Ayahs 22:1–2قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے وہ بڑا ہولناک وقت ہوگا
یہاں سے سورة الحج شروع ہو رہی ہے۔ اس کے چوتھے پانچویں رکوع میں حج اور اس سے متعلق چیزوں کا بیان ہے۔ اس لیے سورة الحج کے نام سے موسوم ہے۔ پہلے رکوع میں قیامت کا بیان ہے اور جو لوگ قیامت کے وقوع کو مستبعد یا ناممکن سمجھتے تھے یا اب سمجھنے والے ہیں ان کے جاہلانہ استبعاد کا جواب دیا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو، ڈرنے کے جو تقاضے ہیں وہ پورے کرو۔ ان تقاضوں میں سے اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لانا بھی ہے اور فرائض کی ادائیگی بھی ہے اور ممنوعات سے بچنا بھی ہے۔ اور قیامت کے آنے کا بھی یقین کرو۔ اس کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہے۔ جب اس کا زلزلہ آئے گا اس وقت کی پریشانی اور ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ دودھ پلانے والی اس کی سختی کی وجہ سے دودھ پلاتے بچہ کو بھول جائے گی اور حمل والی کا حمل ساقط ہوجائے گا اور لوگ اس حالت میں ہوں گے کہ گویا نشہ میں ہیں۔ حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے۔ اللہ کے عذاب کی سختی کی وجہ سے جو ہیبت سوار ہوگی اس کی وجہ سے ایسا معلوم ہوگا کہ جیسے ان پر نشہ سوار ہے۔ آیت بالا میں جو قیامت کے زلزلہ کا ذکر ہے، یہ زلزلہ کب ہوگا۔ اس کے بارے میں حضرت علقمہ اور حضرت شعبی وغیرہما سے منقول ہے کہ اس سے وہ زلزلہ مراد ہے جو ایسے وقت میں آئے گا جب قیامت بہت ہی زیادہ قریب ہوچکی ہوگی اور یہ زلزلہ قرب قیامت کی علامت ہوگا۔ ان حضرات نے یہ اس لیے فرمایا کہ عین وقوع قیامت کے وقت جو عورتیں قبروں سے نکلیں گی ان کے ساتھ دودھ پیتے بچے ہوں یا پیٹوں میں حمل ہوں۔ یہ بات کسی واضح دلیل سے ثابت نہیں اور چونکہ قیامت سے پہلے زلزلہ آنے کا روایات حدیث میں ذکر ہے اس لیے آیت بالا میں وہی زلزلہ مراد لینا چاہیے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے وقوع قیامت مراد ہے۔ کیونکہ جب قیامت ہوگی اس وقت بھی زلزلہ آئے گا۔ جیسا کہ سورة زلزال کی پہلی آیت میں فرمایا اور جیسا سورة النازعات میں فرمایا (یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ الراجفہ سے نفخہ اولیٰ مراد ہے۔ جس سے چھوٹے بڑے اجسام حرکت میں آجائیں گے اور الرادف سے دوسرا نفخہ مراد ہے۔ (ذکرہ البخاری فی ترجمۃ باب ج 2، ص 965) اور سورة الواقعہ میں فرمایا (اِِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَکَانَتْ ھَبَآءً مُّنْبَثًّا) (جبکہ زمین کو زلزلہ آجائے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) اس سے بھی واضح طور پر یہ معلوم ہوا کہ وقوع قیامت کے وقت بھی زلزلہ آئے گا۔ اس قول کے اختیار کرنے میں جو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت حمل والی اور دودھ پلانے والی کہاں ہوں گی اس کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے۔ اول یہ کہ یہ علی سبیل الفرض و التقدیر ہے۔ یعنی قیامت کے واقع ہونے سے دلوں پر ایسی سخت دہشت اور ہیبت سوار ہوگی کہ اگر عورتوں کے پیٹوں میں بچے ہوں گے تو ان کے حمل ساقط ہوجائیں گے اور اگر عورتوں کی گودوں میں ایسے بچے ہوں جنہیں دودھ پلاتی ہوں تو وہ انہیں بھول جائیں اور دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ممکن ہے جو عورت حالت حمل میں مری ہو اسی حالت میں حشر ہو اور جس عورت کو دودھ پلانے کے زمانہ میں موت آئی ہو وہ اپنے دودھ پیتے بچے کے ساتھ محشور ہو۔ تیسرا قول یہ ہے کہ زلزلہ بمعنی حرکت ارضی مراد نہیں ہے بلکہ اس وقت کی بد حالی اور گھبراہٹ کو زلزلہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ بات بھی بعید نہیں کیونکہ قرآن مجید میں لفظ زلزال سخت مصیبت کی گھڑی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ سورة احزاب میں اہل ایمان کا ابتلا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے (ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالاً ) اور اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ صحیح بخاری ص 966 میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا ہوگی کہ اے آدم ! وہ عرض کریں گے (لبیک وسعدیک و الخیر فی یدیک) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ اپنی ذریت سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ وہ عرض کریں گے کہ کتنا حصہ ہے۔ ارشاد ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکالو۔ یہ بات سن کر بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حمل والی اپنے حمل کو ڈال دے گی اور اے مخاطب تو لوگوں کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ نشہ میں ہیں۔ حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے۔ لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ یہ بات سن کر حضرات صحابہ کو بہت زیادہ پریشانی ہوئی اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہر ہزار میں سے جنت کے لیے ایک شخص لینے سے ہمارا کیا حال بنے گا۔ ہم میں سے وہ کون کون شخص ہوگا جو جنتی ہوجائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ پورے بنی آدم کا حساب ہے۔ تم لوگ خوش ہوجاؤ کیونکہ یاجوج ماجوج کی تعداد زیادہ ہے کہ ان میں سے ایک ہزار کے مقابلہ میں تم میں سے ایک شخص آتا ہے (اور وہ بھی بنی آدم میں سے ہیں) پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میر جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم پوری جنت کے آباد کرنے والوں میں تہائی افراد ہو گے۔ اس پر ہم نے اللہ کی حمد بیان کی اور اللہ کی بڑائی بیان کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تمہاری تعداد اہل جنت کی آدھی تعداد ہوگی۔ پھر فرمایا کہ ساری امتیں ملا کر تعداد کے اعتبار سے تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک سفید بال کالے بیل کی کھال میں یا جیسے گدھے کے اگلے پاؤں میں ذرا سا گول دائرہ ہو۔
اس میں جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس وقت حمل والی اور دودھ پلانے والی عورتیں ہوں گی اس کے وہی دو جواب ہیں جو اوپر گزر چکے ہیں۔ (کما ذکرھما شراح الحدیث)
