Ayahs 22:1–7ترکیب : زلزلۃ مصدر ہے جائز ہے کہ فعل لازم سے ہو ای تزلزل الساعۃ اور ممکن ہے کہ متعدی سے ہو ای زلزال الساعۃ الناس دونوں صورت میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہوگا یوم ترونہا منصوب ہے تذھل سے جو حال ہے ضمیر مفعول سے والعائد محذوف سکاری حال ہے اور یہ بالضم اور بالفتح دونوں طرح سے آیا ہے اور سکری مثل مرضی اور واحد سکران یا سکر ہے مثل زمن و ضمنی۔ من یجادل میں من نکرہ موصوفہ ہے۔
تفسیر : اس سورة میں علماء کا اختلاف ہے ابن عباس و ابن زبیر ؓ و مجاہد کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے بجز چند آیات کے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں وما ارسلنا من قبلک من رسول سے لے کر عذاب یوم مقیم تک جمہور کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ صحیح یہی بات ہے اس سورة میں علوم خمسہ قرآنی مذکور ہیں آفرنیش بھی ‘ معاد بھی ‘ احکام بھی ‘ پہلے واقعات امتوں کے ‘ عذاب ثواب دنیاوی بھی ‘ رسالت کا بھی مسئلہ۔ اس میں ابن المبارک و شافعی و احمد و اسحاق کے نزدیک دو جگہ سجدے ہیں ابن عباس ؓ و ابراہیم و نخفی و سفیان ثوری و امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں ایک سجدہ ہے۔ سورة انبیاء کے خاتمہ میں مسئلہ معاد کا ذکر تھا اس سورة میں اس سے ابتدا کی جاتی ہے تاکہ انسان کو پرہیز گاری اور خدا ترسی اور عبادت کی طرف کامل رغبت ہو اور دل میں خوف رہے اور انبیاء (علیہم السلام) جن کا ذکر سورة انبیاء میں ہوا تھا تصدیق اور ان کی پیروی کرنے کی خواہش پیدا ہو۔ کس لیے کہ دار آخرت کا مسئلہ اور اس عالم کے مفید و مضر کام بغیر حضرات انبیاء کے معلوم ہو نہیں سکتے۔ اس لیے خدا تعالیٰ اس ہولناک واقعہ کی خبر کس ہیبت ناک عنوان سے بیان فرماتا ہے اور سب سے پیشتر رب سے ڈرنے اور تقویٰ کرنے حکم دیتا ہے۔ فقال یا ایہا الناس اتقوا ربکم اول تو لفظ رب یہ چاہتا ہے کہ اپنے ہر روز کے مربی سے ڈرنا اور اس کی طاعت کرنا چاہیے مگر اس کے بعد ایک سخت مصیبت آنے والی ہے اس کا ذکر کر کے اور بھی اس تقوے کے حکم کو موکد کرتا ہے گویا یہ جملہ ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم اس کی علت ہے کیونکہ اس سخت وقت میں انسان کو تقویٰ ہی امان دے گا۔ پھر فرماتا ہے یہ زلزلہ کس دن ہوگا اور اس روز کیا حال ہوگا ؟
فرماتا ہے یوم ترونہا الخ کہ اس روز حاملہ عورتوں کے اس کے خوف سے حمل گر جائیں گے اور دودھ پلانے والیاں باوجود اس کے کہ بچہ سے بڑی محبت ہوتی ہے بچہ کو بھی اس پریشانی اور بدحواسی میں بھول جائیں گے اور اس دہشت سے لوگ متوالے کی طرح بدحواس ہوں گے اور درحقیقت نشہ نہ ہوگا عذاب الٰہی کی بدحواسی ہوگی۔ یہ زلزلہ قیامت کے روز ہوگا جس روز صور پھنکے گا۔ پہاڑ اڑتے پھریں گے زمین کپکپاوے گی ‘ ایک آپا دھاپی ہوگی کہ الٰہی توبہ۔ اہل ایمان میں سے اس وقت روئے زمین پر ایک بھی باقی نہ رہے گا پہلے ہی اٹھ جائیں گے اشراربدکردار رہ جائیں گے جو اس دن کو دیکھیں گے۔ پھر تمام دنیا نیست ہو کر دوبارہ ایک اور عالم پیدا ہوگا نیا آسمان نئی زمین قائم ہوگی لوگ جی اٹھیں گے حشر برپا ہوگا۔
ومن الناس من یجادل الخ مکہ کے مشرک اس بیان کو سن کر جھگڑنے لگے کہ ایسا کیونکر ہوسکتا ہے اور جھگڑا بھی بےدلیل یہ محض شیطانی وسوسہ ہے۔ ابن ابی حاتم نے ابی مالک سے روایت کی ہے کہ نضربن حارث نے اللہ کے امر یعنی قیامت کے معاملہ میں جاہلانہ گفتگو کی تھی جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے حق میں فرمایا۔ ویتبع کل شیطان مرید کہ وہ ہر ایک شیطان رامذہ درگاہ کی پیروی کرتا ہے اس میں ان کے گمراہ کنندہ لوگ بھی آگئے اور ابلیس بھی جس کے لیے یہ مقرر ہوچکا ہو کہ جو اس کو یار بنائے گا تو یہ اس کو راہ راست سے بہکا کر جہنم کی طرف لے جائے گا پھر اس کمبخت کو کیا ہوا جو ہادی برحق سے جھگڑ کر مضل کی پیروی کرتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ قیامت کے ہونے پر دو دلیلیں پیش کرتا ہے : اول دلیل یا ایہا الناس ان کنتم فی ریب من البعث فاناخلقنا کم الی قولہ تعالیٰ لکیلا بعلم من بعد علم شیئا کہ اگر تم کو قیامت کے روز مر کر جی اٹھنے میں شک ہو تو تم اس بات کو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا کیونکہ تمہارے جدِامجد آدم کو مٹی سے بنایا کہ جس کی تم نسل ہو یا یوں سمجھ لو کہ تم نطفہ سے پیدا ہوتے ہو جیسا کہ اس کے بعد خود ہی فرماتا ہے ثم من نطفۃ اور نطفہ غذائوں کے کھانے سے پیدا ہوتا ہے جو زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔ پھر نطفہ کو جو پانی کا ایک قطرہ ہے خون بنا دیتے ہیں پھر اس خون کو گوشت کا لوتھڑا پھر اس میں کسی کے پورے ہاتھ پائوں و دیگر اعضاء لگاتے ہیں کسی کو ناقص رکھتے ہیں غیر مخلقہ یا یوں کہو کہ بعض لوتھڑے ناقص کے ناقص ہی رہ کر باہر گر جاتے ہیں۔ لنبین لکم تاکہ تم کو معلوم کرائیں کہ یہ اس قادر مطلق کی صنعت ہے جس نے طبیعت کو آلہ بنا دیا ہے ورنہ طبیعت کے لیے کونسا امر مرجح تھا کہ ایک قطرہ یا یکساں گوشت کا لوتھڑا سب کی ایک طبیعت پھر اس میں سے کسی کو ہڈی کسی کو پٹھا بنائے کسی کو ہاتھ آنکھ ناک اور ان میں یہ یہ دور اندیشاں مدنظر رکھے پھر رحم میں جس کو جتنی مدت چاہتے ٹھہراتے ہیں پھر بچہ بنا کر اس نطفہ کو باہر لاتے ہیں پھر کسی کو لڑکپن میں کسی کو جوانی میں کسی کو ایسی عمر طبعی تک پہنچا کر مارتے ہیں کہ وہ علم و دانش جان کر پھر نادان بچوں جیسا ہوجاتا ہے۔ پس جو ان باتوں پر قادر ہے کیا وہ انسان کو باردگرزندہ نہیں کرسکتا ؟ بیشک کرسکتا ہے اور ضرور کرے گا۔
دوسری دلیل وتری الارض ھامدۃ سے لے کر آخر تک کہ زمین خشک ہوتی ہے پھر ہم اپنی قدرت سے پانی برساتے اور ایک پانی ایک ہی زمین سے گوناگوں جڑی بوٹیاں اگاتے ہیں اور ہماری اس قدرت کاملہ کا تماشا اکثر دیکھتے ہو۔ پھر کیا ہم مائالحیات برسا کر انسان کو نباتات کی طرح باردگر پیدا نہیں کرسکتے ؟
