22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو (کیونکہ) قیامت (کے دن) کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہے،1۔

1۔ وہ ایسی چیز نہیں جسے کوئی صحیح الحواس انسان بھولا ہوا رہے یا جسے معمولی بات سمجھتا رہے۔ رومر نے کا مقام ہے کہ جس چیز سے قرآن مجید نے انتہائی تخویف کا کام لیا ہے، اسی واقعہ کے ذکر کو آج غیروں نے نہیں خود ” مسلمانوں “ نے ایک موضوع تفریح وتفنن کا بنا لیا ہے۔ بدنصیب شاعروں کے ہاں تو روز ہجر وشب فراق، روز قیامت سے بڑھی ہوئی مدت دراز سے چلی آرہی تھی، اب نثر نویسوں نے قدم اس سے بھی آگے بڑھایا ہے اور قیامت کے دن پر تفریحی ڈرامے لکھنے شروع کردیئے ہیں۔
Ayah 22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس روز تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے (بچہ) کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور لوگ تجھے نشہ میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی سخت (چیز) ،2۔

2۔ اور اسی گھبراہٹ وبوکھلاہٹ کی شدید حالت لوگوں کی متوالوں کی سی معلوم ہوگی۔ یہ نقشہ سب اس وقت کا کھینچا ہے جب صور پہلی بار پھنکے گا، اور قیامت شروع ہوگی، اور یہ سب چیزیں محض بہ طور مثال اندازہ کے لیے بتائی گئی ہیں۔” مقصود یہ نہیں کہ بس اس زلزلہ کی ہیبت اتنی ہی ہوگی۔ بلکہ مخاطبین کے اذہان میں چونکہ یہ ہیبت بھی عظیم ہے جس پر آثار مذکورہ مرتب ہوں، اس لیے اس کو ذکر کردیا بس زائد کی نفی نہیں ہے “۔ (تھانوی (رح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں جو غیر سکر کو تشبیہا سکر فرمادیا گیا، اس سے صوفیہ کی اس اصطلاح کی اصل نکل آئی کہ بعض حالات باطنی کو بھی اسی مشابہت ومماثلت کی بنا پر سکر کہہ دیا جاتا ہے۔
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے باب میں بغیر علم (و دلیل) کے جھگڑا کیا کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے پیچھے ہولیتے ہیں،3۔

3۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ آیت نضر بن حارث ایک مشہور معاصر کافر کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ یا پھر ابو جہل یا ابی بن خلف کے حق میں۔ لیکن آج تو اس آیت کے مصداق ایک دو نہیں صدہا، ہزار ہا ” پڑھے لکھے “۔ نظرآئیں گے۔ کہیں نثر میں مضامین، ڈرامے اور افسانے لکھے جارہے ہیں کہ خدا مزدوروں مفلسوں کو مصیبت میں دیکھتا ہے اور اسے ذرا رحم نہیں آتا۔ کہیں نظم میں طبع آزمائی ہورہی ہے کہ خدا سرمایہ داروں کے ظلم کو روکتا نہیں۔ اور ان کی اعانت کررہا ہے وقس علی ہذا گویا ان بےمغز بیہودہ نگاروں کے حسب مشورہ اگر کسی دنیا کی تخلیق ہوتی تو اس میں نہ کوئی چھوٹا ہوتا نہ بڑا، نہ کوئی امیر نہ کوئی مطاع، نہ کوئی دولتمند نہ کوئی مفلس، نہ کوئی بیمار نہ کوئی مجرم۔ گویا اس دنیا میں نہ اطاعت کے کوئی معنی ہوتے نہ سخاوت کے، نہ داد رسی کے نہ حذاقت کے نہ ہمدردی کے ! اس لیے کہ یہ چیزیں تو اپنے ظہور کے لیے خود محتاج ہیں حاجت کی، غربت کی، بیماری کی، مظلومیت کی !۔ ایسی عجیب و غریب مساواتی دنیا کا تصور بھی جن دماغوں میں آسکتا ہے، ان سب کی ذہینت بس ایسی ہی ہوتی ہے کہ ہر شیطان کی دسترس اس پر بآسانی ہوجاتی ہے۔ اور وہ ہر باتونی شیطان کی گمراہیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

اس (مردود) کی نسبت تو یہ لکھا جاچکا ہے کہ جو کوئی بھی اسے دوست رکھے گا تو اسے وہ گمراہ ہی کرکے رہے گا اور اس کو (خدا اپنی مشیت تکوینی سے) عذاب دوزخ کی راہ دکھادے گا،4۔

4۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ شیطان اسے گمراہ کرکے عذاب دوزخ تک پہنچا دے گا۔ (آیت) ” کتب علیہ “۔ یعنی اس کی بابت یہ مقدر ہوچکا ہے۔ طے ہوچکا ہے۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو اگر تم (دوبارہ) جی اٹھنے کی طرف سے شک میں ہو تو (اس میں غور کرلو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا،5۔ پھر نطفہ سے پھر خون سے لوتھڑے سے پھر بوٹی سے (کہ بعض) پوری (ہوتی ہیں) اور (بعض) ادھوری تاکہ ہم تمہارے سامنے (اپنی قدرت) ظاہر کردیں،6۔ اور ہم رحم میں جس کو چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں ایک مدت مقرر تک،7۔ پھر ہم تمہیں بچہ (بنا کر پیٹ سے) باہر لاتے ہیں تاکہ تم اپنی بھری جوانی تک پہنچ جاؤ اور تم میں وہ بھی ہیں جو مرجاتے ہیں،8۔ اور تم میں وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے جس سے وہ ایک چیز سے بیخبر ہوجاتے ہیں،9۔ اور تو زمین کو دیکھتا ہے،10۔ کہ خشک ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوش نما نباتات اگاتی ہے

