Ayahs 22:1–21 قیامت کے عظیم الشان زلزلے (بھونچال) دو ہیں۔ ایک عین قیام قیامت کے وقت یا نفخہ ثانیہ کے بعد دوسرا قیامت سے کچھ پیشتر جو علامات قیامت میں سے ہے۔ اگر یہاں دوسرا مراد ہو تو آیت اپنے ظاہر معنیٰ پر رہے گی اور پہلا مراد ہو تو دونوں احتمال ہیں، حقیقتہً زلزلہ آئے اور دودھ پلانے والی یا حاملہ عورتیں اپنی اسی ہیئت پر محشور ہوں۔ یا زلزلہ سے مراد وہاں کے احوال و شدائد ہوں اور (يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْدٌ) 22 ۔ الحج :2) کو تمثیل پر حمل کیا جائے یعنی اس قدر گھبراہٹ اور سختی ہوگی کہ اگر دودھ پلانے والی عورتیں موجود ہوں تو مارے گھبراہٹ اور شدت ہول کے اپنے بچوں کو بھول جائیں اور حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں۔ اس وقت لوگ اس قدر مدہوش ہوں گے کہ دیکھنے والا شراب کے نشہ کا گمان کرے حالانکہ وہاں نشہ کا کیا کام۔ خدا کے عذاب کا تصور اور احوال و شدائد کی سختی ہوش گم کر دے گی۔ (تنبیہ) اگر یہ گھبراہٹ سب کو عام ہو تو (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ) 21 ۔ الانبیآء :103) میں نفی باعتبار اکثر احوال کے اور یہاں اثبات باعتبار ساعت قلیلہ کے لیا جائے گا۔ اور اگر آیت حاضرہ اکثر ناس کے حق میں ہو، سب کے حق میں نہ ہو تو سرے سے اشکال ہی نہیں۔
Ayah 22:32 یعنی اللہ تعالیٰ جن باتوں کی خبر دیتا ہے ان میں یہ لوگ جھگڑتے اور کج بحثیاں کرتے ہیں اور جہل و بیخبر ی سے عجیب احمقانہ شبہات پھیلاتے ہیں۔ چناچہ قیامت، بعث بعد الموت اور جزاء و سزا وغیرہ پر ان کا بڑا اعتراض یہ ہے کہ جب آدمی مر کر گل سڑ گیا اور ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہوگئیں تو یہ کیسے سمجھ میں آئے کہ وہ پھر زندہ ہو کر اپنی اصلی حالت پر لوٹ آئے گا۔
3 یعنی جن یا آدمیوں میں کا جو شیطان اس کو اپنی طرف بلائے یہ فوراً اسی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ گویا گمراہ ہونے کی ایسی کامل استعداد رکھتا ہے کہ کوئی شیطان کسی طرف پکارے یہ اس پر لبیک کہنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
Ayah 22:44 یعنی شیطان مرید کے متعلق یہ طے شدہ امر ہے کہ جو اس کی رفاقت اور پیروی کرے وہ اپنے ساتھ اسے بھی لے ڈوبتا ہے اور گمراہ کر کے دوزخ سے ورے نہیں چھوڑتا۔
Ayah 22:55 یعنی اگر یہ دھوکا لگ رہا ہے کہ ریزہ ریزہ ہو کر دوبارہ کیسے جی اٹھیں گے تو خود اپنی پیدائش میں غور کرو کس طرح ہوئی ہے۔
6 یعنی اول تمہارے باپ آدم کو مٹی سے، پھر تم کو قطرہ منی سے بنایا، یا یہ مطلب ہے کہ مٹی سے غذا نکالی جس سے کئی منزلیں طے ہو کر نطفہ بنا، پھر نطفہ سے کئی درجے طے کر کے تمہاری تشکیل و تخلیق ہوئی۔
7 یعنی نطفہ سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔ جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ (ہاتھ، پاؤں، آنکھ، ناک وغیرہ) بنادیا جاتا ہے۔ اور ایک وقت ہوتا ہے کہ ابھی تک نہیں بنایا گیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعض کی پیدائش مکمل کردی جاتی ہے اور بعض یونہی ناقص صورت میں گر جاتا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ بعض بےعیب ہوتا ہے، بعض عیب دار۔
8 کہ خود تمہاری اصل کیا تھی اور کتنے روز گزرنے کے بعد آدمی بنے ہو۔ اسی کو سمجھ کر بہت سے حقائق کا انکشاف ہوسکتا ہے۔ اور بعث بعد الموت کا امکان بھی سمجھ میں آسکتا ہے۔
9 یعنی جتنی مدت جس کو رحم مادر میں ٹھہرانا مناسب ہوتا ہے ٹھہراتے ہیں۔ کم ازکم چھ مہینے اور زیادہ سے زیادہ دو برس یا چار برس علیٰ اختلاف الاقوال۔
10 یعنی جس طرح اندر رہ کر بہت سے مدارج طے کیے ہیں، باہر آکر بھی تدریجاً بہت منازل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک بچپن کا زمانہ ہے جب آدمی بالکل کمزور و ناتواں ہوتا ہے اور اس کی تمام قوتیں چھپی رہتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ کامن (پوشیدہ) قوتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ جسمانی حیثیت سے ہر چیز کمال شباب کو پہنچ جاتی ہے۔ پھر بعض تو جوانی ہی میں مرجاتے ہیں اور بعض اس عمر کو پہنچتے ہیں جہاں پہنچ کر آدمی کے اعضاء وقویٰ جواب دے دیتے ہیں، وہ سمجھدار بننے کے بعد ناسمجھ اور کارآمد ہونے کے بعد نکما ہوجاتا ہے۔ یاد کی ہوئی چیزیں بھول جاتا ہے اور جانی ہوئی چیزوں کو کچھ نہیں جانتا۔ گویا بوڑھا ہو کر پھر بچہ بن جاتا ہے۔
1 یعنی زمین مردہ پڑی تھی، رحمت کا پانی پڑتے ہی جی اٹھی اور تروتازہ ہو کر لہلہانے لگی۔ قسم قسم کے خوش منظر، فرحت بخش اور نشاط افزا پودے قدرت نے اگا دیے۔