Ayahs 22:8–13تفسیر : قیامت کے دلائل بیان کر کے پھر انہیں بےہودہ لوگوں کے جاہلانہ حجت و مجادلہ کا ذکر فرماتا ہے۔ قال و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتاب منیر۔ بعض کہتے ہیں پہلی آیت ومن الناس الخ نضربن حارث کے حق میں اور یہ ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں دونوں جگہ نضر مراد ہے محض ذم کے مبالغہ کے لیے اس کا اعادہ کیا۔ انسان کسی مقصد پر جو حجت قائم کرتا ہے یا کوئی عقیدہ دل میں جماتا ہے۔ تو یا علم بالبد یہیات یا استدلال و نظر سے یا وحی والہام سے پھر جس کو یہ تینوں باتیں کسی بات کی طرف ہدایت نہ کریں اور وہ اس پر جھگڑے تو سخت نادان ہے بغیر علم میں بدیہیات ولا ھدی میں نظریات اور ولا کتاب منیر میں الہامِ حق کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے پاس ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ پھر اس کا یہ فعل محض تکبر اور لوگوں کے گمراہ کرنے کے لیے ہے۔ ثانی عطفہ لیضل عین سبیل اللہ ثنی العطف کبر وخیلا سے عبارت ہے۔ اب اس کی سزا بیان فرماتا ہے اس کے کبروغرور کے بدلہ لہ فی الدنیا خزی کہ خدا تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی خوار و ذلیل کرے گا چناچہ نضربن حارث اور ابوجہل کس ذلت کے ساتھ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور کتوں کی طرح سے ان کی لاشیں کھنچوا کے ایک گڑھے میں ڈال دی گئیں اور اسی طرح سب سرکشوں کا بھی حال ہوا ہے اور ہوگا۔ اور اس جاہلانہ مجادلہ کی سزا میں ونذیقہ یوم القیامۃ عذاب الحریق قیامت کے روز عذاب جہنم کا بھی مزہ چکھائیں گے اور یہ اسی کے عمل کا بدلہ ہے اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
انبیاء (علیہم السلام) قیامت کے حالات بیان فرما کر انسان کو دارآخرت کی بھلائی کے لیے اپنی طرف بلایا کرتے ہیں پھر اس شخض کی سخت حماقت ہے کہ اس رستہ کو دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اختیار کرے۔ دنیا کے نفع و نقصان تو انسان کے ساتھ ہر حال میں رہتے ہیں چناچہ حضرت کے عہد میں بھی بعض بیوقوف اس لیے اسلام میں آئے تھے اس لیے ان کی برائی بیان فرماتا ہے فقال و من الناس من
1 ؎ یعنی بغیر علم و دانش اور بغیر کسی کتابی سند کے خدا کی باتوں کی جاہلانہ تکذیب کیا کرتے ہیں۔ 12 منہ
یعبد اللہ علی حرف 1 ؎ بخاری (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مدینہ میں ایسے بھی لوگ آتے اور اسلام لاتے تھے کہ اگر اس کے لڑکا پیدا ہوا اور اس کے مواشی کے بچے ہوئے تو کہتا تھا کہ یہ دین اچھا ہے اور جو ایسا نہ ہوتا تو کہتا کہ یہ دین برا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی حرف کے معنی طرف یعنی شک و تردد کے ہیں دنیا میں تو اس پر قضاء و قدر سے مصیبت آنی ہی تھی ادھر خدا سے بھی پھرگئے دنیا 2 ؎ بھی گئی دین بھی ذلک ھو الخسران المبین یہ بڑا ٹوٹا ہے اب خدا کے ڈر سے پھر کر اور معبودوں کی طرف رجوع ہوا ہے یہاں کیا رکھا ہے بجز نقصان کے ان کی عبادت و نذرو نیاز میں مال ضائع کرنا وقت کھونا ‘ و بال بت پرستی سر پر لینا اور بھی خسارہ اور ضرر ہے ان معبودوں کو قدرت ہی کیا ہے جو کسی کو نفع یا نقصان دے سکیں ایسا ہی بدنصیب یہ مانگنے والا ہے جو ان کا رفیق بنا ہے اور ایسے ہی وہ لغو معبود باطل ہیں۔ جن کے پوجنے میں نفع کی جگہ ضرر ہی ضرر ہے۔
2 ؎ یہ کیا حمق ہے کہ اگر اس کو دنیا کا فائدہ حاصل ہوا تو اس راہ پر قائم رہے کچھ آزمائش ہوگئی ‘ کوئی تکلیف پہنچی تو پھرگئے بتوں سے مانگنے لگے۔ 12 منہ
Ayahs 22:14–17منافقوں کی عبادت اور ان کے معبودوں کا حال بیان فرما کر اس جگہ سچے ایمانداروں کی عبادت کا حال بیان فرماتا ہے اور ان کے معبود حقیقی کا وصف کرتا ہے کہ اللہ جو معبود حقیقی اور قادر مطلق ہے اپنے ایمانداروں نیکو کار بندوں کو مرنے کے بعد ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے قادر مطلق ہے برخلاف ان کے معبودوں کے کہ ان کو نفع و ضرر کا کچھ بھی اقتدار نہیں۔
من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ میں ان منافقوں کی طرف روئے سخن ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عبادت تردد اور شک سے کرتے ہیں کہ جہاں کوئی دنیا کا فائدہ معلوم ہوا تو جمع رہے ‘ کوئی تکلیف آپڑی تو اللہ سے پھر کر باطل معبودوں کی طرف متوجہ ہوگئے کہ بھلا وہ ان معبودوں کی طرف متوجہ ہو کر تو اپنا کام بنالیں اور دیکھیں ان کے دل کا غصہ جو خدا پر ہے کس طرح سے نکالتے ہیں۔ وہ جیسی چاہیں تدابیر کرلیں ‘ جس قدر چاہیں زور لگا لیں حتٰی کہ آسمان کی طرف یا اپنے گھر کی چھت میں (کیونکہ السماء سے سماء البیت بھی مراد ہوسکتا ہے) کوئی رسی لٹکا کر اس سے گلا گھونٹ کر مرجاویں۔ پھر دیکھیں کہ اس تدبیر سے بھی ان کے دل کا غصہ نکلتا ہے ؟ یعنی ہزار تدبیریں کریں کچھ نہ ہوگا۔ خدا ہی نہ چاہے، تو کیا ہوسکتا ہے۔ یہ معنی اس تقدیر پر ہیں کہ ینصرہ کی ضمیر من کی طرف رجوع کی جاوے جیسا کہ سیاق چاہتا ہے۔ مگر ابن عباس ؓ و کلبی و مقاتل و ضحاک وقتادہ و ابن زید و سدی و فراء وزجاج اس کو حضرت محمد ﷺ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ محمد ﷺ کی دنیا میں اس کا بول بالا کر کے اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کر کے اس کی مدد نہ کرے گا اور اسی لیے وہ اسلام کے قبول کرنے میں تردد کرتا ہے جیسا کہ مقاتل کہتے ہیں یہ آیت غطفان اور اسد کے چند لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو کہتے تھے کہ ہم کو خوف ہے کہ خدا محمد ﷺ کی مدد نہ کرے تو ہم اپنے حلیفوں سے بھی گئے گزرے ہوئے یا جو آنحضرت ﷺ سے حسد رکھتے ہیں اور حسد کے مارے یہ خیال کرتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ جیسا دل چاہے ویسی تدبیر اور داؤ کرلیں یہاں تک کہ کوئی رسی لٹکا کر اس سے گلا گھونٹ کر مرجاویں یا رسی کے ذریعہ سے آسمان پر پہنچ جائیں تب بھی کچھ نہ ہوگا خدا اپنے رسول کی دنیا و آخرت میں مدد کرے گا اور ضرور کرے گا کیونکہ ابھی ہم کہہ چکے ہیں ان اللہ یفعل ما یرید یا کوئی ایسا سبب پیدا کریں کہ جس سے آسمان پر چڑھ جاویں اور وہاں سے ناکام ہونے پر گر کر مرجاویں لیقطع کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں سبب کے معنی رسی کے اور وسائل کے بھی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ بعض مسلمان حضرت ﷺ کے فتوحات اور غلبہ میں دیر ہونے کی وجہ سے خفا اور دل تنگ ہوا کرتے تھے اس آیت میں ان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ جو چاہیں کرلیں ان کی تدابیر سے کچھ نہ ہوگا خدا ایک وقت پر مدد و فتح حضرت کی کرے گا۔
