Ayahs 23:1–4مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد افلح المومنون۔ بیہقی نے حضرت انس کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو تخلیق فرمایا اور اپنے دست قدرت سے اس کے درخت لگائے اور اسے فرمایا تو بول تو اس نے کہا : قد افلح المومنون۔ (1) نسائی نے حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں فتح مکہ کے دن بنی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (1) آپ ﷺ نے اپنے نعلین اتارے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھا اور سورة المومنون سے تلاوت کی جب حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰٗ کے ذکر پر پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی آپ نے وہاں رکوع کردیا۔ امام مسلم نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ امام ترمذی میں حضرت عمربن خطاب ؓ سے مروی ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے منہ مبارک سے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسے آواز سنائی دیتی تھی۔ (2) ایک دن آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر آپ کے پاس ٹھہرے رہے پھر جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہاتھوں کو بلند کیا اور یہ دعا کی :” اے اللہ ہم میں اضافہ کر اور ہم میں کمی نہ کر اور ہمیں خوش رکھ اور ہم سے راضی ہوجا پھر فرمایا۔ مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل پیرا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا “ پھر یہ آیات پڑھیں۔ قد افلح المومنون دس آیات تک۔ ابن عربی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ نحاس نے کہا : من اقامھن کا مطلب ہے جس نے ان پر عمل کیا اور جو ان میں احکام ہیں ان کی مخالفت نہ کرے جیسے تو کہتا ہے : فلان یقوم بعملہ فلاں اپنا کام کرتا ہے۔ پھر ان آیات کے بعد وضو اور حج کا فرض نازل ہوا پس وہ بھی ان کے ساتھ داخل ہوگیا۔ طلحہ بن مصرف نے قد افلح المومنون یعنی الف کے ضمہ کے ساتھ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ یعنی ثواب اور خیر میں باقی رکھے گئے۔ الفلاح کا لغوی اور شرعی معنی سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : خشعون۔ معتمر نے خالد سے انہوں نے حضرت محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے فرمایا نبی اکرم ﷺ نماز میں آسمان کی طرف دیکھتے تھے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی : الذین ھم فی صلاتھم خشعون۔ پھر رسول اللہ سجدہ کی جگہ دیکھتے تھے اور ہشیم نے روایت کی ہے کہ مسلمان نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہوتے تھے اور ادھر ادھر دیکھتے تھے حتیٰ کہ قد افلح المومنون۔ الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔ کا ارشاد نازل ہوا تو وہ اپنی نمازوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے سامنے دیکھنا شروع کیا۔ سورة بقرہ میں فول وجھک شطر المسجد الحرام (البقرہ :144) کے تحت علماء کے اقوال نمازی کی نماز کی حالت میں دیکھنے کے بارے میں گزر چکے ہیں کہ وہ نماز میں کس جگہ نظر رکھے۔ اسی طرح خشوع کا لغوی معنی وانھا لکبیرۃ الا علی الخاشعین۔ البقرہ کے تحت گزر چکا ہے۔ خشوع کا محل دل ہے اور دل میں خشوع ہوتا ہے تو اس کے خشوع کی وجہ سے تمام اعضاء میں خشوع ہوتا ہے کیونکہ وہ جسم کی سلطنت کا بادشاہ ہے جیسا کہ ہم نے سورة بقرہ میں بیان کیا ہے۔ جب کوئی عالم نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ نماز میں کسی چیز کی طرف نظر کرنے اور نفس میں کسی دنیا کی چیز کا خیال لانے سے رحمن سے ڈرتا ہے ہے۔ عطا نے کہا : وہ نماز میں اپنے جسم کے کسی حصہ سے نہیں کھیلتا۔ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص کو نماز میں اپنی داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ (3) حضرت ابو ذر نے کہا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے پس وہ کنکریوں کو حرکت نہ دے۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب الصلوۃ، ماجائکم کراھیۃ مسح الحصی فی الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 50) ۔ اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ شاعر نے کہا : غور سے سنو نماز میں ساری خیرو برکت ہے کیونکہ اس میں اعضاء اللہ کے لئے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہماری شریعت کا نماز پہلا فرض ہے اور آخر میں بھی یہی باقی رہے گا جب دین اٹھا لیا جائے گا جو تکبیر کے لئے کھڑا ہوتا ہے اس سے رحمت الٰہی ملاقات کرتی ہے گویا غلام اپنے آقا کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے اور نماز میں انسان اپنے رب سے سرگوشی کرنے والا ہوتا ہے۔ مبارک ہو اگر اسے خشوع نصیب ہو۔ ابو عمران جونی نے روایت کیا ہے فرمایا : حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی پاک ﷺ کا اخلاق کیا تھا فرمایا کہ تم سورة المومنون پڑھتے ہو ؟ عرض کی گئی ہاں۔ فرمایا وہ پڑھو تو سورة المومنون قد افلح المومنون سے لیکر یحافظون تک پڑھی (المستدرک للحاکم، کتاب التفسیر، سورة مومنون، جلد 2، صفحہ 392) ۔ نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نماز میں پہلے دائیں بائیں دیکھتے تھے لیکن پیٹھ کے پیچھے گردن نہیں پھیرتے تھے (سنن نسائی، کتاب السھو، الرخصۃ فی الالتفات، جلد 1، صفحہ 178، جامع ترمذی، باب ماذکر فی التفات الصلاۃ، حدیث 536) ۔ حضرت کعب بن مالک نے ایک طویل حدیث میں کہا : میں نبی پاک ﷺ کے قریب نماز پڑھتا تھا اور میں چوری چوری آپ کو دیکھتا تھا جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ﷺ میری طرف دیکھتے تھے اور جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تھا تو مجھ سے اعراض فرما لیتے تھے۔ (الحدیث) آپ ﷺ نے کعب
کو نماز کے اعادہ کا حکم نہیں دیا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ خشوع کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہا : یہ نماز کے فرائض سے ہے یا اس کے فضائل اور مکملات سے ہے۔ صحیح پہلا قول ہے اور خشوع کا محل دل ہے یہ پہلا عمل ہے جو لوگوں سے اٹھایا جائے گا یہ حضرت عبادہ بن صامت کا قول ہے۔ اس کو امام ترمذی نے جبیر بن نفیر کے حوالہ سے حضرت ابودرداء سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی ذھاب العلم، حدیث 2577) ۔ نسائی نے جبیر بن حدیث سے، عوف بن مالک اشجعی سے طرق صحیحہ کے ذریعے روایت کیا ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : معاویہ بن صالح اہل حدیث کے نزدیک ثقہ ہے۔ ہم کوئی ایسا محدث نہیں جانتے جس نے اس پر کلام کی ہو سوائے یحییٰ بن سعید قطان کے۔
