Ayahs 22:1–2آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لئے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کردیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کردیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چناچہ فرمایا : (ان زلزآ الس آپ شیء عظیم) ” بیشک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔ “ کوئی اس کا اندازہ کرسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔
جب قیامت واقع ہوگی تو زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائے گا، زمین میں زلزلہ آجائے گا، پہاڑ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور بھربھری ریت کے ٹیلوں کی شکل اختیار کرلیں گے، پھر غبار بن کر اڑ جائیں گے، پھر لوگ تین اقسام میں منقسم ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، ایسے خوفناک زلزلے آئیں گے کہ خوف کے مارے دل پھٹ جائیں گے، خوف سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور بڑی بڑی سخت چٹانیں پگھل جائیں گی۔
اس لئے فرمایا : (یوم ترونھا تذھل کل مرضآ عما ارضعت) ” جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی۔ “ حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے، خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا ہو (وتضع کل ذات حمل حملھا) یعنی شدت ہول اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ (وتری الناس کری وما ھم بسکری) یعنی اے دیکھنے والو ! تم سمجھو گے کہ لوگ شراب کے نشہ میں مدہوش ہیں، حالانکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے مدہوش نہ ہوں گے (ولکن عذاب اللہ شدید) ” بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا “ جس کی وجہ سے عقل ماری جائے گی، دل خالی ہو کر گھبراہٹ اور خوف سے لبریز ہوجائیں گے، دل اچھل کر حلق میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اس روز کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہوگا (یوم یفر المرء من اخیہ۔ وامہ و ابیہ۔ و صاحبتہ و بنیہ۔ لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ) (عبس : 08 /43۔ 73) ” اس روز بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، اپنی بیوی اور بیٹوں سے، اس روز ہر شخص ایک فکر میں مبتلا ہوگا جو اس کو دوسروں کے بارے میں بےپروا کر دے گی۔ “ وہاں (بعض الظالم علی یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا) (الفرقان : 52 /72۔ 82) ” ظالم مارے پشیمانی اور حسرت کے اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور پکار اٹھے گا، اے کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی ! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ “ اس وقت کچھ چہرے سیاہ پڑجائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ ترازوئیں نصب کردی جائیں گی جن میں ذرہ بھر نیکی اور بدی کا بھی وزن کیا جاسکے گا۔ اعمال نامے پھیلا دیئے جائیں گے اور ان کے اندر درج کئے ہوئے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سامنے ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط کو نصب کردیا جائے گا۔ جنت اہل تقویٰ کے قریب کردی جائے گی اور جہنم کو گمراہ لوگوں کے سامنے کردیا جائے گا (اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا وزفیرا۔ واذا القوا منھا مکانا ضیقا مقرنین دعوا ھنالک ثبورا) (الفرقان : 52 /21۔ 31) ” جب وہ جہنم کو دور سے دیکھیں گے تو اس کی غضبناک آواز اور اس کی پھنکار سنیں گے، اور جب ان کو جکڑ کر جہنم کی کسی تنگ جگہ میں پھینک دیا جائے گا تو وہاں اپنی موت کو پکارنے لگیں گے “ ان سے کہا جائے گا (لاتدعوا الیوم ثبورا واحدا و ادعوا ثبور اکثیرا) (الفرقان : 52/41) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کا پکارو۔ “ اور جب وہ اپنے رب کو پکاریں گے کہ وہ ان کو وہاں سے نکالے تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ (اخسؤ فیھا ولا تکلمون) (المومنون : 32 /801) ” دفع ہوجاؤ میرے سامنے سے پڑے رہو جہنم میں اور میرے ساتھ کلام نہ کرو “ رب رحیم کا غضب ان پر بھڑک اٹھے گا اور وہ ان کو درد ناک عذاب میں ڈال دے گا، وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا مل بھی مفقود نہیں ہوگا۔
یہ تو ہوگا کفار کا حال اور متقین کو جنت کے باغات میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے، جہاں جی چاہے گا وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ پس عقل مند شخص، جو جانتا ہے کہ یہ سب کچھ پیش آنے والا ہے تو اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اس کے لئے تیاری کر رکھے، مہلت اسے غفلت میں مبتلا نہ کر دے کہ وہ عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ تقویٰ الٰہی اس کا شعار، خوف الٰہی اس کا سرمایہ اور اللہ کی محبت اور اس کا ذکر اس کے اعمال کی روح ہو۔
