24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة نور تعارف اس سورت کا مرکزی موضوع معاشرے میں بےحیائی اور فحاشی کو روکنے اور عفت و عصمت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہدایات اور احکام دینا ہے۔ پچھلی سورت کے شروع میں مومنوں کی جو خصوصیات بیان فرمائی گئی تھیں، ان میں سے ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، یعنی باعفت زندگی گزارتے ہیں۔ اب اس سورت میں باعفت زندگی گزارنے کے ضروری تقاضے بیان فرمائے گئے ہیں۔ چنانچہ سورت کے شروع ہی میں زنا کی شرعی سزا بیان فرمائی گئی ہے، اور ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح زنا انتہائی گھناؤنا جرم ہے، اسی طرح کسی بےگناہ پر شرعی ثبوت کے بغیر زنا کا الزام لگانا بھی نہ صرف سخت گناہ ہے، بلکہ اس پر بھی سخت قانونی سزا مقرر فرمائی گئی ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ سورت ہجرت کے بعد چھٹے سال نازل ہوئی اس سال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرب کے ایک قبیلے بنو المصطلق کے بارے میں یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ آپ پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر جمع کر رہا ہے۔ آپ نے اس کے حملے سے پہلے ہی پیش قدمی کر کے اس کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اسی سفر سے واپسی پر منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے خلاف بڑی کمینگی کے ساتھ ایک بےبنیاد تہمت لگائی، اور اسے مدینہ منورہ میں بڑے پیمانے پر شہرت دی جس سے کچھ مخلص مسلمان بھی متاثر ہوگئے۔ اس سورت کی آیات : ١١ تا ٢٠ حضرت عائشہ کی براءت کا اعلان کرنے کے لیے نازل ہوئیں۔ اور جن لوگوں نے تہمت لگانے کا گھناؤنا جرم کیا تھا ان کو اور معاشرے میں عریانی و فحاشی پھیلانے والوں کو سخت عذاب کی وعیدیں سنائی گئیں۔ نیز عفت وعصمت کی حفاظت کے پہلے قدم کے طور پر خواتین کو پردے کے احکام بھی اسی سورت میں دیے گئے ہیں، اور دوسروں کے گھر جانے کے لیے ضروری آداب و احکام کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے، اور جس (کے احکام) کو ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کی ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگائے، (1) اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پر غالب نہ آئے۔ اور یہ بھی چاہیے کہ مومنوں کا ایک مجمع ان کی سزا کو کھلی آنکھوں دیکھے۔

1: یہ وہ سزا ہے جو مرد یا عورت کے زنا کرنے پر قرآن کریم نے مقرر فرمائی ہے، اور جسے اصطلاح میں حد زنا کہا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد اور اپنے عمل سے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اگر زنا کا ارتکاب کسی غیر شادی شدہ مرد یا عورت نے کیا ہو تب تو یہی سزا دی جائے گی، اور اگر اس جرم کا ارتکاب شادی شدہ مرد یا عورت نے کیا ہو، تو اس کی سزا رجم یعنی سنگساری ہے۔ اس مسئلے کی مکمل تحقیق میری کتاب عدالتی فیصلے میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی مرد نکاح کرتا ہے تو زنا کا ریا مشرک عورت ہی سے نکاح کرتا ہے، اور زنا کار عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہی مرد جو خود زانی ہو، یا مشرک ہو (2) اور یہ بات مومنوں کے لیے حرام کردی گئی ہے (3)

