22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر 22 کل رکوع 10 آیات 78 الفاظ و کلمات 1283 حروف 5432 سورۃ الحج کی ابتدائی آیات مکہ مکرمہ میں اور کچھ آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں چونکہ مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی آیات حاص طور پر کفار کے خلاف جہاد کی اجازت وغیرہ کے لیے ہیں اس لیے اس سورة کو مدنی سورة شمار کیا گیا ہے۔ تعارف سورة الحج بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے تعمیر بیت اللہ کے وقت تمام دنیا کے انسانوں کو حج کے لیے اذن عام دیا تھا۔ باہر سے زیارت کے لیے آنے والوں اور مکہ کے رہنے والوں کو حقوق میں برابر قرار دیا تھا۔ باہر سے زیارت کے لیے آنے والوں اور مکہ کے رہنے والوں کو حقوق میں برابر قرار دیا تھا۔ لیکن ان کفار نے اس مقدس و محترم سرزمین کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا تھا۔ اللہ کا وہ گھر جو اس کی عبادت و بندگی کے لیے بنا یا گیا تھا اس میں تین سو ساٹھ بن رکھ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کی جارہی تھی اور جس طرح تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی ہر حاجت کو اللہ کے سامنے پیش کر کے اس سے مدد مانگی تھی یہ لوگ ابراہیمی ہونے کے دعویدارہونے کے باوجود غیر اللہ سے اپنی حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ کفار کے غلبہ اور قوت و طاقت سے نہ گھبرائیں وہ وقت دور نہیں جب ان کفار کو کمر ٹوٹ جائے گی اور اللہ کا گھر قیامت تک صرف اسی کی عبادت و بندگی کے لیے مخصوص ہوجائے گا اور جہاد کے ذریعہ اہل ایمان کو ان کفار پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ فتح و نصرت ان کے قدم چومے گی اور آج جو لوگ اہل ایمان کے راستے کا پتھر بن گئے ہیں وہ سخت ناکام ہوں گے اور ان کی اجارہ داری ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک جس طرح اہل ایمان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ان کو اس زمانہ میں اور مدینہ منورہ کے ابتدائی دو سالوں میں اس بات کا حکم تھا کہ وہ ہر طرح کے مظالم برداشت کرتے رہیں اور طاقت ہونے کے باوجود اس کا کوئی جواب نہ دیں لیکن اس سورة اہل ایمان کو مسلم کالقب عطا کرکے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا پیکر بنا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں امن و سلامتی کے راستے میں یہ کفار و مشرکین آڑے آئیں تو ان کے خلاف طاقت استعمال کی جائے اور جہاد کیا جائے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن کریم میں پہلی مرتبہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک شدید زلزلے کے نتیجے میں یہ ساری کائنات درہم برہم کردی جائے گی ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ انسان دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ قیامت کا وہ دن بڑا دہشت ناک اور ہولناک ہوگا۔ جس میں ہر شخص پر ایک زبردست خوف طاری ہوجائے گا۔ فرمایا کہ ہر شخص کو اس دن کی فکر ہونا چاہیے۔ کسی کو اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے ایک وقت وہ آنے والا ہے جہاں ہر انسان کو اپنے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے۔ پھر کوئی شخص جزا اور سزا سے بچ نہیں سکتا۔ قیامت کا آنا برحق ہے اس میں شک کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی آیات میں کفار و مشرکین کو سیدھے راستے پرچلنے کی تاکید فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ان لوگوں نے کفر وشرک ‘ ضد ‘ ہٹ دھرمی اور ظلم و ستم کا راستہ تبدیل نہیں کیا اور وہ اپنی حرکتوں سے باز نہآئے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا انجام بہت قریب ہے اور ان کا انجام دوسری بد عمل اور بدکردار قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ منافقین سے کہا گیا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ وہ اپنی منافقانہ روش کو چھوڑ کر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرلیں۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر ان کو مہالت اور ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا ان کو نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ بھی اپنے ظلم و زیادتی اور زور زبردستی کے طریقوں کو چھوڑ کر راہ راست اختیار کرلیں۔ قیامت کے ہولناک اور دہشت ناک منظر کو پیش کر کے فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسا خوفناک دن ہوگا۔ جب دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی۔ حاملہ عورتوں کے حمل ضائع ہوجائیں گے اور ہر شخص اس دہشت سے ایسا محسو کرے گا جیسے وہ کسی نشہ میں ہے حالانکہ یہ سب کچھ نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے عذاب اور اس دن کی دہشت سے ہوگا۔ فرمایا کہ اس سخت ترین دن کے آنے سے پہلے پہلے اگر توبہ کرلی جائے تو اسی میں ان کے لیے بہتری ہے۔ کفار مکہ کو سمجھا یا گیا ہے کہ وہ جس طرح نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے سچے دین کو جھٹلا رہے ہیں۔ اہل ایمان پر مکہ کی زمین تنگ کر رہے ہیں اور دین کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں ابھی وقت ہے کہ وہ اپنے طرز عمل کو بدل ڈالیں ورنہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کفار و مشرکین کو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ملے گی اور آخرت میں ان کا بھیانک انجام ہوگا۔ اور وہ ہر طرح کی خیر و فلاح سے محروم رہیں گے۔ فرمیا گیا کہ تم نے جن بتوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے تم ان کی عبادت و پرستش کرتے ہو ان سے اپنی مرادیں مانگتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے خالق ومالک ہیں اور تمہاری ہر ضرورت کو پورا کردیں گے یہ خیال غلط ہے کیونکہ ان بتوں میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ ان کی کمزوری اور بےبسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے وجود کے لیے بھی تمہارے ہاتھوں کے محتاج ہیں۔ وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے بلکہ اگر اللہ کی پیدا کی ہوئی ایک مکھی بھی ان کی ناک پر بیٹھ جائے تو وہ اس مکھی کو اپنے بدن سے اڑا نہیں سکتے۔ وہ مکھی اگر ان کی کوئی چیز لے کر بھاگ جائے تو اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ جو اپنے نفع نقصان اور اختیار کے مالک نہیں ہیں وہ تمہارے نفع نقصان کے کیسے مالک ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا کہ تمہارا خالق صرف ایک اللہ ہے وہی ہر طرح کی عبادت کا مستحق ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ ہی تمہارا خالق اور پوری کائنات کا مالک ہے۔ ساری قدرت اسی ایک اللہ کی ہے۔ اس نے تمہارے ماں باپ اور تمہیں پیدا کیا ہے۔ اسی نے کائنات کو وجود بخشا ہے وہی اس کے نظام کو چلارہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس نظام کے چلانے میں کسی کا محتاج ہے۔ وہی اللہ ہے جو اس سارے نظام کائنات کو لپیٹ کر رکھ دے گا تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا اور پھر تم سے ایک ایک لمحہ کا حساب لے گا۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے تمہارا نام ” مسلم “ رکھا ہے ۔ تم مسلم ہو۔ ساری دنیا میں امن و سلامتی قائم کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اب ان کفار و مشرکین سے اقتدار چھین کر تمہارے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ جب حکومت ‘ اقتدار اور مال و دولت تمہارے حصے میں آئے تو تم اس نظام زندگی کو قائم کر کے دکھا دینا جس میں نمازوں کے قیام اور زکوۃ کی پابندی سے تمام انسانوں کے لیے خیر و فلاح کے راستے کھل جائیں گے۔ ہر نیکی کو قائم کرنا اور دنیا سے ہر برائی کو مٹا کر انسانوں کی فلاح بہبود کے لیے جدوجہد کرنے کو عبادت سمجھنا تاکہ دنیا ظالموں کے پنجوں سے نجات پا کر صالح انسانوں کی قیادت میں آجائے۔ اہل ایمان سے یہ بھی فرمایا جارہا ہے کہ وہ دنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ اور طریقہ اللہ کے سچے رسول آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سکیں جن کی زندگی کو اللہ نے ایک بےمثال نمونہ زندگی بنایا ہے۔ فرمایا کہ انسانیت کی نجات کا یہی ایک راستہ ہے اور اسی میں ان کی کامیابیاں پوشیدہ ہیں۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں جس نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ایمان اور عمل صالح اختیار کریں گے تو دین و دنیا کی ساری بھلائیاں اور کامیابیاں ان کو عطا کی جائیں گی۔ قیامت میں انہیں راحت بھری جنتیں دی جائیں گی جہاں ہر طرح سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور ان میں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی۔