Ayahs 22:3–4آیت 3
یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسولٓ کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہوجاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔
(کتب علیہ) ” لکھ دیا گیا ہے اس پر۔ “ یعنی اس سرکش شیطان کے لئے مقرر کردیا گیا ہے (انہ من تولاہ) کہ جو اس کی پیروی کرے گا (فانہ یضلہ) وہ اسے حق سے دور اور راہ راست سے بھٹکا دے گا (ویھدیہ الی عذاب السعیر) اور اسے جہنم کا راستہ دکھائے گا اور یہ یقیناً ابلیس کا نائب ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا : (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر) (فاطر : 53/6) ” وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لئے اپنی راہ پر بلا رہا ہے تاکہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہوجائیں۔ “ یہی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتا ہے، خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی وہ شخص ہے جو ہر سرکش شیطان کا مقلد ہے۔۔۔. اندھیرے ایک سے ایک بڑھ کر ہیں۔ اس گروہ میں اہل کفر اور اہل بدعت کی اکثریت شامل ہے کیونکہ ان کی اکثریت مقلدین پر مشتمل ہے جو بغیر علم کے جھگڑتی ہے۔
Ayahs 22:5–7آیت 5
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث) یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں جب کہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک کئے بغیر نہ رہ سکو تو تمہارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمہارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :
پہلی دلیل : انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، چناچہ فرمایا : (فانا خلقنکم میں تراب) ” ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ “ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابو البشر آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا (ثم من نطآ) یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے (ثم من علقٓ) ” پھر گاڑے خون سے۔ “ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ (ثم من مضغٓ) ” پھر لو تھڑے سے۔ “ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو (مخلقٓ) اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ (وغیر مخلقٓ) ” اور بےتصویر “ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہوجاتا ہے۔ (لنبین لکم) ” تاکہ ہم تمہارے سامنے تمہاری اصل تخلیق کو واضح کریں “ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کرسکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بےپایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔
(ونقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی) یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں، یعنی مدت حمل تک (ثم نخرجکم) پھر ہم تمہیں تمہاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں (طفلا) ” بچے کی صورت میں “ اس وقت تمہیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمہاری ماؤں کو تمہارے لئے مسخر کردیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمہارے لئے رزق جاری کردیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہوحتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔
(ومنکم من یتوفی) اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہایت کمزور ہوجاتا ہے، قویٰ فاسد ہوجاتے ہیں، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہوجاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑجاتے ہیں۔ (لکیلا یعلم من بعد علم شیا) یعنی۔۔۔. تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔
پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔
1۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔
2۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقص۔
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوٓ ثم جعل من بعد قوٓ ضعفا و شیبٓ یخلق ما یشاء و ھو العلیم القدیر ( الروم : 03 /45) ” اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمہیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔ “
دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چناچہ فرمایا : (وتری الارض ھامآ) ” اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔ “ یعنی خشک، چٹیل اور بےآب وگیاہ (فاذا انزلنا علیھا الماء اھتزت) ” پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔ “ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے (وربت) ” اور پھولتی ہے۔ “ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ (وانبتت من کل زوج) یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے (بھیج) یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں۔
(ذلک) یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرنا، اس لئے ہے کہ (بان اللہ ھو الحق) ” اللہ، وہی حق ہے۔ “ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے (وانہ یحی الموتی) ” اور وہ زندہ کرے گا مردوں کو۔ “ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کیا (وانہ علی کل شیء قدیر) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمہیں مشاہدہ کروایا۔
(وان الس آپ اتیٓ لا ریب فیھا) ” اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ “ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں (وان اللہ یبعث من فی القبور) ” اور اللہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ “ پھر تمہیں تمہارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
Ayahs 22:8–9آیت 8
یہ جھگڑا جس کا ذکر آیت نمبر 3 اور 4 میں بھی گزر چکا ہے سرکش شیطان کے مقلد کا جھگڑا ہے اور اسی کی خاطر ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا : (یجادل فی اللہ) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے (بغیر علم) بغیر کسی صحیح علم کے (ولا ھدی) وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھے لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ (ولا کتب منیر) ” اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔ “ لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ (وان الشیطین لیوحون الی اولیھم لیجادلوکم) (الانعام (6 /121) ” اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ جھگڑا کریں۔ “
اس کے ساتھ ساتھ (ثانی عطفہ) وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لئے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ (لیضل) ” تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے “ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفر و ضلالت آجاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لئے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لہ فی الدنیا خزی) یعنی وہ آخرت سے پہلے ، اس دنیا ہی میں رسوا ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ (ونذیقہ یوم القیمٓ عذاب الحریق) یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔
Ayah 22:10آیت 10
(ذلک) یعنی یہ دنیاوی اور اخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بعد کی طرف اشارہ کے لئے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ (بما قدمت یدک) یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ (وان اللہ لیس بظلام للعبید) اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔
اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
Ayahs 22:11–13آیت 11
یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ (فان اصابہ خیر اطمان بہ) یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچی، تو وہ ایمان پر نہیں، بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے۔۔۔. اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں۔
(وان اصابتہ فتنٓ) اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز اس سے چھن جاتی ہے (انقلب علی وجھہ) ” پھرجاتا ہے اپنے چہرے پر۔ “ یعنی اپنے دین سے پھرجاتا ہے۔ (خسر الدنیا والاخآ) ” خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت کا۔ “ دنیا میں خسارہ یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اور وہ عوض جس کے حاصل ہونے کا اسے یقین تھا حاصل نہ ہوا۔ پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ رہا آخرت کا خسارہ، تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اس پر حرام کردیا اور وہ جہنم کا مستحق ہوا۔ (ذلک ھو الخسران المبین) 160 اور یہ واضح اور کھلا خسارہ ہے۔