Ayahs 22:3–4اس کے بعد فرمایا (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ ) ۔ (الایتین)
مفسر ابن کثیر نے سبب نزول بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمیں بتائیے کہ آپ کا رب سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا۔ اس پر آسمان میں ایک گرج پیدا ہوئی اور اس شخص کی کھوپڑی گر کر سامنے آگئی۔ اور حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے اس طرح کا سوال کیا جس پر بجلی آئی اور اسے ہلاک کردیا۔ اس قسم کے سوال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو بےعلمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور سر کش شیطان کا اتباع کرتے ہیں۔ شیطان جو کچھ انہیں سمجھا دیتا ہے اسے مان لیتے ہیں اور شیطان جو سوالات سمجھاتا ہے ان سوالات کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔ سوال کرنے والوں نے باطل معبودوں یعنی بتوں کو دیکھا تھا جو مختلف چیزوں سے بنائے جاتے ہیں۔ انہیں پر قیاس کر کے یہ سوال کر بیٹھے کہ تمہارا رب کس چیز کا بنا ہوا ہے۔ جہالت کے ماروں نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ یہ باطل معبود جو خود تراشے ہیں اپنے ہاتھوں سے بنائے ہیں ان پر خالق کائنات جل مجدہ کو کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے۔ شیطان نے جب انہیں ایسا سمجھایا تو رسول اللہ ﷺ سے بےجا سوال کر بیٹھے۔ یہ لوگ شیطان سے دوستی کرتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں اور شیطان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے کردیا گیا کہ جو بھی کوئی اس سے دوستی کرے گا اس کی بات مانے گا، وہ اس دنیا میں اسے گمراہ کر دے گا اور آخرت میں اسے دہکتی ہوئی آگ کے عذاب میں داخل کرانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ شیطان خود بھی گمراہ ہے اسے خود بھی درزخ میں جانا ہے اور جو اس کا دوست بنے گا اسے بھی گمراہ کرے گا۔ گمراہ کی دوستی سے گمراہی اور گناہ کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔ جو اس کا دوست بنے گا اسے بھی گمراہ کرے گا اور اس کے دوزخ میں جانے کا سبب بنے گا۔
Ayahs 22:5–7وقوع قیامت کے منکرین کو جواب اور تخلیق انسانی کے مختلف ادوار کا تذکرہ
جو لوگ بعث کا یعنی مرنے کے بعد قبروں سے اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے وقوع میں انہیں شک تھا (اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں) ان کے شبہات میں سے ایک یہ شبہ تھا کہ جب مر کھپ گئے جسم ریزہ ریزہ ہوگیا تو اب زندہ ہونا، جسموں میں جان پڑنا، پورا آدمی بن کر کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تمہیں موت کے بعد دو بارہ اٹھائے جانے میں شک ہے تو تمہارا شک اور استبعاد غلط ہے اور بیجا ہے۔ تم دو بارہ اٹھائے جانے کو پہلی خلقت پر قیاس کرلو۔ دیکھو پہلے تمہارا وجود ہی نہیں تھا۔ اول تو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو ان کا مٹی کا مجسمہ بنایا۔ پھر اس مجسمہ میں روح پھونک دی۔ اس کے بعد ہم نے اولاد آدم کی پیدائش میں ایک ترتیب قائم کی اور اسی ترتیب سے بنی آدم کی نسلیں چل رہی ہیں کہ اول مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں جاتا ہے تو پھر یہ نطفہ جمے ہوئے خون کا ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر اس میں تھوڑی سی قوت آتی ہے تو وہ بوٹی بن جاتا ہے یعنی جو اس لائق ہوجاتا ہے کہ اسے چبایا جاسکے۔ (یہ مضغہ کا ترجمہ ......؟ ) اور اس بوٹی کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ پہلے تو صرف ایک ٹکڑا ہوتا ہے جس میں کوئی عضو بنا ہوا نہیں ہوتا۔ (اس کو غیر مخلقہ سے تعبیر فرمایا) پھر اس میں اعضاء بن جاتے ہیں اور انسانی شکل و صورت ظاہر ہوتی ہے (اس کو مخلقہ سے تعبیر فرمایا) اور اعضاء بننے کے ساتھ ہی پیدائش نہیں ہوتی بلکہ رحم میں پرورش ہوتی رہتی ہے اور جسم بڑھتا رہتا ہے۔ رحم میں رہنے کی بھی مدت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو جتنے دن چاہتا ہے ماں کے رحم میں رکھتا ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآء الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا) (اپنی مشیت کے موافق ہم رحموں میں ٹھہراتے ہیں) پھر رحم میں رہنے کی مقررہ مدت پوری کرنے کے بعد ہم تمہیں زندہ بچہ کی صورت میں نکال دیتے ہیں۔
رحم سے باہر آنے کے بعد آگے مزید احوال سے گزرتا ہوتا ہے بچپن کا زمانہ گزرتا ہے۔ حتیٰ کہ جوانی آجاتی ہے اس کو فرمایا (ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ ) (پھر تاکہ تم اپنی قوت کو پہنچ جاؤ) جسمانی طاقت عقل و فہم کی قوت اور سوچ سمجھ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ زمانہ اٹھارہ سال سے لے کر تیس سال تک کا ہے، اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے تیس سال سے لے کر چالیس سال کی درمیانی عمرمراد ہے۔ (و اختارہ فی الجلالین) سورة غافر میں (ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا) بھی فرمایا ہے (پھر تاکہ تم بوڑھے ہوجاتے ہو) باپ کے نطفے سے لے کر بوڑھا ہونے تک ان کے احوال سے تدریجاً گزرتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ سب پر یہ پورے احوال گزریں۔
جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مطابق ہوتا ہے۔ لوگ بعض پہلے ہی اٹھا لیے جاتے ہیں اور جوانی کا زمانہ آنے سے پہلے ہی انہیں موت آجاتی ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ بڑھاپا آنے کے بعد بھی عمر بڑھتی جاتی ہے اور یہاں تک بڑھتی ہے کہ نکمی عمر کا زمانہ آجاتا ہے۔ یہ نکمی عمر ایسی ہوتی ہے جس میں انسان کا علم ختم ہوجاتا ہے۔ پہلے سے جو چیزیں اس کے علم میں تھیں وہ بھی ذہن سے غائب ہوجاتی ہیں۔ بس یوں ہی بھوک پیاس کی تھوڑی سی شدھ بدھ رہ جاتی ہے۔ یہ سب اطوار اور احوال سب کے سامنے ہیں۔ جس ذات پاک نے مٹی سے تخلیق فرمائی پھر مختلف احوال سے گزارا وہ اس پر بھی قادر ہے کہ موت دے کر ہڈیوں کو ریزہ ریزہ بنا کر دو بارہ جسم مرکب فرما دے اور اس میں جان ڈال کر قبروں سے اٹھائے اور پھر میدان قیامت میں جمع فرما کر محاسبہ اور مواخذہ فرمائے۔ مُخَلَّقَۃ اور غیر مخلقہ کا ایک مطلب تو وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا۔ اور بعض مفسرین نے مخلقہ کا مطلب یہ بتایا ہے کہ بچہ پورا ہو کر زندہ پیدا ہوجائے اور غیر مخلقہ کا یہ مطلب لیا ہے کہ بچہ پورا ہونے سے پہلے ضائع ہوجائے جسے حمل گرنا کہتے ہیں اور غیر مخلقہ کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ بچہ ناقص الاطراف زندہ پیدا ہوجائے الفاظ سے یہ معنی بھی قریب ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ جمع رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد چالیس دن علقہ یعنی جما ہوا خون رہتا ہے۔ پھر چالیس دن تک مضغہ یعنی گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے عمل اور اس کی اجل اور اس کا رزق لکھ دیتا ہے اور یہ بھی لکھ دیتا ہے کہ یہ شقی ہے یا سعید ہے۔ (رواہ البخاری)
قرآن مجید میں جو انسانی تخلیق کے ادوار اور اطوار بتائے ہیں ان کے بارے میں حدیث شریف میں بتادیا کہ چالیس چالیس دن تک ایک ایک حالت رہتی ہے۔
قبروں سے زندہ اٹھائے جانے کے استبعاد کو تخلیق اول کی یاد دہانی کی تذکیر فرمانے کے بعد (کہ جس طرح پہلے پیدا فرمایا اسی طرح اللہ تعالیٰ دو بارہ پیدا فرما دے گا) دوسری نظیر بیان فرمائی کہ دیکھو زمین خشک ہوجاتی ہے۔ اس میں کسی طرح کی کوئی سبزی نظر نہیں آتی۔ نہ گھاس نہ دانہ۔ بالکل مردہ پڑی رہتی ہے۔ پھر ہم اس پر بارش نازل فرما دیتے ہیں تو اس میں ہری بھری گھاس نکل آتی ہے۔ بیل بوٹے پیدا ہوجاتے ہیں۔ لہلہاتی ہوئی کھیتیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ جو زمین صرف مٹی تھی اب وہ بڑھ رہی ہے۔ اوپر کو اٹھ رہی ہے اور اس میں ہر قسم کے خوش نما پودے نکل رہے ہیں۔ جس طرح سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کردیا اسی طرح سے ہم انسانوں کو دو بارہ پیدا کردیں گے۔ سورة حم سجدہ میں فرمایا (وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِِذَآ اَنزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآءَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی اِِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اے مخاطب تو زمین کو اس حالت میں دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی ہوئی پڑی ہے۔ پھر جب ہم اس پر پانی نازل کردیتے ہیں تو لہلہانے لگتی ہے اور اوپر کو اٹھ جاتی ہے۔ بلاشبہ جس نے اس زمین کو زندہ کیا وہ مردوں کو ضرور زندہ کرنے والا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے)
یہاں سورة الحج میں بھی آیت کے ختم پر یہی فرمایا (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (یہ انسان کی ابتدائی تخلیق اور اس کے تدریجی ادوار اور زمین کا سوکھنا پھر اللہ کے حکم سے ہرا بھرا ہوجانا یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے۔ یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور وہ مردوں کو زندہ فرماتا ہے اور بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے) (وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْھَا) (اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں) (وَ اَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرْ ) (اور بلاشبہ اللہ ان کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں) یعنی قبروں میں دفن کیے ہوئے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور پھر میدان حساب میں حاضر کیے جائیں گے۔
Ayahs 22:8–10معاندین کا متکبرانہ طرز عمل اور آخرت میں ان کا عذاب و رسوائی
روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض حضرات کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ اخنس بن شریق تھا اور بہت سے حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ سبب نزول جو بھی ہو بہر حال آیت کا عموم ہر اس شخص کی مذمت اور دنیا و آخرت کی ذلت اور بد حالی کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بےت کے سوال کرے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول نہ کرے۔ نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ اس کی عقل رہبر ہے اور نہ اس کے پاس کوئی کتاب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہو۔ وہ ہر اعتبار سے جاہل ہے یہ تو اس کا حال ہے اور جب ہدایت سامنے آتی ہے تو یہ سمجھ کر کہ اس کے قبول کرنے میں میری بےآبروئی ہے اور ہیٹی ہے تکبر کے انداز میں گردن موڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہ اس متکبرانہ طور طریق کی وجہ سے خود بھی گمراہی میں پڑا ہوا ہے اور دوسروں کو بھی اللہ کے راستہ سے ہٹاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں دوزخ کی آگ میں جلنے کا عذاب چکھیں گے۔ جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا (ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ ) (کہ یہ وہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا یعنی تو نے جو اعمال کیے یہ انہیں کی سزا ہے) بغیر کفر اور شرک اور بغیر معصیت کے اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیتا۔ اور وہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ) دنیا میں تو نضر بن حارث اور ابو جہل کی یوں ذلت ہوئی کہ وہ بدر میں مقتول ہوئے اور اخنس بن شریق کی موت کا حال معلوم نہ ہوسکا۔ بہر حال یہ بات لازمی ہے کہ جو لوگ بھی آیت کے مصداق ہوئے یا آئندہ ہوں گے سب دنیا میں ذلیل ہوں گے اور آخرت میں دوزخ میں جائیں گے جلنے کا عذاب چکھیں گے۔
Ayahs 22:11–13طلب دنیا کے لیے اسلام قبول کرنے والوں کی تباہی