Ayahs 22:1–10

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو بلاشبہ قیامت کا زلزلہ ہو لناک ہے۔

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن تم دیکھو گے کہ دودھ پلانے والی جس (بچے کو) دودھ پلاتی ہے اسے بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرادے گی۔ اور تم لوگوں کو دیکھو گے جیسے وہ نشے میں ہوں حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی ایسا سخت ہوگا۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں جو علم (وفکر) کے بغیر ہی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

حالانکہ اس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ اس سے جو بھی دوستی کرے گا وہ اسے گمراہ کرکے چھوڑے گا اور اسے جہنم کی راہ دکھائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تمہیں (قیامت کے دن) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں شک ہے تو (اس پر غور کرو) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے شکل و صورت بنی ہوئی اور بغیر شکل و صورت بنی ہوئی (ادھوری) تاکہ ہم تمہیں واضح کرکے بتادیں۔ اور ہم مائوں کے رحم میں جس (نطفے کو ض چاہیں ایک مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں ۔ پھر تمہیں بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ تاکہ پھر تم اپنی جوانی (کی عمر) کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کوئی تو پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے اور بعض تم میں سے اس نکمی عمر تک پھیر دیئے جاتے ہیں جہاں بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہیں جانتے۔ اور تم زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک پڑی ہے۔ پھر جہاں ہم نے اس پر بارش برسائی تو وہ تروتازہ ہو کر ابھرآتی ہے اور قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی ” حق “ ہے وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور بیشک قیامت آنے والی ہے جس میں شک و شبہ کی (گنجائش) نہیں ہے اور بلاشبہ اللہ ان لوگوں کو جو قبروں میں جا چکے ہیں ان کو ضرور اٹھائے گا۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ کے بار میں بغیر کسی علم ہدایت اور روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(تکبر سے) اپنی گردن کو اکڑائے ہوئے ہیں۔ تاکہ وہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو بھٹکا دیں۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم ان کو جلتی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(فرمائیں گے کہ ) یہ ہے وہ عذاب جو تم نے اپنے آگے بھیجا تھا اور بیشک اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی عمر۔ پست ترین عمر) ‘ ھامدۃ (مرجھائی ہوئی۔ دبی ہوئی۔ خشک) ‘ اھتزت (تروتازہ) ‘ ربت (اونچی اٹھی ہے۔ پھولتی ہے) ‘ انبتت (اگتی ہے۔ پھولتی ہے) ‘ بھیج (بھجۃ) رونق دار۔ شگفۃ ‘(یبعث) دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ اٹھا کھڑا کرتا ہے ‘(منیر) روشن۔ منور ‘(ثانی) (پھیرنے والا) ‘ عطف (کروٹ۔ بازو۔ شانہ) ‘ نذیق (ہم چکھائیں گے) ‘ خزی (رسوائی۔ ذلت) ‘ الحریق (جلتی اگ) ‘ ظلا م (بہت ظلم کرنے والا) ‘ عبید (عبد) بندے ‘ تشریح آیت نمبر 1 تا 10 : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے اے لوگو ! اپنے پروردگار سے اور قیامت کے اس ہولناک دن سے ڈرو جو اچانک ایسا زبردست زلزلہ اور بھونچال آئے گا جس کی شدت سے ہر شخص کے ہوش اڑ جائیں گے۔ اس دن کی دہشت کا یہ عالم ہوگا۔ کہ شفقت و محبت کرنے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی۔ حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے۔ ہر شخص ایسا لگے گا جیسے وہ نشہ کی حالت میں ہے۔ حالانکہ وہ نشہ نہیں بلکہ اللہ کے عذاب اور قہر کی دہشت کا اثر ہوگا۔ جس سے اس پر بوکھلاہٹ طاری ہوگی۔ اس دن سوائے نیکی ‘ تقوی ‘ پرہیز گاری اور خوف الہٰی کے کوئی چیز انسان کے کام نہ آسکے گی۔ حضرت علقمہ اور حضرت شعبی کی وہ روایتیں جن کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ اور بھونچال آنے کے بعد قیامت واقع ہوگی۔ قیامت آنے سے پہلے سورج مخالف سمت سے نکلے گا۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس سے ساری مخلوق جو قبروں میں ہے یا جس کے ذرات کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں سب کی سب زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائے گی۔ اور پھر ہر ایک سے اس کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیاجائے گا۔ قیامت کا واقع ہونا ایک ایسی سچائی ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے لیکن بعض لوگ شیطان کے بہکائے میں آکر یا اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے بغیر کسی علمی دلیل کے قیامت کا انکار کر بیٹھتے ہیں اور ہر مردود شیطان کے پیچھے لگ کر اسکا کہنا مانتے ہیں اور وہ پوری زندگی اسی بحث میں گذاردیتے ہیں کہ قیامت آئے گی یا نہیں ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں کو مثال کے طور پر بتایا ہے۔ فرمایا اگر انسان اپنی تخلیق اور پیدائش پر ہی غور کرلے کہ اس کو کیسے اور کس طرح پیدا کیا ہے ؟ تو اس کو یہ حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس کا اپنا وجود ہی اس کی بہت بڑی دلیل ہے۔ فرمایا کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک نا پاک قطرہ جس کو نطفہ کہتے ہیں وہ ایک عرصہ تک ماں کے پیٹ میں رہ کر جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر وہ گوشت کے بےجان لوتھڑے کی شکل بن جاتا ہے جس کی کوئی صورت شکل نہیں ہوتی۔ پھر اللہ جیسی صورت شکل دینا چاہتا ہے ویسی شکل و صورت بن جاتی ہے۔ جس کو رحم مادر میں جتنے دن ٹھہرانا یا رکھنا چاہتا ہے اس کو ٹھہراتا ہے جس کو نہیں چاہتا اس کو نہیں ٹھہراتا۔ پھر ایک مدت مقرر کے بعد وہ بچو پوری انسانی شکل اختیار کر کے اللہ کے حکم سے اس دنیا میں قدم رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ طاقت و قوت حاصل کر کے انسانی معاشرہ کا حصہ بن جاتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نطفہ یعنی مادہ ہر چالیس دن میں ایک نئی حالت اور صورت شکل اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ بخاری و مسلم نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے اس روایت کو نقل کیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ (1) انسانی نطفہ ماں کے رحم میں چالیس دن تک ایک جیسی حالت میں پڑا رہتا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ (2) پھر چالیس دن کے بعد یہ نطفہ علقہ یعنی جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ (3) پھر چالیس دن کے بعد مضغہ یعنی گوشت کے لوتھڑے جیسا بن جاتا ہے۔ (اس چار مہینے کی مدت کے بعد) ۔ (4) اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس بچے کے جسم میں روح پھونک دیتا ہے۔ (5) پھر اس کے بعد فرشتے کو چار باتیں لکھوادی جاتی ہیں یا (لکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے) اس بچے کی عمر کتنی ہوگی ؟ کتنا رزق دیاجائے گا ؟ وہ کیسے کام کرے گا ؟ وہ بد بخت ہوگا۔ یا سعادت مند ؟ اس کے بعد اس بچے کے اعضا مکمل ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر ایک دن وہ مکمل انسانی شکل میں اس دنیا میں پہنچا دیاجاتا ہے۔ یہ اللہ کا نظام ہے کوئی چبہ ماں کے پیٹ ہی میں مکمل یا نامکمل ہونے کے باوجود پیٹ ہی مریں مرجاتا ہے کوئی پیدا ہونے کے بعد بچپن میں مرجاتا ہے کوئی جوانی اور عمر طبعی کو پہنچ کر مر جاتا ہے۔ کسی کو بڑھاپا نصیب ہوتا ہے کوئی جوانی ہی میں مرجاتا ہے۔ کوئی شخص بڑھاپے کی اس نکمی عمر تک پہنچ جاتا ہے جس کو ” ارذل العمر ” کہا جاتا ہے جہاں دیکھنے ‘ سننے ‘ سمجھنے کی طاقتیں کمزور پڑجاتی ہیں۔ عقل و فہم اور شعور و دانش ‘ علم و تجربہ اور معلومات اس کے ذہن و فکر سے اس طرح مٹا دیئے جاتے ہیں کہ وہ سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ بھی نہیں جانتا ‘ ایک ننھے بچے اور اس بوڑھے میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اس نکمی اور بیکار زندگی سے اللہ کے حبیب ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی عمر کتنی ہی زیادہ یا مختصر ہو آخر کار اس کو موت کے دروازے سے گذر کر اللہ کے ہاں پہنچنا ہے۔ وہ اس دنیا اور اس کے وسائل اور معاملات کو چھوڑ کر رخصت ہوجاتا ہے اللہ کا یہ نظام ہے جو ازل سے چلا آرہا ہے اور چلتا رہے گا۔ یہ اس کا نظام ہے کہ ایک انسانی وجود بنتا ہے ‘ ابھرتا ہے ‘ رونقیں پیدا کرتا ہے اور پھر موت کی آخوش میں جا کر سوجاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس دنیا میں دن رات ہوتا رہتا ہے جس کو ہر ایک اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یہاں کسی کو ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح اس کائنات کا بھی یہی عالم ہے کہ یہ ابھر کر ‘ رونقیں بکھیر کر آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اسی کو قیامت کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری مثال یہ دی ہے کہ تم کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ ایک خشک ‘ بنجر اور مردہ زمین ہے جب اس پر بارش برستی ہے تو اس میں ایک نئی زندگی کے آثار پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ بارش کے پانی سے زمین پھولتی ہے ‘ ابھرتی ہے ‘ کونپلیں پیدا ہوتی ہیں ‘ قسم قسم کے نباتات ‘ سبزہ ‘ سبزی اور پھل پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف سرسبزی و شادابی ‘ حسن و خوبصورتی اور پھبن پیدا ہوجاتی ہے ‘ درخت جھومنے اور کھیت لہلہانے لگتے ہیں۔ پھر اس کے بعد کھیتیاں سوکھنا اور زرد ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ درختوں کے پتے جھڑ کر بےرونق وہ جاتے ہیں اور اسی طرح بہار خزاں سے بدل جاتی ہے۔ فرمایا کہ تم جس طرح اس سارے عمل کو دیکھتے ہو اسی طرح یہ نظام کائنات ہے جو اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر اس دنیا کی رونقیں اور خوبصورتیاں ختم ہوجائیں گی اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ ان حقائق کی روشنی میں اگر کوئی آنکھوں کا اندھا ہو تو اور بات ہے ورنہ جس شخص میں ذرا بھی عقل و فہم اور بصیرت موجود ہے وہ قیامت کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کا نظام ہے جو چلتا رہے گا۔ فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ جب قیامت قائم ہوجائے گی کیا ہم نے اس کی تیاری کررکھی ہے ؟ کیونکہ جو شخص وہاں ناکام ہوگیا اس کو دوبارہ موقع نصیب نہ ہوگا۔
Ayahs 22:11–16