(یدعوا) ” پکارتا ہے۔ “ یعنی یہ مرتد (من دون اللہ مالا یضرہ و ما لا ینفعہ) اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لئے یا کسی اور کے لئے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ذلک ھو الضلل البعید) یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضہٓ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بےنیاز ہے اور بےنیاز کرنے والی ہے۔۔۔. اور اپنے جیسی یا پانے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لئے فرمایا : (یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ) ” وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ “ اس لئے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے (لبئس المولی) ” البتہ برا ہے والی۔ “ یعنی یہ معبود باطل (ولبئس العشیر) یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔
Ayahs 22:14–15آیت 14
جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنہوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
جنت کو ” جنت “ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ یہ خوبصورت منازل، محلوں، درختوں اور نباتات پر مشتمل ہے یہ درخت اور نباتات اپنی کثرت کے باعث ان لوگوں کو ڈھانپ لیں گے اور ان پر سایہ کناں ہوں گے جو اس میں داخل ہوں گے۔ (ان اللہ یفعل ما یرید) پس اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اسے بغیر کسی مانع اور معارض کے، کر گزرتا ہے۔ اس کا ایک ارادہ یہ ہے کہ وہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا۔۔۔. اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔
(51)
یعنی جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ٓ) کی مدد نہیں کرے گا اور اس کا دین عنقریب ختم ہوجائے گا تو بلا شبہ ومدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ (فلیمدد بسبب الی السمآء ثم لیقطع) ” پس وہ آسمان کی طرف رسی دراز کرے، پھر کاٹ دے۔ “ رسول اللہٓ سے اس مدد کو منقطع کر دکھائے۔ (فلینظر ھل یذھبن کیدہ) یعنی وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول اللہٓ کے خلاف چال چل سکتا ہے، آپ ﷺ کے خلاف جنگ برپا کرسکتا ہے، جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابطال کی خواہش رکھتا ہے وہ کیا چیز ہے جو دین کے ظہور پر اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرتی ہے۔۔۔. یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے یعنی وہ ان اسباب کے ذریعے سے اپنے غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کرسکتا۔
اس آیت مقدسہ کا معنیٰ یہ ہے، اے وہ شخص ! جو محمد رسول اللہٓ سے عداوت رکھتا ہے، جو آپ ﷺ کے دین کو مٹانے میں کوشاں ہے، جو اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش رنگ لائے گی، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو جو بھی اسباب اختیار کرلے، رسول (ٓ) کے خلاف کوئی بھی چال چل لے، اس سے تیرے غیظ و غضب اور تیرے دل کی بیماری کو شفا حاصل نہیں ہوگی۔ اس پر تجھے کوئی قدرت حاصل نہیں البتہ ہم تجھے ایک مشورہ دیتے ہیں جس سے تو اپنے دل کی آگ کو ٹھنڈا کرسکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہے کہ تو رسول (ٓ) سے اللہ کی مدد و نصرف کو منقطع کرسکتا ہے، تو معاملے میں صحیح راستے سے داخل ہو اور درست اسباب اختیار کر اور وہ یہ کہ کھجور وغیرہ کی چھال سے بٹی ہوئی رسی لے، پھر اسے آسمان پر لٹکا کر آسمان پر چڑھ جا اور ان دروازوں تک پہنچ جا جہاں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور ان دروازوں کو بند کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد منقطع کر دے۔ اس طریقے سے تیرے غیظ و غضب کو شفا حاصل ہوگی۔۔۔. بس یہ تجویز اور چال ہے اس طریقے کے علاوہ تیرے دل میں بھی یہ بات نہیں آنی چاہیے کہ تو اپنے غیظ و غضب سے چھٹکارا پاسکتا ہے خواہ مخلوق تیری مدد کے لئے کمر کیوں نہ باندھ لے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے دین، اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کے لئے فتح و نصرت کا جو وعدہ اور خوشخبری ہے، وہ مخفی نہیں اور کفار کے لئے مایوسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور خواہ وہ اس نور کو بجھانے کی امکان بھر کوشش کیوں نہ کرلیں۔
Ayah 22:16آیت 16
یعنی اسی طرح جب ہم نے اس قرآن عظیم میں تفاصیل بیان کی تو ہم نے اس کو آیات بینات بنایا جو تمام مطالب اور مسائل نافعہ پر دلالت کرتی ہیں، لیکن ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے قبضہٓ قدرت میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ اس قرآن کے ذریعے سے ہدایت پا لیتا ہے، وہ قرآن کو اپنا راہنما اور مقتدا بنا لیتا ہے اور قرآن کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ اور جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا اس کے پاس خواہ ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آجائے وہ کبھی ایمان نہیں لاتا، قرآن اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا بلکہ قرآن اس کے خلاف حجت بنے گا۔
