Ayah 22:1یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو ! ) اس میں اولادِ آدم کو تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر قیامت کا تذکرہ کر کے اس کے لازم ہونے کا سبب بیان کیا۔ اور ہولناک انداز سے اس کا تعارف کرایا پھر فرمایا : اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْ ئٌ عَظِیْمٌ تاکہ وہ اس حالت کا معائنہ کریں اور اپنی عقلوں سے اس کو تصور میں لائیں تاکہ اپنی بقاء و دوام کے پیش نظر ان نفوس پر رحم کھائیں اور تقویٰ کا لباس پہن کر اس دن کی سختی سے بچ جائیں کیونکہ تقویٰ ہی ایسی چیز ہے جو اس دن کی سختی سے ان کو بچا سکتی ہے۔
الزلزلۃ زور سے ہلنا اور جھنجوڑنا۔ زلزلہ کو الساعۃؔ کی طرف مضاف کیا۔ یہ اضافۃ المصدر الی الفاعل کی قسم ہے گویا قیامت ہی نے زمین کو ہلایا ہے۔ اس کو مجاز حکمی کہا جاتا ہے۔ نمبر 2۔ یہ اضافۃ المصدر الی الظرف کی قسم ہے کیونکہ وہ زلزلۃ قیامت میں پیش آئے گا جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ بل مکر اللیل والنھار ] سبا : 33 [ اور اس کا وقت قیامت کے دن ہوگا۔ نمبر 2۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ اس آیت میں معتزلہ کیلئے کوئی دلیل نہیں کہ معدوم چیز کو شئی کہہ دیا یہ اس کا نام ہے جس کا وجود خالی ہے۔
Ayah 22:2اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تذھل کا معنی ہے مشغول ہوجانا، یہ قطرب کا قول ہے :
ضرباً یزیل الھام عن مقیلہ ویذھل الخلیل عن خلیلہ
بعض نے فرمایا : اس کا معنی بولنا ہے۔ بعض نے کہا : غافل ہوجانا ہے۔ بعض نے کہا : بھول جانا ہے۔ یہ تمام معانی قریب قریب ہے۔ عما ارضعت مبرد نے کہا : اس میں ما مصدر یہ ہے یعنی وہ دودھ پلانے سے بھول جائے گی۔ فرمایا : یہ دلیل ہے کہ یہ زلزلہ دنیا میں ہوگا کیونکہ دوبارہ اٹھنے کے بعد تو نہ حمل ہوگا اور نہ دودھ پلانا ہوگا۔ مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو حاملہ مر جائے گی وہ حاملہ ہی اٹھائی جائے گی پس وہ ہولناکی کی وجہ سے اپنا حمل گرا دے گی اور جو دودھ پلاتے ہوئے مر جائئے گی وہ حاملہ ہی اٹھائی جائے گی پس وہ ہولناکی کی وجہ سے اپنا حمل گرا دے گی اور جو دودھ پلاتے ہوئے مر جائے گی وہ اسی طرح اٹھائی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یوما یجعل الولدان شیئا۔ (الزمل) جس دن بچے بوڑھے ہو جائئیں گے۔ بعض نے کہا : یہ پہلے صور کو پھونکنے کے وقت ہوگا۔ بعض نے کہا : قیامت کے قیام کے ساتھ ہوگا حتیٰ کہ دوسرے صور کے پھونکنے کے ساتھ لوگ اپنی قبور سے حرکت کریں گے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آیت میں زلزلہ سے مراد قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو بیان کرنا ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (البقرہ :214) اور اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا : (1) اے اللہ ! ان کفار کو شکست دے اور ان کے پائوں اکھیڑ دے۔ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو بیان کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ نیک اعمال کے ساتھ لوگ اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ زلزلہ کو شی عظیم کہنا یا تو اس لیے ہے کہ اس کا وقوع یقینی ہے اسی وجہ سے معدوم چیز کو شی کہنا بھی آسان ہے، کیونکہ یقین، موجودات کے مشابہ ہوتا ہے یا مآل اور انجام کے اعتبار سے ہے یعنی یہ جبب واقع ہوگا تو عظیم شی ہوگا۔ گویا اب اسم کا اطلاق نہیں کیا بلکہ اس کا معنی ہے جب یہ ہوگا تو عظیم شی ہوگا اسی کی وجہ سے دودھ پلانے والیاں اپنے بچوں سے غافل ہوجائیں گے اور لوگ نشہ میں مست نظر آئیں گے جیسا کہ فرمایا : وتری الناس سکریٰ یعنی اسکی ہولناکی کی وجہ سے اور جو انہیں خوف اور گھبراہٹ لاحق ہوگی اس کی وجہ سے نشہ میں مست نظر آئیں گے۔ وماھم یسکریٰ حالانکہ وہ شراب کے نشہ میں نہیں۔ اہل معانی نے کہا : تو لوگوں کو دیکھے گا گویا کہ وہ نشہ میں مست ہیں۔ اس پر دلیل ابی زرعہ ہرم بن عمرو بن جریر بن عبداللہ کی قرأت وتری الناس تا کے ضمہ کے ساتھ ہے یعنی تجھے خیال گزرے گا۔ حمزہ اور کسای نے سکریٰ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغات ہیں یہ سکران کی جمع ہے جیسے کسیٰ و کسائی، الزلزلۃ کا معنی سختی سے حرکت دینا ہے۔ الذھول کا معنی غم، ھم اور تکلیف وغیرہ کے لاحق ہونے کی وجہ سے کسی چیز سے غافل ہوجانا ہے۔ ابن زید نے کہا : عورت اس تکلیف کی وجہ سے اپنے بچے کو چھوڑ دے گی جو اس پر نازل ہوگی۔
Ayah 22:3وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ ( اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑتے ہیں) فی اللہؔ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑنا ہے۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) ۔
یہ نضر بن حارث کے متعلق اتری۔ وہ بڑا جھگڑالو تھا۔ وہ کہتا ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور قرآن مجیدپہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بوسیدہ ہڈیاں زندہ کرنے کی قدرت نہیں۔ نمبر 2۔ یہ آیت عام ہے ہر خواہش پرست جو دین کا مخالف ہو وہ مراد ہے۔ وَّ یَتَّبِعُ (اور وہ پیروی کرتا ہے) کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ (ہر سرکش شیطان کی) عادؔ ہر ایسا سرکش جو شر میں دوام و استمرار اختیار کرنے والا ہو۔ مَرِیْد پر وقف نہیں پڑھا جاسکتا کیونکہ مابعد اس کی صفت ہے۔
Ayah 22:4کُتِبَ عَلَیْہِ (اللہ تعالیٰ نے شیطان کے متعلق لکھ دیا ہے) یعنی شیطان کے متعلق فیصلہ ہوچکا۔ اَنَّہٗ (معاملہ و شان یہ ہے۔ ) یہ کُتِبَ کا نائب فاعل ہے۔ مَنْ تَوَلَّاہُ (کہ جس نے اس سے دوستی اختیار کی) شیطان کی پیروی کی فَاَنَّہٗ (پس وہ اس کو) بیشک شیطان یُضِلُّہٗ (ضرور بھٹکا دے گا) سیدھے راستہ سے۔ وَیَھْدِیْہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ (اور اس کی راہنمائی دوزخ کے عذاب کی طرف کرے گا) عذاب سعیر یعنی آگ۔ قول زجاج فَاَنَّہ کی فاء عاطفہ ہے اور اَنَّ کو تاکید کیلئے دوبارہ لایا گیا ہے۔ مگر ابوعلی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا اگر مَنْ ؔ شرط کیلئے ہے تو فاؔء اس کی جزاء کیلئے آئی ہے اور اگر مَنْ کو الّذیْ کے معنی میں مانا جائے تو پھر فاؔء مبتدا کی خبر پر داخل ہوئی ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے : فَالْاَ مْرُ اَنَّہٗ یُضِلُّہٗ اور عطف اور تاکید پہلے کی تکمیل کے بعد آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے شیطان کے متعلق لکھ دیا ہے اسی آدمی کا گمراہ کرنا جو اس سے دوستی اختیار کرے اور آگ کی طرف اس کی راہنمائی کرے۔
