22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsسراج البیان

Ayahs 22:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو ، بیشک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے ،

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن اسے دیکھو گے ، ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلائے ہوئے کو بھول جائے گی اور ہر ایک حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تجھے سب آدمی نشہ میں معلوم ہوں گے ، اور (حالانکہ) وہ نشہ میں نہیں ہوں گے پر اللہ کا عذاب سخت ہے (ف 1) ۔

قرآن کی حیرت انگیز بلاغت : (ف 1) قرآن حکیم میں یہ عجیب بلاغت ہے کہ وہ جس مضمون کو بیان کرتا ہے الفاظ میں اس کی تصویر کھینچ دیتا ہے ، یا یوں سمجھ لیجئے کہ الفاظ ایسے موزون اور مناسب استعمال کرتا ہے کہ الفاظ کی صورت ہیئت بڑھ بڑھ کر مضمون کی غمازی کرنے لگتی ہے ، اور بسا اوقات وہ لوگ بھی جو عربی نہیں جانتے ، الفاظ کی ترکیب وساخت سے مضمون کی نوعیت سمجھ جاتے ہیں ۔ غور فرمائیے ان آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہے ، اور پیرائیہ بیان ایسا ہے یا الفاظ اس نوع کے ہیں کہ ان کو پڑھتے وقت خواہ مخواہ دل مارے خوف کے بےچین ہوجاتا ہے ، اور طبیعت میں بےکلی سی محسوس ہونے لگتی ہے گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعی قیامت آپہنچی ، یا چند لمحوں میں آیا چاہتی ہے ، حدیث میں آیا ہے ، حضور ﷺ نے جب یہ آیتیں صحابہ کو سنائیں تو وہ اس درجہ متاثر ہوئے کہ رات بھر روتے رہے ، اور دوسرے دن تک کچھ نہ کھایا نہ پیا اسی طرح دن بھر قیامت کے خوف سے لرزاں رہے ۔
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض آدمی وہ ہیں جو بن خبر اللہ کے بارہ میں جھگڑتے اور ہر شیطان سرکش کے پیرو ہیں (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی بعض لوگ ایسے بدبخت اور محروم سعادت ہیں ، کہ وہ خدا کی وسعتوں اور قدرتوں سے پوری طرح آگاہ نہ ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں ، اور یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قیامت آئے گی ، اور دنیا کو فنا کرکے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ حل لغات : علقۃ : عام لوگوں نے اس کا ترجمہ پارہ خون بستہ یعنی جمے ہوئے خون کا ٹکڑا کیا ہے ، مگر حقیقتا اس سے مراد جرثومہ حیات ہے ۔
Ayahs 22:4–6

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

شیطان کی قسمت میں لکھا گیا ہے کہ جو کوئی اس کا دوست بنے وہ اسے گمراہ کریگا اور عذاب دوزخ کی راہ بتائے گا ،

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو ! اگر جی اٹھنے کے بارہ میں تمہیں شک ہے ، تو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر (خون کی) پھٹکی سے ، پھر نقشہ بنی اور غیر نقشہ بنی بوٹی سے ، تاکہ ہم تمہارے لئے بیان کریں ، اور رحموں میں جو ہم چاہیں ایک وقت مقررہ تک ٹھہرا رکھتے ہیں ، پھر ہم تمہیں بچہ نکال دیتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی جوانی کے زور کو پہنچو اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو مرجاتے ہیں اور کوئی تم میں وہ ہے جو نکمی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے ، اور تو زمین کو خشک دیکھتا ہے ، پھر جب ہم اس پر پانی نازل کرتے تو لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے اور قسم قسم کی نفیس چیزیں اگاتی ہیں ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ وہی حق ہے اور وہ مردوں کو جلاتا ہے اور وہ ہر شئے پر قادر ہے (ف 1) ۔

