22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 22:32–33

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہ قدیم (یعنی بیت اللہ) تک پہنچنا (اور ذبح ہونا) ہے

اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک، اس میں تین وجوہ ہیں۔ بعض نے کہا : مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے تقدیریوں ہوگی۔ ذالک امر اللہ۔ یہ بھی جائئز ہے کہ مببتدا مخذوف کی خببر کی حیثیت سے مرفوع ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ محل نصب میں ہو یعنی اتبعوا ذالک۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یعظم شعآئر اللہ، الشعائر جمع ہے۔ شعیرہ کی۔ ہر دو چیز جس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی امر ہو جس سے وہ جانا پہنچانا جائئے اسی سے جنگ میں قوم کا شمار ہوتا ہے، یعنی ان کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں اسی سے اشعار البدن ہے اونٹ کی دائیں طرف میں نیزہ مارا جاتا ہے تاکہ خون ببہہ جائئے تو وہ اس کی علامت ہوتی ہے۔ یہ شعیرہ ببمعنی مشعورہ ہے۔ شعائر اللہ سے مراد اس کے دین کی علامتیں ہیں خصوصاً جو حج کے مناسک کے متعلق ہیں۔ ایک قوم نے کہا : یہاں اس سے مراد اونٹوں کو موٹا کرنا اور اس کے معاملات کا اہتمام کرنا اور ان کو موٹا کرنے میں مبالغہ کرنا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور ایک جماعت کا قول ہے (1) اس میں ایک لطیف اشارہ ہے وہ یہ ہے بعض اوقات آدمی اونٹ اس لیے خریدتا ہے کہ اس کی مجبوری ہوتی ہے وہ اخلاص پر دلالت نہیں کرتا اور جب جزا کے حصول کے لیے انہیں موٹا کرتا ہے تو اس سے شرع کی تعظیم کا عمل ظاہر ہوتا ہے یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ انھا کی ضمیر اس فعلہ کی طرف لوٹ رہی ہے جسے کلام ضمن میں لیے ہوئے ہے اگر وہ انہ فرمایا تو بھی جائز تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ہاضمیر شعائر کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی شعائر کی تعظیم۔ مضاف کو حذف کیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کررہی ہے پس ضمیر کنایہ شعائر کی طرف راجع ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانھا من تقویٰ القلوب۔ القلوب کو رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اس بنا پر کہ تقویٰ مصدر کا فاعل ہے۔ تقویٰ کی نسبت قلوب کی طرف کی گئی ہے کیونکہ تقویٰ کی حقیقت دل میں ہوتی ہے، اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا : التقویٰ ھاھنا (2) اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : تقویٰ یہاں ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لکم فیھا منافع یعنی تمہارے لیے اونٹوں میں منافع ہیں سوار ہونا، دودھ حاصل کرنا، نسل بڑھانا، اون حاصل کرنا وغیرہ جب ان کا مالک ان کو بطور ہدی نہ بھیجے۔ جب وہ انہیں ببطور ہدی بھیجے تو اس کے لیے مدت متعین ہے ؛ یہ حضرت ابن عبب اس ؓ نے کہا ہے : جب اونٹ بطور ہدی بھی ہوجائیں تو ضرورت کے وقت ان پر سوار ہونا اور اس کے ببچے سے جو دودھ بچے اس کے لیے منافع ہیں۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو اونٹ لے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” اس پر سوار ہوجا “ اس نے عرض کی : حضور ! یہ بدنہ ہے۔ فرمایا : ” سوار ہوجا “ اس نے پھر کہا : حضور ! یہ بدنہ ہے۔ فرمایا : ” سوار ہوجا تیرے لیے ہلاکت ہو “ یہ دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا : (3) حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے اور ہدی پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” جب تمہیں ضرورت ہو تو معروف طریقہ پر اس سوار ہو حتیٰ کہ تم دوسری سواری پالو “ ( 1) ۔ الاجل المسیٰ سے مراد اس قول کی بنا پر ان کو نحر کرنا ہے۔ یہ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ بعض علماء نبی کریم ﷺ کے ارشاد : ” تو اس پر سوار ہوجا “ کی وجہ سے بدنہ کی سواری کے وجوب کی طرف گئے اور جنہوں نے اس ارشاد کے ظاہر کو لیا ہے ان میں امام مالک بغیر مجبوری کے اس پر سواری نہیں کرتے حضرت جابر ؓ کی حدیث کی وجہ سے کیونکہ وہ مقید ہے اور مقید، مطلق پر غالب ہوتا ہے۔ اسی طرح امام شافعی اور امام ابوحنیفہ نے بھی کہا ہے، اور پھر جب ضرورت کی وجہ سے سوار ہوگا تو ضرورت پوری ہونے پر اتر جائے گا ؛ یہ اسماعیل قاضی کا قول ہے۔ یہی وہ بات ہے جس پر امام مالک کا مذہب دلالت کرتا ہے۔ یہ اس کے برعکس ہے جو ابن قاسم نے ذکر کیا ہے کہ اس پر اترنا لازم نہیں اور ان کی دلیل نبی کریم ﷺ کا اس کی سواری کو مباح قرار دینا ہے۔ اور سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد : اذا لئجت الیھا حتی تجد ظھرا۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے قول کی حجت پر دلالت کرتا ہے ﷺ اور اسی طرح جو اسماعیل قاضی نے امام مالک کا مذہب بیان کیا ہے اس کی صحت پر دال ہے اور صراحۃ مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آدمی کو فرمایا : ” تو سوار ہو “ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے فرمایا : مباح سوار ہونا بھی اس کی کمی و نقصان کا باعث ہو تو اس پر اس کی قیمت ہے اور اسے صدقہ کرے۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم محلھا الی البیت العتیق۔ یعنی وہ بیت اللہ تک پہنچ جائے اور وہ طواف ہے پس محلھا بہ محرم کے احرام اتارنے سے ماخوذ ہے معنی یہ ہے کہ حج کے تمام شعائر وقوف عرفہ، رمی جمار، سعی، بیت اللہ کے طواف افاضہ پر ختم ہوتے ہیں۔ اس تاویل پر بیت سے مراد بیت اللہ ہی ہے ؛ یہ امام مالک مؤطا میں کہا ہے۔ عطا نے کہا : مکہ تک پہنچ جائے۔ اس ببناء پر شعائر سے مراد بدن (اونٹ) ہیں۔ شعائر کے متعلق عموم کے قول ہوتے ہوئے تخصیص کی کوئی وجہ نہیں اور بیت اللہ کا ذکر خصوصیت کو لغو کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے انکو دئیے ہیں (انکے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں سو تمہارا ایک ہی معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولکل امۃ جعلنا منسکاً جب اللہ تعالیٰ نے ذبائح کا ذکر کیا تو بیان فرمایا کہ کوئی امت بھی اس حکم سے خالی نہ تھی۔ امت اس قوم کو کہتے ہیں جو ایک مذہب پر جمع ہو یعنی ہر مومن جماعت کے لیے ہم نے قربانی مقرر فرمائی۔ المنسک کا معنی ذبح کرنا اور خون بہانا ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے : نسک جب ذبح کرے ینسک نسکا، ذبیحہ کو نسیکۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع نسک ہے اسی سے ہے اوصدقۃ اوکسک (البقرہ :196) النسک کا معنی طاعت بھی ہے۔ ازہری نے اس ازہری نے اس قول ولکل امۃ جعلنا منسکاً کے تحت فرمایا کہ یہاں یہ نحر کی جگہ پر دلالت کرتا ہے۔ مراد قربانی کی جگہ ہے۔ کہا جاتا : منسک ومنسک یہ دونوں لغتیں ہیں اور دونوں طرح پڑھا بھی گیا ہے۔ عاصم کے سوا کو فیوں نے سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : کلام عرب میں المنسک خیرو شر کی معتاد جگہ کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : اس سے مراد مناسک حج ہیں کیونکہ لوگ ان کی طرف بار بار لوٹتے ہیں وقوف عرفہ، رمی جمار اور سعی۔ ابن عرفہ نے ولکل امۃ جعلنا منسکاً کے متعلق کہا جب کوئی قوم پہلے مسلک پر چلے۔ پہلا قول اظہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام یعنی جو اس نے دیا ہے اسے ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ الللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ ذبح کرنے کا حکم دیا تاکہ ذبح اس کے لیے ہو کیونکہ اس کا عطا کرنے والا ہے پھر سابقہ امتوں کے متعلق خبر دینے کے لفظ سے حاضرین کی خبر دینے کی طرف رجوع کیا اس کا معنی ہے فرمایا : تم تمام کے لیے ایک خدا ہے اسی طرح ذبیحہ کے امر میں ہے اس کی خاطر ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلہ اسلموا اس کا معنی ہے اس کے حق کی خاطر، اس کی وجہ سے اس کے انعام کی بنا پر ایمان لے آئو اور اسلام قبول کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد اطاعت کرنا اور سرنگوں کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وبشر المخبتین۔ المخبت تواضع کرنے والا شخص مراد ہے۔ الخبت کا معنی ہے جو زمین کے نیچے ہے اور یعنی انہیں ثواب اور جزا کی شارت دو ۔ عمرو بن اوس نے کہا : المخبتون وہلوگ ہوتے ہیں جو ظلم نہیں کرتے جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو انتقام نہیں لیتے۔ مجاہد نے کہا : سفیان نے ابن جریج سے روایت کیا ہے المخبتونھ جو اللہ کے حکم پر مطمئن ہوتے ہیں۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجلت قلوبھم یعنی ان کے دل اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے ڈرتے ہیں اس کے ذکر کے وقت خوف اور ڈر سے متصف ہوتے ہیں یہ ان کی قوت یقین اور اپنے رب کی طرف توجہ کے سبب ہوتا ہے گویا وہ اس کے سامنے ہیں اور ان کا وصف بیان فرمایا کہ وہ صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اس پر دوام اختیار کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ یہ آیت وبشر المخبتین حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جمہور نے الصلاۃ کو اضافت کی وجہ سے مجرور پڑھا ہے (1) اور ابو عمرو نے الصلاۃ کو نون کے تو ہم کی بنا پر منصوب پڑھا ہے (2) ۔ اسم کی طوالت کی وجہ سے نون کا حذف تخفیف کے لیے ہے۔ سیبویہ نے یہ دلیل دی ہے۔ الحافظوا عورۃ العشیرۃ۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت اس قول کی طرح ہے : انما اللمؤمنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوببھم واذا تلیث علیہم ایتہ زادتھم ایماناً وعلی ربھم یتوکلون۔ (الانفال) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ (الزمر :23) یہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والوں اور اس کی سطوطت و عقوبت سے ڈرنے والوں کی حالت ہے نہ کہ جہال عوام اور بدعتیوں کی جو شور مچاتے ہیں اور گدھوں کے ہینگنے کی طرح ہینگتے ہیں۔ پس جو ایساواویلا کرتا ہے اور اس وجد اور خشوع کہا جاتا ہے تو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کے خوف اور اس کے جللال میں نبی پاک ﷺ اور اصحاب کی حالت کو نہیں پہنچ سکتا اس کے باوجود وعظ کے وقت وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اہل معرفت کی اس کے ذکر اور قرآن کی تلاوت کے وقت کے احوال کی تعریف کی ہے جو اس کیفیت میں نہیں ہوتا وہ ہدایت اور ان کے راستہ پر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واذا سمعوا مآ انزل الی الرسول تریٰ اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق یقولون رببنا امنا فاکتبنا مع الشھدین۔ (المائدہ) یہ ان کے حال کی صفت ہے اور مقال کی حکایت ہے پس جو سنت پر عمل کرنے والا ہے وہ سنت پر عمل کرے اور جو مجانین اور جنون کے احوال کرے تو وہ ان کی بنسبت بری ترین حالت پر ہے جنون فنون ہے۔ صحیح میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیے اور سوالوں کی کثرت کی۔ ایک دن آپ نکلے اور منبر پر چڑھے فرمایا : سلنی لا تسألونی عن شی الا بینتہ لکم ما دمت فی مقامی ھذا (3) ۔ مجھ سے پوچھو تم کسی چیز کے بارے سوال نہیں کرو گے مگر میں تمہیں اس کے متعلق بتائوں گا جب تک میں اس جگہ پر کھڑا ہوں۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ خاموش ہوگئے اور ڈر گئے کہ کوئی امر آچکا ہے۔ حضرت انس نے فرمایا : میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو ہر انسان اپنا سر اپنے کپڑوں میں چھپائے ہوئے رو رہا تھا (الحدیث) ۔ اس مسئلہ میں گفتگو سورة انفال میں تفصیلاً گزر چکی ہے۔ والحمد للہ۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو جب پہلو کے بل گرپڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیر فرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو

اس میں دس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والبدن ابن اسحاق نے والبدن پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں اس کا واحد بدنۃ ہے جیسے کہا جاتا ہے : ثمرۃ وثمرو ثمر، خشیۃ کی جمع خشب و خشب۔ قرآن حکیم میں ہے وکان لہ ثمر (الکہف : 34) ثمر بھی پڑھا گیا ہے یہ دو لغات ہیں۔ اس کو بدنۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ موٹا ہوتا ہے۔ البدانۃ کا معنی موٹاپا ہے۔ بعض علماء نے کہا یہ اونٹ کے ساتھ خاص ہے۔ بعض نے کہا : البدن، بدن کی جمع ہے باء اور دال کے فتحہ کے ساتھ کہا جاتا ہے : بدن الرجل وال کے ضمہ کے ساتھ جب آدمی موٹا ہوجائے۔ بدن جب آدمی بڑی عمر کا ہوجائے۔ حدیث میں ہے : انی بدنت (1) یعنی میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔ بدنت مروی ہے اس کا کوئی معنی نہیں کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کی صفت کے خلاف ہے اس کا معنی ہے گوشت کا زیادہ ہونا۔ کہا جاتا ہے۔ بدن الرجل بدناً وبدانۃ فھو بادن یعنی موٹا ہونا۔ مسئلہ نمبر -2 علماء کا اختلاف ہے کہ والدن کا اطلاق اونٹ کے علاوہ گائے پر ہوتا ہے یا نہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ عطا اور شافعی نے کہا : گائے پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے کہا : اس کا اطلاق گائے پر ہوتا ہے۔ اختلاف کا فائدہ اس وقت مرتب ہوتا ہے جب کوئی شخص بد نہ کی نذر مانے اور پھر وہ اونٹ نہ پائے اور اونٹ پر قادر نہ ہو اور گائے پر قادر ہو تو کیا گائے اس نذر میں جائز ہوگی یا نہیں ؟ امام شافعی اور عطا کے مذہب پر جائز نہ ہوگی اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے مذہب پر جائز ہوگی۔ صحیح مذہب امام شافعی اور عطا کا ہے کیونکہ صحیح حدیث ” جمعہ کے دن کے بارے میں جو پہلی گھڑی میں مسجد کی طرف گیا گویا اس نے بد نہ (اونٹ) کی قربانی کی جو دوسری گھڑی میں پہنچا اس نے گویا گائے کی قربانی کی “ (2) نبی کریم ﷺ نے گائے اور اونٹ میں تفریق فرمائی۔ یہ دلیل ہے کہ گائے کو بد نہ نہیں کہا جاتا اور اسی طرح فاذا وجبت جنوبھا بھی اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ وصف اونٹ کے ساتھ خاص ہے۔ گائے، بکری کی طرح پہلو کے بل لٹائی جاتی ہے اور ذبح کی جاتی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ ہماری دلیل کہ بد نہ، بدانۃ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے موٹاپا۔ تو موٹاپا دونوں میں پایا جاتا ہے، نیز گائے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خون بہانے کے اعتبار سے اونٹ کی طرح ہی ہے قربانی گائے کی ہو تو اس میں سات حصص جائز ہیں جیسے اونٹ میں سات حصص جائز ہیں۔ یہ امام ابوحنیفہ کی حجت ہے۔ امام شافعی نے اس پر ان کی موافقت کی ہے یہ ہمارے مذہب میں نہیں ہے۔ ابن شجرہ نے حکایت کیا ہے۔ بکری کو بھی بد نہ کہا جاتا ہے۔ یہ شاذ قول ہے۔ البدن سے مراد اونٹ ہیں جو کعبہ کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور الھدی کا لفظ عام ہے اس کا اطلاق اونٹ، گائے اور بکری پر ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من شعائر اللہ یہ نص ہے کہ یہ شعائر کا بعض ہیں۔ لکم فیھا خیر اس سے مراد وہ منافع ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ درست عموم ہے یعنی دنیا و آخرت کی خیر۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذکروا اسم اللہ علیھا صوآف۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لے کر نحر کرو۔ صوآف جن کے پائوں باندھے گئے ہوں اونٹ کھڑا ہوا نحر کیا جاتا ہے جبکہ اس کا ایک پائوں باندھا گیا ہوتا ہے۔ اس وصف کی اصل گھوڑے میں ہے۔ کہا جاتا ہے : صفن الفرس فھو صافن جب گھوڑا تین پائوں پر کھڑا ہو چوتھے پائوں کا سم صرف لگائے ہوئئے ہو۔ اونٹ کو جب وہ نحر کرنے کا ارادہ کرتے تو اس کا ایک پائوں بباندھ دیتے اور تین پائوں پر کھڑا ہوتا۔ حسن، اعرج، مجاہد، زید بن اسلم اور حضرت ابو موسیٰ اشعری نے صوافی پڑھا ہے۔ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے وہ اس کے ساتھ ان کو نحر کرتے وقت کسی کو شریک نہیں کرتے۔ حسن سے صواف فاء کے کسرہ اور تنوین کے ساتھ مخففہ مروی ہے (1) ۔ یہ پہلے لفظ کے معنی میں ہے لیکن بغیر قیاس کے تخفیفاً یاء حذف کی گئی ہے اور صواف جمہور کی قرات ہے۔ فاء کے فتحہ اور شد کے ساتھ یہ صف پصف سے مشتق ہے اس کا واحد صافۃ ہے اور صوافی کا واحد صافیۃ ہے۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر ؓ اور ابوجعفر، محمد بن علی نے صوافن نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ صافنۃ کی جمع ہے اس کا واحد صافن نہیں ہے کیونکہ فاعل کی جمع فواعل کے وزن پر نہیں 0 آتی سوائے مخصوص الفاظ کے جن پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ وہ یہ الفاظ ہیں۔ فارس جمع فوارس، ھالک جمع ھوالک، خالف جمع خوالف۔ الصافنۃ وہ اونٹ جس کا ایک پائوں باندھ کر اوپر کیا گیا ہوتا ہے تاکہ حرکت نہ کرے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الصفت الجیاد۔ (ص) عمرو بنھ کلثوم نے کہا : ترکنا الخیل عاکفۃ علیہ مقلدۃ اعن تھا صفونا اور مروی ہے : تظل جیادہ نوحا علیہ مقلدۃ اعن تھا صفونا اور ایک شاعر نے کہا : الف الصفون مما یزال کا نہ مما یقوم علی الثلاث کسیرا ابو عمرو جرمی نے کہا : الصافن اگلے پائوں میں ایک رگ ہے جب گھوڑے کو مارا جاتا ہے تو وہ پائوں اٹھا لیتا ہے۔ اعشی نے کہا : وکل کمیت کجذع السحوق یرمن الفناء اذا ما صفن مسئلہ نمبر 5 ۔ ابن وہب نے کہا : ابن ابی ذئب نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے انہوں نے الصواف کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : تو اس کو باندھے پھر اس کا وصف بیان کرے۔ حضرت مالک بن انس نے مجھے اسی کی مثل بتایا۔ علماء اس کے استحباب کے قائل ہیں مگر امام ابوحنیفہ اور ثوری ان کو کھڑا کر کے اور بٹھا کر نحر کرنا بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ عطا نے شاذ قول کہا ہے، اس نے مخالفت کی ہے اور بٹھا کر نحر کرنے کو مستحب کہا ہے۔ صحیح قول جمہور کا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا وجبت جنبوبھا اس کا معنی ہے نحر ہونے کے بعد جب وہ گر جائیں۔ اسی سے ہے : وجبت الشمس سورج غروب ہوا۔ صحیح مسلم میں زیادہ بن جبیر سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ایک شخص کے پاس آئے وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا (1) ۔ آپ نے فرمایا : اس کو کھڑا کرو ایک پائوں باندھو یہ تمہارے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ ابو دائود نے ابو زبیر سے انہوں نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے اور مجھے عبدالرحمن بن سابط نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام اونٹوں کو اس طرح نحر کرتے تھے کہ ان کا بایاں پائوں باندھا ہوتا تھا اور تین پائوں پر کھڑے ہوتے تھے (2)
Ayahs 22:37–38