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

لوگوں میں تو کوئی ایسا ہے جو ایک کنارے پر اللہ کی عبادت و بندگی کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ گئی تو اس سے مطمئن ہوگیا اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچ گئی تو پھر وہ الٹا پھرجاتا ہے اور (ایسا آدمی) دنیا اور آخرت میں گھاٹے میں رہتا ہے۔ یہ ایک کھلا ہوا نقصان ہے۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ تو اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ اسے نفع پہنچا سکتے ہیں۔ یہ انتہا درجہ کی گمراہی ہے۔

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ اس کا دوست بدترین دوست ہے اور اسکا ساتھی بھی نہایت برا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

اور جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ اس کی کوئی مدد نہ کرے گا اسے چاہیے کہ وہ ایک رسی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر اس وحی کے سلسلہ کو کاٹ ڈالے پھر یہ دیکھ لے کہ اس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو دور کر اسکتی ہے جو اسے گوارانہ ہو۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو روشن آیتوں کے ساتھ نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ جس کو چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 16 : حرف (کنارہ) ‘ اصاب (پہنچ گیا) ‘ انقلب (پلٹ گیا) ‘ الضلال البعید (دور کی گمراہی۔ انتہا درجہ کی گمراہی) ‘ اقرب (زیادہ قریب) ‘ المولی (دوست) ‘ العشیر (ساتھی۔ رفیق) ‘ یظن (وہ گمان کرتا ہے) ‘ یمدد (وہ باندھتا ہے) ‘ یقطع (وہ کاٹتا ہے) ‘ کید (تدبیر) یغظ (غصہ دلاتا ہے) ‘ تشریح آیت نمبر 11 تا 16 : دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی ڈھنگ سے اچھی یا بری زندگی گذار ہی لیتا ہے۔ وہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتا ہے۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو زندگی بھر حسرتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے ہر عمل کے پیچھے اعتقاد اور یقین کتنا ہے ؟ اگر اس کا اعتقاد اور یقین مستحکم ‘ مضبوط اور پختہ ہے تو اس کے عمل کے انداز میں چستی اور پھرتی ہوگی۔ اگر اعتقاد ‘ نیت اور عمل درست نہیں ہے تو وہ ہر کام کو کرے گا مگر اس میں سستی اور کاہلی کا انداز نمایاں نظر آئے گا۔ چناچہ اگر دین کے معاملہ میں کسی کا اعتقاد اور یقین کامل ہے تو اس کی عبادات ‘ اخلاق و عادات اور معاملات زندگی میں ایک خاص شوق ‘ تڑپ ‘ لگن ‘ اخلاص جوش و جذبہ اور ولولہ ہوگا۔ وہ اللہ کی رضا کے لئے نہایت شوق سے اللہ کی عبادات کا حق ادا کرے گا۔ نماز کا وقت ہوگا۔ تو وہ نہایت ذوق و شوق سے دوڑ کر آئے گا ‘ خشوع و خضوع سے اول وقت نماز ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔ جب اللہ کی طرف بلایا جائے گا تو وہ اپنے گھر کے راحت و آرام کو چھوڑ کر مسجد میں حاضر ہوجائے گا۔ جمعہ کا دن ہوگا۔ تو وہ عین اس وقت جب دوپہر کے وقت کاروبار میں زیادہ نفع کمانے کا وقت وہ تا ہے وہ اپنے نفع سے بےنیاز ہو کر جمع کی نماز کی طرف لپکتا اور دوڑتاآئے گا۔ کسی کی مدد کرے گا تو اس میں دنیا کے دکھانے کے بجائے محض اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھے گا۔ صدقہ داہنے ہاتھ سے دے گا تو بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہوگی ‘ حج کو ایک فریضہ زندگی سمجھ کر اداکرے گا محض خانہ پری یا سیرو تفریح کے لئے نہیں۔ غرضیکہ اس کی زندگی کا ہر کام سچے اعتقاد ‘ یقین محکم اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوگا۔ نفع اور نقصان کے وقت ہر حال میں اللہ ہی کو اپنا سب کچھ سمجھے گا۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جن کو ایمان و یقین میں استحکام اور مضبوطی حاصل نہیں ہوتی وہ ایسے مفاد پرست ‘ لالچی اور خود غرض ہوتے ہیں جو دین اسلام کے ایک مکمل ضابطہ حیات کو ماننے کے بجائے محض نفع نقصان کی ترازو سے تولتے رہتے ہیں۔ اگر دین اسلام کو اپنانے ‘ نیکی اور پرہیزگاری اور بھلائی کے کاموں میں نفع اور فائد نظر آتا ہے تو ان کے نزدیک اس سے اچھا دین اور مذہب کوئی اور نہیں ہوتا لیکن اگر ان کے معاملات زندگی میں ذرا اونچ نیچ ہوجائے انہیں کسی طرح کا نقصان پہنچ جائے تو وہ کہتے ہیں کہ جب سے ہم نے دین داری اور نیکیوں کی زندگی کو اختیار کیا ہے ہمیں سوائے نقصان کے اور کیا حاصل ہوا ہے۔ بعض لوگ نمازیں اور وظیفے پڑھتے ہیں جس کا مقصد دنیا کے بعض فائدے حاصل کرنا ہوتے ہیں جب وہ حاصل نہیں ہوتے تو کہتے ہیں کہ اتنے دن ہوگئے ہو طرح کے وظیفے پڑھے نمازیں پڑھیں ‘ حج کئے ‘ صدقات دیئے مگر ہماری ایک تمنا بھی پوری نہیں ہوئی بلکہ نقصان ہی نقصان ہوا ہے اب تو ہمارا ایمان ہی ہٹتا جارہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گویا ایسے لوگوں کے نزدیک عبادات اور نیکیوں کا مفہوم اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ ان کو دنیا کے کچھ مفادات حاصل ہو اجائیں۔ حاصل ہوگئے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر حاصل نہ ہوئے تو ان کے ایمان ہل جاتے ہیں اور وہ اسی دین کو برا کہنے لگتے ہیں۔ حالانکہ ایک مومن کا ایمان تو اس پر ہونا چاہیے کہ اللہ اس سے راضی ہوجائے اور وہ جو کچھ نیکیاں کررہا ہے اس سے اس کی آخرت درست ہوجائے اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ دنیا میں اگر فائدہ ملتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر اس کو اس دنیا میں نہ ملے تو یقیناً آخرت میں اس کو اجر وثواب ضرور ملے گا۔ اسی بات کو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ بعض لوگ کنارے پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں ان کو نفع مل جائے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو اس زمانہ میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو دیہاتوں اور صحراؤں سے آکر مدینہ میں اسلام قبول کرلیتے۔ اگر ان کی صحت اچھی ہوتی ‘ اولاد نرینہ پیدا ہوتی اور انکی گھوڑیوں کے ہاں نر پیدا ہوتے اور اولاد خوش ال ہوتی تو کہتے تھے کہ اس سے اچھا دین و مذہب کوئی نہیں ہے لیکن اس کے برخلاف اگر کسی کے مال واولاد اور صحت و تندرستی کا نقصان ہوجاتا تو وہ اس دین کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا۔ اسلام لانے کے بعد اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ اس کا بچہ مر گیا۔ اس کے جان و مال کا بھی نقصان ہوگیا۔ اس نے بےوقوفی سے یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ اسلام لانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ مجھے میری بیعت واپس کر دو ( یعنی میں اسلام کا راستہ چھوڑنا چاہتا ہوں) کہنے لگا کہ میں نے تو اس مذہب میں کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ میری نظر جاتی رہی ‘ میرا بچہ مر گیا اور میرے مال کا بھی کافی نقصان ہوگیا ہے (ابن ابی حاتم ‘ بغوی) ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے : بعض لوگ وہ ہیں جو کنارے پر رہ کر عبادت و بندگی کرتے ہیں۔ اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ عبادت پر قائم رہتے ہیں لیکن اگر کوئی ازمائش سامنے آگئی تو وہ الٹے پاؤں پھرجاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا اور آخرت دونوں ہی کو اپنے ہاتھوں برباد کرلیا۔ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کو پکارتے ہیں جو نہ تو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں او نہ ہی نفع پہنچانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے۔ وہ ایسی چیز کو پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے قریب ترین ہے۔ انہوں نے کیسے برے دوست اور بدترین ساتھی بنا رکھے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل صالح اختیار کئے انکو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی (ہر طرح کی راحتیں حاصل ہوں گی) اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمایا کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ دنیا اور آخرت میں وحی کے ذریعہ اس کی مدد نہیں کرے گا تو اسے چاہیے کہ وہ ایک رسی کو آسمان تک تان لے پھر اس کے ذریعہ سے آسمان پر پہنچ کر (اگر ہو سکے تو) اس وحی کے سلسلے کو کاٹ ڈالے (جو ناممکن ہے) پھر دیکھے کہ اس کی یہ تدبیر اور کوشش اسے کے غصے کو دور کرسکتی ہے یا نہیں ؟ فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم کو کھلی اور واضح دلیلوں کے ساتھ نازل کیا ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے ہدایت عطا کرتا ہے (لیکن جو ہدایت حاصل نہیں کرنا چاہتا وہ زندگی بھر بدنصیبی کا شکاررہتا ہے) ۔
Ayahs 22:17–25

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے یا وہ لوگ جو یہودی اور ستارہ پر ست نصاری (مسیحی) اور آتش پرست اور مشرک بن گئے تو بلاشبہ قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ ‘ درخت ‘ چوپائے اور بہت سے انسان بھی جن پر عذاب آنا ثابت ہوگیا ہے اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔ اور جسے اللہ ذلت دیدے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دونوں فریق ہیں جن کے درمیان رب کے معاملے میں جھگڑا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں۔ ان کے سروں پر وہ کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

جس سے ان کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ پگھل جائے گا اور ان کی کھالیں گل جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب وہ غم کے مارے اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو وہ اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے اور (کہاجائے گا کہ) تم جہنم میں جلنے کا مزہ چکھو۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے ایسی جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور اس میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

