22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة الحج تعارف اس سورت کا کچھ حصہ مدنی ہے، اور کچھ مکی۔ مطلب یہ ہے کہ اس سورت کا نزول مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے شروع ہوچکا تھا، اور تکمیل ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی۔ اسی سورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ حج کی عبادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں کس طرح شرو ع ہوئی، اور اس کے بنیادی ارکان کیا ہیں ؟ اسی وجہ سے اس کا نام سورة حج ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشرکین نے مسلمانوں کو طرح طرح کے ظلم کا نشانہ بنایا تھا، وہاں مسلمانوں کو صبر کی تلقین کی جاتی تھی، لیکن مدینہ منورہ آنے کے بعد اسی سورت میں پہلی بار مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم کے مقابلے میں جہاد کی اجازت دی گئی، اور فرمایا گیا کہ جن کافروں نے مسلمانوں پر ظلم کر کے انہیں اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے، اب مسلمان ان کے خلاف تلوار اٹھاسکتے ہیں۔ اس طرح جہاد کو ایک عبادت قرار دے کر یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ نہ صرف اس کا ثواب آخرت میں ملے گا، بلکہ دنیا میں بھی مسلمانوں کو انشاء اللہ فتح نصیب ہوگی۔ اس کے علاوہ اسلام کے بنیادی عقائد بھی بیان کیے گئے ہیں۔ چنانچہ سورت کا آغاز آخرت کے بیان سے ہوا ہے جس میں قیامت کا ہولناک منظر بڑے موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

Ayahs 22:1–5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار (کے غضب) سے ڈرو۔ یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں نظر آجائے گا اس دن ہر دودھ پلانے والی اس بچے (تک) کو بھول بیٹھے گی، جس کو اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا بیٹھے گی، اور لوگ تمہیں یوں نظر آئیں گے کہ وہ نشے میں بدحواس ہیں، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بےجانے بوجھے جھگڑے کرتے ہیں، اور اس سرکش شیطان کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے مقدر میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اسے دوست بنائے گا تو وہ اس کو گمراہ کرے گا، اور اسے بھڑکتی دوزخ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ (1) پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا (2) تاکہ ہم تمہارے لیے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم (تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر (تمہیں پالتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دنیا سے اٹھالیے جاتے ہیں اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ (3) اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔ (4)

1: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہیں، ان سے کہا جارہا ہے کہ خود اپنی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کس حیرت انگیز طریقے پر کتنے مرحلوں سے گزار کر تمہیں پیدا فرمایا تھا۔ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں وجود بخشا، تم میں جان نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے تم میں جان ڈالی۔ جس ذات نے اس حیرت انگیز طریقے سے تمہیں ا سوقت پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے تو کیا وہ تمہیں مردہ لاش بننے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ؟ 2: یعنی بعض اوقات تو اس گوشت کے لوتھڑے سے ماں کے پیٹ میں بچے کے اعضاء پورے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات پورے نہیں بنتے۔ پھر بعض اوقات اسی نامکمل حالت میں عورت کو اسقاط ہوجاتا ہے اور بعض اوقات بچہ ناقص اعضاء کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ 3: یعنی زیادہ بڑھاپے کی حالت میں انسان بچپن کی سی ناسمجھی کی طرف لوٹ جاتا ہے اور جوانی میں اس نے کتنا علم حاصل کیا ہو، اس بڑھاپے میں وہ سب یا اکثر حصہ بھول جاتا ہے۔ 4: یہ دوبارہ زندگی دینے کی دوسری دلیل ہے، اور وہ یہ کہ زمین جب خشک ہوتی ہے تو اس میں زندگی کے آثار ختم ہوجاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس میں زندگی کی نئی لہر دوڑا دیتا ہے، اور اسی بےجان زمین سے پودے اگنے لگتے ہیں۔ جو خدا اس پر قادر ہے، کیا وہ تمہیں دوبارہ زندگی دینے پر قادر نہیں ؟
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی کا وجود برحق ہے، (5) اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے، اور وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

5: مطلب یہ ہے کہ تمہاری اپنی تخلیق ہو یا زمین سے پودے اگانے کا معاملہ، ان ساری باتوں کی اصلی علت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کا وجود ایسا ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور باقی ساری چیزیں اسی کی قدرت سے وجود میں آتی ہیں۔ لہذا وہ مردوں کو زندہ کرنے کی بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 22:7

