22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 22:1–10

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہوگی

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) جس دن تو اسے دیکھے گا کہ ہر دو دھ پلانے والی (عورت) اپنے دودھ پیتے (بچے) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنے حمل کو (دن پورے ہونے سے پہلے) ڈال دے گی اور تجھ کو لوگ نشہ کی سی حالت میں نظر آئیں گے اور وہ نشہ میں نہیں ہوں گے اور واقعہ میں اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے (اس کی ذات وصفات میں) بغیر جانے بوجھے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے لکھا جاچکا ہے یہ کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اسے گمراہ کردے گا اور اس کو دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تم (قیامت کے دن) دوبارہ زندہ ہونے کے بارے شک میں ہو تو یقینا ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا فرمایا تھا (پہلے) مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر بوٹی سے جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی کبھی تاکہ ہم تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک مدت معین تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تک کو بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض تم میں وہ ہیں جو (جوانی کو پہنچنے سے پہلے) مرجاتے ہیں اور بعض تم میں وہ ہیں جو نکمی عمر (بڑھاپے کی زیادہ عمر) کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتے ہیں اور (اے مخاطب ! ) تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو ابھرتی ہے اور شاداب ہوتی ہے اور ہر قسم کی خوش نما نباتات اگاتی ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی (قادر مطلق) برحق ہے اور یہ کہ وہی بےجان کو زندہ کردیتا ہے اور یہ کہ وہی ہر چیز پر قادر ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں ذرا شبہ نہیں اور یہ کہ اللہ سب لوگوں کو جو قبروں میں ہیں زندہ کر اٹھائیں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر واقفیت (علم ضروری) اور بغیر دلیل (علم عقلی) کے اور بغیر کسی روشن کتاب (دلیل نقلی) کے جھگڑا کرتے ہیں

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(تکبر سے) گردن موڑ لیتے ہیں تاکہ وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے بےراہ کریں ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گے

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اس سے کہا جائے گا) یہ تیرے ہاتھوں کیے گئے کاموں کا بدلہ ہے اور یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر زیادتی کرنے والے نہیں

