23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsآسان قرآن

Ayahs 23:110–112

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے ان لوگوں کا مذاق بنایا تھا۔ یہاں تک کہ ان ہی (کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) نے تمہیں میری یاد تک سے غافل کردیا، اور تم ان کی ہنسی اڑاتے رہے۔ (33)

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

انہوں نے جس طرح صبر سے کام لیا تھا، آج میں نے انہیں اس کا یہ بدلہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی مراد پالی ہے۔

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(پھر) اللہ (ان دوزخیوں سے) فرمائے گا : تم زمین میں گنتی کے کتنے سال رہے ؟

33: یعنی تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حقوق پامال کیے۔ بلکہ نیک بندوں پر ظلم کر کے حقوق العباد بھی پامال کیے۔ اس دن کی ہولناک سزا سے تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا، مگر تم اس کا مذاق اڑاتے رہے، اس لیے اب تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ : ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے۔ (34) (ہمیں پوری طرح یاد نہیں) اس لیے جنہوں نے (وقت کی) گنتی کی ہو، ان سے پوچھ لیجیے۔

34: آخرت کا عذاب اتنا سخت ہوگا کہ اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری زندگی اور اس میں جو عیش و عشرت کیے تھے وہ ان دوزخیوں کو ایک دن یا اس سے بھی کم معلوم ہوں گے۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا : تم تھوڑی مدت سے زیادہ نہیں رہے۔ کیا خوب ہوتا اگر یہ بات تم نے (اس وقت) سمجھ لی ہوتی (35)

35: یعنی اب تو تم نے خود دیکھا لیا کہ دنیا کا عیش ایک دن کا نہ سہی، مگر آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا سا تھا۔ یہی بات تم سے دنیا میں کہی جاتی تھی تو تم اسے ماننے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ کاش یہ حقیقت تم نے اس وقت سمجھ لی ہوتی تو آج تمہارا یہ حشر نہ ہوتا۔
Ayahs 23:115–118

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

بھلا کیا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بےمقصد پیدا کردیا، (36) ، اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایا جائے گا ؟

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

غرض بہت اونچی شان ہے اللہ کی جو صحیح معنی میں بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزت والے عرش کا مالک ہے۔

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے، جس پر اس کے پاس کسی قسم کی کوئی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے۔ یقین جانو کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاسکتے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور تم (اے پیغمبر) یہ کہو کہ : میرے پروردگار ! ہماری خطائیں بخش دے، اور رحم فرمادے، تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

36: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، ان کے موقف کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بےمقصد پیدا کردی ہے۔ یہاں جس کے جو جی میں آئے کرتا رہے۔ اس کا کوئی بدلہ کسی اور زندگی میں ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی غلط بات منسوب کرے، لہذا آخرت پر ایمان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا منطقی تقاضا ہے۔