صحیح بخاری ج 2 ؍ ص 649 میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص مدینہ منورہ آیا اس کی بیوی کو حمل تھا اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگیا اور اس کے گھوڑوں کے بھی بچے پیدا ہوگئے تو اس پر وہ کہتا تھا کہ واقعی یہ دین (یعنی اسلام) اچھا دین ہے اور اگر بیوی کے ہاں لڑکا پیدا نہ ہوا اور گھوڑی نے بچے نہ دیئے تو کہتا تھا کہ یہ اچھا دین نہیں ہے اس قسم کے لوگوں کے بارے میں آیت بالا نازل ہوئی۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ تفسیر ابن مردویہ حضرت ابو سعید ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد اس کی بینائی جاتی رہی اور مال بھی چلا گیا۔ نیز اولاد بھی ختم ہوگئی۔ اس نے اسے اسلام کی نحوست سمجھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجیے آپ نے فرمایا بیعت اسلام نہیں توڑی جاتی وہ کہنے لگا کہ اس دین میں مجھے خیر نہیں ملی میں اندھا ہوگیا میرا مال چلا گیا اور اولاد بھی مرگئی آپ نے فرمایا کہ اے یہودی ! لوگوں کو اسلام (بطور امتحان) پگھلا دیتا ہے جیسا کہ لوہے اور سونے اور چاندی کو آگ پگھلا کر کھوٹ اور میل دور کردیتی ہے اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ منافقین کے بارے میں آیت کریمہ کا نزول ہوا سبب نزول جو بھی کچھ ہو آیت کا مضمون عام ہے جو لوگ اسلام کو ظاہری طور پر دنیا کے منافع کے لیے قبول کرلیتے ہیں اور جن منافع کی امید تھی وہ منافع حاصل نہیں ہوتے تو اسلام سے پھرجاتے ہیں، حقیقت میں یہ لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور حق کے طالب بھی نہیں ہوتے، آخرت کی نجات کے لیے اسلام قبول نہیں کرتے، دنیاوی منافع کے لیے ظاہری طور پر کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا، ایسے لوگوں کی دنیا بھی تباہ ہوتی ہے اور آخرت بھی اور یہ کھلی ہوئی تباہی ہے جسے (الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ) سے تعبیر فرمایا ہے۔
جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور مصیبتوں کے لیے غیر اللہ کو پکارتے ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اسلام کو چھوڑ کر غیر اللہ کی پرستش کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو پہلے ہی سے مشرک ہیں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ ان کا غیر اللہ کی عبادت کرنا اور مدد کے لیے پکارنا ان کے حق میں مفید نہیں ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کو پکارتے ہیں جسے ضرر یا نفع پہنچانے کی ذرا بھی قدرت نہیں اور اسے اس بارے میں ذرا سا بھی اختیار نہیں (ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیْدُ ) (یہ طریقہ دور کی گمراہی ہے) (یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّہٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِہٖ ) (یہ مشرک ان کو پکارتا ہے جن کا ضرر نفع کی بنسبت زیادہ قریب ہے) کیونکہ یہ باطل معبود دنیا اور آخرت میں مدد تو کچھ کر ہی نہیں سکتے البتہ ان کی عبادت کا ضرر انہیں ضرور پہنچے گا دنیا میں گمراہ رہیں گے اور آخرت میں عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے، ان کی عبادت کا یہ پھل ملے گا کہ جلنے کے عذاب میں ہمیشہ پڑے رہیں گے (لَبِءْسَ الْمَوْلٰی وَ لَبِءْسَ الْعَشِیْرُ ) یعنی یہ معبودان باطل برے دوست ہیں اور برے رفیق ہیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ جب قیامت کے دن کافر دیکھیں گے کہ کسی بھی معبود باطل سے نفع نہ پہنچا اور اس کی عبادت کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہونا پڑا تو بلند آواز سے پکار کر کہیں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر ہم نے جس کی عبادت کی وہ تو برا دوست اور برا رفیق نکلا۔
Ayahs 22:14–16اللہ تعالیٰ نے آیات بینات نازل فرمائی ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے
اس آیت سے پہلی آیت میں مشرکوں اور کافروں کی بد حالی بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن کی پرستش کرتے ہیں وہ ان کو کوئی نفع اور نقصان نہیں دے سکتے ان کا ضرر نفع سے زیادہ قریب ہے ان کی دوستی اور رفاقت و بال جان ہے اس کے بعد اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے اللہ تعالیٰ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ساتھ ہی (اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ) بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی کو ایمان اور اعمال صالحہ سے نوازنے کا ارادہ فرمائے اسے ہدایت دے دیتا ہے اسے پورا پورا اختیار ہے وہ قادر مطلق ہے اس کے ارادے سے اسے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ اس کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جو دین اسلام کی کاٹ میں اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں لگے رہتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ دعوت چند دن کی ہے یہ جو وحی کا دعویٰ کرتے ہیں یہ وحی بھی ختم ہوجائے گی اور ان کا دین بھی آگے نہیں بڑھے گا کچھ دن کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی مدد نہ فرمائے گا اور یوں چاہتے ہیں کہ آپ کی دعوت کا کام رک جائے اور وحی آنا بند ہوجائے یہ ان لوگوں کی جھوٹی آرزو ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ضرور مدد فرمائے گا اگر کسی معاند اور مخالف کو یہ گوارا نہیں ہے تو وہ زمین سے لے کر آسمان تک ایک رسی تان لے اور اس رسی پر چڑھتا چلا جائے اور وہاں جا کر وحی کا سلسلہ منقطع کر دے۔ یہ بطور فرض کے ارشاد فرمایا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کی مخالفت اور عناد سے وحی کا سلسلہ بند ہونے والا نہیں اور سوا بیہودہ آرزو کے ان کے پاس کچھ نہیں ہے نبی اکرم ﷺ پر وحی تو آسمان سے آتی ہے جسے قدرت ہو کہ آسمان پر جا کر رکوا دے تو ایسا کرلے لیکن ایسا کرنے کی کسی کو بھی قوت نہیں ہے۔ وحی کی وجہ سے جس کو غیظ و غضب ہے اپنے غیظ اور دل کی جلن کی کوئی تدبیر کرسکتا ہے تو کرلے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ اور رسول اللہ ﷺ کی مدد کے مقابلہ میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا دشمن جلتے رہیں گے وحی آتی رہے گی دین بڑھتا رہے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة آل عمران میں فرمایا (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ اے کافرو ! تم اپنی جل میں مرجاؤ) ۔