میں کہتا ہوں : معاویہ بن صالح ابو عمرو اور ابو عمر حضری حمصی قاضی اندلس بھی کہا جاتا ہے، ابو حاتم رازی سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : صالح الحدیث ہے اس کی حدیث لکھی جاتی ہے اور اس سے حجت پکڑی جاتی ہے۔ اس میں یحییٰ بن معین کا قول مختلف ہے۔ عبد الرحمن بن مہدی، امام احمد بن حنبل اور ابو زرعہ رازی نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس سے حجت پکڑی ہے۔ سورة بقرہ میں اللغو اور للزکوۃ کا معنی گزر چکا ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ ضحاک نے کہا یہاں اللغو سے مراد شرک ہے۔ حسن نے کہا : تمام گناہ ہے۔ یہ جامع قول ہے اس میں اس کا قول بھی داخل ہے جنہوں نے کہا : اس سے مراد غنا ہے جیسا کہ امام مالک بن انس نے حضرت محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے جس کا بیان سورة لقمان میں آئے گا۔ فعلون۔ کا معنی ہے ادا کرنے والے۔ یہ فصیح ہے۔ کلام عرب میں اس معنی میں آیا ہے۔ امیہ نے کہا :
المطعمون الطعام فی السنۃ الاز متہ و الفاعلون للزکوات
Ayahs 23:5–7مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین ھم لفروجھم حفظون۔ ابن عربی نے کہا : قرآن کے غرائب میں سے ہے کہ یہ دس آیات مردوں اور عورتوں میں عام ہیں جیسے باقی قرآن کے الفاظ ہیں جو احتمال رکھتے ہیں کہ وہ مردوں اور عورتوں میں عام ہیں لیکن والذین ھم لفروجھم حفظون۔ کا قول اس کے مخاطب صرف مرد ہیں عورتوں کو اس میں خطاب نہیں کیونکہ آگے الا علی ازواجھم اومالکت ایمانھم کا قول آیا ہے اور عورتوں کا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دوسرے دلائل سے ثابت ہے جیسے عموما اور خصوصا آیات احصان اور اس کے علاوہ جو دلائل موجود ہیں۔
میں کہتا ہوں : اس تاویل پر آیت میں یہ عورت کے لئے حلال نہیں کہ اس سے وہ شخص وطی کرے جس کی وہ مالک ہے اس پر علماء کا اجماع ہے کیونکہ وہ اس آیت میں داخل نہیں لیکن اگر وہ عورت غلام کو آزاد کردے تو اس غلام کے لئے اس عورت سے نکاح کرنا چائز ہے جس طرح دوسروں کے لئے جائز ہے، یہ جمہور کے نزدیک ہے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، شعبی اور نخعی سے مروی ہے کہ اگر وہ اپنے غلام کو آزاد کردے جب وہ اس کی مالک ہو تو وہ اپنے نکاح پر باقی رہیں گے۔ ابوعمر نے کہا : فقہاء الامصار میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کیونکہ جمہور علماء کے نزدیک اس کے مالک ہونے سے ان کے درمیان نکاح باطل ہوجائے گا اور یہ طلاق نہیں ہے۔ یہ نکاح کا فسخ ہے اگر مالک ہونے کے بعد اسے آزاد کردے تو رجوع نہیں ہوسکتا مگر حدیث نکاح کے ساتھ اگرچہ ہو عدت میں ہی ہو۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ محمد بن عبد الحکم نے کہا میں نے حرملہ بن عبد العزیز کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام مالک سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو استمناء کرتا ہے تو انہوں نے جوابا یہ آیت پڑھی۔ والذین ھم لفروجھم حفظون۔۔۔۔۔ العدون۔ عرب آلہ تناسل کو عمیرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ شاعر نے کہا ہے۔
اذا حللت بواد لا انیس بہ فاجلد عمیرۃ لاداء ولا حرج
اہل عراق اس کو الاستمناء کہتے ہیں یہ منی سے باب استفعال ہے۔ امام احمد بن حنبل اپنے تقوی وورع کے باوجود اسکو جائز قرار دیتے ہیں ان کی حجت یہ ہے کہ یہ بدن سے فضلہ کا اخراج ہے اور حاجت کے وقت یہ جائز ہے اور اس کی اصل پچھنے لگوانا اور خون نکلوانا ہے۔ اکثر علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ بعض علماء نے کہا : یہ اپنے ساتھ برائی کرنا ہے یہ وہ معصیت ہے جس کو شیطان نے ایجاد کیا ہے اور لوگوں میں اس کو پھیلا دیا حتیٰ کہ اس پر بات ہونے لگی کاش یہ نہ کی جاتی اگر اس کے جواز پر دلیل بھی ہوتی تو ایک صاحب مروت اس کی خست کی وجہ سے اعراض کرتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ استمنائ، لونڈی سے نکاح کرنے سے بہتر ہے۔ ہم کہیں گے لونڈی سے نکاح کرنا بہتر ہے خواہ کافرہ بھی ہو۔ یہ بعض علماء کے مذہب پر ہے۔ اگر کوئی یہ کہے۔ تو بھی استمناء کی دلیل ضعیف ہے اور خسیس آدمی کے لئے بھی عار اور شرم کا باعث ہے پھر ایک عظیم آدمی کے لئے کیسے درست ہوگا ؟
مسئلہ نمبر 6 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : الا علیٰ ازواجھم، فراء نے کہا یعنی وہ عورتیں جو اللہ نے ان کے لیے حلال کی ہیں ان سے تجاوز نہیں کرتے۔ او مالکت ایمانھم، یہ محل جر میں ہے اور ازواجھم پر معطوف ہے اور ما مصدر یہ ہے یہ زنا استمناء اور نکاح متعہ کی تحریم کا تقاضا کرتی ہے کیوں کہ جس عورت سے متعہ کیا گیا ہے وہ زوجات کے قائم مقام نہیں ہے وہ نہ وارث ہوتی ہے نہ اس کی میراث لیجاتی ہے۔ اور اس کا بچہ اس کے ساتھ لاحق نہیں کیا جاتا اور نکاح متعہ سے عورت کو طلاق دینے کے ساتھ نکاح سے خارج نہیں کرتا بلکہ اسی مدت کے گزرنے کے ساتھ اسے خارج کرتا ہے جو مدت انہوں نے متعین کی تھی وہ مستاجرہ کی طرح ہوتی ہے۔ ابن عربی نے کہا : اگر ہم کہیں کہ متعہ جائز ہے اور یہ ایک مدت تک زوجہ ہے تو اس پر زوجیت کے اسم کا اطلاق ہوگا اور اگر ہم وہ حق بات کہیں جس پر اجماع امت ہے کہ نکاح متعہ حرام ہے تو وہ اس کی زوجہ نہیں ہے اور وہ اس آیت کے تحت داخل نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں : اس اختلاف کا فائدہ یہ ہے کہ کیا حد واجب ہوگی اور صریح زنا کی طرح بچہ لاحق نہیں کیا جائے گا یا شبہ کی وجہ سے حد نہیں لگائی جائے گی اور بچہ لاحق کیا جائے گا ؟ ہمارے اصحاب کے دو قول ہیں۔ (1) متعہ کی تحلیل وتحریم کے احوال تھے۔ اسی وجہ سے پہلے مباح تھا پھر نبی پاک ﷺ نے خیبر کے زمانہ میں اس کو حرام کیا تھا پھر اسے فتح مکہ کے موقع پر حلال کیا تھا پھر اس کے بعد اس کو حرام کیا تھا۔ یہ ہمارے اصحاب میں سے ابن خویز منداد وغیرہ کا قول ہے۔ ابن عربی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سورة النساء میں متعہ پر گفتگو گزرچکی ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فمن ابتغی وراء ذالک فاولئک ھم العدون۔ جو ایسی عورت سے نکاح کرے جو حلال نہ ہو اسے عادی کہا گیا ہے اور اس کے حد سے تجاوز کی وجہ سے اس پر حد واجب کی ہے۔ اور لواطت کرنے والا قرآن اور لغت کے اعتبار سے حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ اسکی دلیل اللہ کا ارشاد ہے۔ بل انتم قوم عدون۔ (الشعرائ) جیسا کہ سورة الاعرف میں گزر چکا ہے پس ایسے لوگوں پر حد قائم کرنا واجب ہے یہ ظاہر ہے اس پر کوئی غبار نہیں۔