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

خدا تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کردیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو اور (اے پیغمبر) نیکو کاروں کو خوشخبری سنا دو

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

خدا تو مومنوں سے انکے دشمنوں کو ہٹاتارہتا ہے۔ بیشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لن ینال اللہ لحومھا حضرت ابن عباس ؓ نھے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹوں کا خون بیت اللہ پر مل دیتے تھے پھر مسلمانوں نے بھی ایسا کرنے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، النیل باری تعالیٰ کے متعلق نہیں ہوتا لیکن قبولیت کی مجازی تعبیر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی بارگاہ میں نہیں پہنچے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کی طرف بلند نہیں ہوگا۔ ابن عیسیٰ نے کہا : ان کے گوشت اور خون قبول نہیں کرے گا لیکن اس کی بارگاہ میں تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے یعنی جو اس کی ذات کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور وہ اس کی طرف بلند ہوتا ہے، وہ اسے سنتا ہے اور اس پر ثواب دیتا ہے ؛ اسی سے حدیث ہے : ” اعمال کا دارومدار نیت پر ہے “ (1) اور لن ینال اللہ وینالہ دونوں جگہ یاء کے ساتھ ہے اور یعقوب سے دونوں جگہ اللحومکا اعتبار کرتے ہوئے تاء کے ساتھ مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کذلک سخرھا لکم اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے بڑے جانوروں کو ہمارے لیے مطیع بنا کر اور ہمیں ان پر تصرف کی قدرت دے کر ہم پر احسان فرمایا، حالانکہ بدن اور اعضاء کے اعتبار سے ہم سے قوی ہیں اور بڑے ہیں۔ یہ اس لیے ہے تاکہ بندے کو معلوم ہوجائے یہ امور ایسے نہیں جیسے ببندے کے لیے ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ ایسے ہوتے ہیں جیسے وہ غالب و قادر ارادہ فرماتا ہے۔ پس چھوٹا بڑے پر غالب ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لتکبروا اللہ علی ما ھدکم اللہ تعالیٰ نے اس سے قبل آیت میں ان جانوروں پر اپنا نام ذکر کرنے کو بیان کیا تھا فرمایا : فاذکروا اسم اللہ علیھا اور اب یہاں تکبیر کا ذکر فرمایا اور حضرت ابن عمر ؓ دونوں کو جمع فرماتے تھے جب ہدی کو نحر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے بسم اللہ واللہ اکببر یہ ان کی فقہ سے ہے۔ صحیح میں حضرت انس سے مروی ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے دو سینگوں والے چتکبرے مینڈھے ذبح کیے (2) اور فرمایا : میں نے آپ ﷺ کو انہیں ہاتھ سے ذبح کرتے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ اپنا قدم ان کے کندھے پر رکھے ہوئے تھے آپ نے بسم اللہ اور تکبیر پڑھی۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے۔ ابو ثور نے کہا : ذبح میں بسم اللہ متعین ہے جس طرح نماز میں تکبیر متعین ہے اور تمام علماء اس کے استحباب پر متفق ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے کوئی اور اسم ذکر کر دے اور اس سے بسم اللہ کا ارادہ کرے تو بھی جائز ہے اسی طرح اگر صرف اللہ اکبر کہا یا لا الہ الا اللہ کہا تو بھی جائز ہے ؛ یہ ابن حبیب کا قول ہے۔ اگر اس سے بسم اللہ کا ارادہ نہ کیا تو بسم اللہ کی طرف سے جائز نہ ہوگا اور جانور نہیں کھایا جائے ؛ یہ امام شافعی اور امام محمد بن حسن کا قول ہے۔ ہمارے اصحاب اور دوسرے علماء کے نزدیک ذبح کے وقت نبی کریم ﷺ پر درود یا آپ کا ذکر مکروہ ہے اور فرماتے ہیں : ذبح کے وقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ امام شافعی نے ذبح کے وقت نبی کریم ﷺ پر درود کو جائز کہا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ جمہور علماء کا خیال ہے کہ قربانی کرنے والے کا اللھم تقبل منی اے اللہ ! میری طرف سے قبول فرما۔ کہنا جائز ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ نے مکروہ کہا ہے۔ اور امام صاحب پر حجت حضرت عائشہ کی روایت ہے جس میں ہے پھر کہا : باسم اللہ اللھم تقبل من محمد وآل محمد ومن امۃ محمد (1) پھر اس کو قربان کیا۔ بعض علماء نے بعض قرآنی ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ (القرہ) کی وجہ سے یہ کہنا مستحب ہے۔ امام مالک نے یہ قول مکروہ کہا ہے : اللھم نک والیک۔ امام مالک نے فرمایا : یہ بدعت ہے۔ ابن حبیب جو ہمارے علماء میں سے ہیں اور حسن نے اس کو جائز قرار دیا ہے ان دونوں کے قول کی صحت کی دلیل ابو دائود کی روایت ہے جو انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے (2) فرمایا : نبی کریم ﷺ نے ذبح کے دن دو سینگوں والے خصی چتکبرے مینڈھے ذبح کیے جب انہیں لٹایا تو یہ پڑھا : انی وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض حنیفاً الی قولہ وانا اول المسلمین، اللھم منک ولک عن محمد وامۃ باسم اللہ واللہ اکبر پھر ذبح فرمایا۔ شاید امام مالک کو یہ خبر نہ پہنچی ہو یا ان کے نزدیک صحیح نہ ہو یا عمل اس کے مخالف دیکھا ہو اس بنا پر فرمایا یہ بدعت ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وبشر المحسنین۔ روایت ہے کہ یہ خلفاء اربعہ کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ اس سے پہلے آیت میں گزرا ہے۔ لفظ کا ظاہر عموم کا تقاضا کرتا ہے کہ محسن کے بارے میں ہے۔ روایت ہے کہ یہ مومنین کے سببب نازل ہوئی جب مکہ میں ان کی کثرت ہوئی تو کفار نے انہیں اذیتیں دیں اور بعض حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بعض مومنین نے ارادہ کیا کہ جس کافر پر غالب آئیں اسے قتل کردیں اور دھوکہ اور حیلہ سازی کی کوشش کریں تو یہ یت نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے مدافعت کا وعدہ فرمایا اور خیانت و عذر سے بڑے بلیغ انداز میں منع فرمایا۔ دھوکہ دینے میں شدت سورة الانفال میں بھی گزر چکی ہے۔ ” قیامت کے روز دھوکہ دینے والے کے لیے اس کی سرین کے پاس ایک جھنڈا گاڑھا جائئے گا جو اس کے دھوکا کی مقدار کا ہوگا “ (1) ۔ کہا جائے گا : یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ مومنین کو ہمیشہ توفیق عطا فرماتا رہے گا حتیٰ کہ ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوجائے گا اور کفار ان کو اپنے دین سے پھیرنے پر قادر نہ ہوں گے اگرچہ اکراہ جاری رہے گا پس اللہ تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے گا حتیٰ کہ وہ دلوں سے مرتد نہ ہوں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حجت کے ذریعے مومنین کو بلندی عطا فرمائے گا پھر کسی کافر کا مومن کو قتل کرنا نادر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس مومن کا دفاع اس طرح کرے گا کہ اسے اپنی رحمت میں لے لے گا۔ نافع نے یدافع اور لولا دفاع پڑھا ہے۔ ابو عمرو، اببن کثیر نے یدفع اور ولولا دفع پڑھا ہے۔ عاصم، حمزہ اور کسائی نے یدافع اور لولا دفع اللہ پڑھا ہے۔ یدافع بمعنی یدفع ہے جیسے عاقبت اللص ہے اور عافاہ اللہ ہے مصدر دفعاً ہے۔ زہری نے حکایت کیا ہے کہ دفاعاا، دفع کا مصدر ہے جیسے حسب کا مصدر حساباً ہے۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا (انکی مدد کرے گا وہ) یقینا انکی مدد پر قادر ہے

