22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsبیان القرآن

Ayahs 22:41–44

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دے دیں تو یہ لوگ (خود بھی) نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور دوسروں کو (بھی) نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ (ف 6)

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور (یہ مجادل) لوگ اگر آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو (آپ مغموم نہ ہوجیے کیوں کہ) ان لوگوں سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود۔

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) ۔

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اہل مدین بھی (اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی) تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی (قبط کی طرف سے) کاذب قرار دیا گیا سو (تکذیب کے بعد) میں نے ان کافروں کو (چندے) مہلت دی پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا۔

ف 6۔ پس مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر یہ کیونکر کوئی کہہ سکتا ہے کہ انجام بھی ان کا یہی رہے گا، بلکہ ممکن ہے کہ اس کا عکس ہوجاوے چناچہ ہوا۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

غرض کتنی بستیاں ہیں جن کو ہم نے (عذاب سے) ہلاک کیا جن کی یہ حالت تھی کہ وہ نافرمانی کرتی تھیں سو (اب ان کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں (ف 7) اور (اسی طرح ان بستیوں میں) بہت سے بےکار کنوئیں اور بہت سے قلعی چونے کے محل۔ (ف 8)

ف 7۔ مراد یہ کہ ویران ہیں، کیونکہ عادة اول چھت گرجاتی ہے، پھر اس پر دیواریں آپڑتی ہیں۔ 8۔ پس اس طرح ذلت موعود پر یہ لوگ معذب ہوں گے۔
Ayahs 22:46–47

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

سو کیا یہ (منکر) لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں جس سے ان کے دل ایسے ہوجاویں کہ ان سے سمجھنے لگیں یا ان کے کان ایسے ہوجاویں کہ ان سے سننے لگیں بات یہ ہے کہ (نہ سمجھنے والوں کی کچھ) آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجایا کرتے ہیں۔ (ف 1)

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ (نبوت میں شبہ نکالنے کے لیے) ایسے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن (یعنی قیامت کا دن امتداد میں) برابر ایک ہزار سال کے ہے تم لوگوں کے شمار کے موافق۔

ف 1۔ سو ان کے بھی وہی دل اندھے ہور ہے ہیں، ورنہ امم مذکورہ کی حالت سے سمجھ لیتے کہ فی الواقع کفر ناپسندیدہ حق ہے جب تو اس پر عذاب آیا۔
Ayahs 22:48–50

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں جن کو میں نے (ان کی طرح) مہلت دی تھی اور وہ (ان ہی کی طرح) نافرمانی کرتی تھیں (ف 2) پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا اور (سب کو) میری طرف لوٹنا ہوگا۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اور) آپ (یہ بھی) کہہ دیجیئے کہ اے لوگو میں تو صرف تمہارے لیے ایک آشکارا ڈرانے والا ہوں۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو لوگ (اس ڈر کو سن کر) ایمان لے آئے اور اچھے کام کرنے لگے ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے۔

ف 2۔ یعنی وہ بھی استعجال اور استہزاء کرتے تھے۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے ابطال کی) کوشش کرتے رہتے ہیں (نبی (علیہ السلام) اور اہل ایمان کو) ہرانے کے لیے ایسے لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ پس یہ میرا دعوی ہے اور اس پر دلیلیں رکھتا ہوں اور عذاب سے ڈرانا میرا فرض منصبی ہے جس کا وقوع بھی وقت پر باختیار خداوندی ہوگا۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (الله تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ ڈالا پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو (جوابات قاطعہ سے) نیست و نابود کردیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات (کے مضامین) کو زیادہ مضبوط (ف 4) کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب علم خوب حکمت والا ہے۔

ف 4۔ گو وہ فی نفسہا بھی مستحکم تھیں، لیکن اعتراضات کے جواب سے اس استحکام کا ظہور ہوگیا۔
Ayahs 22:53–54

