22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 22:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈور بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہے

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اسے بھول جائے گی جسے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی، اور اے مخاطب تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ نشہ کی حالت میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ کا عذاب سخت چیز ہے۔

1۔ سعید بن منصور واحمد وبد بن حمید والترمذی وصححہ والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصحھہ وبن امردویہ من طریق عن الحسن وغیرہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت آیت ” یا ایہا الناس اتقوا ربکم، ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم “ الی قولہ ” ولکن عذاب اللہ شدید “ تک نازل ہوئی۔ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی تو آپ سفر میں تھے۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو وہ دن کون سا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے یہں۔ پھر آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے (اپنی اولاد میں سے) دوزخ کے لیے حصہ بھیجو۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔ اے میرے رب دوزخ کا کتنا حصہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ کئے لیے اور ایک جنت کے لیے (یہ سن کر) صحابہ ؓ نے رونا شروع کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی نزدیکی چاہو اور سیدھی چال چلو۔ کبھی نبوت نہیں آئی اس سے پہلے مگر زمانہ جالیت تھا۔ پس سب سے پہلے جالیت سے یہ تعداد لی جائے گی۔ اگر دوزخ کہ یہ تعداد پوری ہوگئی تو خیر ورنہ منافقین میں سے پوری کی جائے گی۔ (کافر کے مقابلے میں) تمہاری مثل اس طرح ہوگی جیسے جانور کے پاؤں میں سے دوسرے رنگ کا نشان یا اونٹ کے پہلو میں کوئی نشان پھر فرمایا بلاشبہ میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی ہو گے تو صحابہ ؓ نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے فرمایا میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی ہوگے۔ تو صحابہ ؓ نے اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا آدھا ہوگے۔ پھر صحابہ ؓ نے اللہ اکبر کہا۔ راوی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ نے دوتہائی فرمایا یا نہیں۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے انسان دوزخ میں ہوں گے 2۔ التمذی وصححہ وابن جریر وابن مردویہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ چلنے میں صحابہ ؓ سے علیحدہ ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز سے یہ دو آیات پڑھیں۔ آیت، یا ایہا الناس اتقوا ربکم۔ ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم، سے لے کر آیت عذاب اللہ شدید تک۔ جب آپ کے صحابہ ؓ نے اس کو سنا تو اونٹنیوں کو تیز کرنا چاہا اور انہوں نے پہچان لیا کہ آپ کچھ ارشاد فرمانے والے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو وہ دن کون سا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے (اپنی اولاد سے) دوزخ کے لیے حصہ بھیجو۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔ اے میرے رب ! دوزخ کا کتنا حصہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ ہر ہزر میں نو سو ننانوے دوزخ کے لیے اور ایک جنت کے لیے۔ صحابہ ؓ انتہائی پریشان ہوئے یہاں تک کہ کوئی ہنسی ان سے ظاہر نہ ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کا یہ حال دیکھا تو فرمایا عمل کرتے رہوا اور خوش ہوجاؤ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ بلاشبہ تم البتہ دو مخلوقوں کے ساتھ ہو اور وہ دونوں مخلوقیں ہر مخلوق سے زیادہ ہیں ( اور وہ ہیں) یاجوج اور ماجوج اور جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ا اور ابلیس کی اولاد میں سے فوت ہوگئے ہیں۔ (یہ سن کر) صحابہ کرام ؓ سے وہ کیفیت جاتی رہی۔ پھر آپ نے فرمایا نیک عمل کرتے رہو اور خوش ہوجاؤ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ تم لوگوں میں اس طرح ہو جیسے کوئی نشان اونٹ کے پہلو میں یا کسی اور جانور کے بازو پر کسی دوسرے رنگ کا داغ۔ 3۔ ابن جریر نے حسن سے روایت کیا ہے مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ عسرہ سے واپس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ ؓ بھی تھے۔ جبکہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ پھر آپ نے یہ آیت، پڑھی آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم پھر اسی طرح ذکر فرمایا مگر اس میں زیادہ فرمایا کہ ہر دو رسولوں کے درمیان جاہلیت کا زمانہ ہوتا ہے۔ اور وہ دوزخ والے ہیں اور بلا شبہ تم دو مخلوقوں کے درمیان ہو وہ زمین والوں کی ہر مخلوق سے زیادہ ہیں۔ اور وہ یاجوج ماجوج ہیں اور وہ دوزخ والوں میں سے ہیں۔ (اگر دوزخ کی گنتی ان سے پوری نہ ہوئی) تو منافقین سے پوری کی جائے گی۔ 4۔ عبد بن حمید وعبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان وابن حبان والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم سے والکن عذاب اللہ شدید تک نبی ﷺ پر ناز ہوئی اور آپ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو بلند ٓواز سے پڑھا یہاں تک کہ آپ کی طرف آپ کے صحابہ ؓ لوٹ آئے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہوگا ؟ پھر فرمایا یہ وہ دن ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے۔ اے آدم ! کھڑے ہوجائیے اور ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ کے لیے بھیجو صحابہ ؓ پر یہ بات بھاری گزری تو نبی ﷺ نے فرمایا سیدھی چال چلو اور اللہ کی نزدیکی چاہو اور خوش ہوجاؤ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم لوگوں میں اس طرح ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں کوئی نشان یا گھوڑے کے بازو میں کوئی دوسرے رنگ کا نشان اور تمہارے ساتھ دو او 3 ر مخلوقیں جو ہر چیز سے زیادہ ہیں۔ وہ یاجوج ماجوج اور انسانوں اور جنات کے کافروں میں سے ہیں جو ہلاک ہوچکے ہیں۔ 5۔ البزار وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور آپ ﷺ کے اصحاب آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہوگا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے۔ اے آدم کھڑے ہوجائیے اور دوزخ کا حصہ بھیجئے آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے اے میرے رب ! وہ کتنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ کے لیے بھیجو اور ایک جنت کی طرف صحابہ ؓ پر یہ بات بھاری گزری تو نبی ﷺ نے فرمایا میں امید رکھتا ہو کہ تم لوگ جنت والوں میں سے آدھے ہوگے پھر فرمایا نیک عمل کرتے رہو اور خوش ہوجاؤ کہ تم دو مخلوقوں کے درمیان ہوگے اور وہ دونوں ہر مخلوق سے زیادہ ہیں اور وہ یہ ہیں یاجوج ماجوج۔ بلاشبہ تم دوسری امتوں میں اس طرح ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں کوئی نشان یا جانور کے بازو پر نشان اور بلاشبہ میری امت ہزار اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ قیامت کے دن کا ہولناک منظر 6۔ ابن مردویہ من طریق الکلی اور ابی صالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے غزوہ بنی المصطلق کے سفر میں۔ اچانک سفر میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ سے لے کر ولکن عذاب اللہ شدید۔ تک۔ جب آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی تو آپ اونتنی پر کھڑے ہوگئے۔ پھر آپ نے بلند آواز سے یہ آیت اپنے اصحاب پر پڑھیں پھر ان سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کیہ کون سا دن ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے اے آدم (علیہ السلام) ! اپنی اولد میں سے دوزخ کا حصپ بھیج دو ۔ وہ عرض کرینگے اے میرے رب ! وہ کتنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے آگ کی طرف اور ایک جنت کی طرف بھیجو۔ مسلمان یہ سن کر سخت رونے لگے اور ان کی حالت بہ تپریشان ہوگئی۔ پھر آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے نہیں ہو تم امتوں میں مگر ایک سفید بال کی طرح کالی بکری میں اور میں امید رکھتا ہو کہ تم جن والوں میں سے آدھے ہوگے۔ بلکہ ماید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے دو تہائی ہوگے۔ 7۔ ابن مردویہ نے ابوموسی ؓ نے فرمایا اس دوران کے رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے اور پھر اسی طرح حدیث کو بیان فرمایا۔ 8۔ احمد و بخاری ومسلم وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے اے آدم ! آگ کا حصہ بھیج دو ۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے اے میرے رب ! دوزخ کا حصہ کتنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہر ہزار میں سے نو سو نانوے۔ اس بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ آیت وتضع کل ذات حمل حملھا وتری الناس سکری وما ہم بسکٰری ولکن عذاب اللہ شدید۔ یہ بات لوگوں پر (یعنی صحابہ کرام ؓ پر بہت بھاری گزری۔ اور خدمت عالی میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے اور ایک باقی بچے گا۔ ہم میں سے وہ ایک کون ہواگ ؟ آپ نے فرمایا یا جوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہوگا اور تم میں سے ایک ہوگا۔ تم امتوں میں اس طرح ہوگے جیسے ایک سیاہ بال سفید بیل میں یا فرمایا سفید بال سیاہ بیل میں۔ 9۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علقمہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آیت ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ یعنی زلزلہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ 10۔ ابن جریر وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے، آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم۔ سے لے کر، ولکن عذاب اللہ شدید۔ تک تلاوت کیا اور فرمایا یہ زلزلہ دنیا میں ہوگا قیامت کی نشانیوں میں سے۔ 11۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عبدی بن عمیر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ چیزیں دنیا میں ہوں گی قیامت کے دن سے پہلے۔ 12۔ ابن جریر نے ابن زید ؓ سے آیت ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کا زلزلہ قیامت کی نشانی ہے۔ 13۔ ابن جریر نے ابن زید ؓ سے آیت ان زلزلۃ اساعۃ شیء عظیم کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کا زلزلہ قیامت کے دن شروع ہوگا اور فرمایا کہ یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت۔ کہ ہر دودھ پلانے والی چھوڑ دے گی اپنے بچے کو اس مصیبت کی وجہ سے جو اس کو پہنچے گی۔ 14۔ ابن ابی حاتم نے سفیان رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ آیت یوم ترونہا یعنی عورت اپنے بچے سے غافل ہوجائے گی۔ 15۔ ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ آیت تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت سے مراد ہے کہ عورت بغیر دودھ چھڑائے اپنے بچوں سے غافل ہوجائے گی۔ آیت وتضع کل ذات حمل حملھا سے مراد ہے کہ حاملہ عورتیں اپنے تمام بچوں کو ڈال دیں گی جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہوگا آیت وتری الناس سکٰریٰ ، یعنی خوف کی وجہ سے وہ نشے میں معلوم ہوں گے۔ آیت وماہم بسکاری، حالانکہ وہ شراب پینے سے نشے میں نہ ہوں گے۔ بلکہ عذاب الٰہی شدید ہوگا اس کی ہیبت سے لوگ مدہوش ہوں گے۔ 16۔ الطبرانی والحاکم وابن مردویہ وابوالحسن احمد بن یزید الحلوانی فی کتاب الحروب عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا۔ آیت وتری الناس سکٰریٰ وما ھم بسکٰریٰ ۔ 17۔ ابن مردویہ وابو الحسن الحلوانی والھافظ عبدالغنی بن سعید نے فی ایضاع الاشکال ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت وتری الناس سکٰری وما ہم بسکٰری پڑھا اعمش نے فرمایا یہ ہماری قراءت ہے۔ 18۔ سعید بن منصور نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت وتری الناس سکریٰ وما ہم بسکرٰی۔ 19۔ سعید بن منصور نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت کو اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے ابونہیک (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت وتری الناس پڑتے تھے۔ تری تحسب کے معنی ہے فرماتے ہیں اگر الناس کو منصوب پڑھیں تو سکری دوسرا مفعول ہے لیکن تحسب کے معنی ہے۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع سے آیت وتری الناس سکری، کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قیامت کے وقت ہوگا۔ کہ بڑا نشہ میں مست نظر آئے گا اور بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور حاملہ عورتیں اپنے حمل کو گرادیں گی۔ 22۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت وما ہم بسکری، یعنی وہ شراب سے نشہ نہیں ہوگا۔ (بلکہ خوف کی وجہ سے نشہ میں مست نظر آئیں گے) واللہ اعلم بالصواب
Ayahs 22:3–4

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے الہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کا اتباع کرتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے میں یہ بات لکھی جا چکی ہے کہ جو بھی کوئی شخص اس سے دوستی کرے گا تو وہ اسے گمراہ کردے گا اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے راستہ پر ڈال دے گا۔

1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) وسلم روایت کیا کہ یہ آیت آیت ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم، نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریج وابن المنذر نے ابن جریج ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتبع کل شیطن مرید سے مراد ہے کہ اللہ کی نافرمانی پر سرکشی کرنا۔ 4۔ قتادہ (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت کتب علیہ سے مراد ہے کہ شیطان پر لکھ دیا گیا۔ 5۔ مجاہد (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت کتب علیہ سے مراد ہے کہ شیطان پر لکھ دیا گیا۔ آیت انہ من تولا یعنی جس نے اس کی اتباع کی۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تم اٹھائے جانے کی طرف سے شک میں ہو تو بلاشبہ ہم نے مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھرے سے پھر بوٹی بنی ہوئی صورت سے اور جو صورت ابھی نہ بنی ہو اس سے تمہی پیدا کیا تاکہ ہم تمہیں بتائیں اور ہم اپنی مشیت کے موافق مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہراتے ہیں پھر تمہی اس ھال میں نکالتے ہیں کہ تم بچہ کی صورت میں ہوتے ہو، پھر تاکہ تم اپنی قوتوں کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو اٹھالیے جاتے ہیں اور اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو نکمی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ تاکہ علم کے بعد کچھ بھی نہ جانیں۔ اور اے مخاطب تو زمین کو بھی سوکھی پڑی ہوئی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور وہ بڑھ جاتی ہے اور ہر طرح کے خوشنما جوڑے اگا دیتی ہے

