25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة فرقان تعارف یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی، اور اس کا بنیادی مقصد اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور ان کے بارے میں کفار مکہ کے مختلف اعتراضات کا جواب دینا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے کائنات میں انسان کے لیے جو بیشمار نعمتیں پیدا فرمائی ہیں، انہیں یاد دلا کر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری، اس کی توحید کے اقرار اور شرک سے علیحدگی کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی خصوصیات بیان فرمائی گئی ہیں، اور ان کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں جو اجر وثواب رکھا ہے، اس کا بیان فرمایا گیا ہے۔

Ayahs 25:1–4

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی شان ہے اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کا فیصلہ کردینے والی یہ کتاب نازل کی، تاکہ وہ دنیا جہان کے لوگوں کو خبردار کردے۔

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کی تنہا مالک ہے اور جس نے نہ تو کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک ہے، اور جس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کو ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے۔

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، اور جن کا خود اپنے نقصان یا فائدے پر بھی کوئی بس نہیں چلتا، اور نہ کسی کا مرنا یا جینا ان کے اختیار میں ہے، نہ کسی کو دوبارہ زندہ کرنا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں، بس ایک من گھڑت چیز ہے جو اس شخص نے گھڑ لی ہے، اور اس کام میں کچھ اور لوگ بھی اس کے مددگار بنے ہیں۔ (1) اس طرح (یہ بات کہہ کر) یہ لوگ بڑے ظلم اور کھلے جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔

1: مکہ کے بعض کافروں نے یہ الزام لگایا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے پچھلے انبیائے کرام کے واقعات کچھ یہودیوں سے سیکھ لیے ہیں، اور وہی واقعات لکھوا کر (معاذ اللہ) یہ قرآن بنا لیا ہے، حالانکہ جن یہودیوں کا وہ ذکر کرتے تھے، وہ اسلام لا چکے تھے۔ اگر آپ (معاذ اللہ) انہی سے سیکھ کر اس کلام الٰہی ہونے کا غلط دعوی کر رہے تھے تو یہ حقیقت سب سے پہلے ان یہودیوں پر ظاہر ہوتی، پھر وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا سچا پیغمبر مان کر آپ پر ایمان ہی کیوں لاتے ؟
Ayahs 25:5–11

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ : یہ تو پچھلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ہیں جو اس شخص نے لکھوالی ہیں، اور صبح و شام وہی اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ : یہ کلام تو اس (اللہ) نے نازل کیا ہے جو ہر بھید کو پوری طرح جانتا ہے، آسمانوں میں بھی، زمین میں بھی۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے، اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے ؟ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کے اوپر کوئی خزانہ ہی آپڑتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھایا کرتا۔ اور یہ ظالم (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم جس کے پیچھے چل رہے ہو، وہ اور کچھ نہیں، بس ایک شخص ہے جس پر جادو ہوگیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر) دیکھو ان لوگوں نے تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں۔ چنانچہ ایسے بھٹکے ہیں کہ راستے پر آنا ان کے بس سے باہر ہے۔

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی شان ہے اس (اللہ) کی جو اگر چاہے تو تمہیں ان سب سے کہیں بہتر چیز، (ایک باغ کے بجائے) بہت سے باغات دیدے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور تمہیں بہت سے محلات کا مالک بنا دے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

اصل حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قیامت کی گھڑی کو جھٹلایا ہوا ہے، (2) اور جو کوئی قیامت کی گھڑی کو جھٹلائے، اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

2: یعنی یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں، ان کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حق کے طلب گار ہیں، اور ان کے شبہات دور ہوجائیں تو یہ ایمان لے آئیں، بلکہ اصل وجہ ان کی بےفکری ہے، چونکہ ان کو قیامت اور آخرت پر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان کو بےہودہ اعتراضات کرتے ہوئے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ آخرت میں ان پر سزا بھی مل سکتی ہے۔
Ayahs 25:12–14

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بپھرنے اور پھنکارنے کی آوازیں سنیں گے۔

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب ان کو اچھی طرح باندھ کر اس کی ایک تنگ جگہ میں پھینکا جائے گا تو وہاں یہ موت کی آواز دے کر پکاریں گے۔

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم موت کو صرف ایک بار نہ پکارو، بلکہ بار بار موت کو پکارتے ہی رہو۔ (3)

3: یہ ترجمہ مشہور مفسر ابو السعود ؓ کی تفسیر پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی نے بھی نقل فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جس شدت سے گھبرا کر تم موت کو پکار رہے ہو، وہ تو آنے والی نہیں ہے، بلکہ تمہیں بار بار نت نئے عذاب سے سابقہ پڑے گا، اور ہر مرتبہ تمہیں اس کی شدت سے گھبرا کر موت کو پکارنا پڑے گا۔
Ayahs 25:15–18