مذکورہ بالا جو تفسیر لکھی گئی ہے بعض مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ (لَّنْ یَّنْصُرَہُ ) کی ضمیر منصوب رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہو اور بعض حضرات نے اس آیت کی یوں تفسیر کی ہے کہ سماء سے مکان کی چھت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر کسی معاند جاہل کی خواہش یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے اور یہ معاند اسلام کے خلاف غیظ و غضب لیے ڈٹا رہے تو سمجھ لے کہ اس کی مراد کبھی پوری نہ ہوگی، اس احمقانہ غیظ و غضب کا تو یہی علاج ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر رسی ڈال کر پھانسی لے لے اور مرجائے۔
اور بعض حضرات نے آیت کی تفسیر بتاتے ہوئے یوں فرمایا کہ سب کا رزق اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جسے چاہے گا رزق دے گا اور جتنا چاہے گا دے گا جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ مجھے رزق نہ دے گا دنیا و آخرت میں میری مدد نہ فرمائے گا تو یہ شخص اللہ کی قضا اور قدر پر راضی نہیں اور صابر و شاکر نہیں تو گلا گھونٹ کر مرجانے سے کچھ نہیں ہوگا یہ معنی لینے سے لن ینصرہ کی ضمیر منصوب من کی طرف راجع ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ اسلام قبول کر کے روٹی رزق اور دنیاوی آسانی ملنے پر اسلام پر بر قرار رہیں اور تنگدستی آنے پر اسلام کو چھوڑ دیں ایسے لوگوں کو بتادیں کہ تم کچھ بھی کرلو ایمان پر رہو یا ایمان چھوڑ دو بہر حال جو کچھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر کے موافق ہوگا مرتد ہوجانے سے رزق بڑھ نہ جائے گا۔ (راجع روح المعانی ج 17 ؍ 127۔ 128)
(وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ ) (الآیۃ) اور ہم نے قرآن کو اسی طرح نازل کیا ہے جس کی آیات بالکل واضح ہیں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
Ayah 22:17اہل ایمان اور یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرکین سب کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلے فرمائے گا، جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں
دنیا میں ایک جماعت تو اہل ایمان کی ہے جو خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لائے اور ان کے علاوہ بہت سی جماعتیں ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ان میں یہودی نصرانی صابئین اور آتش پرست اور طرح طرح سے شرک اختیار کرنے والے لوگ ہیں مسلمانوں کے علاوہ جتنی دوسری جماعتیں ہیں وہ آپس میں اپنے عقائد اور اعمال کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن چونکہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے ایک فریق اہل ایمان کا اور دوسرا مجموعی حیثیت سے تمام کافروں کا ہے یہ سب لوگ گوآپس میں مختلف ہیں لیکن باایمان نہ ہونے میں سب شریک ہیں اس لیے مومنین اور کافرین کو (ھٰذَانِ خَصْمَانِ ) دو گروہ بتا دیئے، جو اہل ایمان ہیں وہ تو ہیں ہی دین حق پر، لیکن دوسری جماعتیں ہیں وہ بھی اپنے بارے میں یہ گمان رکھتی ہیں کہ قیامت کے دن اپنے اس دین کی وجہ سے جو ہم نے اختیار کر رکھا ہے بخش دیئے جائیں گے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اہل ایمان کی بخشش ہوگی اور تمام اہل کفر دوزخ میں داخل ہوں گے وہاں ان سب کو معلوم ہوجائے گا کہ جو لوگ کفر پر تھے وہ غلط راہ پر تھے۔ سورة الم سجدہ میں فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (بلاشبہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان چیزوں میں فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف رکھتے تھے) ۔
(اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے) ہر ایماندار کے ایمان کو اور ہر کافر کے کفر کو وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے وہ اپنے علم کے مطابق جزا سزا دے گا۔
Ayah 22:18اس کے بعد فرمایا کہ اے مخاطب کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ کی مخلوق جو آسمان میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہیں اور چاند سورج ستارے پہاڑ درخت اور چوپائے سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں (ہر ایک کا سجدہ اس کی اپنی حالت اور کیفیت کے اعتبار سے ہے اور بعض حضرات نے یسجد کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کے سامنے عاجزی کرتی ہیں، جو حضرات آسمانوں میں ہیں اور جو مخلوق زمین میں ہے سبھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبر دار ہیں اور سجدہ ریز ہیں البتہ روئے زمین پر جو انسان ہیں ان میں سے بہت سے مسلم ہیں فرمانبر دار ہیں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ منکر ہیں کافر ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ عذاب میں داخل ہوں گے۔
پھر فرمایا (وَ مَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ) (اور اللہ جسے ذلیل کر دے تو کوئی اسے عزت دینے والا نہیں) کافر قیامت کے دن ذلیل ہوں گے پھر دوزخ کے عذاب میں داخل ہوں گے وہاں جو ذلت ہوگی اس سے بڑی کوئی ذلت نہیں اور موت کے وقت بھی کافروں کی روح ذلت کے ساتھ قبض کی جاتی ہے اور دنیا میں بھی ذلیل ہوتے رہتے ہیں، جو لوگ اسلام کے دعویدار ہیں ان میں بھی بہت سے فسق و فجور میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دنیا میں ذلت اٹھاتے ہیں وزارتوں کے پیچھے دوڑتے ہیں بڑے بڑے گناہ کر کے وزارت حاصل کرتے ہیں پھر مقتول یا معزول ہوجاتے ہیں لاکھوں آدمی انہیں برائی سے یاد کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی کو ذلیل کرے تو پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ (اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ) (بلاشبہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے) ۔
