22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsبیان القرآن

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو اپنے رب سے ڈرو (کیونکہ) یقیناً قیامت (کے دن) کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہوگی۔ (ف 5)

ف 5۔ جب زلزلہ جو کہ اس کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے ایسا ہوگا تو مجموعہ واقعات کی کیا شدت ہوگی، تو ان شدائد کے بخیر گزرنے کے لئے سامان کرو، اور وہ تقوی ہے۔
Ayahs 22:2–4

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس روز تم لوگ اس (زلزلہ) کو دیکھو گے اس روز تمام دودھ پلانے والیاں (مارے ہیبت کے) اپنے دودھ پیتے کو بھول جائیں گیا ور تمام حمل والیاں اپنا حمل (پورے دن ہونے سے پہلے) ڈال دیں گی اور (اے مخاطب) تجھ کو لوگ نشہ کی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ (واقع میں) نشہ میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب ہے ہی سخت چیز۔ (ف 6)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے (یعنی ذات یا صفات میں) بےجانے بوجھے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر شیطان سر کش کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کی نسبت (خدا کے یہاں سے) یہ بات لکھی جا چکی ہے کہ جو شخص اس سے تعلق رکھے گا (یعنی اس کا اتباع کرے گا) تو اس کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو (راہ حق سے) بےراہ کر دے گا اور اس کو عذاب دوزخ کا رستہ دکھلائے گا۔

ف 6۔ روایات سے عین قیامت کے روز قیامت سے پہلے بھی زلزلہ کا وقوع ثابت ہے، لیکن جس زلزلہ کا آیت میں ذکر ہے حدیث سے اس کا وقوع قیامت کے روزم معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو اگر تم (قیامت کے روز) دوبارہ زندہ ہونے سے شک (و انکار) میں ہو تو ہم نے (اول) تم کو مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے (جو کہ غذا سے پیدا ہوتا ہے) پھر خون کے لوتھڑے سے پھر بوٹی سے کہ (بعضی) پوری ہوتی ہے اور (بعضی) ادھوری بھی تاکہ ہم تمہارے سامنے (اپنی قدرت) ظاہر کردیں (ف 1) اور ہم (ماں کے) رحم میں جس (نطفہ) کو چاہتے ہیں ایک مدت معین (یعنی وقت وضع) تک ٹھیرائے رکھتے ہیں پھر ہم تم کو بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں پھر تاکہ تم بھری جوانی (کی) عمر تک پہنچ جاؤ اور بعضے تم میں وہ بھی ہیں جو جوانی سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض تم میں وہ ہے جو نکمی عمر (یعنی زیادہ بڑھاپے) تک پہنچا دیا جاتا ہے جس کا اثر یہ ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے (ف 2) اور (آگے دوسرا استدلال ہے کہ) اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک (پڑی) ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔ (ف 3)

ف 1۔ اور اسی سے ظاہر ہے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔ 2۔ یہ سب احوال بھی دال علی القدرت ہیں۔ 3۔ سو یہ بھی دلیل ہی قدرت کاملہ کی۔
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ (سب) اس سبب سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی کامل ہے (ف 4) اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے (ف 5) اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ (ف 6)

ف 4۔ یہ اس کا کمال ذاتی ہے۔ 5۔ یہ اس کا کمال فعلی ہے۔ 6۔ یہ اس کا کمال وصفی ہے، اور یہ تینوں کمالات مل کر امور مذکورہ کی علت ہیں کیونکہ اگر کمالات ثلثہ میں سے ایک بھی غیر متحقق ہوتا تو ایجاد نہ پایا جاتا۔
Ayahs 22:7–11

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور نیز (اس سبب سے ہوا کہ) قیامت آنے والی ہے اس میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ تعالیٰ (قیامت میں) قبر والوں کو دوبارہ پیدا کر دے گا۔ (ف 7)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور بعضے آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے بارے میں بدون واقفیت (یعنی علم ضروری) اور بدون دلیل (یعنی استدلال عقلی) اور بدون کسی کتاب کے تکبر کرتے ہوئے جھگڑا کرتے ہیں۔

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

تاکہ اللہ کی راہ (یعنی دین حق سے) بےراہ کردیں اور ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی آگ کا عذاب چکھا دیں گے (اور اس سے کہا جاوے گا) کہ یہ تیرے ہاتھ کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

