22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو۔ کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہٴ عظیم ہوگا

یا یہ الناس اتقوا ربکم اے لوگو ! اپنے رب (کے عذاب) سے ڈرتے رہو ‘ یعنی اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کرو۔ ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ قیامت کا زلزلہ یعنی قیامت میں قیامت کے لئے ساری چیزوں کا ہل جانا ‘ جھنجھوڑا جانا۔ اوپر کی آیت میں عذاب سے ڈرنے کا حکم دیا گیا تھا اس آیت میں اس کی علت بیان کردی مطلب یہ کہ قیامت کے بھونچال کا تصور کرو۔ اس کی ہولناکیوں پر غور کرو اور سمجھ لو کہ اس سے محفوظ رکھنے والا سوائے تقویٰ اور اللہ کی فرمانبردای کے اور کوئی نہیں اس لئے تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کے احکام پر چلو۔ علقمہ اور شعبی کے نزدیک یہ زلزلہ قیامت سے پہلے آئے گا اور قیامت کی خصوصی نشانی ہوگا۔ جلال الدین محلی نے لکھا ہے کہ مغرب سے آفتاب کے طلوع کرنے سے پہلے یہ زلزلہ آئے گا۔ ابن عربی اور قرطبی نے اسی قول کو پسند کیا ہے کیونکہ آئندہ آیات سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے

یوم ترونہا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملہا جس روز تم اس کو دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی عورت (زلزلہ کی دہشت کی وجہ سے) اس بچے سے غافل ہوجائے گی جس کو دودھ پلا رہی ہوگی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل ساقط کر دے گی۔ مرضعۃ وہ عورت جو دودھ پلا رہی ہو۔ مرضع وہ جو دودھ پلاتی ہو خواہ اس وقت نہ پلا رہی ہو۔ دودھ پلانے کی صفت اس کے اندر موجود ہو۔ جیسے حائض اور حامل ہر حیض والی اور حمل والی عورت خواہ اس وقت اس کو حیض نہ آ رہا ہو اور حمل نہ ہو۔ (اور حائضہ و حاملہ وہ عورت جس کو حیض آ رہا ہو اور حمل موجود ہو) یعنی زلزلہ کی دہشت کی وجہ سے ہر وہ عورت جو بچہ کو دودھ پلا رہی ہوگی اپنے بچے کو دودھ پلانا چھوڑ دے گی۔ حسن نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا کہ مرضعۃ اپنے شیر خوار بچے کے دودھ چھڑانے سے غافل ہوجائے گی اور وہ حاملہ کو ناقص اسقاط ہوجائے گا۔ وتری الناس سکری وماہم بسکری ولکن عذاب اللہ شدید۔ اور (اے مخاطب) تجھ کو لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی سخت چیز۔ اس آیت کی تفسیر میں حسن نے کہا خوف کی وجہ سے تم کو لوگ سکر کی حالت میں نظر آئیں گے وہ شراب کا نشہ نہ ہوگا بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا جس کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت ہوگی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ترونبصیغۂ جمع اور تری بصیغۂ واحد اس لئے ذکر کیا کہ ساعت یعنی قیامت کو دیکھنے والے تو سب ہی ہوں گے سب ہی قیامت کو دیکھیں گے اور سکر کی حالت میں ہر شخص دوسرے کو دیکھے گا (اپنی حالت سکر اس کو دکھائی نہ دے گی) عذاب کا ہول ‘ ہوش پراگندہ کر دے گا ‘ اوسان خطا ہوجائیں گے۔ جو لوگ زلزلۂ قیامت کو علامات قیامت میں سے کہتے ہیں اور قیامت سے قبل اس کا وقوع مانتے ہیں وہ اپنے قول کے ثبوت کے لئے ان آیات کو پیش کرتے ہیں ان آیات میں ہر مرضعہ کا اپنے شیر خوار بچے سے غافل ہوجانا اور حاملہ کا حمل ساقط ہوجانا اور ہر شخص کا نشہ کی حالت میں دکھائی دینا بیان کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ زلزلہ کا واقعہ قیامت کے وقوع سے پہلے ہوگا مردوں کے جی اٹھنے کے بعد نہ تو کوئی دودھ پلانے والی ہوگی نہ دودھ پینے والا بچہ نہ کوئی حاملہ نہ اس کا حمل حضرت مفسر نے اس استدلال کی تردید میں فرمایا کہ یٰاَیَّہَا النَّاسُ اتَّقُوا میں خطاب عام قرار دیا جائے یا خاص اس وقت میں موجودلوگوں کے لئے بہرحال تقویٰ کی علت نہ زلزلۂ ساعت کی ہولناکی اور شدت کو قرار دینا صحیح نہ ہوگا ‘ کیونکہ زلزلہ کی دہشت تو انہیں لوگوں پر ہوگی جو زلزلہ کے وقت موجود ہوں۔ انہیں کو ڈرانا اور اللہ کی فرمانبرداری کا حکم دینا صحیح ہوگا۔ جو لوگ زلزلہ سے پہلے گزر گئے خواہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خطاب کے وقت موجود تھے یا آئندہ پیدا ہونے والے تھے کوئی فریق بھی زلزلہ سے دہشت زدہ نہیں ہوسکتا جب زلزلۂ ساعت کو دیکھا ہی نہیں تو اس کی ہولناکی سے دہشت زدہ ہو کر تقویٰ اختیار کرنے کا مفہوم ہی کیا ہوسکتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا زلزلۂ ساعت نفخۂ بعث اور مردوں کے قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا حلیمی نے بھی اسی تفسیر کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آیت میں مرضعۃ کا بچہ کی طرف سے غافل ہونا اور حاملہ کا حمل ساقط ہوجانا بطور مجاز صرف تمثیلی شکل میں کہا گیا ہے حقیقی معنی مراد نہیں زلزلہ کی ہولناکی اور دہشت کی بطور تشبیہ تصویر کشی کی گئی ہے یہ مطلب نہیں کہ واقع میں زلزلہ کے وقت ایسا ہوگا بھی۔ اسی طرح دوسری آیت ہے یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا ظاہر ہے کہ قیامت کا دن کسی بچے کو بوڑھا نہیں کر دے گا بلکہ یکدم غمناک شدت آگیں دن کے وقوع کی تمثیلی تعبیر ہے۔ اس تفسیر کی تائید ‘ حدیث مبارک سے بھی ہوتی ہے امام احمد اور ترمذی نے حضرت عمران بن حصین کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کی سند کو صحیح بھی کہا ہے حضرت عمران نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آیت یٰاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقَوْا۔۔ عَذَاب اللّٰہِ شَدِیْدٌتک نازل ہوئی حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ دن کون سا ہوگا صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی جانے۔ فرمایا یہ دن وہ ہوگا جس میں اللہ ‘ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے فرمائے گا (اپنی نسل میں سے) دوزخ کا حصہ بھیجو۔ الحدیث۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ یہ دونوں آیتیں غزوۂ بنی مصطلق کے دوران رات کے وقت نازل ہوئیں حضور نے ندا کرا کے سب کو بلوایا اور یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں آیات کو سن کر لوگ اتنا روئے کہ اس رات سے زیادہ رونے والے کبھی نہیں دیکھے گئے صبح ہوئی تو لوگوں نے گھوڑوں سے زینیں نہیں اتاریں نہ ڈیرے لگائے نہ ہانڈیاں پکائیں کچھ لوگ روتے رہے کچھ غمگین پریشان سوچ میں بیٹھے رہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور رسول ﷺ ہی جانے۔ فرمایا یہ وہ دن ہوگا جب اللہ آدم ( علیہ السلام) سے فرمائے گا اپنی اولاد میں سے دوزخ کا حصہ بھیجو حضرت آدم عرض کریں گے کیا سب میں سے۔ کتنا کتنا۔ اللہ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ کی طرف اور ایک جنت کی طرف۔ اس بات کی ضرب صحابہ پر بہت سخت پڑی وہ رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ پھر کون نجات پائے گا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا تم خوش ہوجاؤ اور سیدھی چال رکھو تمہارے ساتھ دو مخلوقیں اور بھی ہوں گی جو ہر قوم سے زائد ہوں گی یعنی یاجوج و ماجوج۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم کُل اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے یہ سن کر لوگوں نے اللہ اکبر کہا ‘ اور اللہ کی حمد کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم کل اہل جنت میں آدھے ہو گے۔ صحابہ نے یہ (بشارت) سن کر اللہ کبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا پھر حضور ﷺ نے فرمایا مجھے تو (اب) یہ امید ہے کہ تمہاری تعداد اہل جنت کی دو تہائی ہوگی اہل جنت کی بیس قطاریں ہوں گی جن میں اسّی میری امت کی ہوں گی اور کافروں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد اتنی (کم) ہوگی جیسے اونٹ کے پہلو پر تل یا گھوڑے کے پاؤں پر دوسرے رنگ کی لکیر (یا وھبہ) بلکہ جیسے سفید بیل کی پشت پر ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل کی پشت پر ایک سفید بال پھر فرمایا میری امت کے ستّر ہزار آدمی بلاحساب جنت میں جائیں گے حضرت عمر ؓ نے (بطور تعجب) کہا ستّر ہزار فرمایا ہاں اور ہر ایک کے ساتھ ستّر (ستّر) ہزار یہ سن کر عکاشہ بن محصن کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ (دعا فرمائیے کہ) اللہ مجھے ان میں سے کر دے فرمایا تم ان میں سے ہو اس کے بعد ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا (یا رسول اللہ ﷺ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ‘ فرمایا عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔ جو لوگ زلزلۂ ساعت کو نفخۂ اوّل سے پہلے مانتے ہیں ان کی طرف سے اس حدیث کا یہ جواب دیا جاتا ہے کہ جس روز حضرت آدم کو حکم ہوگا کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا حصہ نکالو ‘ اسی روز زلزلہ بھی آئے گا ‘ یہی حدیث کا مفہوم ہے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس حکم اور وقوع زلزلہ کا وقت ایک ہی ہوگا تو اسی کے ساتھ دوسرے ہولناک واقعات کا بھی ذکر فرمادیا جو اس روز نمودار ہوں گے ان واقعات میں ایک دہشت ناک بات اولاد آدم میں سے دوزخ کا حصہ نکالنا بھی ہوگا جس کا حضور نے ذکر کردیا۔ حضرت مفسر نے فرمایا یہ جواب کمزور ہے کیونکہ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ان الفاظ کے ساتھ لائی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرمائے گا۔۔ آدم ( علیہ السلام) ! حضرت آدم جواب دیں گے حاضر۔ حاضر اور ساری خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اللہ فرمائے گا دوزخ میں بھیجا جانے والا حصہ نکالو آدم عرض کریں گے دوزخ کا کتنا حصہ ہے اللہ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو نناوے ‘ اس وقت بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت اسقاط حمل کر دے گی ‘ تم لوگوں کو متوالا دیکھو گے حالانکہ وہ (شراب کے) نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ ہزار میں سے ایک ہم میں سے کون ہوگا ‘ فرمایا تم میں سے (ایک دوزخی) ہوگا اور یاجوج و ماجوج میں سے ہزار پھر فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں امید رکھتا ہوں کہ تم جنت والوں کا چہارم حصہ ہو گے ہم نے یہ سن کر تکبیر کہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے ہم نے یہ سن کر تکبیر کہی فرمایا ‘ میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ اہل جنت کے آدھے ہو گے ‘ ہم اللہ اکبر کہا فرمایا تم لوگ دوسرے لوگوں کی بہ نسبت (دوزخ کے اندر) اتنے ہو گے جیسے ایک کالا بال سفید بیل کی کھال پر یا جیسے ایک سفید بال کالے بیل کی کھال پر۔ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ بچہ کا بوڑھا ہوجانا ‘ حاملہ کا حمل گر جانا اور دوزخ کا حصہ نکالنے کا حکم ایک ہی وقت میں ہوگا بلکہ مردوں کا قبروں سے اٹھایا جانا ‘ زلزلہ سے پہلے ہوگا۔
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (ودانش) کے بغیر جھگڑتے اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں

ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ (کی ذات صفات اور احکام) میں بغیر علم کے جھگڑا کرتے ہیں۔ یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی نضر بڑا جھگڑالو تھا کہتا تھا ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں قرآن گزشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی (داستان) ہے یہ شخص حشر جسمانی کا منکر تھا اور کہتا تھا جو چیز خاک ہوگئی اس کو زندہ کرنا ناممکن ہے۔ رواہ ابن ابی حاتم عن ابی مالک۔ ویتبع کل شیطن مرید۔ اور (جھگڑا کرنے میں یا عام احوال زندگی میں) ہر شیطان شریر کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان کا لفظ انسان اور جن دونوں کو شامل ہے۔ مَرید خیر سے خالی شر میں ڈوبا ہوا۔ مَزْدٌ کا معنی ہے خالی ہونا۔ امرد بےداڑھی مونچھ کا لڑکا جو چہرے کے بالوں سے خالی ہوتا ہے۔ مَرید اور مارد دونوں ہم معنی ہیں۔ قاموس میں ہے مرد (باب نصر و کرم) مرودا (مصدر) مرید مارد متمرد (صفات کے صیغے) اقدام کیا یا سرکش ہوگیا۔ مردہ اس کو کاٹ دیا۔ مَرَدَ علی الشئی اس چیز کا مشتاق ہوگیا۔
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا

کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویہدیہ الی عذاب السعیر۔ اللہ نے شیطان کے متعلق یہ لکھ دیا ہے یعنی فیصلہ کردیا ہے کہ جو شخص اسکے پیچھے چلے گا شیطان ضرور اس کو راہ سے بھٹکا دے گا اور عذاب دوزخ کی راہ اس کو دکھا دے گا (یا عذاب دوزخ تک اس کو پہنچا دے گا) یعنی شیطان کی سرشت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے چلنے والے کو سیدھے راستے سے بہکا دیتا ہے اور ایسی راہ چلنے پر آمادہ کرتا ہے جو عذاب دوزخ تک لے جاتی ہے۔ زجاج نے کہا اَنَّہٗکی ضمیر شیطان کی طرف راجع ہے اور تولی کا معنی دوستی کی ‘ محبت کی یا تسلط اور غلبہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے متعلق اللہ کا فیصلہ ہے اور شیطان کی یہ فطرت ہے کہ جس شخص سے وہ محبت اور دوستی کرتا ہے یا جس شخص پر تسلط جماتا ہے اس کو بھٹکا دیتا ہے۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے

یایہا الناس ان کنتم فی ریب من البعث اے لوگو ! اگر تم کو (حشر جسمانی اور دوبارہ) جی اٹھنے (کے امکان) میں کوئی شک ہے۔ فانا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ وغیر مخلقۃ تو (غور کرو کہ) ہم نے تم کو خاک سے بنایا پھر ایک بوند سے پھر خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے پھر مکمل اور نامکمل بوٹی سے یعنی اگر دوبارہ جی اٹھنے کے امکان میں تم کو شک ہے تو اپنی ابتدائی تخلیق پر غور کرو ‘ تمہارا شک دور ہوجائے گا۔ خَلَقْنَکُمْ ہم نے تمہاری جنس کو یعنی آدمی کو پیدا کیا۔ لفظ کم اس بچے کو بھی شامل ہے جو گر جاتا ہے ‘ ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ آدمی بننے کی اس میں بھی صلاحیت ہوتی ہے۔ مِّنْ تُرَابٍ یعنی تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا یا یہ مطلب ہے کہ تم کو مادۂ منویہ سے پیدا کیا اور مادۂ منویہ تمہاری کھائی ہوئی غذاؤں میں سے پیدا ہوتا ہے اور غذائیں مٹی سے پیدا ہوتی ہیں مِنْ نُطْفَۃٍسے مراد ہے منی ‘ یہ لفظ نَطْفٌ سے مشتق ہے۔ عَلَقَۃٍ خون کا جما ہوا لوتھڑا۔ مغضۃ گوشت کا ٹکڑا۔ اصل میں مضغہ کسی چیز کے اتنے حصے کو کہتے ہیں جو چبایا جاتا ہے۔ مُخَلَّقَۃٍ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَۃٍکی تشریح میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا مکمل بناوٹ والا اور ناتمام ساخت والا مجاہد نے کہا۔ مصورہ اور غیر مصورہ (یعنی جس کی صورت بنا دی گئی یا وہ جس کی صورت ابھی نہیں بنائی گئی) بعض علماء نے کہا مخلقۃ سے وہ بچہ مراد ہے جو اپنی پوری مدت حمل گزار کر اپنے وقت پر پیدا ہوتا ہے اور غیر مخلقۃ سے مراد ہے وہ بچہ جو وقت سے پہلے ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض نے کہا مخلقۃ وہ بچہ جو ٹھیک درست حالت میں پیدا ہو نہ اس کے اعضاء میں کوئی کمی ہو نہ عیب اور غیر مخلقۃ وہ بچہ جو ناقص الخلقۃ یا عیب دار ہو گویا بچہ جب بوٹی ہونے کی حالت میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی سرشت میں تفاوت ہوتا ہے کوئی کامل الخلقۃ چکنا بےعیب ہوتا ہے اور کوئی اس کے خلاف ہوتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کی بناوٹ ‘ صورتوں ‘ نقشوں قد کی لمبائی اور پستی اور جسمانی اعضاء کی تکمیل یا کمی کے لحاظ سے باہم تفاوت ہے اس تفسیر پر غیر مخلقۃ سے مراد وہ بچہ نہ ہوگا جو وقت سے پہلے گر جاتا ہے اور نہ اس توجیہ کی ضرورت ہوگی کہ ساقط ہوجانے والے بچے میں بھی آدمی بننے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لئے لفظ کُمْ اس کو بھی شامل ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ غیر مخلقہ سے مراد ہے قبل از وقت گرنے والا بچہ ‘ اس لئے مؤخر الذکر قول غلط ہے اور مذکورۂ بالا اقوال صحیح ہیں۔ بغوی نے بروایت علقمہ حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رحم کے اندر جب نطفہ کا ٹھیراؤ ہوجاتا ہے تو ایک فرشتہ اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کرتا ہے اے میرے رب یہ مخلقہ ہے یا غیر مخلقہ اگر اللہ فرماتا ہے غیر مخلقہ تو رحم اس کو خون کی شکل میں (باہر) پھینک دیتا ہے اور وہ نسمہ (جان دار) نہیں بن سکتا اور اگر اللہ مخلقہ فرماتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے نر یا مادہ ‘ بدبخت یا سعید اس کی مدت زندگی کتنی ہے ‘ اس کا عمل کیسا ہے اس کا رزق کیا ہے ‘ حکم ہوتا ہے جا لوح محفوظ کو جا کر دیکھ تجھے سب کچھ اس میں مل جائے گا فرشتہ جاتا ہے اور لوح محفوظ میں سب کچھ لکھا پاتا ہے اور اس کی نقل کرلیتا ہے اور وہ نقل اس کے پاس رہتی ہے۔ لنبین لکم تاکہ ہم تمہارے سامنے واضح کردیں۔ اس تدریج سے تم پر اپنی قدرت و حکمت کے کمال کو ظاہر کر دیں اور تم وجود حشر پر اس سے استدلال کرسکو اور سمجھ جاؤ کہ جو چیز ابتدائی تخلیق میں تغیر کی قابل ہے اور اوّلین خلقت جس اللہ نے اس کی کی ہے وہ دوبارہ بھی تغیر کو قبول کرسکتی ہے اور خدا اس کو دوبارہ بھی زندہ کر کے اٹھا سکتا ہے۔ بعض علماء نے لِنُبَیِّنَ لَکُمْکا ترجمہ اس طرح کیا ہے تاکہ ہم تمہارے ساتھ سامنے کھول کر بیان کردیں کہ تم کیا کرو اور کیا نہ کرو اور تم اپنی عبدیت میں کن چیزوں کے ضرورت مند ہو یعنی احکام تکلیفیہ کا مامور بنانے کے لئے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے۔ ونقر فی الارحام ما نشآء الی اجل مسمی اور رحم کے اندر ہم جس (نطفہ) کو چاہتے ہیں ایک معین مدت تک (یعنی وضع حمل کے وقت تک) ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ یعنی ہم ہی رحموں کے اندر جتنی مدت ٹھہرانا اور رکھنا چاہتے ہیں اس مدت تک جو اللہ کے نزدیک مقرر اور معلوم ہے ٹھہرائے رکھتے ہیں اس مدت کے اندر رحم بچہ کو باہر نہیں پھینکتے اور نہ اسقاط حمل ہوتا ہے۔ ثم نخرجکم پھر ہم تم کو باہر لاتے ہیں یعنی ماں کے پیٹ سے باہر لاتے ہیں۔ طفلا ایسی حالت میں کہ تم چھوٹے بچے ہوتے ہو۔ ثم لتبلغوا اشدکم پھر (ہم تمہاری پرورش کرتے رہتے ہیں) تاکہ تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ۔ اَشُدَّشدت کی جمع ہے جیسے اَنْعُم نعمۃ کی۔ یعنی تم اپنی عقلی اور جسمانی طاقت کے اس کمال کو پہنچ جاؤ جو اللہ کی طرف سے تمہارے لئے مقرر کردیا گیا ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ذہنی و جسمانی طاقتوں کا کمال 30 اور 40 برس کی عمر کے درمیان پورا حاصل ہوجاتا ہے۔ ومنکم من یتوفی اور تم میں سے کچھ لوگ (تو بھرپور طاقت پر پہنچ کر یا اس سے پہلے ہی) وفات پا جاتے ہیں۔ ومن من یرد الی ارذل العمر اور کچھ لوگوں کو بالکل ناکارہ عمر تک پھیر دیا جاتا ہے۔ یعنی انتہائی پیری اور سن خرافت تک پہنچا دیا جاتا ہے 1 ؂۔ لکیلا یعلم من بعد علم شیئا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جان چکنے کے بعد پھر نادان ہوجاتا ہے۔ لکیلا میں لام عاقبت کا ہے (عاقبت بمعنی نتیجہ) یعنی جس طرح ابتداء طفولیت میں فہم کی کمی اور دانش کی کمزوری کی وجہ سے کچھ نہیں جانتا تھا انتہائی بوڑھا ہونے کے بعد بچپن کی ہیئت پر ہوجائے اور زندگی میں جو کچھ جانتا تھا اس کو بھول جائے۔ عکرمہ نے کہا جو شخص قرآن پڑھتا ہے اس کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ امکان حشر کی یہ دوسری دلیل ہے۔ مختلف حدود عمر میں انسان کے احوال بدلتے رہتے ہیں اور متضاد امور کا اس پر ورود ہوتا رہتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے تو جو ذات ان تبدیلات و تغیرات پر قادر ہے وہ ان جیسی تبدیلات دوبارہ بھی کرسکتی ہے (یعنی انسان کی پوری زندگی موت وحیات اور فنا و پیدائش کی کشمکش کا نام ہے ہر آن احوال کا تغیر اور زندگی کے بعد موت کا ورود اور موت کے پیچھے زندگی کا ظہور ہے۔ جہالت کے بعد علم اور علم کے بعد جہالت آتی ہے جسمانی اور ذہنی قوتوں کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے مبدء آفرینش اور منتہاء حیات کے درمیان تغیرات ‘ تبدیلات اور ترقیات و تنزلات کا ایک جہان ہے جو اللہ کی قدرت کے زیر اثر رواں رواں ہے پس بعث بعد الموت بھی اگر ظہور پذیر ہوجائے تو امکان سے باہر نہیں اور قدرت الٰہیہ اس سے عاجز نہیں۔ مترجم) ۔ وتری الارض ہامدۃ فاذا انزلنا علیہا المآء اہزت وربت وانبتت من کل زوج بھیج اور تو دیکھتا ہے کہ زمین خشک پڑی ہے پھر جب اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے اور ہر قسم کے خوشنما نباتات اگاتی ہے۔ ہَامِدَۃً مردہ خشک ہَمَدَتِ النَّارُآگ راکھ ہوگئی۔ اِہْتَزَّتْسبزہ کی روئیدگی کے سبب ہلنے لگی (لہلہلانے لگی) رَبَتْبڑھ گئی ‘ ابھر آئی ‘ پھول گئی۔ مبرد نے کہا زمین کی طرف لہلہانے اور ابھرنے کی نسبت بطورمجاز کئی گی ہے مضاف محذوف ہے (یعنی مجاز بالحذف ہے ‘ مترجم) مراد ہے سبزہ کا لہلہانا اور ابھرنا۔ مِنْ کُلِّ زَوْجٍمیں مِن زائد ہے اور زوج کا معنی ہے ہر صنف ‘ ہر قسم۔ بَہِیْجٍخوبصورت۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے بہیجۃ خوشی۔ بَہُجَ (باب کرم) سے (صیغۂ صفت) بَہِیجٌاور مبہاج (آتا ہے) اور بہج (باب سمع) خوش ہوا (اس سے صیغۂ صفت) بہیج اور بہج (آتا ہے) اور بہج (باب فتح سے) نیز ابہج (باب افعال سے) خوش کیا۔ ابتہاج (افتعال) خوشی۔ انزلنا اور اہتزت اور ربت اور انبتت سب افعال استعمال کئے اور (بجائے جملۂ اسمیہ کے) اس جگہ جملہ فعلیہ ذکر کرنا یہ ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ وقتاً فوقتاً پیہم ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ثبوت حشر کی یہ تیسری دلیل اللہ نے بیان فرمائی ہے۔
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قادر مطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