فائدہ : یہ جو فرمایا کہ فلاں فلاں چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے اس سے سجدہ کا معروف معنی بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہر ایک کا سجدہ اس کے مناسب حال ہے۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جب سورج چھپ گیا تو آنحضرت ﷺ نے مجھ سے سوال فرمایا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ! آپ نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے پھر طلوع ہونے کی اجازت مانگتا ہے اسے اجازت دے دی جاتی ہے اور وہ وقت قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور طلوع کی اجازت طلب کرے گا تو اسے اجازت نہ دی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا لہٰذا وہ پچھم کی طرف سے نکلے گا، یہ فرما کر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لَمُسْتَقَرٍٍّلَّھَا) میں اسی کو بیان فرمایا ہے اس کا مستقر (یعنی ٹھہرنے کی جگہ) عرش کے نیچے ہے۔ (رواہ البخاری ج 1 ؍ 454)
جس طرح سورج سجدہ کرتا ہے اسی طرح دوسری مخلوق بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اور تکوینی طور پر تو سبھی فرمانبر دار ہیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں فرشتے بھی ہیں انسان بھی ہیں جنات بھی ہیں یہ تو ذوی العقول ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان میں سب سے زیادہ سمجھ رکھی ہے یہ اختیاری طور پر اپنے ارادہ سے اطاعت و فرمانبر داری کرتے ہیں اور معروف معنی میں سجدہ ریز ہوتے ہیں، البتہ انسانوں میں اور جنات میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی، فرشتے سراپا فرمانبر دار ہیں دوسری مخلوق حیوانات نباتات جمادات ان میں بھی عقل و شعور ہے حیوانات کا شعور تو سبھی کو معلوم ہے نباتات کا شعور حیوانات سے کم ہے اور جمادات میں بھی عقل و شعور ہے مگر وہ ہمیں محسوس نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان شعور ہے وہ اسی شعور سے اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں اور اللہ کو سجدہ کرتے ہیں جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت ہے (وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ) اور سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ہے (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَ لٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ) سورة نحل میں ارشاد ہے (وَ لِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ وَّ الْمَلآءِکَۃُ وَ ھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ ) ان آیات کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کو بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ اس مضمون کو سورة نور میں یوں ارشاد فرمایا (کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَتَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ) (ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح کو جان لیا ہے) اس کی تفسیر یہی دیکھ لی جائے۔
Ayahs 22:19–22دوزخ میں کافروں کی سزا، آگ کے کپڑے پہننا سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جانا، لوہے کے ہتھوڑوں سے پٹائی ہونا
دو فریق یعنی مومنین اور کافرین نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا یعنی ایک جماعت وہ ہے جو اہل ایمان کی ہے اور ایک جماعت اہل کفر کی ہے دونوں جماعتوں میں اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے آپس میں جنگ بھی ہے جھگڑے بھی ہیں اور قتل و قتال بھی۔ دونوں جماعتوں کی باہمی دشمنی کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے مومنین تو اللہ تعالیٰ کے لیے لڑتے ہیں مشرکین اور کافرین جو کسی درجہ میں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور مالکیت کا اقرار کرتے ہیں وہ بھی اپنے خیال میں اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے لڑتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اپنے دین کو جہالت اور سفاہت کی وجہ سے اللہ کا مقبول دین سمجھتے ہیں اس لیے دونوں جماعتوں کے لیے (اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ ) فرمایا، اہل مکہ جب جنگ بدر کے لیے روانہ ہو رہے تھے تو انہوں نے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ہم دونوں جماعتوں میں سے جو حق پر ہو اس کو فتح نصیب فرما، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ غزوہ بدر کے موقعہ پر ایک یہ واقعہ پیش آیا کہ قریش مکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے جو حضرات انصار آگے بڑھے تو قریشیوں نے کہا کہ ہم تم سے مقابلہ نہیں چاہتے ہم تو اپنے چچا کے لڑکوں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اس پر مسلمانوں کی طرف سے حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث میدان میں نکلے اور مشرکین مکہ کی طرف سے شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سامنے آئے حضرت حمزہ ؓ نے شیبہ کو اور حضرت علی ؓ نے ولید بن عتبہ کو قتل کردیا حضرت عبیدہ کا عتبہ سے مقابلہ ہوا اور ہر ایک ایک دوسرے کی تلوار سے نیم جان ہوگیا پھر حضرت حمزہ اور حضرت علی نے عتبہ پر حملہ کیا اور اسے بالکل ہی جان سے مار دیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا کرلے آئے پھر جب مدینہ کو واپس ہو رہے تھے تو مقام صفراء میں حضرت عبیدہ کی وفات ہوگئی، حضرت علی فرماتے تھے کہ یہ آیت ہماری ان دونوں جماعتوں کے بارے میں نازل ہوئی (صحیح بخاری ج 2 ؍ 565 البدایۃ و النھایہ والتفصیل فی القسطلانی) سبب نزول خواہ انہیں دونوں جماعتوں کا مقابلہ ہو جن کا ذکر اوپر گزرا جیسا کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا لیکن آیت کا عموم یہ بتارہا ہے کہ اہل ایمان اور اہل کفر کی دونوں جماعتیں آپس میں اپنے اپنے دین و ملت کے لیے لڑ رہی ہیں، بدر کا مذکورہ واقعہ بھی اسی دینی دشمنی کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بتائی، اہل کفر کے بارے میں فرمایا (فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَھُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ) کہ ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے یعنی جس طرح کپڑے کا تھان بیونت کر کاٹا جاتا ہے تاکہ پہننے کے لیے سیا جائے اسی طرح کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹ کر تیار کیے جائیں گے، یہ تو ان کا لباس ہوگا اس کے ساتھ دوسری سزائیں بھی دی جائیں گی جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے سروں پر گرم پانی ڈالا جائے گا۔ اسی کو فرمایا (یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِھِمُ الْحَمِیْمُ ) مزید فرمایا (یُصْھَرُ بِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِھِمْ وَ الْجُلُوْدُ ) اس کی تفسیر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک کھولتا ہوا پانی ضرور دوزخیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا جو ان کے پیٹوں میں پہنچ کر ان تمام چیزوں کو کاٹ دے گا جو ان کے پیٹوں کے اندر ہیں اور آخر میں قدموں سے نکل جائے گا اس کے بعد پھر دوزخی کو ویسا ہی کردیا جائے گا جیسا تھا پھر ارشاد فرمایا کہ آیت میں جو لفظ یُصْھَرُ ہے اس کا یہی مطلب ہے (رواہ الترمذی) پھر دوزخیوں کے ایک اور عذاب کا تذکرہ فرمایا (وَ لَھُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ ) (اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے) (کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا) (جب کبھی بھی وہ گھٹن کی وجہ سے اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں لوٹا دیئے جائیں گے) یعنی لوہے کے گرز مار کر انہیں اسی میں لوٹا دیا جائے گا (وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ) (اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو) ۔
جن گرزوں سے مارنے کا ذکر ہے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ کا لوہے والا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اور اگر اس کو تمام جنات اور انسان مل کر اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے اور ایک روایت میں ہے کہ جہنم کا لوہے والا گرز اگر پہاڑ پر مار دیا جائے تو یقیناً وہ ریزہ ریزہ ہو کر راکھ ہوجائے۔ (راجع الترغیب و الترہیب ص 274 ج 4)
Ayah 22:23ایمان اور اعمال صالحہ والوں کا انعام، جنت کا داخلہ ان کے کنگنوں اور لباس کا تذکرہ
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، یہ حضرات جنت کے باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کا لباس سونے کا ہوگا اور ان کو کنگنوں کا زیور بھی پہنایا جائے گا۔
ان کنگنوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ سونے کے کنگن ہوں گے جو موتیوں سے جڑے ہوئے ہوں گے، دنیا میں تو عورتیں ریشم پہنتی ہیں اور زیور پہنتی ہیں اور شرعاً مردوں کو ان کا پہننا ممنوع ہے لیکن جنت میں مرد بھی ریشم کے کپڑے پہنیں گے اور زیور بھی پہنیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سونے اور ریشم کو میری امت کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا اور مردوں پر حرام قرار دیا گیا (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن صحیح) اور حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہیں پہنے گا (رواہ البخاری) یعنی وہاں اس نعمت سے محروم رہے گا۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اگر تم جنت کا زیور اور وہاں کا ریشم چاہتے ہو تو ان کو دنیا میں مت پہننا (رواہ النسائی کمافی المشکوٰۃ ص 379)
Ayah 22:24دوسری آیت میں فرمایا (وَ ھُدُوْٓا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ) کہ ان کو دنیا میں اچھی بات یعنی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ کی طرف رہبری کی گئی اس کو انہوں نے قبول کیا اللہ کی توحید کے قائل ہوئے اور اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب پر ایمان لائے جن کے ذریعہ انہیں ہدایت ہوئی، اب انہیں اس کا یہ پھل ملے گا کہ جنت میں آرام سے نعمتوں میں رہیں گے (وَ ھُدُوْٓا اِلٰی صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ) اور انہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ کی ہدایت دی گئی جو تعریف کے لائق ہے اور سب تعریفیں اسی کو زیبا ہیں، دنیا میں جب اس کی راہ پر چلے آخرت میں اس کی طرف سے انعام پائیں گے وہ اپنی راہ پر چلنے والوں کو محروم نہ فرمائے گا۔
فائدہ : آیت بالا میں جنتیوں کا زیور بیان کرتے ہوئے صرف کنگنوں کا ذکر فرمایا ہے حدیث شریف میں تاج پہنائے جانے کا بھی ذکر ہے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہل جنت کے سروں پر تاج ہوں گے جن کے ادنیٰ موتی کی چمک اس قدر ہوگی کہ وہ مشرق و مغرب کے درمیان (کے خلا کو) روشن کرسکتا ہے۔ یعنی ان تاجوں میں سے اگر ادنیٰ موتی اس دنیا میں آجائے تو پورب سے پچھم تک پوری فضا کو روشن کر دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 1499 از ترمذی)
Ayah 22:25مسجد حرام حاضر اور مسافر سب کے لیے برابر ہے، اس میں الحاد کرنا عذاب الیم کا سبب ہے
مکہ مکر مہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے توحید کی دعوت دینا شروع کی اس وقت مکہ والے چونکہ مشرک تھے اس لیے پوری طرح دشمنی پر تل گئے خود بھی ایمان نہیں لاتے تھے اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے باز رکھتے تھے اور مسجد حرام کے چونکہ وہی متولی تھے اس لیے مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔ ان کی دشمنی کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ وہاں سے ہجرت فرما گئے چند سال مدینہ منورہ قیام کے بعد 6 ھ میں رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو شہر میں جانے سے روک دیا اور بہت حجت کی پھر آخر میں دس شرطوں پر صلح ہوگئی لیکن اس کے باوجود اس وقت عمرہ نہیں کرنے دیا، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہ آیت ابو سفیان بن حرب اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ کو مقام حدیبیہ میں روک دیا اور عمرہ نہیں کرنے دیا اور صلح کی شرطوں میں ایک شرط یہ لگائی کہ آئندہ سال عمرہ کے لیے آئیں۔