Ayah 22:5پھر منکرین بعث پر حجت لازم کرتے ہوئے فرمایا : یٰآ یُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ (اے لوگو ! اگر تم کو دوبارہ اٹھائے جانے کا شک ہے) یعنی اگر بعث بعدالموت کے متعلق تمہیں شک ہے تو تمہارے شک کا ازالہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم اپنی ابتدائی خلقت پر نگاہ ڈالو۔ کہ ابتداء میں تم مٹی اور پانی تھے اور تمہارے بعث کے انکار کا سبب بھی یہی انسانی وجود کا مٹی اور پانی بن جانا ہے۔ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ (پس بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا) یعنی تمہارے آباء و اجداد کو مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ (مٹی سے پھر) پیدا کیے گئے۔ مِںْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ (ایک بوند سے پھر خون کے جمے ہوئے لو تھڑے سے) جمے ہوئے خون کے ٹکڑے سے۔ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ (پھر بوٹی سے) چھوٹے گوشت کے ٹکرے سے جو ایک دفعہ چبایا جاسکے۔ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ (مکمل و نامکمل) المخلقۃ درست و ملائم جو نقص و عیب سے پاک ہو۔ گویا اللہ تعالیٰ مضغہ مختلف پیدا فرماتے ہیں۔ بعض مضغات ان میں کامل الخلقت اور عیوب سے مبرأ ہوتے ہیں اور بعض ان میں سے اس کے برعکس ہوتے ہیں یہ فرق ہی انسانوں کی خلقت و بناوٹ، شکل و صورت، طول وقصر، تکمیل و نقص کا باعث ہے۔ بلاشبہ ہم نے تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت اور ایک خلقت سے دوسری میں منتقل کیا۔ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ (تاکہ ہم تمہارے سامنے واضح کردیں) اس تدریج میں ہماری کمال قدرت اور کامل حکمت ہے۔ بیشک وہ ہستی جو انسانوں کو مٹی سے ابتدائی مرحلے میں پھر نطفہ سے دوسرے مرحلہ میں بناتی ہے حالانکہ پانی اور مٹی اور انسان میں کوئی مناسبت نہیں وہ اس بات پر قادر ہے کہ نطفہ کو علقہ اور علقہ کو مضغہ اور مضغہ کو ہڈیاں بنا دے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ جس طرح پہلی مرتبہ بنایا اسی طرح اعادہ کر دے۔ وَنُقِرُّ (اور ہم ٹھہراتے ہیں)
مفضل کے علاوہ تمام نے رفع سے پڑھا ہے۔ یہ وقف کے بعد جملہ مستانفہ ہے۔ ای نحن نثبت فِی الْاَرْحامِ مَا نَشَآءُ (ارحام میں جس طرح ہم چاہتے ہیں) اس کا ثبوت اور ٹھہرائو کرتے ہیں اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک وقت مقررہ تک) ولادت کے وقت تک اور جس کو ٹھہرانا نہیں چاہتے اس کو رحم سے گرادیتے ہیں۔ ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ (پھر تمہیں نکالتے ہیں) ارحام سے طِفْلًا (بچہ بنا کر)
یہ حال ہے اور اس سے مراد جنس ہے اسی لئے یہ جمع نہیں لایا گیا۔ نمبر 2۔ اس سے مراد یہ بھی لی جائے کہ ہم تم میں سے ہر ایک کو نکالتے ہیں طفل کی حالت میں۔ ثُمَّ لِتَبْلُغُوْا (پھر تاکہ تم پہنچ جائو) پھر ہم تمہاری تربیت کرتے ہیں تاکہ تم پہنچ جائو۔ اَشُدَّکُمْ (اپنی جوانی کو) کمال عقل اور کمال قوت کو۔ قول مفسر : یہ جمع کے ان الفاظ میں سے ہے جن کا واحد مستعمل نہیں ہے۔
قول دیگر اشد، جمع شدت کی ہے جس طرح انعم جمع نعمت ہے فافہم و تدبر مترجم۔ وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی ( اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو وفات پا جاتے ہیں) بھر پور جوانی کے وقت یا اس سے قبل ہی یا اس کے بعد وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّاِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ (اور بعض تم میں سے بالکل ناکارہ عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں) ارذل کا معنی اخس ہے یعنی انتہائی پیری اور سن خرافت لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا (تاکہ وہ جان چکنے کے بعد پھر بالکل نادان ہوجاتا ہے) یعنی وہ نادان ہوجائے اس کے بعد کہ وہ اسکو جانتا تھا یا تاکہ وہ علمی استفادہ نہ کرسکے اور جو پہلے جانتا تھا اس کو بھی بھول جائے پھر بعث کی ایک اور دلیل پیش کی اور فرمایا وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَۃً (اور تو دیکھتا ہے زمین خشک پڑی ہے) مردہ، خشک، فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَآ ئَ اھْتَزَّتْ (پھر ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے) اِھْتَزّتْ کا معنی نبات سے حرکت میں آتی ہے۔ وَرَبَتْ (اور بڑھتی ہے) پھولتی ہے۔
وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ (اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی نباتات) زوجؔ صنف کے معنی میں ہے۔ بَھِیْجٍ (خوشنما) خوبصورت
جس کو دیکھ کر دیکھنے والا خوش ہو۔
Ayah 22:6ذٰلِکَ : یہ مبتدا ہے اس کی خبر بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ ہے ( یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے) یہ تخلیق بنی آدم کا جو تذکرہ ہوا اور اسی طرح زمین کی آبادی اور اس سے حاصل ہونے والی قسما قسم کی حکمتیں ثابت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہیں یعنی انہی کا وجود حقیقی اور قائم رہنے والا ہے۔ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی (اور وہی مردوں کو زندہ کریں گے) جیسا کہ بنجر زمین کو آباد کردیا۔ وَانَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ (اور وہی ہر چیز پر قادر ہے) قدرت والا ہے۔
Ayah 22:7وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ ٰاتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْھَا وَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِیْ القُبُوْرِ (اور یقینا قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں (گونا گوں تغیرات قیامت کا پیش خیمہ ہیں) اور یہ بات قطعی ہے کہ اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا) یعنی وہ حکمت والا ہے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس نے قیامت و بعث کا وعدہ کیا ہے پس ضروری ہے کہ جو وعدہ اس نے کیا اس کو پورا کرے۔