Ayahs 22:6–72 انسان کی پیدائش اور کھیتی کی مثالوں سے جو اوپر مذکور ہوئیں چند باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ (1) یہ کہ یقینا اور بالتحقیق اللہ موجود ہے ورنہ ایسی منظم متّیقن اور حکیمانہ صنعتیں کہاں سے ظاہر ہوئیں۔ (2) یہ کہ خدا تعالیٰ مردہ اور بےجان چیزوں کو زندہ اور جان دار بنا دیتا ہے۔ چناچہ مشت خاک یا قطرہ آب سے انسان بنادینا اور افتادہ زمین میں روح نباتی پھونک دینا اس پر شاہد ہے، پھر دوبارہ پیدا کردینا اس کو کیا مشکل ہے (3) یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر ہر چیز اس کی قدرت کے نیچے نہ ہوتی تو ہرگز یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ (4) یہ کہ قیامت ضرور آنی چاہیے اور اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ضرور ملنی چاہیے کیونکہ اتنے بڑے انتظامات یوں ہی لغو اور بیکار نہیں ہوسکتے۔ جس حکیم مطلق اور قادر علی الاطلاق نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ سے انسان کو ایسی عجیب و غریب صفت کے ساتھ پیدا کیا، کیا خیال کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اس کی زندگی بیکار بنائی ہوگی ؟ ہرگز نہیں یقینا انسان کی یہ محدود زندگی جس میں سعادت و شقاوت نیکی بدی اور رنج و راحت باہم مخلوط رہتے ہیں اور امتحان و انتقام کی صورتیں ایک دوسرے سے مکمل اور نمایاں طور پر متمیز نہیں ہوتیں، اس کو مقتضی ہے کہ کوئی دوسری زندگی ہو۔ جہاں سعید و شقی، مجرم و وفادار اور صاف طور پر الگ الگ ہوں اور ہر ایک اس مقام پر پہنچایا جائے جہاں پہنچنے کے لیے بنایا گیا ہے اور جس کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے۔ مادی حیثیت سے منی کے جن اجزاء میں نطفہ بننے کی استعداد تھی ان سے نطفہ بنا اسی طرح نطفہ کی پوشیدہ قوتیں علقہ میں، علقہ کی مضغہ میں، مضغہ کی طفل میں آئیں اور جوانی کے وقت ان کا پورا ظہور ہوا۔ یا زمین کی پوشیدہ قوتیں بارش کا چھینٹا پڑنے سے ظہور پذیر ہوئیں۔ اسی طرح ضروری ہے کہ انسان میں سعادت و شقاوت کی جو روحانی قوتیں ودیعت کی گئیں یا نیکی اور بدی میں پھولنے پھلنے کی جو زبردست استعداد رکھی ہے وہ اپنے پورے شباب کو پہنچے اور کامل ترین اشکال و صورتیں ظاہر ہوں۔ اس کا نام بعث بعد الموت ہے جو دنیا کی زندگی کا موجودہ دور ختم کرنے کے بعد وقوع پذیر ہوگا۔
Ayah 22:83 یعنی ایسے واضح دلائل و شواہد سننے کے بعد بھی بعض کجرو اور ضدی لوگ اللہ کی باتوں میں یوں ہی بےسند جھگڑے کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی علم ضروری ہے، نہ دلیل عقلی، نہ دلیل سمعی، محض اوہام و ظنون کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 22:94 یعنی اعراض وتکبر کے ساتھ۔
5 یعنی جو شخص بدون حجت و دلیل محض عناد سے خدا کی باتوں میں جھگڑتا ہے اور غرض یہ ہو کہ دوسرے لوگوں کو ایمان و یقین کی راہ سے ہٹا دے اس کو دنیا میں خدا تعالیٰ ذلیل کرے گا اور آخرت کا عذاب رہا سو الگ۔
Ayah 22:106 یعنی جب سزا دیں گے تو کہا جائے گا کہ خدا کی طرف سے کسی پر ظلم و زیادتی نہیں۔ تیرے ہاتھوں کی کرتوت ہے۔ جس کا مزہ آج چکھ رہا ہے۔
Ayah 22:117 یعنی بعض آدمی محض دنیا کی غرض سے دین کو اختیار کرتا ہے اور اس کا دل مذبذب رہتا ہے۔ اگر دین میں داخل ہو کر دنیا کی بھلائی دیکھے، بظاہر بندگی پر قائم رہے اور تکلیف پائے تو چھوڑ دے، ادھر دنیا گئی ادھر دین گیا، کنارے پر کھڑا ہے۔ یعنی دل ابھی اس طرف ہے نہ اس طرف، جیسا کوئی مکان کے کنارے کھڑا ہو جب چاہے نکل بھاگے۔
Ayah 22:128 یعنی خدا کی بندگی چھوڑی، دنیا کی بھلائی نہ ملنے کی وجہ سے اب پکارتا ہے ان چیزوں کو جن کے اختیار میں نہ ذرہ برابر بھلائی ہے نہ برائی۔ کیا خدا نے جو چیز نہیں دی تھی وہ پتھروں سے حاصل کرے گا ؟ اس سے بڑھ کر کھلی حماقت کیا ہوں گی۔
Ayah 22:131 یعنی بتوں سے نفع کی تو امید موہوم ہے (بت پرستوں کے زعم کے موافق) لیکن ان کو پوجنے کا جو ضرر ہے وہ قطعی اور یقینی ہے اس لیے فائدہ کا سوال تو بعد کو دیکھا جائے گا، نقصان ابھی ہاتھوں ہاتھ پہنچ گیا۔
2 جب قیامت میں بت پرستی کے نتائج سامنے آئیں گے تو بت پرست بھی یہ کہیں گے " لَبِئْسَ الْمَوْلٰی وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ " یعنی جن سے بڑی امداد ورفاقت کی توقع تھی وہ بہت ہی برے رفیق اور مددگار ثابت ہوئے کہ نفع تو کیا پہنچاتے الٹا ان کے سبب سے نقصان پہنچ گیا۔
Ayah 22:143 منکرین مجادلین اور مذبذبین کے بعد یہاں مومنین مخلصین کا انجام نیک بیان فرمایا۔