5۔ یعنی نوع انسانی کی ترکیب میں عنصر غالب مٹی کا ہے۔ (آیت) ” فانا خلقنکم “۔ تقدیر کلام یوں ہے کہ میں تمہیں تمہاری خلقت سے متعلق یہ خبر دیتا ہوں یا یہ کہ تم اپنے آغاز خلقت کو سوچو۔ اے فانظروا فی بدء خلقکم (بیضاوی) قیل التقدیر فاخبرکم واعلمکم انا خلقنکم (روح) 6۔ وجود انسانی کی اس ساخت، ترکیب وترتیب کی ایک طرف یکسانی وہمرنگی، دوسری طرف باہمی تفاوت واختلاف دونوں چیزیں جس طرح قدرت، حکمت وصنعت پر شاہد ہیں اسی طرح اس پر بھی کہ جو پہلے اس طرح عدم مطلق سے وجود میں لاچکا ہے، اسے اب اجزائے منتشرہ کو جوڑ بٹور کر درست کردینا کیا مشکل ہے۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ نوعی ترکیب کے بعد، تخلیق انفرادی کا یہ پہلا قدم ہے، نطفہ غذائے انسانی کا خلاصہ درخلاصہ ہوتا ہے۔ (آیت) ” علقۃ “۔ اس حالت کا نام ہے جب نطفہ میں سرخی اور غلظت پیدا ہوجائے۔ (آیت) ” مضغۃ “۔ اس حالت کا نام ہے جب علقہ مرتب اور سخت ہوجائے۔ (آیت) ” مخلقۃ “۔ یعنی وہ حالت جب کہ پورے اعضاترکیب پاجائیں۔ (آیت) ” غیرمخلقۃ “۔ یعنی وہ حالت جب کہ بعض اعضاناقص رہ جائیں۔ 7۔ (یعنی وضع حمل کے عام اور معمولی وقت تک) اور جس کو ٹھہرانا ہی نہیں منظور ہوتا اس کا اسقاط واخراج قبل ہی کردیتے ہیں۔ 8۔ (جوانی تک پہنچنے سے قبل ہی) انسان کی دو قسمیں بہ لحاظ ان کی عمر کے بیان ہوئیں، ایک وہ جو اپنی پختگی کو پہنچائے جاتے ہیں، دوسرے وہ جو اس سے قبل ہی اٹھالیے جاتے ہیں، حکمت تکوینی دونوں ہی صورتوں میں عامل ومؤثر رہتی ہے۔ 9۔ یہ تیسری قسم کے لوگ ہوئے۔ شدت ضعیفی میں قوت حافظہ کا ضعف اور عام قوائے دماغی میں انحطاط روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔ 10۔ (اے مخاطب ! ) پہلے استدلال خلاصہ یہ تھا کہ انسان کی خلقت پر غور کرو، تدریج وآہستگی کے ساتھ اس کو کتنی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور ہر ہر منزل کس حکیمانہ نظم وانتظام کے ساتھ گزاری جاتی ہے۔ پھر عمر کے لحاظ سے بھی ایک خاص ترتیب نظر آتی ہے۔ مصالح تکوینی کے ماتحت کسی کو نوعمر ہی ماردیا جاتا ہے۔ کسی کو اچھے سن وسال تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اور کسی کو اتنی عمر تک کہ قوت ضعف میں اور اختیارواقتدار انحطاط وبے کسی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ آدمی ان کی تفصیلات پر جتنا زیادہ غور کرتا جائے گا۔ یہ حقیقت اور زیادہ روشن ہوتی جائے گی کہ یہ نظام کائنات بخت واتفاق کے ماتحت نہیں چل رہا ہے، بلکہ اس پر کوئی عاقل ترین، قادر ترین، کامل ترین ہستی ہی حکمران ہے۔ آیت میں صنعت و حکمت الہی پر دوسرا استدلال نظام فضائی وکائنات قہری سے پیش ہورہا ہے۔ زمین کا ایک خاص حالت میں ہونا، موسم میں ایک متعین کیفیت کا پیدا ہوجانا، آفتاب میں ایک خاص درجہ کی گرمی، سمندر کا اس سے ایک خاص درجہ پر تاثر، بخارات کا صعود، ہوا میں ایک خاص قسم کی حرکت اور ایک خاص درجہ کی برودت، پانی کا ایک معین مقدار میں اور ایک خاص صورت میں یعنی قطرہ قطرہ ہو کر نزول، زمین میں بارش کا جذب ہونا، نباتات کا اس سے اپنی غذا کا کام لینا، ان میں نشوونما کا ہونا وغیرہا علوم طبعی، کیمیاوی، ارضیاتی کے صدہا مسائل کو عملا اس نظم وتدبیر کے ساتھ حل کرتے رہنا، کام یقیناً حکیم مطلق ہی کا ہوسکتا ہے۔
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ (سب) اس سبب سے کہ اللہ ہی (کی ہستی) حق ہے،11۔ اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے

11۔ (اور وہی یہ سب تغیرات ہر لمحہ وہر آن کرتی رہتی ہے) مشاہدات کا ئنات سے قرآن مجید کا مقصود ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔ یعنی اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات۔ چناچہ یہاں بھی مقصود ارشاد یہی ہے کہ یہ سارے واقعات دلیل ہیں اللہ کی قدرت، حکمت، صنعت، وحدانیت کے، اور انسان (فاعل بالارادہ مخلوق) کی مسؤلیت کے۔
Ayah 22:7

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور (اس سبب سے بھی کہ) قیامت آنے والی ہے اس میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ (دوبارہ) اٹھائے گا انہیں جو قبر میں ہیں،12۔

12۔ مذاہب شرک تو بہت سے ایسے ہیں جو عقیدہ جزاوسزا، حشرونشر کے منکر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے معاصر جو اہل کتاب تھے یعنی یہودونصاری، ان میں بھی یہ عقیدہ بہت ضعیف ہوچلا تھا اور ان کے بعض بعض فرقے تو سرے سے منکر ہی ہوگئے تھے۔
Ayahs 22:8–9

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور انسانوں میں کوئی کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کے باب میں حجت کرتا رہتا ہے بغیر علم کے اور بدون دلیل کے بدون کسی روشن کتاب کے

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

تکبر و گردن کشتی کرتے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے بےراہ کردے13 ایسے شخص کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گے14

13۔ یعنی بجز بےعقلی اور بےعملی کی راہ سے ضلالت پھیلاتے رہنے کے یہ شخص نہ کوئی عقلی دلیل اپنے پاس رکھتا ہے اور نہ نقلی۔ (آیت) ” ھدی “۔ سے مراد ہے دلیل عقلی۔ اور (آیت) ” کتب منیر “۔ سے وحی الہی۔ اے لا سندلہ من استدلال او وحی (بیضاوی) (آیت) ” ثانی عطفہ “۔ لفظی معنی ہیں اپنا شانہ پھیر لینے والا، مراد ہے تکبر کرنے والا، زعم وپندار میں مبتلا رہ کر اکڑنے والا، ثنی العطف عبارۃ عن الکبر والخیلاء (کشاف) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ آیت میں اشارہ خصوصی ابوجہل سے متعلق ہے۔ آج ” روشن خیال “۔ تجددو ” نواز “۔ طبقات بھی اسی ذہنیت کو لئے ہوئے ابھرے ہیں۔ صفات الہی پر بڑی بلندآہنگی سے گفتگو کے لیے نکلے ہیں۔ اور حال یہ ہے کہ جس طرح عقل ومنطق سے تہی دامن ہیں، اسی طرح کسی محقق کے اتباع سے بھی، فقہاء نے آیت سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ بغیر علم وواقفیت کسی مسئلہ میں بحث و مباحثہ جائز نہیں۔ 14۔ دنیا میں رسوائی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ایساشخص گفتگو ومناظرہ میں اہل حق کے سامنے ٹھہرنہ سکے۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

کہ یہ تیرے ہی ہاتھ کے کرتوتوں کا بدلہ ہے اور یہ (ثابت ہی ہے) کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں،15۔

15۔ یہ مجرمین سے فرشتے قیامت میں پکار پکار کر کہیں گے۔
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی پرستش کنارہ پر (کھڑا ہوکر) کرتا ہے پھر اگر اسے کوئی نفع پہنچ گیا (تو) وہ اس پر جما رہا اور اگر (کہیں) اس پر کوئی آزمائش آپڑی تو وہ منہ اٹھا کر واپس چل دیا،16۔ (یعنی) دنیا وآخرت (دونوں) کو کھو بیٹھا یہی انتہائی محرومی ہے

16۔ (کفر کی طرف) مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک مذہب کی صداقت وحقانیت بجائے خود کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ اگر مسلمان رہنے سے انہیں کوئی دنیوی منافع حاصل ہورہے ہیں تو یہ بھی اپنے کو مسلمان کہیں گے اور مسلمان سمجھیں گے۔ لیکن اگر وقتوں اور دشواریوں کا سامنا ہوا تو بس یہ جھٹ سے الگ ہوگئے۔ اور کھلم کھلا بھی اپنی بےدینی کا اظہار کرنے لگے۔ آج دنیا کے 40 کروڑ مسلمانوں کے اندر بھی یہ مرض کس کثرت سے پھیلتا جارہا ہے کہ اسلام کی قدر گویا صرف منافع دنیوی کے لحاظ سے، اور اس کی قیمت صرف مصالح مادی کے تناسب سے ہے۔ (آیت) ” من یعبداللہ علی حرف “۔ یعنی اسلام اس نے قبول تو کرلیا ہے لیکن ایسی بےدلی کے ساتھ اور ایسے اوپری دل سے کہ جیسے کوئی شخص کسی چیز کے کنارے کھڑا ہو اور جیسے موقع پاتے ہی اسے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہو، ذکر منافقین کا ہورہا ہے۔
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسے کو پکار رہا ہے تو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ اسے فائدہ پہنچا سکے یہی تو ہے انتہائی گمراہی،17۔