Ayah 22:8وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ (اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑا کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق ایسی صفات اس کی طرف منسوب کرتے ہیں جو اس کے مناسب نہیں۔ یہ ابوجہل کے متعلق اتری۔
8۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) علم سے بد یہی جو معرفت الٰہی تک پہنچائے۔ وَّلَا ھُدًی (بغیر ہدایت و راہنمائی) اس سے استدلالی علم مراد ہے کیونکہ یہ معرفت کی طرف لے جانے والا ہے۔ وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ (اور بغیر روشن کتاب کے) اس سے مراد وحی ہے انسانی علوم انہی تین طریقوں پر حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 22:9ثَانِیَ عِطْفِہٖ (وہ اپنے پہلو کو موڑنے والا ہے) یہ حال ہے یعنی وہ اپنی گردن کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے تکبر و بڑھائی کی وجہ سے موڑنے والا ہے۔
عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) اس کے دین سے لَہٗ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ (ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے) یوم بدر میں قتل ہونا۔ وَّ نُذِیْقُہٗ یَوْمَ الِْقیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ (اور ہم اس کو قیامت کے دن جلنے کا عذاب چکھائیں گے) ان کے لئے دونوں جہانوں یعنی دنیا و آخرت کا عذاب جمع کردیں گے۔
Ayah 22:10ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ (یہ تیرے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے) دونوں جہان میں عذاب کا باعث وہی کفر و تکذیب ہے جس کو وہ آگے کما کر روانہ کرچکا اور الیدؔ سے اس کی تعبیر اس لئے فرمائی کیونکہ ہاتھ ہی آلہ الکسب ہے۔ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (اور بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والے نہیں) بغیر گناہ کسی کو نہ پکڑیں گے اور کسی کے گناہ کے بدلے دوسرے کو نہ پکڑیں گے۔ اس کا عطف بماؔ پر ہے۔ ای وبِاَنَّ اللّٰہ۔
الظلام مبالغہ کا صیغہ لایا گیا کیونکہ اس کے ساتھ ملکر جمع کا لفظ عبید آرہا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کی طرف سے قلیل ظلم بھی گناہ کی قباحت اور استغناء کے حاصل ہونے کے باوجود ہماری طرف کے ہونے والے ظلم کے مقابلے میں کثیر ہے۔
Ayah 22:11وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ (اور بعض آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کنارے پر کھڑے ہیں) دین کے ایک کنارے پر نہ اس کے درمیان اور مرکز میں۔ یہ درحقیقت ایک مثال ہے کہ وہ اپنے دین کے متعلق قلق و اضطراب کا شکار ہیں۔ سکون و اطمینان میسر نہیں۔
فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُ (اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچ گئی) جسمانی صحت اور معیشت میں وسعت اطْمَاَنَّ (تو اس نے قرار پالیا) قرار پکڑا اور پر سکون ہوا۔ بِہٖ (اس پر) اس بھلائی پر جو اس کو میسر ہوئی یا اس دین پر پس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ (اور اگر اس کو کوئی آزمائش مصیبت آگئی) برائی اور جسمانی تکلیف، بدحالی انْقَلَبَ عَلٰی وَجْھِہٖ (تو منہ اٹھا کر کفر کی طرف چل دیتا ہے) اس کی جانب یعنی مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ جاتا ہے جس طرح وہ شخص جو لشکر کے ایک جانب پڑا ہوا گر لشکر کامیابی و غنیمت حاصل کرے تو مطمئن اور ثابت قدم رہتا ہے ورنہ فرار اختیار کرکے اپنی راہ لیتا ہے۔
قول مفسرین رحمہم اللہ یہ بعض بدوئوں کے متعلق اتری جو مدینہ میں مہاجر بن کر آئے۔ ان میں سے ایک کا جب بدن صحیح ہوتا اور اس کی گھوڑی شاندار بچھیرا جنتی اور اپنے گھر میں بھی بیٹا پیدا ہوتا اور مال و حیوانات میں اضافہ ہوتا تو کہتا میں نے تو اس دین میں برکت ہی برکت پائی ہے اور مطمئن ہوتا اور اگر معاملہ اس کے الٹ ہوتا تو دین سے منہ پھیرلیتا۔ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ (وہ دنیا و آخرت کھو بیٹھا) یہ حال ہے اور قدؔمقد رہ ہے اس کی دلیل روح اور زید کی قراءت ہے۔
خاسر الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَہَ خسر ان فی الدنیا سے قتل وغیرہ مراد ہے۔ اور آخرت کا خسارہ خلود فی النار ہے۔ ذٰلِکَ (یہ) دونوں جہان کا خسارہ۔ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ (وہ کھلا ہوا خسارہ ہے) ایسا ظاہر جو کسی پر مخفی نہ رہے گا۔
Ayah 22:12یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے کی عبادت کرتا ہے) مرادبت۔ وہ ارتداد کے بعد اس طرح کرتا ہے۔ مَالَا یَضُرُّہٗ (جو اس کو نہ نقصان پہنچاسکتا ہے) اگر وہ اس کی عبادت نہ کرے۔ وَمَالَایَنْفَعُہٗ (اور جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے) اگر اس کی عبادت بھی کرے۔ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ (یہ پرلے درجے کی گمراہی ہے) جو درستگی سے دور ہے۔
Ayah 22:13یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِہٖ (وہ پکارتا ہے اس کو جس کی عبادت کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب الوقوع ہے)
اشکال : اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اصنام سے نفع و ضرر کی نفی فرمائی اور اس آیت میں دونوں چیزیں ثابت کیں ؟
حل : اگر معنی صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو یہ وہم خود دور ہوجاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کی حماقت یہ بیان کی کہ وہ ایک حماد کی عبادت کرتا ہے جو ذرا بھر نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ حالانکہ کافر کا اعتقاد اس کے متعلق یہ ہے کہ وہ اس کا سفارشی بنے گا۔ پھر فرمایا قیامت کے دن یہ کافر بڑے زور دار انداز سے کہہ اٹھے گا جبکہ وہ بتوں کا نقصان ملاحظہ کرے گا۔ مگر شفاعت کا ذرا بھر اثر نہ دیکھے گا۔ جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے کہ یہ بہت برا مددگار ساتھی ہے۔ لَبِئْسَ الْمَوْلٰی (ایسا کارساز بھی بہت برا) مدد گار۔ وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ (اور بہت برا رفیق ہے۔ )