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا فیصلہ ہے لہذا ضرور ایسا ہوگا اور اس سورة کے شروع میں قیامت کی ہولناک کیفیت اور اس کے وقوع کے امکان پر عقلی دلائل بھی ارشاد ہوئے ہیں ، ارشاد ہوا کہ لوگو اللہ جل جلالہ سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی اختیار نہ کرو ، کہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی مصیبت اور انتہائی ہیبت ناک ہوگا ، حتی کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی ممتا کی محبت تو ویسے ہی بہت طاقتور جذبہ ہے پھر جب بچہ شیر خوار ہو تو وہ جذبہ اپنی پوری شدت پر ہوتا ہے مگر قیامت جب واقع ہوگی تو اس قدر دردناک زلزلہ اور ہیبت ناک گڑگڑاہٹ ہوگی کہ زمین تو زمین آسمان پھٹ پڑیں گے ، پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے اور مائیں بچوں کو بھول جائیں گی بلکہ حاملہ جو ہوں گی ان کے حمل گر جائیں گے اور لوگ یوں پاگل پاگل ہوجائیں گے جیسے سب نے نشہ پی رکھا ہو کہ یہاں وہاں گرتے پڑتے ہیں بھلا نشہ کہاں ، اللہ جل جلالہ کے عذاب کی شدت سے حواس گم کردیے ہوں گے اور گذشتہ رکوع میں گزر چکا کہ اللہ جل جلالہ کے بندے اس سے محفوظ ومامون رہیں گے لہذا ابھی سے اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرو ورنہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ۔ (شیطان کی دوستی) لوگ اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا تو کرتے ہیں مگر بغیر کسی عملی دلیل کے محض شیطان کی پیروی کرتے ہیں کہ شیطان کے ساتھ جس کی دوستی ہوگی وہ اسی کو گمراہ کر دے گا یہی اس کا مقدر ہے اور وہ تو اپنے ماننے والوں کو جہنم کے شدید عذاب تک پہنچاتا ہے ، دوستی سے مراد تو بہتری اور بھلائی ہوتی ہے مگر یہ مقصد نیکوں کی دوستی سے ہی نصیب ہو سکتا ہے کہ جیسے دوستی کی جائے گی انہی کی خصوصیات میں سے حصہ ملے گا ، جیسے شیطان خود جہنم کا راہی ہے تو اس کی دوستی دوسرے کو بھی اسی راہ پر ڈال دے گی ایسے ہی انسانوں میں سے بھی دوستوں کا انتخاب کرنا چاہیے اور ہمیشہ نیک لوگوں سے دوستی کرنا چاہیے ۔ (موت کے بعد حیات) رہا کفار کا یہ اعتراض کہ مرنے کے بعد ہڈیاں گوشت گل سڑ کر خاک ہوجائیں گے ، ذرے بکھر جائیں گے کوئی جل گیا ، کسی کو درندے کھاگئے تو یہ عقیدہ کہ یہ سب لوگ دوبارہ زندہ ہوں گے اور ان سے حساب لیا جائے گا عقلا محال ہے تو اے اولاد آدم سب اچھی طرح سے سن لو کہ تمہیں قدرت کاملہ کس طرح سے پیدا فرماتی ہے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ، لیکن براہ راست نہیں ایک بہت لمبا اور نہایت باریک پروگرام اور طریق کار ہے جو قدرتی انداز سے رواں دواں ہے کہ مٹی سے کہیں گھاس اگی کہیں غلہ کسی جگہ پھل بنے کہیں گنا ، جانور اور پرندے بنے ، گوشت اور دودھ بنا ، جڑی بوٹیاں اور ادویات بنیں اور یوں یہ سب انسان کی غذا اور دوا بن کر اس کے اندر پہنچے مگر ان میں جو ذرات ایک نئے وجود کی تخلیق کے لیے تھے ، ان کا نطفے کا روپ دے کر اس کے صلب میں محفوظ کردیا پھر وہ نطفہ باپ کے صلب سے رحم مادر میں پہنچا جہاں وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تبدیل ہوا ، پھر گوشت کا لوتھڑا بنا بغیر کسی شکل و صورت کے پھر اس پر صورت بنی ، ذرا غور کیجئے یہ کس قدر نازک مراحل کس خوبی سے طے پا رہے ہیں ، سب کچھ تم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہو پھر اللہ قادر ہے کہ کسی کو رحم میں رکھے یا ساقط کر دے اسے شقی بنائے یا سعید لمبی عمر دے یا چھوٹی گورا بنائے یا کالا عقلمند بنائے یا بےعقل جو چاہے کرے ، پھر اسے ایک ننھے سے بچے کی صورت میں دنیا میں لایا اور بتدریج اسے کمال کو پہنچایا ، کمزور تھا طاقتور ہوا ، چھوٹا تھا بڑا ہوگیا کچھ نہیں جانتا تھا فاضل ہوگیا ، پھر جیسے چاہا اسے اسی حالت کمال میں موت دے دی اور بعض کو بڑھاپے کی اس حد تک پہنچایا کہ وہ کسی کام کے نہ رہے جو پڑھا تھا بھولنے لگا ، طاقت کمزوری سے بدل گئی اور سب کچھ بننے اور کمال حاصل کرنے کے بعد پھر وہ کچھ نہ رہا یہ سب کرشمے انسان کے روبرو ہیں ، ذرا زمین ہی کو دیکھو کیسے ویران پڑی ہوتی ہے گرد اڑتی ہے کہ قدرت اس پر بارش برسا دیتی ہے تو پھر سے تازہ دم ہو کر کام میں لگ جاتی ہے جگہ جگہ سے اس کا سینہ کھلتا ہے اور سبزیاں پھل پھول اور فصلوں کے خزانے اگلنے لگتی ہے یہ سب اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے ہوتا ہے اور اللہ ہی کی ہستی کامل ہے وہی حق ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے جس نے مٹی کو نطفہ اور نطفے کو انسان بنایا وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ بنانے پر اتنی ہی قدرت رکھتا ہے ، یہ بات قطعی یقینی ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ہر عمل کا بدلہ دیا جائے گا اس بارے میں کوئی شبہ کرنے کی گنجائش بھی نہیں ایسے ہی یہ بھی قطعی یقینی بات ہے کہ اللہ جل جلالہ اپنی قدرت کاملہ سے قبروں میں پڑنے والوں یعنی موت کی وادی میں اترنے والوں کو زندہ کرے گا ۔ جو لوگ اللہ جل جلالہ کی قدرت میں جھگڑا کرتے ہیں کہ قیامت اور حشر نشر یا ثواب و عذاب کا انکار ، اس کی قدرت کا انکار ہی تو ہے ان کے پاس نہ تو کوئی علمی سرمایہ ہے نہ اس بات پر کوئی دلیل کہ قیامت نہ ہوگی اور نہ ہی کسی دلیل نقلی یا واضح کتاب سے بات کرتے ہیں بس محض بگڑ کر اور تکبر میں گرفتار ہو کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس کا نتیجہ بھی دنیا کی رسوائی ہے جو انہیں جلدی یا بدیر بہرحال نصیب ہوتی ہے اور قیامت کے روز تو ہم انہیں جلتی آگ کا مزہ چکھائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ یہ تیرے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے یعنی تیرے کردار کا نتیجہ ہے کہ برزخ اور آخرت کی سزا اعمال ہی کی جنس سے ہوتی ہے جیسا کردار ہوگا ویسا نتیجہ سامنے آئے گا ورنہ اللہ جل جلالہ تو کسی بھی بندے سے زیادتی کرنے والے نہیں سب کے ساتھ عین انصاف ہوگا ۔
Ayahs 22:11–22

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو اللہ کی عبادت (ایسے طور پر) کرتا ہے (جیسے کسی چیز کے) کنارے پر (کھڑا ہو) پھر اگر اس کو کوئی (دنیا کا) نفع پہنچ گیا تو اس کے سبب مطمئن ہوگیا اور اگر اس کو کوئی آزمائش آگئی تو منہ اٹھا کر (کفر کی طرف) چل دیا اس نے دنیا میں (بھی) نقصان اٹھایا اور آخرت میں (بھی) یہی تو کھلا نقصان ہے