17۔ توحید کی کھلی ہوئی شاہراہ کو چھوڑ کر انسان کا یہی حال ہوتا ہے۔ وہ کیسے کیسے معبودان باطل کو پکارنے لگتا ہے !....... یورپ کی ” روشن خیال “” وعقل نواز “ قوموں نے توحید و خدا پرستی کی راہ چھوڑ کر بیشمار مخلوقات کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور عملا ان کے ساتھ وہی معاملہ شروع کردیا ہے جو معبود کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یعنی انہیں کو نافع اور ضار سمجھنے لگے ہیں۔
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر (واقعی) قریب تر ہے اس نے نفع (موہوم) سے۔ کیا ہی برا ہے (ایسا) کارساز اور کیا ہی برا ہے (ایسا) رفیق،18۔

18۔ یعنی نہ بڑے کی حیثیت سے کچھ کام آرہا ہے، نہ برابر والے کی حیثیت سے کچھ نفع پہنچا رہا ہے۔ (آیت) ” من ضرہ “۔ جس کا ضرر یعنی جس کا موجب ضرر ہونا، محاورۂ عرب میں بےاصل اور غیر موجود شے پر بھی اطلاق بعید کا ہوتا ہے، بس نفع کا ابعد ہونا بہ معنی اس کے معدوم ہونے کے ہے۔ ھذا علی عادۃ العرب فانھم یقولون لمالایکون اصلا بعیدا من نفسہ کقولہ ذلک رجع بعید اے لارجع اصلا (معالم) کان نفع الصنم بعیدا علی معنی انہ لانفع فیہ اصلا (معالم)
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک اللہ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی بیشک اللہ کر ڈالتا ہے جو کچھ ارادہ کرلیتا ہے،19۔

19۔ (اور اس نے اس جزا اور سزا کا ارادہ کرلیا ہے) خدا ہی قادر مطلق ہے۔ اسی کا ارادہ سب پر غالب ہے۔ وہ خود ہی قانون ساز ہے۔ کوئی قانون اس کے اوپر حاکم نہیں۔ اس میں رد آگیا بہت سی مشرک قوموں اور مشرک فلسفیوں کا جنہوں نے خدا کو محدود الاختیار مانا ہے اور قادر کے اوپر بھی کسی ” قانون قدرت “ کو حاکم ونافذ سمجھا ہے۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ خیال رکھتا ہے کہ اللہ اپنے رسوک کی مدد دنیا اور آخرت میں نہ کرے گا تو اسے چاہیے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے پھر سلسلہ وحی کو کاٹ دے، تو غور کرنا چاہیے کہ آیا اس کی تدبیر اس کی ناگواری کی چیز کو موقوف کر اسکتی ہے ؟ ،20۔

20۔ (اور ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتی) (آیت) ” ما یغیظ “۔ ناگواری کی چیز سے مراد ہے نصروحی الہی۔ غاظھم اللہ بہ من نصرۃ النبی ﷺ ما ینزل علیہ (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے الذی یغیظہ من نصر اللہ (بیضاوی) (آیت) ” ینصرہ “۔ میں ضمیر رسول کی طرف ہے۔ اے لن ینصرہ اللہ بنبیہ (ابن جریر، عن قتادۃ) اے لن ینصرہ اللہ بنیبہ (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے لن ینصر اللہ محمد ﷺ (ابن کثیر۔ عن ابن عباس ؓ صحابہ میں ابن عباس ؓ تابعین میں کلبی، مقاتل، ضحاک، قتادہ، ابن زید، سدی اور اہل لغت ونحو میں فراء وزجاج سے یہی تفسیر منقول ہے۔ (آیت) ” لیقطع “ میں مفعول ” وحی “ مقدر ہے۔ اے لیقطع عن النبی ﷺ الوحی (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے لیقطع الوحی ان ینزل علیہ (کشاف) ” حاصل یہ ہوا کہ نصرت الہیہ آپ کے ساتھ بوجہ وحی ونبوت کے ہے، سو آپ کی ناکامی کی سعی کرنا اس وقت مفید ہوسکتی ہے کہ جب اس نبوت اور وحی کے قصہ کو پاک کردیا جائے سو یہ ہونے کا نہیں۔ پس رہنما کے خلاف میں سعی کرنا موقوف ہے ظن عدم نصرت الہیہ للنبی پر۔ اور اس میں کامیابی کا سامان مجتمع کرنا موقوف ہے قدرت علی قطع النبوۃ پر۔ پس کلام میں اصل شرط اور جزا دونوں امر موقوف ہیں اور عبارت میں دونوں امر موقوف علیہ کو ان کے قائم مقام کردیا گیا۔ “ (تھانوی (رح) وھو احسن التفاسیر وابدعھا عندی (تھانوی (رح) ابن جریر نے بھی ترجیح اسی تفسیر کو دی ہے۔ دوسرے اقوال جو نقل ہوئے ہیں مقصود وما حصل ان کا بھی یہی ہے۔ واعلم ان المقصد علی کل ھذہ الوجوہ معلوم فانہ زجر للکافر عن الغیظ فی مالافائدۃ فیہ (کبیر) بعض عارفین نے کہا ہے کہ آیت سے رضاء بہ قضاء کی ترغیب نکلتی ہے اور کراہت قضاء الہی کی مذمت۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے کھلی ہوئی نشانیاں (بنا کر) اور بات یہ ہے کہ اللہ جس کیلئے ارادہ کرتا ہے اسے ہدایت کر ہی دیتا ہے،21۔

21۔ (اور ہدایت الہی ہی کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ جو بندہ اس کے لئے سعی وطلب کرتا ہے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر ہی لیتا ہے) (آیت) ” کذلک “ یعنی اس میں بھی صرف ہمارے ہی ارادہ وقدرت کو دخل ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

بیشک ایمان والے اور جو لوگ یہود ہوئے ہیں اور صابی اور نصاری اور مجوس اور جو مشرک ہیں اللہ ان (سب) کے درمیان فیصلہ کردے گا قیامت کے دن بیشک اللہ ہر شے سے واقف ہے،22۔

22۔ (چنانچہ ان سب کے کفر و ایمان سے بھی خوب واقف ہے، اسے صحیح فیصلہ کرتے دیر ہی کیا لگ سکتی ہے) (آیت) ’ ان اللہ ...... القیمۃ “ اس فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ کا ظہور ہے۔ یعنی یہ کہ قیامت میں مسلمان جنت میں داخل ہوجائیں گے اور کافر دوزخ میں۔ (آیت) ” المجوس “ ‘۔ مجوس وہ اہل عجم ہیں جن کا دعوی ہے کہ ہم ایک نبی زرتشت نامے کی امت ہیں، لیکن اب وہ عملاتوحید کے بجائے ثنویت کے معتقد ہیں۔ یعنی ایک کے بجائے دو خدا قرار دے لئے ہیں۔ ایک یزدان یعنی خدائے نور و خدائے خیر۔ دوسرا اہرمن یعنی خدائے ظلمت و خدائے شر۔ اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات انہیں دونوں کی کشمکش کی رزمگاہ ہے۔ فقہاء امت نے انہیں بھی اہل کتاب کے حکم میں رکھا ہے۔ چناچہ اہل کتاب کی طرح یہ بھی جزیہ دے کر اور ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔ (آیت) ” الذین امنوا الذین ھادوا، الصبئین النصری، الذین اشرکوا “۔ ان سب پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ ایک آیت اسی سے کچھ ملتی ہوئی سورة بقرہ پارۂ اول میں گزر چکی ہے۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کو سجدۂ (تسلیم) کرتے ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور کثرت سے انسان بھی،23۔ اور بہتوں پر عذاب (بھی) ثابت ہوگیا ہے،24۔ اور کس کو اللہ ذلیل کرے اس کا کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللہ جو چاہے کرے،25۔