یدعوکا لفظ بار بار لایا گیا ہے گویا ا سطرح فرمایا یدعو، یدعو من دون اللہ ما لا یضرہ وما لا ینفعہ پھر فرمایا لمن
ضرہ اس کے معبود ہونے سے نفع کی نسبت قریب تر ہے۔ جب کہ وہ سفارشی ہو۔
Ayah 22:14اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْانْھٰرُ 1 اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ (بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے جنت کے ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے) یہ وعدہ ان لوگوں کیلئے ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہر حال میں کرنے والے ہوں ان کی طرح نہ ہوں جو ایک کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہوں۔
Ayah 22:15مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللّٰہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی مدد دنیا و آخرت میں ہر گز نہ کریں گے) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اپنے رسول کا مددگار ہے آپ کے دشمنوں میں سے جو اس کے خلاف گمان رکھتا ہے۔ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ (پس اس کو چاہئے کہ وہ ایک رسّی تان لے) سبب کا معنی رسّی۔ اِلَی السَّمَآ ئِ (آسمان تک) گھر کی بلندی۔ ثُمَّ لْیَقْطَعْ (پھر وہ وحی کا سلسلہ کاٹ دے) پھر وہ چاہئے کہ گلا گھونٹ لے۔ یہاں گلا گھونٹنے کو قطعاً فرمایا ہے کیونکہ گلا گھونٹنے والاا پنی سانس کے راستوں کو روک کر سانس کو کاٹ دیتا ہے۔
فَلْیَنْظُرْ ھَلْ یُذْھِبَنَّ کَیْدُہٗ مَایَغِیْظُ (پھر غور کرے کہ کیا اس کی تدبیر اس کی ناگواری کی چیز کو) ماؔ الذی کے معنی میں ہے ای الذی یغیظہٗ جو اس کے غصہ دلاتی ہے یا مصدریہ ہے اب مایغیظ سے غصہ کرنا مراد اس طرح ہوگا کہ اس کو یہ تصور دل میں لانا چاہئے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو کیا اس سے اللہ تعالیٰ کی نصرت ہٹ جائے گی جو اس کو غصہ دلا رہی ہے۔ ہر گز نہیں پھر اس غصے کا کیا فائدہ ؟ اس کے فعل کو بطور استہزاء کیدًا کہا کیونکہ اس نے یہ کید محسود کے ساتھ نہیں کیا بلکہ اپنی ذات سے کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے غصہ دلانے والی چیز کا وہ ازالہ کرسکے۔
Ayah 22:16وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے اس اتارنے کی طرح ہم نے سارا قرآن مجید اتارا ہے۔ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ (واضح آیات) وَّاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ (اور بیشک اللہ اس کی راہنمائی کرتے ہیں جس کے متعلق ارادہ کرتے ہیں) یعنی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ان لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ یہ ایمان لائیں گے یا ایمان والوں کو ایمان پر ثابت قدم فرماتے ہیں۔ اور ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتے ہیں اسی طرح ہم نے اس کو واضح اتارا ہے۔
Ayah 22:17اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصَّابِئِیْنَ وَالنَّصٰریٰ وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا (بیشک اللہ تعالیٰ مسلمانوں یہودی اور صابی اور عیسائی، مجوسی اور مشرکین) ایک قول یہ ہے کہ ادیان پانچ ہیں۔ چار شیطان کیلئے اور ایک رحمان کیلئے۔ الصابئونؔ یہ نصاریٰ کی ایک قسم ہے۔ پس چھ نہ بنے۔
اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے) احوال و اماکن کے اعتبار سے ایک ہی سزا نہ دیں گے۔ اور نہ ان کو ایک جگہ جمع کریں گے۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے) اس کو جاننے والا اور اس کی نگہبانی کرنے والا ہے۔ پس ہر شخص کو اپنے عقیدہ، قول، فعل پر غور کرنا چاہیے۔ یہ انتہائی بلیغ انداز میں وعید ہے۔
Ayah 22:18اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نہیں جانتے) کیا تم نہیں جانتے اے محمد ﷺ ایسا علم جو آنکھوں دیکھنے کی طرح ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ (کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں) ۔
ایک قول :
تمام اس کو سجدہ کرتے ہیں مگر ہمیں اس کی اطلاع نہیں جیسا کہ ان کی تسبیح کی اطلاع نہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسبیحہم ] الاسراء : 44 [
دوسرا قول :
غیر مکلف میں افعال کے اعتبار سے جو تبدیلیاں وارد ہوتی ہے اور اس کے حکموں کیلئے وہ مسخر ہیں جو کام ان کے ذمہ لگا دیا اسی کو سجود سے تعبیر کیا۔ مکلف کے سجدہ کے ذریعہ اطاعت کرنے سے تشبیہ دیتے ہوئے کیونکہ مکلف کیلئے سب سے بڑی عاجزی یہی ہے۔ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ (اور بہت سے لوگ) یعنی بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو طاعت و عبادت کا سجدہ کرتے ہیں۔
یہ مبتداہو نے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور و من الناسؔ اس کی صفت ہے اور اس کی خبر محذوف ہے اور وہ مثابٌؔ ہے اس پر کَثِیْر حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ دلالت کرتا ہے۔
وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ (اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوگیا) یعنی ان میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ جن پر کفر کی وجہ سے عذاب ثابت ہوچکا اور سجدہ سے انکار کی وجہ سے عذاب لازم ہوچکا۔ وَمَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ (اور جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل کر دے) بدبختی کے ساتھ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ (پس اس کو کوئی عزت دینے ولا نہیں) خوش بختی کے ساتھ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَایَشَآئُ (بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں) اکرام و اہانت وغیر ذٰلک۔
ر
Ayah 22:19ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ (یہ دونوں فریق ہیں) آپس میں جھگڑنے والے فریق ہیں۔ یہاں فریق کو خصم سے جو کہ صفت ہے تعبیر کردیا۔ اخْتَصَمُوْا (انہوں نے اختلاف کیا) معنی کا لحاظ کر کے جمع کا صیغہ لایا گیا۔ اور ھذانؔ لفظ کا لحاظ کر کے تثنیہ لایا گیا۔ مراد اس سے مومن اور کافر دو فریق ہیں۔
قول ابن عباس ؓ :