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور اس لیے کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، جس میں کوئی شک نہیں ہے، اور اس لیے کہ اللہ ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔ (6)

6: انسان کی جس پیدائش کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، وہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرسکتا ہے، اور دوسری طرف اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں پیدا کیا گیا ہے، ان کی پیدائش ہی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انہیں ایک اور زندگی دی جائے، کیونکہ اگر دوسری زندگی نہ ہو تو دنیا میں نیکی کرنے والے اور بدی کرنے والے، ظالم اور مظلوم سب برابر ہوجائیں گے، اور اللہ تعالیٰ ایسی ناانصافی کے لیے انسانوں کو پیدا نہیں کرسکتا کہ جو چاہے دوسروں پر ظلم کرتا رہے، یا گناہوں کا طومار لگا دے، اور اسے اپنے عمل کی کوئی سزا نہ ملے، اور اسی طرح دنیا میں کوئی شخص کتنی پاکباز زندگی گذارے، اس کو کوئی انعام نہ ملے، لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ جب انسانوں کو دنیا میں پیدا کیا ہے تو آخرت میں انہیں دوسری زندگی دے کر انہیں انعام یا سزا ضرور دے۔
Ayahs 22:8–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑے کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے نہ ہدایت، اور نہ کوئی روشنی دینے والی کتاب۔

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(کہ) یہ سب کچھ تیرے اس کرتوت کا بدلہ ہے جو تو نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم ڈھانے والا نہیں ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر اسے (دنیا میں) کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آگئی تو وہ منہ موڑ کر (پھر کفر کی طرف) چل دیتا ہے۔ (7) ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی، اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔

7: آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کچھ لوگ اس لالچ میں اسلام لائے کہ اسلام کی وجہ سے انہیں دنیا میں کچھ فوائد حاصل ہوں گے ؛ لیکن جب ان کی توقع پوری نہیں ہوئی ؛ بلکہ کوئی آزمائش آگئی تو دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، یہ آیت ان کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ یہ لوگ حق کو حق ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے ؛ بلکہ دنیا کے مفادات کی خاطر قبول کرتے ہیں، اور ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی جنگ میں اس نیت سے ایک کنارے کھڑا ہوگیا ہو کہ دونوں لشکروں میں سے جس کا پلہ بھاری نظر آئے گا اسکے ساتھ ہوجاؤں گا ؛ تاکہ کچھ مفادات حاصل کرسکوں، سبق یہ دیا گیا ہے کہ اسلام پر عمل اس لالچ میں نہ کرو کہ اس دنیا ہی میں تمہیں کوئی فائدہ مل جائے گا ؛ بلکہ اس لئے کرو کہ وہ برحق ہے، اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کا تقاضا یہی ہے، جہاں تک دنیا کے مفادات کا تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ مشیت ہے کہ کس کو کیا دیا جائے ؛ چنانچہ اسلام لانے کے بعد دنیوی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور کوئی آز مائش بھی آسکتی ہے جس میں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ مصیبت دور فرما کر آزمائش سے نکال دے۔
Ayahs 22:12–13

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

یہ ایسے (جھوٹے خدا) کو پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ قریب ہے۔ (8) ایسا مددگار بھی کتنا برا ہے، اور ایسا ساتھی بھی کتنا برا۔ (9)

8: اصل میں ان جھوٹے خداؤں میں خود تو نہ کوئی فائدہ پہنچانے کی طاقت ہے، نہ نقصان پہنچانے کی۔ البتہ یہ نقصان پہنچنے کا سبب بن سکتے ہیں، اور وہ اس طرح کہ جو شخص انہیں اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک مانے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کا مستحق ہوگا۔ 9: جس کا نقصان فائدے سے زیادہ ہو، وہ نہ مددگار بنانے کے لائق ہے اور نہ ساتھی بنانے کے لائق۔ لہذا ان بتوں سے امیدیں لگانا حماقت کے سوا کچھ نہیں
Ayahs 22:14–15

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ یقینا ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یقینا اللہ ہر وہ کام کرتا ہے جس کا ارادہ کرلیتا ہے۔

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ سمجھتا تھا کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس (پیغمبر) کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کی جھنجلاہٹ دور کرسکتی ہے ؟ (10)