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے (عبادت کرتا ہے) جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ اس کو نفع دے سکتی ہے یہی انتہا درجہ کی گمراہی ہے

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ایسے کو پکاررہا ہے (عبادت کررہا ہے) کہ اس کا نقصان اس کے فائدہ کی نسبت زیادہ قریب ہے ایسا کار ساز بھی برا ہے اور ایسا ہم نشین بھی برا ہے

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک اللہ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک کام کئے (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں جاری ہوں گی بیشک اللہ جو ارادہ کرتے ہیں کر گزرتے ہیں

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ ان (نبی ﷺ) کی دنیا اور آخرت میں ہرگز مدد نہیں فرمائیں گے تو اس کو چاہیے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے پھر (اس کے ذریعے آسمان پر پہنچ کر) اگر ہوسکے (تو وحی کو) ختم کردے پھر دیکھ لے کہ کیا اس کی یہ تجویز اس کے غصے کو دور کرسکتی ہے ؟

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو اسی طرح نازل فرمایا ہے (اس کی) باتیں کھلی کھلی (ہیں) اور یہ کہ اللہ جس کو چاہتے ہیں ہدایت بخشتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا یقینا اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ فرمادیں گے۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تم نے نہیں دیکھا یہ کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چارپائے اور بہت سے انسان اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جس کو اللہ ذلیل کریں تو اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق (ایک دوسرے کے دشمن) ہیں اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے (بنائے جائیں گے) ان کے سروں کے اوپر سے تیز گرم پانی ڈالا جائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے ان کے پیٹ کی چیزیں (انتڑیاں) اور کھالیں سب گل جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے (مارنے کے) لئے لوہے کے گرز ہوں گے

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

وہ جب چاہیں گے کہ اس (دوزخ) سے ، دکھ کے مارے نکل جائیں (پھر) اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور (کہا جائے گا) جلنے کا عذاب (ہمیشہ کے لئے) چکھتے رہو