( کیونکہ) انہیں پاکیزہ بات کی طرف ہدایت دی گئی اور ان کی اس اللہ کی طرف رہنمائی کی گئی جو تمام صفات کا مالک ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور مسجد الحرام سے روکتے رہے جسے ہم نے سب لوگوں کیلئے بنایا ہے جس میں مقامی اور باہر سے آنے والوں کے (حقوق ) برابر ہیں۔ اور جو شخص بھی راہ راست سے ہٹ کر ظلم کرے گا اسے ہم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 25 : ھادوا (جو یہودی ہوگئے۔ جو یہودی بن گئے) ‘ الصبئین (ستاروں کو پوجنے والے) ‘ النصری (مسیحی۔ عیسائی) ‘ المجوس (آگ پوجنے والے) ‘ یفصل (وہ فیصلہ کرے گا) ‘ شھید (باخبر۔ مطلع) ‘ دواب (دابۃ) زمین پر رینگنے والے جانور ‘ یھن (ذلیل کرتا ہے) ‘ مکرم (عزت دیا گیا) ‘ خصمن (خصم) فریق۔ جماعتیں ‘ اختصموا (وہ لوگ جو جھگڑے) ‘ قطعت (کاٹی گئی۔ کاٹے گئے) ‘ ثیاب (ثوب) (کپڑے) ‘ یصب ‘(ڈالا جائے گا) ‘ الحمیم (کھولتا پانی ۔ گرم گرم پانی) ‘ یصھر (پگھل جائے گا۔ بہادیا جائے گا) ‘ الجلود (جلد) کھالیں ‘ مقامع (گرز۔ بھاری ہتھوڑے) ‘ غم (گھٹن۔ غم) ‘ اعیدوا (وہ لوٹائے گئے۔ وہ لوٹائے جائیں گے) ‘ یحلون (وہ پہنچائے جائیں گے) ‘ اساور (سوار) کنگن ‘ ذھب ( سونا) ‘ حریر (ریشم) لئو لئو (موتی) ‘ ھدوا (راہ دکھائے گئے) ‘ الحمید (اللہ تعالیٰ کی صفت۔ تمام تعریفوں والا) ‘ العاکف (رہنے والے۔ مقامی لوگ) ‘ الباد (باہر سے آنے والا) ‘ الحاد (مائل ہونا۔ جھکنا۔ ٹیڑھا چلنا) ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 25 : کچھ لوگ زندگی بھر جائز و ناجائز ‘ اچھے اور برے کی پرواہ کئے بغیر زندگی کی راحتوں کے حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر طرح کا سکھ چین ‘ راحت و آرام ‘ خوشی اور مسرت مال و دولت کے ذریعہ حاصل کیا سکتا ہے۔ ان کی تمنا ہوتی ہے کہ انکے پاس جوانی کی لذتیں راحتیں اور دل موہ لینے والی صدائیں ‘ زیب وزینت کے لئے بہترین ریشمی لباس ‘ کھانے پینے کے لئے سونے چاندی کے برتن ‘ بادشاہوں جیسی شان و شوکت او ہر چیز میں خود مختاری حاصل ہوجائے۔ اور تاج و تخت سونے چاندی کے کنگن ‘ حسین و جمیل باغات ‘ سرسبز و شاداب باغیچے ‘ بلند وبالا بلڈنگیں ‘ حسین عورتیں شراب و کباب کی بدمست محفلیں اور ہر طرف خوشی ہی خوشی ہو۔ ان ہی تمناؤں اور آرزؤں کے گردان کی پوری زندگی گذرجاتی ہے۔ جب محنتیں اور تمنائیں کرتے ہوئے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں ‘ اعضا کمزور پڑجاتے ہیں۔ دل میں خواہشیں دم توڑنے لگتی ہیں تو یہ راحت و آرام کے سامان ان کے لئے بےحقیقت بن کر رہ جاتے ہیں اور موت آتے ہی ان تمام چیزوں سے ان کا رابطہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ وہ تمنائیں جن کے پیچھے وہ دیوانہ وار دوڑتے رہے ہیں اس کا ساتھ چھوڑدیتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنی قبروں میں سوائے حسرت اور افسوس کے اور کچھ بھی نہیں لے کر جاتے ۔ دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف کچھ وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی بھر ایمان ‘ عمل صالح ‘ حق و صداقت ‘ نیکیوں اور پرہیز گاریوں کے پیکر بنے رہتے ہیں۔ ان کے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ‘ اللہ اور رسول کی مکمل اطاعت و فرماں برداری اور نیکیوں کا جذبہ موجز رہتا ہے۔ وہ ہر کام سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں صرف جائز طریقوں پر چل کر راحت و آرام کے اسباب حاصل کرنے ہیں تاکہ زندگی کی راحتیں نصیب ہوجائیں۔ اگر حق و صداقت کی زندگی گذارنے میں انہیں دشواریوں ‘ مصائب اور پریشانیوں سے واسطہ پڑتا ہے تو انہیں اس بات کا پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں انہیں ان تمام باتوں کا بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے۔ ایسے لوگوں کی دنیاوی زندگی اور آخرت کی زندگی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتی ہے۔ حق و باطل پر چلنے والے یہی دو گروہ ہیں جن کے متعلق ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ فرمایا کہ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا ہے اور وہ اس دنیا میں ہر اس بات سے رک گئے ہیں جن سے انہیں منع کیا گیا تھا تو آخرت میں انہیں ہر طرح کی راحتیں عظا کی جائیں گی۔ جو مرد اللہ کے حکم کے تحت ریشمی لباس جس کے پہننے کی ممانعت کی گئی تھی اس سے اس دنیا میں رک گئے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو ایسے ریشم کا لباس پہنائیں گے جو جنت ہی میں تیار ہوگا۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہل جنت کا ریشمی لباس جنت کے پھلوں سے تیار کیا جائے گا۔ (نسائی) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہوگا۔ جس سے ریشم پیدا ہوگا اور اہل جنت کا لباس اسی ریشم سے تیار کیا جائے گا۔ (ترمذی) ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے (1) جو مرد دنیا میں ریشم والا لباس پہنے گا اس کو آخرت میں ریشمی لباس نہ دیا جائے گا۔ (2) جو دنیا میں شراب پئے گا وہ آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔ (3) جو شخص دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں کھائے گا وہ آخرت میں سونے چاندی کے برتنوں میں نہ کھاسکے گا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تینوں چیزیں اہل جنت کے لئے مخصوص ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت کی راحتیں اور سکون ان لوگوں کو حاصل ہوگا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ اس کے بر خلاف جن لوگوں نے یہودیت اور عیسائیت ‘ ستارہ پرستی اور آگ پرستی اور کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ وہ جنت کی راحتوں سے محروم رہیں گے۔ قیامت کے دن اس کا فیصلہ کردیا جائے گا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ جن لوگوں نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا ہوگا۔ ان کی سزا یہ ہوگی کہ جہنم کی آگ ان کو چاروں طرف سے اس طرح گھیرلے گی جس طرح لباس انسانی بدن کو گھیر لیتا اور ڈھانپ لیتا ہے۔ پھر ہتھوڑوں سے ان کے سر کچل کر ان پر ایسا گرم اور کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کے نہ صرف بدن جھلس جائیں گے بلکہ ان کے پیٹ کے اندر تک کے حصوں کو جلا کر راکھ کردیا جائے گا۔ پھر ان کو اصل حالت پر لوٹا کر دوبارہ سزا دی جائے گی اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ اگر وہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو ان کو دوبارہ اسی جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تم اپنے کئے کا مزہ چکھو۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلیں گے ان کے لئے ایسی جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو سونے چاندی اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا ریشمی لباس ہوگا۔ ہر طرف سے خیر و بھلائی کی صدائیں ہوں گی لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کرتے ہوئے اللہ کے گھر سے لوگوں کو صرف اس لئے روکا ہوگا۔ کہ وہ اس میں اللہ کا نام کیوں لیتے ہیں یا بیت اللہ کی زیارت سے لوگوں کو کسی بھی طرح روکا ہوگا یا مقامی اور باہر سے آنے والے زائرین کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی ہوں گی تو ان کو اس کی سزا دنیا اور آخرت میں دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے انسانوں کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ کیا وہ کائنات میں یہ نہیں دیکھتے کہ زمین و آسمان ‘ چاند ‘ سورج ‘ ستارے پہاڑ درخت اور ہر جان دار اسی ایک اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے سجدے کی حالت میں ہیں یہ کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیا۔ کائنات کی ہر چیز تو اللہ کے سامنے جھکی ہوئی ہے لیکن انسان کتنا نا شکرا ہے کہ وہ اپنے اللہ کو بھول کر اس کے سامنے سرجھکانے کے بجائے غرور ‘ تکبر اور کفر و شرک کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے۔
Ayahs 22:26–33