23۔ سجدہ سے مراد یہاں سجدہ شرعی نہیں، بلکہ لفظی معنی مراد ہیں۔ یعنی امور تکوینی میں انقیاد و اطاعت اور اسی اعتبار سے اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے لحاظ سے ساری غیر مکلف مخلوق مطیع ومنقاد ہے۔ لیکن انسان چونکہ عقل کی بنا پر مکلف مخلوق ہے، اس سے اس کے درجہ و مرتبہ کے متناسب، علاوہ انقیاد و اطاعت اور اسی اعتبار سے اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے لحاظ سے ساری غیر مکلف مخلوق مطیع ومنقاد ہے۔ لیکن انسان چونکہ عقل کی بنا پر مکلف مخلوق ہے، اس سے اس کے درجہ و مرتبہ کے متناسب، علاوہ انقیاد و تسخیر ہی کے انقیاد تشریعی بھی مقصود کو مطلوب ہے اور وہ ساری نوع انسان میں نہیں پایا جاتا۔ اس لیے انسان کے مطیع ومنقاد ہونے کو بہ طور کلیہ کے نہیں۔ بلکہ محض بطور اکثریت کے ارشاد فرمایا گیا۔” دیگر مخلوقات مذکورہ آیت چونکہ مکلف نہیں ہیں اس لیے انکے مناسب صرف انقیاد تکوینی وتسخیری ہے اور وہ ان سب میں محقق ہے۔ اور انسان مکلف ہے۔ اس لیے اسی کے مناسب علاوہ انقیاد تسخیری وتکوینی کے انقیاد تشریعی واختیاری ہی ہے۔ پس (آیت) ” یسجد “ میں مناسب کی قید لگا دینے سے سجدہ کا تحقق دیگر مخلوقات کے لئے عام ہوگیا۔ اور انسان کے لئے صرف بعض افراد کے اعتبار سے ہوا۔ “ (تھانوی (رح) ” اور سجدہ کے معنی حقیقی کے لئے وجبہہ کا وجود ضروری ہے اور جبہہ ہر مخلوق میں معین ہے۔ “ (تھانوی (رح) سجدہ کے لغوی معنی پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ 24۔ (اسی لئے کہ وہ غیر ساجد یعنی غیر منقاد ہیں) (آیت) ” العذاب “۔ عذاب سے مراد استحقاق عذاب ہے۔ 25۔ وہ حکیم مطلق بھی ہے اور قادر مطلق بھی۔ وہ جسے چاہے اپنی قدرت سے ہدایت دیدیے اور جسے چاہے اقتضائے حکمت سے توفیق نہ نصیب کرے۔ (آیت) ” ومن یھن اللہ “۔ اللہ کا کسی کو ذلیل کرنا یہی ہے کہ اسے توفیق ہدایت نہ رہے۔
Ayah 22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق ہیں،26۔ جنہوں نے اپنے پروردگار کے باب میں اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے ان کے سروں کے اوپر سے گرم پانی چھوڑا جائے گا

26۔ یعنی ایک طرف مومن، دوسری طرف کافر مع اپنے تمام اقسام کے۔
Ayah 22:20

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے گل جائیں گے ان کے پیٹ کی چیزیں،27۔ اور کھالیں

27۔ توریت کا تو خیر ذکر ہی نہیں۔ انجیل جو عام طور پر تمامتر رحم وکرم، شفقت ورحمانیت ہی کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس میں بھی دوزخ کے ہولناک مناظر بار بار پیش کئے گئے ہیں۔ حوالے پیشتر گزر چکے۔ (آیت) ” مافی بطونھم “۔ یعنی انتڑیاں وغیرہ۔
Ayahs 22:21–22

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور انکے (مارنے کے) لئے گرز ہوں گے لوہے کے

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

وہ لوگ جب کبھی گھٹے گھٹے اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے (اب) جلنے کا عذاب چکھتے رہو،28۔

28۔ (ہمیشہ کے لئے اور تمہیں کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا) یہ فرشتے اہل دوزخ سے کہیں گے۔
Ayah 22:23

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے باغوں میں داخل کرے گا کہ ان کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی وہاں ان کو کنگن سونے کے اور موتی پہنائے جائیں گے وہاں ان کی ریشم کی پوشاک ہوگی۔ ،29۔

29۔ زیور اور ریشم اس دارالعمل میں مردوں کے لئے ناجائز ہیں۔ جنت میں جو صرف دارالجزاء ہے اور جس کے قانون اور ضابطے دارالعمل سے بالکل مختلف ہوں گے وہاں بالکل جائز ہوجائیں گے۔
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور ان کو ہدایت ہوگئی تھی کلمہ طیبہ کی طرف اور ان کو ہدایت ہوگئی تھی (خدائے) لائق حمد کے راستہ کی جانب،30۔

30۔ (اسی دنیا میں اور یہ جنت کا انعام واکرام سب اسی ہدایت کا نتیجہ ہے) (آیت) ” الطیب “۔ طیب کا اطلاق ہر پاکیزہ نافع چیز پر ہوسکتا ہے۔ یہاں مراد ہے کلمہ طیبہ توحید، بعض نے مراد قرآن وغیرہ لی ہے۔ ماحصل ہر تفسیر کا ایک ہی ہے۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) روکتے ہیں اللہ کی راہ سے،31۔ اور مسجد حرام سے،32۔ جس کو ہم نے مقرر کیا ہے لوگوں کے واسطے کہ اس میں رہنے والا اور باہر سے آنے والا (سب) برابر ہیں،33۔ اور جو کوئی بھی اس کے اندر کسی بےدینی کا ارادہ ظلم سے کرے گا ہم اسے عذاب درد ناک چکھائیں گے،34۔

31۔ یعنی دین کے کام سے۔ یہاں مراد عمرہ ہے۔ 6 ؁ھی میں جب رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کا قصد کیا تھا تو مشرکین مکہ نے آپ کو مقام حدیبیہ پر آکر آگے بڑھنے سے روک دیا تھا اشارہ اسی طرف سے مفصل ذکر پ 26 سورة فتح کے ذیل میں آئے گا۔ 32۔ یعنی حرم مکہ ہے۔ شریعت کی مخالفت تو سب ہی جگہ موجب عذاب ہے۔ حرم کے اندر اور زیادہ موجب عذاب ہے۔ (آیت) ” المسجد الحرام “۔ مسجد حرام سے مراد یہاں پورا رقبہ حرم ہے۔ والمراد بالمسجد الحرام مکۃ وعبربہ عنھا (روح) فیہ قولان ...... الثانی انہ ارادبہ الحرم کلہ (ابن العربی) 33۔ (اس کے مأمن و مرجع ہونے کی حیثیت سے) حرم محترم کے دروازہ ہر مومن موحد کے لئے کھلے ہوئے ہیں، کسی کے واسطے اسے کوئی خصوصیت نہیں۔ پردیسی اور وطنی، ملکی وآفاقی دونوں اس پر یکساں حق رکھتے ہیں۔ فقہاء حنفیہ نے اسی آیت سے اخذ کرکے لکھا ہے کہ حرم کی سرزمین مثل وقف کے ہے۔ کسی کو اس میں ملک کا دعوی کرنا یا کسی کو ان حدود میں انتفاع سے روکنا جائز نہیں، نہ یہاں اراضی کا کرایہ لینا درست ہے۔ مکہ کے مکانات کی بیع کی کراہت پر خود تابعین اور صحابہ کی روایات موجود ہیں۔ اور یہ بجائے خودلیل ہے اس امر کی ان کے نزدیک بھی مسجد حرام سے یہاں مراد سارا حرم مکہ ہے نہ کہ محض مسجد حرام روی عن الصحابۃ والتابعین ما وصفنا من کراھۃ بیع بیوت مکۃ وان الناس کلھم فیھا سواء وھذا یدل علی ان تاویلھم لقولہ تعالیٰ والمسجد الحرام للحرم کلہ (جصاص) 34۔ جو کوئی ایسے خلاف دین کام کا ارادہ کرے گا اور پھر ظلم کے ساتھ، اسے یقیناً عذاب شدید بھی بھگتنا ہے۔ (آیت) ” من ..... بظلم “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ من یرد فیہ الحاد ا بظلم (ابن جریر) (آیت) ” بظلم “۔ ظلم سے مراد شرک بھی لی گئی ہے۔ اے بشرک (ابن عباس ؓ ھو ان یعبد فیہ غیر اللہ (ابن جریر۔ عن مجاہد) وکذا قال قتادۃ وغیر واحد (ابن کثیر) بالحاد میں ب زائد ہے۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد یاد دلائے) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ کی جگہ بتا دی،35۔ (اور حکم دیا) کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،36۔ اور میرے گھر کو پاک رکھنا طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے،37۔