حشرونشر ایک طبعی حقیقت ہے : (ف 1) قرآن حکیم نے حشر ونشر کے عقیدے کو بڑے زور سے بیان کیا ہے کیونکہ یہی ایک عقیدہ ایسا ہے جو دلوں میں ذمہ داری کے احساسات کو بیدار کرسکتا ہے ، اور ہر شخص میں روح عمل پھونک سکتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کے معنے یہ ہیں کہ ہر شخص مکافات عمل کے اصول کو تسلیم کرے ، اور مانے کہ اعمال ضائع نہیں ہوتے ، اور حق و باطل کے ثمرات اور نتائج میں واضح اور بین فرق ہے ۔ جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ، اور حشر ونشر کے کوائف کو نہیں مانتا ، وہ ذمہ داری کے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ، اس کے نزدیک نیکی اور بھلائی دو مہمل لفظ ہیں ، جو بالکل شرمندہ معنی نہیں ، وہ ہر عمل کی بنیاد اپنی خواہشات پر رکھتا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ مجھے دنیا والوں سے اور ان کی بھلائی برائی سے کوئی تعلق نہیں ، یہ انکار کا عقیدہ حرص وآز کی آگ کو ہوا دیتا ہے اور انتہا درجہ کی خود غرضی پیدا کردیتا ہے ، آخرت کے انکار کے بعد دنیا میں کسی اعلی تمدن کی امید نہیں کی جاسکتی کیونکہ قدرتا یہ انکار انفرادیت کا حامی اور شخصی اور ذاتی اغراض کا پیدا کرنے والا ہے ۔ مکے والے مجوسیوں کے زیر اثر حشر ونشر پر ایمان نہیں رکھتے تھے انہیں اس عقیدے کی افادیت کا قطعا علم نہ تھا ، اور نہ انہیں یہ معلوم تھا کہ یہ ایک طبعی حقیقت ہے اصول ارتقاء اور خود زندگی کا مفہوم اس بات کا مقتضی ہے ، کہ یہ زندگی صرف موت تک محدود نہ ہو بلکہ آگے بڑھے ، اور کمال تک پہنچے ، ان کو اس میں بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ موت کے بعد جب روح کا تعلق بدن سے منقطع ہوجاتا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے ، کہ پھر یہ تعلق قائم ہوجائے ، اور دوبارہ انسان زندگی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوجائے ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکیمانہ اصول کی جانب ان کی توجہ کو مبذول فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ تمہیں قیامت اور حشر ونشر کے متعلق تو شبہ ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ تمہاری زندگی بجائے خود اس سے زیادہ حیرت انگیز انقلاب کی حامل ہے تم روزانہ اس تبدیل کو دیکھتے اور اس انقلاب کو محسوس کرتے ہو ، مگر تمہیں کبھی یہ شبہ نہیں ہوتا کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ تم دیکھتے ہو ، تمہاری زندگی کا دارو مدار مٹی اور پانی پر ہے ۔ سبزیاں اور پھل کھاتے ہو ، مگر تم نے کبھی غور کیا ہے ، یہ سبزیاں اور پھل کیا ہیں ؟ صرف مٹی ، پھر یہ غذا ایک قطرہ آپ کی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے کیا یہ تمہاری عقل میں ممکن ہے ؟ پھر یہی قطرہ آب جرثومہ حیات کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ چند منزلوں سے گزرنے کے بعد چیختا چلاتا بچہ پیدا ہوجاتا ہے ، کیا یہ سب باتیں آپ کی سمجھ میں آتی ہیں ؟ پھر یہ دو بالشت کا بچہ کڑیل جوان ہوجاتا ہے ، اور جوانی کے نشہ خدا کا بھی انکار کرنے لگتا ہے ، پھر جوانی کی کڑی کمان جھک جاتی ہے اور بڑھاپا پھٹ پڑتا ہے ، بتائیے کیا یہ انقلابات ایسے ہیں کہ ان کو کما حقہ سمجھ سکیں ؟ یاد رکھو ، حشر ونشر بھی اسی طرح کا ایک طبعی انقلاب ہے جو اسی طرح ممکن ہے جس طرح یہ روز مرہ کے واقعات پھر تم یہ بھی دیکھتے ہو کہ ایک وقت زمین خشک ہوتی ہے ، اور روئیدگی اور سبزے سے قطعی محروم مگر بارش کے چند قطرات گرتے ہیں اور یہ مردہ زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے ، کیا وہ خدا جو مردہ زمین کو زندگی بخش سکتا ہے وہ تمہاری موت کو زندگی سے نہیں بدل سکتا ؟ حل لغات : اشد کم : پوری جوانی ۔
Ayahs 22:7–8

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں ، اور یہ کہ خدا انہیں جو قبروں میں ہیں اٹھائے گا ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور آدمیوں میں کوئی ہے کہ اللہ کے بارہ میں بےعلم اور بےہدایت اور بےروشن کتاب کے جھگڑتا ہے (ف 1) ۔

معرفت کے تین درجے : (ف 1) معرفت کے تین درجے ہیں ، استقلال ، وجدان اور آسمانی کتاب ، یعنی یا تو انسان قوت غور وفکر سے حقائق تک پہنچ سکتا ہے ، یا پھر وجدان صحیح راہ نمائی کرتا ہے ، اور یا الہامی کتاب سے حقیقت کا پتہ چلتا ہے ، پہلا درجہ یقینی اور قطعی نہیں ۔ مگر اکثر حالات میں قابل اعتماد ہوتا ہے ، دوسرا درجہ اکثر غلط ہوتا ہے اور کم تر صحیح ، مگر جہاں صحیح ہوتا ہے وہاں یقین کا پہلو غالب ہوتا ہے ، بہت کم لوگ ہیں ، جنہیں فطرت سے وجدان صحیح سے حصہ ملا ہو ، تیسرا درجہ بالکل قطعی اور حتمی ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے جو لوگ اللہ کی صفات وقدرت کے متعلق شکوک و شبہات کا ذکر کرتے ہیں ان تینوں درجوں سے محروم ہیں ، نہ تو یہ عقل و استدلال کی راہ نمائی قبول کرتے ہیں اور اور وجدان صحیح سے بہرہ ور ہیں پھر بےدینی اور الحاد کا یہ عالم ہے کہ کوئی صحیفہ آسمانی ان کی نگاہوں میں جچتا نہیں ، اب اگر حق کی پہچان ہو تو کیونکر ہو ، اور معرفت کس طرح حاصل ہو ، یہ واضح رہے کہ اسلام غور وفکر کا مخالف نہیں ، بلکہ نہایت موافق اور زبردست حامی ہے ، یقینا وہ چاہتا ہے کہ غور و فکر کی راہیں ایسی محفوظ اور درست ہوں کہ منزل مقصود تک پہنچنے میں آسانی ہو ، کیونکہ بلا تدبر وغور اگر اسی کا احتمال اور ضلالت کا خطرہ ہے ۔ حل لغات : ثانی : موڑنے والا ، پھیرنے والا ، عطفہ : جانب ۔ حرف : کنارہ ۔
Ayahs 22:9–12

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

اپنے شانے کو موڑ کر تاکہ خدا کی راہ سے بہکائے ، اس کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن جلنے کا عذاب چکھائیں گے ۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