یہ ضمیر مذکورہ پانچوں اہل ادیان اور مؤمنوں کی طرف لوٹتی ہے مومن ایک فریق ہیں اور باقی پانچوں ایک فریق ہیں۔ فِیْ رَبِّھِمْ (اپنے رب کے متعلق) اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی صفات کے متعلق پھر ہر ایک کی جزاء ذکر کی۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پس وہ لوگ جو کافر ہیں) اللہ تعالیٰ نے : ان اللہ یفصل بینہم یوم القیامۃ ] الحج : 17] میں جس فیصلے کا ذکر فرمایا اس کی تفصیل اسی آیت میں آرہی ہے۔ وہ یہ ہے : قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ (ان کے لیے آگ کے کرتے کاٹے جائیں گے) گویا اللہ تعالیٰ ان کے اجسام کی مقدار سے آگ ان کے لئے مقرر کردیں گے۔ جو ان پر چھانے والی ہوگی جیسا کہ لباس کے کپڑوں کو جسم پر پورا فٹ ماپا جاتا اور کاٹا جاتا ہے۔ یہاں ماضی کا لفظ استعمال کیا گیا کیونکہ یہ بہر صورت ہو کر رہے گا۔ پس یہ ثابت شدہ حقیقت کی طرح ہے۔ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُ وْسِھِمُ (ان کے سروں پر انڈیلا جائے گا۔ )
الْحَمِیْمُ (گرم پانی) قول ابن عباس ؓ ہے کہ اگر اس میں سے نقطہ کے برابر پانی زمین کے پہاڑوں پر گر جائے تو وہ پگھل جائیں۔
Ayah 22:20یُصْھَرُ (اس سے پگھل جائے گا) پگھلا دیا جائیگا۔ بِہٖ (اس گرم پانی کے ساتھ) مَا فِیْ بُطُوْنِھِمْ وَالْجُلُوْدُ (جو کچھ کہ ان کے پیٹوں اور چمڑوں میں ہوگا) یعنی وہ پانی ان کی انتڑیاں اور دیگر اندرونی اجزاء کو پگھلا ڈاے لگا۔ جیسا کہ ان کے چمڑے پگھل جائیں گے۔ پس وہ پانی ظاہر اور اندرون موثر ہوگا۔
Ayah 22:21وَلَھُمْ مَّقَامِعُ (اور ان کے لئے لوہے کے گرز ہتھوڑے ہونگے) خاص قسم کے کوڑے مِنْ حَدِیْدٍ (لوہے کے) جس سے ان کو ماریں گے۔
Ayah 22:22کُلَّمَآ اَرَادُوْآ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا (جب بھی وہ دو نرخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے) ھاؔ کی ضمیر نارؔ کی طرف ہے۔ مِنْ غَمٍّ (غم کی بناء پر) یہ منھاؔ سے بدل الاشتمال ہے حرف جار کا اعادہ کیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ پہلا منؔ ابتدائے غایت کیلئے ہے اور دوسرا منؔ اجلیہ ہے مطلب یہ ہے جب بھی وہ آگ سے نکلنے کا ارادہ غم کی وجہ سے کریں گے جو غم کہ ان پر طاری ہوگا۔ تو بھی نکلنے نہ پائے ہونگے کہ اُعِیْدُ وْا فِیْھَا (ان کو اس میں لوٹا دیا جائے گا) گرز مار کر۔
قول حسن (رح) کہ جہنم سے ان کے خروج کا مطلب یہ ہے کہ آگ کی لپٹیں اٹھا کر انہیں اوپر کی طرف پھینکیں گی۔ جب وہ اس کی بلندی میں پہنچیں گے تو ان کو گرز رسید کئے جائیں گے جن سے ستّر خریف وہ جہنم میں نیچے جاگریں گے۔ اور بڑی آگ کی طرف لوٹانا مراد ہے نہ کہ آگ سے مکمل طور انکا جدا ہونا اور پھر لوٹنا۔
وَذُوْقُوْا (اور تم چکھو) یعنی ان کو کہا جائے گا تم جلنے کا عذاب چکھو۔ عَذَابَ الْحَرِیْقِ (جلنے کا عذاب) پھیلی ہوئی آگ کا سخت عذاب جو شدید ہلاک کن ہے۔ پھر دوسرے فریق کا بدلہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 22:23اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یقینا اللہ تعالیٰ ان کو جنتوں میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس میں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے) اساوۃ یہ أسورۃ کی جمع ہے اور اسورۃ یہ سوارٌ کی جمع ہے۔ مِنْ ذَھَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا (سونے اور موتیوں کے) ۔
وَلِبَاسُہُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ (اور انکا لباس اس میں ریشم کا ہوگا) ۔
Ayah 22:24وَھُدُوْا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَھُدُوْا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ (اور ان کی راہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی اور مستحقِ حمد ذات کے راستہ پر چلنے کی ان کو توفیق مل گئی) ان لوگوں کی راہنمائی کلمہ توحید کی طرف کردی گئی اور صراط الحمید یعنی اسلام کی طرف کردی گئی یا آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور ان کی زبان پر الحمدللہ الذی صد قنا وعدہ جاری فرمادیا اور جنت کا راستہ ان کو دکھایا۔
الحمیدؔ اللہ تعالیٰ کی ذات جن کی تعریف ہر زبان پر ہے۔
Ayah 22:25اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (بیشک جو کافر ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے (مسلمانوں کو) روکتے ہیں) اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
کفروا کی ضمیر فاعلی سے ویصدون حال ہے جیسا کہا جاتا ہے فلان یحسن الی الفقراء اس سے مراد اس کی طرف سے فقراء کے ساتھ حسن سلوک کا حال و استقبال میں پایا جانا ہے۔
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (اور مسجد حرام سے) وہ مسجد حرام اور اس میں داخلہ سے روکتے ہیں۔ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ (جس کو ہم نے تمام آدمیوں کیلئے مقرر کیا) اس میں شہری اور دیہاتی کے امتیاز کے بغیر داخلہ کی کھلی اجازت دی ہے۔
مراد مسجد حرام :
نمبر 1۔ مکہ مکرمہ مراد ہے۔ اس صورت میں اس آیت میں ان حضرات کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ مکہ کے مکانات کو فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ نمبر 2۔ اس سے مراد بیت اللہ ہے تو پھر مطلب یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کیلئے قبلہ ہے۔
ای جعلناہ مستویا ہم نے اس کو برابر بنایا۔ َ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ (اس میں رہنے والا ہو اور باہر سے آنے والاہو) البادؔ غیر مقیم کو کہتے ہیں۔
مکی نے البادی پڑھا ابو عمرو نے وصل میں اس کی موافقت کی اور دیگر قراء نے رفع میں ان کی موافقت کی اور اس کو خبر قرار دیا اور اس کا مبتدا مؤخر ہے ای العاکف فیہ والبادی سوائ۔ اور جملہ مفعول دوم ہے جعلنا کا اور للناؔ س حال ہے۔
وَمَنْ یُّرِدْفِیْہِ ( اور جو کوئی اس میں ارادہ کرے) یعنی مسجد حرام میں بِاِلحَادٍ بِظُلْمٍ (خلافِ دین کام کا ظلم کے ساتھ) یہ دونوں احوال مترادفہ ہیں اور یردؔ کا مفعول قصداً متروک ہے تاکہ ہر چیز کو شامل ہوجائے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے من یرد فیہ مرادًا ماعادلاً من القصد ظالما۔ جو شخص اس میں کوئی بھی مقصدلیکر میانہ روی سے ہٹے گا وہ ظالم ہوگا۔ الالحادؔ میانہ روی سے پھرجانا۔ نُّذِقْہٗ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (ہم اس کو دردناک عذاب چکھائیں گے) آخرت میں۔