ذلک بان اللہ ہو الحق وانہ یحییٰ الموتی وانہ علی کل شی قدیر۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ اللہ ہی ہستی میں کامل ہے اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ذٰلِکَ سے اشارہ مذکورۂ بالا تفصیل کی طرف ہے یعنی انسان کی تخلیقی نیرنگیاں اور تضاد احوال اور مردہ ہونے کے بعد زمین کا زندہ ہونا اور سبز ہو کر لہلہا جانا اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے ‘ بذات خود متحقق ہے ‘ واجب الوجود ہے اسی کی وجہ سے دوسری تمام چیزوں کا وجود ہے اگر وہ نہ ہوتا تو کسی ممکن کا پردۂ عدم سے نکل کر سطح وجود پر آنا ممکن نہ ہوتا اور وہی بےجان نطفہ اور مردہ زمین کو زندگی عطا فرماتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے کیونکہ اسکی قدرت بذات خود ہے اور اس کی قدرت کی ہر چیز سے نسبت برابر ہے۔ اس لئے کوئی چیز بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں اور مشاہدہ دلالت کر رہا ہے کہ وہ بعض مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یہ اس کی قدرت سے خارج نہیں ہوسکتا ‘ وہ ہر مردہ کو زندہ کرسکتا ہے خواہ وہ بوسیدہ ریزہ ریزہ ہڈی ہوجائے۔
Ayah 22:7

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں۔ اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں ہیں جلا اٹھائے گا

وان الساعۃ اتیۃ لاریب فیہا اور یقیناً (دنیا کے ختم ہونے کی) ساعت ضرور آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ گونا گوں تغیرات کا ظہور اختتام دنیا کا پیش خیمہ ہے۔ وان اللہ یبعث من فی القبور۔ اور یہ بات قطعی ہے کہ اللہ قبروں والوں (یعنی مردوں) کو زندہ کر کے اٹھائے گا کیونکہ اس نے اس کا وعدہ فرما لیا ہے اور وعدۂ خداوندی کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔ اوّل الذکر تینوں جملے علت فاعلہ کو ظاہر کر رہے ہیں یعنی انسان کی تخلیقی نیرنگیاں اور متضاد احوال میں نو بنو تبدیلیاں اور مردہ زمین کو زندہ کرنا علت فاعلہ کی حیثیت میں ہے اور آخر کے دونوں جملے نتیجۂ دلیل یا علت غائیہ کی طرح ہیں انسان وغیرہ کی تخلیق بےکار نہیں ہے آدمی کی تخلیق کا مقصد اللہ کی معرفت و عبادت ہے معرفت پر عبادت مرتب ہوتی ہے اور عبادت پر جزا و سزا کی بنا رہے اگر قانون جزا و سزا نہ ہو تو مؤمن و منکر اور فرمانبردار و مجرم مساوی ہوجائیں گے اور عدل کا تصور ختم ہوجائے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے کیا ہم اہل اطاعت کو مجرموں کی طرح کردیں گے تمہارا یہ کیسا فیصلہ ہے۔
Ayah 22:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (ودانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے

ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ہدی ولا کتب منیر۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم (بدیہی) کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں علم سے مراد ہے علم بدیہی اور ہدیٰ سے مراد ہے علم استدلالی و نظری جو معرفت الٰہیہ تک پہنچانے والا ہو اور کتاب روشن سے مراد کسی آدمی پر اللہ کی اتاری ہوئی کتاب جو حق کی مظہر ہو انسانی علم کے یہی تین ذرائع ہیں (علم ضروری یعنی علم بدیہی جو نظر و فکر اور سوچ بچار کا محتاج نہیں ہے محض حسی ہے دوسرا علم نظری و استدلالی جو غور وفکر اور ترتیب معلومات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ تیسرا نقلی علم جو اللہ کی نازل کردہ کتاب سے حاصل کیا گیا ہو۔ مترجم) ۔
Ayah 22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے

ثانی عطفہ لیضل عن سبیل اللہ تکبر کرتے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ (یعنی دین حق) سے (لوگوں کو) بےراہ کر دیں۔ عِطْفپہلو۔ جانب عِطْفَیْندونوں پہلو ‘ دایاں بایاں۔ روگردانی اور اعراض کے وقت جس حصۂ بدن کو آدمی موڑ لیتا اور گھما لیتا ہے اس کو عطف کہتے ہیں۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد ہے گردن نیوڑانا۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جب اس کو حق کی طرف بلایا جاتا ہے تو غرور اور تکبر سے وہ گردن نیوڑاتا اور رخ پھیر لیتا ہے کذا قال ابن عطیۃ وابن زید وابن جریج۔ لہ فی الدنیا خزی ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق اس کے لئے دنیا میں رسوائی (ذلت) ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلانے والی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ خزی سے مراد ہے قتل و قید چناچہ (اس پیشین گوئی کے موافق) نضر بن حارث اور قصبہ بن ابی معیط قتل کئے گئے اور ستّر دوسرے کافر جنگ بدر میں مارے گئے اور ستّر قید ہوئے۔ جلال الدین محلی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول ابوجہل کے متعلق ہوا ابوجہل غزوۂ بدر میں مارا گیا۔ حریق بمعنی محرق جلانے والا۔ مراد آگ۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (اس سے کہا جائے گا) یہ تیرے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے اور یہ بات ثابت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ یعنی قیامت کے دن جب ان کو عذاب دیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کفر و گناہ کیا تھا یہ تمہارے اسی کرتوت کی سزا ہے اور اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے یعنی انصاف کرنے والا ہے اور عدل کا تقاضا ہے کہ کفر و گناہ کی سزا دی جائے ظالم نہ ہونے سے بطور کنایہ یہ مراد ہے کہ عادل ہونا جیسے آیت لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ ۔۔ میں عدم محبت سے مراد ہے نفرت اور ناپسندیدگی۔ بخاری ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ بعض لوگ مدینہ میں آکر مسلمان ہوجاتے تھے۔ اسلام کے بعد اگر اس کی بیوی کے لڑکا ہوتا اور گھوڑیوں کے بچے پیدا ہوتے تو کہتا یہ مذہب اچھا ہے اور عورت کے لڑکا نہ ہوتا اور گھوڑیوں کے بچے نہ پیدا ہوتے تو کہتا یہ دین برا ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے

ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف اور بعض آدمی اللہ کی عبادت (ایسے طور پر) کرتا ہے (جیسے) کنارہ پر کھڑا ہو۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے حرف کا معنیٰ کنارہ مراد ہے۔ شک۔ شک کرنے والا منافق دونوں گروہوں کے کنارے پر ہوتا ہے مؤمنوں کے گروہ کے کنارے پر اور کافروں کے گروہ کے بھی کنارے پر۔ کبھی ادھر مڑ جاتا ہے کبھی ادھر گویا منافق فوج کے آخری کنارے پر ہوتا ہے اگر فتح محسوس کرتا ہے تو ٹھہرا رہتا ہے۔ اگر شکست محسوس کرتا ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم اور بغوی نے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ان بدوی دیہاتیوں کے متعلق ہوا جو صحرا کو چھوڑ کر مدینے میں آکر مسلمان ہوجاتے اور وہیں رہ پڑتے تھے ‘ اگر قیام مدینہ کے زمانے میں ان کی صحت درست رہتی بیویوں کے لڑکے پیدا ہوتے اور گھوڑیوں کے خوبصورت بچھیرے ہوتے تو کہتے یہ اچھا مذہب ہے اور اس سے مجھے بڑا فائدہ ہوا اور اگر اس کے خلاف ہوتا ‘ یعنی ان کی صحت بگڑ جاتی عورتوں کے لڑکیاں پیدا ہوتیں اور گھوڑیاں حاملہ نہ ہوتیں اور مال کم ہوجاتا تو کہتے جب سے ہم اس مذہب میں داخل ہوئے ہیں ہم کو کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوئی یہ کہہ کر اسلام سے مرتد ہوجاتے اور اسلام سے منہ موڑ لیتے۔ آیت مذخورہ میں علیٰ حرف کا یہی مطلب ہے اور ذیل کی آیت میں اسی کی تشریح فرمائی ہے۔ فان اصابہ خیر ن اطلمان بہ وان اصابتہ فتنۃ ن القلب علی وجہہ خسر الدنیا والاخرۃ ذلک ہو الخسران المبین۔ اب اگر اس کو کوئی دنیوی نفع پہنچ گیا تو اس کی وجہ سے (ظاہری) قرار پا لیا اور اگر اس پر کوئی آزمائشی مصیبت آگئی تو منہ اٹھا کر کفر کی طرف چل دیا دنیا اور آخرت دونوں کھو بیٹھا یہی کھلا ہوا نقصان ہے۔ یعنی اگر اس کو کوئی بھلائی (دنیوی منفعت) پہنچتی تو وہ اللہ کی عبادت اور اسلام پر مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کچھ دکھ پہنچ جاتا ہے اور کوئی تکلیف اور سختی آجاتی ہے تو وہ دین سے پھر کر کفر کی جانب ایڑیوں کے پلٹ پڑتا ہے۔ ابن مردویہ نے بوساطت عطیہ حضرت ابو سعید کی روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا اسلام لانے کے بعد اس کی آنکھیں جاتی رہیں اور مال و اولاد کا بھی نقصان ہوگیا اس نے اسلام سے برا شگون لیا اور خیال کیا کہ یہ ساری مصیبت مجھ پر مسلمان ہونے کی وجہ سے آئی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا (میری بیعت) مجھے واپس کر دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسلام واپس نہیں کیا جاتا۔ کہنے لگا میں نے تو اپنے اس مذہب میں کوئی بھلائی نہیں پائی میری نظر جاتی رہی اور مال بھی جاتا رہا اور بچہ بھی مرگیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے یہودی اسلام لوگوں کا میل صاف کرتا ہے جیسے آگ سے لوہے سونے اور چاندی کا میل صاف ہوتا ہے۔ خسر الدنیا۔۔ یعنی دنیوی مصائب کی وجہ سے دین سے مرتد ہونے والے کی دنیا بھی تباہ ہوگئی مال اور اولاد کا نقصان ہوگیا اور جو امیدیں اس نے باندھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں اور آخرت میں خسران نصیب ہوا کہ سارے اعمال برباد گئے اور ہمیشہ دوزخ میں جلنا پڑے گا یہ ایسا کھلا ہوا خسران ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی گھاٹا نہیں۔
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے

یدعو من دون اللہ مالا یضرہ وما لا ینفعہ ذلک ہو الضلل البعید۔ وہ اللہ کے سوا ایسے کی عبادت کرتا ہے جو نہ اس کو نفع 1 ؂ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ یہ ہی پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ یعنی وہ ایسی چیز کی پوجا کرتا ہے کہ اگر اس کی پوجا نہ کرے تو وہ چیز اس کو ضرر نہیں پہنچا سکتی اور اس کو پوجے تو وہ فائدہ نہیں دے سکتی۔ ایسی چیز کی پوجا ایک بھٹکاوا ہے حق سے دور۔ ضلال کا اس جگہ معنی بھٹکنا ‘ حق کا راستہ نہ ملنا۔ راہ مستقیم سے دور ہوجانا ہے ضل فی التیہ وہ بیابان میں بھٹک گیا ‘ سیدھے راستے سے دور ہوگیا۔
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا دوست برا بھی اور ایسا ہم صحبت بھی برا

یدعو لمن ضرہ اقرب من نفعہ وہ عبادت کرتا ہے ایسے کی جس (کی عبادت) کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب الوقوع ہے۔ یعنی کافر جس کی پوجا کرتا ہے اس کی عبادت کا ضرر اس موہومی فائدے سے زیادہ قریب ہوتا ہے جس کی تمنا کافر کے دل میں ہوتی ہے نفع سے مراد ہے امید سفارش اور بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے کا وسیلہ بنانا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ جو چیز بالکل موجود نہ ہو اس کے بعد متعلق بعد کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں چیز بعید ہے یعنی معدوم ہے اللہ نے فرمایا ہے ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌیہ لوٹنا بعید ہے یعنی ہو نہیں سکتا چونکہ بتوں سے فائدہ حاصل ہونا ممکن نہیں تھا اس لئے ضَرُّہٗ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعَہٖفرمایا مطلب یہ ہے کہ بت پرستی کا ضرر ضرور ہوگا۔ لبئس المولی ولبئس العشیر۔ ایسا کارساز بھی بہت برا اور ایسا رفیق بھی بہت برا۔ مولٰی بمعنی مددگار۔ بعض نے کہا اس جگہ بمعنی معبود ہے۔ عشیر ساتھی ‘ رفیق مراد بت۔ شوہر کو عشیر اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت کا ساتھی اور رفیق معاشرت ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ دوسرا یدعو پہلے یدعو کی تاکید ہے اور لفظی تکرار ہے اور لِمَنْسے دوسرا کلام شروع ہوتا ہے یہ محذوف قسم کا جواب ہے اور من موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر مبتدا ہے اور لَبِءْسَ الْمَوْلٰی۔۔ خبر ہے۔ بعض کے نزدیک لِمَنکا لام یدعو سے متعلق ہے اور یدعو کا معنی ہے وہ گمان رکھتا ہے اس کا زعم ہے۔
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چل رہیں ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتہا الانہر ان اللہ یفعل ما یرید۔ بلاشبہ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے بہشت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی بیشک اللہ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے۔ یعنی اللہ مؤمن کو جزا اور مشرک کو سزا دینا چاہتا ہے اور کوئی اس کے فیصلہ کو روک نہیں سکتا اور اس کی منشاء کو رد نہیں کرسکتا۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے

من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدنیا والاخرۃ جو شخص یہ خیال یا گمان کرتا ہو کہ اللہ اس (نبی محمد ﷺ کی مدد دنیا و آخرت میں ہرگز نہیں کرے گا۔ اس کلام میں کسی قدر اختصار ہے پورا کلام اس طرح تھا ‘ اللہ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی مدد ضرور کرے گا۔ اب جو شخص رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھنے کی وجہ سے یہ خیال کرتا ہے اللہ اپنے رسول کی نصرت نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں۔ فلیمدد بسبب الی السمآء ثم لیقطع فلینظر ہل یذہبن کیدہ ما یغیظ تو اس کو چاہئے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے ‘ پھر اس کے ذریعے سے آسمان تک پہنچ کر اس وحی کا سلسلہ ہی کاٹ دے پھر غور کرے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کی ناگواری کی چیز کو (یعنی وحی کو) موقوف کرسکتی ہے۔ لِیَقْطَعْیعنی اس کو چاہئے کہ خود اپنا گلا گھونٹ لے۔ قَطَعَاس نے اپنا گلا گھونٹ لیا۔ محنتقوہ شخص جس نے اپنی سانس کے آمدورفت کے راستے کاٹ دیئے ہوں ‘ بند کردیئے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ خود اپنے غصہ میں دانت پیستا رہے اور غضب آلود آدمی جو کچھ کرتا ہے اور وہ سب کچھ کر گزرے ‘ یہاں تک کہ مرجائے۔ حاسد سے کہا جاتا ہے اگر تو اس پر راضی نہیں تو اپنا گلا گھونٹ کر خود مرجا۔ آیت میں امر تعجیز کے لئے ہے ابن زید نے کہا آیت میں السمآء سے مراد آسمان دنیا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جو شخص خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد نہیں کرے گا اس کو چاہئے کہ اس سلسلہ کو جڑ سے ہی کاٹ دے اور رسی تان کر آسمان دنیا تک پہنچ جائے اور وہاں سے آنے والی خداوندی نصرت کو روک دے یا یہ مطلب ہے کہ آسمان دنیا تک پہنچ کر وہاں سے وحی کا آنا بند کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی اسد اور بنی غطفان کے حق میں ہوا ‘ ان دونوں قبیلوں کا یہودیوں سے باہم امداد کا معاہدہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا ہمارے لئے مسلمان ہونا ممکن نہیں کیونکہ ہم کو اندیشہ ہے کہ اللہ محمد ﷺ : کی مدد نہیں کرے گا اور مسلمان ہونے کے بعد ہمارا یہودیوں سے معاہدہ ٹوٹ چکا ہوگا وہ ہم کو غلہ دیں گے نہ ٹھہرنے کو جگہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ مجاہد نے کہا نصر کا معنی ہے رزق عرب کہتے ہیں من نصرنی نصرہ اللّٰہ اللہ جو مجھے دے گا اللہ اس کو دے گا (یا جو مجھے دے اللہ اس کو دے) ابو عبیدہ نے کہا عربی میں ارض منصورہ اس زمین کو کہتے ہیں جس پر بارش ہوگئی ہو اس صورت میں ینصرہ کی مفعولی ضمیر مَن کی طرف راجع ہوگی مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص اللہ پر بدگمانی رکھتا اور خیال کرتا ہو کہ مسلمان ہونے کے بعد اللہ اس کو رزق نہیں دے گا وہ اپنے گھر کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر مرجائے یا یہ مطلب ہوگا کہ ایک رسی تان کر اس کے ذریعہ سے قطع مسافت کر کے آسمان دنیا تک پہنچ جائے اور وہاں سے اپنارزق لے آئے۔ فَلْیَنْظُرْ یعنی اپنا گلا گھونٹنے یا قطع مسافت کرنے یا رسی تاننے کا ارادہ کرنے کے بعد اپنے دل میں سوچے۔ ہَلْ یُذْہِبَنَّ کَیْدُہٗ کہ اس کی یہ تدبیر اور یہ عمل اس کے غصے کی آگ کو فرو کرتا ہے یا اللہ کی اس مدد کو جو اللہ کے رسول کو حاصل ہے اور جو اس (حاسد) کو غضبناک بنا رہی ہے دفع کرسکتا ہے۔ حاسد کے عمل کو کید (تدبیر) فرمایا کیونکہ حاسد ‘ کافروں کی کوشش کا آخری تصور بس یہی ہوسکتا ہے۔ سوال انکاری ہے اور مَنْ کَانَ یَظُنُّ ۔۔ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُکی تاکید ہے یعنی جس طرح حاسد کا غصہ اور غضب اللہ کی اس نصرت کو نہیں روک سکتا جو خدا کی طرف سے اللہ کے رسول اور مؤمنوں کو حاصل ہے اسی طرح اس ملعون کا حسد اللہ کے کسی حکم اور ارادے کو نہیں دفع کرسکتا۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اُتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایات دیتا ہے

وکذلک انزلنہ ایت بینت و ان اللہ یہدی من یرید۔ اور ہم نے اس (قرآن) کو اسی طرح اتارا ہے جس میں کھلی کھلی دلیلیں (حق کی) ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ حق کی ہدایت کرتا ہے۔ کَذٰلِکَیعنی جس طرح ہم نے وہ آیات نازل کیں جن سے امکان حشر توحید صداقت رسول اور نصرت رسول کے وعدے کی سچائی ثابت ہو رہی ہے اسی طرح ہم نے ایسی آیات نازل کی ہیں جن کے اندر رسول اللہ ﷺ : کی نبوت اور قرآن کی صداقت کا واضح بیان ہے۔ لفظ آیات بینات سے ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ قرآن کی کچھ آیات محکمات ہیں جن کی مراد کھلی ہوئی ہے اور کچھ متشابہات ہیں جن کی مراد واضح نہیں اور اس جگہ تمام آیات کو بینات (واضحات) کہا گیا یہ بیان کا تضاد ہے لیکن بینات کی جو تفسیر ہم نے کی ہے اس سے یہ شبہ زائل ہوجاتا ہے کیونکہ متشابہات کی مراد گرچہ مخفی ہوتی ہے مگر ان کا معجزہ ہونا اور صداقت رسول پر دلالت کرنا تو واضح ہوتا ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْاس جملہ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو بصورت آیات بینات نازل کیا اور یہ بھی نازل کیا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے۔ (اس صورت میں اَنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ کا اَنْزَلْنٰہُپر عطف ہوگا اور مفعول ہونے کی وجہ سے جملہ محل نصب میں ہوگا) دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے یہ قرآن مصالح عباد کے لئے نازل کیا اور اس لئے نازل کیا کہ اس کے ذریعہ سے اللہ جس کو چاہے ہدایت کر دے یا ہدایت پر قائم رکھے (اس صورت میں اس جملہ کا عطف محذوف لفظ پر ہوگا اور حرف جر محذوف ہوگا اور جملہ محل جر میں ہوگا) ۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک۔ خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے