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت بھی آئے تو اس کا دل مطمئن ہوتا ہے کہ مصیبت بھی اسے مزید قربت الہی عطا کرتی ہے اور کافر پہ راحت بھی آئے تو اندر آگ بھڑکتی ہے کہ ظاہری راحت بھی اس کے لیے مزید ابتلا بن رہی ہوتی ہے تو جن لوگوں کا ایمان کمزور ہوتا ہے یا سوچ درست نہیں ہوتی وہ ایک کنارے پہ کھڑے اللہ جل جلالہ کی عبادت بھی کرتے ہیں پھر اتفاق ایسا ہو کہ انہیں دنیا کے مال وغیرہ میں فائدہ نظر آیا تو بڑے خوش کہ جناب ہماری عبادت رنگ لا رہی ہے یا ہماری ہی دعا سے سب کام چل رہے لیکن اگر کوئی مشکل آپڑی تو بھاگ گئے اور غیر اللہ کا سہارا تلاش کرنے لگ گئے نہ صرف یہ بلکہ عبادت سے شکوہ پیدا ہوگیا کہ جی کچھ حاصل نہیں ، ایسے لوگ دو عالم میں نقصان اٹھانے والے بن گئے کہ دنیا کی مصیبت میں تو پہلے مبتلا تھے آخرت کو بھی چھوڑ بیٹھے اور یہ بہت بڑا نقصان ہے ، اب لگے ہیں بتوں کو پکارنے یا اللہ کے علاوہ مخلوق کی پوجا میں لگ گئے حالانکہ ساری مخلوق نظام کائنات کا حصہ ہے کوئی بھی نہ سکی کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ سنوار سکتا ہے کہ ہر کوئی ذاتی طور پر تقدیر الہی سے بندھا ہوا ہے اور نظام عالم میں پرویا ہوا ہے ، اگر گھڑی کی ایک سوئی دوسری سوئی سے مدد مانگے تو کیا حاصل کرے گی یہ تو بہت دور نکل گئے گمراہی میں ایسے وجودوں کو پکارتے ہیں ایسے لوگوں کی غلامی اللہ جل جلالہ کے مقابلے میں اختیار کی جن کا نقصان نفع کی امید سے پہلے ہے کہ نفع کا تو وہم ہے اور ان کی وجہ سے اللہ جل جلالہ کے غضب کا شکار ہوئے اتنا بڑا نقصان تو پہلے ہی اٹھا گئے کیا ہی برے دوست اور برے رفیق ہیں یہ ان کے مقابل جو لوگ اللہ پر ایمان لا کر ثابت قدم رہے اور اللہ کی اطاعت اختیار کی اللہ جل جلالہ انہیں آخرت کے باغات میں جگہ دے گا جو سدا ہرے بھرے اور شاداب رہتے ہیں اور ان میں نہریں جاری ہیں کہ اللہ جل جلالہ قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ جن کفار کو یہ خیال غالب ہے کہ اللہ جل جلالہ دین اسلام اور اس کے ماننے والوں کی یعنی اپنے نبی ﷺ کی دنیا وآخرت میں مدد نہ کرے گا اسے چاہیے کہ کوئی رسہ آسمان پر پھینکے اور اوپر پہنچ کر نظام عالم کا رشتہ کاٹ دے اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے تو کرلے یا بدل سکتا ہے تو آزمالے اور اگر کچھ بھی نہیں کرسکتا تو کیا اب اس کا غصہ کسی قدر کم ہوا یعنی کفار کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ جس طرح جہاں سورج چمکے گا وہاں روشنی ہوگی اسی طرح جہاں ایمان اور عمل صالح ہوگا وہاں اللہ جل جلالہ کی مدد پہنچے گی اور کامیابی ہوگی یہ نظام عالم کا طے شدہ اصول ہے ۔ (مومن اور اللہ کی مدد نظام عالم کا طے شدہ طریقہ ہے) اب اس نظام کا سکرٹریٹ یا صدر دفتر آسمانوں پر ہے تو کفار کمند ڈال کر اوپر چڑھ جائیں اور نظام عالم کو تباہ کردیں تاکہ مومن سے اللہ جل جلالہ کی مدد رک جائے اگر انہیں یقین آگیا ہے کہ ایسا ان کے بس میں نہیں تو غصۃ ٹھنڈا کرلیں وہ بھی ایمان لا کر اللہ جل جلالہ کی مدد حاصل کرنے کی سوچیں کہ روکنا انکے بس کی بات نہیں نہ وہ سلسلہ وحی کو روک سکتے ہیں جو ایسی کھلی اور زبردست دلیلیں لاتا ہے مگر اس کے باوجود جن کی بات اللہ ہی باوجود جن کی بات اللہ جل جلالہ ہی سے بگڑ گئی انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی ۔ اور یہ یقینی امر ہے کہ مومن وکافر اپنے اپنے انجام کو پہنچیں گے ، کافر خواہ یہودی ہوں یا صابی ، بت پرست نصاری ہوں یا آتش پرست یا دوسرے مشرکین ان تمام گروہوں کے درمیان اللہ جل جلالہ فیصلہ فرما دیں گے اور ہر ایک اپنے کردار کے مطابق نتیجہ حاصل کرلے گا مومن نجات اور انعامات اپنے احوال کے مطابق اور کافر عذاب اور ذلت اپنے اپنے عقیدے اور عمل کے مطابق اس لیے کہ اللہ جل جلالہ سب کے احوال سے واقف ہے ۔ اے مخاطب کہ تو نہیں دیکھتا کہ جو کچھ آسمانوں یا زمینوں میں ہے سورج ہو یا چاند ستارے ہوں یا پہاڑ درخت ہوں یا جانور ہر شے اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں سراطاعت جھکائے ہوئے ہے صرف تکوینی طور پر ہی نہیں اپنے ارادے اور اختیار سے بھی کہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ صرف انسان ہی عاقل ہے اور باقی مخلوق شعور سے بالکل بیگانہ کہ تکوینی طور پر تو انسان بھی اللہ جل جلالہ کے حکم کے تابع ہے جہاں اسے اختیار ملتا ہے اور اپنے عقل و شعور سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے نافرمانی وہاں کرتا ہے جبکہ ساری کائنات کی ہر شے میں عقل ہے یہ الگ بات کہ انسان کا شعور سب سے کامل ہے اور ذات وصفات باری اور جلال و جمال تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ایسے ہی دوسرے نمبر پر جنات دوسری مخلوق کا شعور کم ہے اور ان کی اپنی حیثیت کے مطابق ہے جیسے اس کے بعد حیوانات پھر نباتات اور ایسے ہی جمادات میں بھی کہ پہاڑوں ، درختوں ، پرندوں کا ذکر کرنا کتاب اللہ میں موجود ہے ، زمین آسمان کو دعوت کہ اطاعت اختیار کرنا تو ان کا جواب قالتا اتینا طائعین بتاتا ہے کہ ارض وسما نے اپنی حیثیت کے مطابق اطاعت ہی کو پسند کرکے اختیار کرلیا ، پتھروں اور درختوں کا آپ ﷺ کو سلام کہنا حدیث میں وارد ہے پہاڑوں کی آپس میں گفتگو نقل فرمائی گئی ہے تو گویا ہر شے میں عقل و شعور تو ہے مگر اس کی اپنی حیثیت کے مطابق اور وہ سب کے سب اس کی بارگاہ عالیہ میں سرتسلیم خم ہیں اور بیشتر انسان بھی کہ شعور کامل ساری مخلوق میں انسان کو حاصل ہے تو وہ بھی ان سب اطاعت گذاروں کے ساتھ سرنیاز جھکائے ہوئے ہیں مگر ایسے بےنصیب بھی انسانوں میں ہیں کہ جن کی بات اللہ جل جلالہ سے بگڑ چکی ہے اور ان کے حق میں عذاب میں مقرر ہوچکا ان کے کرتوت اور نافرمانیوں کی وجہ سے تو انہیں اطاعت کی توفیق نہیں ، ظاہر ہے جسے اللہ جل جلالہ کی بارگاہ سے ذلیل کردیا جائے پھر اسے کہیں سے عزت نہیں مل سکتی اور اللہ جل جلالہ کو اختیار ہے وہ حکیم ودانا ہے وہ علیم وخبیر ہے لہذا جو چاہتا ہے کرسکتا ہے اور کرتا ہے ۔ (دو قومیں) یہ دو گروہ اور دو طبقے ہیں یعنی مومن وکافر دو قومیں ہیں جن کا آپس کا جھگڑا ذات وصفات باری میں ہے اور اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کے ساتھ مومن ایمان و اطاعت کا رشتہ جوڑتا ہے جبکہ کافر انکار ونافرمانی کرتا ہے تو ان کا فیصلہ اور نتیجہ یہ ہوگا کہ کافر کا لباس بھی آگ ہی سے تیار ہوگا اور سارے بدن کو ڈھانپ لے گا جبکہ اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا ایسا گرم کہ نہ صرف کھال بلکہ پیٹ کے اندر تک کی انتڑیوں کو بھی جلاتا چلا جائے گا نیز اس پر لوہے کے بڑے بڑے ہتھوڑوں سے انہیں مارا جا رہا ہوگا اور وہاں موت بھی نہ ہوگی نہ اس حال سے نکل سکیں گے ، اگر گھبرا کر گرتے پڑتے نکلنے کی کوشش کریں گے بھی تو واپس پھینک دیے جائیں گے اور کہا جائے گا اب جلنے کا مزہ لو یہی راستہ تم نے منتخب کیا تھا ۔
Ayahs 22:23–25