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ بتادی اور (ہم نے حکم دیا کہ) اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا۔ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں ‘ قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والود کے لئے پاک رکھنا۔

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔ وہ تمہارے پاس دور دراز سے پیدل اور دبلی اونٹنیوں پر چل کر آئیں گے

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ وہ ان فائدوں کو دیکھیں جو ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ اور وہ (حج کے ) مقرر دنوں میں ان جانوروں پر جو ہم نے ان کو دیئے ہیں (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیں۔ اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست کو بھی کھلائیں۔

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور پھر اپنے واجبات پورے کریں اور قدیم گھر (بیت اللہ کا طواف کریں۔ یہ ہے (تعمیر بیت اللہ کا مقصد)

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

اور جو شخص شعائر اللہ کی تعظیم کرے گا تو یہ اس کے پروردگار کے نزدیک خود اسی کے لئے بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیئے گئے ہیں ان کے سوا جو تم پر پڑھ دیئے گئے (سنادیئے گئے) ۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے بچو۔

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

اللہ کے لئے ایک رخ پر ہو جائو اور شرک کرنے والے نہ بنو۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا گو یا وہ بلندی سے گر گیا (اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہض۔ اب اس کو پرندے اچک کرلے جائیں یا اس کو ہوا ایسی جگہ اٹھا کر پھینک دے جو دور کی جگہ ہو۔

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ (ایک سچائی) ہے اور جو شخص اللہ کے شعائر کا احترام کرے گا تو وہ دلوں کی پرہیز گاری کی بات ہے۔