اِنَّ کی خبرمحذوف ہے کیونکہ جواب شرط اس پر دلالت کر رہا ہے تقدیر کلام یہ ہے ان الذین کفروا ویصدون عن المسجد الحرام نذیقہم من عذاب الیم وکل من ارتکب فیہ ذنبا فھو کذلک۔ بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور وہ جو مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں ہم ان کو دردناک عذاب چکھائیں گے اور ہر ایسے شخص کو بھی جو اس میں کسی گناہ کا مرتکب ہو۔
Ayah 22:26وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ (اور جب ہم نے ابراہیم کیلئے بیت اللہ کی جگہ متعین کردی) اس وقت کو یاد کرو اے محمد ﷺ جبکہ ہم نے مقرر کردیا۔ لا براھیم مکان البیت (ابراہیم کیلئے بیت اللہ کی جگہ) لوٹنے کی جگہ جس طرف وہ تعمیر و عبادت کیلئے رجوع کرسکیں۔ بیت اللہ کو ایام طوفان میں آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا۔ وہ سرخ یا قوت کا بنا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے اس جگہ کی نشان دہی ایک ہوا بھیج کر کی جس نے گھر والی جگہ کو صاف کردیا جیسے جھاڑو دیکر صاف کرتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے قدیم بنیادوں پر دیواروں کو اٹھایا۔
اَنْ یہ قول مقدر کی تفسیر کیلئے آیا ہے ای قائلین لہ۔ یہ کہتے ہوئے کہ : لَّاتُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَھِّرْ بَیْتِیَ (کہ تم میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو پاک کرو) ظاہری گندگیوں اور باطنی گندگیوں بتوں وغیرہ سے۔
لِلطَّآئِفِیْنَ (طواف کرنے والوں کیلئے) وَ الْقَآئِمِیْنَ (اور ان کے لئے جو قیام کرنے والے ہیں) ور جو مکہ میں اقامت اختیار کرنے والے ہیں۔ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ (اور رکوع سجدہ کرنے والوں کیلئے) جمع راکع اور ساجد کی ہے مراد نماز ادا کرنے والے۔
Ayah 22:27وَاَذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالحَجِّ (اور تم لوگوں میں حج کا اعلان کردو) ان میں آوازلگائو۔ الحجؔ خاص مقصد کیلئے خاص قصد کرنا۔
روایت میں ہے آپ جبل ابوقبیس پر چڑھے اور اس طرح اعلان فرمایا اے لوگو ! اپنے رب کے گھر کا حج کرو۔ تو جن کی قسمت میں حج مقدر تھا انہوں نے اصلاب وار حام سے لبیک اللھم لبیک کہہ کر جواب دیا۔
قول حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے کہ آپ حجۃ الوداع میں یہ اعلان فرما دیں مگر پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور جواب امر یہ آیت ہے۔ یَاْتُوْکَ رِجَالًا (تیرے پاس لوگ پیدل آئیں گے) رجال جمع راجل۔ پیدل۔ جیسا کہ قائم و قیام ہے۔ وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ (اور ہر کمزورو لاغراونٹیوں پر) اس کا عطف رجالا پر ہے گویا اس طرح کہا رجالااؔ ورکباناؔ۔ الضامرؔ لاغرود بلا اونٹ
رجال کو رکبان پر مقدم کر کے پیدل کی فضیلت ظاہر فرمائی جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
یَّاْ تِیْنَ (وہ آئیں گے) ضامرؔ کی صفت ہے کیونکہ وہ معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔
قراءت : عبداللہ نے یاتون پڑھا اور اس کو الرجال اور الرکبان کی صفت قرار دیا۔ مِنْ کُلِّ فَجٍّ (ہر وادی سے) راستے سے عَمِیْقٍ (گہرے) دور۔ محمد بن یاسین کا قول : طواف میں مجھے ایک شیخ نے کہا۔ تم کہاں سے ہو ؟ میں نے کہا خراسان سے اس نے سوال کیا تمہارے اور بیت اللہ کے مابین کتنا فاصلہ ہے میں نے کہا دو ماہ کا فاصلہ یا تین ماہ کا اس نے کہا تم تو پھر بیت اللہ کے پڑوسی ہو۔ میں نے کہا تم کہاں سے تشریف لائے ہو ؟ اس نے کہا پانچ سال کی مسافت سے میں جب نکلاتو جوان تھا۔ اب ادھیڑ عمر ہوگیا تو پہنچا۔ میں نے کہا اللہ کی قسم یہ خوب بندگی ہے اور سچی محبت کا نشان ہے اس پر وہ ہنس کر کہنے لگا۔
زرمن ھویت وان شطتْ بک الدار وحال من دونہ حجب واستار
محبوب کی ملاقات کرو خواہ اس کا گھر دور ہو۔ اور اس کے راستہ میں رکاوٹیں اور پردے حائل ہوں۔
لایمنعنک بعدٌ عن زیارتہٖ ان المحب لمن یھواہ زوّار
دوری تمہیں اس کی ملاقات سے رکاوٹ نہیں بننی چاہئے بیشک عاشق اپنے محبوب کی ملاقات کیا کرتا ہے۔
Ayah 22:28لِّیَشْھَدُوْا (تاکہ وہ حاضر ہوں)
لام یا تو اذن ؔ کے متعلق ہے یایأتوک کے مَنَافِعَ لَھُمْ (اپنے منافع کیلئے۔ )
منافعؔ کو نکرہ لایا گیا کیونکہ مراد اس سے وہ منافع ہیں جو اس عبادت سے متعلق ہیں خواہ دینی ہوں یا دنیوی۔
منافعِ حج :
وہ صرف اسی میں پائے جاتے ہیں دیگر کسی عبادت میں موجود نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت ابتلائے نفس کیلئے مشروع ہے۔ مثلاً نماز، روزہ اور ابتلائے مال کیلئے مثلاً زکوۃ۔ اور حج ان ہر دو کو شامل ہے۔ نمبر 2۔ اس کے ساتھ دیگر مشاق اور اھوال کو برداشت کرنا، اسباب سے یکسو ہونا۔ دوست و احباب سے منقطع شہروں اور وطنوں سے دوری، اولاد سے الگ تھلک، دوستوں سے انفصال، نمبر 3۔ اور اس میں اس کی روزمرہ زندگی کے سلسلہ میں تنبیہ ہے کہ جب انسان دارالفناء سے دارالبقاء کی طرف سدھارے گا۔ تو یہ کیفیت ہوگی۔
نمبر 4۔ پس حاجی جب جنگل میں داخل ہوتا ہے تو اس کو اپنے زاد راہ پر ہی اکتفاء کرنا ہوتا ہے اور اس میں سے کھانے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ نمبر 5۔ بالکل ٹھیک اسی طرح جب آدمی زندگی کے کنارے سے نکلے گا۔ اور بحر وفات میں اس کی کشتی داخل ہوگی اس خلوت میں اس کے وہی چیز فائدہ دے گی جو اس نے معاد کے گزراوقات کیلئے تیار کی ہوگی۔ اور اس کو انس وہ اوراد ہی مہیا کریں گے جن سے وہ دل لگاتا تھا۔
نمبر 6۔ مجرم کا غسل اور اس کی تیاری اور ان سلے کپڑے اور خوشبو میں بسنا۔ یہ آئینہ ہے کہ عنقریب اسے چارپائی پر رکھا جائیگا اور غسل تجہیز و تکفین کی جائے گی اور حنوط سے اس کو خوشبودار کیا جائے گا اور ان سلے کپڑے اس کو پہنا دیے جائیں گے۔ نمبر 7۔ پھر محرم تو آگے چل کر پراگندہ بال اور پراگندہ حال ہوجاتا ہے۔ اسی طرح حشر کی گھڑی قبر سے حیران نکلے گا۔ نمبر 8۔ یہ عرفات میں حجاج کا وقوف رغبت وخوف سے آس لگانا اور خوف وطمع سے سوال کرنا جبکہ یہاں مقبول و مخذول دو قسم ہوتے ہیں۔ یہ عرصات حشر کی حاضری کی طرح ہی تو ہے۔ جبکہ لا تکلم نفس الا باذنہ فمنھم شقی و سعید ] ھود : 105 [ شقی و سعید کا مختلط اجتماع اور ہر ایک منہ پر گویا مہر لگی ہے۔
افاضہ عرفات :