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذن للذین یقتلون بعض علماء نے فرمایا : ان اللہ یدفع عن الذین امنوا کا بیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ کفار کے گروہوں کو مومنین سے اس طرح دور کرے گا کہ انہیں کفار سے جہاد کرنے کی اجازت دے گا اور ان کی مدد کرے گا۔ اس میں اضمار ہے یعنی اجازت دے دی گئی ہے جنگ کی انہیں جو جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پس کلام کو حذف کیا گیا کیونکہ موجودہ کللام محذوف کلام پر دلالت کر رہی ہے۔ ضحاک نے کہا نبی پاک ﷺ کے صحابہ کرام نے کفار سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی کیونکہ کفار نے مکہ میں انہیں اذیتیں دی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان اللہ لا یحب کل خوان کفور جب ہجرت کی تو یہ آیت نازل ہوئی : اذن للذین… الخ، یہ ناسخ ہے ہر اس کے حکم کے لیے جو قرآن میں اعراض اور ترک اور درگزر کرنے بارے میں آیا ہے یہ پہلی آیت ہے جو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر نے کہا : یہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے وقت نازل ہوئی (2) نسائی اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب نبی کریم ﷺ مکہ سے نکلے تو حضرت ابوبکر نے کہا : انہوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے یہ ضرور ہلاک ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اُذن للذین… الخ، حضرت ابوبکر نے کہا : مجھے معلوم تھا قتال ضرور ہوگا۔ فرمایا : یہ حدیث حسن ہے بہت سے راویوں نے سفیان سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے مسلم البطین سے انہوں نے سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کی ہے اس میں حضرت ابن عباس ؓ نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ اباحت شرع سے ہے جبکہ معتزلہ کا نظریہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اذن کا معنی أبیح ہے یہ لفظ ہر ممنوع چیز کی اباحت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ یہ مفہوم سورة بقرہ اور دوسرے مقام پر گزر چکا ہے۔ یہ اذن ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یعنی اللہ نے اجازت دی۔ یقاتلون تا کے کسرہ کے ساتھ ہے، یعنی مشرک ان سے لڑتے ہیں اور وہ مومنین ہیں اسی لیے فرمایا : بانھم ظلموا انہیں اپنے شہروں سے نکال کر ان پر ظلم کیا گیا۔
Ayahs 22:40–41

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دئیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعہ اور (عیسائیوں کے) گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے بیشک خدا توانا اور غالب ہے

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے

اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین اخرجوا من دیارھم یہ ان کے مظالم میں سے ایک ظلم ہے کہ انہیں اس بات پر اپنے گھروں سے نکالا گیا کہ انہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ وحدہ ہے۔ الا ان یقولوا رببنا اللہ استثناء استثنا منقطع ہے یعنی لیکن ان کے رببنا اللہ کہنے کی وجہ سے ؛ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ فراء نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ محلل جر میں ہو اس سے پہلے با مقدر ہو ؛ یہ ابو اسحاق زجاج کا قول ہے۔ اس کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ انہیں بغیر حق کے ان کے گھروں سے نکالا گیا مگر یہ کہ انہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ ہے یعنی وہ توحید کی وجہ سے نکالے گئے بت پرستوں سے انہیں نکالا۔ الذین اخرجوا، الذین یقاتلون سے بدل ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن عربی نے کہا : ہمارے علماء نے کہا نبی پاک ﷺ کو بیعت عقبہ سے پہلے جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور نہ ان کے لیے خون حلال کیے گئے تھے انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میں دعا کرنے اور اذیت پر صبر کرنے، جاہل لوگوں سے درگزر کرنے کا دس سال تک حکم دیا گیا تاکہ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے اور وہ وعدہ بھی وفا ہوجائے جو اس نے اپنے فضل سے احسان کرنے کا کیا ہے فرمایا : وما کنا معذبین حتی تبعث رسولا۔ (الاسرائ) لیکن لوگ سرکشی میں قائم رہے اور واضح برہان سے انہوں نے استدلال نہیں کیا۔ قریش نے ان لوگوں پر ظلم کیا جنہوں نے آپ کی قوم سے آپ کی اتباع کی حتیٰ کہ انہیں دین کے سلسلہ میں فتنہ میں مبتلا کیا اور انہیں اپنے شہروں سے نکال دیا۔ پس بعض لوگ حبشہ چلے گئے، بعض مدینہ چلے گئے، بعض اذیتوں پر صبر کرتے رہے۔ جب قریش نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی کی اور اس کے حکم کو رد کیا اور اس کے نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا اور جو ایمان لائے اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا اور اس کی عبادت کی اور اس کے نبی کی تصدیق کی اور اپنے دین کی حفاظت کی انہیں انہوں نے تکالیف پہنچائیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کو جنگ کرنے، دفاع کرنے اور مظلوموں کا انتظام لینے کی اجازت دی اور یہ حکم نازل فرمایا : اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا… الامور۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ مجبور کے فعل کی نسببت مجبور کرنے والے کی طرف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخراج کی نسبت کفار کی طرف ہے کیونکہ کلام ذنب (حرم) اور الزام جرم کے تقدیر کے معنی میں ہے یہ آیت اس آیت کی مثل ہے : اذ اخرجہ الذین کفروا (التوبہ :40) ان دونوں آیات میں کلام ایک ہے۔ یہ سورة برأت میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض اگر اللہ تعالیٰ انبیاء کرام اور مومنین کے لیے دشمنوں اور اہل شرک سے قتال کو مشروع نہ فرماتا تو دیندار جو عبادت کی جگہیں بناتے یہ مشرک انہیں تباہ و برباد کردیتے لیکن اس نے قتال کو واجب کر کے دفاع کیا تاکہ اہل دین عببادت کے لیے فارغ ہوں۔ پس جہاد پہلی امتوں میں بھی تھا اس کے ساتھ شرائع کی اصلاح ہوئی اور متعبدات جمع ہوئیں گویا فرمایا : قتال کی اجازت دی گئی ہے پس مومنوں کو قتال کرنا چاہیے پھر قتال میں یہ امر قوی ہوا۔ ارشاد فرمایا : ولولا دفع اللہ الناس… الخ، یعنی اگر قتال اور جہاد نہ ہوتا تو ہر امت میں حق پر غلبہ کیا جاتا جو نصاریٰ اور صائبین جہاد کو پسند نہیں کرتے وہ اپنے مذہب کے مخالف ہیں کیونکہ اگر جہاد نہ ہوتا تو دین جس کا دفاع کیا جاتا ہے وہ باقی نہیں ہوتا اور یہ جگہیں بھی نہ رہتیں جو ان کی تحریف اور تبدیلی سے پہلے اور اسلام کے ذریعے ان کی ملل کے نسخ سے پہلے بتائی گئی ہیں یہ اسی معنی کے لیے ذکر کیا گیا ہے اگر یہ دفاع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی ملل کے نسخ سے پہلے بتائی گئی ہیں یہ اسی معنی کے لیے ذکر کیا گیا ہے اگر یہ دفاع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی ملل کے نسخ سے پہلے بتائی گئی ہیں یہ اسی معنی کے لیے ذکر کیا گیا ہے اگر یہ دفاع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہودیوں کے عبادت خانے گرائے جاتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں عیسائیوں کے گرجے گرائے جاتے اور حضرت محمد ﷺ کے زمانہ میں مساجد جاتیں۔ لھدمت یہ ہدایت البناء سے مشتق ہے یعنی میں نے عمارت کو توڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ ابن عطیہ نے کہا : جو کچھ اس آیت کی تاویل میں کہا گیا ہے اس میں سے یہ درست ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ اصحاب محمد ﷺ کے ذریعے کفار کو تاببعین اور ان کے بعد والوں سے نہ روکتا۔ اس میں بھی اگرچہ ایک قوم کا دوسری قوم سے دفاع ہے مگر قتال کا معنی زیادہ مناسب ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ مجاہد نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ عادل لوگوں کی شہادت کے ساتھ قوم کے ظلم کو نہ روکتا۔ ایک جماعت نے کہا : والیوں کے عدل کے ساتھ اللہ تعالیٰ ظالموں کے ظلم کو نہ روکتا۔ حضرت ابوالدرداء نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ مساجد میں رہنے والوں کی وجہ سے ان کا دفاع نہ کرتا تو مسجدوں میں نہ آتے اور جو جہاد کرتے ہیں ان کی وجہ سے دفاع نہ کرتا ان کا جو جہاد نہیں کرتے تو ان پر عذاب آجاتا۔ ایک جماعت نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ فضلاء اور نیکو کاروں کی دعا سے عذاب کو نہ ٹالتا۔ اس کے علاوہ بھی اس آیت کے معنی کی تفسیر کی گئی ہے۔ یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کا دفاع کیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ ابن خویز منداد نے کہا : یہ آیت اپنے ضمن میں یہ مفہوم بھی رکھتی ہے کہ ذمیوں کی عبادت گاہوں، کلیسوں، گرجوں اور آتشکدوں کو گرانا منع ہے، لیکن انہیں یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ ان میں اضافہ کریں اور ان میں وسعت پیدا کریں اور ان کی عمارتوں کو بلند کریں مسلمانوں کے لیے ان کے گرجوں میں داخل ہونا اور ان میں نماز پڑھنا مناسب نہیں جب وہ کوئی تعمیر کریں تو اس کا توڑنا واجب ہے اور بلاد حربب میں ان کے عبادت خانے اور کلیسے گرائیں جائیں گے اور اسلام کے شہروں میں ذمیوں کے جو عبادت خانے ہوں گے انہیں نہیں گرایا جائے گا کیونکہ یہ ان کے گھروں اور اموال کے قائم مقام ہوں گے جس کی حفاظت کا معاہدہ کیا گیا ہے اور انہیں زیادتی کی قدرت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس میں کفار کے اسباب کا ظہور ہے اور نئی تعمیر کے لیے مسجد کو گرانا جائز ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے مسجد نبوی کی تعمیر دوبارہ کی تھی۔
Ayahs 22:42–45