4 جس کو مناسب جانے سزا دے اور جس پر چاہے انعام فرمائے۔ اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔
Ayah 22:155 " لَنْ یَّنْصُرَہُ " میں ضمیر مفعول نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے جن کا تصور قرآن پڑھنے والے کے ذہن میں گویا ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ کیونکہ آپ ہی قرآن کے اولین مخاطب ہیں۔ گویا مومنین کا انجام ذکر کرنے کے بعد یہ انکے پیغمبر کے مستقبل کا بیان ہوا۔ حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے رسول سے دنیاوی اور اخروی فتح و نصرت کے جو وعدے کرچکا ہے وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے، خواہ کفار و حاسدین کتنا ہی غیظ کھائیں اور نصرت ربانی کے روکنے کی کیسی ہی تدبیریں کرلیں، لیکن حضور ﷺ کی نصرت و کامیابی کسی طرح رک نہیں سکتی یقینا آکر رہے گی۔ اگر ان کفار و حاسدین کو اس پر زیادہ غصہ ہے اور سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کوشش سے خدا کی مشیت کو روک سکیں گے تو اپنی انتہائی کوشش صرف کر کے دیکھ لیں، حتی کہ ایک رسی اوپر چھت میں لٹکا کر گلے میں ڈال لیں اور خود پھانسی لے کر غیظ سے مرجائیں، یا ہوسکتا ہو تو آسمان میں رسی تان کر اوپر چڑھیں اور وہاں سے آسمانی امداد کو منقطع کر آئیں، پھر دیکھیں کہ ان تدبیروں سے وہ چیز آنی بند ہوجاتی ہے۔ جس پر انھیں اس قدر غصہ اور پیچ و تاب ہے۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے لیکن حضرت شاہ صاحب نے آیت کو (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ ) 22 ۔ الحج :11) کے مضمون سے مربوط کر کے نہایت لطیف تقریر فرمائی ہے۔ ان کے نزدیک (مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَاۗءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهٗ مَا يَغِيْظُ ) 22 ۔ الحج :15) میں ضمیر مفعول " من " کی طرف لوٹتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تکلیف میں جو کوئی خدا سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزیں پوجنے لگے وہ اپنے دل کے ٹھہرانے کو یہ قیاس کرلے جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی رسی سے لٹک رہا ہے، اگر چڑھ نہیں سکتا توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھینچے تو چڑھ جائے۔ جب رسی توڑ دی تو کیا توقع رہی، کیا خدا کی رحمت سے ناامید ہو کر کامیابی حاصل کرسکے گا ؟ گویا " رسی " کہا اللہ کی امید کو، اس کا کاٹ دینا ناامید ہوجانا اور آسمان سے مراد بلندی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 22:166 یعنی کیسی صاف صاف مثالیں اور کھلی باتیں ہیں۔ مگر سمجھتا وہ ہی ہے جسے خدا سمجھ دے۔
Ayah 22:177 مجوس آگ پوجتے ہیں اور دو خالق مانتے ہیں ایک خیر کا خالق جس کا نام " یزدان " ہے دوسرا شر کا جس کو " اہرمن " کہتے ہیں اور کسی نبی کا نام بھی لیتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ پیچھے بگڑے ہیں یا سرے سے غلط ہیں۔ شہر ستانی نے " ملل و نحل " میں ان کے مذہب پر جو کلام کیا ہے اسے دیکھا جائے " صابئین " وغیرہ کا ذکر پہلے گزر چکا۔
8 یعنی تمام مذاہب و فرق کے نزاعات کا عملی اور دو ٹوک فیصلہ حق تعالیٰ کی بارگاہ سے قیامت کے دن ہوگا۔ سب جدا کر کے اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا دئیے جائیں گے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون کس مقام یا کس سزا کا مستحق ہے۔
Ayah 22:181 ایک سجدہ ہے جس میں آسمان و زمین کی ہر ایک مخلوق شامل ہے وہ یہ کہ اللہ کی قدرت کے آگے تکویناً سب مطیع و منقاد اور عاجز و بےبس ہیں خواہی نخواہی سب کو اس کے سامنے گردن ڈالنا اور سر جھکانا پڑتا ہے۔ دوسرا سجدہ ہے ہر چیز کا جدا۔ وہ یہ کہ جس چیز کو جس کام کے لیے بنایا اس کام میں لگے، یہ بہت آدمی کرتے ہیں بہت نہیں کرتے۔ مگر آدمیوں کو چھوڑ کر اور ساری خلقت کرتی ہے۔ بناء ً علیہ اِنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہ، الخ میں ہر چیز کا اپنی شان کے لائق سجدہ مراد ہوگا یا " مَنْ فِیْ الْاَرْضِ " کے بعد دوسرا " یَسْجُدُ " مقدر نکالا جائے گا (تنبیہ) پہلی آیت سے ربط یہ ہوا کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں حالانکہ دوسری تمام مخلوق خدا کی مطیع و منقاد ہے۔ انسان جو ساری مخلوق سے زائد عاقل ہے، چاہیے تھا کہ اس کے کل افراد اوروں سے زیادہ متفق ہوتے۔
2 یعنی سجدہ سے انکار و اعراض کرنے کی بدولت عذاب کے مستحق ہوئے۔
3 یعنی خدا تعالیٰ جس کو اس کی شامت اعمال سے ذلیل کرنا چاہے اسے ذلت کے گڑھے سے نکال کر عزت کے مقام پر کون پہنچا سکتا ہے ؟