میں کہتا ہوں : اس میں نظر ہے جب تک وہ جاہل نہ ہو یا تاویل کرنے والا نہ ہو اگرچہ اجماع منعقد ہے کہ والذین ھم لفروجھم حفظون۔۔۔۔۔۔ الخ سے مراد صرف مرد ہیں عورتیں اس میں شامل نہیں۔ معتمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : ایک عورت نے اپنے غلام سے ہم بستری کی اس کا ذکر حضرت عمر ؓ سے کیا گیا تو آپ نے عورت سے پوچھا کہ اس عمل پر تجھے کس نے ابھارا ؟ اس عورت نے کہا : میں خیال کرتی تھی کہ وہ میرا غلام ہے جس طرح مرد کے لئے لونڈی حلال ہوتی ہے یہ میرے لئے حلال ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے صحابہ کرام سے اس عورت کو رجم کرنے کا فیصلہ کیا تو صحابہ کرام نے کہا : اس نے کتاب اللہ کی غلط تاویل کی ہے اس پر رجم نہیں ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اللہ کی قسم میں اس کے بعد کبھی تجھے کسی آزاد کے لئے حلال نہیں کروں گا۔ حضرت عمر ؓ نے اسے یہ سزا دی اور حد دور کردی اور غلام کو آپ نے اس کے قریب نہ جانے کا حکم دیا۔
ابو بکر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس تھا ایک عورت اپنے خوبصورت غلام کے ساتھ آئی اور کہنے لگی۔ میں اس کے ساتھ ہم بستر ہوتی ہوں اور میرے چچا کے بیٹے مجھے اس سے منع کرتے ہیں میں بھی تو اس مرد کی طرح ہوں جس کے لئے لونڈی ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ وطی کرتا ہے۔ پس آپ میرے چچا کے بیٹوں کو مجھ سے باز رکھیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : کیا تو نے اس سے پہلے نکاح کیا ہوا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اللہ کی قسم اگر تیری جہالت نہ ہوتی تو میں تجھے پتھروں کے ساتھ رجم کرتا لیکن تم اسے لے جائو اور اس کو فروخت کردو کسی ایسے شخص سے جو اس غلام کو شہر سے باہر لے جائے۔ وراء بمعنی سویٰ ہے یہ ابتغی کا مفعول ہے یعنی جس نے بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے علاوہ طلب کیا۔ زجاج نے کہا : اس کے بعد جس نے طلب کیا۔ پس ابتغی کا مفعول محذوف ہے اور وراء ظرف ہے۔ اور ذالک اس کے ساتھ ہر مذکور، مذکر اور مونث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ فاولئک ھم العدون۔ حد سے تجاوز کرنے والے یہ عدا سے مشتق ہے یعنی حد سے تجاوز کیا۔
Ayahs 23:8–11مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و الذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون۔ والذین ھم علیٰ صلوتھم یحافظون۔ جمہور نے لاماناتھم پڑھا ہے جمع کے ساتھ۔ ابن کثیر نے مفرد پڑھا ہے۔ امانت اور عہد دین کے ہر قول اور عمل کو جامع ہے جس کو انسان اٹھاتا ہے۔ یہ لوگوں کی معاشرت، وعدہ وغیرہ کو عام ہے۔ اس کی انتہاء یہ ہے کہ عہد و پیمان کی پاسداری اور حفاطت کی جائے۔ امانت عہد سے اعم ہے۔ ہر عہد امانت ہوتا ہے اس میں قول، فعل اور عقیدہ سب شامل ہیں۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ جمہور نے صلواتھم پڑھا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے صلاتھم پڑھا ہے۔ یہ افراد اسم جنس ہے جو جمع کے معنی میں ہے۔ نماز کی محافظت سے مراد نماز کا قائم کرنا ہے اور اول وقت میں ادائیگی کی کوشش کرنا ہے اس کے رکوع و سجود کو مکمل کرنا ہے۔ سورة بقرہ میں تفصیلا گزر چکا ہے۔ پھر فرمایا : اولئک ھم الوارثون۔ ان آیات میں جو ذکر کیا گیا ہے اس پر جس نے عمل کیا وہ وارث ہیں یعنی جنت میں دوزخیوں کے منازل کے یہ وارث ہیں۔ حدیث میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم سے مروی ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے جنت میں ایک مسکن بنایا ہے اور ایک مسکن دوزخ میں ہے۔ مومنین اپنی منازل کو لے لیں گے اور کفار کی منازل کے وارث ہوں گے اور کفار اپنی دوزخ کی منازل میں ہوں گے۔ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 137) ۔ اس حدیث کا مفہوم ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : تم میں ہر ایک کی دو منزلیں ہیں ایک جنت میں اور ایک منزل آگ میں جب کوئی شخص مرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے تو اہل جنت اس کی منزل کے وارث ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ا ولئک ھم الوارثون۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، صفۃ الجنۃ، صفحہ 332) اس کی سند صحیح ہے یہ بھی احتمال ہے کہ جنت کے حصول کو وراثہ کہا ہو اس کے حصول کی حیثیت سے جب کہ دوسروں کو وہ نہیں ملی۔ یہ دو وجوہ پر اسم استعار ہے۔ فردوس جنت کی بلند، اوسط اور افضل جگہ کا نام ہے۔ اس حدیث کو ربیع بنت نضرام حارثہ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور صحیح مسلم میں ہے۔ ” جب اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو وہ جنت وسط اور جنت کا اعلیٰ درجہ ہے اس سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، سورة مومنون، جلد 2، صفحہ 147) ۔ ابوحاتم محمد بن حیان نے کہا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : فانہ اوسط الجنۃ۔ یعنی وہ عرض کے اعتبار سے جنت کے وسط میں ہے اور وہ جنت کا اعلیٰ ہے یعنی بلند ترین جگہ ہے۔ یہ تمام حضرات ابوہریرہ ؓ کے قول کی تصحیح کرتے ہیں۔ فردوس جنت کا پہاڑ ہے جس سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ مجاہد کے قول میں یہ رومی لفظ ہے عربی میں استعمال کیا گیا ہے۔ بعض نے کہا : یہ فارسی لفظ ہے عربی بنالیا گیا ہے۔ بعض نے کہا : حبشہ کی زبان کا لفظ ہے۔ اگر یہ ثابت ہو تو یہ تمام زبانوں کا لفظ ہوگا۔ ضحاک نے کہا : یہ عربی لفظ ہے اس کا مطلب الکرم ہے۔ عرب کروم (انگور کی بیلیں) کو قرادیس کہتے ہیں۔ ھم فیھا خٰلدون۔ جنت کے معنی پر مونث استعمال ہوا۔
Ayahs 23:12–13اس میں پانچ مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد خلقنا الانسان یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ قتادہ وغیرہ کا قول ہے کیونکہ وہ مٹی سے بنائے گئے تھے پھر ثم جعلنہ کی ضمیر کا مرجع ابن آدم ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں کیا لیکن شہرت امر کیو جہ سے یہ صحیح ہے کیونکہ معنی صرف اسی صورت میں صحیح ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے حتیٰ توارت بالحجاب۔ (ص)
بعض علماء نے فرمایا : سللۃ سے مراد ابن آدم ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے اس بناء پر السلالۃ سے مراد صاف پانی یعنی منی ہوگی۔ السلالۃ، السل سے فعالہ کا وزن ہے۔ اس کا مطلب کسی چیز کو دوسری چیز سے نکالنا۔ کہا جاتا ہے۔ سللت الشعر من العجین میں نے آٹے سے بال نکالا اور نیام سے میں نے تلوار نکالی۔ السیف من الغمداسی سے شاعر کا قول ہے۔
فسلی ثیابی من ثیابک تسل
النطفہ کو سلالۃ بچے کو سلیل وسلالۃ کہتے ہیں اس سے مراد وہ پانی لیا جاتا ہے جو پیٹھ سے نکالا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا :
فجاءت بہ عضب الادیم غضنفرا سلالہ فرج کان غیر حصین
اور ایک شاعر نے کہا :
وما ھند الا مھرۃ عربیۃ سلیلۃ افراس تجللھا بغل
اور من طین۔ حضرت آدم علیہ اسلام کی اصل مٹی سے ہے۔
میں کہتا ہوں : یعنی خالص مٹی سے ہے جیسا کہ ہم نے سورة انعام کے آغاز میں بیان کیا ہے۔