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی عاد اور ثمود کی قوم بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والے بھی اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا تو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے انکو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (بہت سے) کنویں بیکار اور (بہت سے) محل ویران (پڑے ہیں )

یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے یعنی آپ سے پہلے انبیاء بھی جھٹلائے گئے پس انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا آپ ان کی اقتدار کریں اور صبر کریں۔ وکذب موسیٰ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ اللسلام کو جھٹلایا رہے بنو اسرائیل تو انہوں نے آپ کو نہ جھٹلایا اسی وجہ سے اس کا ماقبل پر عطف نہیں کیا ورنہ ہوتا وقوم موسیٰ ، فاملیت للکفرین یعنی سزا کو ان سے مؤخر کیا گیا۔ ثم اخذتھم پھر میں نے انہیں سزا دی۔ فکیف کان نکیر۔ استفہام بمعنی تغیری ہے یعنی دیکھو کیسے میں نے ان نعمتوں کو عذاب اور ہلاک کے ساتھ بدلا تھا جن نعمتوں میں وہ تھے، اسی طرح میں قریش کے مکذبین کے ساتھ کروں گا۔ جوہری نے کہا : النکیر والانکار کا مطلب ہے ببرائی کو تبدیل کرنا۔ منکر واحد ہے مناکیر کا۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یسیروا فی الارض یعنی کفار مکہ ان اجڑی بستیوں کو نہیں دیکھتے تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ڈریں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کہ کہیں ان پر بھی وہ نازل نہ ہوجائے جو ان سے پہلے لوگوں پر نازلل ہوا تھا۔ فتکون لھم قلوب یعقلون بھا سمجھنے کی نسببت قلب کی طرف کی کیونکہ سمجھ کا محل وہی ہے جس طرح سننے کا محل کان ہے۔ بعض علماء نے کہا : سمجھنے کا محل دماغ ہے اور امام ابوحنیفہ سے مروی ہے اور جو ان سے مروی ہے صحیح ہے فانھا لا تعمی الابصار فراء نے کہا : ھاء عماد ہے یہ بھی جائئز ہے کہ فانہ کہا جائے ؛ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ معنی ایک ہی ہے مذکر خبر کی بنا پر ہے اور تانیث ابصار یا قصہ کی ببنا پر ہے یعنی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں یا فان القصۃ، لا تعمی الأبصار آنکھوں کی بصارت تو ان کے لیے ثاببت ہے۔ ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔ بلکہ دل حق کے ادراک اور عببرت حاصل کرنے سے اندھے ہیں۔ قتادہ نے کہا : دیکھنے والی نظر تو کفایت کرنے والی اور منفعت ہے اور نفع بخش نظر دل میں ہے۔ مجاہد نے کہا : ہر آنکھ کے لیے چار آنکھیں ہیں یعنی ہر انسان کے لیے چار آنکھیں ہیں دو آنکھیں دنیا میں اس کے سر میں ہیں اور دو آنکھیں آخرت میں اس کے دلل میں ہوں گی جب سر کی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں اور دل کی آنکھیں بینا ہوتی ہیں تو اس کا ظاہری آنکھوں سے اندھا ہونا کچھ نقصان نہیں دیتا اور اگر سر کی آنکھیں دیکھیں اور دل کی آنکھیں اندھی ہوں (1) تو اس کا دیکھنا نفع نہیں دیتا۔ قتادہ اور ابن جبیر نے کہا : یہ آیت حضرت عبداللہ بن ام مکتوب نابینا صحابی کے متعلق نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا : جب ومن کان فکعی ھذہ اعمی (الاسرائ :72) ( نازل ہوئی تو ابن ام مکتوم نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں دنیا میں ناببینا ہوں کیا میں آخرت میں بھی نابینا ہوں گا تو یہ آیت فانھا لا تعمی الابصار… الخ، نازل ہوئی یعنی جو اس دنیا میں اپنے دل سے اسلام سے نابینا رہا وہ آخرت میں دوزخ میں ہوگا۔
Ayahs 22:47–48

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں پھر میں نے انکو پکڑلیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

بعض علماء نے کہا : یہ ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک (الانفال : 32) ولن یخلف اللہ وعدہ یعنی عذاب کے نازل کرنے کا وعدہ جو کیا ہے اس میں خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ زجاج نے کہا : انہوں نے عذاب کو جلدی طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ کوئی چیز اس سے فوت نہ ہوگی۔ دنیا میں بدر کے دن ان پر عذاب نازل ہو بھی چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : یعنی ان ایام میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔ عکرمہ نے کہا : یعنی آخرت کے دنوں میں سے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ جب انہوں نے چھوٹے ایام میں عذاب کا مطالبہ کیا ہے تو وہ انہیں بڑے ایام میں عذاب دے گا۔ فراء نے کہا : یہ انہیں آخرت میں طویل عذاب کی وعید سنائی جاری ہے یعنی آخرت میں ان کے عذاب کے دنوں 0 میں سے ہر دن ہزار سال کا ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے آخرت میں شدت اور خوف میں ہر دن دنیا کے سال میں سے ہزار سال کی طرح ہوگا۔ اس میں خوف اور شدت ہوگی۔ اسی طرح نعمتوں کے دن کو قیاس کرلو۔ ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے مما تعدون پڑھا ہے، یعنی یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید نے ویستعجلونک کے قول کی وجہ سے یعدون کو پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے۔
Ayahs 22:49–53

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو ! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی وہ اہل دوزخ ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈالتا ہے جو وسوسہ شیطان ڈالتا خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