نمبر 9۔ ادھر افاضہ عرفات جانب مزدلفہ پر نگاہ کرو۔ جبکہ سورج غروب ہوچکا ہے یہ قضاء کے فیصلہ کی خاطر چلنے کی طرح ہے۔ نمبر 10۔ اور منی کا موقف یہ گناہ گاروں کیلئے تمنائے شفاعت للشافعین کی طرح ہے۔ نمبر 11۔ اور سر منڈوانا اور صاف ستھرا ہوجانا۔ رحمت و تخفیف کے ساتھ گناہوں کے بوجھ سے نکلنے والے کی طرح ہے۔ نمبر 12۔ اور بیت الحرام جس کے اندر داخل ہونے والے کیلئے فرمایا من دخلہ کان اٰمنا ] آل عمران : 97 [ وہ داخل ہونے والا دنیاوی ایذائوں، قتال سے بچنے والا، دارالسلام جنت میں داخل ہونے والے کا نمونہ ہے۔ کہ اس میں داخل ہونے والا فناء وزوال سے ہمیشہ کیلئے بچ گیا۔ البتہ جنت نفس کی ناپسند چیزوں سے ڈھانپی گئی ہے۔ جس طرح کہ کعبۃ اللہ کو راستوں کے مالوف جنگلوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ وہ آدمی بہت خوب ہے جو جنگلوں کے خوفناک اور مہلک مقامات سے گزر کر ہانک پکار کے دن کی ملاقات کے شوق میں آگے بڑھ گیا۔
وَیَذْکُرُوْا اسْمَ اللّٰہِ (اور وہ اللہ تعالیٰ کا نام لیں) ذبح کے وقت فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ (مقررہ ایام میں) عشرہ ذی الحجۃ عند الامام الاعظم ابوحنیفہ (رح) اور آخری دن یوم نحر ہے اور یہی ابن عباس ؓ کا قول ہے اور اکثر مفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں۔ صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک ایام نحر مراد ہیں یہ قول عبد اللہ بن عمرؓ کا ہے۔ عَلٰی مَارَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ (وہ چوپائے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عنایت فرمائے ہیں) ان کو ذبح کرتے وقت یہ صاحبین رحمہم اللہ کے قول کی تاکید ہے۔ البھیمۃؔ جنگل و خشکی کے جانوروں میں چار پائوں والا اس کی وضاحت انعام کے لفظ سے کردی گئی کہ وہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری ہے۔ فَکُلُوْامِنْھَا (پس تم ان میں سے کھائو) ان کے گوشت سے۔
مسئلہ : یہاں امرا باحت کیلئے ہے نفلی ہدی میں سے کھانا درست ہے۔ اسی طرح متعہ اور قران کی ہدی میں سے بھی کیونکہ یہ فعلِ حج کا دم ہے۔ اس لئے قربانی کے مشابہہ ہے۔ باقی ہدایا جو دم جبر وغیرہ ہیں ان میں سے دم دینے والے کو کھانا جائز نہیں فقراء کو درست ہے۔ وَاَطْعِمُوْا الْبَآسَ (اور تم کھلائو تنگ دست کو) وہ شخص جس کو بدحالی پہنچے یعنی تنگدستی۔ الْفَقِیْرَ (محتاج) جس کو تنگی نے کمزور کردیا ہو۔
Ayah 22:29ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ (پھر وہ اپنی میل کچیل کو دور کریں) نمبر 1۔ اپنے اجسام سے میل کو دور کریں نفطویہ نے اسی طرح کہا
دوسرا قول قضاء تفث، مونچھیں کاٹنے، ناخن اتارنے، بغل کے بال لینے، زیر ناف صاف کرنے کو کہتے ہیں۔ التفث تو میل کو کہا جاتا ہے۔ اور یہاں مراد میل کے ازالہ کو پورا کرنا۔ ابن عمر، ابن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ قضاء و تفث تمام مناسک حج کی ادائیگی کو کہتے ہیں۔
وَلْیُوْفُوْانُذُوْرَھُمْ (اور وہ اپنی نذور کو پورا کریں) یعنی حج کے واجبات۔ اور اہل عرب پر اس شخص کو جو اپنے فریضہ سے فارغ ہو کہتے ہیں وفّٰی بنذرہ خواہ اس نے کوئی نذر نہ مانی ہو۔ نمبر 2۔ یا نیکی کے وہ اعمال جن کی اعمال حج کے سلسلہ میں وہ نذرمان لیتے ہیں۔
وَلْیَطَّوَّفُوْا (اور وہ طواف کریں) طواف سے طواف زیارت مراد ہے جو کہ حج کا رکن ہے اور اس کی دائیگی سے تکمیل تحلل من الاحرام ہوجاتی ہے۔ لیقضوا، لیوفوا، لیطوفوا میں قراءت یہ ہے کہ ابن عامر اور ابو عمرو، ابن کثیر، نافع وغیرہ نے تینوں لامات مکسور پڑھی ہیں البتہ دیگر قراء نے تینوں ساکنہ پڑھی ہیں۔
بیت اللہ العتیق :
بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ (پر انے گھر کا) عتیق قدیم کے معنی میں آتا ہے۔ کیونکہ فرمایا گیا ان اول بیت وضع للناس ] آل عمران : 96 [ آدم (علیہ السلام) نے اس کی تعمیر کی پھر تجدید تع میرا براہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں کرائی گئی۔ نمبر 2۔ عتیق کا معنی معزز۔ اسی سے عتاقؔ الخیل جو ان گھوڑوں کو بولتے ہیں جو شاندار عمدہ ہوں اور عتاقؔ الرقیق ان غلاموں کو کہتے ہیں جو غلامی سے نکل کر حریت کی عزت پالیں۔ نمبر 3۔ یہ غرق سے بچا رہا کیونکہ زمانہ طوفان میں اس کو اٹھالیا گیا۔ نمبر 4۔ ظالموں کے ہاتھوں سے آزاد کیا ہوا ہے۔ کتنے ہی ظالم اس کو گرانے کیلئے چلے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی۔ نمبر 5۔ حکمرانوں کے ہاتھوں سے آزاد ہے۔ کوئی اس کا مالک نہیں ہوا۔ یہ زمین والوں کیلئے طواف گاہ ہے جیسا کہ عرش اہل سماء کیلئے مطاف کی جگہ ہے۔
طالب صادق کو جب خوشی ابھارتی اور طلب کی کششیں اپنی طرف کھینچتی ہیں تو وہ زمینی مسافتوں کو مرحلوں میں طے کرتا اور خطرناک راستوں کو عبور کرتا ہوا چلا آتا ہے۔ جونہی وہ بیت اللہ کو آنکھوں کے سامنے پاتا ہے اس کا شوق ہدی خوان بن جاتا ہے اور استلام حجر سے بھی اس کے دل کو تسلی نہیں ملتی بلکہ وہ چاہتا ہے۔
چوں برسی کوئے دلبر ٭ بسپار جان مضطر
کہ مبادا بار دیگر ٭ حاصل نہ شودایں تمنا
جان کو قابو میں نہ پاکر دیوانہ وار وہ اس کے گرد چکر لگاتا ہے۔ جیسا پیاسا پرندہ منڈلاتا ہے۔
طواف زیارت حج کے تین فرائض میں سے آخری فریضہ ہے۔
اوّل احرام :
یہ حقیقت میں معاہدہ التزام ہے۔ اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھامنے کا نام ہے۔ تاکہ حج کے ممنوعات کا ارتکاب کر کے اس کا انکار نہ کر بیٹھے اور اس کا عقد مفسدات ومنافی کے ساتھ محض نام کا عقد نہ رہ جائے۔ جیسا کہ معاہدہ اسلام کثرت گناہ سے ٹوٹتا نہیں۔ اور ایک توبہ سے ایک ہزار گناہ اٹھ جاتے ہیں۔
دوسرا وقوف عرفات :
یہ در حقیقت گڑ گڑانے اور رونے دھونے کا پہلا بہانہ ہے اور اپنے اعمال کے مراتب اور احوال کے مشاہدات پر بھروسہ سے سچی علیحدگی اور دست برداری اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی پر بھروسہ کا نام ہے۔
Ayah 22:30a س میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذلک اس میں احتمال ہے کہ یہ محل رفع میں ہو اور اس کی تقدیر یہ ہو : فرضکم ذالک یا الواجبب ذاللک اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ محل نصب میں ہو اس کی تقدیر یہ ہوا متثلوا ذالک ؛ زہیر کے قول میں اس کی مثل اشارہ ہے :
ھذا ولیس کمن یعیا بخطتہ وسط الندی اذا ما قائل نطقاً