یہ بدلہ ہے اس کا جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ، تھا ، اور یہ کہ اللہ بندوں کے حق میں ظالم نہیں ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور آدمیوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ اللہ کی عبادت کنارہ پر کرتا ہے سو اگر اسے بھلائی پہنچتی ہے تو اس سے تسلی پاتا ہے اور جو اس پر آزمائش آتی ہے تو اپنے منہ پر پلٹ جاتا ہے ، دنیا اور آخرت گنوائی ، صریح نقصان یہی ہے ۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ نفع ، یہی پرلے درجہ کی گمراہی ہے (ف 1) ۔

(ف 1) مشرکین کا ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جنہیں کچھ تو اللہ سے تعلق ہوتا ہے اور کچھ اپنے بتوں اور دیوتاؤں سے ، کبھی وہ خانقاہ ہیں سر بسجود نظر آتے ہیں ، اور کبھی صحن مسجد میں کبھی خدا کے سامنے جھکتے ہیں ، کبھی اپنے دیوتاؤں کی شرن میں ، انہیں اگر خدا کی عبادت پر آمادہ بھی کیا جائے ، تو وہ صرف آزمائش وامتحان کی حد تک قائم رہتے ہیں ، یعنی جب تک ان کی سنی گئی اور کام ہوتے رہے ، خدا کو مانتے رہے اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہے ، اور جہاں اللہ تعالیٰ نے ذرا امتحان میں ڈال دیا ، جھٹ سے الگ ہوگئے کہ خدا ہماری نہیں سنتا یہ بدبخت نہیں جانتے کہ خدا آزمائشوں اور تجربوں سے بالا ہے ، وہ اگر ہماری آرزوؤں کو سن لیتا ہے اور قبول کرلیتا ہے تو اس کی مہربانی اور نوازش ہے ، اور اگر نہیں قبول کرتا ، تو یہ بےنیازی وسروری ہے شکایت اور گلہ کا کیا موقع ہے ۔ بھلا غور تو فرمائیے کہ جب تک ہم اس پر کامل یقین اور کامل بھروسہ نہیں رکھتے ، کیونکر اس کے یہاں معتمد اور قابل لحاظ قرار پا سکتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ پکارتے بھی ہیں تو ان چیزوں کو جن کو معبودیت کا درجہ کسی طرح حاصل نہیں اور ان کے نفع ونقصان میں ہرگز کچھ اثر ودخل نہیں رکھتیں ، بلکہ ان کی عبادت کا جو اثر بالواسطہ ہوتا ہے ، وہ سخت مضر ہوتا ہے ، طبیعت مسخ ہوجاتی ہے ، اور دلوں میں توحید کی روشنی پیدا نہیں ہوتی ، خود داری اور خود شناسی کے جوہر مٹ جاتے ہیں ، اور انسان قلب و دماغ کے لحاظ سے بہت حقیر اور ذلیل ہوجاتا ہے ۔
Ayahs 22:13–14

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

اسے پکارتا ہے جس سے نفع کی نسبت اس کا نقصان زیادہ نزدیک ہے ، بیشک برا دوست ہے اور برا رفیق ۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ انہیں باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اللہ جو چاہے سو کرے (ف 2) ۔

کون خدا تمہیں پسند ہے ؟ (ف 2) اس سے پہلے مشرکین اور ان کے معبؤدوں کا ذکر تھا ، کہ ان کے معبودان باطل مشکلات اور مصائب میں ان کے کام نہیں آسکتے ، اور انکی کوئی مدد نہیں کرسکتے ، اور نہ اس قابل ہیں ، کہ براہ راست انکو کوئی نقصان پہنچا سکیں ، مگر مومنین کا یہ عالم ہے کہ ان کا معبود برحق دنیا میں ان کی راہ نمائی کرتا ہے ، اور مشکلات ومصائب میں ان کی اعانت کرتا ہے ، پھر جب وہ اس زندگی میں کامیاب وکامران رہ کر دوسری دنیا میں پہنچتے ہیں تو ان کے نیک اعمال اور سچے ارمان کے معارضہ میں جنت میں داخل کرتا ہے اور اپنی نوازش پائے اور اسے مفتخر کرتا ہے ۔ اب کہیے کون تمہیں پسند ہے ؟ زندہ اور قدیر خدا جو صحیح معنوں میں تمہارا ہمدر ہے ۔ حل لغات : عشیر : ساتھی ، ہم صحبت ، دوست ۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ اسے دنیا اور آخرت میں ہرگز مدد نہ دے گا ، تو اسے چاہئے کہ آسمان کی طرف ایک رسی لٹکائے پھر کاٹ ڈالے پھر دیکھے کہ اس کی یہ تدبیر اس کا غصہ کھوتی ہے ، یا نہیں ۔ (ف 1) ۔

(ف 1) یہ آیت اسی قبیل سے ہے ، جس طرح کہ (آیت) ” فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الاوجس او سلما فی السمآء “۔ کی آیت ہے یعنی مقصد یہ ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اور یہ سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو یکہ و تنہا چھوڑ دے گا ، اور ان کی بالکل اعانت نہیں کرے گا ، اس کو چاہئے کہ اپنی ہی کر دیکھے ، اللہ کو بہرحال یہی منظور ہے ، کہ وہ حق کو دنیا کے گوشے گوشے تک پھیلا دئے چاہئے مخالفین اور معاندین اس کو برداشت نہ کریں ۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم (ف 2) ۔ نے یہ قرآن کھلی نشانیاں اتارا ہے ، اور لئے اتارا ہے کہ بیشک اللہ جسے چاہے ہدایت کرے ، ۔