Ayah 22:194 یعنی پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِــِٕــيْنَ وَالنَّصٰرٰي وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُـوْٓا) 22 ۔ الحج :17) الیٰ آخرہ میں جن فرقوں کا ذکر ہوا ان سب کو حق و باطل پر ہونے کی حیثیت سے دو فریق کہہ سکتے ہیں۔ ایک مومنین کا گروہ جو اپنے رب کی سب باتوں کو من و عن تسلیم کرتا اور اس کے احکام کے آگے سربسجود رہتا ہے۔ دوسرے کفار کا مجمع جس میں یہود، نصاریٰ ، مجوس، مشرکین، صابئین وغیرہ ہم سب شامل ہیں۔ جو ربانی ہدایات کو قبول نہیں کرتے اور اس کی اطاعت کے لیے سر نہیں جھکاتے، یہ دونوں فریق دعاوی میں، بحث و مناظرہ میں اور جہاد و قتال کے مواقع میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل رہتے ہیں۔ جیسا کہ " بدر " کے میدان مبارزہ میں حضرت علی، حضرت حمزہ اور عبیدہ بن الحارث ؓ تین کافروں (عتبہ ابن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ) کے مقابلہ پر نکلے تھے، آگے دونوں فریق کا انجام بتلاتے ہیں۔
5 یعنی جس طرح لباس آدمی کے بدن کو ڈھانپ لیتا ہے۔ جہنم کی آگ اسی طرح ان کو محیط ہوگی۔ یا کسی ایسی چیز کے کپڑے پہنائے جائیں گے جو آگ کی گرمی سے بہت سخت اور بہت جلد تپنے والے ہوں۔
Ayahs 22:20–216 دوزخیوں کے سر ہتھوڑے سے کچل کر کھولتا ہوا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا جو دماغ کے راستہ سے پیٹ میں پہنچے گا جس سے سب انتڑی اوجھڑی کٹ کٹ کر نکل پڑے گی اور بدن کی بالائی سطح کو جب پانی مس کرے گا تو بدن کا چمڑا گل کر گرپڑے گا۔ پھر اصلی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے اور بار بار یہ ہی عمل ہوتا رہے گا۔ (كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ) 4 ۔ النسآء :56) اللّٰہم اعذنا من غضبک و عذابک۔
Ayah 22:227 یعنی دوزخ میں گھٹ گھٹ کر چاہیں گے کہ کہیں کو نکل بھاگیں، آگ کے شعلے ان کو اوپر کی طرف اٹھائیں گے پھر فرشتے آہنی گرز مار کر نیچے دھکیل دیں گے اور کہا جائے گا کہ دائمی عذاب کا مزہ چکھتے رہو جس سے نکلنا کبھی نصیب نہ ہوگا۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 22:238 یعنی بڑی آرائش اور زیب وزینت سے رہیں گے اور ہر ایک عنوان سے تجمل و تنعم کا اظہار ہوگا۔
9 پہلے (قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ ) 22 ۔ الحج :19) میں دوزخیوں کا لباس مذکور ہوا تھا، اس کے بالمقابل یہاں جنتیوں کا پہناوا بیان فرماتے ہیں کہ ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یہ جو فرمایا کہ وہاں گہنا اور وہاں پوشاک۔ معلوم ہوا یہ دونوں (چیزیں مردوں کے لیے) یہاں نہیں۔ اور گہنوں میں سے کنگن اس واسطے کہ غلام کی خدمت پسند آتی ہے تو کڑے ہاتھ میں ڈالتے ہیں۔ " (تنبیہ) احادیث میں ہے کہ جو مرد یہاں ریشم کا لباس پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا اگر وہ پہننے والا کافر ہے تب تو ظاہر ہے کہ وہ جنت میں داخل ہی نہ ہوگا کہ جنتیوں کا لباس پہنے۔ ہاں اگر مومن ہے تو شاید کچھ مدت تک اس لباس سے محروم رکھا جائے پھر ابدالآباد تک پہنتا رہے اور اس لا متناہی مدت کے مقابلہ میں یہ قلیل زمانہ غیر معتدبہ سمجھا جائے۔
Ayah 22:2410 دنیا میں بھی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا، قرآن پڑھا، خدا کی تسبیح وتحمید کی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیا اور آخرت میں بھی کہ فرشتے ہر طرف سے سلام کریں گے اور جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ستھری باتیں کرتے ہوں گے بک بک جھک جھک نہ ہوگی اور نعمائے جنت پر شکر خداوندی بجا لائیں گے۔ مثلاً کہیں گے " اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہ، وَاَوْرَثَنَا الْجَنَّۃَ " سورة فاطر میں ہے (يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُــؤْلُــؤًا ۚ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 33 وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) 35 ۔ فاطر :34-33) اس سے آیت حاضرہ کی تفسیر ہوتی ہے۔ نبہ علیہ فی الروح۔
11 یعنی اللہ کی راہ پائی جس کا نام اسلام ہے یہ راہ خود بھی حمید ہے اور راہ والا بھی حمید ہے۔ یا راہ پائی اس جگہ کی جہاں پہنچ کر آدمی کو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہوتا ہے۔
