا جو حصہ بھی اس کے زندہ ہونے کی حالت میں کاٹ کر الگ کرلیا جائے گا وہ مردار ہوگا) قول باری (فکلوا منھا) قربانی کے جانور کا گوشت کھانے کے ایجاب کا مقتضی ہے تاہم اہل علم اس پر متفق ہیں کہ اس کا گوشت کھانا واجب نہیں ہے۔ بلکہ یہ جائز ہے کہ آیت میں امر سے مراد استحباب ہو۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع کے موقعہ پر اپنی قربانی کے جانوروں کا گوشت تناول فرمایا تھا جنہیں آپ ساتھ لے گئے تھے۔ عید قربان کے دن آپ پہلے عید کی نماز ادا کرتے اور پھر قربانی کا گوشت کھاتے۔
قربانی کے گوشت کا ذخیرہ کرنا جائز ہے
آپ کا ارشاد ہے (کنت نھیتکم عن لحوم الاضاحی فوق ثلث فکلوا وادخروا ہیں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دنوں سے زائد رکھنے سے منع کردیا تھا اب یہ گوشت کھائو اور اس کا ذخیرہ بھی کرلو) ابوبکر بن عیاش نے ابو اسحقٰ سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ” حضرت عبداللہ بن مسعود “ نے میرے ساتھ قرباین کا جانور مکہ مکرمہ بھیجا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اسے کس طرح ذبح کروں گا اور اس کا گوشت کس طرح تقسیم کروں گا۔ “ آپ نے فرمایا ” جب عرفہ کا دن آ جائے تو اسے عرفات کے میدان میں لے جانا اور جب یوم النحر ہو تو اسے نحر کردینا۔ اسے قیام کی حالت میں نحر کرنا۔ جب یہ اپنے پہلو کے بل گرجائے تو اس کے گوشت کا تہائی حصہ خود کھا لینا اور ایک تہائی صدقہ کردینا …… اور ایک تہائی میرے بھائی کے گھر بھیج دینا۔ “ نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ آپ قربانی کے گوشت کے متعلق فتویٰ دیا کرتے تھے کہ ایک تہائی تمہارے لئے اور تمہارے اہل خانہ کے لئے ہے، ایک تہائی تمہارے پڑوسیوں کے لئے ہے اور ایک تہائی مساکین کے لئے ہے۔
عبدالملک نے عطاء سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ عطاء نے کہا۔ ” بدنہ خواہ واجب ہو یا نفلی اس کی تقسیم اسی طرح ہوگی البتہ جو جانور شکار کرنے کی سزا کے طور پر قربان کیا گیا ہو یا روزہ یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں کوئی فدیہ ادا کیا جا رہا ہو یا نذر کی صورت ہو وہ صرف مساکین کے لئے مختص ہوگا۔ “ طلحہ بن عمرو نے عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن مسعود سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ہمیں حضور ﷺ نے حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانور کے گوشت کا تہائی حصہ صدقہ کردیں، تہائی حصہ خود کھا لیں اور تہائی حصہ قصائی کو دے دیں۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ تہائی حصہ قصائی کو دینے کی بات غلط ہے اس لئے کہ حضو ر ﷺ نے حضرت علی کو یہ حکم دیا تھا کہ ” ان جانوروں کے گوشت میں سے قصائی کو کچھ نہ دینا۔ اس روای ت کی یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ہمیں قصائی کو گوشت دینے کا حکم دیا گیا ہے لیکن یہ گوشت اجرت کے طور پر نہ دیا جائے۔ اجرت کے طور پر گوشت دینے کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے۔ جب قربانی کا گوشت کھانے کا جواز ثابت ہوگیا تو یہ گوشت مال دار لوگوں کو دینے کا جواز بھی ثابت ہوگیا۔ اس لئے کہ جس گوشت کا کھانا ایک شخص کے لئے جائز ہوگیا، اسے مالدار انسان کو دینا بھی اس کے لئے جائز ہوگیا جس طرح اس کے لئے اپنے اموال میں سے کوئی چیز مال دار انسان کو دے دینا جائز ہے۔
قربانی کے جانور کے گوشت کا تہائی حصہ صدقہ کرنے کے لئے مقرر کرنا استحباب کے طور پر ہے اس لئے کہ جب اس کے لئے یہ بات جائز ہوگئی کہ اس کا بعض حصہ خود کھالے، بعض حصہ صدقہ کر دے اور بعض حصہ تحفے کے طور پردے دے یعنی صدقے کے طور پر نہ دے تو اس صورت میں صدقہ کے لئے تہائی حصہ مقرر ہوگیا۔ ہم نے اس سے پہلے بیان کردیا ہے کہ حضو ر ﷺ نے عید قربان پر ذبح ہونے والے جانوروں کے گوشت کے متعلق جب فرما دیا کہ (فکلوا وادخروا اس میں سے کھائو اور ذخیرہ بھی کرلو) اور اللہ تعالیٰ نے فرما دیا (فکلوا منھا واطعموا البائس الفقیر۔ اس میں سے خود بھی کھائو اور تنگ دست محتاج کو کھلائو) تو صدقہ کے لئے تہائی حصے کا تعین ہوگیا۔ قول باری (فکلوا منھا) بدن پر عطف ہے۔ اس کا عموم قران اور تمتع کی بنا پر ذبح ہونے والے جانوروں کا گوشت کھا لینے کے جواز کا مقتضی ہے اس لئے کہ آیت کا لفظ ان سب کو شامل ہے۔