10: رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالنے کے ایک معنی تو عربی محاورے کے مطابق پھانسی دے کر گلا گھونٹنے کے ہوتے ہیں۔ اگر یہاں یہ معنی لیے جائیں، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہیں، تو اس صورت میں آسمان سے مراد اوپر کی سمت یعنی چھت ہوگی، اور آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص جس کا خیال یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، اس کا یہ خیال نہ پورا ہوا ہے، نہ ہوگا۔ اس پر اگر اسے غصہ اور جھنجھلاہٹ ہے تو وہ چھت کی طرف ایک رسی تان کر اپنے آپ کو پھانسی دے، اور اپنا گلا گھونٹ لے۔ اور آسمان تک رسی تان کر رابطہ کاٹ لینے کی ایک دوسری تشریح حضرت جابر بن زید سے منقول ہے، اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کو جو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، ان کا سر چشمہ وہ وحی ہے جو آپ پر آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اب اگر کسی شخص کو ان کامیابیوں پر غم و غصہ ہے، اور وہ ان کامیابیوں کا راستہ روکنا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی رسی تان کر آسمان تک جائے، اور وہاں سے آنحضرت ﷺ کا وہ رابطہ کاٹ دے جس کے ذریعے آپ پر وحی آرہی ہے، اور کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات کسی کے بس میں نہیں ہے، اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکتا (روح المعانی)
Ayahs 22:16–18

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو کھلی کھلی نشانیوں کی صورت میں اسی طرح اتارا ہے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

بلاشبہ مومن ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا نصرانی اور مجوسی، یا وہ جنہوں نے شرک اختیار کیا ہے، اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے آگے وہ سب سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں۔ (11) نیز سورج اور چاند، اور ستارے اور پہاڑ، اور درخت اور جانور، اور بہت سے انسان بھی۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر عذاب طے ہوچکا ہے۔ اور جسے اللہ ذلیل کردے، کوئی نہیں ہے جو اسے عزت دے سکے۔ یقینا اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

11: ان مخلوقات کے سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہیں، اور ہر چیز اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، نیز اس سے عبادت کا سجدہ بھی مراد ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ اتنی سمجھ کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، البتہ ہر چیز کے سجدے کی صورت مختلف ہے، اس پوری کائنات میں انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے تمام افراد عبادت کا سجدہ نہیں کرتے ؛ بلکہ بہت سے کرتے ہیں بعض نہیں کرتے اس لئے انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ بہت سے انسان بھی۔ یاد رہے کہ یہ سجدہ کی آیت ہے، جو شخص اصل عربی میں یہ آیت تلاوت کرے یا سنے اس پر سجدہ واجب ہے۔
Ayahs 22:19–25

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ (مومن اور کافر) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ہے۔ اب (اس کا فیصلہ اس طرح ہوگا کہ) جن لوگوں نے کفر اپنا یا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی چھوڑا جائے گا۔

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب کبھی تکلیف سے تنگ آکر وہ اس سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں پھر اسی میں لوٹا دیا جائے گا، کہ چکھو جلتی آگ کا مزہ۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے سجایا جائے گا، اور جہاں ان کا لباس ریشم ہوگا۔

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور (وجہ یہ ہے کہ) ان لوگوں کی رسائی پاکیزہ بات (یعنی کلمہ توحید) تک ہوگئی تھی، اور وہ اس خدا کے راستے تک پہنچ گئے تھے جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ (سزا کے لائق ہیں) جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے اور جو دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے ایسا بنایا ہے کہ اس میں وہاں کے باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ (12) اور جو کوئی شخص اس میں ظلم کر کے ٹیڑھی راہ نکالے گا، (13) ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

12: مسجد حرام اور اس کے آس پاس کے وہ مقامات جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں، مثلا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جگہ، منی، عرفات اور مزدلفہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وقف عام ہیں، اور ان کو عبادت کے لیے استعمال کرنے میں مقامی باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ 13: ٹیڑھی راہ نکالنے سے مراد کفر و شرک حرم کے احکام کی خلاف ورزی، بلکہ ہر قسم کا گناہ ہے۔ حرم میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ یہاں گناہوں کا وبال بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر (یعنی خانہ کعبہ) کی جگہ بتادی تھی۔ (14) (اور یہ ہدایت دی تھی کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک رکھنا جو (یہاں) طواف کریں، اور عبادت کے لیے کھڑے ہوں، اور رکوع سجدے بجا لائیں۔