ان الذین امنوا والذین ہادوا والصبئین والنصری والمجوس والذین اشرکوا ان اللہ یضل بینہم یوم القیمۃ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہودی اور صابی اور عیسائی اور مجوسی اور مسرکین ‘ اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا سے مراد ہیں بت پرست۔ یَفْصِلُ بَیْنَہُمْیعنی حق پرست کو باطل پرست سے الگ کر دے گا حق پرست کی حق پرستی اور باطل پرست کی باطل پرستی ظاہر کر دے گا) یا یہ مراد ہے کہ اللہ ہر ایک کو اس کے مناسب بدلہ دے گا کسی فریق کو جنت میں اور کسی کو دوزخ میں بھجوا دے گا۔ ان اللہ علی کل شی شہید۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ شَہِیْدٌواقف ہے۔ احوال کا نگراں ہے ممکن نہیں کہ اطاعت گزاروں کو نافرمانوں کی طرح یا اہل حق کو باطل پرستوں کی مثل کر دے کیونکہ سب کے ظاہری اور باطنی احوال کا اس کو کامل علم ہے۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو عزت دینے والا نہیں۔ بےشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجروا الدوآب کیا آپ نہیں جانتے کہ جو (ملائکہ) آسمانوں میں ہیں اور جو مؤمن جن و انس ‘ زمین میں ہیں وہ (سب) اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے بھی مَنْکا استعمال اہل عقل کے لئے ہوتا ہے اور اس لئے مَنْ فِی السَّمٰوٰتِسے مراد ہیں صرف ملائکہ اور مَنْ فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں جن و انس۔ اور جن و انس میں سے بھی صرف اہل ایمان مراد ہیں لفظ مَنْاگرچہ عام ہے کافر و مؤمن دونوں کو شامل ہے لیکن آئندہ آیت وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُسے کافروں کو سجدہ کرنے والے جن و انس سے الگ کرلیا گیا اس لئے اس جگہ مَنْ فِی الْاَرْضِسے صرف مؤمن جن و انس مراد ہیں۔ لفظ مَن کا استعمال کبھی بطور عموم بھی ہوتا ہے (اہل عقل اور بےعقل دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن والشَّمْسُ وَالْقَمَروغیرہ کا اس پر عطف کیا گیا ہے اور عطف میں مغایرت (معطوف علیہ سے معطوف کی مغایرت) ہونی عطف کا حقیقی استعمال ہے اس لئے مَن سے مراد صرف اہل عقل ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ مَنْ کا لفظ اہل عقل اور بےعقل دونوں کو شامل ہے یا بےعقل پر اہل عقل کو غالب قرار دے کر لفظ من استعمال کیا۔ اکثر اہل تحقیق کا قول ہے کہ غیر ناطق کے لئے من کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ ہاں اگر ناطق اور غیر ناطق دونوں مراد ہوں تو من کا استعمال ہوجاتا ہے۔ اب اگر لفظ من کے اندر اہل عقل اور بےعقل دونوں کو داخل قرار دیا جائے تو والشمس وغیرہ کا اس پر عطف ایسا ہی ہے جیسے اہمیت کے پیش نظر خاص کا عطف عام پر ہوتا ہے ‘ خصوصیت کے ساتھ چاند و سورج وغیرہ کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ ان کو شہرت حاصل تھی اور سجدہ کرنا ان کی شان سے بعید تھا۔ آیت میں محدثین اور علماء سلف کے نزدیک سجدہ سے مراد ہے طاعت اختیاری کیونکہ جمادات اگرچہ بےجان ہیں لیکن کسی قدر حیات (شعوری) کا حصہ ان کو بھی حاصل ہے اور وہ بھی اپنے اختیار و ارادہ سے اللہ کی طاعت میں سرگرم ہیں اللہ نے (آسمان و زمین کے متعلق) فرمایا قالَتَا اٰتَیْنَا طَاءِعِیْنَپتھروں کے متعلق فرمایا وَاِنَّ مِنْہَا لَمَایَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِایک اور آیت میں آیا ہے ‘ وَاِنْ مِّنْ شَیْ ءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کو پکارتا ہے اے فلاں کیا تیرے اوپر کوئی ایسا شخص گزرا ہے جو اللہ کا ذکر کر رہا ہو۔ رواہ الطبرانی من حدیث ابن مسعود ؓ ۔ بغوی نے لکھا ہے یہ قول اچھا ہے اور اہل سنت کے قول کے موافق ہے۔ وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ العذاب اور بہت سے لوگ بھی اور بہت ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوگیا ہے ‘ دوسرا کثیر پہلے کثیر کی تاکید ہے یا کثرت میں مبالغہ ظاہر کرنے کے لئے لفظ کثیر دوبارہ ذکر کیا ہے۔ اس کثیر سے مراد ہیں کافر ‘ یہ سجدہ کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ مَنْ فِی الْاَرْضِمیں مَنْ عموم کے لئے ہے اور بمعنی مَا ہے اور سجود سے مراد اطاعت تسخیری ہے یعنی تمام ممکنات قدرت کے مسخر ہیں حکم خداوندی سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا ‘ ہر ایک رات مدبرّ مَدبرکی عظمت پر دلالت کر رہی ہے اور کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِمبتدا ہے اس کی خبر محذوف ہے یعنی بہت لوگوں کے لئے اللہ کے نزدیک ثواب ثابت ہے ‘ یوں کہا جائے کہ کثیر من الناس فعل محذوف کا فاعل ہے یعنی بہت سے لوگ اللہ ہی کو سجدۂ اطاعت کرتے ہیں ‘ زمین پر پیشانی رکھتے ہیں ‘ دونوں صورتوں میں کثیر من الناس مستقل جملہ ہوگا اور کَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابدوسرا جملہ ہوگا۔ بعض علماء فقہ کے نزدیک عموم مشترک جائز ہے یعنی ایک لفظ جس کے دو معنی ہوں ایک ہی وقت میں اس لفظ کے دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں پھر ایک معنی کے اعتبار سے اس کی نسبت ایک امر کی طرف کی جاتی ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے دوسرے امر کی طرف۔ مثلاً اسی مقام میں کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِِکا عطف کلام سابق پر ہے اور سجود کے دو معنی ہیں (1) زمین پر پیشانی رکھنا۔ (2) فطری طور پر فرمانبردار اور عاجز ہونا ‘ حکم سے سرتابی نہ کرنا۔ اس جگہ سجود کے دونوں معنی مراد ہیں کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِکی طرف جب سجدے کی نسبت کی گئی تو سجدے سے مراد ہے زمین پر پیشانی رکھنا اور دوسرے ممکنات کی طرف جب سجدے کی اسناد کی گئی تو سجدے سے مراد ہے فطری فرماں برداری اور مسخر حکم ہونا۔ اس کے بعد کَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُمستقل طور پر علیحدہ جملہ ہے یعنی بہت سے لوگ جنہوں نے سجود و اطاعت سے انکار کیا وہ عذاب کے مستحق ہوگئے اور عذاب ان پر ثابت ہوگیا۔ ومن یہن اللہ فمالہ من مکرم اور جس کو خدا ذلیل کر دے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں یعنی اللہ جس کو بد بختی کی ذلت دے اس کو خوش بختی کی کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ ان اللہ یفعل ما یشآء۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔ یعنی ذلت دے یا عزت دے جو کچھ کرے وہ مختار ہے۔ سعادت اور شقاوت دینا اس کی مشیت کے ساتھ مخصوص ہے۔
Ayah 22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ تو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