(ف 2) قرآن حکیم کی آیات کو اللہ تعالیٰ نے اکثر بینات کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ ان جن تعلیمات کا ذکر ہے ، وہ صحت و ثبوت کے لحاظ سے بالکل واضح اور نمایاں ہیں ، اور بالکل حقیقت اور فطرت کے قریب ہیں ، جن میں قطعا الجھاؤ نہیں ، اور باوجود منطقی دلائل کے موافق ہوئے کے اس درجہ آسان ہیں کہ ہر شخص اقتدار استعداد استفادہ کرسکتا ہے ۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو مسلمان ہوئے ، اور جو یہود ہوئے ، اور صابئیں ، اور نصارے ، اور مجوس ، اور جو مشرک (عرب کے) ہیں ، اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا ۔ اللہ ہر شئے پر حاضر ہے (ف 3) ۔

(ف 3) تمام دینی اختلافات نبھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے ، یہ تمام کتابوں اور تمام قسم کی تعلیمات کے لئے ملک اور معیار ہے ، اس وقت تک جس قدر سچائی اور صداقت صحیفوں اور کتابوں کی شکل میں نازل ہوئی ، وہ سب کی سب اس میں موجود ہے ، اس میں اللہ تعالیٰ نے ہر حقیقت مذہبی کا ذکر فرمایا ہے ، اس لئے جہاں تک اعتقاد وعمل کے اختلافات ہیں ، ان میں بس یہی اللہ کی آخری کتاب حکم فطرت کا صحیفہ ہے ، مگر ان لوگوں کی کج فہمی اور محرومی سے اگر یہ معیار بھی بجائے خود مابہ النزاع کتاب کی شکل اختیار کرلے تو اللہ تعالیٰ نے اس جھگڑے کو چکانے کے لئے قیامت کا دن مقرر فرما دیا ہے ، تاکہ وہاں سب لوگ اپنی گمراہی اور کج فہمی کو محسوس کرسکیں ، آیت کا مقصد یہ بھی ہے کہ حق اور سچائی ایک دائرے میں محدود ہے اور وہ ایک ایسی راہ ہے ، جو ہم کو منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے باقی تمام پگڈنڈیاں غلط اور ٹیڑھی ہیں ۔ حل لغات : السمآء بعض صحابہ اور مفسرین لئے اس کے معنے گھر کی چھت کے کئے ہیں ، الصائبین : صابی کی جمع ہے یہ ایک ستارہ پرست جماعت اسلام سے قبل تھی اور رسم و رواج کے لحاظ سے مجوسیت سے ۔ زیادہ ملتے جلتے تھے ۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تونے نہ دیکھا ، کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور سورج ، اور چاند ، اور ستارے ، اور پہاڑ ، اور درخت ، اور چارپائے ، اور آدمیوں میں سے بہت لوگ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت ہیں جن پر عذاب ٹھہر چکا ، اور جس کو اللہ ذلیل کرے ‘ اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ، اللہ جو چاہے ، سو کرے (ف 1) ۔

آقا کے ناشکر گزار بندے : (ف 1) یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کے قانون اطاعت کی فرمانبرداری کرتی ہے ، اور کوئی چیز اس کے اقتدار وعلم سے باہر نہیں ، آسمان کی بلندیاں ، اور زمین کی پستیاں سب اس کی سامنے جھکتی ہیں آفتاب اور چاند ، نجوم اور ستارے ، درخت اور بےسمجھ حیوانات تمام کے تمام اس کے حضور میں سربسجود ہیں ، بہت سے سعادتمند انسان بھی ہیں ، جن کو توفیق اطاعت وفرمانبرداری ابتدائی ہوئی ہے ، مگر کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی گردنیں تکبر سے نہیں جھکتیں ارشاد ہے کہ یہ لوگ دراصل ذلیل ہیں ، اپنے آقا کے ناشکر گزار بندے ہیں ، نہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اصل عزت یہ ہے کہ آقا انہیں پسند کرے اور محبوب رکھے ، اور اگر تمردو بغاوت کی وجہ سے آقا کی نظروں سے گر گئے تو اور کون ہے جو عزت وافتخار کا خلعت بخشے گا ، جو رب العزت کے ہاں حقیر اور قابل نفرت ہے ، اس کی کوئی عزت نہیں ، اور وہ بالکل احترام کا مستحق نہیں ۔
Ayah 22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو (مومن وکافر) مدعی ہیں ، اپنے رب میں جھگڑا کرتے ہیں ، سو وہ کافر ہیں ، ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے ، ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا ، (ف 2) ۔