کلبی نے کہا : ا لسلالہ اس مٹی کو کہتے ہیں جب تو ان سے نچوڑے تو وہ تیری انگلیوں کے درمیان سے نکلے اور جو نکلتی ہے اسے السلالہ کہتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ نطفۃ، نطفہ، علقہ، مضغتہ اور ان کے متعلق احکام سورة حج کے آغاز میں گزر چکے ہیں۔ الحمد للہ علی ذالک
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانہ خلقا اخر خلق آخر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ثعلبی، ابو العالیہ، ضحاک اور ابن زید نے کہا : اس کے جماد ہونے کے بعد اس میں روح پھونکنا۔ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 138) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس کا دنیا کی طرف نکلنا ہے۔ قتادہ نے ایک جماعت سے روایت کیا کہ بالوں کا اگنا ہے۔ ضحاک نے کہا : دانتوں کا نکلنا اور بالوں کا نکلنا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کے شباب کا کمال ہے، یہ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اس میں اور دوسری چیزیں نطق، ادراک، حسن گفتگو اور تحصیل المعقولات یعنی مرنے تک جو مراحل آتے ہیں سب کو شامل ہے۔
Ayah 23:14مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتبرک اللہ احسن الخالقین۔ روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت سے خلقا آخر تک سنی تو کہا : فتبرک اللہ احسن الخالقین۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسی طرح اتاری گئی ہے۔ (ایضا) مسند طیالسی میں ہے : ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین۔ نازل ہوئی جب یہ نازل ہوئی تو میں نے کہا : فتبرک اللہ احسن الخالقین، تو فتبرک اللہ احسن الخالقین کے الفاظ نازل ہوگئے۔ روایت کیا جاتا ہے کہ اس کے قائل معاذ بن جبل تھے۔ روایت ہے کہ اس کے قائل عبد اللہ بن ابی سرح تھے۔ اسی سبب سے وہ مرتد ہوا تھا اس نے کہا جیسا کلام محمد ﷺ لاتا ہے اس کی مثال میں بھی لاتا ہوں۔ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا اور قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ (الانعام :93) اس کا بیان سورة انعام میں گزرچکا ہے۔ تبارک برکت سے باب تفاعل ہے۔ احسن الخالقین سب بنانے والوں سے پختہ بنانے والا ہے جو کوئی چیز بناتا ہے اس کے لئے خلقہ بولا جاتا ہے۔ اسی سے شاعر کا قول ہے۔
ولا نت تفری ما خلقت وبعد من القوم یخلق ثم لا یفری
بعض لوگوں نے اس لفظ کی لوگوں سے نفی کی ہے۔ خلق کا لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ ابن جریج نے کہا : فرمایا احسن الخالقین کیونکہ اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تخلیق کرنے کی اجازت دی تھی۔ بعض اس میں مضطرب ہیں۔ الصنع کے معنی میں اس لفظ کی بشر سے نفی نہیں کی جاتی۔ عدم سے ایجاد واختراع کے معنی کے اعتبار سے نفی کی جاتی ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اس آیت کی وجہ سے حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت محمد ﷺ سے کہا جب انہوں نے بزرگ صحابہ سے لیلتہ القدر کے بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا : اللہ بہتر جانتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اے حضرت ابن عباس ؓ تم کیا جانتے ہو ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اے امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا کیے اور سات زمینیں پیدا کیں۔ حضرت آدم کو سات ادوار سے پیدا کیا اور اس کا رزق سات چیزوں سے بنایا۔ میرا خیال ہے یہ ستائیسویں کی رات میں ہوگی۔ حضرت عمر ؓ نے کہا تم اس جیسا کلام لانے سے عاجز تھے جو یہ نوجوان لایا ہے جس نے ابھی اپنے سر کی مکمل صلاحیتیں بھی جمع نہیں کی۔ یہ طویل حدیث مسند ابی شیبہ میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے خلق ابن آدم من سبع سے مراد یہ آیت لی ہے اور جعل رزقہ من سبع سے مراد یہ آیت لی ہے۔ فانبتنا فیھا حبا۔ وعنبا وقضبا۔ وزیتونا ونخلا۔ وحدائق غلبا۔ وفاکھۃ وابا۔ (عبس) ان میں سے سات چیزیں ابن آدم کے لئے ہیں اور الاب جانوروں کے لئے ہے۔ القضب اس کو ابن آدم کھاتا ہے۔ اور اس سے عورتیں موٹی ہوتی ہیں۔ یہ ایک قول ہے اور بعض علماء نے کہا : القضب سے مراد سبزیاں ہیں کیونکہ وہ کاٹی جاتی ہیں۔ یہ ابن آدم کا رزق ہیں۔ بعض نے کہا : القضب اور الاب جانوروں کے لئے ہیں۔ باقی چھ ابن آدم کے لئے ہیں اور ساتویں چیز جانور ہیں۔ یہ بھی ابن آدم کا رزق ہیں۔
Ayahs 23:15–16آیت نمبر 15-16
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انکم بعد ذالک لمیتون۔ یعنی خلق اور حیات کے بعد تم مرنے والے ہو۔ نحاس نے کہا : اس معنی میں المائتون کہا جاتا ہے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھنے کی خبر دی فرمایا : ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون۔ پھر تم قیامت کے روزا ٹھائے جائو گے۔
Ayah 23:17آیت نمبر 17
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق ابو عبیدہ نے کہا : سبع طرائق سے مراد سات آسمان ہیں اس سے حکایت کیا گیا ہے کہ کہا جاتا ہے : طارقت الشیء کسی چیز کو دوسری چیز کے اوپر رکھنا۔ بعض نے کہا آسمانوں کے لئے راستے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ عرب ہر وہ چیز جو کسی چیز کے اوپر ہو اسے طریقہ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : وہ ملائکہ کے راستے ہیں۔ وما کنا عن الخلق غفلین۔ بعض علماء نے فرمایا اس کا مطلب ہے آسمان کی تخلیق سے غافل نہیں۔ اکثر مفسرین نے کہا : تمام مخلوق سے بیخبر نہیں کہ آسمان ان پر گر پڑیں اور انہیں ہلاک کردیں۔ میں کہتا ہوں : اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ مخلوق کی مصلحتوں اور حفاظت سے ہم غافل نہیں، یہی الحی القیوم کا معنی ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 23:18آیت نمبر 18
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر جو نعمتیں فرمائیں اور جو ان پر احسانات فرمائے ان میں سے ایک یہ آیت بھی ہے اس کے احسانات میں سے بڑا احسان پانی ہے جو انسانی بدن کی زندگی اور حیوان کی نمو کا باعث ہے۔ آسمان سے نازل ہونے والے پانی کی دو قسمیں ہیں۔ یہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا اور جس کے بارے خبر دی کہ اسے اس نے زمین کے اندر رکھا ہے اور اسے انسانوں کے پینے کے لئے خزانہ کیا ہے جس کو لوگ ضرورت کے وقت حاصل کرتے ہیں اور وہ نہروں، چشموں اور کنوئوں کا پانی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ یہاں چار پانیوں کا ارادہ فرمایا ہے۔ سیحان، جیحان، نیل اور فرات۔ مجاہد نے کہا : زمین میں کوئی پانی نہیں ہے مگر وہ آسمان سے آیا ہے۔ یہ مطلق نہیں ہے وگرنہ کھاری پانی زمین میں ثابت ہے۔ ممکن ہے یہ مجاہد کا قول میٹھے پانی سے مقید ہو۔ لا محالہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پانی رکھا ہے اور آسمان سے بھی پانی اتارا ہے۔ بعض نے کہا : وانزلنا من السماء ماء میٹھے پانی کی طرف اشارہ ہے اور اس کی اصل سمندر سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے لطف اور حسن تقدیر سے سمندر سے آسمان کی طرف اٹھاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس اٹھائے جانے کے ساتھ میٹھا ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے زمین کی طرف اتارتا ہے تاکہ اس سے نفع حاصل کیا جائے اگر معاملہ سمندر کے پانی تک ہوتا تو اس کی ملاحت کی وجہ سے اس سے نفع حاصل نہ کیا جاتا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بقدر، اس مقدار پر جو اصلاح کرنے والی ہے کیوں کہ اگر بارش زیادہ ہوتی تو نقصان کرتی اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وان من شیء الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم (الحجر) ۔ اور ارشاد ہے : وانا علیٰ ذھاب بہ لقدرون۔ یعنی اس خزانہ شدہ پانی کو لے جا نے پر بھی قادر ہیں۔ یہ تہدید اور وعید ہے یعنی اس کا نیچے لے جانا ہماری قدرت میں ہے اور لوگ پیاس کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں گے اور مویشی مرجائیں گے یہ اس قول کی طرح ہے : قل ارئیتم ان اصبح مائوکم غورا فمن یاتیکم بماء معین۔ (الملک)
مسئلہ نمبر 3 ۔ نحاس نے ذکر کیا ہے کہ ابویعقوب اسحاق بن ابراہیم بن یونس پر پڑھا گیا انہوں نے جامع بن سوارہ سے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں سعید بن سابق نے بتایا فرمایا ہمیں مسلمہ بن علی نے بتایا انہوں نے مقاتل بن حیان سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : اللہ نے جنت سے زمین کی طرف پانچ نہریں اتاریں۔ (تاریخ بغداد، جلد 1، صفحہ 57) ۔ سیحون، یہ ہند کی نہر ہے۔ جیجون، یہ بلخ کی نہر ہے۔ دجلہ اور فرات، یہ عراق کے دریا ہیں۔ نیل مصر کی نہر ہے۔ اللہ نے جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ سے انہیں اتارا ہے۔ جنت کے درجات میں سے نچلے درجے سے جبریل کے دونوں پروں پر نکالیں پھر انہیں پہاڑوں میں ودیعت کیا اور زمین میں انکا اجرا فرمایا اور ذرائع معاش میں لوگوں کے لئے ان میں منافع رکھے۔ اللہ کا ارشاد ہے وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض جب یاجوج وماجوج کا خروج ہوگا تو اللہ جبریل کو بھیجے گا اور زمین سے قرآن، علم اور پانچوں نہریں اٹھا لے گا پھر وہ انہیں آسمان کی طرف لے جائے گا۔ اللہ کے ارشاد وانا علیٰ ذھاب بہ لقدرون۔ سے یہی مراد ہے۔ جب یہ تمام اشیاء زمین سے اٹھا لی جائیں گی تو زمین میں بسنے والے دین ودنیا کی خیر کو مقفود پائیں گے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ ہر پانی جو آسمان سے نازل ہوا خواہ وہ خزانہ شدہ ہے یا خزانہ شدہ نہیں ہے وہ پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ اس سے غسل اور وضو کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة الفرقان میں اس کا بیان ہوگا۔
Ayah 23:19آیت نمبر 19
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : فانشانا یعنی اس پانی کو ہم نے نباتات کا سبب بنایا اور ہم نے اس کے ذریعے باغات کو وجود بخشا اور ہم نے انہیں پیدا کیا۔ اللہ نے النخیل (کھجور) والاعناب (انگور) کا ذکر کیا کیونکہ یہ طائف، مدینہ وغیرہما شہروں کے پھل ہیں۔ یہ طبری کا قول ہے۔ نیز تمام پھلوں سے یہ افضل ہیں۔ تشریف وتنبیہ کے لئے ان کا خصوصی ذکر فرمایا۔ لکم فیھا تمہارے لیے درخت میں۔ فواکہ کھجور اور انگور کے علاوہ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ نخیل اور اعناب کی طرف راجع ہو کیونکہ ان کی بہت سی اقسام ہیں۔ پہلا قول تمام پھلوں کو شامل ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ پھل فواکہ نہیں کھائے گا۔ ایک روایت میں ہے ہمارے نزدیک، سبز لوبیا اور اس کی مشابہ چیزیں کھانے سے حانث ہوجائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : ککڑی، کھیرا اور ترکھانے سے حانث نہیں ہوگا کیونکہ یہ سبزیوں سے ہیں پھلوں سے نہیں ہیں۔ اسی طرح اخروٹ، بادام اور پستہ کا حکم ہے کیونکہ یہ چیزیں پھلوں سے شمار نہیں ہوتی ہیں۔ اگر سیب، آڑو، کشمش یا امرود کھایا تو حانث ہوجائے گا اسی طرح تربوز کھانے سے حانث ہوجائے گا کیونکہ یہ تمام اشیاء کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد بطور پھل کھائی جاتی ہیں۔ پس یہ پھل ہیں۔ اسی طرح یہ اشیاء خشک ہوں تو بھی ان کا پھل کا حکم ہے مگر خشک تربوز اس حکم میں نہیں کیونکہ وہ پھلوں میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر انگور یا انار یا کھجور کھائی تو حانث نہ ہوگا۔ صاحبین نے امام صاحب کی اس مسئلہ میں مخالفت کی ہے وہ فرماتے ہیں : حانث ہوجائے گا کیونکہ یہ اشیاء تو عمدہ پھلوں سے ہیں اور تنعم کے طور پر کھائی جاتی ہیں۔ اور ان کا علحیدہ ذکر انکے معانی کے کمال کی وجہ سے ہے جیسے ملائکہ سے جبریل ومیکائیل کی تخصیص کی جاتی ہے۔ امام ابوحنیفہ نے یہ حجت پکڑی ہے کہ ان اشیاء کا عطف پھلوں پر کیا گیا ہے۔ فرمایا : وفاکھۃ وابا۔ (عبس) معطوف، معطوف علیہ کا غیر ہوتا ہے۔ احسان کے مقام پر ایک چیز کو دونام دینے کا حکمت تقاضا نہیں کرتی۔ انگور اور انار بعض شہروں میں کفایت کرتے ہیں وہاں یہ پھل نہیں ہوں گے کیونکہ جو پھل ہوتا ہے وہ خشک اور تر میں علیحدہ علیحدہ حکم نہیں رکھتا ہے۔ ان اشیاء کا خشک فاکھہ شمار نہیں ہوتا اسی طرح ان کا تر بھی فاکھہ (پھل) شمار نہیں ہوتا۔
Ayah 23:20آیت نمبر 20 ۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و شجرۃ اس کا عطف جنات پر ہے۔ فراء نے اس پر رفع بھی جائز قرار دیا کیونکہ فعل ظاہر نہیں اس کا معنی ہوگا وثم شجرۃ اس سے مراد زیتون کا درخت ہے۔ اس کو علیحدہ ذکر فرمایا کیونکہ اس کے منافع شام، حجاز اور دوسرے شہروں میں بہت زیادہ ہے۔ اور اس کو پانی بھی زیادہ نہیں د ینا پڑتا اور اس کی گوڈی وغیرہ بھی کم ہوتی ہے جبکہ دوسرے درختوں کی دیکھ بھال زیادہ ہوتی ہے۔ تخرج یہ صفت ہے۔ من طور سیناء اللہ نے زیتون کے درخت کو طور سیناپہاڑ سے نکالا ہے جس میں اللہ نے برکت کر کھی ہے۔ طور سیناء شام کی زمین سے ہے۔ یہ وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ نے حضرت موسیٰ سے کلام کی تھی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے۔ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ طور کلام عرب میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : یہ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ عربی بنایا گیا ہے۔ ابن زید نے کہا : یہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے۔ یہ مصر سے ایلتہ تک پھیلاہوا ہے۔ سیناء کے بارے میں اختلاف ہے۔ قتادہ نے کہا۔ اس کا معنی ہے خوبصورت۔ اس تاویل پر طور کی نعت کی حیثیت سے منون ہوگا۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے مبارک۔ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 139) معمر نے ایک جماعت سے روایت کیا ہے کہ اس کا معنی ہے شجرۃ (درخت) ۔ ان کو طور کو تنوین دینا لازم آتا ہے۔ جمہور نے کہا : یہ پہاڑ کا نام ہے جیسے تو کہتا ہے، جبل احد۔ مجاہد سے بھی یہی مروی ہے۔ سیناء ایک پتھر ہے پہاڑ کو اس طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس کے پاس موجود ہے۔ مقاتل نے کہا : ہر پہاڑ جو پھلوں کو اٹھاتا ہے وہ سیناء یعنی خوبصورت ہے۔ کو فیوں نے فعلاء کے وزن پر سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فعلاء کلام عرب میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ معرفہ اور نکرہ دونوں صورتوں میں غیر منصرف ہوتا ہے کیونکہ اس کے آخر میں الف تانیث ہے اور الف تانیث جس میں ہوتی ہے اسکو لازم ہوتی ہے۔ عرب کلام میں فعلاء نہیں ہے۔ لیکن جنہوں نے سیناء سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اس کا وزن فعلالا بنایا ہے۔ اس میں ہمزہ، حرباء کے ہمزہ کی طرح ہے۔ اس آیت میں غیر منصرف نہیں کیونکہ یہ بقعہ کا اسم ہے۔ اخفش کا خیال ہے کہ یہ اسم عجمی ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ تنبت بالدھن جمہور نے تنبت تاء کے فتحہ اور باء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے وہ اگتا ہے اس کے ساتھ تیل ہوتا ہے جیسا تو کہتا ہے : خرج زید بسلاحہ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 140) ۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے تاء کے ضمہ اور باء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس قرأت پر تقدیر میں اختلاف ہے۔ ابو علی فارسی نے کہا اس کی تقدیر یہ ہے۔ تنبت حباھا ومعہ الدھن پس مفعول محذوف ہے۔ بعض نے کہا : باء زائدہ ہے جیسے : ولا تلقو بایدیکم الی التھلکۃ (البقرہ :195) یہ ابو عبیدہ کا مذہب ہے۔ شاعر نے کہا۔
نضرب بالسیف ونرجو بالفرج
ایک اور شاعر نے کہا :
ھن الحرائر لا ربات احمرۃ سود المحاجر لا یقر ان بالسور
اسی طرح ابو علی نے کہا ہے پہلے گزر چکا ہے۔ بعض نے کہا : نبت اور انبت ہم معنی ہیں پس معنی اسی طرح ہوگا جمہوری قرأت میں گزرا ہے، یہی فراء اور ابو اسحاق کا مذہب ہے، اسی سے زہیر کا قول ہے۔
حتی اذا انبت البقل
اصمعی، انبت کا انکار کرتا ہے۔ اور زہیر کے اس قصیدہ پر تہمت لگاتا ہے جس میں ہے۔
رایت ذوی الحاجات حول بیوتھم قطینا بھاحتی اذا انبت البقل
یعنی نبت زہری، حسن اور اعرج نے تبنت بالدھن تاء کے رفع اور باء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن جنی اور زجاج نے کہا : یہ باء حال کی ہے یعنی تنبت ومعھا دھنھا اور حضرت ابن مسعود کی قرأت میں تخرج بالدھن (ایضا) یہ باحال کے لئے ہے۔ ابن دستویہ نے کہا : الدھن سے مراد نرم پانی ہے۔ تنبت، الانبات سے ہے۔ ذربن حبیش نے تنبت تاء کے ضمہ اور باء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ آیت سے مراد زیتون کی نعمت کو انسان پر شمار کرنا ہے۔ یہ ان نعمتوں کے ارکان سے ہے۔ جن سے استغناء نہیں۔ زیتون کے معنی میں سارے زیتون کے درخت ہیں۔ مختلف علاقوں سے مختلف اقسام پر جو ہوتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : و صبغ للا کلین۔ یہ جمہور کی قرأت ہے۔ ایک جماعت نے اصباغ جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ عامر بن عبد قیس نے ومتاعا پڑھا ہے۔ اور اس سے مراد زیت ہے جس کے ساتھ کھانا بنایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے۔ صبغ وصباغ جیسے دبغ ودباغ، لبس و لباس ہر سالن جس کے ساتھ کھانا کھایا جاتا ہے وہ صبغ ہے۔ ہر وی وغیرہ نے اس کو حکایت کیا ہے۔ الصبغ کا اصل معنی وہ چیز ہے جس کے ساتھ کپڑے کو رنگا جاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ سالن کو تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ روٹی سالن کیساتھ رنگی جاتی ہے جب روٹی کو سالن میں ڈبویا جاتا ہے۔ مقاتل نے کہا : الادم سے مراد الزیتون اور الدھن سے مرادتیل ہے۔ اللہ نے اس درخت میں سالن اور تیل پیدا فرمایا ہے۔ اس بناء پر الصبغ سے مراد زیتون ہوگا۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ تمام مائعات جن کے ساتھ کھانا کھایا جاتا ہے جیسے زیتون کا تیل، گھی، شہد اور شیرہ، سرکہ وغیرہ جو بھی شوربے والی چیزیں ہوتی ہیں وہ سالن ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے نص قائم فرمائی ہے۔ (جامع ترمذی، ابواب الاطعمتہ، ماجاء فی الخل، جلد 2، صفحہ 6) ۔ نعم الادام الخل بہترین سالن سرکہ ہے۔ اسکو نو صحابہ نے روایت کیا ہے۔ سات مرد اور دو عورتیں ہیں۔ صحیح میں جنہوں نے اس کو روایت کیا ہے وہ یہ ہیں۔ حضرت جابر، حضرت عائشہ، حضرت خارجہ، حضرت عمر، ان کا بیٹا حضرت عبید اللہ، حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت سمرہ بن جندب، حضرت انس اور حضرت ام ہانی ؓ
مسئلہ نمبر 5 ۔ اس میں اختلاف ہے جو چیزیں جامد ہوتی ہیں مثلا گوشت، کھجور اور زیتون وغیرہ۔ جمہور علماء کہتے ہیں : یہ سب سالن ہیں پس جس نے قسم اٹھائی کہ وہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے گوشت یا پنیر کھایا تو وہ حانث ہوجائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : وہ حانث نہیں ہوگا۔ صاحبین نے اس مسئلہ میں امام صاحب کی مخالفت کی ہے۔ امام ابو یوسف سے امام ابوحنیفہ کے قول کی مثل بھی مروی ہے۔ اور البقل (سبزیاں) تمام کے نزدیک سالن نہیں ہیں۔ امام شافعی سے کھجور کے متعلق دو قول مروی ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ یہ سالن نہیں کیونکہ ان کا قول التنبیہ میں ہے۔ بعض نے کہا : حانث ہوجائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ یہ تمام سالن ہیں۔ ابو دائود نے حضرت یوسف بن عبد اللہ بن سلام سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی دائود، کتاب الایمان، جلد 2 صفحہ 108 ۔ ایضا حدیث 2837 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ نے ایک ٹکڑا جو کی روٹی کا لیا اور اس پر کھجور رکھی اور فرمایا : یہ اس کا سالن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : د نیا وآخرت کا سالن کا سردار گوشت ہے۔ اس حدیث کو ابو عمرو نے ذکر کیا ہے۔ امام بخاری نے باب الادام کے نام سے عنوان باندھا ہے اور اس میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے۔ الادام، الموادمۃ سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی سے موافقت کرنا یہ اشیاء روٹی کے موافق ہے۔ پس یہ ادام ہیں۔ حدیث شریف میں ہے۔ سالن سے روٹی کھائو اگرچہ پانی کے ساتھ ہو۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ ادام کی حقیقت اجتماع میں اس طرح موافقت ہے کہ فصل کو قبول نہ کرتا ہو جیسے سرکہ، زیتون کا تیل وغیرہ، رہے گوشت اور انڈے وغیرہ یہ روٹی سے موافقت نہیں رکھتے بلکہ یہ اس کے مجاور ہوتے ہیں جیسے تربوز، کھجور اور انگور ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو کھانے میں روٹی کی موافقت کی محتاج ہے وہ ادام ہے، جو اس کی محتاج نہیں بلکہ علیحدہ دکھائی جاتی ہے تو وہ سالن ہوگا۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ امام ترمذی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : زیتون کا تیل کھائو اور اس کا تیل لگائو کیونکہ یہ مبارک درخت ہے۔ (جامع ترمذی، ابواب الاطعمتہ، ماجاء فی اکل الزیت، جلد 2، صفحہ 7 ۔ ایضا، حدیث نمبر 1774) ۔ یہ حدیث معروف نہیں مگر عبد الرزاق کی حدیث سے۔ وہ اس میں مضطرب ہے کبھی اس میں وہ عن عمر عن النبی ﷺ ذکر کرتا ہے۔ اور کبھی شک کی بناء پر روایت کرتا ہے اس نے کہا : احسبہ عن عمر عن النبی ﷺ اور کبھی کہا : عن زید بن اسلم عن ابیہ عن النبی ﷺ مقاتل نے کہا : ا لطور کو زیتون کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ کیونکہ زیتون سب سے پہلے اس سے پیدا ہوا۔ بعض نے کہا : زیتون پہلا درخت ہے جو دنیا میں طوفان کے بعد پیدا ہوا۔
Ayahs 23:21–27آیت نمبر 21-27
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں سواری کے لئے پیدا نہیں کی گئی۔ میں زمین جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں۔ (مسند امام احمد، حدیث نمبر 7351)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مالکم من الہ غیرہ لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے جر (زیر) کے ساتھ اور معنی کا اعتبار کرتے ہوئے رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ الاعراف میں یہ گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ماھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم۔ یعنی وہ تمہاری سرداری کرے اور تم پر شرف حاصل کرے اس طرح کہ وہ متبوع ہوجائے اور ہم اس کے تابع ہوں۔ ولو شاء اللہ لانزل ملئکۃ یعنی اگر اللہ چاہتا کہ اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کی جائے تو وہ اپنا رسول فرشتہ کو بناتا۔ ماسمعنا بھذا اس کی دعوت کی مثل ہم نے نہیں سنا۔ بعض نے کہا : ہم نے اس کی مثل بشر نہیں سنا جوا پنے رب کی رسالت کو لایا ہو۔ فی ابائنا الاولین۔ یعنی گزشتہ امتوں میں، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ بھذا میں باء زائدہ ہے یعنی ہم نے یہ اپنے آبائو اجداد میں ایسا ہونا نہیں سنا پھر بعض کا بعض پر عطف کیا۔ انہوں نے کہا : ان ھوا یعنی حضرت نوح نہیں ہے۔ الا رجل بہ جنۃ مگر ایک ایسا شخص جس کو جنون کا مرض ہے جو یہ نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے۔ فتربصو بہ حتیٰ حین۔ یعنی اس کی موت کا انتظار کرو۔ بعض نے فرمایا : حتیٰ کہ اس کا جنون ظاہر ہوجائے۔ فراء نے کہا : یہاں حین سے مراد مقرر وقت نہیں ہے۔ یہ اس قول کی طرح ہے۔ دعہ الی یوم ما اسے کچھ وقت تک چھوڑد و۔ فرمایا : جب وہ اپنی سرکشی پر بڑھتے رہیں۔ رب انصرنی بما کذبون۔ یعنی اے میرے رب جس نے میری اطاعت نہیں کی اور میرا پیغام نہیں سنا اس سے توا نتقام لے۔ فاوحینا الیہ یعنی ہم نے آسمان سے پیغام رساں بھیجے۔ ان اصنع الفلک اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے فاسلک فیھا یعنی اس میں داخل ہو اور اس کے اندر ہوجا۔ کہا جاتا ہے : سلکتہ فی کذا۔ واسلکتہ فیہ۔ جب تو کسی چیز کو داخل کرے عبد مناف بن ربع ہذلی نے کہا :
حتی اذا اسلکو ھم فی قتائدۃ شلا کما تطرد الجمالہ الشردا
من کل زوجین اثننین حفص نے من کل تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے اور حسن نے کہا : حضرت نوح نے کشتی میں سوار نہیں کیا تھا مگر جو بچے جنم دیتی تھی اور انڈے دیتی تھی رہے پسو اور مکھی اور کیڑے تو ان میں سے کسی چیز کو سوار نہیں کیا تھا یہ مٹی سے نکلے تھے۔ کشتی کے بارے میں قول تفصیل گزر چکا ہے۔
Ayah 23:28آیت نمبر 28 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فا ذا استویت جب آپ اور جو آپ کے ساتھی ہیں سوار ہوجائیں اس پر فقل الحمد للہ تو اللہ کی حمد کرو کہ اس نے تمہیں خلاصی دی۔ من القوم الظلمین۔ غرق ہونے سے الحمد اللہ کا کلمہ ہر اللہ کے شکر گزار کا کلمہ ہے۔ سورة فاتحہ میں اس کا بیان گزرچکا ہے۔
Ayah 23:29آیت نمبر 29 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل رب انزلنی منزلا مبٰرکا یہ اکثر کی قرأت ہے منزلا میم کے ضمہ اور زاء کے فتحہ کے ساتھ۔ یہ انزال سے مصدر ہے یعنی انزلنی انزالا مبارکا۔ زربن جیش اور ابوبکر نے عاصم اور مفصل سے منزلا میم کے فتحہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ یعنی ظرف کا صیغہ پڑھا ہے یعنی مجھے مبارک جگہ پر اتار۔ جو ہری نے کہا : المنزل میم اور زاء کے فتحہ کے ساتھ النزول کا معنی اترنا ہے تو کہتا ہے : نزلت نزولا و منزلا : شاعر نے کہا :
ان ذکر تک الدار منزلھا جمل بکیت فدمع العین منحدر سجل
المنزل کو نصب دی گئی ہے کیونکہ وہ مصدر ہے انزلہ غیرہ اور استنزلہ ہم معنی ہیں۔ نزلہ تنزیلا۔ التنزیل کا معنی ترتیب دینا ہے حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : یہ اس وقت تھا جب آپ کشتی سے نکلے جیسے اللہ کا ارشاد ہے : ا ھبط بسلم منا و برکت علیک وعلی امم من معک (ہود :48) ۔ اس صورت میں مبرکا کا قول سلامتی اور نجات کے معنی میں ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تعلیم دے رہا ہے کہ جب وہ سوار ہوں اور جب وہ اتریں تو یہ کہیں بلکہ جب اپنے گھروں میں داخل ہوں اور سلام کریں تو یہ کہیں۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ وہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ اللھم انزلنی منزلا مبرکا وانت خیر المنزلین۔
Ayah 23:30آیت نمبر 30 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان فی ذلک لایت یعنی نوح اور کشتی میں اور کفار کو ہلاک کرنے میں نشانیاں ہیں جو اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اپنے انبیاء کرام کی مدد کرتا ہے اور انکے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔ وان کنا لمبتلین۔ ہم ضرور پہلی قوموں کو بھی آزمانے والے تھے یعنی انکی طرف اپنے رسل بھیج کر ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا تھا تاکہ مطیع اور عاصی ایک دوسرے سے ممتار ہوجائیں اور ملائکہ کے لئے ان کی حالت واضح ہوجائے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم ان کے ساتھ آزمانے والوں کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ بعض نے کہا : ان کن کا معنی قدکنا ہے۔
Ayahs 23:31–32آیت نمبر 31-32