2: یعنی جو شخص بدکاری کا عادی ہو، اور اس پر نہ شرمندہ ہو، نہ توبہ کرتا ہو، اس کا مزاج ایسی ہی عورت سے ملتا ہے جو بدکار ہو، اس لیے اول تو وہ بدکاری ہی کی کوشش میں رہتا ہے، اور اگر نکاح کرنا پڑجائے تو وہ نکاح بھی ایسی ہی بدکار عورت سے کرنا چاہتا ہے، چاہے وہ مشرک ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح جو عورت اسی طرح کی عادی بدکار ہو اس کا مزاج بھی بدکار مرد ہی سے ملتا ہے، اس لیے اس سے نکاح وہی کرتا ہے جو خود بدکاری کا عادی رہا ہو، اور اسے اس بات سے کوئی شرم محسوس نہ ہوتی ہو کہ اس کی بیوی بدکاری میں ملوث ہے، اور وہ خود بھی ایسے ہی مرد کو پسند کرتی ہے، چاہے وہ مشرک ہی کیوں نہ ہو۔ 3: یعنی بدکار مرد یا عورت کو نکاح کے لیے پسند کرنا مسلمانوں کے لیے حرام ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے لیے شریک زندگی تلاش کرتے وقت اس کی نیکی اور پاک دامنی کا ضرور خیال رکھیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر کسی نے کسی بدکار مرد یا عورت سے نکاح کرلیا تو اس نکاح کو باطل نہیں کہا جائے گا، اور اس پر نکاح کے تمام احکام جاری ہوں گے، لیکن اس غلط انتخاب کا گناہ ضرور ہوگا۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ حکم ان عادی بدکاروں کا ہے جنہوں نے اپنے اس گناہ سے توبہ نہ کی ہو۔ لیکن اگر کسی نے توبہ کرلی تو پھر اس کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس آیت کی تشریح اس کے علاوہ بھی دوسرے طریقوں سے کی گئی ہے لیکن جو تشریح یہاں لکھی گئی ہے وہ آسان اور بےغبار ہے۔ حضرت حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی بیان القرآن میں اسی کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ (4) اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، (5) اور وہ خود فاسق ہیں۔

4: جس طرح زنا ایک انتہائی گھناؤنا جرم ہے، اور اس پر سزا بھی بڑی سخت رکھی گئی ہے، اسی طرح کسی بےگناہ پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کو بھی نہایت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، اور اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کی گئ ہے۔ اس کو اس اصطلاح میں حد قذف کہا جاتا ہے۔ 5: یہ بھی جھوٹی تہمت کی سزا کا ایک حصہ ہے کہ ایسی تہمت لگانے والے کی گواہی کسی بھی مقدمے میں قبول کی جائے گی۔
Ayah 24:5

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں، اور (اپنی) اصلاح کرلیں، تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (6)

6: توبہ سے جھوٹی تہمت کا گناہ تو معاف ہوجائے گا لیکن جو سزائیں اوپر بیان کی گئی ہیں، وہ پھر بھی دی جائیں گی۔
Ayahs 24:6–9

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں (7) اور خود اپنے سوا ان کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی شخص کو جو گواہی دینی ہوگی وہ یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ بیان دے کہ وہ (بیوی پر لگائے ہوئے الزام میں) یقینا سچا ہے۔

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ : اگر میں (اپنے الزام میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے (زنا کی) سزا دور کرنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دے کہ اس کا شوہر (اس الزام میں) جھوٹا ہے۔

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ : اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔

7: اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اوپر جو قاعدہ بیان کیا گیا ہے، اس کی رو سے اگر وہ چار گواہ نہ لاسکے تو اس پر بھی اسی کوڑوں کی سزا لاگو ہونی چاہیے تھی، لیکن میاں بیوی کے تعلقات کی خصوصی نوعیت کی وجہ سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک الگ خصوصی طریقہ کار مقرر فرمایا ہے جسے اصطلاح میں لعان کہا جاتا ہے۔ یہ طریق کار ان آیات میں بیان ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کو قاضی ان الفاظ میں پانچ پانچ قسمیں کھانے کو کہے گا جو ان آیتوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور اس سے پہلے دونوں کو یہ ترغیب دے گا کہ آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے، اس لیے جھوٹی قسم کھانے کے بجائے اصل حقیقت کا اعترف کرلو۔ اگر بیوی قسم کھانے کے بجائے اپنے جرم کا اعتراف کرلے تو اس پر زنا کی حد جاری ہوگی، اور اگر شوہر قسم کھانے کے بجائے یہ اعتراف کرلے کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا تھا تو اس پر وہ حد قذف جاری ہوگی جو آیت نمبر 4 میں بیان ہوئی ہے۔ اگر دونوں نے قسم کھالیں تو کسی پر دنیا میں سزا جاری نہیں ہوگی، البتہ اس کے بعد قاضی دونوں کے درمیان نکاح فسخ کردے گا اور اگر کوئی بچہ پیدا ہوا اور شوہر اسے اپنا بچہ ماننے سے انکار کرے تو وہ صرف ماں کی طرف منسوب ہوگا۔
Ayah 24:10