دو مخالف گروہ : (ف 2) ” ھذن خصمن “۔ سے مراد دو گروہ ہیں ، ایک اہل معصیت دوسرا اہل خیر ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، نتیجے اور ثمرے کے لحاظ سے یہ دونوں گروہ برابر نہیں ، پہلا گروہ اپنے اعمال بد کی وجہ سے جہنم میں جائے گا ، اور سخت ترین اذیتیں اٹھائے گا ، دوسرا گروہ جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوگا ، اور اللہ کا شکر گزار ہوگا ۔ (آیت) ” قطعت لہم ثیاب من نار “۔ سے مراد یہ ہے کہ جہنم کی آگ ان کے چاروں طرف احاطہ کرئے گی ، گویا انہیں آگ کے پیراہن پہنائے گی ، یہ ایک تشبیہ ہے ، جس طرح دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ (آیت) ” لھم من جھنم مھاد ومن فوقہم غواش “۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر اس آگ کی ایک چنگاری بھی دنیا کے پہاڑوں پر گرے تو ان کو جلا ڈالے ۔ غرض یہ ہے کہ عذاب شدید مکمل طور پر ہوگا ۔ مجرمین کی کڑی نگرانی کی جائے گی ، فرشتے لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کی خبر لیں گے ، اور جب یہ مجرمین اس آتشکدہ غم و حسرت سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو پھر ناکامی ونامرادی کے ساتھ لوٹا دیئے جائیں گے ، جہنم کی یہ کیفیات دل میں سخت خوف اور ہول پیدا کردیتی ہیں ، اور یہ اسی لئے بیان کی گئی ہیں ، کہ منکرین کی قساوت قلبی دور ہو اور وہ عذاب آلہی کے نام سے کانپ اٹھیں ، اس دنیا میں یہ معلوم کرنا ، کہ ان کیفیات کی تفصیل کیا ہے ، ناممکن ہے ، قرآن حکیم نے تو سزا کا صرف وہ پہلو ذکر کیا ہے ، جو مجرموں اور گناہ گاروں کے لئے عبرت اور موعظت کا باعث ہو سکے اور بس اس کے بعد اہل جنت کا ذکر ہے ، کہ یہ لوگ عزت و آرام سے رہیں گے اور تمام لذائذ ، اور ان تکلفات سے دو چار ہوں گے ، جنہیں یہ دین کے لئے دنیا میں چھوڑ چکے تھے ۔ فرمایا ، ان لوگوں نے چونکہ دنیا کی زندگی میں قول طیب کو مان لیا تھا ، اور صراط حمید کی پیروی اختیار کی تھی ، اسی لئے آج نعمتوں اور لذتوں سے نوازے جارہے ہیں ۔ حل لغات : الدوآب : دابۃ کی جمع ہے ، بمعنی حیوان ، چوپایہ ، زمین پر چلنے والا ہر جانور ، خصمن : دو مخالف ، الحمیم : کھولتا ہوا پانی ، یصھر : سہر سے ہے ، جس کے معنے لگنے کے ہیں ۔ اساور : اسوار کی جمع ہے ، بمعنے کلائی میں پہننے کا زیور ، کنگن ۔
Ayahs 22:20–25

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اسی پانی سے ان کا چمڑا اور جو ان کے پیٹ میں ہے گلایا جائیگا ۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور لوہے کے ہتھوڑے ان کے (پیٹنے) کیلئے موجود ہیں ۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب دوزخ سے مارے غم کے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو (واپس) اسی میں لوٹائے جائیں گے اور (کہا جائے گا) چکھو جلن کا عذاب ۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

جو ایمان لائے ، اور نیک کام کئے اللہ انہیں باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اس میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے ، اور ان کی پوشاک وہاں ریشم کی ہوگی ،

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور انہیں ستھری بات کی طرف راہ دکھلائی گئی ، اور انہوں نے اس راہ کی ہدایت پائی جو قابل تعریف ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جو کافر ہیں ، اور اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے روکتے ہیں ، جو ہم نے سب لوگوں کے لئے بنائی ہے اس میں رہنے والا اور باہر سے آنے والا برابر ہے ، اور جو شرارت سے اس میں ٹیڑھی راہ چاہتا ہے ، اسے ہم دکھ دینے والا عذاب چکھائیں گے (ف 1) ۔

بیت اللہ کی حرمت : (ف 1) کفار اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے کے بعد اب بیت اللہ کی عزت و حرمت کا بیان ہے ، بتایا ہے کہ یہ لوگ کس درجہ محروم اور قسی القارب ہیں ، کہ مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اور بیت اللہ تک جانے نہیں دیتے ، تاکہ مسلمان آزادانہ اپنے مناسک ادا کرسکیں ، بات یہ تھی کہ حضور ﷺ سال حدیبیہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ، تاکہ وہاں پہنچ کر کھلے بندوں اپنی عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کریں ، مگر مکہ والوں نے حدیبیہ کے مقام میں حضور ﷺ کو روک لیا ، اور آگے نہ بڑھنے دیا ۔ قرآن حکیم نے ان کے اس فعل کی مذمت فرمائی ہے اور کہا ہے کہ بیت اللہ میں سب کے حقوق برابر ہیں ، اس میں یہاں رہنے والوں کی کوئی تخصیص نہیں ۔
Ayahs 22:26–27

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے خانہ کعبہ کا ٹھکانا درست کردیا ، (اور کہا) کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر ، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کیلئے اور قیام اور رکوع سجود کرنے والوں کے لئے پاک کر ۔

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کے لئے پکار دے کہ تیرے پاس پیدا آئیں ، اور دبلے دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر ہر ایک دور کی راہ سے چلے آئیں (ف 2) ۔

