22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 22:42–52

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی عاد اور ثمود کی قوم بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والے بھی اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا تو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے انکو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (بہت سے) کنویں بیکار اور (بہت سے) محل ویران (پڑے ہیں )

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں پھر میں نے انکو پکڑلیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو ! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی وہ اہل دوزخ ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈالتا ہے جو وسوسہ شیطان ڈالتا خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

تمنائے رسول ﷺ میں ابلیس کی خلل اندازی قول باری ہے صوما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ اور اے محمد ! تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی ہم نے بھیجا ہے (اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، ضحاک، محمد بن کعب اور محمد بن قیس سے مروی ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ جب حضور ﷺ نے آیت افرایتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الاخری بھلا تم نے لات اور عزی اور تیسرے منات کے حالل پر بھی غور کیا ہے) تلاوت کی تو شیطان آپ ﷺ کی تلاوت میں ان الفاظ کے ساتھ خلل انداز ہوگیا۔” تلک الغرانیق العلاوان شفاعتھن لترنجی “ (یہ اونچے اونچے آبی پرندے یعنی بت، ان کی شفاعت کی ضرو رامید کی جاسکتی ہے) شیطان کے خلل انداز ہونے کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ کچھ حضرات کا قول ہے کہ جب حضور ﷺ نے اس سورت یعنی سورة نجم کی تلاوت کی اور اس میں بتوں کا ذکر ہوا تو کافروں کو علم ہوگیا کہ ان کے بتوں کی مذمت ہو رہی ہے اور ان کے عیوب و نقائص بیان ہو رہے ہیں۔ جب حضور ﷺ تلاوت کرتے ہوئے آیت (اقرایتم الات والعزی) رپر پہنچے تو ان کافروں میں سے ایک بول اٹھا ” تلک الغرانیق العلی “ یہ بات مسجد حرام میں کفار قریش کے ایک بڑے مجمع کی موجودگی میں کہی گئی ۔ جو کافر ذرادور تھے وہ کہنے لگے کہ محمد (ﷺ ) نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ” تلک الغرانیق العلیٰ “ بھی آپ کی تلاوت کا جز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس قول کو باطل قرار دیتے ہوئے واضح کردیا کہ آپ نے اس فقرے کو اپنی تلاوت میں شامل نہیں کیا تھا بلکہ مشرکین میں سے کسی نے یہ فقرہ ادا کیا تھا، اللہ نے اس شخص کو شیطان کے نام سے موسوم کیا جس نے حضور ﷺ کی تلاوت کے دوران یہ فقرہ ادا کیا تھا۔ اس لئے کہ وہ انسانی شیطانوں میں سے ایک تھا جس طرح یہ قول باری ہے (شیاطین الانس والجن شیاطین انس (جن) شیطان نام ہے جن وانس میں سے ہر اس فرد کا جو سرکش اور مفسد ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ وہ شیاطین جن میں سے کوئی شیطان ہو جس نے حضور ﷺ کی تلاوت کے دوران یہ فقرہ کہا ہو۔ ایسی بات ابنیاء (علیہم السلام) کے زمانوں میں ممکن ہوتی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی حکایت اپنے اس قول میں کی ہے (واذا زین لھم الشیطان اعمالھم وقال لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جائو لکم، فلما تراء ت الفئتان تکص علی عقبیہ وقال انی بری منکم انی اری مالا ترون۔ ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ الٹے پائوں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے) یہ بات ابلیس نے ان سے کہی تھی۔ وہ قریش کے پاس سراق بن مالک کے بھیس میں اس وقت آیا تھا جب وہ دارالندوہ میں بیٹھ کر مقام بدر کی طرف جانے کے لئے مشورہ میں مصروف تھے۔ ابلیس ایک مرتبہ نجدی شیخ کے بھیس میں قریش کے پاس آیا تھا جب وہ حضور ﷺ کے خلاف دارالندوہ کے اندر سازش میں مصروف تھے۔ ایسی بات تدبیر الٰہی کے طور پر حضور ﷺ کے زمانے میں ممکن تھی، اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ کسی شیطان نے درج بالا فقرہ کیا ہو اور لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ یہ فقرہ آپ ﷺ کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سہو کے طور پر یہ کلمہ نکلا ہو کیونکہ سہو سے کوئی انسان عاری نہیں ہوتا۔ اس کلمہ کی ادائیگی کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متنبہ کردیا گیا ہو۔ بعض علماء نے اس توجیہ کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ اصل مفہوم یہ ہے کہ شیطان اپنے وساوس کے ذریعے حضور ﷺ کے دل میں خلجان پیدا کردیتا جس کی بنا پر آپ کی توجہ تلاوت کی طرف سے ہٹ جاتی اور آپ یکسانیت رکھنے والے قصص کی قرأت میں غلطی کر جاتے۔ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعن کو اقعات جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ہوا ہے۔ جب منافقین اور مشرکین اس غلط قرأت کو سنتے تو کہتے کہ محمد (ﷺ ) نے اپنی سابقہ تلاوت سے رجوع کرلیا ہے۔ یہ صورت حال سہو کی بناپر پیدا ہوئی تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے آگاہ کردیا۔ رہ گئی یہ بات کہ آپ نے تلاوت کے دوران غلطی سے فقرہ پڑھ لیا تھا تو حضور ﷺ کی ذات سے اس کا سر زد ہونا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہوسکتا جس طرح یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ قرآن مجید کی تلاوت کرتے کرتے درمیان میں کوئی شعر اس انداز سے پڑھ دیتے کہ یہ بھی قرآن کا حصہ ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ جب آپ نے وہ آیات تلاوت کیں جن میں بتوں کا ذکر تھا تو آپ نے مشرکین سے فرمایا کہ تمہارے نزدیک یہ بڑی اونچی حیثیتوں کے مالک ہیں اور تم یہ سمجھتے ہو کہ ا ن کی شفاعت اور سفارش پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، آپ نے دراصل ان کی بت پرستی پر کڑی تنقید اور نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔
Ayahs 22:53–67

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

غرض (اس میں) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائیے بیشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور انکے دل خدا کے آگے عاجزی کریں اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا انکو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر آواقع ہو

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی (اور) وہ ان میں فیصلہ کر دے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو خدا اچھی روزی دے گا اور بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ان کو ایسے مقام سے داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اسکی مدد کرے گا بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور خدا تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اسلئے کہ خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ بیشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو مارتا ہے پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

منسک کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکرہ فلاینازعنک فی الامر۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے محمد ! وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں) ایک قول کے مطابق منسک اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی عمل خیر یا شر کے لئے عام ہو اور اس بنا پر لوگ اس سے مانوس ہوں۔ حج کے مناسک و ہ مقامات ہیں جہاں حج کے دوران عبادتیں کی جاتی ہیں اس لئے یہ مقامات حج کی عبادات ادا کرنے کے مقامات قرار پائے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ منسک عید کو کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ منیٰ وغیرہ میں قربانی کے جانور کا خون بہا کر اظہار بندگی کا نام منسلک ہے۔ عطار، مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے کہ ہر امت کے لئے جانوروں کی ذبح کی عبادت مقرر کی گئی ہے جس کے لئے وہ جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق منسک ان تمام عبادات کا نام ہے جنہیں بجا لانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ ابوبکر جصاص ان اقوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت برنا بن عازب کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ عید قربان کے دن باہر تشریف لائے اور فرمایا (ان اول نسکنا فی یومنا ھذا الصلوۃ ثم الذبح۔ آج ہماری پہلی عبادت نماز ہوگی اور اس کے بعد قربانی) آپ نے نماز اور ذبح یعنی قربانی دونوں کو نسک قرار دیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے۔ ہے کہ نسک کے اسم کا اطلاق تمام عبادات پر ہوتا ہے تاہم تقرب الٰہی کی جہت سے ذبح ہونے والے جانور پر اس کا اطلاق عرف عام کے لحاظ سے زیادہ غالب اور واضح ہے۔ قول باری ہے (ففدیۃ من صیام او صدقۃ اونسک تو فدیہ ادا کرے روزوں یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں۔ اگر نسک سے تمام عبادات مراد ہوں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے اس صورت میں ذبح بھی آیت کی مراد میں داخل ہوگی اور یہ چیز اس امر کی موجب ہوگی کہ لوگوں کو جانور کی قربانی دینے کا پابند کردیا گیا ہے۔ اس لئے کہ قول باری ہے (فلا ینا زعناک فی الامر) جب ہم جانور کی قربانی دینے کے پابند ہوگئے تو اس صورت میں اضحیہ کے وجوب پر اس سے استدلال کی گنجائش پیدا ہوجائے گی۔ اس لئے کہ زکوۃ کی ادائیگی کی طرح خوش حال لوگوں کی طرف سے عام طور پر قربانی دی جاتی ہے۔ اگر ہم اس سے حج کے موقعہ پر واجب ذبح مراد لیں تو پھر سا کا تعلق قران اور تمتع کی قربانیوں کے ساتھ خاص ہوگا اس لئے کہ حج کے اندر یہی دونوں قربانیاں نسک ہیں، باقی قربانیاں نسک نہیں کہلاتی ہیں۔ اس لئے کہ حج کے دوران ان کا وجوب کسی کمی کی تلافی یا جرم کی سزا کے طور پر ہوتا ہے۔ اس بنا پر ان کا وجوب بنیادی طور پر عبادت کے سلسلے میں نہیں ہوتا۔ جبکہ ظاہر قول ہے (جعلنا منسکا ھم ناسکوہ) اس امر کا مقتضی ہے کہ اس کے ساتھ شروع ہی سے عبادت کا ایجاب ہوا ہے۔ آیا قربانی واجب، سنت یا مستحب ہے ؟ سلف اور فقہاء مصار کے مابین اضحیہ یعنی عید قربان کے موقع پر کی جانے والی قربانی کے وجوب کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ شعبی نے ابو سریحہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو دیکھا تھا کہ یہ حضرات قربانی نہیں دیتے تھے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت بن عباس انہیں عید قربان کے دن دو درہم دے کر گوشت خریدنے کے لئے بھیج دیتے اور فرماتے کہ راستے میں جو شخص تم سے ملے اس سے کہہ دینا کہ یہ ابن عباس کا اضیحہ ہے۔ حضرت ابن عمر کا قول ہے کہ قربانی کوئی لازمی چیز نہیں ہے البتہ سنت اور نیکی ہے۔ حضرت ابو مسعود نصاری کہا کرتے تھے کہ میں خوشحال ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا، اس کی وجہ صرف یہ اندیشہ ہے کہ کہیں میرے پڑوسی سے دیکھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ قربانی مجھ پر لازم ہے۔ “ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ مسافر کے سوا دوسروں پر قربانی واجب ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ لوگ جب موجود ہوتے یعنی مقیم ہوتے تو قربانی کرتے اور اگر مسافر ہوتے تو قربانی نہ کرتے ۔ یحییٰ بن الیمان نے سعید بن عبدلاعزیز سے اور انہوں نے محکول سے روایت کی ہے کہ قربانی واجب ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام محمد اور زفر کا قول ہے کہ جو لوگ مقیم اور خوشحال ہوں خواہ وہ شہری باشندے ہوں یا دیہاتی ، ان پر قربانی واجب ہے ۔ مسافروں پر واجب نہیں۔ خواہ مسافر خوشحال ہی کیوں نہ ہو۔ اس سلسلے میں یسار یعنی خوشحالی کی حدود ہے جس پر پہنچ کر صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے۔ امام ابو یوسف سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ امام ابو یوسف سے ایک اور روایت کے مطابق قربانی واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ تمام لوگوں پر خواہ وہ مقیم ہوں یا مسافر قربانی ہے ۔ جس شخص نے بلا عذر قربانی نہ کی اس نے بہت برا کیا۔ سفیان ثوری اور امام شافعی کا قول ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے۔ سفیان نے یہ بھی کہا ہے کہ قربانی نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عبداللہ بن الحسن کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو قربانی کا جانور دے دے تو میرے نزدیک اس کا یہ فعل قربانی دینے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ان آراء پر ابوبکر جصاص رائے زنی کرتے ہئے کہتے ہیں کہ جو لوگ قربانی کے وجوب کے قائل ہیں وہ آیت زیر بحث سے استدلال کرتے ہیں نیز قول باری (قل ان صلوتی ونسکی و محیای و مباتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذلک امرت کہہ دو میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے) سے بھی ان کا استدلال ہے۔ یہ آیت اضحیہ کے امر کی مقتضی ہے اس لئے کہ اس مقام پر نسک سے اضحیہ یعنی عید قربان پر دی جانے والی قربانی مراد ہے ۔ اس س پر سعید بن جبیر کی وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جو انہوں نے حضرت عمران بن حصین سے کی ہے کہ حضو ر ﷺ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا تھا (یا فاطمۃ اشھدی اضحیتک فانہ یغفرلک یا ول قطرۃ من دمھا کل ذنب عملتیہ و قولی (ان صلوتی ونسکی ومعیای و مسماتی للہ رب العالمین) اے فاطمہ ! اپنی قربانی کو ذبح ہوتا ہوا دیکھو اس لئے کہ اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ تمہارے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے اور اس وقت یہ پڑھو (بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موث سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ) ایک روایت کے مطابق حضرت علی قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت یہی آیت تلاوت کرتے تھے۔ حضرت ابوبردہ بن نیار نے عید قربان کے دن حضور ﷺ سے عرض کیا کہ ” اللہ کے رسول ! میں نے اپنے نسک یعنی قربانی کے سلسلے میں تعجیل کرلی ہے۔ “ حضور ﷺ کا اشراد ہے (ان اول نسکنا فی یومنا ھذا الصلوۃ ثم الذبح۔ آج کے دن ہماری پہلی عبادت نماز ہے اور اس کے بعد قربانی ہے) یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نسک سے کبھی اضحیہ بھی مراد ہتا ہے۔ نیز حضور ﷺ نے یہ بتایا کہ آپ کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بات قول باری (وبذلک امرت اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے) سے معلوم ہوتی ہے اور امر ایجاب کا مقتضی ہوتا ہے۔ اس بارے میں قول باری (فصل لربک وانحو پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی دو ) سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس آیت میں نماز سے نماز عید اور نحر سے قربانی مراد ہے۔ امر وجوب کا مقتضی ہوتا ہے جب ایک چیز حضور ﷺ پر واجب ہوگئی تو وہ ہم پر بھی واجب ہوگی۔ کیونکہ قول باری ہے (فاتبعوہ اس کی یعنی رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرو) نیز ارشاد ہے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ ) کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے) روایات کی جہت سے قربانی کے وجوب کے قائلین اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جو زید بن الحساب نے عبداللہ بن عیاش سے نقل کی ہے۔ انہیں اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے انہوں نے کہا کہ حضو ر ﷺ نے فرمایا (من کان لہ یسار فلم یضح فلا یقرین مصلانا جس شخص کو وسعت اور فراخی میسر ہو اور پھر وہ قربانی نہ دے تو وہ ہماری نمازگاہ کے قریب بھی نہ آئے) اس حدیث کو زید بن الحساب کے علاوہ ایک جماعت نے مرفوعاً روایت کی ہے جس میں یحییٰ بن سعید بھی شامل ہیں۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں عباس بن الولید نے، انہیں الہیشم خارجہ نے، انہیں یحییٰ بن سعید نے عبداللہ بن عیاش سے، انہوں نے الاعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من قدر علیٰ سعۃ فلم یضح فلا یقربن مصلانا جس شخص کو کشائش اور فراخی حاصل ہو اور پھر وہ قربانی نہ دے تو وہ ہماری نماز گاہ کے قریب بھی نہ آئے) اس حدیث کو یحییٰ بن یعلیٰ نے بھی مرفوعاً روایت کی ہے۔ ہمیں نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق نے انہیں احمد بن النعمان الفراء نے ، انہیں یحییٰ بن یعلی نے حضرت عبداللہ بن عباس سے یا عباس نے الاعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من وجد سعۃ فلم یضع فلا یقربن مسجدنا ) جس شخص کو کشائش اور فراخی حاصل ہو اور پھر وہ قربانی نہ دے تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے) اسی حدیث کو عبید اللہ بن ابی جعفر نے الاعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ ” جس شخص کو کشائش اور فراخی میسر ہو اور وہ قربانی نہ دے تو وہ ہماری نمازگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ “ ایک قول کے مطابق عبید اللہ بن ابی جعفر ضبط حدیث اور جلالت روایت میں ابن عیاش سے بڑھ کر ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ پر موقوف کیا ہے، اسے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔ ایک قول کے مطابق اس بارے میں درست بات یہ ہے کہ یہ روایت مرفوع نہیں ہے بلکہ حضرت ابوہریرہ پر جا کر موقوف ہوگئی ہے۔ قربانی کا حکم باقی ہے اور عتیرہ منسوخ ہے اضیحہ کے ایجاب پر ابور رملہ الحنفی کی حدیث سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے۔ یہ حدیث انہوں نے مخنف بن سلیم سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (علی کل اھل بیت فی عامر اضحیۃ وعتیرۃ ہر خاندان پر ہر سال ایک قربانی اور ایک عتیرہ ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ عتیرہ بالاتفاق منسوخ ہ، اس کی صورت یہ تھی کہ لوگ رجب کے مہینے میں روزہ رکھتے پھر بکری ذبح کرتے اسے رجبیہ بھی کہتے ہیں۔ ابن سیرین اور ابن عون دونوں اس پر عمل پیرا رہے۔ عتیرہ تو بالانفاق منسوخ ہے لیکن اضحیہ کے نسخ پر کوئی دلالت قائم نہیں ہوئی اس لئے اس حدیث کے مقتضی کی روشنی میں یہ واجب ہے تاہم اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ ہر خاندان پر ایک قربانی ہے یہ بات تو معلوم ہے کہ ایک واجب قربانی پورے خاندان کے لئے کافی نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک فرد کی طرف سے ادا ہوتی ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے ایجاب مراد نہیں لیا ہے۔ قربانی کے ایجاب کے قائلین اس روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں جو ہمیں عبدالباقی بن قانع نے بیان کی۔ انہیں احمد بن ابی عون البزوری نے ، انہیں ابو معمر اسماعیل بن ابراہیم نے ، انہیں ابو اسماعیل المودب نے مجالد سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت جابر اور حضرت براء بن عازب سے کہ حضور ﷺ نے عید قربان کے دن منبر پر ارشاد فرمایا (من صلی معنا ھذہ الصلوۃ فلیذ بح بعد الصلوۃ جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھی ہے وہ اب نماز کے بعد قربانی کرے) یہ سن کر حضرت ابوبردہ بن نیار کھڑے ہوگئے اور عرض کیا ” اللہ کے رسول ! میں نے پہلے ہی جانور ذبح کرلیا تھا خیال یہ تھا کہ جب عید کی نماز سے فارغ ہو کر آئیں گے تو دوستوں کے ساتھ مل کر گوشت کھائیں گے۔ آپ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا (لیس منک تمہاری قربانی نہیں ہوئی) انہوں نے پھر عرض کیا۔” میرے پاس بکری کا ایک بچہ ہے۔ “ آپ نے فرمایا۔” اس کی قربانی دے دو ، تمہاری طرف سے قربانی ادا ہوجائے گی لیکن تمہارے سوا کسی اور کی طرف سے اس کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔ ‘ ‘ اس روایت سے کئی وجوہ کی بنا پر قربانی کے وجوب پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اول حضور ﷺ کا یہ ارشاد کہ (من صلی معنا ھذہ الصلوۃ فلیذ حج بعد الصلوۃ) اس میں ذبح کا حکم ہے جس کا ظاہر وجوب کا مقتضی ہے ۔ دوسری وجہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد کہ (تجزی عنک ولا تجزی عن غیرک) اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس بکری کے بچے کی قربانی کے ذریعے تمہاری قربانی ادا ہوجائے گی اس لئے کہ محاورہ ہے ” جزی عنی کذا “ جس کے معنی ہیں۔” اس نے میری طرسے فلاں چیز ادا کردی “ اور ادائیگی واجب چیز کی ہوتی ہے یہ بات وجوب کی مقتضی ہے۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھیے، اس حدیث کے بعض طرق میں یہ الفاظ آئے ہیں (فمن ذبح قبل الصلوۃ فلیعد اضحیۃ جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی دی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے) بعض طرق میں یہ ذکر ہے آپ نے حضرت ابوبردہ سے فرمایا (اعد اضحیتک اپنی قربانی دوبارہ کرو) جو حضرات اس بات کو تسلیم نہیں کرتے وہ یہ کہتے ہیں کہ حضو ر ﷺ کا یہ ارشاد (من صلی معنا ھذہ الصلوۃ وشھد معنا فلیذبح جس شخص نے ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھی اور ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوا وہ قربانی کرے) اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے ایجاب مراد نہیں لیا ہے اس لئے کہ سب کے نزدیک قربانی کے وجوب کا نماز میں شمولیت کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ جب یہ بات سب کے لئے عام ہے اور اس میں مال داروں کی تخصیص نہیں ہے تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ حضور ﷺ نے مدب اور استحباب مراد لیا ہے۔ رہ گیا آپ کا یہ ارشاد کہ (تجزی عنک بکری کے بچے کی قربانی تمہاری طرف سے ادا ہوجائے گی) تو اس سے آپ سے آپ نے اس عبادت کا جو ازمراد لیا ہے۔ جو از اور قضاء یعنی ادائیگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک جواز قربت یعنی عبادت کا جواز اور دوسرا جواز فرض۔ لفظ جواز اور قضاء کا اطلاق ظاہراً وجوب پر دلالت نہیں کرتا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ابو بردہ نے نذر کے طور پر اپنے اوپر قربانی واجب کرلی ہو۔ اس لئے حضور ﷺ نے انہیں دوبارہ قربانی دینے کا حکم دیا ۔ اس لئے آپ نے جن الفاظ کے ذریعے حضرت ابوبردہ کو خطاب کیا ہے وہ وجوب پر دلالت نہیں کرتے۔ اس لئے کہ یہ ایک معین شخص کے لئے حکم تھا ہر شخص پر عموم لفظ کے ذریعے قربانی کا ایجاب نہیں تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ اگر واجب کی ادائیگی مراد لیتے تو آپ حضرت ابوبردہ سے اس قربانی کی قیمت ضرور پوچھتے تاکہ ان پر اس کے مثل کا ایجاب ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت ابوبردہ نے یہ عرض کیا تھا کہ ” میرے پاس بکری کا بچہ ہے جس میں دو بکریوں سے زیادہ گوشت ہے۔ “ اس طرح بکری کا بچہ اس جانور سے بہتر تھا جو انہوں نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا تھا۔ قربانی کے وجوب پر نظر اور قیاس سے استدلال کیا جاسکتا ہے وہ اس طرح کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ نذر کی صورت میں قربانی لازم ہوجاتی ہے۔ اگر وجوب کے حکم کے اندر قربانی کے لئے اصل موجود نہ ہوتی تو نذر کی بنا پر یہ ہرگز لازم نہ ہوتی جس طرح دوسری تمام چیزوں کا حکم ہے کہ اگر وجوب کے حکم کے اندر ان کی اصل موجود نہ ہو تو وہ نذر کی بنا پر واجب نہیں ہوتیں۔ قربانی کے وجوب پر اس روایت سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جسے جابر الحنفی نے نقل کی ہے انہوں نے ابو جعفر سے اس کی روایت سے کی ہے وہ کہتے ہیں۔ اضحیہ نے ہر اس ذبح کو منسوخ کردیا جو اس سے قبل ہوتی تھی، زکوۃ نے ہر اس زکوۃ کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے ادا کی جاتی تھی۔ رمضان کے روزے نے ہر اس روزے کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے رکھا جاتا تھا اور غسل جنایت نے ہر اس غسل کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے عمل میں آتا تھا۔ “ یہ بات اضحیہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے ماقبل کی قربانی کی تمام صورتیں منسوخ ہوگئیں۔ اس کی وجہ سے جو چیز منسوخ ہوئی ہے وہ واجب کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ہر وہ حکم جس کے متعلق یہ ذکر کیا گیا ہو کہ یہ اپنے ماقبل کے لئے ناسخ ہے وہ فرض یا واجب ہوتا ہے۔ ابوبکر جصاص اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے نزدیک وجوب پر دلالت نہیں کرتی، اس لئے کہ واجب کا نسخ دراصل وجوب کی مدت کا بیان ہوتا ہے۔ جب نسخ کے ذریعے یہ بیان کردیا جائے کہ ایجاب کی مدت اس وقت تک کے لئے تھی تو اس میں ایسی بات نہیں پائی جائے گی جو کسی اور حکم کے ایجاب کی مقتضی بن سکتی ہو۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر حضور ﷺ یہ فرماتے کہ تم لوگوں سے عتیرہ (رجب کے مہینے میں ذبح ہونے والی بکری) اور عقیقہ بچے کی پیدائش کے سات دن بعد ذبح کیا جانے والا جانور) نیز دوسرے تمام ذبائح کا حکم منسوخ ہوچکا ہے تو اس ارشاد میں کسی اور ذبیحہ کے وجوب پر دلالت نہ ہوتی۔ اس بنا پر درج بالا قول میں کہ ” اضحیہ نے ماقبل کے ہر ذبیحہ کو منسوخ کردیا ہے۔ “ اضحیہ کے وجوب پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس مقام پر نسخ کے ذکر کا فائدہ صرف یہ ہے کہ جب ہمیں اضحیہ کی ترغیب دلائی گئی تو اس کے بعد اب کوئی واجب ذبیحہ باقی نہیں رہا۔ قربانی کے وجوب کی نفی پر اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے جو ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت کی، انہیں ابراہیم بن عبداللہ نے، انہیں عبدالعزیز بن الخطاب نے، انہیں مندل بن علی نے ابوحباب سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (الاضحی علی فریضۃ وھو علیکم سنۃ قربانی مجھ پر فرض ہے لیکن تمہارے لئے سنت ہے) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں سعید بن محمد ابو عثمان الا نجدانی نے، انہیں الحسن بن حماد نے، انہیں عبدالرحیم بن سلیم نے عبداللہ بن محرز سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (امرت بالاضحی والو ترولم تعزم علی۔ مجھے قربانی کرنے اور وتر پڑھنے کا حکم ملا ہے لیکن یہ مجھ پر لازم نہیں کئے گئے ہیں۔ ) ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن علی بن العباس الفقیہ نے، انہیں عبد اللہ بن عمر نے۔ انہیں محمد بن عبدالوارث نے، انہیں ابان نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (ثلاث ھن علی فریضۃ ولکم تطرع الاضحی والو تر والضحی تین باتیں میرے لئے فرض ہیں اور تمہارے لئے نفل ہیں۔ قربانی، و تر کی نماز اور چاشت کی نماز) ان روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی ہم پر واجب نہیں ہے۔ تاہم اگر روایات میں کسی حکم کی نفی اور اثبات میں تعاضر ہوجائے تو اثبات و ایجاب کی روایات اولیٰ ہوں گی۔ ان پر دو وجوہ کی بنا پر عمل کرنا اولیٰ ہوگا۔ ایک تو یہ کہ اباحت ترک پر ایجاب وارد ہوتا ہے دوسری یہ کہ ایجاب کی روایات میں ترک کی ممانعت ہے اور نفی کی روایات میں ترک کی اباحت ہے اور ممانعت اباحت اولیٰ ہوتی ہے۔ نفی وجوب پر اس روایت سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی، انہیں ابو دائود نے انہیں ہارون بن عبداللہ نے ، انہیں عبداللہ بن یزید نے، انہیں سعید بن ایوب نے، انہیں عیاش القتبانی نے عیسیٰ بن ہلال ا لصدفی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (امرت بیوم الاضحی عیداً جعلہ اللہ لھذہ الا مۃ مجھے عید قربان کے دن عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے مقرر کیا ہے) ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا۔” اگر میرے پاس صرف ایک اونٹنی ہو جو مجھے اس کے دودھ سے فائدہ اٹھانے کے لئے ملی ہو تو آیا میں اس کی قربانی کر دوں۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں، اگر تم اپنے بال اتروا لو، ناخن ترشوا لو، مونچھیں کتروا لو اور موئے زیر ناف صاف کرلو تو اللہ کے نزدیک اس سے تمہاری قربانی کی تکمیل ہوجائے گی۔ “ جب حضور ﷺ نے درج بالا امور کو بمنزلہ اضحیہ قرار دیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ اضحیہ واجب نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان افعال کو سرانجام واجب نہیں ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابو دائود نے انہیں ابراہیم بن موسیٰ الرازی نے ، انہیں عیسیٰ نے ، انہیں محمد بن اسحاق نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابو عیش سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے کہ حضور ﷺ نے یوم النحر کو دو خوبصورت خصی شدہ اور سینگوں والے مینڈھے ذبح فرمائے۔ جب آپ نے ذبح کرنے کے لئے ان دونوں کو لٹایا تو یہ دعا پڑھی (انی وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض علی ملۃ ابراہیم حنیفا وما انا من المشرکین ان صلوتی ونسکی و محیای و مباتی للہ رب العالمین لا شریک لہ و بذلک امرت وانا اول المسلمین، اللھم منک ولک عن محمد و امتہ باسم اللہ واللہ اکبر۔ میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ملت ابراہیمی پر ہوں سب سے یک سو ہو کر، میں مشرکین میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زنگدی اور میری موت سب کچھ اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اطاعت کرنے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ ! یہ تیری ہی طرف سے عطا ہوئی ہے اور تیرے ہی لئے ہے، یہ قربانی محمد (ﷺ ) اور اس کی امت کی طرف سے ہے، اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ سب سے بڑا ہے ) اس کے بعد آپ نے دونوں جانوروں کو ذبح کردیا۔ ان حضرات کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی امت کی طرف سے قربانی کی جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ غیر واجب ہے اس لئے کہ اگر قربانی واجب ہوتی تو ایک مینڈھا پوری امت کی طرف سے قربانی کے لئے کافی نہ ہوتا۔ ابوبکر جصاص اس استدلال کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ بات وجوب کی نفی نہیں کرتی۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے امت کی طرف سے تطوع اور رضا کارانہ طور پر یہ قربانی دی تھی اور یہ بات جائز ہے کہ ایک شخص جس پر قربانی واجب ہو اس کی طرف سے کوئی رضا کارانہ طور پر قربانی دے دے جس طرح ایک شخص جس پر قربانی واجب ہوتی ہو اگر وہ نفلی قربانی دے گا تو اس کی یہ قربانی جائز ہوگی لیکن یہ چیز اس پر لازم شدہ قربانی کے وجوب کو ساقط نہیں کرے گی۔ ہم نے سلف سے قربانی کے ایجاب کی نفی میں جو روایتیں نقل کی ہیں ان سے دو وجوہ کی بنا پر فنی وجوب پر استدلال ہوسکتا ہے ایک تو یہ کہ ان حضرات کے ہم چشموں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں گزرا جس سے نفی وجوب کے خلاف روایت منقول ہو، جبکہ ان حضرات سے ہماری مذکورہ نفی ایجاب کی روایتیں پوری طرح پھیلی ہوئی اور مشہور تھیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر قربانی واجب ہوتی تو لوگوں کو اس حکم کی عمومی طور پر ضرورت ہوتی جس سے یہ بات لازم ہوجاتی کہ حضور ﷺ کی طرف سے صحابہ کرام کو اس کے وجوب کے حکم سے ضرور آگاہ کردیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی طرف سے صحابہ کرام کو آگاہ کردیا جاتا تو یہ حکم استفاضہ اور تواتر کی صورت میں امت کے اندر نقل ہوتا اور کچھ نہ ہوتا تو کم از کم اس حکم کی روایت اسی درجے کی ہوتی جس درجے کی صدقہ فطر کے حکم کی روایت ہے اس لئے کہ لوگوں کو عمومی طور پر اس حکم کے جاننے کی ضرورت تھی۔ جب امت کے اندر استفاضہ کی صورت میں اس حکم کی روایت موجود نہیں ہے تو یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے ۔ ا سلسلے میں یہ استدلال بھی کیا جاسکتا ہے اگر قربانی واجب ہوتی جو کہ مال کو لاحق ہونے والا حق ہے تو مقیم اور مسافر کا حکم یکساں ہوتا ۔ اس کا وجوب دونوں پر ہوتا جس طرح صدقہ فطر کا وجوب دونوں پر ہے۔ لیکن جب امام ابوحنیفہ مسافر پر اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ یہ سرے سے واجب نہیں ہے۔ ایک استدلال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر یہ واجب ہوتا جبکہ یہ مال کو لاحق ہونے والا حق ہے تو وقت کا گزر جانا اس کے وجوب کو ساقط نہ کرسکتا۔ اب جبکہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ ایام النحر گزر جانے کے ساتھ قربانی ساقط ہوجاتی ہے تو یہ امر اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ ایسے تمام حقوق جو مال کے اندر واجب ہوتے ہیں مثلاً زکوۃ، صدقہ فطر اور عشر وغیرہ وہ وقت کے گزر جانے کی بنا پر ساقط نہیں ہوتے۔
Ayahs 22:68–78

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا قیامت کے روز ان کا فیصلہ کر دے گا

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے ؟ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ انکے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو کہ جن لوگوں کو خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں اور اگر ان سے کوئی مکھی چھین کرلے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگذیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد ہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور خدا کے (دین کی رسی) کو پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے

جہاد فی سبیل اللہ قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ متصل ہوگیا اور اس وجہ سے یہ منصوب ہوگیا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ ہم پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کی پیروی لازم ہے البتہ جن احکامات کا نسخ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ثابت ہوچکا ان کا اتباع لازم نہیں ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (ملۃ ابیکم ابراہیم) اس لئے فرمایا کہ یہ ہمارے نبی ﷺ کی ملت میں داخل ہے ۔ اگر چہ مفہوم یہ ہے کہ یہ ملت تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی طرح ہے تو اس سے پھر مراد یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا جیسا کرنے کا حق ہے تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی طرح ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اللہ کی راہ میں اس طرح جہاد کیا تھا جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ حضرت ابن عباس نے قول باری (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ) کی تفسیر میں فرمایا :” مشرکین کے خلاف جہاد کرو۔ “ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ” اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ گھبرائو یہی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ قول باری (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حرج سے مراد تنگی ہے۔ مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ حوادث یعنی نئے مسائل میں اگر اختلاف رائے ہو تو جس قول کے نتیجے میں تنگی پیدا ہوگی وہ قابل تسلیم نہیں ہوگا اور جس قول کے نتیجے میں حکم کے اندر وسعت اور گنجائش کا پہلو ہوگا وہ اولیٰ ہوگا۔ ایک قول ہے کہ (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) کا مفہوم یہ ہے کہ دین میں کوئی ایسی تنگی نہیں ہے جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہ ہو وہ اس طرح کہ تنگی کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن سے توبہ کے ذریعے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ ظلماً لی ہوئی چیز کو واپس کر کے ان سے خلاصی مل سکتی ہے۔ اس لئے دین اسلام میں ایسی کوئی تنگی نہیں ہے کہ گناہ کی سزا سے چھٹکارے کی کوئی سیل نہ ہو۔ قول باری (ملۃ ابیکم ابراہیم) میں تمام مسلمانوں کو خطاب ہے۔ اگرچہ تمام مسلمانوں کا نسب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جا کر نہیں ملتا اس سلسلے میں حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مسلمانوں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حرمت اسی طرح لازم ہے جس طرح بیٹے پر باپ کی حرمت لازم ہے۔ جیسا کہ قول باری ہے (وازواجد امھاتکم اور نبی (ﷺ ) کی ازواج تمہاری مائیں ہیں) بعض قرأت میں یہ ال فاظ بھی ہیں ” وھو اب لھم (اور وہ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے یعنی مسلمانوں کے باپ ہیں۔ ) تمہارا نام مسلم رکھا گیا قول باری ہے (ھو سما کم المسلمین من قبل و فی ھذا اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کی طرف سے حکایت کرتے ہوئے ارشاد باری ہے (ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک اور ہماری اولاد میں سے ایک امت پیدا کر جو تیری اطاعت گزار ہو) قول باری (من قبل وفی ھذا) کی تفسیر میں مجاہد کا قول ہے۔ قرآن سے پہلے اور قرآن کے اندر “ قول باری (ھو جتبکم) اس پر دلالت کرتا ہے کہ آیت کے مخاطب اول یعنی صحابہ کرام سب کے سب عادل اور پسندیدہ تھے۔ اس سے ان لوگوں کے قول کا بطلان ہوجاتا ہے جو صحابہ کرام پر زبان طعن و تشنیع دراز کرتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو چن لیتا ہے جو اس کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے حصول میں کوشاں ہوتے ہیں۔ اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح ہے جو اس آیت کے اولین مخاطب ہیں۔ یہ آیت ان کی پاکبازی کی دلیل ہے۔ قول باری ہے (لیکون الرسول شھیداً علیکم وتکونو اشھدآء علی الناس تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ) اس میں صحابہ کرام کے اجماع کی صحت پر دلالت موجود ہے اس لئے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم پر گواہ بن کر ان لوگوں کی طاعت کی گواہی دیں جنہوں نے نبی ﷺ کی تبلیغ پر اللہ کی اطاعت کی اور نافرمانوں کی نافرمانی کی بھی گواہی دیں اور تم لوگوں پر گواہ بن کر ان کے اعمال کی گواہی دو جو انہوں نے تمہاری طرف سے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کی تبلیغ پر اختیار کیا۔ یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے (و کذلک جعلنا کم امۃ وسطالتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداً اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ” امت وسط “ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتداء صحابہ کرام کی مدح سے کی اور انہیں عدالت کی صفت سے متصف فرمایا پھر یہ بتایا کہ وہ بعد میں آنے والے لوگوں پر گواہ اور حجت ہوں گے جس طرح آیت زیر بحث میں فرمایا (ھو اجتبکم) تا قول باری (وتکونوا شھدآء علی الناس) قول باری ہے (وافعلوا الخیر اور نیک کام کرو) اس آیت سے بعض دفعہ ایسی قربت اور عبادت کے ایجاب پر استدلال کیا جاتا ہے جس کے وجوب میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے نزدیک آیت سے کسی چیز کے ایجاب پر نہ تو استدلال درست ہے اور نہ ہی اس میں عموم کا اعتقاد صحیح ہے۔