Ayah 22:251 پہلے (ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ ) 22 ۔ الحج :19) میں مومنین اور کفار کے اختصام (جھگڑے) کا ذکر تھا۔ اس اختصام کی بعض صورتوں کو یہاں بیان فرمایا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں سے مزاحم ہوتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص اللہ کے راستہ پر نہ چلے۔ حتی کہ جو مسلمان اپنے پیغمبر کی معیت میں عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ معظمہ جا رہے تھے ان کا راستہ روک دیا۔ حالانکہ مسجد حرام (یا حرم شریف کا وہ حصہ جس سے لوگوں کی عبادات و مناسک کا تعلق ہے) سب کے لیے یکساں ہے۔ جہاں مقیم و مسافر اور شہری و پردیسی کو ٹھہرنے اور عبادت کرنے کے مساویانہ حقوق حاصل ہیں۔ ہاں وہاں سے نکالے جانے کے قابل اگر ہیں تو وہ لوگ جو شرک اور شرارتیں کر کے اس بقعہ مبارکہ کی بےتعظیمی کرتے ہیں۔ (تنبیہ) بیوت مکہ کی ملکیت اور بیع و شراء وغیرہ کا مسئلہ ایک مستقل مسئلہ ہے جس کی کافی تفصیل روح المعانی وغیرہ میں کی گئی ہے۔ یہاں اس کے بیان کا موقع نہیں۔
2 یعنی جو شخص حرم شریف میں جان بوجھ کر بالارادہ بےدینی اور شرارت کی کوئی بات کرے گا اس کو اس سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی جو دوسری جگہ ایسا کام کرنے پر ملتی ہے۔ اسی سے ان کا حال معلوم کرلو جو ظلم و شرارت سے مومنین کو یہاں آنے سے روکتے ہیں۔
Ayah 22:263 کہتے ہیں کعبہ شریف کی جگہ پہلے سے بزرگ تھی، پھر مدتوں کے بعد نشان نہ رہا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بیت اللہ تعمیر کرو۔ اس معظم جگہ کا نشان دکھلایا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ (تنبیہ) " مسجد حرام " کا ذکر پہلے آیا تھا اس کی مناسبت سے کعبہ کی بناء کا حال اور اس کے متعلق بعض احکام دور تک بیان کیے گئے ہیں۔
4 یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، کوئی شخص یہاں آکر اللہ کی عبادت کے سوا کوئی مشرکانہ رسوم نہ بجا لائے۔ کفار مکہ نے اس پر ایسا عمل کیا کہ وہاں تین سو ساٹھ بت لا کر کھڑے کردیئے۔ العیاذ باللہ جن کی گندگی سے ہمیشہ کے لیے خاتم الانبیاء ﷺ نے خدا کے گھر کو پاک کیا۔ فللّٰہ الحمد والمنہ۔
5 یعنی خالص ان ہی لوگوں کے لیے رہے اور سب سے پاک کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " پہلی امتوں میں رکوع نہ تھا یہ خاص اسی امت محمدیہ کی نماز میں ہے۔ تو خبر دی کہ آگے لوگ ہوں گے اس کے آباد کرنے والے " وفیہ نظر فتامل "
Ayah 22:276 جب کعبہ تعمیر ہوگیا تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پکارا کہ لوگو ! تم پر اللہ نے حج فرض کیا ہے حج کو آؤ۔ حق تعالیٰ نے یہ آواز ہر طرف ہر ایک روح کو پہنچا دی (بلا تشبیہ جیسے آجکل ہم امریکہ یا ہندوستان میں بیٹھ کر لندن کی آوازیں سن لیتے ہیں) جس کے لیے حج مقدر تھا اس کی روح نے لبیک کہا۔ وہ ہی شوق کی دبی ہوئی چنگاری ہے کہ ہزاروں آدمی پا پیادہ تکلیفیں اٹھاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں اور بہت سے اتنی دور سے سوار ہو کر آتے ہیں کہ چلتے چلتے اونٹنیاں تھک جاتی اور دبلی ہوجاتی ہیں، بلکہ عموماً حاجیوں کو عمدہ سانڈنیاں کہاں ملتی ہیں ان ہی سوکھے دبلے اونٹوں پر منزلیں قطع کرتے ہیں۔ یہ گویا اس دعا کی مقبولیت کا اثر ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی (فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ ) 14 ۔ ابراہیم :34)
Ayah 22:287 اصل مقصد تو دینی و اخروی فوائد کی تحصیل ہے مثلاً حج وعمرہ اور دوسری عبادات کے ذریعہ حق تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا اور روحانی ترقیات کے بلند مقامات پر فائز ہونا۔ لیکن اس عظیم الشان اجتماع کے ضمن میں بہت سے سیاسی، تمدنی اوراقتصادی فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ کما لایخفی۔
8 " ایام معلومات " سے بعض کے نزدیک ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور بعض کے نزدیک تین دن قربانی کے مراد ہیں۔ بہرحال ان ایام میں ذکر اللہ کی بڑی فضیلت آتی ہے۔ اسی ذکر کے تحت میں خصوصیت کے ساتھ یہ بھی داخل ہے کہ قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا جائے اور بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا جائے۔ ان دنوں میں بہترین عمل یہ ہی ہے اللہ کے نام پر ذبح کرنا۔
9 بعض کفار کا خیال تھا کہ قربانی کا گوشت خود قربانی کرنے والے کو نہ کھانا چاہیے۔ اس کی اصلاح فرما دی کہ شوق سے کھاؤ، دوستوں کو دو اور مصیبت زدہ محتاجوں کو کھلاؤ۔