حج کا فلسفہ : (ف 2) بیت اللہ جو آج تمام مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے ، اس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی ہدایات کے ماتحت تعمیر کیا ، اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا ، کہ اس مقام کو تمام اسلامی دنیا کے لئے روحانی اعتبار سے ملجاوماوی بنا دیا جائے ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوششیں منظور ہوئیں ، اور وہ آواز جو جنگل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے منہ سے نکلی تھی ، ہر خدا پرست کے کانوں تک پہنچی ، اور آج تک اس کا یہ اثر ہے ، کہ دنیا کے اکناف و اطراف سے لوگ کھنچے ہوئے اس مرکز رشد وہدایت کی طرف چلے آرہے ہیں ، دیکھئے کتنا خلوص اور کس درجہ روحانیت اور مقبولیت ہے کہ وہ گھر جو صنعت وحرفت کے اعتبار سے بالکل سادہ ہے جو وادی غیر ذی زرع میں بنایا گیا ہے ، آج تمام ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقیدت وجاذبیت کا مقام ہے ، بات یہ ہے کہ کوئی شخص کہیں ہو ، اگر محبت وعشق کے ساتھ کوئی کام کرے تو اس کا قبول ہونا قطعی اور یقینی ہے ، کیونکہ شہرت اور قبولیت کے لئے صرف اخلاص ہی ایک ضروری چیز ہے ، جس کو شرط و اساس قرار دیا جاسکتا ہے ۔ باقی اسباب وذرائع خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں ، (آیت) ” لیشھدوا منافع “۔ کہہ کر یہ اشارہ کیا ہے ، کہ حج صرف عبادت ہی نہیں ، بلکہ بہت سے ملی وانفرادی فوائد اس سے وابستہ ہیں ، اگر مسلمان حج کے فوائد سے کما حقہ استفادہ کریں تو حقیقت یہ ہے کہ کبھی پست اور ذلیل نہ ہوں کیونکہ تجارتی اور اقتصادی لحاظ سے حج میں بیشمار منافع ہیں ۔ پھر یہ دیکھئے کہ حج کے لئے سب طرف کے لوگ آتے ہیں ، اور اس طرح موقعہ ملتا ہے ، کہ تمام ملکوں اور قوموں میں ایک ثقافتی اتحاد و تعاون پیدا ہو ، اور سیاسی طور پر ایک دوسرے کی مشکلات پر غور کریں ، اتنے بڑے موقع سے فائدہ نہ اٹھانا بہت بڑی محرومی ہے ۔ حل لغات : العاکف : مقیم ۔ الباد : مسافر ، باہر سے آنے والا ، بوانا : جگہ دی ، جگہ بتلا دی ، یہاں جگہ مقرر کرنے سے ہے ، ضامر : دبلی پتلی اونٹنی جو بہت تیز رفتار ہوتی ہے ۔ ، ایام معلومت : ایام قربانی ۔ حرمت : قابل عزت اور ادب کی چیزیں شعائر و احکام :
Ayahs 22:28–31

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

کہ اپنے (تجارتی اور دینی) فائدوں کیلئے حاضر ہوں ، اور ایام معلومہ میں مویشی چوپایوں کی ذبح پر جو اس نے دیئے ہیں ، اللہ کا نام یاد کریں ، سو اس میں سے کھاؤ ، اور برے حال (بھوکے) فقیر کو (بھی) کھلاؤ ۔

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر چاہئے کہ اپنے بدن کے میل کچیل دور کریں (حجامت وغیرہ سے) اور اپنی منتیں پوری کریں اور پرانے گھر کے گردا گرد پھریں ۔

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ تو حکم ہے ، اور جو کوئی حرمات خدا کی تعظیم کرے ، سو وہ اس کے لئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے ، اور تمہارے لئے چوپائے حلال ہیں مگر جو تمہیں پڑھ کر سنائے جائیں گے ، پس تم بتوں کی ناپاکی اور جھوٹ بولنے سے بچتے رہو ۔

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

(حلال مال کھاؤ ) اللہ کے لئے یکطرفہ ہو کر نہ اس کے ساتھ شریک بنا کر ، اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا وہ گویا آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لے گئے ، یا اسے ہوا نے کسی دور جگہ میں لے جا کر پٹک دیا (ف 1) ۔

توحید سربلندی ہے ! : (ف 1) ان آیات میں پہلے تو بیان فرمایا ہے کہ قابل احترام احکام کو عزت تسلیم کی قطروں سے دیکھنا اللہ کے نزدیک بہتر ہے اور اس کے بعد مسائل حج کی طرف رجوع فرمایا ہے ۔ شبہ یہ پیدا ہوتا تھا ، کہ جب احرام کی حالت میں شکار کھیلنا درست نہیں ، تو شاید عام چارپائے بھی حرام ہوں ، اس شبہ کی جواب میں فرمایا کہ چارپائے تمہارے لئے حلال ہیں اور احرام ان کی حلت میں خلل انداز نہیں ہوتا ۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ جب تم اللہ کے احکام کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بت پرستی کی نجات سے بچو ، اور جھوٹ سے پرہیز کرو ، اور خدا کی توحید کی سلسلہ میں عزیمت و استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہو ۔ کیونکہ توحید فطرت ہے ، توحید سربلندی و اعزاز ہے ، اور توحید رفعت وعلو ہے ، وہ لوگ جو توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیتے ہیں ، عقل اور عمل کے لحاظ سے گویا آسمان رفعت سے قعر مذلت کی طرف نزول کرتے ہیں ، جس طرح بلندی سے گر کر انسان محفوظ نہیں رہتا ہے ، اسی طرح مشرک بھی قوت وحیات کی تمام استعدادوں کو کھو دیتا ہے ، غور فرمائیے کہ یہ کس قدر صحیح حقیقت ہے کیونکہ شرک اور بت پرستی کے معنے یہ ہیں ، کہ مشرک اور بت پرست زیور انسانیت سے عاری ہیں ، انہوں نے عزت وخود داری کے تمام پاکیزہ جذبات کو اصنام کے بھینٹ چڑھا دیا ہے ، اس کے بعد شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر ہے ، فرمایا ہے کہ اس سے دلوں میں تقوی اور پرہیزگاری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا اظہار کئی صورتوں میں ہوتا ہے ، اور ان میں ایک صورت شعائر کی بھی ہے ، شعائر الہیہ کی تعظیم سے دلوں میں ایک خاص قسم کی فرحت اور روحانی لذت محسوس ہوتی ہے ۔ (آیت) ” لکم فیھا منافع “۔ میں فیھا کی ضمیر ھدی یا قربانی کی طرف راجع ہے ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت ماسبق میں شعائر سے مراد قربانی ہی ہے ۔ اس کے بعد اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ وقتا فوقتا ہم نے ہر قوم کے لئے ایک طریق عبادت وقربانی مقرر کیا ہے ، جس کی پر وی ان کے لئے ضروری تھی اور سب کا مقصد یہ ہے کہ لوگ خدا پرستی کے جذبات دل میں پیدا کریں ، اور صرف ایک معبود حقیقی کے آگے جھکیں ۔ خدا پرستی اور خدا دوستی کے مختلف طریقے ہیں ، محض اس لئے مخالفین اسلام کو اسلام سے برگشتہ نہ ہوجانا چاہئے کہ ان کا طریق نیاز مندی دوسروں سے مختلف ہے ، بلکہ یہ غور کرنا چاہئے کہ جو کچھ پیش کیا جارہا ہے ، وہ کہاں تک قابل عمل ہے اور کہاں تک نتیجہ خیز ۔ حل لغات : الرجس : نجاست ، پلیدی ، حنفائ : حنیف کی جمع ہے بمعنی موحد ۔
Ayahs 22:32–36