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان (مویشیوں میں) ایک مقرر مدت تک فائدے (حاصل کرنا جائز) ہیں۔ پھر ان کی (قربانی ) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 33 : بو أنا (ہم نے ٹھکانہ دیا۔ پناہ دی) ‘ طھر (پاک رکھ) ‘ قائمین (کھڑے ہونے والے) ‘ اذن (اعلان کردے) ‘ رجالا (راجل) (پیدل چلنے والے) ‘ ضامر (دبلی پتلی اونٹیاں) ‘ فج (راستہ) ‘ عمیق (گہرا۔ دور تک جانے والا راستہ) ‘ لیشھدوا (تاکہ وہ دیکھے ۔ تاکہ وہ حاضر ہو) ‘ بھیمۃ (مویشی) ‘ الانعام (جانور) ‘ اطعمو (کھلائو) ‘ البائس (بدحال) ‘ لیقضوا (تاکہ وہ دور کرے) ‘ تفت (میل کچیل) ‘ نذور (نذر) (منتیں) (ارکان حج و قربانی) ‘ العتیق (پرانا۔ قدیم) ‘ یعظم (تعظیم کرتا ہے۔ احترام کرتا ہے) ‘ حرمات اللہ (اللہ کی محترم باتوں کی۔ شائر اللہ کی) ‘ اجتنبوا (تم بچو) ‘ الرجس (گندگی) ‘ اوثان (بت ۔ بتوں) ‘ الزور (جھوٹ۔ گھڑی ہوئی بات) ‘ حنفاء (حنیفۃ) یکسو ہونے والے۔ ایک رخ اختیار کرنے والے) ‘ خر (گرپڑا) ‘ تخطف (اچک لیتی ہے) ‘ سحیق (دور۔ بہت دور۔ دور دراز) ۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 33 : اعلان نبوت کے وقت مکہ مکرمہ اور آس پاس کے رہنے والے قبیلوں کے اکثر لوگ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا بیحد احترام کرتے اور ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے تھے لیکن ان تمام محبتوں اور نسبتوں کے باوجود وہ لوگ مشرکانہ اور جاہلانہ عقیدوں کی گندگیوں میں مبتلا تھے۔ جن مشرکانہ عقائد سے دوررہنے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بےانتہا قربانیاں پیش کیں ‘ جدوجہد کی اور ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں اور جن باتوں سے وہ زندگی بھر روکتے رہے وہی ساری حرکتیں کرنے میں کفار مکہ سب سے آگے تھے۔ (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت شکن تھے لیکن ان کے نام پر فخر کرنے والوں نے اللہ کے گھر میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے ۔ (2) وہ اللہ کے گھر میں اللہ سے مانگنے کے بجائے اپنی حاجتوں ‘ ضرورتوں اور تمناؤں کو (اپنا سفارشی سمجھ کر) بےجان اور بےحقیقت بتوں سے مانگتے تھے۔ (3) وہ اپنی قربانیوں کے جانوروں کو اللہ کا نام لینے کے بجائے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے جس کے لیے انہوں نے طرح طرح کی رسمیں گھڑ رکھی تھیں۔ (4) حج جیسی عبادت کے بعد وہ عکاظ میں میلے ٹھیلے مناتے جس میں کھیل کود ‘ مشاعرے ‘ ناچ رنگ کی محفلیں اور بےحیائیوں کے انداز اختیار کرتے تھے۔ (5) انہوں نے اللہ کے گھر کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا تھا جس کو چاہتے بیت اللہ کی زیارت سے روک دیتے تھے اور جس کو چاہتے اجازت دیتے تھے۔ (6) عقیدوں کی لاتعداد گندگیوں میں مبتلا تھے۔ (7) وہ اللہ کے شعائر (نشانیوں) کا احترام نہ کرتے تھے ۔ ان آیات میں یہ بتایا جارہا ہے کہ جب طوفان نوح میں بیت اللہ شریف کی دیواریں گرچکی تھیں تو اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس گھر کی دوبارہ تعمیر فرمائی تھی انہوں نے اس بات کا کھل کر اعلان کردیا تھا کہ یہ گھر صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے ہے جس میں ہر طرح کے مشرکانہ عمل اور کافر انہ رسموں سے مکمل پرہیز کیا جائے گا۔ لیکن کفار مکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانیوں ‘ مقصد اور مشن کو قطعاً نظر انداز کردیا تھا اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیج کر ان تمام باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کو لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے ۔ حضرت ابراہیم ؐ خلیل اللہ کی زبان مبارک سے یہ کہلایا گیا ہے کہ اے الوگو ! (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ (2) اللہ کے گھر طواف کرنے والوں ‘ وہاں کے رہنے والوں ‘ رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے (بتوں کی ہر گندگی سے) اس گھر کو پاک و صاف رکھو۔ (3) حج کے لئے اذن عام ہے ہر شخص جس طرح اور جیسے جس سواری پر سوار ہو کر آسکتا ہے آئے اور اس عبادت کے ہر طرح کے فائدوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھے۔ (4) تمام مویشیوں کو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ بتوں کے نام پر ذبح نہ کیا جائے۔ ان جانوروں کے گوشت کو خود بھی کھائے (مستحب ہے کہ) غریبوں اور رشتہ داروں کو بھی کھلائے۔ (5) حج کے بعد اللہ کا ذکر کیا جائے اور ہر طرح کی جسمانی اور روحانی پاکیزگی حاصل کی جائے۔ (6) جو جائز منتیں مان رکھی ہیں ان کو پورا کیا جائے۔ (7) حج کے بعد بیت اللہ کا طواف (طواف زیارت) کیا جائے اور خوب دیوانہ وار بیت اللہ کے گرد طواف کئے جائیں۔ (8) دلوں کا تقویٰ حاصل کرنے کے لئے اللہ کے شعائر (بیت اللہ ‘ صفا ‘ مروہ ‘ منیٰ ‘ عرفات ‘ مساجد ‘ قرآن) کا احترام کیا جائے۔ (9) بیت اللہ کو ہر طرح کے بتوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔ (10) ہر طرح کی جھوٹ ‘ من گھرٹ رسموں اور جھوٹی باتوں سے دورہا جائے۔ (11) بیت اللہ میں صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (12) حج کی تمام قربانیوں کے جانوروں کو حرم محترم ہی میں (مقرر دنوں میں) ذبح کیا جائے۔ یہی وہ احکامات ہیں جن کو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند باتیں وضاحت کے لئے پیش ہیں۔ بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر دس مرتبہ ہوئی ہے۔ (1) اللہ کے حکم سے اللہ کے فرشتوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کی تجویز کی گئی جگہ پر تعمیر کی۔ (2) حضرت آدم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمائی۔ (3) حضرت شیث (علیہ السلام) نے ۔ (4) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے ۔ (5) عمالقہ نے ۔ (6) حارث جرہمی نے ۔ ۔ (7) قریش کے مورث اعلی قصی نے ۔ (8) قریش مکہ نے ۔ (9) 24؁ ٍْحضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ نے (10) اور حجاج ثقفی نے ۔ گیارہوں صدی ہجرت میں مکہ مکرمہ میں زبردست طوفانی بارش ہوئی جس سے بیت اللہ شریف میں پانی بھر گیا۔ پانی اتنا اونچا تھا کہ پانی بیت اللہ کے دروازے (ملتزم) تک پہنچ گیا تھا۔ اس طوفان سے رکن شامی اور غربی دیوار کو زبردست نقصان پہنچا اور دیواریں شکستہ ہوگئی تھیں سلطان مراد کے حکم سے دوبارہ تعمیر بیت اللہ کی گئی۔ موجودہ زمانہ میں بیت اللہ کی یہی عمارت ہے جس پر کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ٭اللہ نے اب حرمین کی حفاظت اور ہر طرح کی عقیدہ کی گندگیوں سے پاک صاف رکھنے کا یہ انتظام فرمادیا کہ حرمین میں کسی غیر مسلم کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ موجودہ سعودی حکومت توحید کے عقیدے پر اس سختی سے قائم ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا ( اور انشا اللہ جاری رہے گا) تو کبھی عقیدے کی گندگی بھی اس گھر تک نہ پہنچ سکے گی۔ کیونکہ حکومت سعودی عربیہ اس بات کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ بیت اللہ شریف اور روضہ مبارک پر کوئی کسی طرح کی فضول رسم جاری نہ ہونے پائے۔ اگر بیت اللہ شریف کا انتظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا جنہوں نے معمولی معمولی قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیا ہے تو نجانے بیت اللہ شریف اور روضہ مبارک پر کیا کچھ نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ حکومت سعودی عربیہ کو مزید ہمت و طاقت عطا فرمائے اور اللہ کا گھر قیامت تک ہر طرح کی گندگیوں سے محفوظ رہے ۔ آمین ٭فرمایا کہ حج کے فائدوں کو ہر شخص کھلی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر چہ بعض دنیاوی فائدے حاصل کرنے کی بھی اجازت ہے لیکن درحقیقت یہ فائدہ ہر شخص کو کھلی آنکھوں سے نظر آتا ہے کہ جو سکون قلب اور تکمیل کا احساس حج کے دوران نصیب ہوتا ہے وہ ساری دنیا کی دولت خرچ کرے کے باوجود نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہ دعاؤں کا مرکز ہے۔ یہاں ہر شخص براہ راست اپنے اللہ سے مانگتا ہے اور ایک خاص سکون حاصل کرتا ہے۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ پھر حج کے بعد اس کی حاضری نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک پر ہوتی ہے یہاں انوارات اور برکتوں کا ایک سلسلہ ہے جو انسان کو کھلی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فائدے کے سامنے ہر فائدہ بہت معمولی ہے بلکہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ٭حج کے دنوں میں اور بعد میں جب تک جانوروں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیاجائے اس وقت تک وہ حلال نہیں ہوتے۔ کفار بتوں کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے تھے ایک مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حلال جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ اللہ کا نام لئے بغیر کسی جانور کا ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جس وقت جانور کو ذبح کیا جارہا ہے اسی وقت اللہ کا نا لیا جائے۔ ٭اس سفر میں باہمی محبت ‘ خلوص اور ہم آہنگی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جس سے اہل ایمان کو ایک خاص قوت و طاقت حاصل ہوتی ہے۔ ہر ایک کا ایک ہی لباس ہوتا ہے خواہ وہ باد شاہ ہو یا ایک غریب آدمی۔ ایک ہی کلمہ ‘ ایک ہی جذبہ اور ایک ہی رخ ہوتا ہے۔ یہ فائدے بھی ہیں جو انسان کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔
Ayahs 22:34–38

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی ہے تاکہ وہ (ذبح کرتے وقت ) اللہ کا نام ان مویشی جانوروں پر لیں جو ہم نے ان کو دیئے ہیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تم اسی کے فرماں بردار بنو۔ اور اے نبی ﷺ ! عاجزی سے گردن جھکانے والوں کو خوش خبری دید یجئے۔

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ جو مصیبت ان پر آتی ہے اس پر وہ صبر کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ (اللہ کی نشانیاں) مقرر کیا ہے۔ اس میں تمہارے لئے خیر اور بھلائی ہے انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو اور ان کو نحر کردو۔ پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر جائیں تو اس میں سے خود کھائو۔ ان کو بھی کھلائو جو قناعت کئے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی کھلائو جو سوال کرنے والے ہیں۔