غرض (اس میں) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائیے بیشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل یایھا الناس، الناس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ انما انالکم نذیر، نذیر بمعنی منذر اور مخوف (ڈرانے والا) ہے۔ انذار کا معنی سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مبین۔ یعنی دینی معاملات میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہوتی ہے میں تمہارے لیے اسے بیان کرنے والا ہوں۔ رزق کریم۔ سے مراد جنت ہے۔ والذین سعوافی ایتنا وہ لوگ جو ہماری آیات کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاجزین غلبہ پانے کے لیے جنگ کرنے کے لیے۔ یہ حضرت اببن عباس ؓ کا قول ہے۔راء نے کہا : اس کا معنی ہے دشمنی کرتے ہوئے۔ حضرت عببداللہ بن زبیر نے کہا : اسلام سے باز رکھنے والے تھے۔ اخفش نے کہا : معاندین مسابقین۔ زجاج نے کہا : یہ گمان کرتے ہوئئے کہ وہ ہمیں عاجز کردیں گے کیونکہ ان کا گمان تھا کہ دوببارہ اٹھنا نہیں ہوگا اور انہوں نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر قادر نہ ہوگا ؛ یہ قتادہ کا قول ہے اسی طرح ابن کثیر اور اببو عمرو کی قرأت معجزین کا معنی ہے انہوں نے الف کے بغیر جیم کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ معنی بھی جائئز ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ اور آیات پر ایمان لانے میں مومنین کو عاجز کرتے تھے ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ بعض نے کہا : جو حضرت محمد ﷺ کی اتباع کرتا تھا اسے وہ عجز کی طرف منسوب کرتے تھے جیسے ان کا قول ہے جھلتہ وفسقتہ میں نے اسے جہالت اور فسق کی طرف منسوب کیا۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور انکے دل خدا کے آگے عاجزی کریں اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا انکو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولیعلم الذین اوتوا العلم اس سے مراد مومنین ہیں۔ بعض نے کہا اہل کتاب ہیں۔ انہ یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ نے آیات قرآنی سے محکم فرمائیں وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ ان کے دل ایمان لائیں اس کے ساتھ اور جھک جائیں اور سکون پائیں۔ بعض نے فتخبت کا معنی تخلص (خالص ہونا) کیا ہے۔ وان اللہ لھاد الذین امنوا ابو حیوہ نے واللہ لھاد الذین امنوا یعنی تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ الی صراط مستظیم۔ یعنی وہ انہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھتا ہے۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر آواقع ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یزال الذین کفروا فی مریۃ منہ یعنی قرآن کے بارے میں کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہ ابن جریج کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دین کے بارے میں شک میں رہیں گے اور وہ صراط مستقیم ہے۔ بعض نے کہا : اس کے بارے میں جو شیطان نے حضرت محمد ﷺ کی زبان پر ڈالا اور وہ کہتے ہیں : کیا ہوا ہے اسے کہ پہلے تو ببتوں 0 کا ذکر خیر سے کیا ہے اور پھر اس سے پھر گیا ہے۔ اببو عبدالرحمن سلمی نے مریۃ کو میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور میم کے کسرہ کے ساتھ زیادہ مشہور ہے ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ حتیٰ تاتیھم الساعۃ، الساعۃ سے مراد قیامت ہے۔ بغتۃ کا معنی ہے اچانک۔ اویاتیھم عذاب یوم عقیم۔ ضحاک نے کہا : اس دن کا عذاب جس کے لیے رات نہیں ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ نحاس نے کہا : قیامت کے دن عقیم کہا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد اس کی مثل دن نہیں آئے ؛ یہ ضحاک کے قول کا معنی ہے۔ لغت میں عقیم اسے کہتے ہیں جس کی اولاد نہ ہو اور جن والدین کے درمیان بچہ ہو اور ایام متواتر آگے پیچھے ہوں تو بعد والے دنوں کو اولاد کی ہئیت کی طرح بنایا گیا ہے اور وہ دن جس کے بعد دن نہ ہو تو اسے عظیم کہا جاتا ہے۔ حضرت اببن عباس ؓ مجاہد اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد ببدر کے دن کا عذاب ہے۔ اور عقیم کا معنی ہے بڑائی میں اس کی مثل نہیں ہے کیونکہ اس میں فرشتوں نے جہاد کیا تھا۔ ابن جریج نے کہا : کیونکہ وہ اس دن رات تک نظر نہیں آئے تھے بلکہ وہ شام سے پہلے قتل کیے گئے پس وہ ایسا دن ہوا جس کے لیے رات نہیں ہے اسی طرح ضحاک کے قول کا معنی ہے کہ وہ قیامت کا دن ہے کیونکہ اس کے لیے رات نہیں ہے۔ بعض نے کہا : اس کو عقیم اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں رحمت ورافت نہیں ہے اور وہ ہر خیر سے خالی ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا ارسلنا علیہم الریح المقیم۔ (الذاریات) یعنی ایسی ہوا جس میں خیر نہ تھی اور نہ وہ بارش لاتی تھی نہ رحمت۔
Ayahs 22:56–61

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی (اور) وہ ان میں فیصلہ کر دے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو خدا اچھی روزی دے گا اور بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ان کو ایسے مقام سے داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اسکی مدد کرے گا بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور خدا تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الملک یومئذ للہ یحکم بینہم یعنی قیامت کے روز حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اس میں نہ کوئی جھگڑنے والا ہوگا نہ دفاع کرنے والا۔ الملک کا معنی ہے جس کے لیے امور کی تدبیر ہے۔ اس کے لیے قدرت کا وسیع ہونا پھر اس کا حکم بیان فرمایا۔ فالذین امنوا وعملوا الصلحت فی جنت النعیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا فاولئک لھم عذاب مھین۔ میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ یومئذ سے یوم بدر کی طرف اشارہ ہو اس نے اس دن میں کافر کو ہلاک کرنے اور مومن کو سعادت بخشنے کا فیصلہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا تھا : ” تجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر کرم کیا اور فرمایا جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا “ (1)
Ayahs 22:62–65