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کثرت سے توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے (تو خود سوچ لو کہ تمہارا کیا بنتا ؟) (8)

8: یعنی لعان کا جو طریق کار مقرر کیا گیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے، ورنہ اگر میاں بیوی کے درمیان بھی وہی قاعدہ جاری ہوتا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا دیکھے تو اس وقت تک زبان نہ کھولے جب تک چار گواہ میسر نہ ہوں، ورنہ خود اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے تو سخت دشواری کا سامنا ہوتا۔
Ayahs 24:11–14

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے (9) تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ (10) ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔ (11)

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے ؟

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ (بہتان لگانے والے) اس بات پر چار گواہ کیوں نہیں لے آئے ؟ اب جبکہ وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔

9: یہاں سے آیت نمبر 26 تک جس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اسلام کو جو تیز رفتار فروغ حاصل ہوا، اس پر کفر کی طاقتیں دانت پیس رہی تھیں۔ خود مدینہ منورہ میں ان منافقوں کا ایک گروہ موجود تھا جو زبان سے تو اسلام لے آئے تھے، لیکن ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے خلاف کینہ بھرا ہوا تھا، اور وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع چھوڑتے نہیں تھے۔ اسی زمانے میں غزوہ بنو المصطلق پیش آیا جس میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا تو حضرت عائشہ کا ایک ہار گم ہوگیا، اور وہ اس کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئیں۔ آنحضرت ﷺ کو اس واقعے کا علم نہیں تھا، اس لیے آپ نے لشکر روانہ ہونے کا حکم دے دیا، اور جب حضرت عائشہ ؓ واپس آئیں تو قافلہ جا چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت اور تحمل کا غیر معمولی مقام عطا فرمایا تھا، وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر جانے کے بجائے اسی جگہ بیٹھ گئیں جہاں سے روانہ ہوئی تھیں، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ آنحضرت ﷺ کو جب ان کی غیر موجودگی کا احساس ہوگا تو آپ ان کی تلاش میں اسی جگہ یا تو خود تشریف لائیں گے یا کسی کو بھیجیں گے۔ قافلوں کا ایک دستور یہ تھا کہ ایک شخص کو قافلے کے بالکل پیچھے اس طرح رکھا جاتا تھا کہ قافلے کی روانگی کے بعد وہ یہ دیکھتا ہوا آئے کہ کوئی چیز گری پڑی تو نہیں رہ گئی ہے۔ اس قافلے میں آپ نے حضرت صفوان بن معطل ؓ کو اس کام پر مقرر فرمایا تھا۔ وہ جب اس جگہ سے گذرے جہاں حضرت عائشہ ؓ بیٹھی ہوئی تھیں تو انہیں اس سانحے کا علم ہوا، اور پھر انہوں نے اپنا اونٹ ام المومنین کو پیش کیا، جس پر سوار ہو کر وہ مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ اس واقعے کو منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے ایک بتنگڑ بنا لیا کہ حضرت عائشہ ؓ نے تنہا صفوان بن معطل کے ساتھ سفر کیا ہے، اور اس کی وجہ سے آپ پر وہ گھناؤنی تہمت لگائی جسے زبان سے نکالنا بھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے مشکل ہے۔ عبداللہ بن ابی نے اس تہمت کو اتنی شہرت دی کہ وہ تین سادہ لوح مسلمان بھی اس کے فریب میں آگئے، اور اس طرح کئی دن تک یہ بےسروپا باتیں لوگوں میں پھیلائی جاتی رہیں۔ بالاخر سورة نور کی یہ آیات نازل ہوئیں جنہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی مکمل براءت ظاہر کرنے کے ساتھ ان لوگوں کو سخت وعیدیں سنائیں جو اس سازش کے کرتا دھرتا تھے۔ 10: یعنی اگرچہ بظاہر یہ واقعہ بڑا تکلیف دہ تھا، لیکن انجام کے لحاظ سے تمہارے حق میں بہتر ہی بہتر ہے، اول تو اس لیے کہ اس کے ذریعے وہ لوگ بےنقاب ہوگئے جو خانوادہ نبوت کے خلاف سازشیں کرتے تھے، دوسرے حضرت عائشہ ؓ کا مقام بلند لوگوں پر ظاہر ہوا تیسرے اس واقعے سے مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچی، اس پر انہیں بڑا ثواب ہوا۔ 11: اس سے مراد منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی ہے جس نے یہ ساری سازش تیار کی تھی۔
Ayahs 24:15–21