تمام قرآن کو آیات بینات بنا کر ہم نے یوں ہی نازل کیا ہے۔ رہی ہدایت سو وہ ہر ایک کے حصہ میں نہیں خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ گو دنیا میں اکثر چھ 1 ؎ فریق ہیں اہل اسلام جن کو الذین آمنو اسے تعبیر کیا۔ دوم یہودی۔ سوم صابی۔ چہارم نصاریٰ ۔ پنجم مجوس۔ ششم مشرکین اور ان میں سے ہر ایک اپنے تئیں ہدایت پر کہتا ہے مگر دراصل ہدایت پر وہی فریق ہے کہ جس کو خدا نے ہدایت دی یعنی اہل اسلام۔ رہی ان کی یہ قیل وقال سو اس کا قیامت میں اللہ آپ فیصلہ کر دے گا اس کے سامنے ہر چیز ہے وہ سب کچھ جانتا ہے۔
1 ؎ کس لیے کہ جو لوگ فاعل مختار حق سبحانہ کے قائل ہیں پھر یا تو انبیاء کے قائل نہیں جیسا کہ مشرکین اور جو قائل ہیں پس یا سچے نبی کے پیرو ہیں یا فرضی اور متبنی کے پس انبیاء کے متبع تو اہل اسلام اور یہود و نصاریٰ اور صابئین ہیں جو یہود و نصاریٰ کے بین بین ہیں اور فرضی نبی کے متبع مجوس۔ 12 منہ
Ayah 22:18ترکیب : کثیر مبتداء من الناس صفت خبرہ مطیعون محذوف اور بعض کہتے ہیں من فی السٰموٰت پر معطوف ہے تفصیل کے لیے یصب جملہ مستانفہ اور خبرثانی بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : :۔ پہلے فرمایا تھا اللہ ہر چیز جانتا ہے جس سے اس کا علم وادراک کامل ثابت ہوا تھا جو یفصل بینھم یوم القیامۃ قیامت کے فیصلے کے لیے ضروری ہے۔ اب یہاں الم تر سے قدرت و جبروت کا ثبوت کرتا ہے کہ اس کے آگے تمام کائنات سرنگوں ہے اور جس کو وہ ذلت دیتا ہے کوئی اس کو عزت نہیں دے سکتا اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت کردیا کہ جو لوگ اس کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں جیسا کہ مشرکین جن کا ذکر اگلی آیتوں میں آیا تھا محض بیوقوف ہیں نہ اور کسی کو وہ علم ہے جو اللہ کو ہے نہ اس کی مانند کسی کو قدرت و سلطنت ہے اور قیامت میں فیصلہ کرنے کے لیے بھی دو وصف ضروری ہیں اس لیے اپنے فیصلہ کرنے کا ثبوت کردیا کہ ہم قادر مطلق ہیں۔ ہمارے آگے ہر ایک سرنگوں ہے تمہارے معبود وہاں کیا کرسکیں گے ’ اور یہاں بھی وہی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ الم تر سے مراد الم تعلم یعنی تو کیا نہیں جانتا مراد ہے کہ اے مخاطب ! تجھے خوب معلوم ہے دلائل وبراہین قدرت میں نظر کرنے سے چونکہ یہ بات بہت ظاہر تھی اس لیے الم تر سے تعبیر کیا۔ یسجدلہ سجدہ کرنے سے مراد مسخر اور سرنگوں ہونا اور یہ ظاہر ہے۔ کس لیے کہ تمام عالم ممکن ہے اور ممکن کو جس طرح اپنے حدوث سے واجب تعالیٰ کی طرف احتیاج ہے اسی طرح بقاء میں بھی۔ پس ہر چیز کا ہمہ وقت اس کا محتاج ہونا اس کے آگے سجدہ کرنا ہے۔ من فی لسموت و من فی الارض اگرچہ جملہ علویات و سفلیات داخل ہیں لیکن ان مشرکین کے معبود کہ جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے مفصلہ ذیل تھے اس لیے نعمیم کے بعد ان کی تخصیص کی گئی والشمس و القمر و النجوم آفتاب اور چاند اور ستارے اکثر فرقہ صابیہ اور مجوس اور ہنود کے معبود ہیں۔ ان کے مرشدوں نے انہیں اشیاء کو پیکر نورانی سمجھ کر ان کی عبادت کو تقرب الٰہی کا ذریعہ بنایا اور بعد میں انہیں کو قاضی الحاجات سمجھنے لگے۔ پھر ان کے نام کے بت ان کی مناسب دھات کے بنائے اور بڑے بڑے شاندار مکان بنا کر ان کی پرستش کرنے لگے یونانی بھی ایسا ہی کرتے تھے پھر ان سے اتر کر والجبال پہاڑوں کے پتھر پوجنے لگے ہنود اور عرب کے معبود پتھروں کے اور پہاڑوں کی دھات تانبے پیتل کے تھے والشجر والدواب یہاں تک کہ ہنود درختوں چارپایوں کو بھی پوجتے ہیں ‘ پیپل کا درخت اور گائے بیل بھی ان کے معبود ہیں وکثیر من الناس بہت سے آدمیوں کو بھی پوجتے ہیں راجہ رام چندر وکرشن و ہنود و مہادیووبشن و برہمایہ سب انسان تھے جن کو ہندو پوجتے ہیں۔ اسی طرح عرب کے مشرکوں نے لات ‘ منات ‘ اساف ‘ نائلہ ‘ ذی الخلصہ ‘ ہبل وغیرہ انسانوں کی مورتیں بنا رکھی تھیں۔ ان کو ہی قاضی الحاجات ‘ دافع البلایات جانتے تھے۔ نذر و نیاز کرتے تھے ‘ مصائب کے وقت ان کو پکارتے تھے ‘ ان کی دوہائی دیتے تھے۔ فرماتا ہے یہ سب چیزیں تو اللہ کے آگے جھک رہی ہیں اسی کے آگے سر جھکاتی ہیں باخدا انسان کہ جن کو یہ پوجتے ہیں بالاختیار اللہ کو سجدہ کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ باقی یہ سب اشیاء اپنے بقاء میں ہر دم اسی کی طرف محتاج ہیں اور اس کے حکم تکوین کے مسخر ہیں یہی ان کا جھکنا اور سجدہ ہے پھر ان کے مالک و خالق کو چھوڑ کر ان کو پوجنا کونسی عقلمندی ہے۔ مگر آدمیوں میں سے ایسے بھی بدبخت اور بدعقل اور ذلیل ہیں کہ حق علیہ العذاب کہ باختیار خود اس کے آگے نہیں جھکتے اس کی مخلوق کے آگے جھکتے ہیں۔ ان ذلیلوں پر عذاب الٰہی ثابت ہوچکا ہے اور ذات نوشتہ ازلی ہے ومن یہن اللہ فمالہ من مکرم کیونکہ جن کو وہ ذلت دے اس کو کون عزت دے سکتا ہے اور اس فعل میں خدا کو کون پوچھ سکتا ہے وہ فاعل مختار ہے اپنی حکمت و مصلحت سے جو چاہے کرتا ہے اب یہ دو فریق ہوگئے ایک ذلیل جو اپنی مثل مخلوق کو پوجتے ہیں دوسرے عزت دار جو اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں پوجتے اب دونوں فریق کا کیا حال ہے ھذان خصمان اختصموافی ربہم وہ یہ کہ آپس میں اپنے رب کے معاملہ میں باہم اختلاف کرتے ہیں۔ ذلیل فریق خدا میں عجز و حدوث کے اوصاف رذیلہ اپنے قیاس سے ثابت کرتا ہے کہ وہ سب کام آپ نہیں کرسکتا۔ اس نے ان ان اشخاص و اشیاء کو یہ یہ کام بانٹ دیے ہیں اس لیے ہم ان کو پوجتے اور پکارتے ہیں۔ فریق عزت دار اسی کو قادر مطلق اور جملہ کاموں کا کرنے والا سمجھتا ہے وہی علام الغیوب ہے ہر ایک کی پکار بھی وہی سنتا ہے اور سن کر فضاء حاجت بھی کرتا ہے کیونکہ علیم بھی ہے رحیم بھی ہے بخلاف مخلوق کے۔ اس کے بعد آپ ہی دونوں فریق کا انجام کار بتلاتا ہے۔ فریق ذلیل کا انجام ان آیات میں ہے فالذین کفروا کہ ان کے لیے جہنم کے کپڑے تیار ہیں گرم پانی اور لوہے کے گرز اور وہاں سدا رہنا ہے۔ اگلی آیات میں فریق عزت دار کا انجام بیان فرماتا ہے۔
Ayahs 22:19–22(ف) بخاری و مسلم وغیرہما نے ابوذر سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت حمزہ و عبیدہ و علی ؓ کے اور عتبہ کے حق میں نازل ہوئی جبکہ بدر کے روز یہ دونوں فریق لڑکے کو میدان جنگ میں صف سے نکل کر لڑے اور حاکم نے بھی حضرت علی ؓ سے یوں ہی نقل کیا ہے کہ یہ آیت ہمارے حق اور ہمارے مقابل بازوں کے حق میں نازل ہوئی ہے مراد یہ کہ اس کے ہم یہی مصداق ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 22:23–24ان اللہ میں اس دوسرے فریق کا ذکر ہے کہ اللہ ان کو بھی بہشتوں میں داخل کرے گا کہ جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں جڑاؤ زیور اور موتی اور ریشمی لباس پہنیں گے پھر ان اہل ایمان کے وصف میں فرماتا ہے وھدوا الی الطیب من القول کہ یہ باتیں ان کو اس وجہ سے نصیب ہوں گی کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کو اچھی بات اور عمدہ رستہ کی ہدایت کی گئی تھی اچھی بات کہ جس کو قول طیب سے تعبیر کیا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ یا قرآن مجید ہے اور عمدہ رستہ دین اسلام ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جنت میں جا کر اچھی باتیں کہنا ہے اس کی حمد وثناء گویا اس میں روحانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے ان الذین کفروا ویصدون الخ یہاں سے اس سے فریق نافرمان کے پھر چنداوصاف بیان فرماتا ہے۔ بالخصوص ان کے جو حضرت ﷺ کے معاصر تھے کہ کفر کے علاوہ وہ لوگوں کو اللہ کے رستہ سے بھی روکتے ہیں یعنی اسلام اور نبی آخر الزماں (علیہ الصلوۃ والسلام) کی پیروی سے مشرکین مکہ ان لوگوں پر جو اسلام لاتے تھے بڑے ظلم و ستم
کر کے ان کو اسلام سے روکتے تھے اور بعض اسلام پر جھوٹے الزامات لگا کر اس کو رسوا کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ آج کل گمراہ فرقوں کے پیشوا کیا کرتے ہیں اور لوگوں کو مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ سے بھی روکتے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابی سفیان وغیرہ کے حق میں ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو عام حدیبیہ میں عمرہ سے روک دیا تھا۔ (کبیر) اگر حدیبیہ کا واقعہ اس آیت کے نزول کے بعد ہے تو یہ صاف ہے ورنہ یوں بھی وہ روک دیا کرتے تھے۔ باہم لڑائی بھڑائی کے خوف سے لوگ بجز ایک خاص موسم کے نہیں آسکتے تھے اور جب اسلام پھیلا تو مسلمان قبائل کو تو آنے سے روک ہی دیا تھا اس کے بعد مسجد الحرام کے اوصاف بیان فرماتا ہے۔ (1) یہاں عاکف و مقیم و حاضر اور بادی (الطاری من البدو و ھوا النازل الیہ من غربت۔ کبیر) یعنی مقیم و مسافر دونوں برابر ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مکہ کی سکونت میں اور وہاں کے ٹھہرنے میں سب برابر ہیں جو پہلے آوے اور ٹھہر جائے وہی مستحق ہے اور یہی قتادہ و سعید بن جبیر کا قول ہے ان کے نزدیک مکہ کے مکانات کا کرایہ لینا اور بیع کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ وہ زمین کسی کی ملک نہیں ہوسکتی اور یہی مذہب ابن عمر ؓ اور عمر بن عبدالعزیز و امام ابوحنیفہ و اسحاق حنظلی (رح) کا ہے۔ ان کی دلیل یہ آیت اور بعض احادیث ہیں۔ اس تقدیر پر مسجد الحرام سے مراد مکہ ہے۔ اور علماء کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ خاص حرم کسی کی ملک نہیں یہاں ہر ایک مقیم و مسافر کا نماز پڑھنے اور عبادت کرنے میں برابر حق ہے اور مکہ کے مکانات کی بیع آنحضرت ﷺ کے عہد میں برابر ہوتی تھی۔ (2) ومن یدو فیہ بالحاد الحاد۔ محد سے مشتق ہے بمعنی کجی، اس کی تفسیر میں چند اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں شرک مراد ہے بعض کہتے ہیں حرم میں شکار کرنا ‘ بعض کہتے ہیں کسی کو مارنا ستانا۔ مگر صحیح تر یہ ہے کہ عموما ممنوعات مراد ہیں ان سب پر عذاب ہے۔ اس کے بعد اس مسجد کی تعمیر اور فرض کے متعلق ارشاد فرماتا ہے کہ و اذ بوانا لابراھیم الخ کہ اس گھر کے بنانے کا ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے ہی حکم دیا تھا یہ جگہ خدا کی عبادت کرنے کے لیے مخصوص کردی تھی کہ ایک عبادت خانہ بنا کہ جس کے اردگرد لوگ طواف کریں خدائے غیر جسم کے اوپر اس طرح سے قربان ہوں اور خدا پرست اس میں کھڑے ہو کر نماز ادا کریں اور رکوع کرنے والے رکوع اور سجدہ کرنے والے وہاں خدائے
واحد کو سجدہ کیا کریں اور اس گھر کو پاک صاف کریں اور وہاں کسی قسم کی پرستش غیر اللہ کی نہ ہوا کرے۔ اس میں قریش مکہ پر تعریض ہے کہ تم ایسے نالائق مجاور ہو کر تم نے اس گھر کو خلاف منشائے ربانی بت خانہ بنا دیا اس نجاست سے گندہ کردیا۔ اور ہم نے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ پکار دے کہ خدا پرست یہاں آکر حج کیا کریں۔ مراسم خدا پرستی بجالائیں۔ اس صلائے عام سے ہر دور دراز سے خدا پرست پاپیادے اور سوار ہو کر کشادہ رستوں اور تنگ گھاٹیوں سے چلے آئیں گے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرفات کی پہاڑی پر چڑھ کر پکار دیا۔ اس وقت سے یہ جشن خدا پرستی قائم ہوا۔ یہ عرب کے جاہلوں کا بت پرستی کے لیے سالانہ میلہ نہیں ہے اس کے بعد حج کے فوائد اور قربانی کے طریقے ارشاد فرماتا ہے۔