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

ہم نے ان جانوروں کا گوشت اور ان کا خون اللہ کو ہر گز نہیں پہنچتا اللہ کو تمہارے (دلوں کا) تقویٰ پہنچتا ہے۔ ہم نے ان جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا ہے تاکہ تم اس اللہ کی بڑائی بیان کرو جس نے تمہیں راہ سمجھائی ہے۔ اور اے نبی ﷺ ! نیک کام کرنے والوں کو خوش خبری سنادیجئے۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ (دشمنوں کے ضرر کو ) ان لوگوں سے دور کرتا ہے جو ایمان لے آئے ہیں اور بیشک اللہ کو ناشکرا اور دغا باز انسان پسند نہیں ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 38 : منسکا (قربانی) ‘ بھیمۃ الانعام (بےزبان چوپائے) ‘ المخبتین (عاجزی سے گردن جھکانے والے) ‘ وجلت (ڈرگئی۔ ڈر گئے) ‘ البدن (بدنۃ) (بڑے بدن والا جانور۔ اونٹ) ‘ شعائر (شعیرۃ) (نشانیاں) ‘ صواف (سیدھا کھڑا کرنا۔ تین پاؤں پر کھڑا رہا) ‘ جنوب (جنب) پہلو ‘ القانع (قناعت کرنے والا۔ نہ مانگنے والا) ‘ سخر نا (ہم نے بس میں کردیا۔ مسخر کردیا) ‘ لن ینال ( ہرگز نہ پہنچے گا) ‘ لحوم (لحم) گوشت ‘ دمائ (دم) (خون) ‘ یدافع (وہ دور کرے گا) ‘ خوان (بےایمان۔ دغاباز) ‘ کفور (ناشکرا) ۔ تشریح آیت نمبر 34 تا 38 : نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ ایسے نیکو کاروں کو (جنت کی) خوشخبری سنادیجئے جو لوگ ایمان پر قائم رہتے ہیں ان کی حفاظت خود حق تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کیونکہ اس کو شکر گذار بندے اور عاجزی کرنے والے پسند ہیں لیکن جھوٹے دغا باز اور نا شکرے لوگوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ ان آیات سے متعلق چند باتوں کی وضاحت : ٭اللہ تعالیٰ نے ہر شریعت میں اپنی رضا و خوشنودی کے لئے قربانیوں کو لازمی قرار دیا تھا مگر بعد میں آنے والوں نے اپنے جھوٹے معبودوں پر جانوروں کو قربان کرنا شروع کردیا اور اس بات کو بھو ل گئے کہ اللہ نے ان پر مویشیوں کی قربانی کیوں لازمی قرار دی تھی۔ انہوں نے طرح طرح کی رسموں کے ذریعہ قربانی کی اس روح کو فنا کردیا تھا یہاں تک کہ وہ اپنے جانوروں کی قربانیاں کرکے ان کا گوشت بیت اللہ میں لا کر رکھتے اور ان کے خون کو بیت اللہ کی دیواروں پر ملکر یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے قربانی کا حق ادا کردیا ہے اور گوشت اور خون اللہ تک پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ مومنوں کے دلوں کا تقویٰ اللہ کو پہنچتا ہے۔ یہ گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہنچتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ گذشتہ شریعتوں میں محض جانوروں کو قربان کرنا عبادت سمجھا جاتا تھا لیکن دین اسلام جس قربانی کا ذکر کرتا ہے وہ ان قربانیوں سے بہت مختلف ہے کیونکہ یہ قربانی جس کو نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کرتی آرہی ہے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی مخلصانہ قربانیوں کی یاد گا رہے۔ لہٰذا یہ قربانی ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے اور یہ حکم قیامت تک جاری رہے گا وہ حج کے دنوں کے لئے اور منی تک محدود نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کے وہ مسلمان جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ان پر قربانی کرنا واجب ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دس سال تک مدینہ منورہ میں رہے اور ہر سال آپ (بڑے اہتمام سے) قربانی کرتے رہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ حضرت انس ؓ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے عید کی نماز سے پہلے ذبیحہ کرلیا اس کو چاہیے کہ وہ دوبارہ قربانی کرے۔ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوگئی۔ اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں عید الاضحی کی نماز پڑھائی۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ آپ قربانی کرچکے ہیں انہوں نے اپنے اپنے جانور ذبح کردیئے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس نے قربانی کرلی ہے وہ دوبارہ کرے۔ یہ روایات جن کو بیان کیا گیا ہے بخاری ‘ مسلم ‘ ابن ماجہ اور مسند احمد کی معتبر ترین احادیث ہیں جن پر علماء امت نے بھر پور اعتماد کا اظہار فرمایا ہے جس سے یہ بات بالکل واضح طریقہ پر سامنے آتی ہے کہ جانوروں کی قربانی کرنا حج کے دنوں میں منیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمان آباد ہیں ان کے صاحب استطاعت لوگوں پر ان جانوروں کی قربانی کرنا واجب ہے۔ جس کی شریعت نے جیسے اجازت دی ہے اس پر اسی طرح عمل کیا جائے مثلاً اونٹ میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں اور گائے ‘ بیل میں بھی سات آدمی شرکت کرسکتے ہیں چناچہ حضرت جابر ابن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قربانی میں شریک ہونے کی اجازت دی ہے اونٹ سات آدمیوں کے لئے اور گائے سات آدمیوں کے لئے (مسلم) ٭بکر ‘ بکری ‘ بھیڑ ‘ دنبہ میں صرف ایک حصہ ہے یعنی ایک آدمی ایک بکرا یا ایک بھیڑ قربان کردے تو اس کا واجب ادا ہوجاتا ہے۔ ٭اونٹ کو نحر کیا جائے گا اور بقیہ جانوروں کو ذبح کیا جائے گا۔ اونٹ کو گرا کر اس کا ذبیحہ ناجائز ہے۔ حکم یہ ہے کہ اونٹ کو کھڑا کر کے اس کا بایاں پاؤں باندھ دیا جائے اور انٹ کو کھڑے کھڑے نیزہ یا تیز تلوار یا تیز اور لمبی چھری حلقوم میں گھونپ دی جائے۔ اس سے خون کا ایک فوارہ نکلتا ہے۔ خون نکلتے نکلتے وہ اونٹ ایک طرف گرجاتا ہے کچھ دیر وہ تڑپتارہتا ہے پھر وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ جب اونٹ کی پوری طرح جان نکل جائے اور وہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس کی کھال اتار کر اس کا گوشت خود بھیکھائے اور شریعت کے احکامات کے مطابق دوسروں کو بھی کھلائے ۔ اونٹ کے علاوہ تمام جانوروں کو ذبح کیا جائے یعنی جانوروں کو لٹا کر تیز چھری سے ان کا گلا اس طرح کاٹا جائے گا کہ اس جانور کا سربقیہ بدن سے جدا نہ ہو۔ ذبیحہ اور نحر کے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے کیونکہ اللہ کا نام لئے بغیر ذبح کرنے سے جانور حلال نہیں ہوتا۔ اللہ کا نام لینے کا طریقہ یہ ہے کہ جس وقت جانور ذبح ہورہا ہے اسی وقت ہر جانور پر اللہ کا نام لیاجائے تب وہ جانور حلال ہوگا۔ لیکن موجودہ دور میں مشین کے ذریعہ جو ذبیحہ کیا جاتا ہے وہ حلال نہیں ہے کیونکہ محض مشین کے بٹن پر اللہ کا نام لینا اور یہ سمجھنا کہ ایک مرتبہ اللہ کا نام لے کر جو مشین چلائی گئی ہے اس سے سارے جانور حلال ہوجاتے ہیں یہ ایک غلط فہمی ہے۔ اس کے لئے میرا رسالہ ” مشینی ذبیحہ کی شرعی حیثیت “ پڑھ لیا جائے وہاں آپ کو اس کی تفصیلات اور علماء کے فتاویٰ بھی مل جائیں گے۔