قول باری ہے (واطعموا القانع والمعتتر اور ان کو بھی کھلائو جو قناعت سے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ قانع کبھی اس شخص کو کہتے ہیں جسے جو کچھ دیا جائے اس پر وہ رضای ہوجائے اور قانع سائل کو بھی کہتے ہیں۔ ہمیں ثعلب کے غلام ابوعمرو نے بیان کیا کہ اسے ثعلب نے ابن الاعرابی سے یہ بات بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ بطور رزق عطا کرے اس پر راضی رہنا قناعت کہلاتا ہے۔ قناعت سے ” رجل قانع و قنع ) کہا جاتا ہے یعنی قناعت کرنے والا انسان۔ لیکن قنوع سے صرف ” رجل قانع “ کہا جاتا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ شماخ نے قنوع کا مفہوم اس شعر میں ادا کیا ہے۔
لمال المزء یصلحہ فیغنی مفاقرہ اعف من القنوع
انسان کا مال اس کی حالت درست کردیتا ہے اور وہ غنی ہوجاتا ہے ایسے شخص کی تنگدستی اور محتاجی سوال اور لالچ کی ذلت سے پاک ہوتی ہے۔
آیت زیر بحث کی مراد میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ قانع وہ شخص ہے جو دست سوال دراز نہیں کرتا اور معتر وہ شخص ہے جو دست سوال دراز کرتا ہے۔ حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ قانع وہ شخص ہے جو سوال کرتا ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ معتر وہ شخص ہے جو سامنے تو آتا ہے لیکن سوال نہیں کرتا۔ مجاہد کا قول ہے کہ قانع تمہارا مال دار پڑوسی ہے اور معتر وہ شخص ہے جو تمہارے سامنے آ جائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اگر قانع غنی کو کہا جاتا ہے تو پھر آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ گوشت کا تہائی حصہ صدقہ کردینا مستحب ہے، اس لئے کہ آیت میں خود کھانے، مال دار کو دینے اور سوال کرنے والے فقیر کو کھلانے کا حکم ہے۔
Ayah 22:37قربانی کی روح تقویٰ ہے
قول باری ہے (لن ینال اللہ لحومھا ولا دمائوھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اسے تمہارا تقوی پہنچتا ہے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو گوشت قبول کرتا ہے اور نہ خون، اللہ تعالیٰ تو بس ان قربانیوں کے سلسلے میں پائے جانے والے تقویٰ کو قبول کرتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ کی رضا کو نہ ان کے گوشت پہنچ سکتے ہیں اور نہ ان کے خون مگر تمہارا تقویٰ اسے پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے فرمایا تاکہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ قربانیاں کرنے والے صرف اپنے اعمال کی بنا پر ثواب کے مستحق ہیں کیونکہ گوشت اور خون اللہ کے پیدا کردہ ہیں اس لئے وہ ان کی بنا پر ثواب کے مستحق نہیں بن سکتے۔ ثواب کے مستحق تو صرف وہ اپنے فعل کی بنا پر بن سکتے ہیں جو تقویٰ ہے نیز ان جانوروں کو ذبح کر کے اللہ کے حکم کی موافقت کی راہ اختیار کرنا ہے۔
جانوروں کو مسخر کردیا گیا ہے
قول باری ہے صکذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدکم اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی نجشی ہوئی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو نرم کردیا ہے تاکہ بندے جس طرح چاہیں ان سے کام لیں بخلاف درندوں کے جو قدرت کی طرف سے دی ہوئی قوت اور خطرناک اعضاء کی بنا پر کسی طرح قابو میں نہیں آسکتے۔
Ayahs 22:38–40حالت امن میں تمام مذاہب کے معابد قابل احترام ہیں