Ayah 22:2910 جہاں سے لبیک شروع کرتے ہیں حجامت نہیں بنواتے، ناخن نہیں لیتے، بالوں میں تیل نہیں ڈالتے، بدن پر میل اور گردوغبار چڑھ جاتا ہے زیادہ مل دَل کر غسل نہیں کرتے۔ ایک عجیب عاشقانہ و مستانہ حالت ہوتی ہے، اب دسویں تاریخ کو سب قصے تمام کرتے ہیں، حجامت بنوا کر غسل کر کے سلے ہوئے کپڑے پہن کر طواف زیارت کو جاتے ہیں، جس کو ذبح کرنا ہو پہلے ذبح کرلیتا ہے۔ اور اپنی منتیں پوری کرنے سے یہ مراد ہے کہ اپنی مرادوں کے واسطے جو منتیں مانی ہوں ادا کریں۔ اصل منت اللہ کی ہے اور کسی کی نہیں۔ بعض کے نزدیک " نذور " کے لفظ سے مناسک حج یا واجبات حج مراد ہیں۔ اور یہ ہی اقرب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ (تنبیہ) " عتیق " کے معنی قدیم پرانے کے ہیں، اور بعض کے نزدیک " بیت عتیق " اس لیے کہا کہ اس گھر کو برباد کرنے کی غرض سے جو طاقت اٹھے گی حق تعالیٰ اس کو کامیاب نہ ہونے دے گا۔ تاآنکہ خود اس کا اٹھا لینا منظور ہو۔
Ayah 22:3011 یعنی حرام چیزوں کو بھاری سمجھ کر چھوڑ دینا یا اللہ نے جن چیزوں کو محترم قرار دیا ہے ان کا ادب و تعظیم قائم رکھنا بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے جس کا انجام نہایت اچھا ہوگا۔ محترم چیزوں میں قربانی کا جانور، بیت اللہ، صفا مروہ، منیٰ ، عرفات، مسجدیں، قرآن، بلکہ تمام احکام الٰہیہ آجاتے ہیں۔ خصوصیت سے یہاں مسجد حرام اور ہدی کے جانور کی تعظیم پر زور دینا ہے کہ خدائے واحد کے پرستاروں کو وہاں آنے سے نہ روکیں نہ قربانی کے آئے ہوئے جانوروں کو واپس جانے پر مجبور کریں بلکہ قیمتی اور موٹے تازے جانور قربان کریں۔
12 یعنی ان کے ذبح کرنے کا حکم تعظیم حرمات اللہ کے خلاف نہیں۔ کیونکہ جس مالک نے ایک چیز کی حرمت بتلائی تھی اسی کی اجازت سے اور اسی کے نام پر وہ قربان کی جاتی ہے۔
13 یعنی جن جانوروں کا حرام ہونا وقتاً فوقتاً تم کو سنایا جاتا رہا ہے جیسا کہ سورة " انعام " میں تفصیلاً گزر چکا وہ حلال نہیں۔
1 یعنی جانور اللہ کی مخلوق و مملوک ہیں، اس کی اجازت سے اسی کے نام پر ذبح کیے جاسکتے ہیں اور اسی کے کعبہ کی نیاز ہوسکتے ہیں، جو جانور کسی بت یا دیوی دیوتا کے استھان پر ذبح کیا گیا وہ مردار ہوا۔ ایسی شرکیات اور گندے کاموں سے بچنا ضروری ہے۔
2 جھوٹی بات زبان سے نکالنا، جھوٹی شہادت دینا، اللہ کے پیدا کیے ہوئے جانور کو غیر اللہ کے نامزد کر کے ذبح کرنا، کسی چیز کو بلا دلیل شرعی حلال و حرام کہنا، سب " قَوْلَ الزُّوْرِ " میں داخل ہے۔ " قَوْلَ الزُّوْرِ " کی برائی کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حق تعالیٰ نے اس کو یہاں شرک کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ " وَاَنْ تُشْرِکُوْا باللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَاتَعْلَمُوْنَ " (اعراف، رکوع 4، آیت : 33) احادیث میں بڑی تاکید و تشدید سے آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا ہے۔
Ayah 22:313 یعنی ہر طرف سے ہٹ کر ایک اللہ کے ہو کر رہو۔ تمہارے تمام افعال ونیّات بالکلیہ بلا شرکت غیرے خالص خدا کے لیے ہونے چاہئیں۔
4 یہ شرک کی مثال بیان فرمائی، خلاصہ یہ ہے کہ توحید نہایت اعلیٰ اور بلند مقام ہے۔ اس کو چھوڑ کر جب آدمی کسی مخلوق کے سامنے جھکتا ہے تو خود اپنے کو ذلیل کرتا اور آسمان توحید کی بلندی سے پستی کی طرف گراتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر اونچے سے گر کر زندہ بچ نہیں سکتا۔ اب یا تو اہواء و افکار ردیہ کے مردار خوار جانور چاروں طرف سے اس کی بوٹیاں نوچ کر کھائیں گے یا شیطان لعین ایک تیز ہوا کے جھکڑ کی طرح اس کو اڑا لے جائے گا اور ایسے گہرے کھڈ میں پھینکے گا جہاں کوئی ہڈی پسلی نظر نہ آئے۔ یا یوں کہو کہ مثال میں دو قسم کے مشرکوں کا الگ الگ حال بیان ہوا ہے۔ جو مشرک اپنے شرک میں پوری طرح پکا نہیں مذبذب ہے کبھی ایک طرف جھک جاتا ہے کبھی دوسری طرف، وہ " فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ " کا، اور جو مشرک اپنے شرک میں پوری طرح پکا اٹل ہو، وہ " تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ " کا مصداق ہے یا تَخْطَفُہُ الطَّیْرُ سے مراد لوگوں کے ہاتھوں مارا جانا اور تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ سے طبعی موت مرنا مراد ہو، اکثر مفسرین نے وجہ تشبیہ کے بیان میں اسی طرح کے احتمالات ذکر کیے ہیں۔ لیکن حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ جس کی نیت ایک اللہ پر ہے وہ قائم ہے اور جہاں نیت بہت طرف گئی وہ سب اس کو (پریشان کر کے) راہ میں سے اچک لیں گی۔ یا سب سے منکر ہو کر دہری ہوجائے گا۔ "
Ayah 22:325 یعنی شعائر اللہ کی تعظیم شرک میں داخل نہیں۔ جس کے دل میں پرہیزگاری کا مضمون اور خدائے واحد کا ڈر ہوگا وہ اس کے نام لگی چیزوں کا ادب ضرور کرے گا۔ یہ ادب کرنا شرک نہیں بلکہ عین توحید کے آثار میں سے ہے کہ خدا کا عاشق ہر اس چیز کی قدر کرتا ہے جو بالخصوص اس کی طرف منسوب ہوجائے۔
