24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsآسان قرآن

Ayahs 24:41–46

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ پرندے بھی جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنی نماز اور اپنی تسبیح کا طریقہ معلوم ہے۔ (38) اور اللہ ان کے سارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ ہی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ بادلوں کو ہنکاتا ہے، پھر ان کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے، پھر انہیں تہہ بر تہہ گھٹا میں تبدیل کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے برس رہی ہے۔ اور آسمان میں (بادلوں کی شکل میں) جو پہاڑ کے پہاڑ ہوتے ہیں، اللہ ان سے اولے برساتا ہے، پھر جس کے لیے چاہتا ہے ان کو مصیبت بنا دیتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کی بینائی اچک لے جائے گی۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

وہی اللہ رات اور دن کا الٹ پھیر کرتا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نصیحت کا سامان ہے جن کے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہیں۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو چار (پاؤں) پر چلتے ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یقینا اللہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

بیشک ہم نے وہ آیتیں نازل کی ہیں جو حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہیں، اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے۔

38: سورة بنی اسرائیل (17۔ 44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے ؛ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، یہاں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا ہے کہ ہر چیز کے تسبیح کرنے کا طریقہ مختلف ہے، اور کائنات کی تمام چیزیں اپنے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کے حاشیے میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں بےحس سمجھتے ہیں ان سب میں کچھ نہ کچھ حس موجود ہے، اور یہ بات اب رفتہ رفتہ موجودہ سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔
Ayahs 24:47–52

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ (منافق) لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں، اور ہم فرمانبردار ہوگئے ہیں، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد بھی منہ موڑ لیتا ہے۔ یہ لوگ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں۔ (39)

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے کچھ لوگ ایک دم رخ پھیر لیتے ہیں۔

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر خود انہیں حق وصول کرنا ہو تو وہ بڑے فرمانبردار بن کر رسول کے پاس چلے آتے ہیں۔

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں کوئی روگ ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا انہیں یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم ڈھائے گا ؟ نہیں بلکہ ظلم ڈھانے والے تو خود یہ لوگ ہیں۔

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (حکم) سن لیا، اور مان لیا۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کریں، اللہ سے ڈریں، اور اس کی نافرمانی سے بچیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayahs 24:53–54

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور یہ (منافق لوگ) بڑے زوروں سے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر (اے پیغمبر) تم انہیں حکم دو گے تو یہ نکل کھڑے ہوں گے۔ (ان سے) کہو کہ : قسمیں نہ کھاؤ۔ (تمہاری) فرمانبرداری کا سب کو پتہ ہے۔ (40) یقین جانو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ : اللہ کا حکم مانو اور رسول کے فرمانبردار بنو، پھر بھی اگر تم نے منہ پھیرے رکھا تو رسول پر تو اتنا ہی بوجھ ہے جس کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی ہے، اور جو بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے، اس کے ذمہ داری تم خود ہو۔ اگر تم ان کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے، اور رسول کا فرض اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دیں۔

40: جب جہاد کا موقع نہ ہوتا تو یہ منافق لوگ منہ بھر بھر کر قسمیں کھاتے تھے کہ اگر حضور اقدس ﷺ نے حکم دیا تو یہ جہاد کے لیے گھروں سے نکل کر کھڑے ہوں گے، لیکن جب وقت آتا تو کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے جہاد سے جان چھڑا لیتے تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ تمہاری فرماں برداری کی حقیقت تو سب کو معلوم ہے۔ بارہا تجربہ ہوچکا ہے کہ وقت پڑنے پر تمہاری ساری قسمیں دھری رہ جاتی ہیں۔
Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ (41)

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو، تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جن لوگوں نے کفر کا راستہ اپنا لیا ہے، وہ زمین میں (کہیں بھاگ کر ہمیں) بےبس کردیں گے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور یقینا وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

41: مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام نے کفار کے ظلم و ستم کا سامنا کیا تھا، اور جب وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے تو اس کے بعد بھی کافروں کی طرف ہر وقت حملوں کا خوف لاحق رہتا تھا۔ اس موقع پر ایک صاحب نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہم ہتھیار کھول کر چین سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی، اور اس میں پیشین گوئی فرمائی گئی کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو زمین پر اقتدار حاصل ہونے والا ہے، چنانچہ اس وعدے کے مطابق آنحضرت ﷺ ہی کے زمانے میں پورا جزیرہ عرب اسلام کے جھنڈے تلے آچکا تھا اور خلافت راشدہ کے دور میں اسلامی حکومت کا دائرہ تقریباً آدھی دنیا تک وسیع ہوگیا تھا۔
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جو غلام لونڈیاں تمہاری ملکیت میں ہیں، اور تم میں سے جو بچے ابھی بلوغ تک نہیں پہنچے ان کو چاہیے کہ وہ تین اوقات میں (تمہارے پاس آنے کے لیے) تم سے اجازت لیا کریں۔ نماز فجر سے پہلے، اور جب تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتار کر رکھا کرتے ہو، اور نماز عشاء کے بعد (42) یہ تین وقت تمہارے پردے کے اوقات ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ نہ تم پر کوئی تنگی ہے، نہ ان پر۔ ان کا بھی تمہارے پاس آنا جانا لگا رہتا ہے، تمہارا بھی ایک دوسرے کے پاس۔ اللہ اسی طرح آیتوں کو تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں، تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیا کریں جیسے ان سے پہلے بالغ ہونے والے اجازت لیتے رہے ہیں۔ اللہ اسی طرح اپنی آیتیں کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