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

کہو کہ یہ انجام بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے والی جنت، جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے ؟ وہ ان کے لیے انعام ہوگی، اور ان کا آخری انجام

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ بستے ہوئے ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ وہ ذمہ دارانہ وعدہ ہے جو تمہارے رب نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور وہ دن (انہیں یاد دلاؤ) جب اللہ ان (کافروں) کو بھی حشر میں جمع کرے گا اور ان (معبودوں) کو بھی جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، اور (ان کے معبودوں سے) کہے گا کہ : کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا، یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ : آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ ہماری مجال نہیں تھی کہ ہم آپ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالوں کے قائل ہوں، (4) لیکن ہوا یہ کہ آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا کا سازوسامان دیا، یہاں تک کہ جو بات یاد رکھنی تھی یہ اسے بھلا بیٹھے، اور (اس طرح) یہ خود برباد ہو کر رہے۔

4: جن معبودوں کو انہوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا تھا، ان میں سے کچھ تو فرشتے تھے جنہیں یہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے یا بعض لوگوں نے کچھ انبیاء یا بزرگوں کو خدا بنا رکھا تھا، ان کی طرف سے تو یہ جواب ظاہر ہی ہے، لیکن جو لوگ بتوں کو پوجتے تھے، ان کے بارے میں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ وہ تو پتھر تھے، اور ان میں بولنے کی صلاحیت کہاں تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صرف ان مشرکین کا ذکر ہے جو انسانوں یا فرشتوں کو خدا بنائے بیٹھے تھے، اور ان کی علامت کے طور پر بتوں کو پوجتے تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ ان پتھروں میں بھی بولنے کی صلاحیت پیدا فرما دے۔
Ayahs 25:19–20

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

لو (اے کافرو) انہوں نے تو تمہاری وہ ساری باتیں جھٹلا دیں جو تم کہا کرتے ہو۔ اب نہ (عذاب کو) ٹالنا تمہارے بس میں ہے نہ کوئی مدد حاصل کرنا۔ اور تم میں سے جو کوئی ظلم کا مرتکب ہے، ہم اسے بڑے بھاری عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے، وہ سب ایسے تھے کہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے، اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ بتاؤ کیا صبر کرو گے ؟ (5) اور تمہارا پروردگار ہر بات دیکھ رہا ہے۔

5: کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد درمیان میں اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے خطاب فرما رہے ہیں کہ تمہارے مخالفین تم پر طرح طرح کے اعتراضات کر کے تمہیں جو تکلیفیں دے رہے ہیں، وہ اس لیے کہ ہم نے تمہیں ان کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ یہ حق واضح ہوجانے کے باوجود اسے مانتے ہیں یا نہیں، اور انہیں تمہاری آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ تم ان کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتے ہو یا نہیں کیونکہ تمہارے صبر ہی سے یہ ظاہر ہوگا کہ تم نے حق کو سچے دل سے قبول کیا ہے۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

جن لوگوں کو یہ توقع ہی نہیں ہے کہ وہ (کسی وقت) ہم سے آملیں گے، وہ یوں کہتے ہیں کہ : ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ؟ یا پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھے ہوئے ہیں۔ (6) اور انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی ہوئی ہے۔

6: یہ ان کا تکبر ہے جو ان سے ایسی باتیں کہلوا رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھتے ہیں کہ اپنی ہدایت کے لیے کسی پیغمبر کی بات ماننا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور مطالبہ یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود آکر انہیں سمجھائیں، یا کم از کم کوئی فرشتہ بھیجیں۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن ان کو فرشتے نظر آگئے، اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کا موقع نہیں ہوگا، بلکہ یہ کہتے پھریں گے کہ خدایا ! ہمیں ایسی پناہ دے کہ یہ ہم سے دور ہوجائیں۔ (7)

7: مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو دیکھنے کی ان میں تاب ہی نہیں ہے، اور فرشتے انہیں اس وقت دکھائے جائیں گے جب وہ انہیں دوزخ میں ڈالنے کے لیے آئیں گے اس وقت یہ ان کو دیکھنے سے پناہ مانگیں گے۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور انہوں نے (دنیا میں) جو عمل کیے ہیں، ہم ان کا فیصلہ کرنے پر آئیں گے تو انہیں فضا میں بکھرے ہوئے گرد و غبار (کی طرح بےقیمت) بنادیں گے۔ (8)