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

(اور یہ سارا قصہ اس لیے کیا ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ایسے لوگوں کے لیے آزمائش (کا ذریعہ) بنا دے جن کے دل میں (شک کا) مرض ہے اور جن کے دل (بالکل ہی) سخت ہیں (ف 5) اور واقعی (یہ) ظالم لوگ بڑی مخالفت میں ہیں۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور تاکہ جن لوگوں کو فہم (صحیح) عطا ہوا ہے وہ (ان عجوبہ اور نور ہدایت سے) اس امر کا زیادہ یقین کرلیں کہ یہ (جو نبی نے پڑھا ہے) آپ کے رب کی طرف سے حق ہے سو ایمان پر زیادہ قائم ہوجاویں پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جاویں اور واقعی ان ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی راہ راست دکھلاتا ہے۔

ف 5۔ کہ وہ شک سے بڑھ کر باطل کا جزم کئے ہوئے ہیں، سو ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ دیکھیں بعد جواب کے اب بھی شبہات کا اتباع کرتے ہیں یا جواب کو سمجھ کر حق کو قبول کرتے ہیں۔
Ayahs 22:55–57

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور (رہ گئے) کافر لوگ (سو وہ) ہمیشہ اس (پڑھے ہوئے حکم) کی طرف سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر دفعتہً قیامت آجاوے یا ان پر کسی بےبرکت دن کا (کہ (قیامت کا دن ہے) عذاب آن پہنچے۔ (ف 1)

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

بادشاہی اس روز اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی وہ ان سب (مذکورین) کے درمیان (عملی) فیصلہ فرمادے گا سو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور اچھے کام کیے ہوں گے وہ چین کے باغوں میں ہوں گے/

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنھوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہوگا (وہ فیصلہ یہ ہوگا) ۔

ف 1۔ مطلب یہ کہ یہ بدون مشاہدہ عذاب کفر سے باز نہ آویں گے، مگر اس وقت نافع نہ ہوگا۔
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں (یعنی دین کے لیے) اپنا وطن چھوڑا پھر وہ لوگ کفر کے مقابلہ میں) قتل کیے گئے یا مر گئے اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک عمدہ رزق دے گا (ف 2) اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے اچھا (دینے والا) ہے۔

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

(اور رزق حسن کے ساتھ) اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ لے جا کر داخل کرے گا جس کو وہ (بہت ہی) پسند کریں گے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ (ہر بات کی مصلحت کو) خوب جاننے والا ہے بہت حلم والا (بھی) ہے۔

ف 2۔ یعنی جنت کے میوے اور دیدار حق۔
Ayahs 22:60–65

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (مضمون) تو ہوچکا اور جو شخص (دشمن کو) اس قدر تکلیف پہنچا دے جس قدر (اس دشمن کی طرف سے) اس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی (اور) پھر اس شخص پر زیادتی کی جاوے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی ضرور امداد کرے گا (ف 3) اللہ تعالیٰ کثیر المغفرت ہے۔ (ف 4)

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

(ایسے وقائق پر داروگیر نہیں کرتا) یہ (مؤمنین کا غالب کردینا) اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن ( کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے اور (نیز) اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ( ان سب احوال و اقوال کو) خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے اور جن چیزوں کی اللہ تعالیٰ کے سوا یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں وہ بالکل ہی لچر ہیں اور اللہ ہی عالیشان اور (سب سے) بڑا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) کیا تجھ کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا جس سے زمین سرسبز ہوگئی بیشک اللہ تعالیٰ بہت مہربان ( اور) سب باتوں کی خبر رکھنے والا ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

سب اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (یعنی وہ سب کا مالک ہے) اور بیشک اللہ ہی ایسا ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور ہر طرح کی تعریف کے لائق ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) کیا تجھ کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے کام میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو اور کشتی کو (بھی) کہ وہ دریا میں اس (خدا) کے حکم سے چلتی ہے اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے ہاں مگر اسی کا حکم ہوجاوے تو خیر․ بالیقین اللہ تعالیٰ لوگوں (کے حال) پر بڑی شفقت اور رحمت فرمانے والا ہے۔