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے (12) اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ : ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہے اور اللہ بڑا شفیق بڑا مہربان ہے (تو تم بھی نہ بچتے)۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم شیطان کے پیچھے نہ چلو، اور اگر کوئی شخص شیطان کے پیچھے چلے، تو شیطان تو ہمیشہ بےحیائی اور بدی کی تلقین کرے گا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک صاف نہ ہوتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
Ayahs 24:22–25

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، (13) اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن خود ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کرتوت کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں۔

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو وہ بدلہ پورا پورا دیدے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور ان کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی ساری بات کھول دینے والا ہے۔

13: جو دو تین مخلص مسلمان اپنی سادہ لوحی سے منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے تھے، ان میں ایک مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے جو مہاجر صحابی تھے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔ حضرت صدیق اکبر ان کی مالی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ مسطح ؓ نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے خلاف ایسی باتیں کی ہیں تو انہوں نے قسم کھالی کہ میں آئندہ ان کی مالی مدد نہیں کروں گا، حضرت مسطح سے غلطی ضرور ہوگئی تھی، لیکن پھر انہوں نے سچے دل سے توبہ بھی کرلی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متنبہ فرمایا کہ ان کی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھانا ٹھیک نہیں ہے۔ جب انہوں نے توبہ کرلی ہے تو ان کو معاف کردینا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے اس آیت کے نزول کے بعد ان کی مالی امداد دوبارہ جاری کردی، اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا، اور فرمایا کہ آئندہ کبھی اس امداد کو بند نہیں کروں گا۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق (14)۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

14: اشارہ فرما دیا گیا کہ اس کائنات میں نبی کریم ﷺ سے زیادہ پاکباز شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اس اصول کے تحت یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زوجیت میں کسی ایسی خاتون کو لائے جو (معاذ اللہ) پاکباز نہ ہو، کوئی شخص اسی بات پر غور کرلیتا تو اس پر اس تہمت کی حقیقت واضح ہوجاتی۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو، اور ان میں بسنے والوں کو سلام نہ کرلو۔ (15) یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے، امید ہے کہ تم خیال رکھو گے۔

15: یہاں سے معاشرے میں بےحیائی پھیلنے کے بنیادی اسباب پر پہرہ بٹھانے کے لیے کچھ احکام دئیے جارہے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ کسی دوسرے کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس میں ایک تو حکمت یہ ہے کہ کسی دوسرے کے گھر میں بےجا مداخلت نہ ہو جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ دوسرے بلا اجازت کسی کے گھر میں چلے جانے سے بےحیائی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ اور اجازت لینے کا طریقہ بھی یہ بتایا گیا ہے کہ باہر سے السلام علیکم کہا جائے، یا اگر یہ خیال ہو کہ گھر والا سلام نہیں سن سکے گا، اور اجازت دستک دے کر یا گھنٹی بجا کرلی جا رہی ہے تو جب گھر والا سامنے آجائے اس وقت اسے سلام کیا جائے۔
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اور اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تب بھی ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دے دی جائے۔ (16) اور اگر تم سے کہا جائے کہ : واپس چلے جاؤ۔ تو واپس چلے جاؤ۔ یہی تمہارے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے، اور تم جو عمل بھی کرتے ہو اللہ کو اس کا پورا پورا علم ہے۔