Ayah 22:25سواء کو یعقوب و عاصم نے با لنصب پڑھا ہے جعل کا معمول بنا کر بعض نے مرفوع پڑھا ہے مبتداء کی خبر مقدم قرار دے کر صاحب کشاف کہتے ہیں بالحاد بظلم یہ دونوں حال مترادف ہیں رجال جمع راجل پیادہ والضمور اہزال نہر یضمر مضموراً والمعنی ان الناقۃ عبارت مرضاۃ بطول، سفر باوابفح الطریق میں الجبلیں ثم یستعمل فی سائر الطریق الساحاً والعمیق البعید کبیر۔ 12 منہ
Ayah 22:26طائفین جمع طائف بمعنی طواف کنندہ قائمین جمع قائم یعنی قیام کنندہ رکع جمع راکع بمعنی رکوع کنندہ سجود جامع ساجد خواہ یہ افعال ایک ساتھ ادا کئے جاویں جیسا کہ نماز میں یاجداگانہ۔ 12 منہ
Ayah 22:27واذن فی الناس حسن اور اکثر معتزلہ کہتے ہیں کہ یہاں سے خطاب آنحضرت ﷺ کی طرف ہے پہلا کلام تمام ہوچکا یعنی اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ تمہارے پاس حج کرنے نزدیک و دور سے چلے آئیں گے۔ یہ آیت فرضیت حج کے لیے ہے۔ جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ یہی جملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق ہے اس میں انہیں کی طرف خطاب ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ تعمیر کرچکے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم لوگوں میں حج کے لیے پکار دو تاکہ لوگ حج کو آویں۔ اس میں یہ مراد ہے کہ اے قریش مکہ ! تم جو ان لوگوں کو مسجد الحرام سے روکتے ہو نہ صرف خدا تعالیٰ بلکہ اپنے بزرگ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے بھی برخلاف کرتے ہو۔
حج کے لیے آنا بحکم ابراہیم (علیہ السلام) گویا ان کے پاس اتا ہے یا ان کی حیات کے لحاظ سے فرمایا پس ان کے پاس لوگ حج کرنے کو آنے لگے تھے۔ 12 منہ
یا توک رجالا وعلی کل ضامر ضامر پتلی دبلی اونٹنی جو اونٹنیاں سواری کی ہوتی ہیں کثرت سفر سے دبلی پتلی ہوجاتی ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ حج کو پاوے یا اونٹنیوں کے سوار ہی آئیں گے بلکہ عرب کی قوموں کے لحاظ سے یہ فرمایا جن کی سواری بیشتر اونٹوں ہی پر ہوتی ہے ورنہ مراد عموم ہے کہ ہر قسم کے لوگ آئیں گے۔ 12 حقانی۔
ان الذین کی خبر محذوف اس پر نذقہ دال ہے۔ 12 منہ۔
Ayahs 22:28–31فوائد حج : فقال لیشہد وامنافع لہم، حج کے منافع دو قسم کے ہیں ایک منافع دنیا سو وہ بھی 1 ؎ بیشمار ہیں : (1) تمام اہل مذہب کا ایک جگہ جمع ہونامیل جول کرنا۔ (2) ۔ ایک قوم کا دوسرے سے علم و ہنر میں مستفید ہونا۔ (3) دور دراز کے صحیح صحیح حالات کا بہم پہنچانا (4) پھر اس سے تجارت و دیگر امور دنیا میں فوائد حاصل کرنا (5) تجارت کے منافع سے مستفید ہونا (6) قوت اجتماعیہ اور اخوتِ
1 ؎ حج موت کا بھی نمونہ ہے۔ گھر سے چلنا ‘ اولاد مال کو چھوڑنا گویا دنیا سے گزرنے کو یاد دلاتا ہے۔ پھر کعبہ کے قریب آکر احرام باندھنا گویا کفن میں لپٹنے کا نمونہ ہے پھر احرام میں شکار و جماع وغیرہ مرغوبات سے رکنا ‘ مرنے کے بعد ان چیزوں سے رکنے کا نمونہ ہے۔ پھر وہاں زادو راحلہ کا ہمراہ ہونا ‘ ہدی کا ہونا ‘ اس بات کو یاد دلاتا ہے کہ مرنے کے بعد اعمال ہی کا توشہ ساتھ رہے گا۔ پھر عرفات میں کھڑا ہونا ‘ حشر میں کھڑے ہونے کا نمونہ ہے۔ پھر قربانی کر کے احرام کھولنا ‘ نہانا ‘ صاف ہونا ‘ گناہوں سے بری ہونے کا نمونہ ہے۔ پھر طواف کرنا ‘ حرم مکہ میں جانا سب چیزوں کا درست ہوجانا جنت میں جا کر وہاں کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کا یاد دلانے والا ہے اللھم ادخلنا الجنۃ۔ اور نیز سفر بہت سی بیماریوں کے لیے مفید ہے 12 منہ۔
دنییہ کا استوار کرنا۔ (7) جس بات پر تمام قوم کو اتفاق کرنا ہو وہاں اس متبرک جگہ میں اس کا بسہولت میسر آنا۔ (8) سفر کا عادی ہونا ریاضت و مشقت و تجربہ حاصل کرنا وغیرہ۔ دوسرے فوائدِ دینیہ وہ بھی بہت ہیں۔ صدہا ہزار ہا خدا پرستوں کا ایک جگہ جمع ہو کر دنیا میں آسمانی سلطنت کا نمونہ دکھانا (2) ایک پر دوسرے کے انوار و برکات کا منعکس ہونا۔ (3) تمام خلائق کو یہ دکھا دینا کہ دنیا میں یہی ایک جماعت ہے کہ جو خاص اس کی پیرو ہے جس سے عام طبائع پر توحید و خدا پرستی کا ایک ولولہ پیدا ہو وغیرہ۔ ان سب کی طرف اس جملہ میں مجملاً ایماء ہے۔ لیشہدوا منافع لہم پھر بعض فوائد کی تفصیل فرماتا ہے فقال ویذکرو اسم اللہ فی ایام معلومات کہ چند معین دنوں میں اللہ کا نام لیا کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد قربانی کرنا ہے جس کا قرینہ علی ما رزقہم اللہ الخ ہے کیونکہ قربانی میں اللہ کا نام کسی چیز یعنی جانور پر ذکر کیا جاتا ہے تکبیر بسم اللہ واللہ اکبر کہی جاتی ہے اور یہ بھی اللھم منک والیک اور یہ بھی ان صلاتی ونسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین۔
اکثر علماء کہتے ہیں۔ ایام معلومات سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہے اور معدودات سے ایام التشریق اور یہ مجاہد وعطاء وقتادہ حسن و سعید بن جبیر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور اسی کو شافعی اور ابوحنیفہ ; نے اختیار کیا ہے کیونکہ یہ ایام عرب کو زیادہ معلوم رہا کرتے تھے۔ اور اب بھی معلوم رہا کرتے ہیں اس لیے کہ انہیں کے آخر میں حج کا وقت ہے اور اس طرح قربانی بھی انہیں ایام میں سے یوم النحر کو ہوتی ہے یعنی دسویں تاریخ۔ خلاصہ یہ ایام معلومات سے عشرہ ذی الحجہ کا مراد ہے اور اس کے جزاء خیر میں یہ قربانی دسویں تاریخ ہوتی ہے۔ عطاء کی روایت میں ابن عباس ؓ سے یوں منقول ہے کہ ایام معلومات سے یوم النحر اور اس کے بعد کے اور تین روز مراد ہیں۔ کیونکہ یہ ایام قربانی کے لیے عرب میں معلوم و معین تھے اور یہی قول صاحبین کا ہے اور اسی کو ابومسلم نے پسند کیا ہے۔
