22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsآسان قرآن

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، (25) اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔

25: مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں حکومت قائم کرنے اور کافروں کے خلاف لڑائی میں ان کی مدد کرنے کا مقصد اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ زمین میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی عبادت خود بھی کریں گے، اور دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فریضہ انجام دیں گے۔ اس طرح یہ آیت ایک اسلامی ریاست کے بنیادی اغراض و مقاصد بیان فرما رہی ہے۔
Ayahs 22:42–47

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم، اور عاد وثمود کی قومیں بھی (اپنے اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں۔

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

نیز ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے لوگ بھی، اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا تھا، چنانچہ ان کافروں کو میں نے کچھ ڈھیل دی، پھر انہیں پکڑ میں لے لیا، اب دیکھ لو کہ میری پکڑ کیسی تھی۔

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

غرض کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ظلم کر رہی تھیں، چنانچہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں، اور کتنے ہی کنویں جو اب بیکار ہوئے پڑے ہیں، اور کتنے پکے بنے ہوئے محل (جو کھنڈر بن چکے ہیں)۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں جس سے انہیں وہ دل حاصل ہوتے جو انہیں سمجھ دے سکتے، یا ایسے کان حاصل ہوتے جن سے وہ سن سکتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا، اور یقین جانو کہ تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے۔ (26)

26: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن اس آیت کو سمجھنے کے لیے اتنی تشریح کافی ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت کے مطابق متعین ہوگا، اور تم جو سمجھ رہے ہو کہ اس کے آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے تو درحقیقت تم جس مدت کو ایک ہزار سال سمجھتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ اس آیت کی کچھ مزید تفصیل انشاء اللہ سورة معارج : 4 میں آئے گی۔
Ayahs 22:48–52

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جنہیں میں نے مہلت دی تھی، اور وہ ظلم کرتی رہیں، پھر میں نے انہیں پکڑ میں لے لیا، اور سب کو آخر کار میرے پاس ہی لوٹنا ہوگا۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اے لوگو ! میں تو تمہیں وضاحت کے ساتھ خبردار کرنے والا ہوں۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرنے لگے، تو ان کے لیے مغفرت ہے، اور باعزت رزق ہے۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کی ہے، تو وہ دوزخ کے باسی ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تو اس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اس نے (اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں) کوئی رکاوٹ ڈال دی، پھر جو رکاوٹ شیطان ڈالتا ہے، اللہ اسے دور کردیتا ہے، پھر اپنی آیتوں کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے، (27) اور اللہ بڑے علم کا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔

27: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے مخالفین کی طرف سے جن شکوک و شبہات کا اظہار ہورہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ؛ بلکہ پچھلے انبیاء کرام کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سناتے تو شیطان کافروں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کردیتا جس کی بنا پر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے تھے، لیکن چونکہ یہ شکوک و شبہات اصل میں بےبنیاد ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کا کوئی اثر مخلص مسلمانوں پر باقی نہیں رہنے دیتا ؛ بلکہ انہیں نیست ونابود کردیتا ہے۔
Ayahs 22:53–60

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

یہ (شیطان نے رکاوٹ اس لیے ڈالی) تاکہ جو رکاوٹ شیطان نے ڈالی تھی، اللہ اسے ان لوگوں کے لیے فتنہ بنا دے جن کے دلوں میں روگ ہے، اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور یقین جانو کہ یہ ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور چلے گئے ہیں۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور (اس رکاوٹ کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے دور کیا) تاکہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے، وہ جان لیں کہ یہی (کلام) برحق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، پھر وہ اس پر ایمان لائیں، اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں، اور یقین رکھو کہ اللہ ایمان والوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دینے والا ہے۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس (کلام) کی طرف سے برابر شک ہی میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے، یا ایسے دن کا عذاب ان تک آپہنچے جو (ان کے لیے) کسی بھلائی کو جنم دینے کی صلاحیت سے خالی ہوگا۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، وہ نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، تو ایسے لوگوں کے لیے ذلت والا عذاب ہوگا۔

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، پھر قتل کردیے گئے یا ان کا انتقال ہوگیا تو اللہ انہیں ضرور اچھا رزق دے گا، اور یقین رکھو کہ اللہ ہی بہترین رزق دینے والا ہے۔

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انہیں ضرور ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے، اور اللہ یقینا ہر بات جاننے والا، بڑا بردبار ہے۔

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ بات طے ہے اور (آگے یہ بھی سن لو کہ) جس شخص نے کسی کو بدلے میں اتنی ہی تکلیف پہنچائی جتنی اس کو پہنچائی گئی تھی، اس کے بعد پھر اس سے زیادتی کی گئی، تو اللہ اس کی ضرور مدد کرے گا۔ (28) یقین رکھو کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔

28: اوپر آیت 39 میں مسلمانوں کو ان کافروں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے تھے ؛ حالانکہ اس سے پہلے ان کے ظلم کے جواب میں صبر اور درگزر کے احکام دئیے جاتے رہے تھے، اب یہاں صرف جنگ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر قسم کے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے، بشرطیکہ وہ اتنا ہو جتنا ظلم ہوا، اور بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ درگزر کا معاملہ زیادہ افضل ہے ؛ لیکن برابر کا بدلہ لینا بھی جائز ہے، اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ؛ بلکہ یہاں اور آگے بڑھ کر یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر برابر کا بدلہ لینے کے بعد ظالم دوبارہ زیادتی کرے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ (کی قدرت اتنی بڑی ہے کہ وہ) رات کو دن میں داخل کردیتا اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ (29) اور اس لیے کہ اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔

29: یعنی ایک موسم میں جو دن کا وقت تھا، دوسرے موسم میں اللہ تعالیٰ نے اسے رات بنادیا، اور ایک موسم میں جو رات کا وقت تھا، اسے دوسرے موسم میں دن بنادیا۔ چاند سورج کی گردش کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بیشمار مظاہر میں سے یہاں خاص طور پر اس کو شاید اس لیے ذکر کیا گیا ہو کہ یہاں مظلوم کی مدد فرمانے کا ذکر ہے، اور جس طرح رات دن کے اوقات بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح جو کبھی مظلوم تھا، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کر کے اسے فتح دلا دیتے ہیں، اور جو ظالم اور بالا دست تھا، اسے نیچا دکھا دیتے ہیں۔
Ayahs 22:62–67

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی وہ ہے جس کی شان بھی اونچی ہے، رتبہ بھی بڑا۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا مہربان، ہر بات سے باخبر ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے، اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ اور یقین رکھو کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، اور وہ کشتیاں بھی جو اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہیں ؟ اور اس نے آسمان کو اس طرح تھام رکھا ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر وہ تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے۔

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے لوگوں کے لیے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ (30) لہذا (اے پیغمبر) لوگوں کو تم سے اس معاملے میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور تم اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیتے رہو۔ تم یقینا سیدھے راستے پر ہو۔

30: بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے جو احکام دئیے ہیں، ان میں سے کچھ ان احکام سے مختلف ہیں جو پچھلے انبیائے کرام کی امتوں کو دئیے گئے تھے اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے یعنی مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں اللہ نے عبادت کے مختلف طریقے مقرر فرمائے تھے اور ہر دور کے مناسب شریعت کے مختلف احکام دئیے تھے۔ لہذا اگر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے کچھ احکام پچھلی شریعتوں سے الگ ہیں تو اس میں نہ کوئی اعتراض کی بات ہے، اور نہ بحث مباحثے کا کوئی موقع۔
Ayahs 22:68–71

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کے علم میں ہیں ؟ یہ سب باتیں ایک کتاب میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ سارے کام اللہ کے لیے بہت آسان ہیں۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے معبود ہونے) کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور خود ان لوگوں کو بھی اس کے بارے میں کوئی علم حاصل نہیں۔ (31) اور ان ظالموں کا (آخرت میں) کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

31: یعنی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ علم حاصل ہوسکے کہ یہ بت واقعی خدائی کا درجہ رکھتے ہیں۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے اثرات صاف پہچان لیتے ہو، ایسا لگتا ہے کہ یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ کہہ دو کہ : لوگو ! کیا میں تمہیں ایسی چیز بتلا دوں جو اس سے زیادہ ناگوار ہے ؟ (32) آگ ! اللہ نے کافروں سے اس کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

32: مطلب یہ ہے کہ ابھی تو تم ان آیتوں ہی کو ناگوار سمجھ رہے ہو، آخرت میں جب آگ سامنے آئے گی تو پتہ چلے گا کہ اصل ناگوار چیز کیا تھی
Ayahs 22:73–75

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے اب اسے کان لگا کر سنو ! تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکٹھے ہوجائیں، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ایسا دعا مانگنے والا بھی بودا اور جس سے دعا مانگی جارہی ہے وہ بھی۔

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی ٹھیک ٹھیک قدر ہی نہیں پہچانی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ قوت کا بھی مالک ہے، اقتدار کا بھی مالک۔

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ فرشتوں میں سے بھی اپنا پیغام پہنچانے والے منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ (33) یقینا اللہ ہر بات سنتا ہر چیز دیکھتا ہے۔

33: کونسے فرشتے پیغمبروں کے پاس وحی کا پیغام لے کر جائیں، اور کن انسانوں کو پیغمبری کے مقام پر سرفراز کیا جائے، ان سب باتوں کا تعین اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔
Ayahs 22:76–77

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ ان کے آگے اور پیچھے کی ساری باتوں کو جانتا ہے، اور اللہ ہی پر تمام معاملات کا دارومدار ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والو ! رکوع کرو، اور سجدہ کرو، اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو، اور بھلائی کے کام کرو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔ (34)

34: شافعی مذہب میں یہاں سجدہ ہے۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ (35) اس نے تمہیں (اپنے دین کے لیے) منتخب کرلیا ہے، اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا، اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ یہ رسول تمہارے لیے گواہ بنیں، اور تم دوسرے لوگوں کے لیے گواہ بنو۔ (36) لہذا نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہ تمہارا رکھوالا ہے، دیکھو، کتنا اچھا رکھوالا، اور کتنا اچھا مددگار۔

35: جہاد کے لفظی معنی جد و جہد اور کوشش کے ہیں، اور یہ لفظ دین کے راستے میں ہر کوشش کو شامل ہے۔ اس میں مسلح جد و جہد یعنی اللہ کے راستے میں جنگ کرنا بھی داخل ہے، پر امن جد و جہد بھی، اور انسان اپنی اصلاح کے لیے جو محنت کرے، وہ بھی۔ 36: آنحضرت صلی اللہ علیہ اپنی امت کے مومنوں کے حق میں گواہی دیں گے کہ یہ لوگ ایمان لے آئے یہ مضمون سورة بقرہ : 147 میں گذر چکا ہے وہاں اس کی تشریح دیکھ لی جائے۔