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

بیشک اللہ ان کو جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشت کے ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں جاری ہوں گی وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی۔ اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور ان کو (دنیا میں) پاکیزہ کلام (کلمہ طیبہ) کی ہدایت کی گئی اور انہیں اس (اللہ) کے راستے کی ہدایت ہوگئی جو تعریف کے لائق ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور وہ اللہ کے راستہ سے اور مسجد حرام سے (بھی) روکتے ہیں جس کو ہم نے تمام لوگوں کے لئے (یکساں عبادت گاہ) بنایا ہے اس میں وہاں کا رہنے والا ہو یا باہر سے آنے والا ، برابر ہے اور جو اس میں کوئی خلاف دین (کفر وشرک کی بات یا کام) ظلم کے ساتھ قصداً کرے ہم اس کو درد ناک عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور ان کے مقابل جنہوں نے ایمان و اطاعت کو اختیار کیا تھا انہیں اللہ جل جلالہ ایسے عظیم الشان باغوں میں جگہ دے گا جہاں نہریں جاری ہوں گی اور انہیں اعزاز واکرام کی خاطر سونے اور موتیوں کے کڑے پہنائے جائیں گے جبکہ ان کا لباس جنت کا ریشم ہوگا اس لیے کہ انہیں حق قبول کرنے کی توفیق ہوئی اور انہیں زندگی میں ایمان وعمل کی خوبصورت راہ نصیب ہوئی تھی ۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر اس پر اصرار ایسا کہ دوسروں کو بھی اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان جیسے ہوں یا جیسے کفار مسلمانوں کو حرم سے روک رہے ہیں جو سب کے لیے برابر ہے اور مسافر ومقیم اس پر ایک جیسا حق رکھتے ہیں یعنی دنیا بھر کے مسلمانوں کا حرم اور اس سے متعلقہ زمین پر وہ منی ہو یا عرفات برابر کا حق ہے اور کوئی دوسرے کو روکنے کا حق نہیں رکھتا چہ جائیکہ کافر حرم کا راستہ روکیں تو جو کوئی بھی حرم سے روکنے کے لیے فساد کرے گا یا زیادتی کا مرتکب ہوگا اسے درد ناک عذاب دیا جائے گا ، ۔ (مساجد سے روکنا) ایسے ہی مساجد اللہ جل جلالہ کی ہیں اور کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ دوسروں کو وہاں عبادت کرنے سے روکے یا شرارت کرکے ایسے اختلافی مسائل اٹھائے کہ لوگوں میں جھگڑا ہو تو ایسے لوگ دردناک عذاب کی گرفت میں آجائیں گے جو بہت سخت ہوگا ۔
Ayahs 22:26–33

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خانہ کعبہ کی جگہ بتادی (اور فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اور میرے اس گھر کا طواف کرنے والوں اور (نماز میں) قیام اور رکوع (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے (حسی اور معنوی طور پر) پاک رکھنا

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردیجئے لوگ (حج کے لئے) آپ کے پاس پیدل (بھی) اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز راستوں سے چلے آتے ہوں آموجود ہوں گے

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ وہ اپنے (دنیا وآخرت کے) فائدے کے لئے حاضر ہوں اور (قربانی کے) معلوم دنوں ان (مخصوص) چوپایوں پر جو اس (اللہ) نے ان کو عطا فرمائے ہیں (بوقت ذبح) اللہ کا نام لیں پس اس میں سے تم خود بھی دکھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر (لوگوں کو) چاہیے کہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور خانہ کعبہ (امان دیا گیا گھر) کا طواف کریں

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص اللہ کی حرمتوں کی (ادب کی چیزوں کی جو اللہ نے مقرر فرمائیں ہیں) تعظیم کرے تو یہ اس کے پروردگار کے نزدیک اس لئے بہت بہتر ہے اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیئے گئے ہیں سوائے ان کے جو تم کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ، سو بتوں کی پلیدی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے دور رہو

