23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة المومنون تعارف اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے وہ بنیادی صفات ذکر فرمائی ہیں جو مسلمانوں میں پائی جانی چاہیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں حضرت عمر (رض) کے حوالے سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد منقول ہے کہ اس سورت کی پہلی دس آیتوں میں جو باتیں ذکر کی گئی ہیں، اگر کوئی شخص وہ ساری باتیں اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ اسی لیے اس سورت کا نام مومنون ہے۔ یعنی وہ سورت جو یہ بیان کرتی ہے کہ مسلمانوں کو کیسا ہونا چاہیے۔ نیز نسائی میں روایت ہے کہ ایک صاحب نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق اور اوصاف کیسے تھے ؟ اس کے جواب میں حضرت عائشہ (رض) نے سورة مومنون کی یہ دس آیتیں تلاوت فرما دیں کہ یہ سب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف تھے۔ سورت کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی اصلیت کی طرف متوجہ کر کے اس بات پر غور و فکر کی دعوت دینا ہے کہ اس کے دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے، اور بالاخر مرنے کے بعد جو زندگی آنی ہے، اس میں انسان کا نجام کیا ہوگا ؟ اس کے علاوہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک بہت سے انبیائے کرام کے واقعات اس سورت میں دہرائے گئے ہیں، تاکہ یہ بات واضح ہو کہ ان سب پیغمبروں کی دعوت تواتر کے ساتھ ایک ہی تھی، اور جن لوگوں نے ان کا انکار کیا، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا نشانہ بننا پڑا۔ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کی نیکیوں اور برائیوں کا حساب لیں گے، اور ہر انسان کو اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے جزاء وسزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس عقیدے کو کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت خداوندی کی نشانیوں کی طرف متوجہ کر کے ثابت کیا گیا ہے۔

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

ان ایمان والوں نے یقینا فلاح پالی ہے۔

Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔ (1)

1: یہ خشوع کا ترجمہ ہے۔ عربی میں خضوع کے معنی ہیں ظاہری اعضاء کو جھکانا، اور خشوع کے معنی ہیں دل کو عاجزی کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ رکھنا۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان نماز میں جو کچھ زبان سے پڑھ رہا ہو، اس کی طرف دھیان رکھے، اور اگر غیر اختیاری طور پر کوئی خیال آجائے تو وہ معاف ہے، لیکن جونہی یاد آئے، دوبارہ نماز کے الفاظ کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ (2)

2: لغو کا مطلب ہے بیکار مشغلہ جس میں نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہو، نہ آخرت کا
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔ (3)

3: زکوٰۃ کے لفظی معنی ہیں کسی چیز کو پاک صاف کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ غریبوں کے لیے نکالیں، اسے زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس سے ان کا باقی مال بھی پاک صاف ہوجاتا ہے، اور ان کے دلوں کو بھی پاکی حاصل ہوتی ہے۔ یہاں زکوٰۃ سے مراد وہ مالی فریضہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے دوسرے معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو برے اعمال اور اخلاق سے پاک صاف کرنا۔ اس کو تزکیہ بھی کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں زکوٰۃ کے ساتھ ادا کرنے کے بجائے زکوٰۃ پر عمل کرنے والے کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے، اس کی وجہ سے بہت سے مفسرین نے یہاں دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ (4)

4: یعنی اس بات سے حفاظت کرتے ہیں کہ اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کوئی ناجائز طریقہ اختیار کیا جائے۔
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ (5) کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔

5: اس سے مراد وہ کنیزیں ہیں جو شرعی احکام کے مطابق کسی کی ملکیت میں آئی ہوں لیکن آج کل ایسی کنیزوں کا کوئی وجود نہیں رہا۔
Ayahs 23:7–8

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ (6)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔

6: یعنی بیوی اور شرعی کنیز کے سوا کسی اور طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے۔
Ayahs 23:9–10

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں۔ (7)

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہ ہیں وہ وارث۔

7: نمازوں کی نگرانی میں یہ بات بھی داخل ہے کہ نماز کی پوری پابندی کی جائے، اور یہ بھی کہ ان کو صحیح طریقے سے آداب اور شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے۔
Ayah 23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ (8) یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