42: آیات 27 تا 29 میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ کسی دوسرے کے گھر میں اجازت مانگے بغیر داخل نہیں ہونا چاہیے، عام طور سے مسلمان اس حکم پر عمل کرنے لگے تھے لیکن کسی گھر کے غلام باندیوں اور نابالغ لڑکے لڑکیوں کو چونکہ بکثرت گھروں میں آنا جانا رہتا تھا، اس لئے وہ اس حکم کی پابندی نہیں کرتے تھے، چنانچہ بعض واقعات ایسے پیش آئے کہ یہ لوگ کسی کے گھر میں ایسے وقت بلا اجازت داخل ہوگئے جو اس کے آرام اور تنہائی کا وقت تھا، جس سے نہ صرف یہ کہ اسکو تکلیف ہوئی بلکہ بےپردگی بھی ہوئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ان میں یہ واضح کردیا گیا کہ کم از کم تین اوقات میں ان لوگوں کو بھی بلااجازت گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہیے، یہ تین اوقات وہ ہیں جن میں عام طور سے انسان تنہائی پسند کرتا ہے اور بےتکلفی سے صرف ضروری کپڑوں میں رہنا چاہتا ہے، اور ایسے میں کسی کے اچانک آجانے سے بےپردگی کا بھی احتمال رہتا ہے، البتہ دوسرے اوقات میں چونکہ یہ خطرہ نہیں ہے اس لئے ضرورت کی وجہ سے ان کو بلا اجازت بھی چلے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جن بڑی بوڑھی عورتوں کو نکاح کی کوئی توقع نہ رہی ہو، ان کے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے، (مثلا چادریں، نامحرموں کے سامنے) اتار کر رکھ دیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش نہ کریں (43) اور اگر وہ احتیاط ہی رکھیں تو ان کے لیے اور زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔

43: یہ ان بوڑھی عورتوں کا حکم ہے جن کی طرف نہ کسی کو رغبت ہوتی ہے، نہ وہ نکاح کے قابل ہوتی ہیں، ان کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ عام عورتیں غیر محرم مردوں کے سامنے جانے کے لئے جو چادر یا برقع وغیرہ استعمال کرتی ہیں، یہ بوڑھی عورتیں ان کے بغیر بھی نامحرم مردوں کے سامنے جاسکتی ہیں، بشرطیکہ بن سنور کر اور سنگھار کرکے نہ جائیں، اس سہولت کے ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ ان کے لئے بھی احتیاط اس میں ہے کہ وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح پردہ کریں۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ کسی نابینا کے لیے اس میں کوئی گناہ ہے، نہ کسی پاؤں سے معذور شخص کے لیے کوئی گناہ ہے، نہ کسی بیمار شخص کے لیے کوئی گناہ ہے، اور نہ خود تمہارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے کچھ کھالو (44) ، یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، (45) یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے اختیار میں ہوں۔ (46) یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے کہ سب ملکر کھاؤ، یا الگ الگ۔ چنانچہ جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، کہ یہ ملاقات کی وہ بابرکت پاکیزہ دعا ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے۔ اللہ اسی طرح آیتوں کو تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