ف 3۔ اگر یہ شخص بدلہ لینا چاہئے تو دنیا میں نصرت شرعیہ یقینی ہے، یعنی اجازت انتقام کی، اور اگر بدلا نہ لے تو آخرت میں نصرت حسیہ ضروری ہے، یعنی ظالم کی تعذیب۔ فائدہ : یہ رعایت مماثلت کا وجوب ہے معاملات معاشرت میں نہ کہ جہاد میں، نیز جو افعال ہر حال میں معصیت ہیں وہ اس عموم سے مستثنی ہیں۔ مثلا کوئی کسی کے والدین کو برا کہے تو عوض میں اس کے والدین کو برا کہنا جائز نہ ہوگا۔ 4۔ اوپر مومنین کے غالب اور کفار کے مغلوب ہونے کا بیان تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی موجودہ بےسرو سامانی اور کفار کی عدد اور عدد میں فراوانی پر نظر کرنے پر اس میں ایک گونہ استبعاد تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتے ہیں۔ اور چونکہ جہلاء کفار کو اس مقام پر اپنے معبودین کے ناصر ہونے کا وہم ہوسکتا تھا، اور چونکہ یہ مضمون متضمن توحید ذاتی و صفاتی و افعال تھا، اور روئے سخن تھا مشرکین کی طرف جو کہ شرک میں مبتلا ہونے سے نعم الہیہ سے جحود کرتے تھے، اس لئے الم تر ان اللہ انزل سے لکفور تک اس مضمون کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پھر (وقت موعودپر) تم کو موت دے گا پھر (قیامت میں دوبارہ) تم کو زندہ کرے گا واقعی انسان ہے بڑا بےقدر۔ (ف 1)

ف 1۔ زیادہ اجزاء سورت میں کفار کے جدال اور اس کے وجوہ ابطال کا بیان ہے، منجملہ ان مجادلات کے ایک مجادلہ متعلق ذبح کے تھا جس کا حاصل وہی ہے جو اب بھی بعض کفار کی زبان پر مشہور ہے کہ خدا کی ماری مردار اور اپنی ماری حلال، آگے اس پر مشرکین کو زجر ہے۔
Ayahs 22:67–69

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

(جتنی امتیں اہل شرائع گزری ہیں) ہم نے (ان میں) ہر امت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے وہ اسی طریق پر ذبح کیا کرتے تھے سو ان (معترض) لوگوں کو چاہیے کہ آپ سے اس امر (ذبح) میں جھگڑا نہ کریں اور آپ (ان کو) اپنے رب (یعنی اس دین کی طرف بلاتے رہیے (کیونکہ) آپ یقیناً صحیح رستہ پر ہیں۔ (ف 2)

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر (اس پر بھی) یہ لوگ آپ سے جھگڑا نکالتے ہیں تو آپ (اخیر بات) یہ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تہارے کاموں کو خوب جانتا ہے۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے روز (عملی) فیصلہ فرماوے گا جن چیزوں میں تم اختاف کرتے تھے۔

ف 2۔ صحیح رستہ والے کو حق ہوتا ہے غلط رستہ والے کو اپنی طرف بلانے کا، اور غلط رستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

(آگے اس کی تائید ہے کہ) اے مخاطب کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے یقینی بات ہے کہ یہ (سب ان کا قول و فعل نامہٴ اعمال) میں ہے (پس) یقیناً ثابت ہوگیا کہ یہ (فیصلہ کرنا) اللہ تعالیٰ کے نزدیک (بہت) آسان ہے۔ (ف 3)

ف 3۔ اوپر توحید کا بیان تھا آگے شرک کا رد ہے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ (مشرک) لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے جواز عبادت پر) اللہ تعالیٰ نے کوئی حجت (اپنی کتب میں) نہیں بھیجی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی (عقلی) دلیل ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (ف 4)

ف 4۔ نہ قولا کہ ان کے فعل کے استحسان پر کوئی حجت پیش کرسکے، نہ عملا کہ ان کو عذاب سے بچا سکے۔
Ayahs 22:72–73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں جو کہ (اپنے مضامین میں) خوب واضح ہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم ان کافروں کے چہروں میں (بوجہ ناگواری باطنی کے) برے آثار دیکھتے ہو (ف 5) قریب ہے کہ یہ ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں (گے) جو ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھ رہے ہیں آپ ان (مشرکین) سے کہیے کہ کیا میں تم کو اس (قرآن) سے زیادہ ناگوار چیز بتلا دوں وہ دوزخ ہے (کہ) اس کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ (ف 6)

