Explained with ayahs 8–10
گمراہ جاہل مقلدلوگ
چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل ملقدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ وہ بےعقلی اور بےدلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپرواہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپرواہی کی اور نہ مانے۔ اور آیت میں ہے جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول ﷺ یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 10
یعنی وہ ذاتی واقفیت جو براہ راست مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوئی ہو۔
سورة الْحَجّ 11
یعنی وہ واقفیت جو کسی دلیل سے حاصل ہوئی ہو یا کسی علم رکھنے والے کی رہنمائی سے۔
سورة الْحَجّ 12
یعنی وہ واقفیت جو خدا کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہوئی ہو۔
سورة الْحَجّ 13
اس میں تین کیفیتیں شامل ہیں جاہلانہ ضد اور ہٹ دھرمی۔ تکبر اور غرور نفس۔ اور کسی سمجھانے والے کی بات کی طرف التفات نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بطن مادر میں تخلیق انسانی کے درجات اور مختلف احوال
فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ، اس آیت میں بطن مادر کے اندر انسان کی تخلیق کے مختلف درجات کا بیان ہے۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اور وہ سچ بولنے والے اور سچے سمجھے جانے والے ہیں کہ انسان کا مادہ چالیس روز تک رحم میں جمع رہتا ہے پھر چالیس دن کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بن جاتا ہے پھر چالیس ہی دن میں وہ مضغہ یعنی گوشت بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کے متعلق چار باتیں اسی وقت فرشتہ کو لکھوا دی…
Read the full tafseer →بےدلیل مجادلہ کبر ہے
آیت 3 میں جن مجادلین کی طرف اشارہ فرمایا تھا یہ ان کے رویہ کی تفصیل ہے۔ وہاں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ خدا کے بارے میں مشرکین کی اصلی مخاصمت عقیدہ توحید سے تھی۔ جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کو توہ وہ بلابحث و نزاع مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس کے بہت سے دور سے شریک بھی ٹھہرا لئے تھے جن کو ثابت کرنے کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی تھی۔ لیکن ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ بس زیادہ سے زیادہ جو چیز وہ پیش کرتے وہ یہ کہ ہمارے باپ دادا ان معبودوں کو پوجتے آئے ہیں اس لئے ہم ان کو پوجتے رہیں گے اور ان کی توہین کسی حال میں برداشت نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب بحث کا تعلق دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
9۔ 1 ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ (وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا) 31۔ لقمان :7) (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ) 63۔ المنافقون :5) (اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ) 17۔ الاسراء :83)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
7: آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کچھ لوگ اس لالچ میں اسلام لائے کہ اسلام کی وجہ سے انہیں دنیا میں کچھ فوائد حاصل ہوں گے ؛ لیکن جب ان کی توقع پوری نہیں ہوئی ؛ بلکہ کوئی آزمائش آگئی تو دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، یہ آیت ان کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ یہ لوگ حق کو حق ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے ؛ بلکہ دنیا کے مفادات کی خاطر قبول کرتے ہیں، اور ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی جنگ میں اس نیت سے ایک کنارے کھڑا ہوگیا ہو کہ دونوں لشکروں میں سے جس کا پلہ بھاری نظر آئے گا اسکے ساتھ ہوجاؤں گا ؛ تاکہ کچھ مفادات حاصل کرسکوں، سبق یہ دیا گیا ہے کہ اسلام پر عمل اس لالچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ومن الناس ……بظلام للحمید (10)
ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔
یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔
ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔
لیضل عن سبیل…
Read the full tafseer →3 یعنی ایسے واضح دلائل و شواہد سننے کے بعد بھی بعض کجرو اور ضدی لوگ اللہ کی باتوں میں یوں ہی بےسند جھگڑے کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی علم ضروری ہے، نہ دلیل عقلی، نہ دلیل سمعی، محض اوہام و ظنون کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت 8 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ”