Ayah 22:336 قدیم گھر بیت اللہ شریف ہے اور یہاں شاید توسعًا سارا حرم مراد ہو، یعنی اونٹ، گائے، بکری وغیرہ سے تم بہت فوائد حاصل کرسکتے ہو۔ مثلاً سواری کرو، دودھ پیو، نسل چلاؤ، اُون وغیرہ کو کام میں لاؤ، مگر یہ اس وقت کہ ان کو ہدی نہ بناؤ۔ " ہدی " بننے کے بعد اس قسم کا انتفاع (بدون شدید ترین ضرورت کے) نہیں کرسکتے۔ اب تو اس کا عظیم الشان اخروی فائدہ یہ ہی ہے کہ کعبہ کے پاس لیجا کر خدا تعالیٰ کے نام پر قربان کردو۔
Ayah 22:347 یعنی اللہ کی نیاز کے طور پر مویشی قربان کرنا ہر دین سماوی میں عبادت قرار دی گئی ہے۔ اگر یہ عبادت غیر اللہ کی نیاز کے طور پر کرو گے تو شرک ہوجائے گا جس سے بہت پرہیز کرنا چاہیے۔ موحد کا کام یہ ہے کہ قربانی اکیلے اسی خدا کے لیے کرے جس کے نام پر قربان کرنے کا تمام شرائع میں حکم رہا ہے۔ اس کے حکم سے باہر نہ ہو۔
8 یعنی ان لوگوں کو رضائے الٰہی کی بشارت سنا دیجئے جو صرف اسی ایک خدا کا حکم مانتے ہیں اسی کے سامنے جھکتے ہیں اسی پر ان کا دل جمتا ہے اور اسی کے جلال و جبروت سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Ayah 22:359 یعنی مصائب و شدائد کو صبر و استقلال سے برداشت کریں، کوئی سختی اٹھا کر راہ حق سے قدم نہ ڈگمگائے۔
10 بیت اللہ تک پہنچنے میں بہت مصائب و شدائد پیش آتے ہیں، سفر میں اکثر نمازوں کے فوت ہونے یا قضا ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے، مال بھی خرچ کرنا پڑتا ہے، شاید اسی مناسبت سے ان اوصاف و خصال کا یہاں ذکر فرمایا۔
Ayah 22:361 پہلے مطلق شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم تھا۔ اب تصریحاً بتلا دیا کہ اونٹ وغیرہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ جن کی ذوات میں اور جن کو ادب کے ساتھ قربانی کرنے میں تمہارے لیے بہت سی دنیاوی و اخروی بھلائیاں ہیں تو عام ضابطہ کے موافق چاہیے کہ اللہ کا نام پاک لے کر ان کو ذبح کرو۔ بالخصوص اونٹ کے ذبح کا بہترین طریقہ نحر ہے کہ اس کو قبلہ رخ کھڑا کر کے اور ایک ہاتھ داہنا یا بایاں باندھ کر سینہ پر زخم لگائیں جب سارا خون نکل چکا وہ گرپڑا تب ٹکڑے کر کے استعمال کریں اور بہت اونٹ ہوں تو قطار باندھ کر کھڑا کرلیں۔
2 یہ محتاج کی دو قسمیں بتلائیں۔ ایک جو صبر سے بیٹھا ہے، سوال نہیں کرتا۔ تھوڑا مل جائے تو اسی پر قناعت کرتا ہے دوسرا جو بےقرار ہو کر سوال کرتا پھرتا ہے کچھ مل جائے تب بھی قرار نہیں۔
3 یعنی ایسے بڑے بڑے جانور جو تم سے جثہ میں اور قوت میں کہیں زیادہ ہیں، تمہارے قبضہ میں کردیے کہ تم ان سے طرح طرح کی خدمات لیتے ہو اور کیسی آسانی سے ذبح کرلیتے ہو۔ یہ خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے جس کا شکر ادا کرنا چاہیے نہ یہ کہ شرک کر کے الٹی ناشکری کرو۔
Ayah 22:374 اس میں قربانی کا اصل فلسفہ بیان فرمایا۔ یعنی جانور کو ذبح کر کے محض گوشت کھانے کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم اللہ کی رضاء کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ نہ گوشت اور خون اٹھ کر اس کی بارگاہ تک پہنچتا ہے اس کے یہاں تو تمہارے دل کا تقویٰ اور ادب پہنچتا ہے کہ کیسی خوش دلی اور جوش محبت کے ساتھ ایک قیمتی اور نفیس چیز اس کی اجازت سے اس کے نام پر اس کے بیت کے پاس لے جا کر قربان کی۔ گویا اس قربانی کے ذریعہ سے ظاہر کردیا کہ ہم خود بھی تیری راہ میں اسی طرح قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ بس یہ ہی وہ تقویٰ ہے جس کا ذکر (وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ ) 22 ۔ الحج :32) میں کہا گیا تھا۔ اور جس کی بدولت خدا کا عاشق اپنے محبوب حقیقی کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے۔
5 یعنی " بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ لَکَ وَمِنْکَ " کہہ کر ذبح کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے اپنی محبت و عبودیت کے اظہار کی کیسی اچھی راہ سجھا دی، اور ایک جانور کی قربانی کو گویا خود تمہاری جان قربان کرنے کے قائم مقام بنادیا۔