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو (وہ یہ ہے کہ) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ ایک (ادنے ٰ ) مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے گو سب کے سب بھی کیوں (نہ) جمع ہوجائیں اور (پیدا کرنا تو بڑی بات ہے وہ ایسے عاجز ہیں کہ) اگر ان سے مکھی کچھ چھین لے جائے تو اس کو (تو) اس سے چھڑا (ہی) نہیں سکتے ایسا عابد بھی لچر اور ایسا معبود بھی لچر۔

ف 5۔ جیسے چہرے پر بل پڑجا نا ناک چڑھ جانا، تیور بدل جانا۔ 6۔ یعنی قرآن سے ناگواری کا نتیجہ ناگوار دوزخ ہے۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

(افسوس ہے) ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی تعظیم کرنا چاہیے تھی کہ (اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے) وہ نہ کی (کہ شرک کرنے لگے حالانکہ) اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا سب پر غالب (بھی) ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ عبادت اس کا خالص حق تھا نہ کہ غیر قوی غیر عزیز کا۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو (اختیار ہے کہ) رسالت کے لیے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے جن (فرشتوں کو چاہے) احکام پہنچانے والے (مقرر کردیتا ہے) اور (اسی طرح آدمیوں میں سے یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی رسالت کا مدار اصطفاء خداوندی پر ہے، اس میں کچھ ملکیت کی خصوصیت نہیں، بلکہ جس طرح ملکیت کے ساتھ رسالت جمع ہوسکتی ہے جس کو مشرکین بھی مانتے ہیں اسی طرح بشریت کے ساتھ بھی وہ جمع ہوسکتی ہیں۔
Ayahs 22:76–77

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

(یعنی) وہ ان (سب فرشتوں اور آدمیوں) کی آئندہ اور گذشتہ حالتوں کو (خوب) جانتا ہے (ف 3) اور تمام کاموں کا مدار اللہ تعالیٰ ہی پر ہے (یعنی وہ مالک مستقل بالذات ہے) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والو تم رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور تم (ایسے) نیک کام (بھی) کیا کرو امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تم فلاح پاؤ گے۔

ف 3۔ غرض سب احوال مسموعہ و مبصرہ اس کو معلوم ہیں، ان میں بعض کا حال مقتضی اس اصطفاء کا ہوگیا۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اللہ کے کام میں خوب کوشش کیا کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تم کو ( اور امتوں سے) ممتاز فرمایا ہے اور (اس نے) تم پر دین (کے احکام) میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی (اس) ملت پر (ہمیشہ) قائم رہو اس اللہ نے تمہارا لقب مسلمان رکھا ہے (ف 4) (نزول قرآن سے) پہلے ہی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے کے) رسول (علیہ السلام) گواہ ہوں اور اس شہادت رسول (علیہ السلام) کے قبل تم لوگوں کے مقابلہ میں گواہ (تجویز) ہو سو تم لوگ خصوصیت کے ساتھ نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہو اور اللہ کی رسی کو پکڑے رہو (ف 5) وہ تمہارا کارساز ہے (کسی کی مخالفت تم کو حقیقتاً ضرر نہ کرے گی) سو کیا اچھا کارساز ہے اور کیا اچھا مددگار ہے۔

ف 4۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا امة مسلمة لک اور شاید اور کتب منزلہ میں بھی ہو، اور قرآن میں تو جا بجا آیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا عنوان معنوں سے خالی نہیں ہوسکتا، تو بالضرور امت محمدیہ میں مادہ انقیاد و اتباع کا زیادہ ہوگا۔5۔ یعنی ہمت و عزم کے ساتھ دین کے کاموں میں غیر اللہ کی رضا وعدم رضاءیا اپنے نفس کی مصلحت یا مضرت کی طرف التفات مت کرو۔