35۔ (آیت) ” البیت “۔ بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ۔ (آیت) ” بوانا “۔ یعنی خانہ کعبہ کی عمارت اس وقت موجود نہ تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہدایت غیبی پاکر خود وہاں تعمیر شروع کی۔ یہ سارا بیان حرم محترم کی عظمت مزید ظاہر کرنے کو اور مجرموں کی مزید تہدید کے لئے ہورہا ہے۔ 36۔ (جیسا کہ اب تک بھی نہیں کیا ہے) ذکر بیت کے ساتھ ہی ممانعت شرک کا ذکر اس لئے نہایت ہی مناسب ہوا کہ کسی نافہم کو تعظیم بیت سے پرستش بیت کا اور اس کے معبد ہونے سے اس کے معبود ہونے کا وہم نہ پیدا ہوجائے۔ ان مفسرہ ہے اور قائلین لہ یہاں مقدر مانا گیا ہے۔ انھی المفسرہ للقول المقدر اے قائلین لہ (مدارک) 37۔ اس حکم تطہیر میں نجاستیں مادی ومعنوی دونوں قسموں کی آگئیں۔ الفاظ آیت سے بعض عارفوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ بعض اوقات طالب کی بھی بعض خدمتیں شیخ کے ذمہ واجب ہوجاتی ہیں۔
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو لوگ تمہارے پاس پیدال بھی آئیں گے اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی،38۔

38۔ مقصود یہ ہے کہ جو آنے والے ہیں ہر حال میں آئیں گے۔ خواہ سواری نصیب نہ ہو، پیدل ہی آنا پڑے۔ سواری کے جانور ملیں مگر مشقت سفر سے وہ ہلکان ہوہوجائیں۔ یا مسافت بہت دور دراز کی طے کرنا پڑے (ملاحظہ ہو ضمیمہ سورة ہذا) ابراہیم (علیہ السلام) کو اس اعلان کا حکم اس وقت ملا تھا جب دنیا نہ تار سے واقف تھی نہ ٹیلیفوں سے نہ مائیکروفون سے نہ لاؤڈ اسپیکر سے۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا معلوم کس لاہوتی اسٹیشن سے اور کس ملکوتی میٹر پر اس پیام کو نشر کیا کہ روئے زمین کے ہر براعظم کے ایک ایک گوشہ میں سمندر کے ایک ایک جزیرہ میں یہ آواز پہنچ گئی اور ہزاروں برس گزر چکے کہ خلقت آج تک اس بےآب وگیاہ سرزمین کی طرف کھینچی چلی آتی ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جب یہ حکم ملا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار میری آواز کون سب کے کانوں تک پہنچائے گا ؟ جواب ملا کہ ہم !۔۔ اتنا بلیغ، مؤثر، سچا جواب مخلوق کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتا تھا۔ خالق ہی کے لیے ممکن تھا۔ (آیت) ” یاتوک رجالا وعلی کل ضامر “۔ مطلب یہ ہوا کہ سفر حج پیدل بھی اور سواری پر بھی دونوں طرح جائز ہے۔ یقتضی اباحۃ الحج ما شیئا وراکبا ولادلالۃ فیہ علی الافضل منھا (جصاص)
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ اپنے فوائد کیلئے آموجود ہوں،39۔ اور تاکہ ایام معلوم میں اللہ کا نام لیں ان چوپایوں پر جو اللہ نے انکو عطا کئے ہیں،40۔ پس تم بھی اس میں سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ،41۔

39۔ فوائد سے مراد اصلا تو منافع اخروی ہیں مثلا حج، عمرہ رضاء حق، اور تبعا دنیوی بھی مثلا تجارت، البتہ منافع دنیوی کو مستقل مقصود بنالینا ممنوع ہے۔ ظاہرہ یوجب ان یکون قداراید بہ منافع الدین وان کانت التجارۃ جائزۃ ان تراد (جصاص) ویدخل فیھا منافع الدنیا علی وجہ التبع والرخصۃ دون ان تکونھی المقصودۃ بالحج (جصاص) اسلام کے ہر رکن اور ہر عبادت کی طرح حج کے فوائد ومصالح بھی بیشمار ہیں۔ انفرادی وشخصی بھی اور ملی واجتماعی بھی، اور مادی وروحانی بھی، احکام الہی کی تعمیل بجائے خود ایک سب سے بڑی روحانی لذت ہے۔ پھر اسلام کے مولد، سردار اسلام کے وطن اور ان تمام مقامات کی زیارت جن سے اسلام وسردار اسلام دونوں کی اولین تاریخ وابستہ ہے کس درجہ سبق آموز، ولولہ انگیز ومؤثر ہوسکتی ہے۔ دنیوی وملی حیثیت کو لیجئے تو مسلمانان عالم کے درمیان تبادلہ خیالات اور یک جہتی پیدا کرنے کے لئے، نیز بین الاقوامی تجارت وسیاست کے لیے اس سالانہ عالمگیر اجتماع سے بہتر ذریعہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اور افراد کو جو تجربے لمبے اور اکثر بحری سفر کے ہوجاتے ہیں وہ اس سب کے علاوہ۔ (ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی) 40۔ چوپایوں سے مراد قربانی کے جانور، اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری ہیں، (آیت) ” ایام معلومت “ میں معلوم سے مراد قربانی کی تاریخ 10، 11، 12 ذی الحجہ ہیں۔ ھی عشر ذی الحجۃ عند ابی حنیفۃ (رح) واخرھا یوم النحر وھو قول ابن عباس ؓ و اکثر المفسرین (مدارک) روی عن علی ؓ وابن عمر وان المعلومات یوم النحر ویومان بعدہ (جصاص) قربانی کا منکر سطحی دماغ والا گروہ حال میں پیدا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن میں کہیں قربانی کا ذکر نہیں ملتا۔ کاش وہ قرآن ہی پر غور کرنا سیکھے اور اس آیت سے قر بانی کی اہمیت کا سبق لے۔ 41۔ فقہاء مفسرین نے تصریح کی ہے کہ صیغۂ امر یہاں استحبابی ہے۔ فرضیت کے مفہوم میں نہیں۔ الامر للاباحۃ (مدارک) ظاھرہ یقتضی ایجاب الاکل الاان السلف متفقون علی ان الاکل منھا لیس علی الوجوب (جصاص) ولا خلاف من السلف ومن بعدھم من الفقھاء ان قولہ فکلوا منھا لیس علی الوجوب (جصاص)
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر لوگوں کو چاہئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں،42۔ اور اپنے واجبات کو پورا کریں،43۔ اور چاہیے کہ (اس) قدیم گھر کا طواف کریں،44۔

42۔ یعنی احرام (حج کی وردی) اتاردیں، حجامت بنوائیں، غسل کریں وقس علی ھذا۔ احرام ولبیک کے ساتھ ہی حاجی پر ایک عاشقانہ ومستانہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ہزار ہا انسانوں اور جانوروں کے ہجوم میں دھکم دھکا، گرد و غبار، جسم اور جامہ احرام گرد آلود۔ اجازت نہ خط بنوانے کی نہ ناخن کٹانے کی نہ تیل لگانے کی، اب حکم ہوتا ہے کہ وہ ممانعت کا زمانہ ختم ہوا۔ اب آزادی سے نہائیں دھوئیں، کپڑے بدلیں، تیل لگائیں، خط بنوائیں، وغیرہا۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ بات ہوچکی اور جو کوئی بھی اللہ کے محترم احکام کا ادب کرے گا سو یہ اس کے حق میں اس کے پروردگار کے پاس بہتر ہوگا،45۔ اور اللہ نے حلال کردیئے ہیں تمہارے لئے چوپائے بجز انکے کہ جو تم کو پڑھ کر سنا دیئے گئے،46۔ سو تم بچے رہو بتوں کی گندگی سے اور بچے رہو جھوٹی بات سے،47۔