14: جیسا کہ سورة بقرہ : 127 میں گذر چکا ہے، بیت اللہ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے تعمیر ہو کر منہدم ہوگیا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ جگہ بتائی جہاں بیت اللہ کو دوبارہ تعمیر کرنا منظور تھا۔
Ayahs 22:27–28

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ وہ ان فوائد کو آنکھوں سے دیکھیں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور متعین دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کیے ہیں۔ (15) چنانچہ (مسلمانو) ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاؤ۔

15: حج کے کاموں میں ایک اہم کام جانوروں کی قربانی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر انہیں ذبح کیا جائے۔ یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر (حج کرنے والے) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی منتیں پوری کریں، اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔ (16)

16: حج کے دوران انسان احرام میں ہوتا ہے تو اس کے لیے بال کاٹنا اور ناخن تراشنا جائز نہیں رہتا۔ یہ پابندیاں اس وقت ختم ہوتی ہیں جب وہ حج کی قربانی سے فارغ ہوجائے۔ چنانچہ یہاں میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حج کرنے والے قربانی کے بعد جسم کے بال اور ناخن کاٹ سکتے ہیں۔ اور منتیں پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ واجب قربانی کے علاوہ بہت سے حضرات یہ منتیں مان لیا کرتے تھے کہ حج کے موقع پر ہم اپنی طرف سے بھی قربانی کریں گے۔ اس کے بعد بیت اللہ شریف کے جس طواف کا ذکر ہے، اس سے مراد طواف زیارت ہے۔ یہ طواف عام طور پر قربانی اور سر منڈانے کے بعد کیا جاتا ہے اور حج کا اہم رکن ہے۔ بیت اللہ کو یہاں بیت عتیق کہا گیا ہے۔ اس کے ایک معنی تو قدیم کے ہیں۔ یعنی یہ اس معنی میں قدیم ترین گھر ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا گھر ہے جو عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا۔ اور اس کے ایک معنی ”آزاد“ کے بھی ہیں۔ اور ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اسے آزاد کہنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظالموں کے قبضہ کرلینے سے آزاد رکھا ہے۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے گا جن کو اللہ نے حرمت دی ہے تو اس کے حق میں یہ عمل اس کے پروردگار کے نزدیک بہت بہتر ہے۔ سارے مویشی تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں، سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل تمہیں پڑھ کر سنا دی گئی ہے۔ (17) لہذا بتوں کی گندگی اور جھوٹٰ بات سے اس طرح بچ کر رہو۔

17: جانوروں کی قربانی کا ذکر آیا تو مشرکین عرب کی اس جاہلانہ رسم کی بھی تردید کردی گئی جس کی رو سے انہوں نے بتوں کے نام پر بہت سے جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة انعام : 137 تا 144) چنانچہ یہ بتادیا گیا کہ یہ سب چوپائے تمہارے لیے حلال ہیں، سوائے ان چیزوں کے جنہیں قرآن کریم نے سورة مائدہ :3 میں حرام قرار دیا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ جس بنیاد پر مشرکین ان جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے، یعنی بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ماننا اور ان کے نام پر جانوروں کو چھوڑ دینا، اس بنیاد کو بھی یہ فرما کر ختم کردیا گیا ہے کہ بتوں کی گندگی سے اور جھوٹی باتوں سے بچو۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

کہ تم یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانتے ہو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں، یا ہوا اسے کہیں دور دراز کی جگہ لا پھینکے۔ (18)

18: اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی مثال آسمان کی سی ہے۔ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے، وہ ایمان کے بلند مقام سے نیچے گرپڑتا ہے۔ پھر پرندوں کے اچک لے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اسے راہ راست سے بھٹکا کر ادھر ادھر لیے پھرتی ہیں، اور ہوا کے دور دراز پھینک دینے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان اسے مزید گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ایسا شخص ایمان کے بلند مقام سے نیچے گر کر اپنی نفسانی خواہشات اور شیاطین کا غلام بن بیٹھتا ہے جو اسے گمراہی کی انتہا تک پہنچا دیتے ہیں۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔ (19)

19: شعائر کے معنی ہیں وہ علامتیں جن کو دیکھ کر کوئی دوسری چیز یاد آئے۔ اللہ تعالیٰ نے جو عبادتیں واجب قرار دی ہیں، اور خاص طور پر جن مقامات پر حج کی عبادت مقرر فرمائی ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر میں داخل ہیں، اور ان کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تمہیں ایک معین وقت تک ان (جانوروں سے) فوائد حاصل کرنے کا حق ہے۔ (20) پھر ان کے حلال ہونے کی منزل اسی قدیم گھر (یعنی خانہ کعبہ) کے آس پاس ہے۔