قول باری ہے (ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع وبیع وصلوت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کر ڈالی جائیں) مجاہد کا قول ہے کہ راہبوں کی خانقاہوں کو صوامع کہا جاتا ہے اور یہودیوں کے گرجائوں کو بیع کہتے ہیں۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہودیوں کے گرجائوں کو صلوت کہا جاتا ہے۔ وہ انہیں صلوت بھی کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق صلوات ان مقامات کو کہتے ہیں جو مسلمان اپنے گھروں میں نماز کے لئے مخصوص کردیتے ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے زمانے میں خانقاہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں گرجے اور حضور ﷺ کی شریعت کے زمانے میں مسجدیں مسمار کر ڈالی جاتیں۔ جس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ذریعے اہل ذمہ کی عبادت گاہوں کو مسمار ہونے سے بچاتا رہتا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ مذکورہ مقامات کو مسمار کرنا جائز نہیں ہے جبکہ ان کا تعلق ان لوگوں سے ہو جن کے ساتھ ہم نے حفاظت کی ذمہ داری کا عہد کیا ہو یعنی اہل کتاب یا جن کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو یعنی اہل کفر ، دارالحرب میں ان کے لئے ان مقامات کو مسمار کردینا اسی طرح جائز ہے جس طرح وہ اپنے تمام مکانات کو مسمار کرسکتے ہیں۔ امام محمد بن الحسن نے صلح کی سر زمین کے متعلق جب وہ مسلمانوں کا علاقہ بن جائے کہا ہے کہ اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کے گرجوں اور پارسیوں کے آتش کدوں کو مسمار نہیں کیا جائے گا لیکن جس علاقے پر مسلمانوں کا بزور شمشیر قبضہ ہوا ہو اور وہاں کے غیر مسلم باشندوں کو جزیہ کے بدلے وہاں رہنے کی اجازت دے دی گئی ہو پھر جس حصے پر مسلمانوں کی آبادی ہوگئی ہو اور وہ مسلمانوں کا شہر بن گیا ہو وہاں مسلمانوں کو ان کے گرجوں اور کلیسائوں میں نماز ادا کرنے سے منع کردیا جائے گا، لیکن انہیں منہدم نہیں کیا جائے گا بلکہ مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ اگر وہ چاہیں تو ان عمارتوں میں سکونت اختیار کرلیں۔
Ayah 22:41اسلامی اقتدار، اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ کے نظام کا پابند ہوگا
قول باری ہے (الذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اگر زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی صفت ہے جنہیں قتال کی اجازت دے دی گئی تھی۔ چناچہ ارشاد باری ہے (اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا۔ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں ) تاقول باری (الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے) تا قول باری (الذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و امروا بالمعروف ونھوا عن المنکر یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے) یہ مہاجرین کرام کی صفت ہے اس لئے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکال دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ وہ انہیں زمین میں اقتدار بخشے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکواۃ دیں گے، معروف کا حکم دیںے اور منکر سے منع کریں گے۔ یہ خلفائے راشدین یعنی حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی کی صفت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین میں اقتدار بخشا تھا۔ اس میں ان حضرات کی امامت کی صحت پر واضح دلالت موجود ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انہیں جب زمین میں اقتدار حاصل ہوجائے گا تو یہ ان فرائض کی ادائیگی کریں گے جو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد ہوں گے۔ انہیں زمین میں اقتدار بخشا گیا اس لئے انہیں ایسے ائمہ تسلیم کرنا واجب ہے جو اللہ کے اوامر کی ادائیگی پر کمربستہ اور اس کے نواہی و زو اجر سے کنارہ کش رہے۔ حضرت معاویہ ان میں شامل نہیں ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس صفت سے ان مہاجرین کو متصف کیا تھا جو اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے تھے۔ حضرت معاویہ مہاجرین میں سے نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں فتح مکہ کے دن حضور ﷺ نے ہر قسم کی گرفت اور سزا سے آزاد کردیا تھا۔ انہیں طلقاء کہا جاتا ہے۔