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

صرف ایک اللہ کے لئے یکسو ہو کر ، اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا۔ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا پھر پرندوں نے اس کی بوٹیاں نوچ لیں یا اس کو ہوا نے کسی دور دراز جگہ میں جا پٹکا

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ بات ہے۔ اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یقینا یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان (قربانی کے جانوروں) میں تمہارے لئے ایک مقرر وقت تک فائدے ہیں پھر انہیں قدیم گھر (بیت اللہ) تک پہنچنا (اور ذبح ہونا) ہے

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف بلکہ جب سے حرم بیت اللہ دوبارہ تعمیر ہوا کہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیاد اور جگہ وہی تھی پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی ، نوح (علیہ السلام) سے ابراہیم (علیہ السلام) تک انبیاء کرام (علیہ السلام) اس جگہ تشریف لاتے رہے ، طواف کرتے اور اکثر جن انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں ہلاک ہوئیں وہ یہیں آگئے یہیں وصال ہوا اور اسی بقعہ کے گرد دفن ہوگئے ۔ اکثر پر تو ہوا نے ہی رفتہ رفتہ مٹی جمادی ، جو آج بھی مطاف کے نیچے جلوہ افروز نظر آتے ہیں ، یہ پہلے گزر چکا یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں پہنچانا اور انہیں وہ جگہ بتانا اور ان کی تعمیر بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز فرمانا بیان ہو رہا ہے کہ گھر سے ہجرت پھر مختلف مصائب کا مقابلہ آخر بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑنا یہ سب ایک عمر کی قربانیاں اور بڑی کٹھن منزلیں ہیں مگر جب پھل لگا تو پتہ چلا کہ یہ درخت جو عمر بھر سینچا کیے کتنا قیمتی تھا انہیں وہ جگہ بتائی گئی انہوں نے بیت اللہ تعمیر فرمایا جس کی تب سے لے کر آج تک اور آئندہ قیامت تک حرمت وعزت بھی ہے اور ایک عالم جس کا بےتابانہ شب وروز طواف کرتا رہتا ہے چناچہ تعمیر کعبہ کے ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ یہاں کبھی شرک نہ کیا جائے بلکہ یہ مرکز روئے زمین شرک کو مٹانے کی تربیت دینے کیلئے ہے نیز اسے ہمیشہ پاک صاف رکھا جائے ظاہری وباطنی فسادات وغیرہ تک سے ان اللہ کے بندوں کے لیے جو اس کا طواف کرنے کو آئیں اور اس میں قیام و سجود کے لیے حاضر ہوں نیز اے ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر مکمل کرکے آپ اولاد آدم میں اعلان فرما دیجئے کہ کعبہ تیار ہے اور جو یہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان پر حج فرض ہوچکا تو لوگ دور دراز سے سواریوں پر اور پاپیادہ یہاں حاضر ہوں گے مفسرین کرام نے ارشادات نبوی نقل فرمائے ہیں کہ انہوں نے عرض کی اے اللہ یہاں تو ویرانہ ہے کون سنے گا فرمایا ۔ (اللہ نے آواز پہنچا دی) آپ اعلان تو کیجئے جب انہوں نے آواز لگائی تو اللہ جل جلالہ نے روئے زمین پر ہر بندے تک پہنچا دی نیز عالم ارواح میں ہر روح تک پہنچا دی تو جواب میں لوگوں اور ارواح نے پکار کر کہا ” لبیک اللھم لبیک “ حج کی یہ تلبیہ اسی کی یاد گار ہے چناچہ جس جس نے جواب دیا اسے ضرور حج نصیب ہوتا ہے جہاں تک زندہ انسانوں تک آواز پہنچنے کا معاملہ ہے تو آج سائنس نے سیٹ لائٹ سسٹم سے آواز بھی اور تصویر بھی ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا دی ، اگر اللہ جل جلالہ چاہے تو کیا مشکل ہے اور روحوں کو پہنچانا بندوں کے بس کی بات نہیں مگر اللہ کریم کے لیے ویسے ہی آسان ہے جیسے زندوں تک پہنچانا ، لہذا تعجب کی کوئی بات نہیں ۔ (قربانی کا گوشت) لوگ یہاں اپنے منافع حاصل کرنے کو حاضر ہوں گے کہ حج کی سعادت بھی نصیب ہوگی اور دنیا کا فائدہ بھی اشیاء کی خرید وفروخت منع نہیں بشرطیکہ حج ہو نہ کہ تجارت اور حج کے معین دنوں میں اللہ جل جلالہ کے نام کا ذکر کریں گے اور اس کے نام پر قربانی کے جانور ذبح کریں گے نیز اجازت ہے کہ قربانی کے گوشت سے کھاؤ پیو اور محتاج وفقیروں کو کھلاؤ ، قربانی ، منت یا نذر کا گوشت ہر آدمی کھا سکتا ہے ، امیر ہو یا غریب ، دوستوں رشتہ داروں کو کھلایا جاسکتا ہے اور مستحب ہے کہ تیسرا حصہ فقراء میں تقسیم کردیا جائے مگر جو قربانی کسی خطا کے باعث واجب ہوجائے جیسے حج کے بعض احکام کی خلاف ورزی پہ دینا پڑتی ہے تو اس کا گوشت قربانی دینے والا نہیں کھا سکتا ۔ تو اس طرح حج پورا کریں اور قربانی دینے اور نذر ومنت پوری کرنے کے بعد اگر کوئی مان رکھی ہو تو اپنا ظاہر و باطن صاف کریں ، ظاہر احرام کھول دیں حجامت بنوائیں نہا دھو کر صاف ہوں اور باطن کو یاد الہی سے مزین کریں اور رکھیں اور کعبۃ اللہ کا طواف کریں کہ سب سے آخری کام حج کا طواف زیارت کہلاتا ہے یہ فرض ہے اور دوسرا رکن ہے ، ایک رکن عرفات کا قیام ہے اور دوسرا یہ بیت العتیق کے معنی آزاد گھر ہے اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ ہمیشہ کفار کے قبضے سے آزاد رہے گا ” اوکماقال “ یہ بات تو حج کی ہوچکی ، اب قاعدہ کہ جو بھی اللہ کے قابل احترام احکام کی عزت کرے گا تو اللہ جل جلالہ کے نزدیک خود اس کے اپنے لیے بہت بہتر ہوگا اور نتائج سے خود وہی فائدہ پائے گا تمہارے لیے سب جانور حلال ہیں سوائے ان جانوروں کے جن کا حرام ہونا تمہیں بتا دیا گیا ہے لہذا علماء کا مسلک یہ ہے کہ اصل شے میں ابا حت اور جواز ہے جب تک اس کا حرام ہونا شریعت میں مقرر نہ ہو اور بتوں کی خباثت سے الگ رہو نہ پوجے جائیں نہ بنائے اور بیچے جائیں یعنی کسی طرح ان میں ملوث نہ ہوں اور جھوٹ سے دور رہو کہ شرک بھی تو ایک بہت بڑا جھوٹ ہی ہے ، اللہ کے لیے بالکل کھرے کوئی شائبہ تک کسی قسم کے شرک کا نہ ہو اور جان لو کہ جس کسی نے شرک کیا تو ایسا ہے جیسے کوئی آسمان کی بلندیوں سے گرے اور راستے میں مردار خور پرندے اسے اچک لیں یا ہوا کے بگولے اسے اڑا کر کسی دور ویرانے میں پھینک دیں یعنی عظمتوں سے گر کر تباہیوں کی نذر ہوا اور جس کسی نے اللہ کے مقرر کردہ شعائر کی قدر کی یہ اس کے دل کی پاکیزگی پہ گواہ ہے یعنی تقوی ، کردار اور اعمال سے ظاہر ہوتا ہے نیز قربانی کے جانوروں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو مگر وقت مقررہ تک جب وقت آجائے تو ان کا اصل مقام تو بیت اللہ اور قربانی کا مقام حرم ہے یعنی قربانی کے جانور کو بھی جب تک حرم کے لیے نامزد کرکے ہدی نہ بنا لیا جائے اس سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے اور ہدی کے جانور سے بغیر اشد مجبوری کے جائز نہیں ۔
Ayahs 22:34–38

