Ayahs 23:1–2نماز میں خشوع وخضوع
قول باری ہے (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون) یقینافلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں) ابن عون نے محمد بن سیرین سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنا سرجھکا لیا۔ ہشام نے مجھ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔ ہر شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نگاہ اس کی سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے۔ ایک جماعت سے مروی ہے کہ نماز میں خشوع سے مراد یہ ہے کہ نگاہ سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے۔ ابراہیم، مجاہد اور زہری سے مروی ہے کہ خشوع کے معنی سکون کے ہیں۔ المسعودی نے ابوسنان سے اور انہوں نے اپنے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ حضرت علی سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی۔ آپ نے فرمایا۔ خشوع کا تعلق دل سے ہے نیز یہ کہ تم مسلمان شخص کے لئے اپنا کندھا نرم رکھا اور نماز میں دائیں بائیں نہ دیکھو۔ “ حسن کا قول ہے کہ خاشعون بمعنی خائفون ہے یعنی ڈرنے والے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ خشوع کا لفظ ان تمام معانی کو شامل ہے یعنی نماز میں سکون اختیار کرنا، عاجزی کا اظہار کرنا۔ دائیں بائیں نہ یدکھنا ، حرکت نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔ حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد منقول ہے (اسکنوا فی الصلوۃ و کفوا ایدیکم فی الصلوۃ نماز میں سکون اختیار کرو اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو) نیز فرمایا (امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولا ثوباً مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء کے بل سجدوں کروں، اور بالوں اور کپڑے کو نہ سمیٹوں) حضور ﷺ نے نماز میں کنکریوں کو ہاتھ لگانے سے منع فرمایا ہے۔
آپ کا ارشاد ہے (اذا قام الرجل یصلی فان الرحمۃ تواجھہ فاذا التفت انصوفت عنہ، جب ایک شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے ۔ جب وہ دائیں بائیں دیکھتا ہے تو رحمت منہ موڑ کر چلی جاتی ہے) زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نماز میں نگاہ اٹھاتے تھے لیکن دائیں بائیں نہیں دیکھتے تھے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابوء دائود نے، انہیں ابو توبہ نے ، انہیں معاویہ بن سلام نے زید بن سلام سے کہ انہوں نے ابو سلام کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ مجھے السلولی نے روایت بیان کی، اور انہیں سہل بن الحنظلیہ نے کہ صحابہ کرام حضور ﷺ کے ہمراہ حنین کی طرف روانہ ہوگئے۔ سہل نے سلسلہ حدیث جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا۔” آج رات پہرہ دینے کے فرائض کون سر انجام دے گا ؟ “ حضرت انس بن ابی مرثد الغنوی نے عرض کیا۔” میں سرانجام دوں گا۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا۔” پھر گھوڑے پر سوار ہو جائو۔ “ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر حضور ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا۔” اس گھاٹی کی طرف چلے جائو یہاں تک کہ اس کی بلندی پر پہنچ جائو اور ہو شیار رہنا کہ کہیں رات کی وجہ سے دھوکا نہ جائو۔ “ جب صبح ہوئی تو حضو ر ﷺ نماز گاہ کی طرف چل پڑے اور وہاں پہنچ کر دو رکعت نماز ادا کی پھر فرمایا ” کیا تم نے اپنے سوار کی موجودگی کو محسوس کیا ؟ “ صحابہ نے نفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد جماعت کے لئے صفیں درست ہوئیں اور اقامت کہی گئی۔ حضور ﷺ نماز کے دوران گھاٹی کی طرف بار بار دیکھتے رہے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرا تو فرمایا۔ تمہیں بشارت ہو، تمہارا سوار آگیا ہے۔ “ اس روایت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ ﷺ نماز کے اندر بار بار گھاٹی کی طرف دیکھتے رہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات دو وجوہ سے عذر پر محمول ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ کو اس گھاٹی کی طرف سے دشمن کے اچانک حملے کا خطرہ تھا اور دوسری یہ کہ آپ سوار کے متعقل فکر مند تھے جب تک کہ اس کی آمد نہ ہوگئی۔
ابراہیم نخعی کے متعلق مروی ہے کہ وہ نماز میں دزدیدہ نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھا کرتے تھے۔ حماد بن سلمہ نے حمید سے انہوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عمر سے استفسار کیا گیا کہ عبداللہ بن الزبیر نماز میں فلاں فلاں حرکت نہیں کرت ییعنی دائیں بائیں نہیں دیکھتے یہ سن کر حضرت ابن عمر نے فرمایا۔” لیکن ہم تو کرتے ہیں اور ہم لوگوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں۔ “ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ نماز میں دائیں بائیں التفات نہیں کرتے تھے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ جس التفات سے روکا گیا ہے یہ وہ التفات ہے جس میں نمازی اپنا چہرہ دائیں یا بائیں موڑ لے۔ لیکن اگر آنکھوں کے کناروں سے دائیں بائیں دیکھ لے تو اس کی ممانعت نہیں ہے۔ سفیان نے اعمش سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن مسعود جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ زمین پر پڑا ہوا کپڑا ہے۔ ابومجلز نے ابو عبیدہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن مسعود جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنی آواز پست رکھتے، اپنا جسم اور اپنی نظریں جھکائے رکھتے۔ علی بن صالح نے زبیر الیامی کے متعلق روایت کی ہے کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا لکڑی ہیں۔