1۔ احمد والبکاری ومسل موابوداوئد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے بیان فرمایا۔ اور آپ ﷺ سچے ہیں اور آپ ﷺ سے سچ کہا گیا کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس طرح سے ہے کہ پہلے ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے اتنی مدت جمے ہوئے خون کی صورت میں رکھا جاتا ہے پھر اتنی مدت گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رکھا جاتا ہے پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے۔ اور اس کو چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ وہ فرتہ اس کا رزق اس کی عمر اور بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھتا ہے۔ پر قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ بلاشبہ تم میں سے کوئی ایک اہل جنت کے عمل جیسا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ تو اس پر لکھا ہوا سبقت کرجاتا ہے۔ تو وہ دوزخ والے عمل کرنے لگتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے۔ 2۔ ابن عباس ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نطفہ چالیس دن رحم میں اپنے حال پر رہتا ہے۔ جب چالیس دن گزر جاتے ہیں تو جما ہوا خون بن جاتا ہے۔ پھر اسی طرح گوشت کا لوتھڑا بن جاتا جاتا ہے۔ پھر اسی طرح اس کی ہڈیاں بن جاتی ہیں۔ جب (اللہ تعالیٰ ) اس کی پیدائش کو پورا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! کیا مذکر ہوگا یا مؤنث، کیا بدبخت ہوگا یا نیک بخت ہوگا۔ یا چھوٹا ہوگا یا لمبا ہوگا۔ ناقص ہوگا یا مکمل ہوگا۔ اس کی روزی اس کی عمر کیا ہوگی۔ تندرست ہوگا یا بیمار ہوگا۔ تو یہ ساری باتیں لکھ دی جاتی ہیں۔ 3۔ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نطفہ جب رحم میں قرار پکڑ جائے تو ارحام پر متعین فرشتہ اس کو اپنی ہتھیلی میں لے لیتا ہے اور پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ مخلقہ (یعنی مکمل پیدائش والا) یا غیر مخلقہ (یعنی نامکمل پیدائش والا) ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ فرمادیں کہ یہ غیر مخلقہ ہے تو رحم اس کو خون کی صورت پھینک دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کو مخلقہ فرمادیں تو فرشتہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہوگا یا مونث۔ بدبخت ہوگا یا نیک بخت، اس کی عمر کیا ہوگی۔ اس کا عمل کیا ہوگا۔ اس کا رزق کتنا ہوگا اور کسی زمین میں مرے گا۔ پھر نطفہ سے کہا جاتا ہے تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے اللہ۔ پھر کہا جاتا ہے تیرا رزاق کون ہے وہ کہتا ہے اللہ۔ پھر فرشتہ سے کہا جاتا ہے کہ لوح محفوظ کی طرف جاؤ بلاشبہ تو عنقریب اس میں اس نطفہ کا قصہ پائے گا۔ راوی نے فرمایا کہ پھر وہ بچہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اپنی مدت میں زندہ رہتا ہے اپنے رزق میں سے کھاتا ہے اور اسی تقدیر کے مطابق چلتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کی عمر پوری ہوجاتی ہے تو مرجاتا ہے اور اسی جگہ میں دفن ہوجاتا ہے۔ (جہاں کی مٹی سے پیدا کیا گیا ) ۔ 4۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب نطفہ رحم میں قرار پکڑ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں۔ وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! مخلقہ (یعنی مکمل پیدائش والا) یا غیر مخلقہ (یعنی نامکمل پیدائش والا) ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ غیر مخلقہ فرماتے ہیں رحم اسے خون کی شکل میں (باہر) پھینک دیتا ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ مخلقہ قرار دیتے ہیں تو فرشتہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! اس نطفہ کی کیا صفت ہوگی۔ یہ مذکر ہوگا یا مونث ہوگا ؟ اس کا رزق کیا ہوگا۔ اس کی عمر کتنی ہوگی۔ کیا یہ بد بخت ہوگا۔ یا نیک بخت ہوگا۔ اس سے کہا جاتا ہے ام الکتاب (یعنی لوح محفوظ) کی طرف جا۔ اس میں سے نقل کرلے اس نطفہ کی صفت کو۔ فرشتہ جاتا ہے اور اس میں سے نقل کرلیتا ہے بس وہ آخری مرحلہ تک اس کے ساتھ رہتا ہے۔ پانچ باتیں ماں کے پیٹ میں لکھدی جاتی ہیں 5۔ احمد ولبکاری ومسلم والیہقی نے ” الاسماء والصفات “ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ ہر رحم کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر فرماتے ہیں۔ وہ پوچھتا ہے اے میرے رب یہ نطفہ رہے گا یا جما ہوا خون یا گوشت کی بوٹی (بنے گا یا نہیں بنے گا) جب اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمالیتے ہیں تو فرشتہ عرض کرتا ہے اے میرے رب ! یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت ہوگا۔ مذکر ہوگا یا مونث ہوگا۔ رزق کیا ہوگا۔ عمر کتنی ہوگی۔ بس یہ سب چیزیں فرشتہ اس کے ماں کے پیٹ میں لکھ دیتا ہے۔ 6۔ احمد ومسلم والبیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نطفہ رحم میں چالیس راتیں ٹھہرتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں جب جب نطفہ بیالیس راتیں گزار لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں وہ اس کی صورت بناتا ہے اور اس کے کان بناتا ہے اور اس کی آنکھیں بناتا ہے اور اس کی کھال اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے مذکر ہوگا یا مونث تو تیرا رب فیصلہ فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور فرشتہ اسے لکھ لیتا ہے۔ پھر پوچھتا ہے اے میرے رب ! اس کی عمر کتنی ہوگی۔ تو تیرا رب فرماتا ہے جو چاہتا ہے۔ اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے۔ پھر پوچھتا ہے اے میرے رب اس کا رزق کتنا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو چاہتے ہیں۔ فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ نکال دیتا ہے اعمال نامے کو اپنا ہاتھ میں۔ پھر اس میں نہ زیادتی ہوتی ہے اور نہ کمی ہوتی ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ کہ فرشتہ داخل ہوتا ہے نطفہ پر رحم میں اس کے قرار پکڑنے کے بعد چالیس یا پینتالیس راتوں تک۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔ تو وہ ان کو لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ مرد ہوگا یا عورت ہوگی۔ تو وہ اس کو بھی لکھ لیتا ہے۔ پھر فرشتہ اس کا عمل اور اس کا اثر اور اس کی عمر اور اسکا رزق لکھ دیتا ہے۔ پھر صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ نہ اس میں زیادتی کی جاتی ہے اور نہ کمی کی جاتی ہے۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے وصححہ ابن عباس ؓ سے روایت کہ مخلقہ وہ ہوتا ہے جو زندہ ہوتا ہے اور ” غیر مخلقہ “ وہ ہوتا ہے جو (ادھورا ‘ گر جاتا ہے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ” العلقہ “ سے مراد ہے خون اور ” المضغۃ “ سے مراد ہے گوشت اور ” المخلقہ “ سے مراد ہے جس کی تخلیق مکمل ہوگئی ہو ” وغیر مخلقہ “ سے مراد ہے جس کی تخلیق مکمل نہ ہو۔ 9۔ عبدالرزاق عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” مخلقۃ وغیر مخلقۃ، میں مخلق سے مراد ہے مکمل اور غیر مخلقہ سے مراد ہے نامکمل۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابوالعالیہ ؓ سے روایت کیا کہ ” غیر مخلقہ “ سے مراد ہے (ادھورے بچے کا) گرجانا۔ 11۔ عبد بن حمدی وابن جریر نے شعبی ؓ سے روایت کیا جب بچہ چوتھی تخلیق (کے مرحلہ) میں داخل ہوجائے تو اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور اس کو مخلقہ کہتے ہیں اور جب اس سے پہلے ہوتا ہے تو وہ غیر مخلقہ ہے۔ 12۔ عبد بن حمید وابن جریر و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ ” مخلقہ وغیر مخلقہ “ میں مخلقہ سے مراد ہے جس کی پیدائش مکمل ہو اور غیر مخلقہ سے مراد ہے جس کی پیدائش مکمل نہ ہو۔ آیت ونقر فی الارحام مانشاء الی اجل مسمی، سے مراد ہے پوری مدت۔ 13۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے، آیت ونقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بچہ ہے جو پورا پیدا کیا جاتا ہے۔ وہ ادھورا بچہ نہیں ہوتا۔ 15۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت لنبین لکم یعنی بلا شبہ تم بھی اسی طرح ماؤں کے پیٹوں میں تھے۔ 16۔ ابن جریر نے ابن جریج ؓ سے روایت کیا۔ کہ آیت وتری الارض ھامدۃ میں ھامدۃ اس زمین کو کہتے ہیں جس میں کوئی نبات نہ ہو۔ 17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتری الارض ہامدۃ، یعنی ایسی زمین جو خش اور قحط زدہ ہو، آیت فاذا انزلنا علیہا الماء اہتزت وربت یعنی جب ہم اس کی شوریل اور اونچی زمین میں رحمت کا پانی نازل کرتے ہیں۔ آیت وانبتت من کل زوج بہیج۔ تو خوش نما جوڑے اگاتی ہے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت زوج بہیج کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے خوبصورت
Ayahs 22:6–7

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ اللہ حق ہے اور وہ مردوں کو زندہ فرماتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اور بلاشبہ اللہ ان کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں

1۔ عبد بن حمید و عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا جو شخص یہ جانتا ہے کہ بلا شبہ اللہ عز وجل سچے ہیں۔ اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ اٹھائیں گے ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 2۔ خطیب وابن عساکر نے عائشہ ؓ سے اور انہوں نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب آپ صبح کی نماز پڑھتے تو نئے دن اور کاتب اور موجود آدمی کو خوش آمدید کہتے فرماتے تم دونوں لکھو بسم اللہ الرحمن، اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد الرسول اللہ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ دین ایسے ہی ہے جیسے اس کی تعریف کی گئی۔ اور کتاب کی وہی شان ہے ج وبیان کی گئی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ اٹھائیں گے ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں۔ 3۔ حاکم نے اپنی تاریخ میں انس ؓ سے مرفوعاً روایت کیا کہ جو ہر دن ان چار چیزوں کی گواہی دے اللہ تعالیٰ اس سے برائی کو دور کردے گا۔ ” اشہد ان الہ ہو الحق المبین “ میں گواہی دیتا ہوں کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ وہی حق مبین ہے۔ انہ یحییٰ ویمیت وانہ علی کل شیء قدیر اور وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ ” وان الساعۃ اٰتیۃ لا ریب فیہا “ اور بلا شبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ” وان اللہ یبعث من فی القبور “ اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ اٹھائیں گے ان کو جو قبروں میں ہیں۔
Ayahs 22:8–10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی ایسی کتاب کے جو روشنی دکھانے والی ہو اللہ کی ذات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

یہ ایسا شخص ہے جو گردن کو موڑ کر چلا جاتا ہے تاکہ اللہ کے راستہ سے ہٹا کر لوگوں کو گمراہ کرے، اس کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور ہم اسے قیامت کے دن جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا، اور بلا شبہ بات یہ ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر۔ یعنی ان ساری چیزوں سے مراد ایک ہی ہے کیونکہ کسی چیز کو زیادہ کہا جاتا ہے اگرچہ وہ ایک ہوتی ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم آیت ثانی عطفہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اعراض کرنے والا ہے تکبر کی وجہ سے اور وہ صرف دیکھتا ہے ایک جانب میں۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ کے بارے میں فرمایا کہ اپنے سر کو ٹیڑھا کرتے ہوئے منہ موڑتے ہوئے اعراض کرتے ہوئے وہ ارادہ نہیں کرتا سننے کا جو اس کو کہا گیا۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ یعنی وہ شخص جو اپنی گردن کو ٹیڑھا کرتا ہے۔ 5۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ سے مراد ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتا ہے۔ آیت لہ فی الدنیاخزی اس سے مراد بدر کے دن قتل ہے۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت ثانی عطفہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ نصر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ 7۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ثانی عطفہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی بنو عبدالدار میں سے تھا میں نے پوچھا شیبہ تھا فرمایا نہیں (اور نہیں) 8۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ سے مراد ہے کہ وہ میرے ذکر سے اعراض کرتا ہے۔ 9: ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ سے مراد ہے کہ وہ اپنے دل میں تکبر کرنے والا ہے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان میں سے (ہر) ایک کو دن میں ستر ہزار مرتبہ جلایا جائے گا۔
Ayahs 22:11–14

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جیسے کوئی شخص کنارہ پر ہو پھر اگر اس کو کوئی بھلائی پہنچ گئی تو اس کی وجہ سے مطمئن ہوگیا اور اگر کچھ آزمائش آگئی تو اپنے چہرہ کے بل پلٹ گیا وہ دنیا اور آخرت کے اعتبار سے تباہ ہوگیا۔ یہ کھلی ہوئی تباہی ہے۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ شخص اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا ہے جو اسے نہ ضرر دے اور نہ نفع دے۔ یہ دور والی گمراہی ہے۔

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ اسے پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے واقعہ وہ برا دوست ہے اور برا رفیق ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بلاشبہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ بلا شبہ اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے

۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یعبد الہ علی حرف، کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی مدینہ منورہ میں آتا تھا۔ اگر اس کی بیوی بچہ جنتی اور اس کی گھوڑی کے بچہ پیدا ہوتا تھا۔ تو کہتا کہ یہ دین صالح ہے۔ اور اگر اس کی بیوی بچی نہ جنتی اور اس کی گھوڑی بچہ نہ دیتی تو کہتا کہ یہ دین برا ہے۔ ایمان پختہ اور مضبوط ہونا ضروری ہے 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوجاتے تھے۔ جب وہ اپنے شہروں کو لوٹتے اور اس سال خوب بارش ہوتی خوب سرسبزی ہوتی اور خوب بچے ہوتے تو کہتے کہ ہمارا دین اچھا ہے تو اس (دین) کے ساتھ جمے رہتے۔ اور اگر خشک سالی ہوتی اور برے بچے پیدا ہوتے اور بارش ہوتی تو کہتے کہ ہمارے دین میں خیر نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر (یہ آیت) اتاری۔ آیت ومن الناس من یعبداللہ علی حرف۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب ان دونوں میں سے کوئی مدینہ منورہ آتا تھا۔ اور یہ وبائی امراض کی زمین تھی۔ اگر اس کا جسم یہاں تندرست رہتا اور اس کی گھوڑی خوبصورت بچہ جنتی اور اس کی بیوی بھی لڑکا جنتی تو اس (دین) پر راضی رہتا اور اس کی طرف اطمینان پکڑتا۔ اور کہتا جب سے میں اس دین پر ہوں مجھے خیر ہی پہنچی ہے۔ اور اگر پھر مدینہ منورہ لوٹتا۔ اس کی بیوی لڑکی جنتی اور اس کو صدقہ نہ ملتا۔ تو اس کے پاس شیطان آتا اور کہتا اللہ کی قسم ! جب سے میں اس دین پر ہوں۔ تو مجھے نقصان ہی پہنچا ہے اور یہ آزمائش ہے۔ 4۔ ابن مردویہ نے عطیہ کے طریق سے روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید ؓ نے فرمایا یہود میں سے ایک آدمی اسلام لا یا (مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا) کہ اس کی آنکھیں، اس کا مال اور اس کی اولاد سب جاتے رہے تو اس نے (دین) اسلام کی نحوست سمجھا۔ (گویا اس نے بدشگونی لی) نبی ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا (میری بیعت) مجھے واپس کردیجئے۔ آپ نے فرمایا اسلام واپس نہیں کیا جاتا۔ اس نے کہا مجھے اس دین میں کوئی خیر نہیں پہنچی۔ میری آنکھیں، میرا مال اور میری اولاد سب کتم ہوگئے۔ آپ نے فرمایا اے یہودی ! اسلام برے مردوں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کے تیل کو پگھلادیتی ہے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی آیت ومن الناس من یعبداللہ علی حرف۔ 5۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف۔ یعنی وہ اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ شک پر۔ آیت فان اصابہ خیر، یعنی اگر اس کو خوشحالی اور عافیت پہنچی۔ آیت اطمأن بہ، تو (اسلام پر) جما رہتا۔ آیت وان اصابتہ فتنۃ، یعنی اگر اس کو عذاب اور مصیبت پہنچی۔ آیت انقلب علی وجہہ، یعنی (دین اسلام سے) کافر ہو کر پھرجاتا۔ 6۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یعبداللہ علی حرف۔ کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی ہجرت کر کے مدینہ منورہ آتا تھا۔ اگر اس کا جسم صحیح رہتا۔ متواتر اس کو صدقہ ملتا رہتا۔ اور اس کی بیوی لڑکا جنتی اور اس کی گھوڑی بچہ دیتی تو کہتا اللہ کی قسم ! میں نے محمد ﷺ کے دین کو بہت اچھا پایا۔ میں اضافہ ہی دیکھتا رہا اپنے جسم میں اور اپنی اولاد میں۔ اور اگر اس کا جسم بیمار ہوجاتا اور اس پر صدقہ رک جاتا۔ اور اس کی گھوڑی کا ناقص بچہ گر جاتا اور کوئی دوسری حالت اس کو پہنچ جاتی اس کی بیوی بچہ کو جنم نہ دیتی۔ تو کہتا اللہ کی قسم ! محمد ﷺ کا یہ دین برا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں برابر نقصان کو ہی دیکھتا رہا اپنے جسم میں۔ اپنے اہل و عیال میں اور اپنی اولاد میں اور اپنے مال میں۔ 7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمدی وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم روایت کی کہ آیت ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف، یعنی وہ اللہ کی عبادت کرتا ہے شک پر۔ آیت فان اصابہ خیر اطمأن بہ، وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجہہ، یعنی اگر اس کو خوشحالی نصیب ہوتی اور پرسکون زندگی ملتی اور خواہشات کی تکمیل میسر آتی مطمئن رہتا اور کہتا میں حق پر ہوں اور میں نے پہچان لیا جس دین پر میں ہوں، آیت وان اصابہ فتنۃ، یعنی اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچتی تو آیت انقلب علی وجہہ، چھوڑدیتا اس دی کو جس پر وہ تھا۔ اور معرفت سے انکار کردیتا اور وہ نقصان اٹھانے والا دنیا اور آخرت کا۔ اس کی دنیا کا نقصان اس لیے ہوا کہ وہ اس فانی دنیا کے لیے پریشان ہوتا ہے اور اس کے ساتھ خوش ہوتا ہے اور اسی کے لیے ناراض ہوتا ہے اور اسی کے لیے راضی ہوتا ہے اور دنیا ہی اس کا مقصود اس کا مطلوب اور اس کی نیت ہوتی ہے۔ پھر وہ جب آخرت کی طرف پہنچے گا تو اس کے لیے کوئی نیکی نہ ہوگی کہ اس کے ذریعہ اسے بھلائی عطا کی جائے آیت ذلک ہوالخسران المبین، (اور یہ خسران مبین ہے) 8۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) وسلم سے روایت کیا آیت یدعوا من دون اللہ مالایضرہ، (یعنی اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو پکارتے ہیں جو ان کو نقصان نہیں دیتی) اگر اس کی دنیا میں نافرمانی کریں آیت وما لا ینفعہ (اور اس کو نفع نہیں دیتی) اگر اس کی اطاعت کریں اور وہ بت ہیں۔ آیت یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ، یعنی آخرت میں اس کو نقصان پہنچے گا۔ دنیا میں بت کی عبادت کرنے کی وجہ سے لبئس المولی یعنی بہت برا دوست ہے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا کہ آیت لبئس المولی والبئس العشیر۔ یعنی یہ بہت برا دوست ہے اور بہت برا ساتھی ہے۔