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اسلئے کہ خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ بیشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک بان اللہ ھو الحق یعنی وہ حق والا ہے۔ اس کا دین حق ہے اور اس کی عببادت حق ہے اور مومنین اس سے نصرت کے مستحق ہوتے ہیں اس کے حق وعدہ کے حکم سے۔ کو ان ما یدعون من دونہ ھوالباطل یعنی وہ بت جن کا عبادت میں کوئی استحقاق نہیں ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابن عامر اور ابوبکر نے وان ماتدعون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے اور باقی قراء نے خبر کی بناء پر یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة لقمان میں بھی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اس کو اختیار کیا ہے۔ وان اللہ ھو العلی یعنی اپنی قدرت کی وجہ سے ہر چیز سے بلند ہے۔ اور اشباہ، انداد سے بلند ہے اور ظالم لوگ جو ایسی صفات بیان کرتے ہیں جو اس کے جلال کے مطابق نہیں ہیں وہ ان سے پاک ہے۔ الکبیر۔ عظمت، جلال اور بلند شان سے متصف ہے۔ بعض نے کہا : الکبیر کا مطلب ہے کبریاء والا اور الکبیر کمال ذات سے عببارت ہے یعنی اس کے لیے ہمیشہ سے وجود مطلق ہے وہ اوّل قدیم ہے آخر باقی ہے جبکہ مخلوق فنا ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم تران اللہ انزل من السمآء مآء فتصبح الارض مخضرۃ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال پر دلیل ہے یعنی جو اس پر قادر ہے وہ موت کے بعد حیات کے اعادہ پر قادر ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاذا انزللنا علیھا المآء اھتزت وربت جب ہم نے اس پر پانی اتارا تو لہلہانے لگی اور بڑی ہوئی۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ فتصبح جواب نہیں ہے تاکہ منصوب ہو ؛ یہ خلیل اور سیبویہ کے نزدیک خبر ہے۔ خلیل نے کہا : اس کا معنی ہے تو بیدار ہو، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا تو ایسا ایسا ہوا جیسا کہ شاعر نے کہا : الم تسال الرببع القواء فینطق وھل تخبرنک الیوم بیداء سملق اس کا معنی ہے تو نے اس سے سوال کیا تو وہ بولا۔ بعض علماء نے کہا : استفہام تحقیق ہے یعنی قدرأیت میں پھر تو غور کر کیسے یہ ہوجاتی ہے یا عطف ہے کیونکہ اس کا معنی ہے کیا تم نے ملاحظہ نہیں کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے۔ فراء نے کہا : الم تر خبر ہے جیسے تو کلام عرب میں دیکھتا ہے جان تو کہ الللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے۔ فتصبح الارض مخضرۃ تو وہ زمین سر سبز ہوگئی جیسے تو کہتا ہے مبقلۃ ومسبعۃ یعنی سبزیوں والی زمین اور درندوں والی زمین۔ یہ بتانا مقصود ہے کہ پانی کے نزول کا اثر بوٹیوں پر جلدی ہوتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : اور وہ اس طرح نہ ہوا مگر مکہ اور تہامہ میں (1) ۔ اس کا مطلب ہے اس نے فتصبح کے قول سے بارش کی رات کی صبح مراد لی ہے۔ اور ان کا خیال ہے یہ شادابی باقی شہروں میں متاخر ہوتی ہے۔ میں نے یہ بسوس الاقصیٰ میں مشاہدہ کیا کہ قحط کے بعد رات کو بارش نازل ہوئی تو وہ ریتلی زمین جس کو ہوا اڑاتی تھی صبح کے وقت باریک بوٹیوں کے ساتھ سرسبز و شاداب تھی۔ ان اللہ لطیف خبیر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خبیر بارش کے نہ ہونے کے وقت بندے پر جو مایوسی طاری ہوتی ہے وہ اس سے باخبر ہوتا ہے۔ لطیف اپنے بندوں کو رزق بخشنے میں بہت لطیف ہے۔ بعض علماء نے کہا : زمین سے نباتات نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی حاجت و فاقہ سے باخبر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لہ مافی السموت وما فی الارض تخلیق اور ملکیت کے اعتبار سے سب کچھ اسی کا ہے ہر چیز تدبیر اور پختگی میں اسی کی محتاج ہے۔ وان اللہ لھو الغنی الحمید۔ وہ کسی چیز کا محتاج نہیں وہ ہر حال میں محمود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم تر ان اللہ سخرلکم مافی الارض ایک اور نعمت کا ذکر فرمایا بتا کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے جانور، درخت اور نہریں جس کی انہیں ضرورت تھی اسے مسخر کردیا۔ الفلک اور کشتی کو اس کے چلنے کی حالت میں قراء نے مافی الارض پر عطف کی بنا پر منصوب پڑھا ہے۔ ویمسک السمآء ان تقع علی الارض یعنی کراھیۃ ان تقع۔ اور کو فیوں نے اس کی تفسیر میں کہا : لئلا تقع آسمان کو اس کا روکنا یہ ہے کہ اس نے اس میں ایک حال کے بعد دوسرے حال میں سکون پیدا کیا ہے۔ الا باذنہ مگر اللہ تعالیٰ کے اذن سے اس کا وقوع ہوگا۔ ان اللہ بالناس لرء وف رحیم۔ وہ اشیاء جن کو اس نے بندوں کے لیے مسخر کیا ان میں وہ بندوں پر مہربانی کرنے والا ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو مارتا ہے پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھو الذی احیاکم یعنی تمہارا نطفہ ہونے کے ببعد اس نے تمہیں زندگی دی ثم یمیتکم اور تمہاری عمر پوری ہونے کے وقت وہ تمہیں موت دے گا ثم یحییکم پھر وہ تمہیں حساب، ثواب اور عقاب کے لیے زندہ کرے گا۔ ان الانسان لکفور۔ جب وہ آیات ظاہر ہوچکی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں پھر بھی انسان منکر بنا ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الانسان سے مراد اسود ببن عبدالاسد، ابو جہل بن ہشام، عاص بن ہشام اور مشرکین کی ایک جماعت ہے۔ بعض نے کہا : یہ اس لیے فرمایا کیونکہ اکثر انسان نعمتوں 0 کی ناشکری کرتے ہیں جیسے فرمایا : قلیل من عببادی الشکور۔ (سبا)
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لکل امۃ جعلنا منسکاً یعنی ہم نے ہر امت کے لیے شریعت مقرر کی ہے ھم ناسکوہ وہ اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ فلا ینازعنک فی الامر تمہاری امت کے لیے جو شریعت ہے اس میں کوئی شخص آپ سے جھگڑا نہ کرے۔ ہر زمانہ کی اپنی شریعت تھی۔ ایک فرقہ نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کفار جو ذبائح کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے اس کے سبب نازل ہوئی اور جو وہ مومنین سے کہتے تھے : تم وہ کھاتے ہو جو تم خود ذبح کرتے ہو اور اسے نہیں کھاتے جس کو اللہ تعالیٰ مارتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ مارتا ہے وہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اسے کھائو بنسببت اس کے جس کو تم ہی چھریوں سے قتل کرتے ہو۔ تو اس جھگڑا کے سبب یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ مسئلہ سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔ اور منسکاً کے متعلق علماء کے اقوال ہیں وہ اسی سورت میں گزر چکے ہیں اور ھم ناسکوہ یہ شعور دیتا ہے کہ منسک مصدر ہے اگر یہ ظرف کا صیغہ ہوتا تو ہم ناسکون فیہ ہوتا۔ زجاج نے کہا : فلا ینازعنک فی الامر کا مطلب ہے آپ سے وہ جھگڑیں اس معنی پر ان جدلوک دلالت کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے : وہ تو آپ سے جھگڑے تھے پھر کیسے فرمایا کہ وہ آپ سے نہ جھگڑیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا معنی ہے آپ ان سے نہ جھگڑیں۔ یہ آیت قتال کے حکم سے پہلے نازل ہوئی۔ تو کہتا ہے : لا یضاربنک فلان فلا تضاربہ انت پس یہ باب مفاعلہ پر جاری ہوا۔ یہ نہیں کہا جاتا۔ لا یضربنک زید وأنت ترید لا تضرب زیداً اور ابو محلز نے فلا ینزعنک فی اللامر پڑھا ہے یعنی وہ آپ کو ہلکا نہ سمجھے اور وہ دین کے معاملہ میں تجھ پر غالب نہ آئے۔ جماعت کی قرأت المنازعۃ سے ہے۔ نہی کا لفظ دونوں قرأتوں میں کفار کے لیے ہے اور مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ وادع الی ربک یعنی آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے دین اور اس پر ایمان لانے کی طرف بلائیں۔ انک لعلی ھدی مستقیم۔ آپ دین مسقیم پر ہیں۔ جس میں کوئی کجی نہیں ہے۔