اور یہاں حرمات مقصودہ سے مراد افعال حج ہیں جن کی طرف ثم لیقصوا تفثھم ولیوفوا نذورھم میں اشارہ کیا گیا ہے اس میں جگہوں کی تعظیم بھی داخل ہے ؛ یہ ابن زید وغیرہ کا قول ہے۔ یہ کہنا تمام چیزوں کو شامل ہے کہ حرمات سے مراد تمام فرائض اور سنن کی پیروی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فھو خیرللہ عند ربہ ان حرمات میں سے کسی کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی اہانت سے بہتر ہے۔ بعض علماء نے کہا : یہ تعظیم اس خیرات سے بہتر ہے جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ خیر کا لفظ تفضیل کے لیے نہیں یہ خیر کا وعدہ ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واحلت لکم الانعام کہ تم انہیں کھائو یہ اونٹ، گائیں اور بکریاں ہیں۔ الا ما یتلی علیکم یعنی کتاب میں جن محرمات کا ذکر ہے اور وہ المیتۃ (مردار) اور موقودۃ وغیرہ ہیں۔ یہ حج کے امر کے ساتھ اتصال ہے کیونکہ ححج میں ذبح کا حکم کرنا اور جن کا گوشت کھانا حلال ہے اس کو بیان کیا۔ بعض نے کہا : الا ما یتلی علیکم غیر محلی الصیدوانتم حرم (المائدہ : 1) مراد ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان، الرجس گندی چیز کو کہتے ہیں۔ الوثن وہ بت جو لکڑی، لوہے، سونے یا چاندی وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں۔ عرب انہیں نصب کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ نصاریٰ صلیب نصب کرتے تھے اس کی عبادت کرتے تھے، اور اس کی تعظیم کرتے تھے یہ بھی تمثال کی طرح ہے۔ عدی بن حاتم نے کہا : میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ فرمایا : ” اس بت کو اپنے آپ سے دور کر “ (1) یعنی صلیب کو دور کر۔ اس کی اصل وثن الشی ہے۔ یعنی اپنی جگہ میں اس کو کھڑا کیا۔ صنت کو وثن کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نصب کیا جاتا ہے اور ایک جگہ گاڑھا جاتا ہے جہاں سے وہ ہلتا نہیں۔ مراد یہ ہے کہ بتوں کی عبادت سے اجتناب کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اور اببن جریج سے مروی ہے اور اس کور جس کہا ہے کیونکہ یہ عذاب کا سبب ہیں۔ بعض نے کہا : اس کو رجس کہا۔ الرجس کا معنی نجس ہے۔ یہ حکماً نجاست ہے۔ اعیان کا جو ذاتی وصف ہوتا ہے وہ نجاست نہیں ہے۔ یہ وصف شرعی جو ایمان کے احکام سے ہے اور یہ زائل نہیں ہوتا مگر ایمان سے جیسے پانی کے بغیر طہارت جائز نہیں ہوتی۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ من جو من الاوثان کے ارشاد میں ہے، بعض علماء نے کہا : یہ جنس کے بیان کے لیے یہاں صرف بتوں کی غلاظت سے نہ یواقع ہوئی ہے اور باقی غلاظتوں سے نہی دوسرے مقام پر بیان ہوئی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ من اببتدا غایت کے لیے ہو گویا انہیں مطلقاً نجاست سے روکا پھر اس مبدء کو ان کے لیے متعین کردیا جو انہیں لاحق تھا کیونکہ ببت کی عبادت ہر فساد اور رجس کی جامع ہے اور جنہوں نے کہا : من تبعیض کے لیے ہے انہوں نے آیت کا معنی الٹ کردیا اور خراب کردیا۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واجتبوا قول الزور۔ الزور باطل اور جھوٹ کو کہتے ہیں۔ زور کہا جاتا ہے کیونکہ حق سے پھیرا گیا ہوتا ہے، اسی سے ہے : تزورعن کھفھم (الکہف :17) مدینۃ زواء یعنی مئالۃ ہر وہ چیز جو حق کے عللاوہ ہے وہ کذب باطل اور زور ہے۔ حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا : عدلت شھادۃ الزور بالشرک باللہ (2) بتوں کی عبادت، نہی میں شرک باللہ سے ملائی گئی ہے۔ یہ جملہ آپ نے دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ فرمایا (3)
مسئلہ نمبر 6 ۔ یہ آیت جھوٹی گواہی دینے کی وعید کو متضمن ہے۔ حاکم کے لیے مناسب ہے کہ جب اسے جھوٹے گواہ پر اطلاع ہو جائئے تو اسے تعزیر لگائے اور اس کے متعلق لوگوں کو بتائے تاکہ وہ پہنچانا جائے اور کسی کو اپنی شہادت سے دھوکا نہ دے۔ اس کی شہادت میں حکم مختلف ہوجاتا ہے جب وہ توبہ کرے۔ اگر وہ پہلے اہل عدالت میں سے تھا عدالت کے ساتھ مشہور تھا اور اسے اچھا سمجھا جاتا تھا تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائئے گی کیونکہ تو یہ میں اس حالت تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں کیونکہ وہ پہلے سے زیادہ نیکیاں کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔ اور اگر پہلے وہ اتنا نیکی میں مشہور نہ تھا پھر توبہ کے بعد اس نے عبادت شروع کردی اور تقویٰ کا پیکر ببن گیا تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : ان اکبر الکبائر الاشراک باللہ وعقوق الوالدین وشھادۃ الزور وقول الزور (1) یعنی بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہ یدینا اور جھوٹی بات کرنا ہے۔ نبی پاک ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے آپ آخری جملہ کا تکرار کرتے رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا : کاش ! آپ خاموش ہوجاتے۔ (2)
Ayah 22:31مسئلہ نمبر 7 ۔ حنفآء للہ اس کا معنی ہے مستقیم، مسلمان اور حق کی طرف مائل ہونا ہے۔ حنفاء کا لفظ اضداد میں سے ہے۔ استقامت پر واقع ہوتا ہے اور میل پر بھی واقع ہوتا ہے۔ اور حنفاء پر نصب حال کی بنا پر ہے۔ بعض نے کہا : حنفئا کا معنی حجاجاً ہے یہ تخصیص ایسی ہے جس کے ساتھ کوئی حجت نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یشرک باللہ فکانما خر من السمآء یہ قیامت کے دن اس کی مانند ہوگا جو اپنے لیے نہ نفع کا مالک ہوگا اور نہ اپنے سے ضررو عذاب کو دور کرسکے گا وہ اس کی مانند ہوگا جو آسمان سے گرا ہو۔ پس وہ اپنے نفس کے دفاع پر قادر نہ ہوگا۔ فتخطفہ الطیر یعنی پرندوں نے اسے اپنے پنجوں سے کاٹ دیا ہو۔ بعض عللمائء نے کہا : یہ اس کی حالت اس کی روح کے نکلنے اور فرشتوں کے اس کی روح کو آسمان کی طرف لے جانے کے وقت ہوگی۔ آسمان کا دروازہ کھولا جائے گا پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جائے گا جیسا کہ حضرت براء کی حدیث میں ہے ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں یہ حدیث ذکر کی ہے۔ السحیق کا معنی بعید ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فسحقاً لاصحب السعیر۔ (الملک) اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : فسحقاً فسحقاً (3) دور ہو جائو دور ہو جائو۔