Ayahs 22:17–24آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً اہل ایمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لئے فرمایا : (ان اللہ علی کل شیء شہید) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ھذن خصمن اختصموا فی ربھم) ” یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ (فالذین کفروا) یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ (قطعت لھم ثیاب من نار) یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہوگی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیر لے۔
(یصب من فوق رء وسھم الحمیم) یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ (ولھم مقامع من حدید) ” اور ان کے لئے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے۔ “ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔
فرمایا : (کلما ارادوا ان یخرجوا منھا من غم اعید و فیھا) ” جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے، تو وہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ “ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہوگا نہ ان کو مہلت دی جائے گی بلکہ زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا : (وذوقوا عذاب الحریق) یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔
(ان اللہ یدخل الذین امنو و عملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر) ” اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ “ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔ (یحلون فیھا من اسور من ذھب) یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے (ولباسھم فیھا حریر) ” اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہوگا۔ “ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہوجائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں، دودھ کی نہریں اور شراب کی نہریں، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔
یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہوگا کہ (وھدوا الی الطیب من القول) ” ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی۔ “ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمہ، اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ (وھدوا الی صراط الحمید) ” اور ان کی رہنمائی کی گئی صراط حمید کی طرف۔ “ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔
یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے۔ اس لئے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے، کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنا بریں وہ جنت میں کہیں گے : (الحمد للہ الذی ھدنا لھذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدنا اللہ) (الاعراف : 7/34) ” ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کیلئے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پاسکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔ “
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہٓ معترضہ کے طور پر اپنے لئے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔
(و کثیر حق علیہ العذاب) بہت سے لوگ ایسے ہیں، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا (ومن یھن اللہ فما لہ من مکرمہ) ” اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔ “ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کرسکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
Ayah 22:25آیت 25
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی برائی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (آپ) کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، لوگوں کو ایمان لانے سے منع کیا اور لوگوں کو مسجد حرام سے روکا، جو ان کی ملکیت ہے نہ ان کے باپ دادا کی۔ بلکہ مسجد حرام مقیم اور دور سے زیارت کے لئے آنے والوں کے لئے برابر ہے۔ بلکہ انہوں نے مخلوق میں افضل ترین ہستی محمدٓ اور آپ کے اصحاب کرام کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا، حالانکہ مسجد حرام کا احترام، حرمت اور عظمت یہ ہے کہ جو کوئی اس مسجد میں الحاد اور ظلم کا ارادہ کرتا ہے، ہم اسے درد ناک عذاب کا مزا چکھاتے ہیں۔ پس حرم میں مجرد ظلم اور الحاد کا ارادہ ہی عذاب کا موجب ہے، حالانکہ دیگر گناہوں میں بندے کو صرف اس وقت سزا ملتی ہے جب وہ اپنے ارادہٓ گناہ پر عمل کرتا ہے۔ تو اس شخص کا کیا حال ہوگا جو مسجد میں سب سے بڑے گناہ یعنی کفر اور شرک کا ارتکاب کرتا ہے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور زیارت کا ارادہ رکھنے والوں کو مسجد حرام سے روکتا ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کیا سلوک کریگا ؟