44: ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ بعض افراد جو نابینا یا پاؤں سے معذور یا بیمار ہوتے تھے وہ دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے سے اس لئے شرماتے تھے کہ شاید دوسروں کو ان کے ساتھ کھاتے ہوئے کراہیت محسوس ہو، اور بعض معذور افراد یہ بھی سوچتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی معذوری کی وجہ سے دوسروں سے زیادہ جگہ گھیر لیں یا نابینا ہونے کی بنا پر دوسروں سے زیادہ کھالیں، دوسری طرف صحت مند لوگ بھی بعض اوقات یہ خیال کرتے تھے کہ کہیں یہ اپنی معذوری کی وجہ سے دوسروں کا ساتھ نہ دے سکیں کم کھائیں اور مشترک کھانے میں سے اپنا مناسب حصہ نہ لے سکیں، یہ احساس ان حضرات کے دل میں اسلام کے ان احکام نے پیدا کیا جن کی رو سے کسی دوسرے کو اپنی طرف سے ادنی سی تکلیف پہنچانا گناہ قرار دیا گیا ہے، نیز مشترک چیزوں کے استعمال میں احتیاط کی تاکید کی گئی ہے، ان آیات نے یہ واضح فرمایا کہ بےتکلف مقامات پر اتنی باریک بینی کی ضرورت نہیں ہے۔ 45: عرب کے لوگوں میں یہ عام رواج تھا کہ ان کے گھروں میں آنے والے یہ رشتہ دار جن کا اس آیت میں ذکر ہے اگر ان کی اجازت کے بغیر بھی ان کے گھر سے کچھ کھالیتے تو وہ نہ صرف یہ کہ برا نہیں مناتے تھے ؛ بلکہ خوش ہوتے تھے، جب یہ احکام آئے کہ کسی کی چیز اس کی خوش دلی کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں تو بعض صحابہ یہاں تک پرہیز کرنے لگے کہ اگر کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے گھر جاتے اور اس کی بیوی بچے ان کی کچھ خاطر تواضع کرتے تو ان کو کھانے میں تردد ہوتا تھا کہ گھر کا اصل مالک تو موجود نہیں ہے اس لئے ہمیں اس کی اجازت کے بغیر کھانا نہیں چاہیے، اس آیت نے واضح فرمادیا کہ جہاں یہ بات یقینی ہو کہ اصل مالک ہمارے کھانے سے خوش ہوگا، وہاں کھانے میں کچھ حرج نہیں ہے، البتہ جہاں یہ بات مشکوک ہو وہاں یہ حکم نہیں ہے چاہے کتنے قریبی رشتہ دار کا گھرہو۔ 46: بعض حضرات جب جہاد کے لئے جاتے تو اپنے گھر کی چابیاں ایسے معذور افراد کے حوالے کرجاتے جو جہاد میں جانے کے لائق نہیں تھے، اور ان کو یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ ہمارے گھر کی کوئی چیز اگر آپ کھانا چاہیں تو کھالیا کریں، اس کے باوجود یہ معذور حضرات احتیاط کی وجہ سے کھانے سے پرہیز کرتے تھے، اس آیت نے ان کو بھی یہ ہدایت فرمادی کہ اتنی احتیاط کی ضرورت نہیں ہے، جب مالک کی طرف سے چابیاں تک آپ کے حوالے کردی گئیں ہیں اور اجازت بھی دے دی گئی ہے تو اب کھانے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں اور جب رسول کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں شریک ہوتے ہیں تو ان سے اجازت لیے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ (47) (اے پیغمبر) جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جن کو چاہو، اجازت دے دیا کرو، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

47: یہ آیت غزوہ ٔ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی، اس وقت عرب کے کئی قبیلوں نے مل کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی اور آنحضرت ﷺ نے شہر کے دفاع کے لئے مدینہ منورہ کے گرد ایک خندق کھودنے کے لئے تمام مسلمانوں کو جمع کیا تھا، سارے مسلمان خندق کھودنے میں مصروف تھے، اور اگر کسی کو اپنے کسی کام سے جانا ہوتا تو آپ سے اجازت لے کرجاتا تھا، لیکن منافق لوگ اول تو اس کام کے لئے آنے میں سستی کرتے تھے، اور اگر آجاتے تو کبھی کسی بہانے سے اٹھ کر چلے جاتے، اور کبھی بلا اجازت ہی چپکے سے روانہ ہوجاتے، اس آیت میں ان کی مذمت اور ان مخلص مسلمانوں کی تعریف کی گئی ہے جو بلا اجازت نہیں جاتے تھے۔
Ayahs 24:63–64

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

(اے لوگو) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا (معمولی) نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو (48) اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے، یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ آپکڑے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حالت پر بھی ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور جس دن سب کو اس کے پاس لوٹایا جائے گا، اس دن وہ ان کو بتادے گا کہ انہوں نے کیا عمل کیا تھا، اور اللہ کو ہر بات کا پورا پورا علم ہے۔

48: برابر کے آدمی جب ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں سمجھی جاتی، اگر کوئی اس کے جواب میں نہ جائے تو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا، اور اگر چلا بھی جائے تو بغیر اجازت کے واپس آجانے کو بھی گوارا کرلیا جاتا ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں تو اسے آپس کا بلانا نہ سمجھو، چاہے گئے چاہے نہ گئے، بلکہ اہتمام کرکے جانا ہی ضروری ہے، دوسرے یہ بات بھی معمولی نہ سمجھو کہ جب چاہو بلا اجازت اٹھ کر چلے آؤ، بلکہ جب کہیں جانا ہو تو آپ سے اجازت لے کر جاؤ۔ اسی آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ممکن ہے کہ جب تم حضور اقدس ﷺ کو مخاطب کرو تو اس طرح نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو نام لے کر مخاطب کرتے ہو، لہذا یا محمد کہہ کر نہ بلاؤ، بلکہ آپ کو تعظیم کے ساتھ یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کرو۔