Ayah 22:386 (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ للنَّاسِ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ ۭ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۢ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 22 ۔ الحج :25) میں ان کفار کا ذکر تھا جو مسلمانوں کو حرم شریف کی زیارت اور حج وعمرہ وغیرہ سے روکتے تھے درمیان میں مسجد حرام اور اس کے متعلقات کی تعظیم و ادب کے احکام بیان فرمائے۔ اب پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی مسلمان مطمئن رہیں اللہ تعالیٰ عنقریب دشمنوں سے ان کا راستہ صاف کر دے گا۔ مسجد حرام تک پہنچنے اور اس کے متعلق احکام کی تعمیل کرنے میں کوئی مخالفانہ رکاوٹ باقی نہ رہے گی۔ بےخوف و خطر حج وعمرہ ادا کریں گے۔ گویا " وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ " میں جو بشارت دینے کا امر تھا اس کا ایک فرد یہ خوشخبری ہوئی۔
7 یعنی دغاباز ناشکرگذاروں کو اگر ایک خاص میعاد تک مہلت دی جائے تو یہ مت خیال کرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کو خوش آتے ہیں۔ یہ مہلت بعض مصالح اور حکمتوں کی بناء پر ہے۔ آخری انجام یہ ہی ہوتا ہے کہ اہل حق غالب ہوں اور باطل پرستوں کو راستہ سے چھانٹ دیا جائے۔
Ayah 22:398 جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے۔ حکم تھا کہ کفار کی سختیوں پر مسلمان صبر کریں اور ہاتھ روکے رکھیں۔ چناچہ انہوں نے کامل تیرہ سال تک سخت زہرہ گداز مظالم کے مقابلہ میں بےمثال صبرو استقامت کا مظاہرہ کیا۔ جب مدینہ " دارالاسلام " بن گیا اور مسلمانوں کی قلیل سی جمعیت ایک مستقل مرکز پر جمع ہوگئی تو مظلوم مسلمانوں کو جن سے کفار برابر لڑتے رہتے تھے اجازت ہوئی بلکہ حکم ہوا کہ ظالموں کے مقابلہ پر تلوار اٹھائیں۔ اور اپنی جماعت اور مذہب کی حفاظت کریں۔ اسی قسم کی کئی آیتیں اسی زمانہ میں نازل ہوئی ہیں۔
9 یعنی اپنی قلت اور بےسروسامانی سے نہ گھبرائیں۔ اللہ تعالیٰ مٹھی بھر فاقہ مستوں کو دنیا کی فوجوں اور سلطنتوں پر غالب کرسکتا ہے۔ فی الحقیقت یہ ایک شہنشاہانہ طرز میں مسلمانوں کی نصرت و امداد کا وعدہ تھا۔ جیسے دنیا میں بادشاہ اور بڑے لوگ وعدہ کے موقع پر اپنی شان وقار و استغناء دکھلانے کے لیے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہاں تمہارا فلاں کام ہم کرسکتے ہیں۔ شاید یہ عنوان اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ مخاطب سمجھ لے کہ ہم ایسا کرنے میں کسی سے مجبور نہیں ہیں جو کچھ کریں گے اپنی قدرت و اختیار سے کریں گے۔
Ayah 22:4010 یعنی مسلمان مہاجرین جو اپنے گھروں سے نکالے گئے ان کا کوئی جرم نہ تھا نہ ان پر کسی کا کوئی دعویٰ تھا، بجز اس کے کہ وہ اکیلے ایک خدا کو اپنا رب کیوں کہتے ہیں۔ اینٹ پتھروں کو کیوں نہیں پوجتے۔ گویا ان پر سب سے بڑا اور سنگین الزام اگر لگایا جاسکتا ہے تو یہ ہی کہ ہر طرف سے ٹوٹ کر ایک خدا کے کیوں ہو رہے۔
11 یعنی اگر کسی وقت اور کسی حالت میں بھی ایک جماعت کو دوسری سے لڑنے بھڑنے کی اجازت نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانون فطرت کی سخت خلاف ورزی ہوگی۔ اس نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز یا ہر شخص یا ہر جماعت دوسری چیز یا شخص یا ہر جماعت کے مقابلہ میں اپنی ہستی برقرار رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلہ میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان زمین پر باقی نہ رہتا۔ بد دین اور شریر لوگ جن کی ہر زمانہ میں کثرت رہی ہے تمام مقدس مقامات اور یادگاریں ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے۔ کوئی عبادت گاہ، تکیہ، خانقاہ، مسجد، مدرسہ محفوظ نہ رہ سکتا۔ بناء علیہ ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں خواہ کتنی ہی مجتمع ہوجائیں قدرت کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے مقدس ہاتھوں سے بدی کے حملوں کی مدافعت کرائی جائے۔ اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنان حق و صداقت پر غالب کرے بلاشبہ وہ ایسا قوی اور زبردست ہے کہ اس کی اعانت و امداد کے بعد ضعیف سے ضعیف چیز بڑی بڑی طاقتور ہستیوں کو شکست دے سکتی ہے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی اجازت دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا اور یہ وہ عام قانون ہے جس کا انکار کوئی عقلمند نہیں کرسکتا۔ اگر مدافعت و حفاظت کا یہ قانون نہ ہوتا تو اپنے اپنے زمانہ میں نہ عیسائی راہبوں کے صومعے (کوٹھڑے) قائم رہتے نہ نصاریٰ کے گرجے، نہ یہود کے عبادت خانے نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے۔ یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور ڈھا کر برابر کردی جاتیں۔ پس اس عام قانون کے ماتحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک وقت مناسب پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