16: یعنی اگر کوئی گھر کسی اور کا ہے اور بظاہر خالی معلوم ہو رہا ہے، تب بھی اس میں بلا اجازت داخل ہونا جائز نہیں ہے، اول تو ممکن ہے کہ وہ اندر موجود ہو اور نظر نہ آ رہا ہو، اور اگر موجود نہ بھی ہو تو کسی اور کے گھر میں اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔
Ayahs 24:29–30

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تمہارے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ایسے گھروں میں (اجازت لیے بغیر) داخل ہو جن میں کوئی رہتا نہ ہو، اور ان سے تمہیں فائدہ اٹھانے کا حق ہو۔ (17) اور تم جو کام علانیہ کرتے ہو، اور جو چھپ کر کرتے ہو، اللہ ان سب کو جانتا ہے۔

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے۔ وہ جو کاروائیاں کرتے ہیں اللہ ان سب سے پوری طرح باخبر ہے۔

17: اس سے مراد وہ عوامی مقامات ہیں جو کسی ایک شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں ہوتے، بلکہ عوام کو ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے، مثلاً عوامی مسافر خانے، ہوٹل کے بیرونی حصے، ہسپتال، ڈاک خانے، پارک، مدرسے، وغیرہ۔ اجازت طلب کرنے کے مفصل احکام کے لیے ان آیات کے تحت معارف القرآن کی طرف رجوع کیا جائے جس میں یہ اہم احکام بڑے شرح و بسط کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ (18) اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں، (19) سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ، یا اپنے شوہروں کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، (20) یا ان کے جو اپنے ہاتھوں کی ملکیت میں ہیں (21) یا ان خدمت گزاروں کے جن کے دل میں کوئی (جنسی) تقاضا نہیں ہوتا (22) یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کے چھپے ہوئے حصوں سے آشنا نہیں ہوئے (23) اور مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ انہوں نے جو زینت چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہوجائے۔ (24) اور اے مومنو ! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

18: سجاوٹ سے مراد جسم کے وہ حصے ہیں جن پر زیور پہنا جاتا ہے، یا خوشنما کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ لہذا اس آیت کریمہ نے عورتوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کے سامنے اپنا پورا جسم کسی ایسی چادر یا برقع سے چھپائیں جو ان کے سجاوٹ کے مقامات کو چھپالے۔ البتہ ان مقامات میں سے کوئی حصہ کام کاج کے دوران بےاختیار کھل جائے، یا کسی ضرورت کی وجہ سے کھولنا پڑے تو اسے یہ کہہ کر مستثنی کردیا گیا ہے کہ سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ تفسیر ابن جریر کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ چادر ہے جو عورت نے اوڑھی ہوئی ہو کہ اس کو چھپانا ممکن نہیں ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ضرورت کے وقت عورت کو اگر اپنا چہرہ اور ہتھیلیوں تک ہاتھ کھولنے پڑیں تو اس آیت نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ لیکن چونکہ چہرہ ہی عورت کے حسن کا اصل مرکز ہوتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں اس کو بھی چھپانے کا حکم ہے جیسا کہ سورة احزاب : 59 میں بیان فرمایا گیا ہے البتہ صرف ضرورت کے مواقع پر اسے کھولنے کی اجازت ہے، اور اس حالت میں بھی مردوں کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، جیسا کہ پچھلی آیت میں گذرا۔ 19: یہاں سے ان افراد کی فہرست دی جا رہی ہے جن سے عورتوں کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے 20: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں، لہذا غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ضروری ہے، لیکن چونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ غیر مسلم عورتیں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتی تھیں، اس لیے امام رازی اور علامہ آلوسی نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اپنی عورتوں سے مراد اپنے میل جول کی عورتیں ہیں تو چاہے مسلمان ہوں یا کافر۔ ان سے پردہ واجب نہیں ہے (معارف القرآن) 21: اس سے مراد باندیاں ہیں، چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ اور بعض فقہاء نے اپنے غلاموں کو بھی اس میں شامل قرار دیا ہے، یعنی ان سے پردہ نہیں ہے۔ 22: قرآن کریم میں اصل لفظ ”تابعین“ استعمال ہوا ہے، اس کے معنی ایسے لوگ ہیں جو کسی دوسرے کے تابع ہوں۔ اکثر مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس زمانے میں کچھ بےعقل قسم کے لوگ ایسے ہوتے تھے جو کسی گھر والے کے اس لیے پیچھے لگ جاتے تھے کہ وہ انہیں کھانا کھلا دے، یا کسی مہمان کے طفیلی بن کر کسی کے گھر میں چلے جاتے تھے اور کھانے کے سوا انہیں کسی سے سروکار نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان میں کوئی جنسی خواہش ہوتی تھی۔ البتہ امام شعبی نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد وہ نوکر چاکر ہیں جو اتنے بوڑھے ہوچکے ہوں کہ ان کے دل میں عورتوں کی طرف کوئی میلان باقی نہ رہا ہو۔ (تفسیر ابن جریر) 23: یعنی وہ نابالغ بچے جن کو ابھی مرد و عورت کے جنسی تعلقات کا کچھ پتہ ہی نہ ہو۔ 24: یعنی اگر پاؤں میں پازیب پہنی ہوئی ہے تو اس طرح نہ چلیں کہ پازیب کی آواز سنائی دے، یا زیوروں کے ایک دوسرے سے ٹکرا کر بجنے کی آواز غیر محرم مرد سنیں۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، ان کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے گا۔ (25) اور اللہ بہت وسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔

25: اس سورت میں جہاں بےحیائی اور بدکاری کو روکنے کے لیے مختلف احکام دئیے گئے ہیں، وہاں انسان کی فطرت میں جو جنسی خواہش موجود ہے، اس کو حلال طریقے سے پورا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے، چنانچہ اس آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ جو بالغ مرد و عورت نکاح کے قابل ہوں، تمام متعلقین کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا نکاح ہوجائے، اور یہ اندیشہ نہ کرنا چاہیے کہ اگرچہ اس وقت تو وسعت موجود ہے، لیکن نکاح کے نتیجے میں بیوی بچوں کا خرچ زیادہ ہونے کی وجہ سے کہیں مفلسی نہ ہوجائے، بلکہ جب اس وقت نکاح کی وسعت موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر نکاح کرلینا چاہیے۔ پاک دامنی کی نیت سے نکاح کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ آئندہ اخراجات کا بھی مناسب انتظام فرما دے گا۔ البتہ اگلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے پاس اس وقت بھی نکاح کی وسعت نہیں ہے۔ ان کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان میں وسعت پیدا کرے، اس وقت تک وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں۔
Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو نکاح کے مواقع میسر نہ ہوں، وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے۔ اور تمہاری ملکیت کے غلام باندیوں میں سے جو مکاتبت کا معاہدہ کرنا چاہیں، اگر ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کا معاہدہ کرلیا کرو (26) اور (مسلمانو) اللہ نے تمہیں جو مال دے رکھا ہے اس میں سے ایسے غلام باندیوں کو بھی دیا کرو، اور اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں، (27) اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا تو ان کو مجبور کرنے کے بعد اللہ (ان باندیوں کو) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (28)

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے وہ آیتیں بھی اتار کر تم تک پہنچا دی ہیں جو ہر بات کو واضح کرنے والی ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور وہ نصیحت بھی جو اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کارآمد ہے۔