ایسے لوگ بغیر کسی علمی دلیل اور الہامی رہنمائی کے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →8 اس آیت میں علم کے لفظ کا اطلاق شرعی زبان میں عموماً وحی الٰہی پر ہوتا ہے مگر یہاں علم سے مراد فطری یا پیدائشی یا بدیہی علم ہے جو ہر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہر جاندار کو اپنی زندگی کے بقاء کے لئے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے یا یہ کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ یا یہ کہ کل ہمیشہ اپنے جزء سے جڑا ہوتا ہے یا یہ کہ آگ میں جو چیز ڈالی جائے، آگ اسے جلا دیتی ہے یہ ایسے امور ہیں جن کے لئے کسی عقلی یا نقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی کوئی شخص ایسے امور کے لئے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے اور ھدی سے مراد عقلی دلیل ہے۔ مثلاً اسی کائنات کا مربوط نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
13۔ یعنی بجز بےعقلی اور بےعملی کی راہ سے ضلالت پھیلاتے رہنے کے یہ شخص نہ کوئی عقلی دلیل اپنے پاس رکھتا ہے اور نہ نقلی۔ (آیت) ” ھدی “۔ سے مراد ہے دلیل عقلی۔ اور (آیت) ” کتب منیر “۔ سے وحی الہی۔ اے لا سندلہ من استدلال او وحی (بیضاوی) (آیت) ” ثانی عطفہ “۔ لفظی معنی ہیں اپنا شانہ پھیر لینے والا، مراد ہے تکبر کرنے والا، زعم وپندار میں مبتلا رہ کر اکڑنے والا، ثنی العطف عبارۃ عن الکبر والخیلاء (کشاف) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ آیت میں اشارہ خصوصی ابوجہل سے متعلق ہے۔ آج ” روشن خیال “۔ تجددو ” نواز “۔ طبقات بھی اسی ذہنیت کو لئے ہوئے ابھرے ہیں۔ صفات الہی پر بڑی بلندآہنگی سے گفتگو کے لیے نکلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…
Read the full tafseer →ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ہدی ولا کتب منیر۔
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم (بدیہی) کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں علم سے مراد ہے علم بدیہی اور ہدیٰ سے مراد ہے علم استدلالی و نظری جو معرفت الٰہیہ تک پہنچانے والا ہو اور کتاب روشن سے مراد کسی آدمی پر اللہ کی اتاری ہوئی کتاب جو حق کی مظہر ہو انسانی علم کے یہی تین ذرائع ہیں (علم ضروری یعنی علم بدیہی جو نظر و فکر اور سوچ بچار کا محتاج نہیں ہے محض حسی ہے دوسرا علم نظری و استدلالی جو غور وفکر اور ترتیب معلومات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ تیسرا نقلی علم جو اللہ کی نازل کردہ کتاب سے حاصل کیا گیا ہو۔ مترجم) ۔
Read the full tafseer →(8) اور بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ دین الہی اور کتاب خداوندی میں بدون واقفیت علم ضروری بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے اپنے گردن مٹکاتے ہوئے اور آیات خداوندی سے اعراض اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہوئے جھگڑا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ۔۔ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہی الفاظ اس سے پہلے آیت (3) میں گزرے ہیں، پھر انھیں دوبارہ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہاں قیامت کے قیام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق ان کج بحث جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو علم سے سراسر عاری اور محض مقلد ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جبکہ یہاں ان جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو گمراہی کے پیشوا ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت : ”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ“ میں واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے (آیت : 3 کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں) اسی…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ (اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑا کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق ایسی صفات اس کی طرف منسوب کرتے ہیں جو اس کے مناسب نہیں۔ یہ ابوجہل کے متعلق اتری۔
8۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) علم سے بد یہی جو معرفت الٰہی تک پہنچائے۔ وَّلَا ھُدًی (بغیر ہدایت و راہنمائی) اس سے استدلالی علم مراد ہے کیونکہ یہ معرفت کی طرف لے جانے والا ہے۔ وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ (اور بغیر روشن کتاب کے) اس سے مراد وحی ہے انسانی علوم انہی تین طریقوں پر حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر۔ یعنی ان ساری چیزوں سے مراد ایک ہی ہے کیونکہ کسی چیز کو زیادہ کہا جاتا ہے اگرچہ وہ ایک ہوتی ہے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم آیت ثانی عطفہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اعراض کرنے والا ہے تکبر کی وجہ سے اور وہ صرف دیکھتا ہے ایک جانب میں۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ کے بارے میں فرمایا کہ اپنے سر کو ٹیڑھا کرتے ہوئے منہ موڑتے ہوئے اعراض کرتے ہوئے وہ ارادہ نہیں کرتا سننے کا جو اس کو کہا گیا۔