اور یہ بات ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں (پس تجھ کو بلا جرم سزا نہیں دے گا) ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور بعض آدمی اللہ کی عبادت (ایسے طور) کرتا ہے (جیسے کسی چیز کے) کنارے پر (کھڑا) ہو پھر اگر اس کو کوئی (دنیوی) نفع پہنچے گا تو اس کی وجہ سے (ظاہری) قرار پالیا اور اگر اس پر کوئی آزمائش ہوگئی تو منہ اٹھا کر (کفر کی طرف چل دیا) (جس سے) دنیا اور آخرت دونوں کھو بیٹھا یہی کھلا نقصان (کہلاتا) ہے۔

ف 7۔ یہ امور مذکورہ کی حکمت ہیں، یعنی ہم نے وہ تصرفات مذکورہ اس لئے ظاہر کئے کہ اس میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک حکمت اور غایت یہ تھی کہ ہم کو قیامت کا لانا اور مردوں کو زندہ کرنا منظور تھا، تو ان تصرفات سے ان کا امکان لوگوں پر ظاہر ہوجاوے گا۔
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

خدا (کی عبادت) کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرنے لگا جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے یہ انتہا درجہ کی گمراہی ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ صرف یہی نہیں کہ اس کی عبادت سے نفع نہ ہوتا ہو بلکہ عبادت میں ضرر ہوتا ہے۔
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ایسے کی عبادت کر رہا ہے کہ (اس کی عبادت) کا ضرر بہ نسبت اس کے نفع کے زیادہ قریب الوقوع ہے ایسا کارساز بھی برا ہے اور ایسا رفیق بھی برا۔ (ف 2)

ف 2۔ نہ مولی یعنی بڑا ہو کر کام آوے اور نہ عشیر یعنی برابر ہو کر کام آوے۔
Ayahs 22:14–15

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل فرما ویں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے۔ (ف 3)

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص (رسول ﷺ کے ساتھ مخالفت کر کے) اس بات کا خیال رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ رسول (علیہ السلام) کی دنیا اور آخرت میں مدد نہ کرے گا تو اس کو چاہیے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے پھر (اس کے ذریعے سے آسمان پر پہنچ کر اگر ہو سکے) اس وحی کو موقوف کرادے (ف 4) پھر (اب) غور کرنا چاہیے آیا اس کی (یہ) تدبیر اس کی ناگواری کی چیز کو (یعنی وحی کو) موقوف کرسکتی ہے۔ (ف 5)

ف 3۔ اس کے ساتھ کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا اور وہ اس جزاء و سزا کا ارادہ کرچکا ہے، پس ضرور ایسا ہی واقع ہوگا۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو اسی طرح اتارا ہے جس میں کھلی کھلی دلیلیں (تعیین حق کی) ہیں اور بات (یہ) ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے (حق کی) ہدایت کرتا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ البتہ انسان کی سعی اور طلب کے بعد اللہ تعالیٰ ارادہ کر ہی لیتا ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہود اور صائبین اور نصارے اور مجوس (ف 7) اور مشرکین اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان میں قیامت کے روز (عملی) فیصلہ کر دے گا ( مسلمانوں کو جنت میں داخل کر دے گا اور کافروں کو دوزخ میں) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔ (ف 8)

ف 7۔ مجوس آتش پرست ہیں۔ 8۔ پس اس کو ہر ایک کے کفر و ایمان کی بھی اطلاع ہے، ہر ایک مناسب پاداش دے گا۔
Ayahs 22:18–23

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تجھ کو (عقل سے یا مشاہدہ سے) یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے (اپنی اپنی حالت کے مناسب) سب عاجزی کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے (تو) آدمی بھی (ف 9) اور بہت سے ایسے ہیں جن پر (بوجہ منقادنہ ہونے کے) عذاب ثابت ہوگیا ہے اور (سچ یہ ہے کہ) جس کو خداوند ذلیل کرے (اور اس کی توفیق ہدایت نہ ہو) اس کا کوئی عزت دینے والا نہیں (اور) اللہ تعالیٰ کو (اختیار ہے) جو چاہے کرے۔

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ (جن کا اوپر آیت میں ذکر ہوا) وہ فریق ہیں جنہوں نے دربارے اپنے رب کے (دین کے باہم) اختلاف کیا سو جو لوگ کافر تھے ان کے (پہننے کے) لیے (قیامت میں) آگ کے کپڑے قطع کیے جاوینگے (ف 1) (اور) ان کے سر کے اوپر سے تیز گرم پانی چھوڑا جاوے گا۔

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

(اور) اس سے ان کے پیٹ کی چیزیں (یعنی انتڑیاں اور ان کی کھالیں) سب گل جاویں گی۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے (مارنے کے لیے) لوہے کے گرز ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

وہ لوگ جب (دوزخ میں) گھٹے گھٹے (گھبرا جائیں گے اور) اس سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اس میں پھر دھکیل دیے جائیں گے اور (ان کو) کہا جاوے گا کہ جلنے کا عذاب (ہمیشہ کے لیے) چکھتے رہو۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