مسجد حرام کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (جَعَلْنٰہُ للنَّاسِ سَوَآءَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ ) (کہ ہم نے اس کو تمام آدمیوں کے لیے مقرر کیا ہے اس میں سب برابر ہیں وہاں کا رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی) علماء نے فرمایا کہ المسجد الحرام سے پورا مکہ مکرمہ مراد ہے کیونکہ جب باہر سے آنے والے آئیں گے تو لامحالہ انہیں رات دن گزارنے، سونے اور کھانے پینے کے لیے کسی جگہ کی ضرورت ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ مکہ والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ باہر سے آنے والوں کو مکہ مکرمہ میں یا مسجد حرام میں آنے سے روکیں عموماً اس پر مکہ مکرمہ کے رہنے والے عمل کرتے رہے ہیں جو لوگ مسجد حرام سے روکیں گے مستحق عذاب ہوں گے، رہی یہ بات کہ مکہ مکرمہ کی زمین بیچنا اور اس کے گھروں کو کرایہ میں دینا جائز ہے یا نہیں ؟ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) سے منقول ہے کہ موسم حج میں مکہ مکرمہ کے گھر کرایہ پر دینا مکروہ ہے اور حضرت امام ابو یوسف اور حضرت امام محمد ؓ سے بھی ایسا ہی منقول ہے اور چونکہ حرمت کی کوئی دلیل نہیں اس لیے ان حضرات نے کراہت کو اختیار کیا ہے یہ کراہت ذاتی نہیں عارض کی وجہ سے ہے اور وہ عارض یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس گھر ہوتے ہیں وہ ان گھروں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور حجاج کرام سے بہت زیادہ کرایہ لے لیتے ہیں اس کرایہ کی وجہ سے بہت سے لوگ حج کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ کیونکہ مکہ مکرمہ تک آنے جانے کا کرایہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کثیر رقم زمانہ قیام کے کرایہ کے لیے بھی ہو جب کوئی شخص حج کا ارادہ کرسکتا ہے۔
بہت سے لوگ مکہ مکرمہ میں رہتے ہی اس لیے ہیں کہ مالکوں سے بلڈنگوں میں حجاج کو ٹھہرا کر بہت زیادہ پیسہ کما لیں، حجاج کی خدمت کی بجائے اس پر نظریں لگی رہتی ہیں کہ کب حاجی آئیں اور کب ان سے بھاری رقمیں وصول ہوں، ظاہر ہے کہ یہ طریقہ کار کوئی محمود اور محبوب نہیں ہے۔
حضرت امام صاحب نے فرمایا ہے کہ موسم حج کے علاوہ دوسرے دنوں میں مکہ معظمہ کے گھروں کو اجارہ پر دینا جائز ہے یعنی اس میں کراہت نہیں ہے اب رہی یہ بات کہ مکہ کی سر زمین کو بیچنا جائز ہے یا نہیں امام ابوحنیفہ (رح) سے اس بارے میں دو قول منقول ہیں اور دیگر آئمہ کے نزدیک بلا کراہت مکہ معظمہ کی زمین بیچنا جائز ہے۔
آخر میں فرمایا (وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ) (اور جو شخص اس میں ظلم کے ساتھ کوئی بےدینی کا کام کرنے کا ارادہ کرے گا تو ہم اسے درد ناک عذاب چکھا دیں گے) اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو حرم میں الحاد اور ظلم و زیادتی کا کام کریں، ظلم سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ شرک کرنا اور گناہ کرنا اس میں سب داخل ہے۔ امام ابو داؤد نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے۔ کہ احتکار الطعام فی الحرام الحاد فیہ یعنی حرم میں غلے کا احتکار کرنا (ضرورت ہوتے ہوئے فروخت نہ کرنا) یہ بھی الحاد کی بات ہے۔ حضرات اکابر سلف مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے بہت احتیاط کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ و من یرد سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے گناہ کا ارادہ کرلینا بھی مواخذہ کا سبب ہے اگرچہ عمل نہ کرے جبکہ دوسرے شہروں میں عمل کرنے پر مواخذہ ہوتا ہے۔ (ارادوں کی قسموں کے اعتبار سے اس مسئلہ میں تفصیل ہے) حضرت ابن مسعود ؓ سے آیت کا ایک مطلب مروی ہے کہ کوئی شخص دنیا میں کہیں بھی ہو وہاں رہتے ہوئے حرم مکہ میں گناہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس ارادہ پر بھی اللہ تعالیٰ اسے عذاب چکھا دے گا۔ (درمنثور ج 4 ؍ 351)
حضرت مجاہد تابعی فرماتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں جس طرح نیکیوں کا ثواب چند در چند ہو کر بہت زیادہ ملتا ہے اسی طرح ایک گناہ کئی گنا بڑھا کر لکھا جاتا ہے، حضرت مجاہد نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو کا ایک گھر حدود حرم میں تھا اور ایک گھر حل میں تھا جب نماز پڑھتے تھے تو حرم والے گھر میں پڑھتے تھے اور بچوں کو ڈانٹتے ڈپٹتے تھے تو حل والے گھر میں اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ ہم آپس میں یہ مذاکرہ کیا کرتے تھے کہ حرم میں (کسی کو ڈانٹنے کے لیے) کلا واللہ بلی واللہ بھی الحاد ہے۔ (الدر المنثورص 352 ج 4)
یہ جو فرمایا کہ جو شخص مسجد حرام میں یعنی مکہ مکرمہ میں کوئی گناہ کا کام کرے گا تو ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے اس سے دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں سزا دینا مراد ہے اگر کسی کو دنیا میں سزا نہ ملی تو آخرت میں مل جائے گی اصحاب فیل کو جو دنیا میں سزا ملی وہ تو معلوم و مشہور ہی ہے ان کی بربادی کے لیے اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو بھیجا جو اپنے ساتھ کنکریاں لیے ہوئے تھے انہوں نے ایسی کنکریاں ڈالیں کہ سارا لشکر ہاتھیوں سمیت وہیں عصف ماکول یعنی کھائے ہوئے بھوسہ کا ڈھیر بن گیا، یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں جو عذاب ہے وہ اس کے علاوہ ہے، تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ تبع (ایک شخص کا نام ہے) نے کعبہ شریف پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کیا تھا کراع الغمیم (ایک جگہ کا نام ہے) میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے بہت سخت ہوا بھیج دی جس وجہ سے کھڑا ہونا اور بیٹھنا سب دو بھر ہوگیا جب یہ ہوا تو تبع نے اپنے دو عالموں کو بلایا (جو اس کے ساتھ سفر میں تھے) اور ان سے دریافت کیا کہ یہ مصیبت ہم پر کیوں آئی انہوں نے کہا کہ اگر ہماری جان بخشی ہو تو ہم بتائیں اس پر اس نے کہا کہ تم بےخطر رہو، اس کے بعد ان دونوں نے بتایا کہ چونکہ تو ایک ایسے گھر پر حملہ کرنے کے لیے جا رہا ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے اس لیے یہ مصیبت نازل ہوئی ہے، اس پر تبع نے کہا کہ پھر میں کیا کروں ؟ دونوں عالموں نے بتایا کہ تو سلے ہوئے کپڑے اتار دے اور دو چادریں پہن کر لبیک اللھم لبیک کہتا ہوا داخل ہو پھر طواف کر اور وہاں کسی کو اپنی جگہ سے مت ہٹا تبع نے کہا کہ اگر میں سب کچھ کرلوں تو کیا یہ ہوا چلی جائے گی ان دونوں نے کہا کہ ہاں ایسا کرنے سے یہ ہوا ہٹ جائے گی چناچہ اس نے چادریں پہنیں اور تلبیہ پڑھا اور آندھی ختم ہوگئی۔ (ج 4 ؍ 352)