22. Surah Al-Hajj
الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر 22 کل رکوع 10 آیات 78 الفاظ و کلمات 1283 حروف 5432 سورۃ الحج کی ابتدائی آیات مکہ مکرمہ میں اور کچھ آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں چونکہ مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی آیات حاص طور پر کفار کے خلاف جہاد کی اجازت وغیرہ کے لیے ہیں اس لیے اس سورة کو مدنی سورة شمار کیا گیا ہے۔ تعارف سورة الحج بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے تعمیر بیت اللہ کے وقت تمام دنیا کے انسانوں کو حج کے لیے اذن عام دیا تھا۔ باہر سے زیارت کے لیے آنے والوں اور مکہ کے رہنے والوں کو حقوق میں برابر قرار دیا تھا۔ باہر سے زیارت کے لیے آنے والوں اور مکہ کے رہنے والوں کو حقوق میں برابر قرار دیا تھا۔ لیکن ان کفار نے اس مقدس و محترم سرزمین کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا تھا۔ اللہ کا وہ گھر جو اس کی عبادت و بندگی کے لیے بنا یا گیا تھا اس میں تین سو ساٹھ بن رکھ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کی جارہی تھی اور جس طرح تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی ہر حاجت کو اللہ کے سامنے پیش کر کے اس سے مدد مانگی تھی یہ لوگ ابراہیمی ہونے کے دعویدارہونے کے باوجود غیر اللہ سے اپنی حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ کفار کے غلبہ اور قوت و طاقت سے نہ گھبرائیں وہ وقت دور نہیں جب ان کفار کو کمر ٹوٹ جائے گی اور اللہ کا گھر قیامت تک صرف اسی کی عبادت و بندگی کے لیے مخصوص ہوجائے گا اور جہاد کے ذریعہ اہل ایمان کو ان کفار پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ فتح و نصرت ان کے قدم چومے گی اور آج جو لوگ اہل ایمان کے راستے کا پتھر بن گئے ہیں وہ سخت ناکام ہوں گے اور ان کی اجارہ داری ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک جس طرح اہل ایمان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ان کو اس زمانہ میں اور مدینہ منورہ کے ابتدائی دو سالوں میں اس بات کا حکم تھا کہ وہ ہر طرح کے مظالم برداشت کرتے رہیں اور طاقت ہونے کے باوجود اس کا کوئی جواب نہ دیں لیکن اس سورة اہل ایمان کو مسلم کالقب عطا کرکے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا پیکر بنا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں امن و سلامتی کے راستے میں یہ کفار و مشرکین آڑے آئیں تو ان کے خلاف طاقت استعمال کی جائے اور جہاد کیا جائے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن کریم میں پہلی مرتبہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک شدید زلزلے کے نتیجے میں یہ ساری کائنات درہم برہم کردی جائے گی ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ انسان دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ قیامت کا وہ دن بڑا دہشت ناک اور ہولناک ہوگا۔ جس میں ہر شخص پر ایک زبردست خوف طاری ہوجائے گا۔ فرمایا کہ ہر شخص کو اس دن کی فکر ہونا چاہیے۔ کسی کو اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے ایک وقت وہ آنے والا ہے جہاں ہر انسان کو اپنے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے۔ پھر کوئی شخص جزا اور سزا سے بچ نہیں سکتا۔ قیامت کا آنا برحق ہے اس میں شک کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی آیات میں کفار و مشرکین کو سیدھے راستے پرچلنے کی تاکید فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ان لوگوں نے کفر وشرک ‘ ضد ‘ ہٹ دھرمی اور ظلم و ستم کا راستہ تبدیل نہیں کیا اور وہ اپنی حرکتوں سے باز نہآئے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا انجام بہت قریب ہے اور ان کا انجام دوسری بد عمل اور بدکردار قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ منافقین سے کہا گیا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ وہ اپنی منافقانہ روش کو چھوڑ کر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرلیں۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر ان کو مہالت اور ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا ان کو نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ بھی اپنے ظلم و زیادتی اور زور زبردستی کے طریقوں کو چھوڑ کر راہ راست اختیار کرلیں۔ قیامت کے ہولناک اور دہشت ناک منظر کو پیش کر کے فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسا خوفناک دن ہوگا۔ جب دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی۔ حاملہ عورتوں کے حمل ضائع ہوجائیں گے اور ہر شخص اس دہشت سے ایسا محسو کرے گا جیسے وہ کسی نشہ میں ہے حالانکہ یہ سب کچھ نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے عذاب اور اس دن کی دہشت سے ہوگا۔ فرمایا کہ اس سخت ترین دن کے آنے سے پہلے پہلے اگر توبہ کرلی جائے تو اسی میں ان کے لیے بہتری ہے۔ کفار مکہ کو سمجھا یا گیا ہے کہ وہ جس طرح نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے سچے دین کو جھٹلا رہے ہیں۔ اہل ایمان پر مکہ کی زمین تنگ کر رہے ہیں اور دین کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں ابھی وقت ہے کہ وہ اپنے طرز عمل کو بدل ڈالیں ورنہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کفار و مشرکین کو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ملے گی اور آخرت میں ان کا بھیانک انجام ہوگا۔ اور وہ ہر طرح کی خیر و فلاح سے محروم رہیں گے۔ فرمیا گیا کہ تم نے جن بتوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے تم ان کی عبادت و پرستش کرتے ہو ان سے اپنی مرادیں مانگتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے خالق ومالک ہیں اور تمہاری ہر ضرورت کو پورا کردیں گے یہ خیال غلط ہے کیونکہ ان بتوں میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ ان کی کمزوری اور بےبسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے وجود کے لیے بھی تمہارے ہاتھوں کے محتاج ہیں۔ وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے بلکہ اگر اللہ کی پیدا کی ہوئی ایک مکھی بھی ان کی ناک پر بیٹھ جائے تو وہ اس مکھی کو اپنے بدن سے اڑا نہیں سکتے۔ وہ مکھی اگر ان کی کوئی چیز لے کر بھاگ جائے تو اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ جو اپنے نفع نقصان اور اختیار کے مالک نہیں ہیں وہ تمہارے نفع نقصان کے کیسے مالک ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا کہ تمہارا خالق صرف ایک اللہ ہے وہی ہر طرح کی عبادت کا مستحق ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ ہی تمہارا خالق اور پوری کائنات کا مالک ہے۔ ساری قدرت اسی ایک اللہ کی ہے۔ اس نے تمہارے ماں باپ اور تمہیں پیدا کیا ہے۔ اسی نے کائنات کو وجود بخشا ہے وہی اس کے نظام کو چلارہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس نظام کے چلانے میں کسی کا محتاج ہے۔ وہی اللہ ہے جو اس سارے نظام کائنات کو لپیٹ کر رکھ دے گا تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا اور پھر تم سے ایک ایک لمحہ کا حساب لے گا۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے تمہارا نام ” مسلم “ رکھا ہے ۔ تم مسلم ہو۔ ساری دنیا میں امن و سلامتی قائم کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اب ان کفار و مشرکین سے اقتدار چھین کر تمہارے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ جب حکومت ‘ اقتدار اور مال و دولت تمہارے حصے میں آئے تو تم اس نظام زندگی کو قائم کر کے دکھا دینا جس میں نمازوں کے قیام اور زکوۃ کی پابندی سے تمام انسانوں کے لیے خیر و فلاح کے راستے کھل جائیں گے۔ ہر نیکی کو قائم کرنا اور دنیا سے ہر برائی کو مٹا کر انسانوں کی فلاح بہبود کے لیے جدوجہد کرنے کو عبادت سمجھنا تاکہ دنیا ظالموں کے پنجوں سے نجات پا کر صالح انسانوں کی قیادت میں آجائے۔ اہل ایمان سے یہ بھی فرمایا جارہا ہے کہ وہ دنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ اور طریقہ اللہ کے سچے رسول آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سکیں جن کی زندگی کو اللہ نے ایک بےمثال نمونہ زندگی بنایا ہے۔ فرمایا کہ انسانیت کی نجات کا یہی ایک راستہ ہے اور اسی میں ان کی کامیابیاں پوشیدہ ہیں۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں جس نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ایمان اور عمل صالح اختیار کریں گے تو دین و دنیا کی ساری بھلائیاں اور کامیابیاں ان کو عطا کی جائیں گی۔ قیامت میں انہیں راحت بھری جنتیں دی جائیں گی جہاں ہر طرح سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور ان میں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader
اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو بلاشبہ قیامت کا زلزلہ ہو لناک ہے۔
یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader
جس دن تم دیکھو گے کہ دودھ پلانے والی جس (بچے کو) دودھ پلاتی ہے اسے بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرادے گی۔ اور تم لوگوں کو دیکھو گے جیسے وہ نشے میں ہوں حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی ایسا سخت ہوگا۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader
اور بعض لوگ وہ ہیں جو علم (وفکر) کے بغیر ہی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader
حالانکہ اس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ اس سے جو بھی دوستی کرے گا وہ اسے گمراہ کرکے چھوڑے گا اور اسے جہنم کی راہ دکھائے گا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader
اے لوگو ! اگر تمہیں (قیامت کے دن) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں شک ہے تو (اس پر غور کرو) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے شکل و صورت بنی ہوئی اور بغیر شکل و صورت بنی ہوئی (ادھوری) تاکہ ہم تمہیں واضح کرکے بتادیں۔ اور ہم مائوں کے رحم میں جس (نطفے کو ض چاہیں ایک مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں ۔ پھر تمہیں بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ تاکہ پھر تم اپنی جوانی (کی عمر) کو پہنچو۔ پھر تم میں سے کوئی تو پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے اور بعض تم میں سے اس نکمی عمر تک پھیر دیئے جاتے ہیں جہاں بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہیں جانتے۔ اور تم زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک پڑی ہے۔ پھر جہاں ہم نے اس پر بارش برسائی تو وہ تروتازہ ہو کر ابھرآتی ہے اور قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی ” حق “ ہے وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader
اور بیشک قیامت آنے والی ہے جس میں شک و شبہ کی (گنجائش) نہیں ہے اور بلاشبہ اللہ ان لوگوں کو جو قبروں میں جا چکے ہیں ان کو ضرور اٹھائے گا۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader
اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ کے بار میں بغیر کسی علم ہدایت اور روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں
ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader
(تکبر سے) اپنی گردن کو اکڑائے ہوئے ہیں۔ تاکہ وہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو بھٹکا دیں۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم ان کو جلتی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔
ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader
(فرمائیں گے کہ ) یہ ہے وہ عذاب جو تم نے اپنے آگے بھیجا تھا اور بیشک اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader
لوگوں میں تو کوئی ایسا ہے جو ایک کنارے پر اللہ کی عبادت و بندگی کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ گئی تو اس سے مطمئن ہوگیا اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچ گئی تو پھر وہ الٹا پھرجاتا ہے اور (ایسا آدمی) دنیا اور آخرت میں گھاٹے میں رہتا ہے۔ یہ ایک کھلا ہوا نقصان ہے۔
یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader
وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ تو اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ اسے نفع پہنچا سکتے ہیں۔ یہ انتہا درجہ کی گمراہی ہے۔
یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader
وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ اس کا دوست بدترین دوست ہے اور اسکا ساتھی بھی نہایت برا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader
بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader
اور جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ اس کی کوئی مدد نہ کرے گا اسے چاہیے کہ وہ ایک رسی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر اس وحی کے سلسلہ کو کاٹ ڈالے پھر یہ دیکھ لے کہ اس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو دور کر اسکتی ہے جو اسے گوارانہ ہو۔
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader
اور ہم نے اس قرآن کو روشن آیتوں کے ساتھ نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ جس کو چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے یا وہ لوگ جو یہودی اور ستارہ پر ست نصاری (مسیحی) اور آتش پرست اور مشرک بن گئے تو بلاشبہ قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ ‘ درخت ‘ چوپائے اور بہت سے انسان بھی جن پر عذاب آنا ثابت ہوگیا ہے اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔ اور جسے اللہ ذلت دیدے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader
یہ دونوں فریق ہیں جن کے درمیان رب کے معاملے میں جھگڑا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں۔ ان کے سروں پر وہ کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader
جس سے ان کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ پگھل جائے گا اور ان کی کھالیں گل جائیں گی
وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader
اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔
كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader
جب وہ غم کے مارے اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو وہ اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے اور (کہاجائے گا کہ) تم جہنم میں جلنے کا مزہ چکھو۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے ایسی جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور اس میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا
وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader
( کیونکہ) انہیں پاکیزہ بات کی طرف ہدایت دی گئی اور ان کی اس اللہ کی طرف رہنمائی کی گئی جو تمام صفات کا مالک ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور مسجد الحرام سے روکتے رہے جسے ہم نے سب لوگوں کیلئے بنایا ہے جس میں مقامی اور باہر سے آنے والوں کے (حقوق ) برابر ہیں۔ اور جو شخص بھی راہ راست سے ہٹ کر ظلم کرے گا اسے ہم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader
اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ بتادی اور (ہم نے حکم دیا کہ) اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا۔ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں ‘ قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والود کے لئے پاک رکھنا۔
وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader
اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔ وہ تمہارے پاس دور دراز سے پیدل اور دبلی اونٹنیوں پر چل کر آئیں گے
لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader
تاکہ وہ ان فائدوں کو دیکھیں جو ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ اور وہ (حج کے ) مقرر دنوں میں ان جانوروں پر جو ہم نے ان کو دیئے ہیں (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیں۔ اس سے خود بھی کھائیں اور تنگ دست کو بھی کھلائیں۔
ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader
پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور پھر اپنے واجبات پورے کریں اور قدیم گھر (بیت اللہ کا طواف کریں۔ یہ ہے (تعمیر بیت اللہ کا مقصد)
ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader
اور جو شخص شعائر اللہ کی تعظیم کرے گا تو یہ اس کے پروردگار کے نزدیک خود اسی کے لئے بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیئے گئے ہیں ان کے سوا جو تم پر پڑھ دیئے گئے (سنادیئے گئے) ۔ پس تم بتوں کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے بچو۔
حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader
اللہ کے لئے ایک رخ پر ہو جائو اور شرک کرنے والے نہ بنو۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا گو یا وہ بلندی سے گر گیا (اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہض۔ اب اس کو پرندے اچک کرلے جائیں یا اس کو ہوا ایسی جگہ اٹھا کر پھینک دے جو دور کی جگہ ہو۔
ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader
یہ (ایک سچائی) ہے اور جو شخص اللہ کے شعائر کا احترام کرے گا تو وہ دلوں کی پرہیز گاری کی بات ہے۔
لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader
ان (مویشیوں میں) ایک مقرر مدت تک فائدے (حاصل کرنا جائز) ہیں۔ پھر ان کی (قربانی ) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader
ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی ہے تاکہ وہ (ذبح کرتے وقت ) اللہ کا نام ان مویشی جانوروں پر لیں جو ہم نے ان کو دیئے ہیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تم اسی کے فرماں بردار بنو۔ اور اے نبی ﷺ ! عاجزی سے گردن جھکانے والوں کو خوش خبری دید یجئے۔
الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader
وہ لوگ کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ جو مصیبت ان پر آتی ہے اس پر وہ صبر کرتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔
وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader
اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ (اللہ کی نشانیاں) مقرر کیا ہے۔ اس میں تمہارے لئے خیر اور بھلائی ہے انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو اور ان کو نحر کردو۔ پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر جائیں تو اس میں سے خود کھائو۔ ان کو بھی کھلائو جو قناعت کئے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی کھلائو جو سوال کرنے والے ہیں۔
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader
ہم نے ان جانوروں کا گوشت اور ان کا خون اللہ کو ہر گز نہیں پہنچتا اللہ کو تمہارے (دلوں کا) تقویٰ پہنچتا ہے۔ ہم نے ان جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا ہے تاکہ تم اس اللہ کی بڑائی بیان کرو جس نے تمہیں راہ سمجھائی ہے۔ اور اے نبی ﷺ ! نیک کام کرنے والوں کو خوش خبری سنادیجئے۔
اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader
اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ (دشمنوں کے ضرر کو ) ان لوگوں سے دور کرتا ہے جو ایمان لے آئے ہیں اور بیشک اللہ کو ناشکرا اور دغا باز انسان پسند نہیں ہے۔