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ حکم ہے ، اور جس نے خدا کی نشانیوں کی تعظیم کی ، سو یہ تعظیم دل کی پرہیز گاری سے ہے ۔

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

چوپایوں میں تمہارے لئے ایک وقت مقرر تک فائدے ہیں ، پھر انہیں پرانے گھر تک پہنچنا ہے (کہ وہاں ذبح ہوں) ۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے ، تاکہ وہ مویشی چوپایوں پر جو اس نے انہیں دیئے ہیں (بوقت ذبح) اللہ کا نام یاد کریں ‘ سو تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پس اسی کے فرانبردار رہو اور تو ان عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے ۔

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

کہ جب خدا کا نام لیا جائے ، تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں ، اور مصائب پر صابر ہیں ، اور نماز پڑھتے ، اور ہمارے دیئے میں سے خرچ کرتے ہیں ۔

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور بدنے (قربانی کے اونٹ) ہم نے تمہارے لئے اللہ کے نشان (ف 1) ۔ مقرر کئے ہیں ان میں تمہارے لئے خیر ہے ، سو جب وہ قطار باندھے کھڑے ہوں ، ان پر اللہ کا نام پڑھو ، پھر جب وہ اپنی کروٹوں پر گر پڑیں ، تو ان میں سے کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور مانگنے والے فقیر کو کھلاؤ یوں ہم نے وہ تمہارے قابو میں کئے شاید تم شکر کرو ۔

(ف 1) شعائر شعیرہ کی جمع ہے ، جس کے معنی ان چیزوں کے ہیں جہیز نشان ہو ، عبادت اور قربانی بمعنی چونکہ خدا پرستی اور خدا دوستی کی نشانیاں ہیں ، اس لئے شعائر سے تعبیر کیا ہے ۔ بعض کوتاہ فہم لوگوں نے قربانی کو عہد وحشت وجاہلیت کی یادگار قرار دیا ہے ، اور کہا ہے کہ اس کی بنیادیں دیوتاؤں سے خوف دہر اس کے تخیل پر قائم ہیں ، یہ محض غلط ہے ۔ اصل میں مذہب ان رسوم کو باقی رکھنے کے حق میں ہوتا ہے جس سے روحانی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہوں ، قربانی قدیم قوموں میں بھی رائج تھی ، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور غرباء و مساکین کو پیٹ پھر کر کھلایا جائے اب اگر اس قربانی کو مشرکانہ چڑھاوؤں میں تبدیل کردیا گیا تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قربانی کا قدیم اور صحیح تخیل یہی مشرکانہ ہے ، اسلام نے جب دیکھا کہ اہل کتاب میں اور مشرکین میں قربانی کا عملی تخیل موجود ہے اور اس سے بہت زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں ، تو اس نے اس کو باقی رکھا ، اور ان عناصر کو اس میں سے خارج کردیا ، جو مشرکانہ تھے ۔ حل لغات : منسکا : طریق عبادت وقربانی ، المخبتین : عاجزی کے ساتھ خدا کے سامنے جھک جانے والے لوگ ۔ البدن : لدنۃ کی جمع ہے بمعنی قربانی کے اونٹ اور گائے ، اصل میں بدنہ کے معنے موٹے تازے جانور کے ہیں ، اور قربانی کے اونٹ چونکہ نسبتا دوسرے اونٹوں سے زیادہ بہتر ہوتے تھے ، اس لئے انہیں اس کے البدنۃ عن مبعۃ والبقرۃ عن سعۃ ۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ کو ان کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن اس کو تمہارے دل کا ادب پہنچتا ہے ۔ یوں انہیں ہم نے تمہارے بس میں کیا ، تاکہ تم اس بات پر کہ اس نے تمہین ہدایت کی اللہ کی بڑائی کرو ، اور نیکوں کو بشارت دے (ف 1) ۔