4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر…
Read the full tafseer →[ وَمِنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی ہے) جو ] [ يُّجَادِلُ : بحث کرتا ہے ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں ] [ بِغَيْرِ عِلْمٍ : کسی علم کے بغیر ] [ وَّلَا هُدًى: اور نہ کسی ہدایت سے ] [ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ : اور نہ کسی روشن کتاب سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
معاندین کا متکبرانہ طرز عمل اور آخرت میں ان کا عذاب و رسوائی
روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض حضرات کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ اخنس بن شریق تھا اور بہت سے حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ سبب نزول جو بھی ہو بہر حال آیت کا عموم ہر اس شخص کی مذمت اور دنیا و آخرت کی ذلت اور بد حالی کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بےت کے سوال کرے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول نہ کرے۔ نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ اس کی عقل رہبر ہے اور نہ اس کے پاس کوئی کتاب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت
قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
(ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…
Read the full tafseer →16:۔ ” وَ مِنَ النَّاسِ الخ “ یہ زجر اول کا تفصیلی اعادہ ہے یعنی ضدی اور معاند لوگ اللہ کی توحید میں خواہ مخواہ جھگڑا کرتے اور شبہات نکالتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جسے وہ اپنے مشرکانہ عقائد و اعمال کی تائید میں اور توحید کے خلاف پیش کرسکیں۔ عقل و نقل اور وحی سے کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔ ” بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًي وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ “” عِلْمٍ “ دلیل عقلی۔ ” ھُدًي دلیل وحی “ اور ” کِتَاب منیر “ دلیل نقلی۔ یہ نادان لوگ اللہ کی توحید میں شک کر رہے ہیں باوجودیکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے یعنی دلیل عقلی اور نہ ہدایت یعنی وحی اور نہ کتاب منیر یعنی دلیل نقلی۔ قالہ الشیخ وقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
ربط آیات :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔
جھگڑالو لوگ :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…
Read the full tafseer →وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ 8ۙ
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125]
( ج د ل ) الجدال
( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
تفسیر : قیامت کے دلائل بیان کر کے پھر انہیں بےہودہ لوگوں کے جاہلانہ حجت و مجادلہ کا ذکر فرماتا ہے۔ قال و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتاب منیر۔ بعض کہتے ہیں پہلی آیت ومن الناس الخ نضربن حارث کے حق میں اور یہ ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں دونوں جگہ نضر مراد ہے محض ذم کے مبالغہ کے لیے اس کا اعادہ کیا۔ انسان کسی مقصد پر جو حجت قائم کرتا ہے یا کوئی عقیدہ دل میں جماتا ہے۔ تو یا علم بالبد یہیات یا استدلال و نظر سے یا وحی والہام سے پھر جس کو یہ تینوں باتیں کسی بات کی طرف ہدایت نہ کریں اور وہ اس پر جھگڑے تو سخت نادان ہے بغیر علم میں بدیہیات ولا ھدی میں نظریات اور ولا کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۔ ثَانِیَ عِطْفِہٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط لَہٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّنُذِیْقُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ (الحج : 8، 9)
(اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ (تکبر سے) گردن مروڑے ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ہم قیامت کے دن انھیں آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ )
مجادلین بےعقل اور امی محض تھے
اس آیت کا پہلا حصہ آیت تین میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی پیدائش اور نباتات کی تخلیق کے حوالے سے قیامت کا ثبوت پیش کرنے کے بعد یہ ثابت کردیا ہے کہ جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔
قیامت قائم کرنے کا مرکزی اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی ٹھیک ٹھیک سزا اور نیک لوگوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے۔ جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے۔ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کذب بیانی اور اس کے عدل و انصاف کا انکار کرتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے جھوٹے موقف پر اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہوئے بحث و تکرار کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →بعض مجادلین :
8: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ (اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑا کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق ایسی صفات اس کی طرف منسوب کرتے ہیں جو اس کے مناسب نہیں۔ یہ ابوجہل کے متعلق اتری۔
8۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) علم سے بد یہی جو معرفت الٰہی تک پہنچائے۔ وَّلَا ھُدًی (بغیر ہدایت و راہنمائی) اس سے استدلالی علم مراد ہے کیونکہ یہ معرفت کی طرف لے جانے والا ہے۔ وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ (اور بغیر روشن کتاب کے) اس سے مراد وحی ہے انسانی علوم انہی تین طریقوں پر حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →8۔ ومن الناس من یجادل فی اللہ ، ، اس سے مراد نضر بن حارث ہے۔ ولاھدی، وہ بیان جو معرفت الٰہیہ تک پہنچانے والا ہو ، ولاکتاب منیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
دلائل حشرو نشر :
5۔ 10:۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کا ذکر فرما کر یہاں اخیر رکوع تک دو دلیلیں حشر کی بیان فرمائی ہیں ‘ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اس نے پانی مٹی کا کام لے لیا ‘ اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ہے ‘ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بنایا جا کر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی۔
دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کہ حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8
یہ جھگڑا جس کا ذکر آیت نمبر 3 اور 4 میں بھی گزر چکا ہے سرکش شیطان کے مقلد کا جھگڑا ہے اور اسی کی خاطر ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا : (یجادل فی اللہ) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے (بغیر علم) بغیر کسی صحیح علم کے (ولا ھدی) وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھے لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ (ولا کتب منیر) ” اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…
Read the full tafseer →21 اللہ کے بارے میں جھگڑنے کی بدبختی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں "۔ اور وہ اس کی قدرت قاہرہ اور حکمت باہرہ سے متعلق طرح طرح کے سوالات اٹھاتے اور شکوک و شبہات پیدا و پیش کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان ظالموں کے باطن ایسے سیاہ ہوگئے کہ یہ اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے ایسے کھلے اور واضح مظاہر خود اپنی ذوات میں اور اپنے گرد و پیش میں پھیلی بکھری کائنات میں دیکھنے کے باوجود اسی وحدہ لاشریک کے حقوق و اختیارات اور اس کی ذات وصفات کے بارے میں جھگڑے کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مشرکین اگرچہ خداوند قدوس کے وجود اور اس کی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت
تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الحج :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔
کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 5 ۔ تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے اور جیسا کسی کا عمل ہو ویسا ہی اسے بدلہ دیا جائے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں۔ اوپر دوبارہ زندہ کئے جانے کے امکان پر دلائل قائم کئے۔ اب دوبارہ زندگی کے وقوع کی خبر دی اور یہ ظاہر ہے کہ کسی ممکن چیز کے وقوع کی ایک صادق مصدوق خبر دے تو اس کے وقوع میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ (کبیر)
6 ۔ یعنی اس کے پاس ضروری (بدیہی) علم سے کوئی دلیل ہے نہ نظر و استدلال سے اور نہ کوئی وحی ہی ہے جو خدا کی طرف سے کتاب کی شکل میں نازل کی گئی ہو بلکہ وہ محض اٹکل پچو اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ پہلی آیت میں شیاطین کے مقدارین کا حال بیان فرمایا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(22:6) ذلک۔ یعنی انسان کی تخلیق اور اس کے مختلف مدارج اور بنجر زمین کو خوشنما اور لہلہاتا سبزہ زار بنادینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(ف 1) شان نزول۔