43۔ نذر کے تحت میں ہر وہ چیز داخل ہے جو اپنے اوپر واجب کرلی گئی ہو۔ یہاں وہ تمام اعمال مراد ہیں جو خود عمل حج کے ضمن وذیل میں لازم ہوں، مثلا منی میں تین نشانوں پر کنکریاں پھینکنا یا جو قربانیاں وغیرہ از خود اپنے اوپر لازم کرلی گئی ہوں۔ (آیت) ” ولیوفوا “۔ صیغہ امر وجوب کے معنی میں ہے۔ والامر علی الوجوب (جصاص) نذر جس مراد کیلئے بھی مانی جائے، چاہیے کہ ہمیشہ اللہ ہی کے نام کی ہو۔ کسی اور کے نام کی نذر حرام ہے۔ 44۔ یہ طواف فرض ہے اور اصطلاح فقہ میں طواف الزیارۃ یا طواف الافاضہ کہلاتا ہے۔ (آیت) ” ولیطوفوا “۔ یہاں بھی صیغہ امر وجوب ہی کے لیے ہے۔ ظاھرہ یقتضی الوجوب لانہ امر والاوامر علی الوجوب (جصاص) (آیت) ” البیت العتیق “۔ کے ایک معنی تو خانہ قدیم کے ہیں۔ قیل للقدیم العتیق (راغب) العتیق القدیم (ابن جریر۔ عن ابن زید) العتیق القدیم قالہ الحسن وابن زید (بحر) سمی بہ لانہ قدیم (معالم۔ عن الحسن وابن زید یعنی وہ گھر جو شروع ہی سے معبد الہی ہے۔ خانہ کعبہ کی تاریخ اتنی پرانی ہوچکی ہے کہ خود تاریخ کو بھی اب یاد نہیں رہی ہے۔ اب اس کی قدامت کی شہادت خود مخالفین بھی دے رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ دوسرے معنی خانہ محفوظ کے ہیں۔ یعنی وہ گھر جو امن کی جگہ بنادیا گیا ہے اور جباروں کی گرفت سے آزاد رہا ہے۔ المقتضی من الجبایرۃ قالہ ابن الزبیر وابن ابی بخیح وقتادۃ (بحر) 45۔ یعنی احکام مخصوص کا بیان تو ہوچکا۔ اب عام کلیہ یہ بیان ہوتا ہے کہ جو بھی احکام الہی سنے، جو کوئی ان کا ادب ولحاظ رکھے گا علما اس طرح کہ انہیں حاصل کرے اور عملا اس طرح کہ ان کی خلاف ورزی نہ کرے۔ سو یہ احکام الہی کا ادب واحترام اسی کام آئے گا۔ اور سبب بن جائے گا بلندی درجات کا، عفو سیئات کا، حصول خیروبرکات کا۔ (آیت) ” حرمت اللہ “۔ جو چیزیں بھی محبت و تقرب سے اللہ کی جانب منسوب ہیں وہ سب اس میں داخل ہوگئیں مثلا احکام الہی، کتب دین، مکانات مقدس، اوقات متبرک، بندگان مقرب (ملائکہ، انبیاء، صالحین) آثارکاملین وغیرہا۔ لہ میں ل تخصیص کا ہے۔ یعنی فائدہ خوداسی کا ہے۔ کسی اور کا نہیں۔ 46۔ یعنی بجز ان چوپایوں کے جن کی حرمت قرآن ہی کی دوسری آیتوں میں مذکور ہے اور سب چوپائے تمہارے لیے حلال ہیں۔ حدود حرم کے اندر ممانعت شکار کی ہے نہ کہ ذبح کی۔ 47۔ (خصوصا شرک جیسے کذب اعظم سے) (آیت) ” قول الزور “۔ جھوٹی بات کے تحت میں ہر جھوٹ آجاتا ہے۔ لیکن دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کلمہ توحید کے برخلاف کلمہ شرک کا اقرار ہے۔ (آیت) ” الرجس من الاوثان “۔ گندگی یہی کہ بتوں کو معبودیت میں شریک کرلیاجائے۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

جھکے رو اللہ کی طرف اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرکے اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے تو جیتے وہ گر پڑا آسمان سے پھر پرندوں نے اسے نوچ ڈالا یا اس کو ہوا نے کسی دور دراز جگہ جا پھینکا،48۔

48۔ غرض یہ کہ بری طرح ہلاک ہی ہوا تو جس طرح وہ بدنصیب منزل مقصود سے بہ مراحل دور پڑگیا، اسی طرح یہ بدنصیب مشرک بھی راہ حق بالکل کھوبیٹھا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ تشبیہ میں شکاری پرندوں سے مراد نفس کے ادہام اور وسوسے ہیں اور ہوا کے جھکڑ سے مراد شیطان کا حملہ ہے۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ بات ہوچکی، اور جو کوئی (دین) خدا کی یاد گاروں کا ادب رکھے گا سو یہ (ادب) دلوں کی پرہیزگاری میں ہے،49۔

49۔ (آیت) ” شعآئر اللہ “۔ سے یہاں خاص طور پر قربانیاں مراد ہیں۔ مطلب یہ کہ احکام الہی کی عام تعظیم واحترام کا کلیہ تو بیان ہوچکا۔ اب تاکیدی حکم قربانیوں کے باب میں دیا جارہا ہے۔ اوپر شرک کی مذمت بار بار ہوچکی تھی۔ اس آیت نے اسے کھول دیا کہ شرک بری چیز ہے لیکن غیر اللہ کی تعظیم بری نہیں۔ بلکہ جو چیزیں اللہ کی جانب منسوب ومنتسب ہیں ان کی تعظیم و تکریم تو عین جزء دین ہیں۔ فقہاء نے کہا کہ تعظیم غیر اللہ مستقلا ممنوع وناجائز ہے۔ لیکن بہ لحاظ نسبت و تقرب ذات الوہیت جائز ومشروع ہے بعض عارفوں نے یہاں سے دو مسئلہ نکالے ہیں، ایک یہ کہ تقوی کا اصل محل قلب ہے۔ دوسرے یہ کہ شعائر دین کی (جن کے اندر ہے واولیا کے آثار بھی شامل ہیں) تعظیم حدود شرعی کے اندر خود مشروع ہے۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تمہارے لئے ان سے فوائد حاصل کرنا (جائز ہیں) ایک مدت معین تک،50۔ پھر اس (کے ذبح) کا موقع بیت عتیق کے قریب ہے،51۔

50۔ یعنی جب تک وہ جانور، بہ قاعدہ شرعی ،” ہدی “ نہ بنا دیا جائے، اس جانور سے اور کام لینا، مثلا اس پر سواری، باربرداری، دودھ وغیرہ سب جائز ہیں۔ 51۔ یہاں بیت العتیق سے مراد کل حرم ہے۔ یعنی ذبح کی جگہ حدود حرم کے اندر ہے، اس سے باہر نہیں۔ (آیت) ” البیت العتیق “ کے لفظی معنی کے لیے ملاحطہ ہو حاشیہ 44۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی رکھ دی تھی،52۔ تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام ان چاپایوں پر لیں جو اس نے انہیں عطا کر رکھے ہیں،53۔ سو تمہارا خدا تو خدائے واحد ہی ہے،54۔ تم اسی کے آگے جھکو،55۔ اور آپ خوش خبری سنادیجیے گردن جھکا دینے والوں کو،56۔