اس آیت کریمہ میں حرم کے احترام اور اس کی شدت تعظیم کے وجوب کا اور اس کا اندر ارادہٓ معصیت اور اس کے ارتکاب سے بچنے کی تاکید کا اثبات ہے۔
Ayahs 22:26–29آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذ بوانا لابرھیم مکان البیت) ” اور جب ہم نے مقرر کردی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کی جگہ۔ “ یعنی ہم نے ان کیلئے اسے مہیا کردیا، آپ کو وہاں رہنے کے لئے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نیز یہ کہ اپنے اعمال کو اللہ کے لئے خالص کریں اور اس مقصد گھر کی اللہ تعالیٰ کے نام پر بنیاد رکھیں۔
(وطھر بیتی) یعنی میرے گھر کو شرک، معاصی، نجاست اور گندگی سے پاک کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھرکو شرف اور فضیلت بخشنے، بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہر جانب سے دلوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لئے اپنی طرف مضاف کیا ہے تاکہ یہ طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، ذکر، قرٓت قرآن، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادت کے لئے ٹھہرنے والوں کے لئے رب تعالیٰ کا گھر ہونے کے ناطے سے اپنی تطہیر اور تعظیم کے لئے عظیم ترین گھر ہو۔
(والرکع السجود) ” اور رکوع سجود کرنے والوں کے لئے۔ “ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لئے، یعنی اس گھر کو ان اصحاب فضیلت کے لئے پاک کیجئے جن کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے پاس اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی خدمت کریں، نیز اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہی لوگ حقدار ہیں اور انہیں کے لئے اکرام ہے۔ ان کا اکرام یہ ہے کہ ان کی خاطر اس گھر کی تطہیر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی تطہیر میں لغو آوازوں اور شوروشغب سے اس کا پاک صاف ہونا بھی شامل ہے جو نماز اور طواف میں مصروف لوگوں کو تشویش میں ڈالتی ہیں۔
طواف کو اعتکاف اور نماز پر اس لئے مقدم رکھا ہے کیونکہ طواف صرف اسی گھر کے ساتھ مختص ہے اور پھر اعتکاف کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام مساجد سے مختص ہے۔
(واذن فی الناس بالحج) یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجئے اور ان کو حج کی دعوت دیجئے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجئے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے (وعلی کل ضامر) لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے (من کل فج عمیق) ” دور دراز کی تمام راہوں سے۔ “ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔
حضرت خلیل (علیہ السلام) نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفیٓ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہوگیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا۔۔۔. اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لئے پہنچے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ترغیب کی خاطر ان فوائد کا ذکر فرمایا جو بیت اللہ کی زیارت سے حاصل ہوتے ہیں، چناچہ فرمایا : (لیشھد و منافع لھم) تاکہ بیت اللہ میں دینی منافع، یعنی فضیلت والی عبادات اور ان عبادات کا ثواب حاصل کریں جو اس گھر کے سوا کہیں اور نہیں کی جاسکتیں اور دنیاوی منفعتیں، یعنی اکتساب مال اور دنیاوی فوائد حاصل کریں۔ یہ مشاہدہ میں آنے والا ایسا امر ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔
(ویذکرو اسم اللہ فی ایام معلومت علی ما رزقھم من بھیمٓ الانعام) ” اور اللہ کا نام یاد کریں پالتو چوپایوں پر جو اللہ نے ان کو دیئے۔ “ اور یہ چیز دینی اور دنیاوی منافع میں شمار ہوتی ہے، یعنی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے، کہ اس نے یہ قربانیاں عطا فرمائیں اور ان کے لئے یہ قربانیاں میسر کیں۔۔۔. ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں اور جب تم ان کو ذبح کرچکو (فکلوا منھا و اطعموا البائس الفقیر) ” تو خود بھی اس میں سے کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔ “ یعنی اسے بھی کھلاؤ جو سخت محتاج ہو۔
(ثم لیضوا تفثھم) ” پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں۔ “ یعنی اپنے مناسک پورے کریں اور پھر اپنے جسم سے وہ میل کچیل دور کریں جو حالت احرام میں ان کو لاحق ہوگیا تھا (ولیوفوا نذورھم) اور اپنی نذروں کو پورا کریں جو انہوں نے اپنے آپ پر واجب کی تھیں، یعنی حج، عمرہ اور ہدی وغیرہ (ولیطوفوا بالبیت العتیق) یعنی اللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں جو علی الاطلاق تمام مساجد میں سب سے افضل ہے اور ہر جابر و سرکش کے تسلط سے آزاد ہے۔