(اور) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی (اور) ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاک ان کی وہاں ریشم ہوگی۔

ف 9۔ باوجود تمام مخلوقات کے منقاد ہونے کے آدمی جو خاص درجہ کی عقل رکھتا ہے ان میں سب منقاد نہیں۔
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور (یہ سب انعام ان کے لیے اس لیے ہے کہ دنیا میں) ان کو کلمہ طیب (کے اعتقاد) کی ہدایت ہوگئی تھی اور ان کو اس (خدا) کے رستہ کی ہدایت ہوگئی تھی جو لائق حمد ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ وہ رستہ اسلام ہے۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور (مسلمانوں کو) اللہ کے رستہ سے اور مسجد حرام (علیہ السلام) (یعنی حرم) سے روکتے ہیں جس کو ہم نے تمام آدمیوں کے واسطے مقرر کیا ہے کہ اس میں سب برابر ہیں اس میں رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی (یہ روکنے والے) لوگ معذب ہوں گے اور جو شخص اس میں (یعنی حرم میں) کوئی خلاف دین کا قصد ظلم (یعنی شرک و کفر) کے ساتھ کرے گا تو ہم عذاب دردناک (کا مزا) چکھائیں گے۔ (ف 3)

ف 3۔ ہرچند کہ دین کے خلاف کرنا ہر جگہ موجب عذاب ہے، لیکن حرم کے اندر اور زیادہ موجب عذاب ہے۔
Ayahs 22:26–28

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلا دی (ف 4) (اور حکم دیا) کہ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا (ف 5) اور میرے ساتھ اس گھر کو طواف کرنے والوں کے اور (نماز میں) قیام و رکوع و سجدہ کرنے والوں کے واسطے پاک رکھنا۔

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور (ابراھیم (علیہ السلام) سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ) لوگوں میں (حج کے فرض ہونے) کا اعلان کردو لوگ تمہارے پاس (حج کو) چلے آویں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہوں گی۔

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ اپنے (دینیہ و دنیویہ) فوائد کے لیے آموجود ہوں اور (اس لیے آویں گے) تاکہ ایام مقررہ (یعنی ایام قربانی میں ان مخصوص چوپایوں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں (یعنی بسم اللہ الله اکبر کہیں) جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیے ہیں سو ان (قربانی کے) جانوروں میں سے تم (کو) بھی (اجازت مع الاستجاب) ہے کہ کھایا کرو اور ( مستجب یہ ہے کہ) مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلایا کرو۔

ف 4۔ کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا۔ 5۔ یہ ان کے مابعد والوں کو سنان ہے، اور ذکر بیت کے ساتھ اس کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی حقیقت ناشناس کو تعظیم بیت سے اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا ابہام نہ ہوجاوے۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر لوگوں کو چاہیئے کہ اپنا میل کچیل دور کردیں اور اپنے واجبات کو پورا کریں اور (ان ہی ایام معلومات میں) اس مامون گھر (یعنی خانہٴ کعبہ کا) طواف کریں۔ (ف 1)

ف 1۔ یہ طواف زیارت کہلاتا ہے جو کہ فرض ہے۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ بات تو ہوچکی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے محترم احکام کی وقعت کرے گا (ف 2) سو یہ (وقعت کرنا) اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے (ف 3) اور ان مخصوص چوپاؤں کو باستثناء (بعض بعض) کے جو تم کو پڑھ کر سنا دیے گئے ہیں تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے تم لوگ گندگی سے یعنی بتوں سے (بالکل) کنارہ کش رہو اور جھوٹی بات سے کنارہ کش رہو۔

ف 2۔ عام اس سے کہ حج کے احکام مذکور ہوں یا حج کے احکام غیر مذکورہ یا حج کے متعلق نہ ہوں۔ 3۔ کیونکہ موجب ثواب و ننجی عن العذاب ہے۔
Ayahs 22:31–32

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

اس طور سے کہ اللہ کی طرف جھکے رہو (اور) اس کے ساتھ شریک مت ٹھیراؤ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر پرندوں نے اس کی بوٹیاں نوچ لیں یا اس کو ہوا نے کسی دور دراز جگہ میں لے جاپٹکا۔ (ف 4)

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ بات بھی ہوچکی اور (قربانی کے جانور کے متعلق اور سن لو کہ) جو شخص دین خداوندی کے ان (مذکورہ) یادگاروں کا پورا لحاظ رکھے گا تو ان کا یہ لحاظ رکھنا خدا تعالیٰ سے دل کے ساتھ ڈرنے سے ہوتا ہے۔