ہذن خصمن اختمصوا فی ربہم یہ دونوں (مذکورۂ بالا) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے (دین کے) بارے میں اختلاف کیا۔ ہٰذٰنِیعنی یہ دو فریق ہیں ایک فریق مؤمنوں کا دوسرا فریق مذکورۂ بالا پانچوں اقسام کے غیر مسلموں کا ان کا باہم جھگڑا ہے اس بات میں کہ اللہ کا دین کونسا ہے یا اللہ کی ذات وصفات اور احکام کے سلسلہ میں ان کا اختلاف ہے شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت ہٰذٰنِ خَصْمٰنِٰ اخْتَصَمُوْا فِی رَبِّہِمْکا نزول حضرت حمزہ ‘ حضرت عبیدہ ‘ حضرت علی ؓ اور شبیہ اور ولید بن عتبہ کے متعلق ہوا اوّل تینوں حضرات مؤمن تھے اور مؤخر الذکر تینوں اشخاص کافر۔ اس شان نزول کی بنا پر فریق عام مؤمنوں کا نہ ہوگا اور نہ فریق دوئم اقسام مندرجہ آیت کافروں کا۔ بلکہ شان نزول خاص ہے۔ مترجم) بخاری اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا یہ آیت ہمارے متعلق اور بدر کے دن کافروں سے ہمارے مقابلے کے سلسلہ میں نازل ہوئی۔ حاکم نے دوسری سند سے حضرت علی ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو جنگ بدر کے دن باہم مقابل تھے (ایک طرف علی ؓ ‘ حمزہ ؓ ‘ عبیدہ ؓ تھے (دوسری طرف) شیبہ بن ربیعہ ‘ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔ بغوی نے قیس بن عباد کی وساطت سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا قیامت کے دن (کافروں سے) جھگڑا کرنے کے لئے سب سے پہلے میں ہی رحمت (الٰہی) کے سامنے دو زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا انہی لوگوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی جن لوگوں نے بدر کے دن باہم مقابلہ کیا تھا۔ علی حمزہ ‘ عبیدہ ‘ شیبہ بن ربیعہ ‘ عتبہ بن ربیعہ ‘ ولید بن عتبہ انہی کے سلسلہ میں اس آیت کا نزول ہوا۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے بدر کے دن (میدان میں) عتبہ بن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نکل کر آئے اور صف تک پہنچ کر انہوں نے اپنے حریفوں کو میدان میں نکل کر آنے کی دعوت دی ان کے مقابلہ میں عبداللہ بن رواحہ اور تین انصاری جوان عوف ‘ معاذ اور معوذ نکل کر سامنے آئے موخر الذکر تینوں جوان حارث کے بیٹے تھے اور ان کی ماں کا نام عفراء تھا۔ فریق اوّل نے پوچھا تم کون لوگ ہو فریق دویم نے کہا ہم انصاری ہیں اور نسب میں تمہارے ہمسر اور شرفاء ہیں ‘ فریق اوّل کے منادی نے پکارا محمد ﷺ ہمارے مقابلے کے لئے ہمارے ہمسروں کو بھیجو جو ہماری قوم میں سے ہوں (یعنی قریشی ہوں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عبیدہ بن حارث اٹھو حمزہ بن عبدالمطلب اٹھو ‘ علی بن ابی طالب اٹھو (یعنی تم تینوں میدان میں جاؤ) حسب الحکم تینوں حضرات نکل کر میدان میں پہنچے۔ فریق اوّل نے پوچھا تم کون لوگ ہو ‘ فریق دوئم نے اپنے نام بتائے۔ فریق اوّل نے کہا ہاں تم ہمسر اور شرفاء ہو۔ عبیدہ سب سے زیادہ عمر رسیدہ تھے انہوں نے عتبہ کو للکارا اور حمزہ شیبہ کے مقابلہ پر نکلے اور علی ولید بن عتبہ کے مقابلہ میں پہنچے ‘ حمزہ نے تو دم ہی نہیں لینے دیا۔ فوراً ہی شیبہ کو قتل کردیا اور علی نے ولید کا کام تمام کردیا۔ البتہ عبیدہ اور عتبہ کے درمیان چوٹیں رہیں دونوں جمے رہے یہ دیکھ کر حمزہ اور علی اپنی تلواریں لے کر عتبہ پر ٹوٹ پڑے اور قتل کردیا اور عبیدہ کو اٹھا کر اپنے ساتھیوں کے پاس لے آئے ‘ حضرت عبیدہ کی ٹانگ کٹ گئی تھی اور ٹانگ کی مینگ بہ رہی تھی۔ جب یہ حضرات حضرت عبیدہ کو لے کر خدمت گرامی میں پہنچے تو عبیدہ نے کہا کیا میں شہید نہیں ہوں گا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ عبیدہ نے کہا اگر ابو طالب زندہ ہوتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ ان کے ان شعروں کا میں ہی زیادہ مستحق ہوں۔ ابو طالب نے کہا تھا ؂ کَذَبتم وبیت اللّٰہ یُبْزٰی محمّدٌ وَلَمَّا لظاعن دونْہٗ ونُناصِل وَنَسْلِمُہ حَتّٰی نُصرّع حَولہٗ وَنذہل عَنْ ابناء نا والحلاءِلٰ کعبہ کی قسم تم جھوٹے ہو کہ محمد کی طرف سے جب تک ہم پورے طور پر نیزہ بازی اور تیز اندازی نہ کرلیں گے محمد کو تم مغلوب نہ کرسکو گے ہم اس وقت تک ان کو (تمہارے) سپرد نہیں کرسکتے جب تک اپنے اہل و عیال کی طرف سے بےپرواہ ہو کر ان کے گرد ہماری لاشیں نہ پڑی ہوں۔ ابن جریر نے بروایت عوفی حضرت ابن عباس ؓ : کا قول اور ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے اور اہل کتاب کے متعلق نازل ہوئی اہل کتاب نے کہا تھا ہم تمہارے مقابلے میں اللہ سے زیادہ قرب رکھتے ہیں ہماری کتاب تمہاری کتاب سے اور ہمارا نبی تمہارے نبی سے مقدم ہے مسلمانوں نے کہا ہم قرب الٰہی کے زیادہ مستحق ہیں نبی محمد ﷺ پر اور تمہارے نبی پر اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور تم ہمارے نبی کو بھی پہچانتے ہو اور ہماری کتاب کو بھی اور محض حسد کی وجہ سے انکار کرتے ہو۔ فریقین کا اللہ کے معاملہ میں یہی جھگڑا تھا۔ مجاہد اور عطا بن رباح نے کہا ہٰذٰان خصمن سے تمام مسلمان مراد ہیں (یہ دو فریق ہیں) ۔ بعض علماء نے کہا آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا۔۔ میں چھ مذاہب کا تذکرہ کیا گیا ہے ایک مذہب والوں کو جنتی اور پانچ مذاہب والوں کو دوزخی قرار دیا گیا ہے یہی دو فریق ہیں ایک مؤمنوں کا اور دوسرا باقی پانچ مذاہب والوں کا (ایمان و اسلام ایک دین ہے اور) کفر (کسی قسم کا ہو) ایک ملت ہے۔ مؤخر الذکر دونوں تفسیری قولوں میں عموم الفاظ کا لحاظ کیا گیا ہے ‘ شان نزول کی خصوصیت کا اعتبار نہیں کیا گیا اور (تفسیری لحاظ سے) یہ بات ہے بھی صحیح۔ عموم الفاظ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ خصوصیت قصہ کے اندر حکم کو محصور نہیں کیا جاتا۔ عکرمہ نے کہا باہم جھگڑا کرنے والی دو چیزیں جنت اور دوزخ ہیں شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ کا باہم جھگڑا ہوا دوزخ نے کہا (میں اعلیٰ ہوں) مجھے تکبر کرنے والوں اور مغروروں کے لئے پسند کیا گیا ہے ‘ جنت نے کہا میری کیا حالت ہے میرے اندر تو سوائے کمزوروں ‘ گرے پڑے لوگوں اور مسکینوں کے اور کوئی بھی داخل نہیں ہوگا۔ اللہ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں اپنے جس بندے پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا (یعنی میرے رحم کی مجسم شکل تو ہے میں جس پر رحم کرنا چاہوں گا اس کو اپنی رحمت یعنی جنت عطا کردوں گا) اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ سے میں جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا تم دونوں میں سے ہر ایک کو ضرور بھرا جائے گا دوزخ تو اس وقت تک نہ بھرے گی جب اللہ اس میں اپنا قدم نہ رکھ دے گا۔ جب اللہ اس کے اندر اپنا قدم رکھ دے گا تو دوزخ بھر جائے گی اور کہے گی بس بس اور (اس کے اجزاء) باہم سمٹ جائیں گے۔ اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا (کہ دوزخ کو بھرنے کے لئے بےقصور لوگوں کو بھی اس میں ڈال دے) اور جنت (کو بھرنے) کے لئے اللہ دوسری مخلوق پیدا کر دے گا۔ فالذین کفروا قطعت لہم ثیاب من نار سو جو لوگ کافر تھے ان (کے پہننے) کے لئے (قیامت کے دن) آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے۔ یعنی کافروں کے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے آگ کے کپڑے باندازۂ جثہ و درجہ دیئے جائیں گے اللہ نے فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ جس فیصلہ کا اس آیت میں اظہار کیا گیا ہے وہ یہی فیصلہ ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا پگھلائے ہوئے تانبے کے کپڑے ہوں گے کوئی دھات بھی ایسی نہیں کہ تپانے کے بعد اس لباس سے زیادہ گرم ہو چونکہ لباس کی طرح پگھلا ہوا تانبا کافروں کے جسم کو محیط ہوگا اس لئے اس کو لباس قرار دیا۔ بعض علماء نے کہا دوزخیوں کو آتش پارے (بطور لباس) پہنائے جائیں گے امام احمد نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت جویریہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دنیا میں ریشم پہنا قیامت کے دن اللہ اس کو آگ کا لباس پہنائے گا۔ بزار ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت انس ؓ : کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے آگ کا جوڑا (پورا لباس) ابلیس کو پہنایا جائے گا وہ اس کو اپنی دونوں بھوؤں پر رکھے گا پھر اس کو گھسیٹتا جائے گا اور ابلیس کے پیچھے اس کی ذریات آگ کا لباس کھینچتی چلے گی ابلیس بھی ہلاکت کو پکارے گا اور اس کی ذریات بھی آخر دوزخ پر جا کر یہ سب کھڑے ہوں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا ایک ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ کثیر ہلاکتوں کو پکارو۔ ابونعیم نے وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ دوزخیوں کو لباس پہنایا جائے گا (لیکن اس لباس سے تو) ان کا ننگا رہنا اچھا ہوگا اور ان کو زندگی دی جائے گی (لیکن اس زندگی سے تو) موت ان کے لئے بہتر ہوگی۔ حضرت ابومالک اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نوحہ کرنے والی نے اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرلی ہوگی تو قیامت کے دن اس کا حشر اس حالت میں ہوگا کہ قطران (صنوبر وغیرہ کا روغنی سیال) کا کرتہ اور جرب (تلوار کا زنگ) کی قمیص اس کے بدن پر ہوگی۔ ابن ماجہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے۔ نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کرے گی تو (قیامت کے دن) اس کے کپڑے قطران کے ہوں گے اور کرتہ آگ کے شعلوں کا تراشا (یعنی بدن کے مطابق بنایا) جائے گا۔ یصب من فوق روسہم الحمیم۔ ان کے سروں کے اوپر انتہائی گرم پانی ڈالاجائے گا۔ حمیم انتہائی گرم پانی۔