8: جن اعمال کو انہوں نے نیکی سمجھ رکھا تھا، وہ آخرت میں گرد و غبار کی طرح بےحقیقت نظر آئیں گے۔ اور ان کے جو کام واقعی اچھے تھے، ان کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں دے دیا ہوگا، لیکن آخرت میں تمام نیکیوں کے قبول ہونے کے لیے ایمان لازمی شرط ہے، اس لیے وہاں یہ نیکیاں بھی کام نہیں آئیں گی۔
Ayahs 25:24–30

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن جنتی لوگ ہوں گے جن کا مستقر بھی بہترین ہوگا، اور آرام گاہ بھی خوب ہوگی۔

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان پھٹ کر ایک بادل کو راہ دے گا، اور فرشتے اس طرح اتارے جائیں گے کہ ان کا تار بندھ جائے گا۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن صحیح معنی میں بادشاہی خدائے رحمن کی ہوگی، اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن ظالم انسان (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا، اور کہے گا : کاش میں نے پیغمبر کی ہمراہی اختیار کرلی ہوتی۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری بربادی ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

میرے پاس نصیحت آچکی تھی، مگر اس (دوست) نے مجھے اس سے بھٹکا دیا، اور شیطان تو ہے ہی ایسا کہ وقت پڑنے پر انسان کو بےکس چھوڑ جاتا ہے۔

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول ﷺ کہیں گے کہ : یا رب ! میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی۔ (9)

9: اگرچہ سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم ﷺ شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح مجرم لوگوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے۔ (10) اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لیے کافی ہے۔

10: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ کفار مکہ آپ کے ساتھ جو دشمنی کررہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے، پھر جن کے مقدر میں ہدایت قبول کرنا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دیتے ہیں اور اپنے پیغمبروں کی مدد فرماتے ہیں۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ : ان پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ میں کیوں نازل نہیں کردیا گیا ؟ (اے پیغمبر) ہم نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارا دل مضبوط رکھیں۔ (11) اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھوایا ہے۔

11: یعنی قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ ﷺ کو مخالفین کی طرف سے جو نت نئی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں، ہم کوئی نئی آیت نازل کر کے آپ کو تسلی دے دیتے ہیں۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور جب کبھی یہ لوگ تمہارے پاس کوئی انوکھی بات لے کر آتے ہیں، ہم تمہیں (اس کا) ٹھیک ٹھیک) جواب اور زیادہ وضاحت کے ساتھ عطا کردیتے ہیں۔ (12)

12: یہ قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کا دوسرا فائدہ ہے کہ جب کوئی نیا اعتراض کافروں کی طرف سے آتا ہے تو قرآن کریم کی کسی نئی آیت کے ذریعے اس کا واضح جواب فراہم کردیا جاتا ہے۔
Ayahs 25:34–38

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جن لوگوں کو گھیر کر نہ کے بل دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا، وہ بدترین مقام پر ہیں، اور ان کا راستہ بدترین گمراہی کا راستہ ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار کے طور پر مقرر کیا تھا۔

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے کہا تھا کہ : تم دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو تباہ کر کے نیست و نابود کردیا۔

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کردیا، اور ان کو لوگوں کے لیے عبرت کا سامان بنادیا۔ اور ہم نے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے عاد وثمود اور اصحاب الرس (13) کو اور ان کے درمیان بہت سی نسلوں کو تباہ کیا۔

13: عاد وثمود کا تعارف سورة اعراف : 65 تا 84 میں گذر چکا ہے اور ”اصحاب الرس“ کے لفطی معنی ہیں ”کنویں والے“۔ بظاہر یہ لوگ کسی کنویں کے پاس آباد تھے۔ قرآن کریم نے بس اتنا ذکر فرمایا ہے کہ انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا، ان کے بارے میں مختلف تاریخی روایتیں ملتی ہیں، لیکن ان کے واقعے کی کوئی تفصیل نہ قرآن کریم نے بتائی ہے، نہ کسی مستند حدیث میں آئی ہے۔ اتنی بات ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر بھیجے گئے تھے جن کی انہوں نے نافرمانی کی، اور اس کی وجہ سے ان کو ہلاک کیا گیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 25:39–40

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک کو سمجھانے کے لیے ہم نے مثالیں دیں، اور (جب وہ نہ مانے تو) ہر ایک کو ہم نے پیس کر رکھ دیا۔

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ (کفار مکہ) اس بستی سے ہو کر گزرتے رہے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی (14) بھلا کیا یہ اس بستی کو دیکھتے نہیں رہے ؟ (پھر بھی انہیں عبرت نہیں ہوئی) بلکہ ان کے دل میں دوسری زندگی کا اندیشہ تک پیدا نہیں ہوا۔

14: اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی قوم ہے جس کا واقعہ سورة ہود : 77 تا 83 میں گذر چکا ہے۔