ف 4۔ اس طرح جو شرک کرتا ہے یا تو کسی کے ہاتھ سے مارا گیا، یا کسی وقت موت طبعی سے مر گیا۔ ہر حالت میں دار البوار میں پہنچے گا، اور یوں بےہوا کے جھونکوں کے بھی ضرور ہی گرتا ہے، لیکن اس صورت میں اور زیادہ کلفت ہوگی۔ چناچہ موت طبعی کے ساتھ فرشتوں کے دھکے اس کے مشابہ ہیں۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تم کو ان سے ایک معین وقت تک فوائد حاصل کرنا جائز ہے پھر (یعنی بعد ہدی بننے کے) اس کے ذبح حلال ہونے کا موقع بیت عتیق (ف 5) کے قریب ہے۔

ف 5۔ مراد کل حرم ہے، یعنی حرم سے باہر ذبح نہ کریں۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

(اور جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپاؤں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے تھے سو (اس سے یہ بات نکل آئی کہ) تمہارا معبود (حقیقی) ایک ہی خدا ہے تو تم ہمہ تن اسی کے ہو کے رہو۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی موحد خالص ہو، کسی مکان وغیرہ کو معظم بالذات سمجھنے سے ذرہ برابر شرک کا شائبہ عمل میں نہ ہونے دو ۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

اور اے محمد (علیہ السلام) آپ (ایسے احکام الہیٰہ کے سامنے) گردن جھکا دینے والوں کو جنت (وغیرہ) کی خوشخبری سنا دیجیئے جو ایسے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں اور جو نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (بقدر حکم اور توفیق کے) خرچ کرتے ہیں۔ (ف 7)

ف 7۔ یعنی توحید خالص ایسی بابرکت چیز ہے کہ اس کی بدولت کمالات نفسانیہ و بدنیہ و مالیہ پیدا ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 22:36–37

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹ اور گائے (اور اسی طرح بھیڑ اور بکری کو بھی) ہم نے اللہ کے دین کی یادگار بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے (اور بھی) فائدے ہیں سو تم ان پر کھڑے ہو کر (ذبح کرنے کے وقت) اللہ کا نام لیا کرو پس جب وہ (کسی) کروٹ کے بل گریں (اور ٹھنڈے ہوجائیں) تو تم خود بھی کھاؤ اور بےسوال اور سوالی (محتاج) کو بھی کھانے کو دو (اور) ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کردیا تاکہ تم (اس پر اللہ تعالیٰ کا) شکر کرو۔ (ف 8)

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون و لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارا زیر حکم کردیا تاکہ تم (الله کی راہ میں ان کو قربانی کر کے) اس بات پر اللہ کی بڑائی (بیان) کرو کہ اس نے تم کو (اس طرح قربانی کرنے کی) توفیق دی اور (اے محمد ﷺ اخلاص والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔

ف 8۔ یہ حکمت مطلق ذبح میں ہے، قطع نظر اس کی قربانی ہونے کے، اور آگے ذبح کی تخصیصات مقصود بالذات نہ ہونے کو ایک عقلی قاعدے سے بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بلا شبہ اللہ تعالیٰ (ان مشرکین کے غلبہ وغیرہ کو) ایمان والوں سے (عنقریب) ہٹا دے گا (ف 1) بیشک اللہ تعالیٰ کسی دغا باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا۔ (ف 2)

ف 1۔ کہ پھر حج وغیرہ سے روک ہی نہ سکیں گے۔ 2۔ اس لئے انجام کار ان کو مغلوب اور مومنین مخلصین کو غالب کردے گا۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

(اب) لڑنے کی ان لوگوں کو اجازت دی گئی جن سے (کافروں کی طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا ہے (ف 3) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ انکو غالب کردینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

ف 3۔ یہ علت ہے مشروعیہ جہاد کی۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

(آگے ان کی مظلومیت کا بیان ہے) جو اپنے گھروں سے بےوجہ نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے (ف 4) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ (ہمیشہ سے) لوگوں کا ایک کا دوسرے (کے ہارتھ) سے زور نہ گھٹواتا رہتا تو (اپنے اپنے زمانے میں) نصارے ٰ کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے سب منہدم ہوگئے ہوتے بیشک اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو (الله کے دین) کی مدد کرے گا (ف 5) بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا (اور) غلبہ والا ہے وہ جس کو چاہے غلبہ دے سکتا ہے۔

ف 4۔ یعنی توحید پر کفار کا یہ تمام تر غیظ و غضب تھا کہ ان کو اس قدر پریشان کیا کہ وطن چھوڑنا پڑا۔ 5۔ یعنی اس کے لڑنے میں خالص نیت اعلاء کلمة اللہ کی ہو۔