26: جب غلاموں اور باندیوں کا رواج تھا، اس وقت وہ اپنے آقاؤں سے یہ معاملہ کرلیتے تھے کہ وہ ایک طے شدہ رقم کما کر اپنے آقاؤں کو دیں گے جس کے بعد وہ آزاد ہوجائیں گے۔ یہ معاملہ مکاتبت کہلاتا ہے۔ اس آیت نے آقاؤں کو یہ ترغیب دی ہے کہ جب ان کے غلام یا باندیاں ان سے یہ معاملہ کرنا چاہیں تو انہیں قبول کرلینا چاہیے، اور دوسرے مسلمانوں کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے غلاموں اور باندیوں کی مالی مدد کریں، تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔ 27 جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ لوگ اپنی کنیزوں سے عصمت فروشی کراتے، اور اس طرح ان کو بدکاری پر مجبور کر کے پیشہ کماتے تھے۔ اس آیت نے اس گھناؤنی رسم کو شدید گناہ قرار دے کر اسے ختم کیا۔ 28: یعنی جس کنیز کو اس کی مرضی کے خلاف بدکاری پر مجبور کیا گیا، اس کو مجبور ہونے کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہوگا، بشرطیکہ اس نے بدکاری سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی ہو، نیز اسے بدکاری کی شرعی سزا بھی نہیں دی جائے گی، البتہ بدکاری کی سزا اس کو ملے گی، جس نے اس سے بدکاری کی، نیز اس آقا کو بھی تعزیری سزا ہوگی جس نے اسے عصمت فروشی پر مجبور کیا۔
Ayahs 24:35–36

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ تمام آسمانوں اور زمین کا نور ہے (29) اس کے نور کی مثال کچھ یوں ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہو (30) چراغ ایک شیشے میں ہو، شیشہ ایسا ہو جیسے ایک ستارا، موتی کی طرح چمکتا ہوا، وہ چراغ ایسے برکت والے درخت یعنی زیتون سے روشن کیا جائے جو نہ (صرف) مشرقی ہو نہ (صرف) مغربی (31) ایسا لگتا ہو کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دیدے گا۔ چاہے اسے آگ بھی نہ لگے، (32) نور بالائے نور، اللہ اپنے نور تک جسے چاہتا ہے، پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے فائدے کے لیے تمثیلیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

جن گھروں کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو بلند مقام دیا جائے اور ان میں اس کا نام لے کر ذکر کیا جائے، ان میں صبح و شام وہ لوگ تسبیح کرتے ہیں

29: اس جملے کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات کو ہدایت کا نور پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ امام غزالی نے اس آیت کی تشریح میں ایک مستقل مقالہ لکھا ہے جس میں اس فقرے کا مطلب بڑے لطیف فلسفیانہ انداز میں سمجھایا ہے، ان کی یہ پوری بحث امام رازی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت نقل فرمائی ہے جو اہل علم کے لیے قابل دید ہے۔ 30: امام رازی فرماتے ہیں کہ اگرچہ سورج کی روشنی ایک چراغ کی روشنی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت کی مثال سورج کے بجائے چراغ سے اس لیے دی گئی ہے کہ یہاں مقصود اس ہدایت کی مثال دینا ہے جو گمراہی کے اندھیروں کے عین درمیان راستہ دکھائے، اور چراغ ہمیشہ اندھیرے کے بیچوں بیچ روشنی پیدا کرتا ہے، اس کے برعکس سورج کی موجودگی میں کوئی اندھیرا باقی نہیں رہتا، اس لیے اندھیرے سے اس کا تقابل ساتھ ساتھ ظاہر نہیں ہوتا (تفسیر کبیر) 31: یعنی سورج چاہے مشرق میں ہو یا مغرب میں، اس کی دھوپ اس درخت کو ہر حال میں پہنچتی ہو۔ ایسے درخت کا پھل اچھی طرح پکتا ہے، اور اس کا تیل بھی زیادہ شفاف ہوتا ہے۔ 32: پکے ہوئے زیتون کا تیل اگر خالص ہو تو خود اس میں اتنی چمک ہوتی ہے کہ وہ دور سے روشن معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خریدو فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ دینے سے (33) وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ کر رہ جائیں گی۔