Ayahs 23:3–4قول باری ہے (والذین ھم عن اللغومعرضون اور لغوب بات سے دور رہتے ہیں) لغو بےفائدہ کام کو کہتے ہیں جس فعل اور قول کی یہ صفت ہو وہ ممنوع ہے ۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ لغو باطل کو کہتے ہیں جس قومل کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ باطل کے ذریعے کبھی فوری طور پر حاصل ہونے والے فوائد کی تلاش ہوتی ہے۔
Ayahs 23:5–6شرم و حیا
قول باری ہے (والذین ھم لفزوجھم حافظون اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں) آیت سے مرد اور عورتیں دونوں مراد لینا درست ہے اس لئے کہ جب مذکر اور مئونث دونوں کا اجتماع ہوجائے تو تغلیب کے طور پر مذکر کا صیغہ لایا جاتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون) یہاں مرد اور عورتیں دونوں مراد ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ آیت (والذین ھم لفروجھم حافظون) مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اس کی دلیل یہ قول باری ہے (الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں) اس میں لا محالہ مرد مراد ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوء امتناع نہیں کہ پہلا لفظ دونوں جنسوں کے لئے عام ہو اور استثناء مردوں کے لئے مخصوص ہو۔ جس طرح یہ قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ حسناً اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی) پھر ارشاد ہوا (وان جاھداک علی ان نشرک بی اور اگر یہ دونوں یعنی ماں باپ تجھے اس امر پر مجبور کریں تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے) پہلا فقرہ سب کے لئے عام ہے اور عطف بعض افراد کے لئے ہے جنہیں لفظ شامل ہے۔ قول باری (والذین ھم لفروجھم حافظون) دلالت حال کی بنا پر عام ہے۔ دلالت حال یہ ہے کہ بدکاری میں مبتلا ہنے سے شرمگاہوں کی حفاظت کی جائے۔
Ayahs 23:7–8نکاح متعہ کی تحریم
قول باری ہے (فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العادون البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں) آیت نکاح متعہ کی تحریم کی مقتضی ہے اس لئے کہ متعہ کی بنا پر ہاتھ آنے والی عورت نہ تو بیوی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک یمین کے تحت آنے والی مملوکہ ہم نے سورة نساء میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ یہ بحث قول باری (ورآء ذلک کی) کی تفسیر کے تحت کی گئی ہے۔ قول باری (ورآء ذلک) کا مفہوم ” غیر ذلک ‘ ہے یعنی ان کے ماسوا۔ قول باری (الحادون) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو حلال سے حرام کی طرف تجاوز کریں۔ قول باری (الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم) اس جملہ سے استثناء جس میں شرمگاہوں کی حفاظت کا ذکر ہے اور اس قول کے ذریعے بیوی اور ملک یمین کے تحت آنے والی لونڈی سے ہمبستری کی اباحت کی خبر دی گئی ہے۔ اس لئے آیت ان دو صنفوں کے ماسوا تمام عورتوں سے جنسی تعلقات پر پابندی کی مقتضی ہے۔ اس کے ذریعے بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ ہمبستری کی اباحت پر دلالت ہو رہی ہے کیونکہ ان کے بارے میں لفظ کے اندر عموم ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ ہمبستری کی اباحت میں اگر عموم ہوتا تو حیض کی حالت میں ا نک یساتھ ہمبستری درست ہوتی، اسی طرح ظوہر والی لونڈی نیز شبہ کی بنا پر جماع کے نتیجے میں عدت گزارنے والی کے ساتھ بھی وطی کا جواز ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت کے لفظ کا عموم تمام احوال میں مذکورہ عورتوں کے ساتھ وطی کے جواز کا مقتضی ہے تاہم ان کی تخصیص پر دلالت قائم ہوچکی ہے جس طرح عموم کی تمام صورتوں میں ہوتا ہے کہ اگر اس کے بعض افراد کی تخصیص کردی جائے تو یہ بات باقی ماندہ افراد میں عموم کے حکم کی بقاء کو مانع نہیں ہوتی۔ ملک یمین کا جب اطلاق کیا جاتا ہے تو اس سے مملوک غلام اور لونڈی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ ملک یمین کا اطلاق بنی آدم کے سوا کسی اور چیز پر نہیں ہوتا۔ مثلاً گھر اور سواری پر ملک یمین کے لفظ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ اس لئے کہ غلام اور لونڈی کی ملکیت دوسری چیزوں کی ملکیت سے اخص ہوتی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر کو گرا سکتا ہے اور گرا کر اسے دوبارہ بنا سکتا ہے اس کام میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی لیکن آدم زادوں کے سلسلے میں وہ یہ قدم نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح وہ گھر کو عاریت کے طور پردے سکتا ہے، اپنی مملوکہ اشیاء کو بھی جسے چاہے دے سکتا ہے لیکن اگر وہ چاہے کہ اپنی مملوکہ لونڈی کی شرمگاہ کسی کو عاریت کے طور پردے دے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا۔