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک طریق مقرر فرمادیا تاکہ جو مویشی چارپائے اس (اللہ) نے ان کو عطا فرمائے ہیں ان پر (بوقت ذبح) اللہ کا نام لیں سو تمہارا معبود ہے ، اکیلا معبود۔ تو اسی کے فرماں بردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادیں

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

وہ ایسے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جو (مشکل) ان پر پڑتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے (بقدر توفیق اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیاں مقرر فرمایا ہے (اسی طرح دوسرے قربانی کے جانور) اس میں تمہارے لئے فائدے ہیں سو ان پر قطار بنا کر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا کرو (کہ اونٹ کو کھڑا کرکے بھی ذبح کیا جاتا ہے) پھر جب وہ اپنی کروٹ پر گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت کرنے والوں اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ اسی طرح ہم نے ان (جانوروں) کو تمہارے تابع کردیا ہے تاکہ تم (اس پر اللہ کا) شکر ادا کرو

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون و لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ (پرہیزگاری) پہنچتا ہے۔ اس طرح اس (اللہ) نے ان (جانوروں) کو تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ تم اللہ کی بزرگی بیان کرو اس پر جو کہ اس نے تمہیں توفیق عطا فرمائی اور اخلاص کو خوشخبری سنادیجئے

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ ایمان والوں سے (ان کے دشمنوں کو) ہٹاتے رہتے ہیں یقینا اللہ کسی خیانت کرنے والے کفران نعمت کرنے والے کو نہیں چاہتے