33: پچھلی آیت میں یہ بیان تھا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، نور ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اب ان لوگوں کی خصوصیات بیان فرمائی جا رہی ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت تک پہنچایا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ مسجدوں اور عبادت گاہوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ یہ مسجدیں اور عبادت گا ہیں ایسے گھر ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ان کو بلند مرتبہ دے کر ان کی تعظیم کی جائے۔ پھر یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ان عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والے دنیا کو بالکل چھوڑ کر نہیں بیٹھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق معاشی کاروبار میں حصہ لے کر تجارت اور خریدو فروخت بھی کرتے ہیں، لیکن یہ تجارتی سرگرمیاں ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام کی اطاعت سے غافل نہیں کرتیں۔ چنانچہ وہ اپنے وقت پر نماز بھی قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں، اور کسی وقت اس حقیقت سے بےپرواہ نہیں ہوتے کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں سارے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور وہ دن اتنا ہولناک ہوگا کہ اس میں لوگوں اور خاص طور پر نافرمانوں کے دل الٹ جائیں گے، اور آنکھیں پلٹ کر رہ جائیں گی۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے گا، اور اپنے فضل سے مزید کچھ اور بھی دے گا (34) اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔

34: نیک اعمال کا ثواب کچھ تو وہ ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں آگیا ہے۔ اس آیت نے بڑے لطیف انداز میں یہ بتایا ہے کہ نیک لوگوں کا ثواب صرف ان نعمتوں میں منحصر نہیں ہوگا جن کا تذکرہ قرآن و حدیث میں آیا ہے، اور نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل صحرا میں ایک سراب ہو جسے پیاسا آدمی پانی سمجھ بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا (35) اور اس کے پاس اللہ کو پاتا ہے، چنانچہ اللہ اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ (36) اور اللہ بہت جلدی حساب لے لیتا ہے۔

35: ریگستان میں جو ریت چمکتا نظر آتا ہے، دور سے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ پاپنی ہو، اسے ”سراب“ کہتے ہیں۔ جس طرح سفر کرتے ہوئے آدمیوں کو سراب دھوکا دیتا ہے کہ وہ اسے پانی سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ کچھ بھی نہیں ہوتا، اسی طرح کافر لوگ جو عبادت نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، وہ سراب کی طرح ایک دھوکا ہے۔ 36: یہ مثال ان کافروں کی ہے جو آخرت کو مانتے ہیں، لیکن توحید اور رسالت کے منکر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن اعمال کے بارے میں یہ کافر لوگ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ ان کو آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، مرنے کے بعد انہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا پورا پورا حساب دنیا میں چکا کر انہٰیں سزا کا مستحق قرار دیا ہے، اور اس طرح ان سارے کاموں نے فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا پھر ان (اعمال) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گہرے سمندر میں پھیلے ہوئے اندھیرے، کہ سمندر کو ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ (37) اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں۔

37: یہ ان کافروں کی مثال ہے جو آخرت کو سرے سے مانتے ہی نہیں، اس لیے ان کے پاس اتنا نور بھی نہیں جتنا پہلے گروہ کے پاس تھا کہ کم از کم وہ یہ امید رکھتے تھے کہ ان کے اعمال انہیں آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، لیکن ان لوگوں کے پاس امید کی یہ کرن بھی نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے دونوں مثالوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کافروں کے اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو وہ نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، اور ان سے فائدے کی امید رکھتے ہیں، ان کی مثال تو سراب جیسی ہے، اور ایک وہ اعمال ہیں جو وہ نیکی سمجھ کر نہیں کرتے، ان کی مثال ان اندھیروں کی ہے جن میں روشنی کی کوئی کرن نہیں ہوتی۔ پھر سمندر کی تہہ کا اندھیرا ان کے کافرانہ عقائد کی مثال ہے، اور ایک موج کا اندھیرا ان کے برے اعمال کی مثال ہے، اور دوسری موج کا اندھیرا ان کی ہٹ دھرمی کی مثال ہے، اس طرح ان میں اوپر تلے بہت سے اندھیرے جمع ہوگئے ہیں۔ ایسے سخت اندھیرے میں جس طرح انسان کو اپنا ہاتھ بھی نظر نہیں آتا، اسی طرح کفر اور فسق کے اندھیروں میں ان لوگوں کو خود اپنی حقیقت بھی سمجھ میں نہیں آتی۔