52۔ قربانی کا حکم کسی نہ کسی صورت میں ہر پچھلی شریعت میں موجود رہا ہے۔ یہ شریعت اسلامی کا کوئی نیا اور انوکھا حکم نہیں اور اہل کتاب کے مذہب (یعنی مذہب بنی اسرائیل) میں تو قربانی مذہب کا ایک اہم رکن ہے۔ حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، آج منکرین کا جو گروہ کہہ رہا ہے کہ قربانی کا حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں۔ کاش وہ آیت نمبر 29 کی طرح اس آیت پر بھی غور کرنا سیکھے ! (آیت) ” لیذکروا ...... الانعام “۔ یعنی مقصود اصلی تو بس اللہ کے نام کی تعظم اور اللہ کے نام سے حصول تقرب رہا ہے، مذبوح اور مذبح کی حیثیت صرف آلہ اور ظرف کی ہے۔ بعض اہل علم صوفیہ نے مفہوم آیت کے عموم واطلاق سے اہل باطن کے مسلکوں میں اختلاف کے باوجود اتحاد مقصود کا نکتہ بھی نکالا ہے۔ 53۔ مقصود اصلی بس اسی کی تعظیم ہے۔ حرم ہدی وغیرہ کے آداب و احکام سب اسی غایت کے لیے ہیں۔ 54۔ (سو نہ تو کسی غیر اللہ کے آگے بھینٹ چڑھاؤ اور نہ کسی مکان وغیرہ کو معظم بالذات سمجھ کر ہرگز اپنے اندر شائبہ شرک پیدا ہونے دو ) 55۔ (جنت و رضاء الہی کی) (آیت) ” المخبتین “۔ یعنی احکام شریعت کے آگے گردن جھکا دینے والوں کو۔ 56۔ یعنی اس کی ذات کا، صفات کا، احکام کا، وعدہ وعید کا، ذکر کیا جاتا ہے۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کے دل ڈر جاتے ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے،57۔ اور جو مصیبتیں ان پر پڑتی ہیں ان پر صبر کرنے والوں کو اور نماز کی پابندی کرنے والوں کو اور (ان کو) جو خرچ کرتے رہتے ہیں اس میں سے جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے،58۔

57۔ گویا توحید خالص چیز ہی ایسی بابرکت ہے کہ اس سے یہ تمام کمالات اخلاقی وروحانی پیدا ہوجاتے ہیں۔ 58۔ (اور اس کی عظمت توحید کو اور زیادہ ظاہر کرنے والے۔ چناچہ یہی حکم کہ اللہ کی جانب منسوب ونامزد ہوجانے کے بعد پھر اس جانور پر حکم اس کے مالک کا نہیں چل پاتا۔ مالک مجازی کی عبدیت اور مالک حقیقی کی معبودیت ظاہر کرنے کو بالکل کافی ہے۔ سو کہیں تم ان قربانی کے جانوروں ہی کو معظم بالذات نہ سمجھ بیٹھنا) (آیت) ” البدن “۔ بدن جمع ہے بدنہ کی۔ اصل معنی ہیں موٹے تازہ تیار اونٹ کے۔ الابل العظام الاجسام الضخام (ابن جریر) لیکن اہل عربیت نے اس سے گائے اور اونٹ دونوں مراد لیے ہیں اور یہی مذہب فقہاء حنفیہ کا ہے۔ البقرۃ والبعیر (ابن جریر، عن عطاء) ھی من الابل والبقر کالاضحیۃ من الغنم (قاموس) وھو مذھب الحنفیۃ وھو قول عطاء و سعید بن المسیب (روح) قربانی کے دوسرے جانور یعنی بھیڑ اور بکری بھی اسی حکم میں داخل ہیں۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے جانوروں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ (کے دین) کی یادگاریں بنادیا ہے،59۔ تمہارے حق میں ان ہی کے اندر بھلائی (رکھ دی گئی) ہے سو تم انہیں کھڑے کرکے ان پر اللہ کا نام لیا کرو،60۔ پھر جب وہ کروٹ کے بل گر پڑیں،61۔ تو خود بھی ان میں سے کھاؤ اور بےسوال اور سوالی کو بھی کھلاؤ،62۔ ہم نے اسی طرح ان (جانوروں) کو تمہارے زیر حکم کو دیا تاکہ تم شکر ادا کرو،63۔

59۔ اصل بھلائی تو یہی ہے کہ ان کے ذریعہ سے حصول اجرورضاء الہی کا موقع ملتا ہے۔ اور ضمنا دنیوی فوائد بھی ہیں۔ مثلا ان کا گوشت کھانا کھلانا۔ اے نفع فی الدنیا واجر فی الاخرۃ (روح۔ عن ابن عباس ؓ ؓ والسدی) اے اجر ومنافع (ابن جریر۔ عن مجاہد) 60۔ یہ خاص ذکر اونٹ کی قربانی کا ہے۔ اسی کو اس طریقہ پر ذبح کیا جاتا ہے۔ بدنۃ کا اصل اطلاق بھی اسی پر ہوتا ہے اور اسی کی قربانی افضل بھی ہے۔ لفظ (آیت) ” صوآف “۔ سے بعض صوفیہ نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ حق تعالیٰ عبادات میں صف بندی کو پسند کرتا ہے۔ مثلا نماز میں، جہاد میں، قربانی میں۔ اس لیے صوفیہ مشائخ کے حلقہ ذکر بھی جو درحقیقت غیر اللہ کے مقابلہ کے لیے میدان جہاد اور خودی کے حق میں قربانگاہ ہیں اسی اصل کی ایک فرع ہیں۔ 61۔ (اور گر کر ٹھنڈے ہوجائیں) وہی اونٹ کے طریق ذبح کا بیان ہورہا ہے۔ 62۔ (کہ یہ دو قسمیں ہیں اہل حاجت کی) قانع وہ ہے جو صبر کیے بیٹھا ہے، جو کچھ بھی مل جائے، اسے قبول کرلیتا ہے۔ معتر وہ ہے جو بےقرار ہوہوکرمانگتا رہتا ہے۔ آیت میں امردو آتے ہیں اور دونوں امر وجوب کے لیے نہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ پہلا امر (یعنی کلوا) اباحت وجواز کے لیے ہے۔ اور دوسرا امر (آیت) ” (اطعموا) “۔ ندب و استحباب کے لیے ہے۔ لیکن بعض عارفین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قربانی کا گوشت اہتمام کے ساتھ تناول فرماتے تھے جو دلیل ہے اس کے مندوب ہونے کی، راز اس کا یہ ہے کہ جو چیز بھی اللہ کی جانب منسوب ہوجائے وہ ہے ہی اس قابل کہ اس سے رغبت کی جائے۔ اور اس بنا پر مباحات سے اس نیت کے ساتھ منتفع ہونا مطلوب ٹھہرا۔ 63۔ (اس نعمت تسخیرپر) اونٹ اور گائے بیل کا انسان سے قوی ترہونا ظاہر ہے۔ انسان کا باوجود اپنے ضعف کے ان پر قادر ہوجانا ایک مخصوص نعمت الہی ہے۔ قربانی دوسرے مذاہب میں ایک مشرکانہ رسم ہے۔ اسلام میں محض ایک توحیدی عبادت ہے۔ خدائے واحد کی طرف سے دھیان ہٹانے والی نہیں۔ عین اس کی طرف توجہ جمانے والی، رشتہ عبودیت کو اور محکم کرنے والی۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون،64۔ البتہ اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے،65۔ اسی طرح اللہ نے انہیں تمہارے زیر حکم کردیا ہے تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس سے تمہیں ہدایت دی،66۔ اور آپ اخلاص والوں کو خوش خبری سنادیجیے،67۔

