23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاحکام القرآن

Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو دے سکتے ہیں وہ دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے

راہ خدا میں خرچ کرتے ہوئے بھی اللہ سے ڈرتے ہیں قول باری ہے (والذین یوتون ما اتوا وقلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم راجعون) اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے) وکیع نے مالک بن مغول سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ” اللہ کے رسول ﷺ ! وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی وہ دیتے ہیں اور ان کے دل کانپتے رہتے ہیں، آیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو شراب پیتا اور چوری کرتا ہے ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا۔” عائشہ ! یہ بات نہیں، اس سے وہ شخص مراد ہے جو نمازیں پڑھتا اور روزے رکھتا ہے نیز اللہ کی راہ میں صدقہ بھی کرتا ہے لیکن ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے یہ اعمال اللہ کے ہاں قبول ہونے سے رہ نہ جائیں۔ “ جزیر نے لیث سے روایت کی۔ انہوں نے اس شخص سے جس نے انہیں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر سے روایت سنائی کہ (یوتون ما اتوا) سے زکواۃ مراد ہے۔ حسن بصر ی سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہیں اپنی نیکیاں رد ہوجانے کا اس سے زیادہ خطرہ رہتا تھا جتنا تمہیں اپنی برائیوں پر عذاب کا خطرہ ہے۔
Ayahs 23:61–62

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کے لئے آگے نکل جاتے ہیں

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا

قول باری ہے (اولئک یسارعون فی الخیرات وھم لھا سابقون) یہی لوگ طاعات میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف لپک رہے ہیں) یہاں خیرات سے مراد طاعات ہیں جن کی طرف اللہ پر ایمان رکھنے والے لپکتے ہیں اور ان کی طرف سبقت کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں اس لئے کہ انہیں ان کی رغبت ہوتی ہے اور ان پر ملنے والی جزا کا انہیں علم ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے قول باری (وھم لھا سابقون) کی تفسیر میں فرمایا۔ سعادت یعنی خوش بختی ان کی طرف سبقت کرگئی ہے۔ “ دوسرے حضرات کا قول ہے۔” یہ لوگ اہل طاعات ہیں اور جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ “ کچھ اور حضرات کا قول ہے۔ ” یہ لوگ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ “
Ayahs 23:63–66

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلائیں گے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج مت چلاؤ ! تم کو ہم سے کچھ مدد نہیں ملے گی

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے

قول باری ہے (ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عاملون اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے مختلف ہیں (جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) وہ اپنے یہ کرتوت کئے چلے جائیں گے) قتادہ اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اعمال سے مراد ایسی خطائیں ہیں جو حق کو نظر انداز کر کے کی جائیں حسن اور مجاہد سے منقول ہے۔” جو برے اعمال وہ ابھی کر رہے ہیں ان کے علاوہ بھی ایسے اعمال ہیں جنہیں یہ لازماً کر کے رہیں گے۔ “