فلسفہ قربانی : (ف 1) اس آیت میں قربانی کا فلسفہ بیان کیا ہے کہ دلوں میں اللہ کی راہ میں کٹ مرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ قانون قدرت ہے کہ ہر ادنی چیز اعلی کے لئے اپنی انفرادیت کو قربان کردیتی ہے ، نباتات کے لئے ضروری ہے کہ وہ حیوانات کا لقمہ بنے ، اور حیوانات انسان کے کام ودہن کی تواضع کریں ، اسی طرح انسان جب حیوانات کو اللہ کے جلال و عظمت کے بھینٹ چڑھاتا ہے ، تو وہ اصول کو اپنے سامنے رکھتا ہے کہ اللہ کے لئے ہمیں بھی اپنی جان ، مال اور آسائشوں کی قربانی دینا چاہئے ، یہی جذبہ ذر دیت وایثار تقوی اور پرہیز گاری ہے ، ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو گوشت اور لہو کی کیا ضرورت ہے ۔ حل لغات : صواف : صف باندھے ہوئے ایک قرات میں صوافی بھی آیا ہے یعنی خالصۃ اللہ کے لئے ۔ القانع : عفیف مائل ، قناعت سے بیٹھ رہنے والا ۔ المعتر : بھیک مانگنے والا ، محتاج ، سوال کرنے والا ۔
Ayahs 22:38–39

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ مومنوں سے (ان کے دشمنوں کو) دفع کرتا ہے ، اللہ کو کوئی دغا باز ناشکر پسند نہیں آتا ۔

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

اور مسلمانوں کو جن سے (اہل مکہ) لڑتے ہیں جہاد کی اجازت دی گئی اس لئے کہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ کی مدد پر قادر ہے (ف 1) ۔

قربانی اور جہاد : (ف 1) یعنی قربانی کے عملی معنے یہ ہیں کہ دلوں میں جذبہ جہاد موجزن ہو ، اگر ہم ہر سال لاکھوں اور کروڑوں حیوانات کا خون بہائیں اور قلوب میں کوئی حرارت اور کوئی جذبہ جہاد پیدا نہ ہو تو پھر یہ عبادت سراسر بےروح اور بےکیف ہوگی ، آیت میں اذن جہاد ہے ، کیونکہ مسلمانوں کی مظلومیت حد سے بڑھ گئی ، اب یہ ناممکن ہے کہ ان مظالم کو زیادہ دیر تک برداشت کیا جائے ۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے طے کرلیا ہے کہ مسلمانوں کی اعانت کی جائے اور مشرکین کے غلبہ واستیلا کو دور کیا جائے ، کیونکہ مسلمان مظلوم ہیں اور اسلام کو مظلومیت پسند نہیں ، جس طرح ظلم بڑی چیز ہے اور اسلام اس کو جائز قرار نہیں دیتا ہے اسی طرح مظلومیت بھی ناقابل برداشت ہے ، اور جرم ہے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی جہاد کی نوعیت کیا تھی ، وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے ، ان کو ان آیات پر غور کرنا چاہئے ، کہ اللہ تعالیٰ نے کب اور کس وقت مسلمانوں کو جہاد کا اذن عام دیا ، بیشک اس وقت اجازت دی جب مظالم حد سے بڑھ گئے ، اور مکہ کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہوگئی ۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ ہیں جو صرف اتنا کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے ناحق اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک کو ایک کے ذریعہ دفع نہ کرتا تو (مسیحی فقیروں کے) تکئے اور گرجے اور یہود کے عبادت خانے ، اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جہاں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ضرور ڈھا دی جاتیں ، اور اللہ اسے ضرور مدد دے گا ، جو اللہ کو مدد دیتا ہے ، (ف 2) ۔ بیشک اللہ غالب ہے زور والا ۔

اسلامی جہاد کی غرض قیام عبادت ہے : (ف 2) اس آیت میں بڑے واضح الفاظ میں قرآن حکیم نے بتا دیا ہے کہ اسلامی جہاد سے غرض معاہد الہیہ کی حفاظت ہے مسلمان بس لئے میدان جہاد میں قوت آزما ہوتا ہے کہ خدا پرستی کے تمام مرکزوں کو مشرکین کے قبضہ واستیلاء سے پاک کر دے ، وہ جہاد و قتال سے مادی نفع کا طالب نہیں ہوتا ، بلکہ اس کے سامنے اعلاء کلمۃ اللہ کا بلند مقصد ہوتا ہے ، وہ اللہ کے لئے لڑتا ہے اور اللہ کے لئے صلح کرتا ہے اگر مسلمان حق وصداقت کی تائید میں تلوار نہ اٹھائے تو پھر ساری دنیا میں باطل کی حکومت ہوجائے ۔ اور تمام مرکزوں میں جہاں اللہ کا نام لیا جاتا ہے ، دیوتاؤں اور معبودان باطل کی عبادت ہونے لگے ، مسلمان امن عالم کا کفیل ہے ، اس کا جہاد دوسرے مذاہب کی آزادی کے لئے بھی ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب عبادت گاہوں کی حفاظت ہو ، اور سب لوگوں کو آزادی حاصل ہو کہ وہ آزادانہ طور پر اللہ تعالیٰ کو یاد کرسکیں ، اور اس کے نام کو بلند کرسکیں ، البتہ اسے یہ ناپسند ہے کہ لوگ غیر اللہ کی پرستش کریں ، اور بتوں اور دیوتاؤں کے نام پر معابد تعمیر کریں ، کیونکہ ایسے مرکز عبادت درحقیقت جہالت و تاریک خیالی کے مدرسے ہوتے ہیں ، یہاں انسانوں کو ذلت و نکبت کا درس دیا جاتا ہے ، اور یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا کے سوا اور ہستیاں بھی احترام و عبادت کے لائق ہیں ، حالانکہ یہ بہت بڑی گمراہی اور بہت بڑا جرم ہے ، اس سے نفس انسانیت تباہ اور برباد ہوجاتی ہے اور پھر کبھی ابھرنے کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ حل لغات : صوامع : صومعہ کی جمع ہے ، نصارے اور آتش پرستوں کے عبادت خانے ۔