بہیمۃ الانعام بہیمہ ہر چار پائے کو کہتے ہیں خواہ بری ہو خواہ بحری۔ اس معنی میں یہ لفظ مبہم تھا پھر جب اس کے ساتھ الانعام لگا دیا تو تعین ہوگئی یعنی اونٹ گائے بیل، دنبہ بکرا۔ (کشاف)
فکلوا منہا 1 ؎ بعض کہتے ہیں یہ امر وجوب کے لیے ہے کیونکہ ایام جاہلیت میں برسم یہودیا ازخود اپنی قربانی میں سے آپ نہیں کھاتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے دفع حرج کے لیے مسلمانوں کو قربانی میں سے کھانے کا حکم دیا لیکن اکثر علماء کہتے ہیں امروجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت کے لیے یعنی ہدی تطوع و تمتعہ و قران میں سے آپ بھی کچھ کھاوے اور باقی فقیروں محتابوں کو دیوے۔ بعض کہتے ہیں نصف آپ کھاوے اور نصف کو تصدق کرے۔ بعض کہتے ہیں تین حصے کرے ایک حصہ اپنے لیے ‘ ایک احباب و اقارب کے لیے ‘ ایک مساکین کے لئے۔ مگر جو قربانیاں کہ نذریا کفارات یا حج کے جنایات میں کی جاتی ہیں ان میں سے بالاتفاق نہ کھانا چاہیے۔ سب کو تصدق کردینا چاہیے یہ مساکین کا حق ہے پہلی امتوں میں قربانیوں کو خواہ کسی قسم کی ہوں کھاتے نہ تھے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں آپ کھانے کی اجازت صرف اس قربانی میں ہے جو تطوعاً ہو۔ ثم لیقضواتفثہم۔ مبرد کہتے ہیں تفث کلام عرب میں ناپاکی کو کہتے ہیں جو انسان کے لگتی ہے اس میں میل کچیل ناخونوں کا بڑھنا ‘ حجامت کا بڑھ جانا ‘ سب آگیا۔ مراد یہ کہ حج میں قربانی کرکے احرام کھول دو حجامت بنواؤ نہاؤ دھو و میل کچیل دور کرو ولیفضوا اے لیودوا ازالۃ و سحھم ولیوفوا نذورھم اور جو کچھ ہدایا اور قربانیاں تم نے نذر مانیں ہیں ان کو بھی پورا کرو یا یہ مراد کہ حج میں جو چیزیں واجب ہوتی ہیں کہ جن کے بغیر حج پورا نہیں ہوتا جیسا کہ دم قران و تمتع وغیرہ ان کو پورا کرو، نذورھم مواجب حجتھم و العرب یقول لکل من خرج عماوجب علیہ وفی نذرہ وان لم ینذراو ماینذرو نہ من اعمال البر فی حجھم (مدارک) ۔
1 ؎ ولایجوزالاکل من ہدی التطوع و المنعۃ والقران لانہ دم نسک فیجوزالاکل منھا بمنزلۃ الاضحیۃ قدصح ان النبی (علیہ السلام) اکل من لحم ھدیہ وحسامن المرفۃ ھدایہ 12 منہ واللہ اعلم۔
ولیطوفوا بالبیت العتیق قربانی کے بعد جو دسویں تاریخ منیٰ میں ہوتی ہے احرام کھول دیتے ہیں پھر اس کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں جس کا اس جملہ میں حکم دیتا ہے۔ بالاتفاق اس طواف سے مراد طواف واجب ہے جسکو طواف الزیارۃ اور طواف الافاضہ کہتے ہیں۔ کعبہ کو بیت العتیق کہا۔ عتیق قدیم اور پرانے کو کہتے ہیں۔ سو کعبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا ہے اس سے پرانا اور قدیم عبادت خانہ دنیا پر اور کوئی نہیں۔ یہ احکام بیان فرما کر فرماتا ہے ذلک کہ بات یہی ہے جو بیان کی۔ یہ عرب کا محاورہ ہے ایک کلام تمام کر کے یہ جملہ بول دیا کرتے ہیں جس طرح ھذا پھر فرماتا ہے کہ جو خدا کی منع کی ہوئی چیزوں کی رعایت کرے گا تو یہ اس کے لیے عنداللہ بہتر ہے۔ ومن یعظم حرمات اللہ حرمات اللہ وہ امور کہ جن سے خدا تعالیٰ نے منع کیا ہے اور ان کی تعظیم ان سے بچنا ہے۔ زجاج نے کہا ہے حرمۃ وہ ہے کہ جس کے قائم رکھنے کا اللہ نے حکم دیا اور اس میں کمی کرنا حرام ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس جگہ حرمات اللہ سے مراد مناسکِ حج ہیں۔ منجملہ ان کے احرام میں شکار نہ کھیلنا اور فحش باتوں کی ممانعت ہے اس لیے اس کے بعد احرام کے متعلق ذکر کرتا ہے واحلت لکم الانعام الا ما یتلٰی علیکم کہ احرام میں تمہارے لیے سب چارپائے حلال ہیں ان کو ذبح کر کے گوشت کھانا مباح ہے مگر وہ جو تم سے سورة مائدہ میں بیان کئے گئے وہ درست نہیں۔ خنزیر وغیرہ اور وہاں وانتم حرم بھی فرما دیا ہے کہ جس سے یہ بات نکلی کہ ان چارپایوں میں سے جو وحشی جانور ہیں جن کا شکار کیا جاتا ہے محرم کے لیے ان کا شکار کرنا ممنوع ہے ہاں غیر محرم شکار کر کے لاوے تو کھا لینا درست ہے۔ خلاصہ یہ کہ احرام کی حالت میں کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان حلال جانوروں کے گوشت کی بھی ممانعت ہے بلکہ حرام جانوروں کی اور شکار کرنے کی۔ یہ لب لباب ہے تمام احادیث و اقوال کا۔ گوشت سے کیا پرہیز ہے بچنے کی تو یہ چیزیں ہیں فاجتنبو الرجس من الاوثان کہ بتوں سے بچو جو ناپاک چیز ہے اور اجتنبواقول الزور اور جھوٹی اور لغو بات سے بچو۔ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں قول الزور سے مراد جھوٹی گواہی ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین کا وہ قول ہے جو حج میں کہا کرتے تھے۔ لاشریک لک لبیک الاشریکا ھو لک الخ پھر اخیر تک توحید کی تاکید اور شرک کی مذمت بیان فرماتا ہے اور مشرک کو اس بدنصیب سے تشبیہ دیتا ہے جو آسمان سے گرے اور پھر پرندے اس کی تکے بوٹی کرلیں یا ہوا سے کہیں دور جا پڑے مراد یہ کہ اس کا بالکل ستیاناس ہوگیا۔
Ayahs 22:32–331 ؎۔ شعائر جمع شعیرۃ اوشاعرۃ بالکسر ومنہ شعار القوم اے علامتھم فی الحرب فشعائر اللہ اعلام دینیہ۔ 12 منہ۔
شعائر علامات اور نشان جو امتیاز کے لیے ہر قوم اور ہر شخص کے لیے مخصوص ہوتے ہیں خدا کے شعائر اس کے وہ عبادت کے خاص دستورات جو اس نے فرمانبردار قوم کے امتیاز کے لیے مقرر کردیے ہیں ان کی پابندی دلی پرہیز گاری ہے۔ قومی اور ملکی نشانوں کو ہلکا جان کر ترک کرنا ایک طرح کا فسق اور بدکاری ہے کس لیے کہ ان کے ترک کرنے سے قوم قوم نہیں رہتی شیرازہ قائم نہیں رہتا بعض بےباک طبائع ان کو فضول جانتی ہیں اور کہتی ہیں کہ دل میں خدا پرستی ہونی چاہیے اس کو جواب میں فرمایا کہ یہ بھی دلی پرہیزگاری سے متعلق ہے اس کی منافی نہیں اس جگہ شعائر سے مراد حکام حج ہیں۔ قربانی کرنا ‘ طواف کرنا ‘ احرام باندھنا ‘ حرم و احرام میں شکار نہ کھیلنا ‘ سرمنڈانا ‘ عورتوں سے صحبت کرنے سے جدا رہنا۔ اس لیے بعض علماء نے اس کو ہدی لینے قربانی سے تعبیر کیا ہے۔