20: یعنی جب تک تم نے ان جانوروں کو حج کی قربانی کے لیے خاص نہ کرلیا ہو، اس وقت تک تم ان سے ہر طرح کے فوائد حاصل کرسکتے ہو، ان پر سواری کرنا بھی جائز ہے، ان کا دودھ پینا بھی ان کے جسم سے اون حاصل کرنا بھی، لیکن جب انہیں حج کے لیے خاص کرلیا گیا تو پھر ان میں سے کوئی کام جائز نہیں رہتا۔ اس کے بعد تو انہیں بیت اللہ کے آس پاس یعنی حدود حرم میں ذبح کر کے حلال کرنا ہی واجب ہے۔ اور حج کے لیے خاص کرنے کی مختلف علامتیں ہیں جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔
Ayahs 22:34–36

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ لہذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ تم اسی کی فرمانبرداری کرو، اور خوشخبردی سنا دو ان لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دلوں پر رعب طاری ہوجاتا ہے، اور جو اپنے اوپر پڑنے والی ہر مصیبت پر صبر کرنے والے ہیں، اور نماز قائم کرنے والے ہیں، اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں۔

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے۔ چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں، ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب (ذبح ہوکر) ان کے پہلو زمین پر گرجائیں تو ان (کے گوشت) میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو صبر سے بیٹھے ہوں، اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں۔ (21) اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنادیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

21: یہاں قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرمائے ہیں، ایک قانع، جس کا مطلب ہے وہ شخص جو حاجت مند تو ہے لیکن اپنی حاجت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، بلکہ صبر کیے بیٹھا ہے اور دوسرا معتر، جس کا مطلب وہ شخص ہے جو اپنی حاجت اپنے کسی قول یا فعل سے ظاہر کردے۔
Ayahs 22:37–38

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے، اس نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دئیے ہیں تاکہ تم اس بات پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی، اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں، انہیں خوشخبری سنا دو۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کا دفاع کرے گا جو ایمان لے آئے ہیں، (22) یقین جانو کہ اللہ کسی دغا باز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔

22: مکہ مکرمہ میں کافروں کی طرف سے مسلمانوں پر جو ظلم توڑے جارہے تھے، شروع میں قرآن کریم ہی نے انہیں بار بار صبر سے کام لینے کا حکم دیا تھا، اب اس آیت میں یہ تسلی دی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ صبر آزما مرحلہ اب ختم ہونے والا ہے اور وقت آگیا ہے کہ ان ظالموں کے ظلم کا جواب دیا جائے ؛ چنانچہ اگلی آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے ؛ لیکن اس سے پہلے یہ خوشخبری دے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کا دفاع کرے گا اس لئے وہ اب بےخوف ہو کر لڑیں اور وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے لڑائی ہونی ہے وہ دغا باز اور ناشکرے لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، اس لئے وہ ان کے خلاف مسلمانوں ہی کی مدد کرے گا۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، (23) اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔

23: مکہ مکرمہ میں تیرا سال تک صبر وضبط کی تلقین کے بعد یہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کافروں کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی، اس سے پہلے مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم کا کوئی جواب دینے کی اجازت نہیں تھی ؛ بلکہ ہر زیادتی پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ (24) اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔

24: اس آیت میں جہاد کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے اور وہ یہ کہ جتنے انبیاء کرام (علیہم السلام) دنیا میں آئے ہیں، اپنے اپنے وقت میں انہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تعلیم دی، اور اس کے لئے عبادت گا ہیں بنائیں، حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت میں اس کام کے لئے خانقاہیں اور کلیسا بنائے گئے جنہیں عربی میں صومعہ اور بیعہ کہا جاتا ہے، حضرت موسیٰ ؑ کے پیرؤوں نے جو عبادت گا ہیں بنائیں ان کو صلوات کہا گیا ہے اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو مسجد کہا جاتا ہے، جو لوگ ان آسمانی مذاہب کے مخالف تھے وہ ان عبادت گاہوں کو مٹانے کے درپے رہے، اگر ان کے خلاف جہاد کی اجازت نہ ہوتی تو وہ ان عبادت گاہوں کو مسمار کر ڈالتے۔