Ayahs 22:15–16

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ دنیا میں اور آخرت میں اپنے رسول کی مدد نہ کرے گا تو اسے چاہیے کہ آسمان تک ایک رسی تان لے پھر کاٹ دے پھر دیکھ لے آیا اس کی تدبیر اس کے غیظ کی چیز کو ختم کرسکتی ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح کھلی ہوئی آیات نازل کیں اور بلا شبہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے

1۔ الفریابی وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں فرمائیں گے۔ آیت فی الدنیا والاٰ خرۃ فلیمدد بسبب، یعنی اس کو چاہیے کہ رسی باندھ لے آیت الی السماء، اپنے گھر کی چھت سے آسمان کی طرف، آیت ثم الیقطع پھر اس کے ذریعے اپنا گلہ گھونٹ لے یہاں تک کہ مرجائے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ اس کو ہر گزرزق نہیں دیں گے۔ آیت فلیمدد بسبب الی السماء یعنی اس کو چاہیے کہ رسی لے لے اس کو گھر کی چھت سے باندھ کر اس کے ذریعہ اپنا گلا گھونٹ لے آیت فلینظر ہل یذہبن کیدہ ما یغیظ یعنی اس کو چاہیے دیکھ لے۔ کیا اس کو کو یہ عمل نفع دیتا ہے یا اسے رزق دیتا ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز رزق نہیں دے گا۔ آیت فلیمدد بسبب الی السماء، تو اپنے گھر کی چھت سے رسی باندھ لے۔ آیت ثم لیقطع پھر اس کو چاہیے کہ اپنا گلا گھونٹ لے، آیت فلینطر ہل یذہبن کیدہ، پھر دیکھے کہ اس تدبیر نے دور کردیا ہے، ما یغیظ، اس کے غم وغصہ کو یعنی اسے یہ خوف ہے کہ وہ اسے رزق نہیں دے گا۔ اللہ ہر حال میں اپنے نبی کی مدد کرتا ہے 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائیں گے۔ اور وہ ارادہ کرتا ہے اس کام کا کہ (کسی طرح اس کی مد دکو) ان سے کاٹ دے۔ تو اس کو چاہیے کہ اس کو کاٹ دے اس کی جڑ سے جہاں سے وہ (مدد) ان کے پاس آرہی ہے۔ کیونکہ اس کی جڑ آسمان میں ہے آیت ثم لیقطع، یعنی نبی ﷺ کو وحی سے کاٹ دے جو ان کے پاس اللہ کی طرف سے آرہی ہے اگر وہ قدرت رکھتا ہے۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی ہرگز مدد نہیں فرمائیں گے۔ تو اس کو چاہیے کہ اپنے گھر کی چھت سے ایک رسی باندھ کر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے پھر دیکھ لے کہ کیا دور کردیا ہے اس کی خود کشی کی تدبیر نے اس کے غصہ کو۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ، یعنی جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔ آیت فلیمدد بسسب الی السماء، یعنی وہ مکان کی چھت سے رسی باندھ کر گلا گھونٹ لے۔ آیت فلینظر یعنی پھر دیکھ لے کہ اس تدبیر نے اسکے ہاتھ میں کیا لوٹایا ہے۔ (یعنی اس تدبیر سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا یا نہیں)
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہیں اور جو فرقہ صائبین ہے اور نصاری ہیں اور جو مجوس ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمادے گا بلاشبہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

1۔ عبدالرزاق وعبدبن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ان الذین اٰمنوا الآیۃ کے بارے میں فرمایا کہ صائبون وہ قوم ہیں جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور زبور کو پڑھتے ہیں اور مجوسی، سورج چاند اور آگ کی عبادت کرتے ہیں۔ آیت والذین اشرکو اور وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، آیت ان اللہ یفصیل بینہم یوم القیمۃ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ان چھ دینوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔ پانچ دین شیطان کے لیے ہیں اور ایک دی اللہ عز وجل کے لیے ہے۔ اللہ اکیلا عبادت کے لائق ہے 2۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ صائبہ نے کہا کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ مجوس نے کہا ہم اللہ کو چھوڑ کر سورج اور چاند کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین نے کہا ہم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی بھیجی تاکہ ان سب کی باتوں کو جھوٹا قرار دے۔ (اور فرمایا) آیت قل ھوا اللہ احد اس کے آخر تک اور آیت وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا (الاسراء آیت 111) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ان الذین اٰمنوا والذین ھادو والصابئین والنصاری والمجوس۔ 3۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آیت والذین ہادو یعنی یہود اور صائبون کہ ان کے لیے (یعنی ان کے پاس) کوئی کتاب نہیں، والمجوس یعنی بتوں کی پوجا کرنے والے اور مشرکین سے مراد عرب کے نصاری ہیں۔