22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 22:68–69

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا قیامت کے روز ان کا فیصلہ کر دے گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان جدلوک، اے پیارے محمد ! ﷺ اگر وہ آپ سے جھگڑیں یعنی مشرکین مکہ فقل اللہ اعلم بما تعملون۔ تو کہو : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو یعنی جو وہ حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت نبی کریم ﷺ پر شب معراج نازل ہوئی جب آپ ساتویں آسمان میں تھے اور جو آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی وان جدلوک اگر وہ بطل کے ساتھ تم سے جھگڑیں تو انہیں اللہ اعلم بما تعملون کے قول کے ساتھ جواب دو یعنی کفرو تکذیب جو تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے بہتر جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو جھگڑا کرنے سے اعراض کا حکم فرمایا تاکہ آپ ان کی ہٹ دھرمی سے مشغول ہونے سے محفوظ رہیں۔ ہٹ دھرم شخص کے لیے کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اللہ یحکم ینکم یوم القیمۃ یعنی نبی کریم ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فیصلہ فرمائے گا۔ مسئلہ : اس آیت میں حسن آداب سکھایا جا رہا ہے کہ جو شخص تعصب اور صرف جھگڑا کرنے کے لیے مناظرہ کرتا ہے اسے جواب نہ دیا جائے اور اس سے مناظرہ نہ کیا جائے بلکہ اسے صرف وہی کہا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو سکھایا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت، آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے یعنی مخالفت پر خاموشی اور اللہ یحکم بینکم کے قول پر اکتفا منسوخ ہے۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے ؟ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض، یعنی اے محمد ! ﷺ جب آپ کو یہ معلوم ہے اور آپ کو یقین ہے تو جان لو کہ وہ بھی جانتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ بعض نے کہا : یہ غیر کے لیے استفہام تقریر ہے۔ ان ذلک فی کتب یعنی جو کچھ اس عالم میں ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر۔ اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرنا اللہ پر آسان ہے۔ بعض نے کہا : اس قلم کا لکھنا جس کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہونے والے امور کے لکھنے کا حکم دیا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ انکے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ویعبدون اس سے مراد کفار قریش ہیں جو بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطناً ۔ سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہے۔ یہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا تتلی علیہم ایتنا بینت آیات سے مراد قرآن ہے۔ تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر، المنکر سے مراد غضب اور یبوست ہے۔ یکادون یسطون وہ پکڑتے ہیں۔ السطوۃ کا معنی شدت سے پکڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے : سطابہ یسطو جب کوئی کسی چیز کو پکڑ لے خواہ یہ مارنے کے ساتھ ہو یا گالی گلوچ کے ساتھ ہو۔ اور سطاعلیہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ بالذین یتلون علیہم ایتنا، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یسطون کا معنی ہے وہ ان کی طرف ان کے ساتھ لڑتے ہیں۔ ضحاک نے کہا : وہ انہیں سختی سے ہاتھ پکڑتے ہیں۔ تمام معانی ایک جیسے ہیں۔ السطو کی اصل قہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ذوسطوت ہے اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔ قل افانبئکم بشر من ذلکم النار اس قرآن سے جو تم سنتے ہونا پسندیدہ چیز آگ ہے۔ بعض نے کہا : النار سے پہلے ضمیر ہے یعنی ھوالنار وہ آگ ہے۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے کیا میں تمہیں اس سے بھی بری چیز سے آگاہ نہ کروں جو تم سے قرآن پڑھنے والے کو لاحق ہوتی ہے وہ آگ ہے۔ تو یہ ان کے لیے وعید ہوگی جو قرآن پڑھنے والوں کو شدت سے پکڑتے ہیں اور النار میں رفع، نصب اور جرتینوں اعرابب جائز ہیں۔ الرفع ھو النار کی تقدیر پر یاھی النار کی تقدیر پر النصب اعنی کی تقدیر پر یا فعل کے اضمار پر جو دوسرے فعل کی مثل ہے یا معنی پر محمول کی ببنا پر یعنی اعرفکم بشر من ذلکم النار اور زبر بدل کی بنا پر۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو کہ جن لوگوں کو خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں اور اگر ان سے کوئی مکھی چھین کرلے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں

معبودانِ باطلہ کی تحقیر : جب انکا دعویٰ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے شرکاء تو عجیب و غریب اور مشہور ہونے میں ضرب الامثال کی طرح مشہور ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ (اے لوگو ! بیان کی جاتی ہے) واضح کی جاتی ہے۔ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ (ایک مثال تم اس کو غور سے سنو ! ) ہم یہ مثال بیان کرتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ (بیشک وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ ) یعقوب اور سہل نے یدعون پڑھا ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے سوا) بطور معبود لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا (وہ ہر گز مکھی پیدا نہ کرسکیں گے) صرف : نفی وتاکیدِ مستقبل کیلے لنؔ استعمال ہوتا ہے اور اس کی مزیدتاکید اس طرح بھی ہے کہ تخلیقِ ذباب ان سے ناممکن ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے محال ان یخلقوا انکا مکھی پیدا کرنا ناممکن ہے۔ سوال : یہاں مکھی کی تخصیص کیوں کی گئی ؟ جواب : ان کی توہین، تذلیل اور ضعف و کمزوری اور انتہائی گندگی ظاہر کرنے کیلئے لائے۔ جو ایسی حقیر ذلیل چیز پر قدرت نہیں رکھتے وہ بڑی اعلیٰ چیز کیا بنا سکیں گے پس وہ معبود بننے کے حقدار نہیں ذباب کو ذباب کہنے کی وجہ جب اس کی گندگی کی وجہ سے اس کو بھگایا جائے تو استکبار کرتے ہوئے یہ واپس لوٹ آتی ہے۔ وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ (اگرچہ وہ تمام اس کے لئے جمع ہوجائیں) مکھی کو پیدا کرنے کیلئے۔ یہ جملہ محل نصب میں ہے کیونکہ حال ہے گویا تقدیر کلام یہ ہے مستحیل منہم ان یخلقوا الذباب مشروطًا علیھم اجتماعہم جمیعًا لخلقہٖ و تعاونہم علیہ ان سے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ مکھی کو پیدا کریں ان کے ذمہ شرط یہ ہے کہ وہ اس کی پیدائش کیلئے تمام جمع ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تب بھی تعاون کے باوجود وہ پیدا نہیں کرسکتے۔ یہ آیت قریش کی تجھیل کیلئے انتہائی بلیغ ہے جب انہوں نے الوہیت کو تصا و یروتماثیل کے ساتھ موصوف کیا جن کو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے قلیل ترین پر بھی قدرت نہیں اگرچہ وہ تمام جمع ہوں۔ (حالانکہ الوہیت کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام مقدورات پر اقتدار و قبضہ اور ان کے متعلق تمام معلومات کا احاطہ ضروری ہے) اسی لئے فرمایا وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا (اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے جائے) لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہٗ (وہ اس سے چھڑوا نہیں سکتے) یعنی یہ چھوٹی اور حقیر مخلوق اگر ان سے کوئی چیز اچک کرلے جائے اور وہ تمام اس کے لئے جمع ہوں تاکہ اس سے وہ چیز واپس چھڑوائیں تو اس پر ان کو قدرت نہ حاصل ہوگی۔ قول ابن عباس ؓ : وہ اپنے بتوں پر زعفران ملتے اور ان کے سروں پر شہد جب مکھی اس سے لے جاتی تو وہ اس کے لینے سے تمام مل کر بھی عاجز تھے۔ ضَعُفَ الطَّالِبُ (کمزور ہے چاہنے والا) یعنی بت کیونکہ اس سے وہ مانگا جاتا ہے جو اس سے چھین لیا گیا۔ وَالْمَطْلُوْبُ (اور مطلوب) مکھی اس چیز کو طلب کرتی ہے جو اس نے چھیننا ہے۔ یہ اس طرح فرمایا گویا کہ کمزوری میں وہ اور مکھی برابر ہیں۔ اور اگر تحقیق کی نگاہ ڈالی جائے تو طالب بہت ہی زیادہ کمزور ہے بلکہ کمزور ترین ہے۔ اس لئے کہ مکھی تو حیوان ہے۔ اور وہ جماد اور وہ مغلوب مکھی غالب ہے۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے

عاجز و عزیز کا مقابل کیسے ؟ 74 : مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مرتبہ کا اندازہ ویسا نہیں کیا جیسا کرنا چاہیے) انہوں نے اس کو اس طرح نہیں پہچانا جیسا پہچاننا چاہیے تھا۔ وہ اس طرح کہ اس کمزور بت کو اس طرح شریک بناڈالا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ تعالیٰ البتہ زبردست قوت والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور قادر مطلق ہیں پھر کس طرح عاجز و مغلوب کو اس کے مشابہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ اپنے اولیاء کی نصرت کی طاقت رکھتے ہیں۔ عزیز یعنی وہ زبردست ہیں ان کے دشمنوں سے انتقام لے سکتے ہیں۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ (اللہ تعالیٰ منتخب کرلیتا ہے) چنائو کرلیتا ہے۔ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا (ملائکہ میں سے رسولوں کا) جیسے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل ( علیہ السلام) ۔ وَّ مِنَ النَّاسِ (اور انسانوں میں سے) رسول جیسے ابراہیم و موسیٰ و عیسٰی و محمد ﷺ وغیر ہم الصلاۃ والسلام۔ یہ درحقیقت اس بات کی تردید ہے جس کا انہوں نے انکار کیا تھا کہ رسول انسانوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ اور اس میں یہ بھی بیان فرمایا کہ رسولوں کی دو قسمیں ہیں۔ نمبر 1۔ فرشتے۔ نمبر 2۔ انسان دوسرا قول یہ ہے کہ اسوقت نازل ہوئی جب کفار نے کہا : اء نزل علیہ الذکر من بیننا ] ص : 8[ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والے ہیں۔ ) بَصِیْرٌ (دیکھنے والے ہیں) اس کو جس کو اس نے اپنے پیغامات کے لیے منتخب کرنا ہے۔ یا رسولوں کے اقوال کو سننے والے ہیں۔ جس کو عقلیں قبول کرتی ہیں۔ بصیرؔ وہ دیکھنے والے ہیں امتوں کے حالات کو قبولیت وردّ کے سلسلہ میں۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ (وہ جانتے ہیں اس کو جو ان کے سامنے ہے) یعنی گزر چکا وَمَاخَلْفَھُمْ (اور جو ان کے پیچھے ہے) جو ابھی نہیں آیا۔ یا نمبر 2۔ جو اعمال وہ حال میں کر رہے ہیں۔ اور جو مستقبل میں کریں گے۔ نمبر 3۔ ان کی دنیا کے معاملے کو اور انکی آخرت کے متعلق وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (اور تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں) یعنی اس کی طرف تمام امور کا لوٹنا ہے اور وہ ذات جس میں یہ صفات پائی جائیں لا یسئل عما یفعل ] الانبیاء : 23] اس سے اس بات کا سوال نہیں کیا جاسکتا جو وہ کرے۔ اس کے فیصلوں میں کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں اور اس کی تدابیر اور اختیار رسل پر کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا (اے ایمان والو ! تم رکوع کرو اور سجدہ کرو) اپنی نمازوں میں جب پہلے پہلے اسلام لائے تو وہ بلارکوع و سجود کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر ان کو حکم ہوا کہ رکوع و سجود کیا کریں۔ مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں ہیں۔ اور یہ سجدہ نماز کا ہے۔ سجدہ تلاوت نہیں ہے۔ وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ (اور تم اپنے رب کی عبادت کرو) تم اپنے رکوع و سجود سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا قصد کرو۔ نہ کہ بتوں کا وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ (اور بھلائی کے کام کرو) ایک قول یہ ہے جبکہ ذکر کو دیگر طاعات پر مقام و مرتبہ حاصل ہے تو اولاً ایمان والوں کو نماز کی طرف بلایا کہ نماز خالص ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واقم الصلوۃ لذکری ] طہ : 14[ پھر نماز کے علاوہ عبادت کی طرف بلایا۔ مثلاً روزہ، حج وغیرہ۔ پھر تمام دیگر طاعات کی طرف دعوت دی۔ دوسرا قول یہ ہے اس سے مراد صلہ رحمی اور مکارم اخلاق ہیں۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو) نمبر 1۔ تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔ نمبر 2۔ تم یہ تمام اعمال کرو اس حالت میں کہ تم فلاح کی امیدرکھنے والے ہو۔ یقین کر کے نہ بیٹھ جانے والے ہو۔ اور نہ تم اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے بیٹھنے والے ہو۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگذیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد ہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور خدا کے (دین کی رسی) کو پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے

فرمایا : اس سے تمام اوامر کی اطاعت کرنے اور تمام نواہی سے بازر ہنے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اللہ کی اطاعت میں خواہش نفس کو رد کرنے میں اپنے نفسوں سے جہاد کرو اور شیطان کے وسوسوں کو دور کرنے میں شیطان سے جہاد کرو اور ظالموں کے ظلم کو رد کرنے کے لئے ظالموں سے جہاد کرو اور کافروں کے کفر کو روکنے کے لئے کافروں سے جہاد کرو۔ ابن عطیہ نے کہا : مقاتل نے کہا یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ فاتقو اللہ ماستطعتم (التغابن :16) ہے اسی طرح ھبۃ اللہ نے کہا : حق جھادہ اور دوسری آیت میں حق تقتہ (آ ل عمران :102) ان اوامر میں استطاعت کی طرف تخفیف کے ساتھ منسوخ ہیں اور نسخ کی تقدیر کی ضرورت نہیں کیوں کہ حکم کی ابتدا میں بھی یہی مراد ہے کیوں کہ حق جھادہ سے حرج اٹھائی گئی ہو۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے فرمایا :” تمہارا بہتر دین آسان دین ہے “ (1) ۔ اب جعفر نحاس نے کہا : یہ وہ چیز ہے جس میں نسخ کا واقع ہونا جائز نہیں کیوں کہ یہ انسان پر واجب ہے جیسا کہ حضرت حیوہ بن شریح نے مرفوعا روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے۔ (2) ۔ ا سی طرح ابو غالب نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا : کونسا جہاد افضل ہے ؟ یہ سوال اس نے جمرہ اولیٰ کے پاس کیا آپ ﷺ نے اس کا جواب نہ دیا پھر دوسرے جمرہ کے پاس یہی سوال کیا تو آپ نے جواب نہ دیا پھر جمرہ عقبہ پر یہی سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا : میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ظالم حکمران کے سامنے کلمہ عدل کہنا (3) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ھو اجتبکم یعنی اپنے دین کے دفاع اور اپنے امر کے التزام کے لئے اس نے تمہیں چن لیا ہے یہ مجاہد کے امر کی تاکید ہے یعنی تم پر جہاد کرنا واجب ہے کیوں کہ اس نے تمہیں چن لیا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے : وما جعل علیکم فی الدین من حرج اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من حرج یعنی کوئی تنگی نہیں۔ سورة انعام میں یہ گزر چکا ہے۔ اس آیت میں بہت سے احکام داخل ہیں یہ وہ ہے جس کے ساتھ اللہ نے اس امت کو خاص فرمایا : معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس امت کو ایسی تین چیزیں عطا کی گئی ہیں جو سوائے نبی کے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ نبی کریم ﷺ کو کہا جاتا ہے : اذھب فلا حرج علیک تم جائو تم پر کوئی تنگی نہیں اور اس امت کو کہا گیا ہے ؛ وما جعل علیکم فی الدین من حرج نبی اپنی امت پر گواہ ہوتا ہے اور اس امت کو کہا گیا ہے : وتکونو شھداء علی الناس نبی کو کہا جائے گا : سل تعطہ تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ اس امت کو کہا گیا ہے۔ ادعونی استجب لکم (المومن :60) مسئلہ نمبر 2 ۔ وہ حرج جو اللہ نے اٹھائی ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ عکرمہ نے کہا : وہ دو دو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کا حلال ہونا اور لونڈیوں کا حلال ہونا ہے۔ بعض نے کہا : نماز قصر اور مسافر کے لئے روزہ افطار کرنا ہے اور اشارہ سے نماز پڑھنا جو رکوع و سجود پر قادر نہ ہو، اندھے، لنگڑے، مریض اور نادار شخص سے جہاد کا ساقط کرنا ہے اور ان سختیوں کو ختم کرنا ہے جو بنی اسرائیل پر تھیں ان اشیاء میں سے اکثر کی تفصیل گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن بصری سے مروی ہے کہ فطر، اضحی اور روزے میں چاندوں کی تاخیر و تقدیم ہے۔ جب کوئی جماعت ذی الحجہ کے چاند میں غلطی کرجائے پھر ایک دن عرفہ سے پہلے انہیں آگاہی ہوجائے یا وہ دسویں کے دن پر آگاہ ہوجائیں تو ان کے لئے جائز ہے۔ اس میں اختلاف ہے جو ہم نے موطا کی شرح المقتبس میں بیان کیا ہے اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ صحیح ہے۔ اسی طرح فطر، اضحی کا مسئلہ ہے جیسا کہ حماد بن زید نے ایوب سے انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : تمہاری عید اسی دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو اور تمہاری قربانی کا دن وہ ہے جس میں تم قربانیاں کرتے ہو (1) اس حدیث کو ابو دائود اور دار قطنی نے روایت کیا ہے اس کے الفاظ وہ ہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں۔ یعنی جہاد کرو جس میں تمہیں کوئی حرج لاحق نہ ہو۔ ائمہ نے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ سے دسویں کے دن کے چیزوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ پر تقدیم وتاخیر کے جواب میں فرمایا : ا فعل ولا حرج تم کرو کوئی حرج نہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء نے فرمایا : حرج اس سے اٹھائی گئی ہے جو منہاج شریعت پر قائم رہا ہے۔ رہے مال سلب کرنے والے، چور، اصحاب حدودتو ان پر حرج ہے۔ یہ وہ ہے جنہوں نے دین سے مفارقت کرکے حرج کو اپنے اوپر لاگو کیا اور شریعت میں اس سے بڑی حرج نہیں کہ اللہ کے راستہ میں دو شخصوں کے لئے ایک شخص کے ثبوت کا الزام ہے، نیز یقین کی صحت کے ساتھ اور عزم کی عمدگی کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے۔ ملۃ ابیکم زجاج نے کہا : اپنے باپ حضرت ابراہیم کے دین کی اتباع کرو۔ فراء نے کہا : کاف کے حذف کی تقدیر پر منصوب ہے گویا فرمایا : کملۃ ابیکم۔ بعض علماء نے کہا : اپنے باپ حضرت ابراہیم کے فعل کی طرح خیر کے اعمال کرو فعل کو ملت کے قائم مقام رکھا۔ حضرت ابراہیم تمام عربوں کے باپ ہیں۔ بعض نے کہا : یہ خطاب تمام مسلمانوں کو ہے اگرچہ تمام آپ کی اولاد سے نہیں ہیں کیوں کہ حضرت ابراہیم کی حرمت مسلمانوں پر اس طرح ہے جس طرح باپ کی حرمت بیٹے پر ہوتی ہے۔ ھو سمکم المسلمین من قبل، ابن زید اور حسن نے کہا : ھو ضمیر کا مرجع حضرت ابراہیم ہے۔ معنی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے حضرت ابراہیم نے یہ تمہارا نام لیا ہے۔ وفی ھذا اس کے حکم میں کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کی اتباع کی وہ مسلم ہے۔ ابن زید نے کہا : ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک (البقرہ 128) نحاس نے یہ قول عظماء امت کے قول کے مخالف ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس سے پہلی یعنی پہلی کتب میں اور قرآن میں اللہ نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے، یہ مجاہد وغیرہ کا قول ہے۔ لیکون الرسول شھیدا علیکم تمہارے تبلیغ کرنے پر رسول گواہ ہو اور وتکونو شھداء علی الناس تم لوگوں کے خلاف گواہی دو کہ ان کے رسولوں نے انہیں تبلیغ کی تھی جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فاقیمو الصلوۃ و اتو الزکوۃ واعتصموا باللہ ھو مولکم فنعم المولیٰ ونعم النصیر اس پر تفصیلا گفتگو گزر چکی ہے۔