یہ طواف کا حکم ہے، تمام مناسک کا عمومی حکم دینے کے بعد اس کے فضل و شرف کی بنا پر یہ خصوصی حکم ہے کیونکہ یہ بالذات مقصود ہے اور اس سے قبل تمام امور اس مقصد کے حصول کے وسائل اور ذرائع ہیں۔ اور شاید۔۔۔. واللہ اعلم۔۔۔. اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ ہے کہ طواف ہر وقت اور ہر آن مشروع ہے خواہ یہ طواف مناسک حج کے تابع ہو یا بنفسہ مستقل حیثیت کا حامل ہو۔
Ayahs 22:30–31آیت 30
(ذلک) یعنی وہ احکام جن کا ہم تمہارے سامنے ذکر کرچکے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم، توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقریب کا ذریعہ ہیں۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بےپایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لئے بہتر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور اور وہ تمام عبادات جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ پس ان کی تعظیم یہ ہے کہ دل سے ان کی توقیر اور ان کے ساتھ محبت کی جائے اور کسی تحقیر، سستی اور بےدلی کے بغیر ان میں عبودیت کی تکمیل کی جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی نوازشات کا ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے چوپایوں میں سے مویشی حلال کردیئے، مثلاً اونٹ، گائے اور بھیڑبکری وغیرہ اور ان کو ان جملہ مناسک میں مشروع کیا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ پس ان دونوں پہلوؤں سے ان میں اللہ تعالیٰ کی عنایت بہت عظیم ہوگئی ہے۔ (الا ما یتلی علیکم) ” سوائے ان جانوروں کے جن کی تلاوت تم پر کی جاتی ہے۔ “ یعنی جن کی تحریم قرآن مجید میں بایں الفاظ ہے۔ (حرمت علیکم المیتٓ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنآ و الموقوذٓ و المتردیٓ و النطیحٓ وما اکل السبع الا ما ذکیتم وما ذبح علی النصب) (الماء آ : 5/3) ” حرام کردیا گیا تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مرجائے، جو چوٹ لگ کر مرجائے، جو سینگ لگ کر مرجائے اور جس کو درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو اور وہ جانور جن کو ساتھ انوں پر ذبح کیا جائے۔ “
یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ اس نے ان چیزوں کو ان کے تزکیہ کے لئے اور شرک اور جھوٹی بات سے تطہیر کی خاطر حرام قرار دیا ہے۔ بناء بریں فرمایا : (فاجتنبوا الرجس) یعنی خبث اور گندگی سے اجتناب کرو۔ (من الاوثان) ” یعنی بتوں سے “ یعنی ہمسروں سے، جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا رکھا ہے، یہ معبود ان باطل سب سے بڑی گندگی ہیں۔ ظاہر ہے یہاں حرف جار (من) بیان جنس کے لئے نہیں ہے، جیسا کہ اکثر مفسرین کی رائے ہے بلکہ یہ تبعیض کے لئے ہے اور (رجس) تمام منہیات محرمات کے لئے عام ہے تب یہ نہی عام ہے اور بتوں کی گندگی سے اجتناب کا حکم خاص ہے، جو حرام شدہ منہیات ہی کا حصہ ہے (واجتنبوا قول الزور) یعنی تمام حرام شدہ اقوال سے اجتناب کرو کیونکہ یہ سب جھوٹی کلام میں شمار ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ (حنفاء للہ) اللہ تعالیٰ کے لئے یکسور ہیں یعنی ہر ماسوا سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں۔ (ومن یشرک باللہ) ” اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ “ اس کی مثال ایسے ہے۔ (فکانما خر من السماء) جیسے کہ وہ آسمان سے گرپڑا ہو۔ (فتخطفہ الطیر) ” پس پرندوں نے اسے اچک لیا ہو “ نہایت سرعت سے (اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق) ” یا ہوا اسے کہیں دور لے جا کر پھینک دے۔ “ یہی حال مشرکین کا ہے۔ پس ایمان آسمان کی مانند محفوظ اور بلند ہے اور جس نے ایمان کو ترک کردیا وہ اس چیز کی مانند ہے جو آسمان سے گرے اور آفات و بلیات کا شکار ہوجائے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں اور اس کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے ہیں۔ مشرک کا یہی حال ہے جب وہ ایمان کو ترک کردیتا ہے تو شیاطین ہر جانب سے اسے اچک لیتے ہیں، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اور اس کا دین اور دنیا تباہ کردیتے ہیں۔۔۔. یا اسے سخت تیز ہوا لے اڑتی ہے اور سے فضا کے مختلف طبقات میں لئے پھرتی ہے اور اس کے اعضاء کے چیتھڑے بنا کر کہیں دور جا پھینکتی ہے۔
Ayahs 22:32–33آیت 32
یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمہارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں۔ انہی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان الصفا و المروٓ من شعآئر اللہ) (البقآ : 2 /851) ” صفا اور مردہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ “ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ پس ان کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر کرنا ان کو اچھا جاننا اور ان کو موٹا کرنا ہے، نیز یہ کہ قربانی کے یہ جانور ہر لحاظ سے کامل ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، دلوں کے تقویٰ سے صادر ہوتی ہے۔ پس شعائر کی تعظیم کرنے والا اپنے تقویٰ اور صحت ایمان کی دلیل پیش کرتا ہے، اس لئے کہ شعائر کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و ترقیر کے تابع ہے۔
(لکم فیھا) ” تمہارے لئے ان میں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کو بھیجی گئی قربانیوں میں (منافع الی اجل مسمی) ” ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں۔ “ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے اونٹوں وغیرہ میں ایک مدت کے لئے چند فوائد ہیں جن سے ان کے مالک استفادہ کرسکتے ہیں مثلاً ان پر سوار ہونا اور ان کے دودھ دوہنا وغیرہ اور ایسے ہی بعض دیگر کام، جن سے ان قربانیوں کو ضرر نہ پہنچے۔ (الی اجل مسمی) یعنی ان کے ذبح ہونے کے وقت تک فوائد ہیں۔ جب وہ مقام مقصود پر پہنچ جائیں اور وہ (البیست العتیق) ” بیت اللہ “ ہے، یعنی سارا حرم، منیٰ وغیرہ۔ پس جب ان کو ذبح کردیا جائے، تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، ہدیہ بھیجو اور محتاجوں کو کھلاؤ۔
Ayahs 22:34–35آیت 34
ہم نے گزشتہ تمام قوموں کیلئے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھوتا کہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لئے فرمایا : (لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم من بھیمٓ الانعام فالکھم الہ واحد) اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہنا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کردینا، اس لئے فرمایا : (فلہ اسلموا) یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرو، اس کے سوا کسی کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اس کی اطاعت ہی سلامتی کے گھر تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ (وبشر المخبتین) یعنی عاجزی کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی خوشخبری دو (المخبت) سے مراد اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرنے والا، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا اور اس کے بندوں کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آنے والا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا : (الذین اذاذکر اللہ وجلت قلوبھم) ” وہ لوگ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور صرف اس کے خوف ہی کی بنا پر محرمات کو ترک کردیتے ہیں (والصبرین علی ما اصابھم) ان پر جو مصیبتیں اور سختیاں آتی ہیں اور انہیں جن مختلف اقسام کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان پر صبر کرتے ہیں، ان میں سے کسی چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ناراضی کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ اپنے رب کی رضا کے حصول کی خاطر صبر کرتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی امید رکھتے ہیں۔
(والمقیمی الصلوٓ) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو کامل اور درست طریقے سے قائم کرتے ہیں، یعنی وہ اس کی ظاہری اور باطنی عبودیت اور اس کے تمام فرائض و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ (ومما رزقنھم ینفقون) ” اور جو ہمنے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ “ یہ تمام نفقات واجبہ، مثلاً زکوٰٓ، کفارات، بیویوں، غلاموں اور اقارب پر خرچ کرنا اور تمام نفقات مستحبہ، جیسے تمام قسم کے صدقات ہیں، کو شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حرف جار (من) کا استعمال کیا ہے جو تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے، اس میں سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے رغبت کرے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے، یہ اس کا بہت معمولی حصہ ہے، اس رزق کے حصول میں بندے کی قدرت کو کوئی دخل نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے حصول کو آسان نہ بناتا اور اس کو عطا نہ کرتا تو بندہ اسے حاصل نہ کرسکتا۔۔۔. پس اے وہ شخص ! جس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوازا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خرچ کر، اللہ تعالیٰ تجھ پر خرچ کریگا اور اپنے فضل سے تیرے رزق میں اضافہ کرے گا۔