Ayahs 22:34–35قربانی کے جانوروں کو عرب اپنے ساتھ کعبہ میں لایا کرتے تھے یا پہلے بھی دیتے تھے اور ایسے جانوروں کو کہ جن میں بیشتر اونٹ ہوتے تھے ہدی کہتے تھے۔ اب ان جانوروں کی نسبت فرماتا ہے لکم فیہا منافع کہ تمہارے لیے ان میں فوائد رکھے ہیں ان پر بوقت ضرورت سوار ہو لینا یا بوقت حاجت ان کا دودھ پی لینا 1 ؎ درست ہے کب تک الٰی اجل مسمًی ایک وقت مقرر تک یعنی ذبح ہونے تک ثم محلہا الٰی البیت العتیق پھر وقت ذبح کا ان کے منتہی ہوتا ہے کعبہ تک۔ کعبہ سے مراد حرم ہے یعنی پھر اس کو حرم میں ذبح کرنا چاہیے کیونکہ حرم کی زمین بھی یہی حکم رکھتی ہے (مدارک) اس آیت کی تفسیر میں جبکہ فیہا کی ضمیر بہائم کی طرف رجوع کی جائے دو قول ہیں : (1) یہ
کہ تمہارے لیے ان بہائم میں ان کے ہدی مقرر کرنے سے پہلے منافع اور فوائد رکھے ہیں ان سے بچے لو، دودھ پیو ان پر سواری کرو وغیرہ مگر جبکہ ان کو ہدی مقرر کر چکو اور خدا کے نام پاک پر ذبح کرنے کے لیے ان کو کعبہ روانہ کر دو تب یہ منافع حاصل نہ کرنے چاہییں۔ یہ ابن عباس ؓ اور مجاہد وقتادہ وضحاک کا قول ہے۔ پھر اس میں بعض علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ بوقت ضرورت ہدی پر سوار ہو لینے یا اس کا دودھ پی لینے میں کچھ مضائقہ نہیں اور علمائِ احناف اسی طرف گئے ہیں اور یہی قوی ہے (2) یہ کہ ہدی بنانے کے بعد بھی تمہارے لیے یہ منافع درست ہیں اور یہ قول مالک و شافعی و احمد و اسحاق کا ہے اس حدیث سے کہ جس کو ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا کہ ایک شخص کو آنحضرت ﷺ نے ہدی کو ہانکتے دیکھ کر فرمایا کہ سوار ہوجا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ ہدی ہے۔ دو بار آپ نے فرمایا اس نے یہی جواب دیا۔ تیسری بار آپ نے فرمایا کمبخت سوار ہوجا (رواہ مالک) مگر یہ حدیث فریق اول پر حجت نہیں ہوسکتی کس لیے کہ غالباً آنحضرت ﷺ نے اس تاکید کے ساتھ اس کی ضرورت سمجھ کر حکم دیا ہو۔
1 ؎۔ لیکن دودھ کی قیمت کا اندازہ کر کے صدقہ دینا پڑے گا وان صرفہ الی حاجۃ نفد تصدق بمثلہ او بعینہٖ لا نہ مضمون علیہ ہدایہ۔ 12 منہ۔
بعض مفسرین فیہا کی ضمیر شعائر کی طرف رجوع کرتے ہیں جس سے مراد مناسک و مشاہد مکہ مراد لیتے ہیں اور ثم محلہا الی البیت یعنی احرام کھولنے کا موقع بیت اللہ ہے طواف زیارت کرنے کے بعد۔ فائدہ : اور جب ہدی روانہ کرچکے اور کسی دشمن کے خوف سے یا مرض کی وجہ سے (امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک خلافاً 1 ؎ للشافعی) کعبہ جانے سے رک جاوے تو ہدی کو کعبہ روانہ کر دے اور جب معلوم کرلے کہ آج ہدی کی قربانی ہوگئی ہوگی تو احرام کھول دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولاتحلقوا رؤسکم حتی یبلغ الہدی محلہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں فوراً احرام کھول دے ہدی بعد میں ذبح ہوجائے گی کیونکہ رخصت کا یہی مقتضٰی ہے (ہدایہ) ۔
قربانی پر اعتراض اور ان کے جواب : کوتاہ اندیش اعتراضات کیا کرتے تھے جیسا کہ اب بھی ہنود اور عیسائی قربانی پر اعتراض کرتے ہیں کہ کسی جانور کے ذبح کرنے سے کیا خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ناحق جانوروں کو مارتے ہیں۔ یہ رسم جاہلیت ہے اس کا تحقیقی جواب تو اگلی آیت میں دیتا ہے کہ لن ینال اللہ لحو مہا ولا دماؤھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم جس کی تشریح اب آگے چل کر ہم کریں گے۔ لیکن الزامی جواب پہلے عنایت فرماتا ہے فقال ولکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علی مارزقہم من بہیمۃ الانعام فالہکم الہ واحد فلہ اسلموا کہ تم سے بیشتر بھی ہم نے ہر قوم کے لیے رسم قربانی اللہ کا نام یاد کرنے کے لیے جاری کی ہے کچھ نئی بات نہیں۔ حضرت موسیٰ اور یعقوب و اسحاق و ابراہیم (علیہم السلام) کی شریعتوں میں بھی قربانی کا دستور خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے تھا جیسا کہ اب تک اہل کتاب کی کتب میں پایا جاتا ہے اور اس طرح ہنود کے ہاں بھی قربانیاں ہیں قدیم سے بلدان چلا آتا ہے۔ پس تمہارا اے مسلمانو ! اور ان کا جدا جدا خدا نہیں بلکہ ایک ہی خدا ہے جس نے ان کو حکم دیا تھا اس نے تم کو بھی دیا پس اس کا کہا مانو ‘ قربانی کرو۔ اور اس پر خاص اللہ ہی کا نام لو اور اس طرح اس کی سب باتوں میں فرمانبرداری کرو اور اس کی پوری فرمانبرداری کرنے والے کو مخبت کہتے ہیں اس لیے اس کے بعد مخبتین کے لیے آنحضرت ﷺ کو مژدہ اور خوشخبری دینے کا حکم دیتا ہے بقولہ وبشر المخبتین پھر مخبتین کے اوصاف ذکر کرتا ہے کہ اللہ کے ذکر سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں پھر اس کے دو اثر ہیں اول سختیوں پر صبر کرنا خدا کے رستے میں بیماری تنگدستی و دیگر مصائب کی برداشت کر کے ثابت قدم رہنا یہ اول سیڑھی ہے اس لیے پہلے اسی کو ذکر کرتا ہے والصابرین علی ما اصابہم دوم جان اور مال سے اس کی خدمت میں حاضر ہونا جان کی خدمت اہم ہے اس لیے پہلے اس کو ذکر کرتا ہے والمقیمی الصلواۃ نماز میں کامل درجہ کی جانی خدمت ہے اس کے بعد مالی اس کو اس جملہ میں ذکر کرتا ہے مما رزقہنم ینفقون کہ وہ ہمارے دیے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ بھی