64۔ (جیسا کہ مشرک قوموں کا عقیدہ بھینٹ چڑھا کر اپنے دیوتاؤں خداؤں سے متعلق ہے) اہل کتاب تک قربانی یعنی جانوروں کے خون بہانے کو ایک ذریعہ کفارہ کا سمجھتے تھے۔ عہد عتیق میں ہے :۔” بدن کی حیات لہو میں ہے۔ سو میں نے مذبح پر وہ تم کو دیا ہے کہ اس سے تمہاری جانوں کے لیے کفارہ ہو، کیونکہ وہ جس سے کسی جان کا کفارہ ہوتا ہے سولہو ہے “۔ (احبار۔ 17: 11) اور عہد جدید میں ہے :۔” تقریبا ساری چیزیں شریعت کے مطابق خون سے پاک کی جاتی ہیں اور بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی “۔ (عبرانیوں 9: 22) اور مشرک قوموں کا تو ذکر ہی کیا۔ اہل بابل کا عقیدہ تھا کہ دیوتاؤں کی دعوت آسمان پر ہوتی ہے۔ ان کے نام پر جو بھینٹ چڑھائی جاتی ہے وہ اس کی خوشبو محسوس کرتے ہیں، اسے کھاتے ہیں۔ وقس علی ہذا ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ نفس ذبح کی نیت جو ایک فعل قلب ہے، باری تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص رہنا چاہیے اور غیر اللہ کی رضا و تقرب کی خاطر جانور ذبح کرنا ایک صورت شرک کی ہے۔ البتہ گوشت کھانے کھلانے یا اسی قسم کے اور فوائد حاصل کرنے کے لیے ذبح بالکل جائز ہے کہ لحم ودم وغیرہ سے وہ ذات بالکل بےنیاز وبری ہے۔ 65۔ یعنی اجر تو تمہارے اخلاص ونیت تقرب پر ملتا ہے آیت نے قربانی کے سلسلہ میں ایک بڑی اہم اصل کا بیان کردیا “۔ 66۔ (اور راہ حق پر قائم رکھا، ورنہ تم بھی مسیحیوں کی طرف کفارہ وغیرہ کے عقائد باطلہ وشرکیہ میں مبتلا ہو کر رہ حق سے بھٹک گئے ہوتے۔ 67۔ (اے ہمارے پیغمبر ! ) احسان یہاں اخلاص کے معنی میں ہے۔ المحسنین اے المخلصین (بیضاوی)
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ ایمان والوں سے دور کردیگا (مشرکوں کے غلبہ واقتدار کو) ،68۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا کسی دغا باز کفر والے کو،69۔

68۔ (مستقبل قریب میں چناچہ مشرکین مکہ کو اس پر قدرت نہ باقی رہے گی کہ وہ مسلمانوں کو ادائے حج وعمرہ وغیرہ سے روک سکیں) آیت کا زمانہ نزول وہ ہے جب مکہ کی مشرک ریاست ہر طرح غالب وچیرہ دست تھی، اور مسلمان اس کے مقابلہ میں ہر طرح کمزور وبے بس۔ 69۔ (سو وہ نصرت ان کی نہیں اہل ایمان کی کرے گا) کافروں، منکروں، بےدینوں کو جو مہلت مل جاتی ہے وہ اول تو عارضی ہوتی ہے، دوسرے کسی مصلحت تکوینی کے ماتحت۔ ورنہ نصرت الہی کے اصل اور مستقل مستحق تو اہل ایمان ہی ہیں۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

(اب لڑنے کی) اجازت دی جاتی ہے انہیں جن سے لڑائی کی جاتی ہے،70۔ اس لئے کہ ان پر بہت) ظلم ہوچکا،71۔ اور بیشک اللہ ان کی نصرت پر (ہر طرح) قادر ہے،72۔

70۔ (خواہ مخواہ اور چھیڑ چھیڑ کر کافروں کی طرف سے) یعنی مسلمانوں کو اب تک مقابلہ اور لڑائی کی اجازت نہ تھی، ان پر ہر طرح کے ظلم وستم ہوتے رہے۔ اور وہ یعنی خدائی فوج والے، خدائی ڈسپلن کے ماتحت ان مظالم اور چیرہ دستیوں کو صبر و سکون کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ اب پہلی بار انہیں بھی جواب دینے کی اجازت مل رہی ہے۔ یہ آیت احکام قتال و جہاد میں اولین آیت ہے۔ اور مکی اسلام کے آخری زمانہ میں ہجرت نبوی سے کچھ ہی قبل نازل ہوئی۔ 71۔ (اور یہی مظلومیت چاہے بالفعل ہو یا بالقوی، حالی ہو یا امکانی، علت ہے مشروعیت جہاد کی) (آیت) ” بانھم ظلموا “۔ کی علت ہونے سے کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جو کفار ظالم نہ ہوں مگر اسلام کے زیر فرمان بھی نہ ہوں وہ محل قتال نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس علت میں انحصار کی کوئی دلیل نہیں۔ بلکہ یکون الدین للہ کو غایت قرار دینے سے دوسری علت یہ بھی معلوم ہوئی “۔ (تھانوی (رح) ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 72۔ (چنانچہ عنقریب وہ انہیں باوجود ان کی ظاہری بےسامانی کے غالب کرکے رہے گا)
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

جو اپنے گھروں سے بےوجہ نکالے گئے محض اس بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے،73۔ اور اگر اللہ لوگوں کا زور ایک دوسرے سے نہ گھٹاتا رہتا تو نصاری کی خانقاہیں اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے (سب) منہدم ہوگئے ہوتے،74۔ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے،75۔ بیشک اللہ قوت والا ہے غلبہ والا ہے،76۔

73۔ ذکر مسلماناں مکہ کا ہے ان سے مشرکوں کو کوئی یہ شکایت تھوڑے ہی تھی کہ یہ لوگ شورش پسند ہیں یا چوریاں کرتے ہیں یا ڈاکے ڈالتے ہیں۔ الزام تھا تو صرف یہی کہ یہ ہمارے آبائی دھرم اور باپ دادا کے وقت کے دیویوں دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کے ہو رہے ہیں ! بس اسی قصور پر بیچاروں کو وطن چھوڑنا پڑا۔ اور ہجرت پہلے حبشہ کی جانب اور پھر مدینہ کو کرنی پڑی۔ 74۔ یعنی اگر یہ سنت اللہ ہمیشہ سے نہ چلی آئی ہوتی کہ ظالموں، سرکشوں، زبردستوں کا زور انسانوں ہی کے بعض گروہوں کے ہاتھ سے تڑوایا جاتا رہتا تو اب تک جو جو عمارتیں توحید کی مرکز رہی ہیں۔ مثلا مسجدیں جواب بھی اسی غرض کے لیے ہیں، اور اہل کتاب کی مذہبی عمارتیں جو اپنے اپنے زمانہ میں یہ کام انجام دے چکی ہیں، سب ختم ہوگئی ہوتیں۔ گویا جہاد کی مشروعیت ومطلوبیت اقامت توحید ہی کی خاطر ہے۔ خوب خیال رہے کہ پرانی عبادتگاہوں کے سلسلہ میں بھی ذکر مندروں، شوالوں، ٹھاکردواروں کا نہیں بلکہ صرف انہیں مذاہب کا آنے پایا ہے ہے جو بعد کو عملا جیسے کچھ بھی ہوگئے ہیں، لیکن اصلا بہرحال توحیدی ہی مذہب تھے۔ ” کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ گاہ گاہ اہل حق بھی تو مغلوب ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اتنا غلبہ جس میں حق محونہ ہوجائے، مقصود بالحکمت ہے۔ سو یہ حاصل رہا ہے “۔ (تھانوی (رح ) 75۔ یعنی بہ شرط ثبات انجام میں غلبہ اہل حق ہی کو ہوتا ہے۔” اور اعتبار ہر کام میں انجام ہی کا ہوتا ہے۔ جیسا دوران علاج میں مریض کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں مگر انجام اگر صحت ہے تو علاج کو نافع کہیں گے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” ینصرہ “ میں اللہ کی مدد سے مراد، اللہ کے دین کی مدد ہے۔ ینصرہ اے ینصردینہ (بیضاوی) انما المراد من نصرۃ اللہ نصرۃ دینہ (کبیر) 76۔ قوت و غلبہ کی آخری باگ اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس کا ارادہ ہر مادی سامان اور ہر ظاہری تدبیر سے بالاتر ہے۔