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف نیز قربانی اور عبادات صرف اسی امت پر نہیں بلکہ ہر امت کو وقت حالات اور اس کے مزاج و ضرورت کے مطابق اللہ جل جلالہ کی طرف سے طریق عبادت دیا گیا اور قربانی بھی عبادات کا حصہ ہے لہذا یہ بھی ہر امت میں رہی کہ لوگ صرف دنیا اور مال ومنال پہ فدا نہ ہوجائیں بلکہ اپنے قیمتی اور پیارے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کریں کہ یہ سب اسی نے دیے ہیں اور مقصد اس کی خوشنودی ہے ،۔ (بارگاہ الہی میں عجز پسندیدہ ہے) جانوروں اور دولت کی محبت مقصد نہیں اور اطاعت ایثار وقربانی اس بات کا اظہار ہے کہ تمہارا معبودوہی اکیلا ہے لہذا اسی کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرو اور اس کی بارگاہ میں اپنا عجز ونیاز پیش کرنے والوں کو بشارت دیجئے بعض لوگوں کو حج کرنے یا عبادات وغیرہ ادا کرنے سے یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ ہم نے بہت بڑا کام کیا حتی کہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے نظام میں دخیل ہوں اور دنیا میں وہی کچھ ہو جو وہ چاہیں اور اگر دعا کے مطابق کام نہ ہو تو بڑے رنجیدہ ہوتے ہیں ، یہاں سے انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ عبادات کا حاصل حکومت نہیں فرمانبرداری ہے اور اپنے عجز اور بےمائیگی کا احساس کہ اگر عبادت کی توفیق عبادت بھی تو اسی نے دی ۔ (اللہ جل جلالہ کا ذکر کرنے والوں کے اوصاف) احسان تو پھر اللہ جل جلالہ ہی کا ہوا بندے میں تو اپنی عاجزی کا احساس مزید بڑھتا ہے لہذا اللہ جل جلالہ کے بندے تو وہ ہیں کہ جب اس کا ذکر کیا جائے تو ان کے قلوب نرم پڑجاتے ہیں اور اللہ کریم کی طرف سے جیسے حالات بھی پیدا ہوں اس پر صبر کرتے ہیں اور عبادات کو قائم کرتے ہیں یعنی پورے پورے اہتمام سے عبادت کرتے ہیں اور اللہ جل جلالہ نے جو بھی دیا ہے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، وہ مال ہو یا طاقت عہدہ ہو یا علم نیز قربانی صرف رسم نہیں ہے بلکہ یہ دین کا رکن ہے شعائر اللہ ہے ، ایسے کام جن سے شناخت ہوتی ہے کہ یہ مسلمان ہے شعائر کہلاتے ہیں جن سے ایک کام قربانی بھی ہے کہ اس میں مومن کے لیے خیر اور بھلائی ہے لہذا قربانی کے جانوروں کو اللہ جل جلالہ کے نام پر ذبح کرو اور خود بھی کھاؤ نیز ہر طرح کے غریب مسکین کو بھی کھلاؤ اور اللہ جل جلالہ کا احسان یاد کرو کہ جانوروں کو تمہاری خدمت پہ لگا دیا کہ تم اسے ذبح کرکے بھی ثواب لیتے ہو اور وہ جان دے کر بھی تمہاری خدمت کا حق ادا کرتا ہے یہ بہت بڑا سبق ہے کہ تم کو بھی اپنے مالک کا شکر گزار ہونا چاہئے ، اللہ جل جلالہ کو قربانی کے جانوروں سے گوشت اور خون بہانا درکار نہیں ہے بلکہ اسے تو تمہاری وہ دلی کیفیت منظور ہے جو اس کی راہ میں مال قربان کرکے اس کی اطاعت کرکے تمہیں نصیب ہوتی ہے اور تم خود کو اس کی رضا مندی اور تقرب کی فضاؤں میں پاتے ہو کہ اس نے دیگر ساری تخلیق کو تمہاری خدمت پہ لگا دیا اور تمہیں صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے چن لیا کہ تم صرف اس کی عظمت کے گیت گاؤ یہ بھی کس قدر عظیم احسان ہے کہ تمہیں اس کا شعور واحساس دے کر ہدایت نصیب فرمائی آپ احسان والوں کو بشارت دے دیجئے اور حدیث جبریل میں ارشاد ہے کہ احسان یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کی عبادت ایسے کرو جیسے آپ اسے دیکھ رہے ہیں ورنہ کم از کم یہ یقین ضرور ہو کہ وہ تو دیکھ رہا ہے ۔ (غلبہ کفار کا انجام) رہی غلبہ کفار کی بات تو یہ محض وقتی دھند ہے چھٹ جائے گی اور عنقریب اللہ جل جلالہ کفار کو شکست سے دو چار کرے گا کہ اللہ جل جلالہ ایسے مکار اور ناشکروں کو کبھی پسند نہیں فرماتا ، یہ ارشادات اگرچہ ابتدا سے اسلام اور کفار کے حدیبیہ سے روکنے اور واپس کرنے پر ہوئے تھے مگر قانون بنا دیا گیا کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ اس کے بعد اللہ نے مسلسل فتوحات سے مسلمانوں کو نوازا اور آخر کار مکہ مکرمہ بھی فتح ہوگیا آج بھی غلبہ کفار کی کوئی حیثیت نہیں مشکل صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین سے وفا کررہا الٹا کفار کی پیروی میں لگا ہوا ہے ، اللہ جل جلالہ مسلمانوں کو توفیق عمل دے تو انشاء اللہ کفار کے غلبہ کی بساط الٹ سکتی ہے ۔