یہ آیت ابوجہل وغیرہ ایک جماعت کفار کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں جھگڑا کرتے، اور اس کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ مشرک اللہ کی قدرتین آنکھوں سے دیکھ کر دوبارہ پیدائش کو جھٹلاتے ہیں اور حشر کا ذکر سن کر طرح طرح ایسی بےسند مکڑائی کی باتیں (فضول ) جو بناتے ہیں کہ جن باتوں کے سبب سے خود بھی گمراہی میں پھنستے ہیں اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ان کی یہ باتیں دنیا میں ان کو رسوا اور عقبی میں سخت عذاب کا سزا وار ٹھہراویں گی کیونکہ ظلم کے طور پر تو اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا نہیں چاہتا لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[10] یعنی اللہ کی بندگی تو کرتا ہے مگر دل کے جماؤ سے نہیں۔ اس کی حالت اس مذبذب آدمی کے مانند ہے جو کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آ ملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے کھسک جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
معرفت کے تین درجے :
(ف 1) معرفت کے تین درجے ہیں ، استقلال ، وجدان اور آسمانی کتاب ، یعنی یا تو انسان قوت غور وفکر سے حقائق تک پہنچ سکتا ہے ، یا پھر وجدان صحیح راہ نمائی کرتا ہے ، اور یا الہامی کتاب سے حقیقت کا پتہ چلتا ہے ، پہلا درجہ یقینی اور قطعی نہیں ۔ مگر اکثر حالات میں قابل اعتماد ہوتا ہے ، دوسرا درجہ اکثر غلط ہوتا ہے اور کم تر صحیح ، مگر جہاں صحیح ہوتا ہے وہاں یقین کا پہلو غالب ہوتا ہے ، بہت کم لوگ ہیں ، جنہیں فطرت سے وجدان صحیح سے حصہ ملا ہو ، تیسرا درجہ بالکل قطعی اور حتمی ہے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے جو لوگ اللہ کی صفات وقدرت کے متعلق شکوک و شبہات کا ذکر کرتے ہیں ان تینوں درجوں سے محروم…
Read the full tafseer →(8) اور لوگوں میں بعض شخص وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم و واقفیت اور بدون کسی دلیل اور بدون کسی روشن کتاب کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 7۔ یہ امور مذکورہ کی حکمت ہیں، یعنی ہم نے وہ تصرفات مذکورہ اس لئے ظاہر کئے کہ اس میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک حکمت اور غایت یہ تھی کہ ہم کو قیامت کا لانا اور مردوں کو زندہ کرنا منظور تھا، تو ان تصرفات سے ان کا امکان لوگوں پر ظاہر ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →جاہل ہیں ‘ علم کی روشنی موجود نہیں اور اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں :
8۔ مثل ہے کہ ” آنکھوں سے نظر نہ آئے نام نوربھری “ جہالت ہے کہ کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور علم نام کی شے موجود ہی نہیں اور جھگڑ رہے ہیں تو اللہ کی ذات میں گویا ایسا احمق کہ جس میں فہم و فراست نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں جس نے کسی جاننے والے سے پوچھ کر بھی اپنی جہالت کو بھی دور نہیں کیا اور ایسا بدنصیب ہے کہ کسی صحیفہ آسمانی کو کھول کر بھی نہیں دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے رسول ﷺ سے جھگڑا کرتا ہے ‘ کس ناطے سے ؟ اس کے پاس مال و دولت ہے ‘ اولاد ہے ‘ خاندان اور برادری ہے اس لئے وہ غرور اور نخوت سے اکڑ اکڑ کر چلتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
Different stages in the development of foetus in mother's womb
فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ (We created you from dust - 22:5.) This verse deals with the different stages through which the foetus passes in its mother's womb before taking a human form. There is a detailed hadith on this subject, which is reproduced in Sahih of Bukhari on the authority of Sayyidna Ibn Masud ؓ to the effect that the Holy Prophet ﷺ said, "Human matter retains its original form in the woman's womb for forty days after which it becomes a clot of blood. After a further period of forty days it becomes a lump of…
Read the full tafseer →10. That is, they are so proud, arrogant, obdurate and obstinate that they do not pay any heed to admonition.
11. Knowledge: That personal information which is gained directly through observation and experience.
12. Guidance: That information which is gained by reasoning or through another person who has knowledge.
13. Book with light: Source of information gained from divine revelation.
Read the full tafseer →