کرتے ہیں منجملہ اس کے قربانی کرنا ہے۔ اس میں فی الجملہ جواب تحقیقی بھی آگیا کہ قربانی اس لیے ہے اس کے بعد پھر قربانی کا ذکر شروع کرتا ہے بقولہ والبدن جعلنہا لکم من شعائر 2 ؎ اللہ لکم فیہا خیر البدن جمع بدنۃ کخشب و خشبۃ اس سے شافعی کے نزدیک مراد وہ اونٹ ہیں کہ جو قربانی کے لیے حرم کی طرف بھیجے جاویں اور ان کے بڑے بدن ہونے کی وجہ سے ان کو بدنۃ کہتے ہیں اور امام مالک و ابوحنیفہ علماء گائے بیل کو بھی بدنہ کہتے ہیں اگرچہ بکری کی بھی حج وعمرہ میں قربانی جائز ہے لیکن اس کے صغر جسم سے اس کو بدنہ نہیں کہتے (کبیر) مگر یہاں بدنہ سے اونٹ ہی مراد ہے کہ یہ جانور تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے بارکش اور عجیب الخلقہ جانور تمہارے لیے کیسا مسخر کردیا۔ لکم فیہا خیر تمہارے لیے اس میں بہت کچھ منافع رکھے ہیں۔ پس ایسی پیاری چیز کو کہ جس کو عرب جان کے برابر عزیز رکھتے ہیں اپنی جان قربان کرنے کی عوض اس کی قربانی کرو فاذکروا سم اللہ علیہا صواف کہ اس کو کھڑا کر کے پائوں باندھ کر اس پر اللہ کا
1 ؎ ان کے نزدیک یہ اجازت مخصوص ہے دشمن سے رکنے میں۔ 12 منہ
2 ؎ شعائر اللہ من اعلام دینیہ ان کو اس لیے شعائر کہا کہ ان کے کوہان میں بوقت ہدی بنانے کے زخم کردیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ہدی ہے۔ معالم التنزیل 12 منہ
نام لو ذبح کی تکبیر پڑھو بسم اللہ واللہ اکبر اور اس طرح سے قربانی کرنے کو نحر کہتے ہیں۔ ہدایہ میں ہے و افضل فی البدن لنحر و فی البقروالغنم الذبح کہ بدنہ کے لیے نحر افضل ہے اور گائے بکری کے لیے ذبح کرنا افضل ہے لقولہ تعالیٰ فصل لربک والنحر آنحضرت ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے اگر بٹھا کر بھی ذبح کرلے گا تو جائز ہوگا جب نحر کر چکو اور وہ زمین پر گر پڑے یعنی جان نکل جاوے تو آپ بھی کھاؤ اور محتاجوں فقیروں کو بھی کھلائو۔ فاذا وجبت جنوبہا الخ وجبت الجنوب کے معنی زمین پر گر پڑنا کہتے ہیں وجبت الحائط وجبۃ اذاسقطت علی الارض اطعموالقانع و المعتر قانع سے مراد وہ محتاج ہے کہ جو قناعت کرے اور لوگوں سے مانگتا نہ پھرے اور معتروہ جو مانگتا پھرے۔ غرض یہ کہ دونوں کو دو اور خود بھی کھاؤ جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔
قربانی حقیقی جواب : اب اس جواب تحقیقی کو شروع کرتا ہے اور اسی کے ضمن میں ایک رسم جاہلیت پر تعریض کرتا ہے فقال لن ینال اللہ لحو مہاولا دماؤھا ولکن ینالہ التقوٰی منکم کہ اللہ کے پاس ان قربانیوں کا نہ تو گوشت جاتا ہے نہ خون بلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل وغیرہ نے اس آیت کی شان نزول میں یوں لکھا ہے کہ ایام جاہلیت میں عرب قربانی کر کے اس کا گوشت اور خون بتوں کے آگے رکھتے اور خون ان سے مل دیتے تھے اور اسی طرح کعبہ کی دیواروں کو بھی خون لگاتے تھے اس بات کی رد میں یہ آیت نازل ہوئی کہ قربانیوں کا خون اور گوشت اللہ کو مطلوب نہیں یہ اس کے پاس نہیں جاتا ہاں اس قربانی سے تمہارا تقوی مطلوب ہے اور وہی اس کے پاس جاتا ہے۔
اس آیت سے جواب تحقیقی یوں نکلتا ہے کہ بندہ کا کمال اور اس کی سعادت یہ ہے کہ اپنے معبود حقیقی اور خالق کی دل سے محبت کرے اور طبائعِ بشریہ میں محبت کا اخیر مرتبہ اس پر فدا اور قربان ہوجانا ہے اور اس لیے اظہار محبت کے مقامات پر ایسے الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے کہ تیرے قربان تجھ پر فدا اور یہ بات حیوانات میں بھی پائی جاتی ہے۔ پروانہ کا شمع پر جلنا اظہر من الشمس ہے حقیقی قربانی تو فنا فی اللہ ہونا ہے جو خاصان خدا کا حصہ خاص ہے مگر اپنی محبوب ترین چیز کا قربان کرنا بھی اس کے قائم مقام ہے اور اپنے نفس کے بعد انسان کو دو چیز زیادہ تر محبوب ہیں اولاد اور مال۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ نے اپنی قربانی فنافی 1 ؎ اللہ کے بعد اپنے پیارے فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کا قصد مصمم کیا اور حج تو سراسرافعال عاشقانہ ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یادگار ہے اور نفس اور اولاد کا قربان کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ مال میں سے حیوانات اونٹ ‘ بکری ‘ دنبہ ‘ گائے جو مرغوب چیز ہے اور انسان کے ساتھ حیوانیت میں شریک بھی ہیں اس لیے ان کی قربانی جاری کی گئی۔ تقویٰ خدا کے پاس پہنچنے سے یہی مراد ہے اس کے بعد فرماتا ہے کذالک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھداکم کہ یہ جانور اس لیے تمہارے بس میں کردیے گئے کہ تم اس کی رہنمائی کے موافق بوقت نحریا ذبح اللہ کے نام کی تکبیر بیان کرو پھر اس دلیل کے بعد اس کے حکم ماننے والوں کے لیے آنحضرت ﷺ کو مژدہ دینے کا حکم دیتا ہے وبشر المجبتین خدا تعالیٰ کے ساتھ تقرب حاصل کرنا اعلی درجہ کا احسان یعنی نیکی ہے پہلے ذکر تھا کہ کفار مسجد الحرام سے روکتے ہیں یہاں فضائلِ حج ‘ قربانی اور ایماندروں کے اوصاف ذکر کر کے ایمانداروں کی حمایت 2 ؎ کا مژدہ سناتا ہے بقولہ ان اللہ یدافع عن الذین آمنوا اور کافروں سے نفرت ظاہر کرتا ہے ان اللہ لایحب کل خوان کفور پہلے ان اللہ یدافع عن الذین آمنوا میں مسلمانوں کے لیے ان کی حالت مظلومی پر مقابلہ کا اشارہ تھا مگر اس کے بعد
1 ؎ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ انا ابن الذبیحین کہ میں دو ذبیحوں کافرزند ہوں اس سے حضرت ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) کی طرف اشارہ ہو تو بعید نہیں۔ 12 منہ
2 ؎ یعنی اللہ تعالیٰ تقریر میں بھی اور معاملات میں بھی ایمانداروں کی حمایت کرتا ہے اس میں اشارہ ہے کہ انجام کار ان کو غالب کرے گا کفار روکنے کے قابل نہ رہیں گے۔ 12 منہ
بھی کفار قریش ظلم و ستم سے باز نہ آتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے پاس مسلمان زخمی ہو کر اور پٹ کر آیا کرتے تھے اور شکایت کر کے مقابلہ کی اجازت چاہتے تھے مگر آپ فرماتے تھے کہ صبر کرو پھر آپ مدینہ میں گئے تو یہ آیت اذن للذین الخ نازل ہوئی یہ اجازت جہاد میں اول آیت ہے۔
Ayahs 22:36–38صواف جمع صافہ وھی قرارۃ الجمہور ای انھا قائمات قدصفت توائمھالان المسنون نحرھاقائمۃ۔ 12 منہ
یعنی ہر وقت اہل ایمان کے لیے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ جلالین
1 ؎ یعنی نحر کرو۔ 12 منہ