ا للہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانا من بعدھم : یعنی قوم نوح کی ہلاکت کے بعد قرنا اٰخرین۔ ایک دوسری جماعت پیدا کردی۔ بعض نے کہا : یہ قوم عاد تھی۔ فارسلنا فیھم رسولا منھم یعنی ہم نے ان میں ہود کو بھیجا کیونکہ حضرت نوح کی قوم کے پیچھے قوم عاد آئی تھی۔ بعض نے کہا : وہ قوم ثمود تھی۔ فارسلنا فیھم رسولا یعنی ہم نے ان میں حضرت صالح کو بھیجا انہوں نے کہا : اس کی دلیل اللہ کا ارشاد ہے۔ فاخذتھم الصیحتہ (الحجر :83) اور اس کی مثال یہ ہے۔ واخذالذین ظلموا الصیحتہ (ہود :67) میں کہتا ہوں۔ جنہیں چنگھاڑ نے آلیا تھا وہ حضرت شعیب کی قوم اصحاب مدین تھے۔ یہ بعید نہیں کہ یہ ہوں اللہ بہتر جانتا ہے۔ منھم ان کے خاندان سے۔ وہ اس کی پیدائش اور پرورش کی جگہ کو جانتے ہیں تاکہ ان کو اس کی بات سے زیادہ سکون ملے۔
Ayahs 23:33–35آیت نمبر 33-35
اللہ کا ارشاد ہے : وقال الملا۔ الملاء سے مراد اشراف، قائدین اور رئو وساء ہیں۔ من قومہ الذین کفرو وکذبو بلقاء الاخرۃ مراد دوبارہ اٹھنا اور حساب ہے۔ واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا ہم نے ان پر دنیا کی نعمتوں میں وسعت کردی حتیٰ کہ وہ اکڑ گئے اور اپنی خوشحالی کیوجہ سے کہنے لگے۔ ما ھذا الا بشر مثلکم یا کل مما تاکلون منہ ویشرب مما تشربون۔ من حذف ہے یعنی مما تشربون منہ۔ یہ بصریوں کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک حذف کی احتیاج نہیں ہے۔ کیونکہ ماجب مصدر یہ ہو تو ضمیر عائد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر تو ما کو بمعنی الذی بنائے گا تو مفعول کو حذف کرے گا من کے اضمار کی پھر بھی ضرورت نہیں۔ ولئن اطعتم بشرا مثلکم انکم اذا لخسرون۔ یعنی تم اپنے بتوں کو چھوڑ کر اور اس کی اتباع کرکے خسارہ میں ہونگے اسے تم پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وعظاما انکم مخرجون۔ یعنی مرنے کے بعد تم قبور سے اٹھائے جائو گے۔ پہلا ان محل نصب میں ہے کیونکہ اس پر یعدکم واقع ہے اور دوسرا اناس سے بدل ہے۔ یہ سیبویہ کا مذہب ہے مطلب یہ ہے کہ کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ تم نکالے جائو گے جب تم مرجائوگے۔ فراء نے کہا : حضرت عبد اللہ کی قرأت میں یہ تھا ایعدکم اذا متم وکنتم ترابا وعظاما انکم مخرجون۔ یہ تیرے اس قول کی مانند ہے کہ دوسرا ان تاکید کے لئے مکرر لایا گیا ہے جب کلام لمبی ہوجائے تو اس کا تکرار اچھا ہوتا ہے۔ اخفش نے کہا : اس کا مطلب ہے کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجائو گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائو گے وہ پھر تمہیں نکالے گا ؟ پس دوسرا ان فعل مضمر کی وجہ سے محل رفع میں ہے جیسے تو کہتا ہے : الیوم القتال معنی ہے آج جنگ ہوگی۔ ابو اسحاق نے کہا : ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وعظاما انکم مخرجون۔ بھی جائز ہے کیونکہ ایعدکم کا معنی ہے کیا وہ کہتا ہے کہ تم الخ
Ayah 23:36آیت نمبر 36 ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ھیھات یہ بعد کے لئے ہے گویا انہوں نے کہا : جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بعید ہے، جو یہ دوبارہ اٹھنے کا ذکر کرتے ہیں یہ نہیں ہوگا۔ ابو علی نے کہا : یہ فعل کے قائم مقام ہے۔ یعنی بعد ماتوعدون جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بعید ہے۔ ابن الانباری نے کہا : ھیھات ھیھات میں دس لغات ہیں۔ ھیھات لک۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ، یہ جماعت کی قرأت ہے۔ ھیھات لک تاء کے کسرہ کے ساتھ، ابو جعفر بن قعقاع سے مروی ہے۔ ھیھات لک تاء کے کسرہ اور تنوین کے ساتھ عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے۔ ھیھات لک تاء کے رفع کے ساتھ۔ ثعلبی نے کہا : نصر بن عاصم اور ابو العالیہ نے اس طرح پڑھا ہے۔ اور ھیھات لک رفع اور تنوین کے ساتھ ابو حیوہ شامی نے اس طرح پڑھا ہے، یہ قول بھی ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ھیھات لک نصب اور تنوین کے ساتھ۔ احوص نے کہا :
تذکرت ایاما مضین من الصبا وھیھات ھیھاتا الیک رجوعھا
اور ساتویں لغت ایھات ایھات ہے۔ فراء نے یہ دلیل دی ہے۔
فایھات ایھات العقیق ومن بہ ایھات خل بالعقیق نواصلہ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 143)
مہدوی نے کہا : عیسیٰ ہمدانی نے ھیھات ھیھات تاء کے سکون کیساتھ پڑھا ہے۔ ابن الانباری نے کہا : عربوں میں سے کچھ ایھان نون کے ساتھ بھی کہتے ہیں۔ ایھا بغیر نون کے کہتے ہیں۔ فراء نے یہ شعر پڑھا۔
ومن دونی الاعیان والقنع کلہ وکتمان ایھا ما اشت وابعدا
یہ دس لغات ہیں جنہوں نے ھیھات تاء کے فتحہ کے ساتھ کہا اس نے اس کو این اور کیف کی مثل بنایا۔ بعض نے کہا : کیونکہ یہ دواداۃ ہیں جو مرکب ہیں جیسے خمسۃ عشر، بعلبک اور رام ہرمز اور توھا کے ساتھ دوسرے پر وقف کرے گا جیسے تو کہتا ہے : خمس عشرہ وسبع عشرہ۔ فراء نے کہا اس کی نصب تمت اور ربت کی نصب کی طرح ہے۔ الف اور اس سے پہلے فتحہ کی اتباع میں فتح ہونا بھی جائز ہے اور جنہوں نے تاکسرہ دیا انہوں نے اسے امس اور ھولاء کی مثل بنایا ہے شاعر نے کہا :
وھیھات ھیھات الیک رجوعھا
کسائی نے کہا : جنہوں نے کسرہ دیا انہوں نے اس پر ھا کے ساتھ وقف کیا وہ کہتا ہے : ھیھاہ اور جنہوں نے تا کو نصب دی اس نے تا کے ساتھ وقف کیا اور وہ چاہے تو ھا کے ساتھ وقف کرے اور جنہوں نے تا کو ضمہ دیا انہوں نے اس کو منذر، قط اور حیث کی مثل بنایا اور جنہوں نے ھیھات تنوین کیساتھ پڑھا وہ جمع ہے اس کے ساتھ اس نے کثرت کا ارادہ کیا گویا کہا : بعدا بعدا بعض نے کہا کسرہ دیا گیا اور تنوین دی گئی اصوات کے ساتھ تشبیہ کی بناء پر جیسے عاق وطاق۔ اخفش نے کہا : ھیھات میں جمع کا تصور ہونا بھی جائز ہے پس اس میں تا اس جمع کے لئے ہوگی جو تانیث کے لئے ہوتی ہے اور جنہوں نے ھیھات پڑھا یہ جائز ہے کہ اس نے اس کو اسم معرب بنایا ہو جس میں بعد کا معنی ہو اور اس نے فعل کے لئے اسم نہ بنایا ہوتا کہ مبنی ہو۔ بعض نے کہا : تا کو جمع کے ساتھ تشبیہ دی گئی جیسے اللہ کا ارشاد ہے ؛ فاذا ا فضتم من عرفت (البقرہ :198) فراء نے کہا : میں تا پر وقف کو پسند کرتا ہوں عربوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو تاکو ہر حال میں جردیتے ہیں گویا یہ عرفات اور ملکوت اور اس کے مشابہ الفاظ کی طرح ہے۔ مجاہد، عیسیٰ بن عمرو، ابو عمر بن علائ، کسائی اور ابن کثیر ھیھاہ پر وقف کرتے تھے۔ ابو عمرو سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ ھیھات پر تا پر وقف کرتے تھے۔ بقیہ قراء کا بھی یہی نظریہ ہے کیونکہ یہ حرف ہے۔ ابن الانباری نے کہا : جس نے ان دونوں کو ایک حرف بنایا ہے وہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ نہیں کرتا اور دوسرے پر ھا کیساتھ وقف کیا اور پہلے پر وقف نہیں کیا پس وہ کہتا ہے : ھیھات ھیھات جیسے کہتا ہے خمس عشرہ جیسا کہ پہلے گزرا ہے اور جنہوں نے ایک کی دوسرے سے علیحدگی کی نیت کی اس نے دونوں میں ھا اور تا کے ساتھ وقف کیا کیونکہ ھا کی اصل تا ہے۔