8: جنت کو مومنوں کی میراث اس لئے کہا گیا ہے کہ ملکیت کے اسباب میں سے میراث ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ایک چیز خود بخود اس طرح انسان کی ملکیت میں آجاتی ہے کہ اس ملکیت کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اشارہ اس طرف ہے کہ جنت کے مل جانے کے بعد اس کے چھن جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔ (9)

9: انسان کا مٹی سے پیدا ہونا یا تو اس اعتبار سے ہے کہ تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، پھر تمام انسان ان کی پشت سے پیدا ہوئے، اس لیے بالواسطہ تمام انسانوں کی اصل مٹی ہے، یا پھر اس کا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی تخلیق منی کے قطرے سے ہوتی ہے، اور وہ غذا سے پیدا ہوتی ہے جس کے اگنے اور بننے میں مٹی کا دخل واضح ہے۔
Ayahs 23:13–16

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ٹپکی ہوئی بوند کی شکل میں ایک محفوظ جگہ پر رکھا۔ (10)

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اس بوند کو جمے ہوئے خون کی شکل دے دی، پھر اس جمے ہوئے خون کو ایک لوتھڑا بنادیا، پھر اس لوتھڑے کو ہڈیوں میں تبدیل کردیا، پھر ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنایا، پھر اسے ایسی اٹھان دی کہ وہ ایک دوسری ہی مخلوق بن کر کھڑا ہوگیا۔ غرض بڑی شان ہے اللہ کی جو سارے کاریگروں سے بڑھ کر کاریگر ہے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس سب کے بعد تمہیں یقینا موت آنے والی ہے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن تمہیں یقینا دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

10: محفوط جگہ سے مراد رحم مادر ہے
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بر تہہ راستے پیدا کیے ہیں اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ (11)

11: یہاں آسمانوں کو تہہ بر تہہ راستوں سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے انہی آسمانوں سے آتے جاتے ہیں۔ اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ہماری مخلوق کی ضروریات کیا ہیں، اور ان کی مصلحت کا کیا تقاضا ہے، اس لیے ہماری تمام تخلیقات میں ان مصالح کی پوری رعایت ہے۔
Ayahs 23:18–19

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا، (12) اور یقین رکھو، ہم اسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں۔

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے جن سے تمہیں بہت سے میوے حاصل ہوتے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے ہو۔

12: یعنی اگر آسمان سے پانی برسا کر تمہیں ذمہ داری دی جاتی کہ تم خود اس کا ذخیرہ کرو، تو یہ تمہارے بس میں نہیں تھا۔ ہم نے یہ پانی پہاڑوں پر برسا کر اسے برف کی شکل میں جما دیا، جو رفتہ رفتہ پگھل کر دریاؤں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور اس کی جڑیں زمین بھر میں پھیلی ہوئی ہیں، جن سے کنویں بنتے ہیں، اور اس طرح زمین کی تہ میں وہ پانی محفوظ رہتا ہے۔
Ayahs 23:20–26

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے (13) جو اپنے ساتھ تیل لے کر اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بڑی نصیحت کا سامان ہے جو (دودھ) ان کے پیٹ میں ہے، اس سے ہم تمہیں سیراب کرتے ہیں، اور ان میں تمہارے لیے بہت سے فوائد ہیں، اور انہی سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور انہی پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار بھی کیا جاتا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ انہوں نے (قوم سے) کہا کہ : میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، بھلا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس پر ان کی قوم کے کافر سرداروں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر اپنی برتری جمانا چاہتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا۔ یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

(رہا یہ شخص، تو) یہ اور کچھ نہیں ایک ایسا آدمی ہے جسے جنون لاحق ہوگیا ہے، اس لیے کچھ وقت تک اس کا انتظار کر کے دیکھ لو (کہ شاید اپنے حواس میں آجائے)

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا : یا رب ! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔

13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔
Ayahs 23:27–31

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ : تم ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے، اور تنور ابل پڑے۔ (14) تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اسے بھی اس کشتی میں سوار کرلینا۔ (15) اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی حکم صادر ہوچکا ہے۔ (16) اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، یہ بات طے ہے کہ یہ سب غرق کیے جائیں گے۔

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں ٹھیک ٹھیک بیٹھ چکیں تو کہنا : شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہنا : یارب ! مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اس سارے واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں، اور یقینی بات ہے کہ ہمیں آزمائش تو کرنی ہی کرنی تھی۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔

14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔ 15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے 16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