Ayah 22:11 تقویٰ و پرہیزگاری کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اے لوگو ! بچو تم اپنے رب۔ کے عذاب اور اس کی پکڑ۔ سے "۔ صدق دل سے اس پر ایمان لا کر۔ اس کے اوامر کو بجا لا کر اور اس کی نواہی سے اجتناب کر کے کہ کافر اپنے کفر سے باز آجائے اور فاسق و فاجر اپنے فسق و فجور سے۔ غرض کہ ہر اس چیز سے بچو جو تمہارے رب کے غضب اور اس کی ناراضگی کا باعث اور اس کا سبب ہو ۔ وباللّہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیَرضٰی ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے سورة کریمہ کے آغاز میں ہی اور سب سے پہلے تقویٰ کا حکم دیا گیا۔ اور تقویٰ پر آمادہ اور برانگیختہ کرنے والی سب سے بڑی چیز قیامت کا عقیدئہ و ایمان اور اس کے احوال کا ذکر و تذکرہ ہے۔ اس لیے سب سے پہلے قیامت ہی کے کچھ احوال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ تاکہ تم لوگوں کے دلوں میں فکر پیدا ہو اور ان میں سنجیدگی آئے۔
2 قیامت کی ہولناک گھڑی کی تذکیر و یاددہانی : جس کا وعدہ تم سے کیا جاتا ہے اور جس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے۔ اور پل بھر میں دنیا کا یہ سارا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیا جائے گا۔ اسی لئے اس انتہائی ہولناک حادثے کے وقوع کو " ساعۃ " کے لفظ سے تعبیر فرمایا جاتا ہے۔ سو اس کو ہمیشہ یاد رکھو اور اس کیلئے ہر وقت فکر مند رہا کرو۔ اور اس کیلئے تیاری کرتے رہا کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس کے لیے جلدی مچانے کی بجائے اس کے لیے تیاری کرو اور اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کرو کہ اس کا موقعہ یہ دنیاوی زندگی کی فرصت محدود ہی ہے جس نے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کبھی نہیں ملنا۔ قیامت کی وہ ہولناک گھڑی ڈرنے اور بچنے کی چیز ہے نہ کہ مطالبہ کرنے کی۔
3 زلزلہء قیامت سے یہاں پر مراد ؟ : یعنی وہ زلزلہ جو کہ قیامت سے پہلے اس کے وقوع کی ایک عظیم الشان علامت اور نشانی کے طور پر ظہور پذیر ہوگا۔ یہ قول علقمہ وغیرہ اور بعض اہل علم کا ہے۔ (تفسیر کبیر، ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو نفخہ اولیٰ کے وقت ظاہر ہوگا جس کو " نفخہ صعق " بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قول ابن عباس ؓ اور حسن بصری (رح) کا ہے۔ (جامع البیان، خازن اور معالم وغیرہ) ۔ سو قیامت کا وہ بڑا زلزلہ بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سخت حادثہ ہوگا۔ سو اس دن سے غفلت اور لاپرواہی برتنا بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے لیے تیاری کا موقع اور اس کی فرصت یہ دنیاوی زندگی ہی ہے اور بس۔
Ayah 22:24 حادثہ قیامت کی شدت اور ہولناکی کا ایک منظر : کہ اس روز دودھ پلانے والی عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ عورت کا حمل اس کے خوف سے گرجائے گا۔ سو اس سے اس دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس زلزلہ کے بارے میں پہلے قول کی بناء پر تو یہ ارشاد اپنے ظاہر پر ہوگا مگر دوسرے قول کی بناء پر یہ علی سبیل الفرض ہوگا۔ یعنی اس موقعہ پر اگر کوئی حامل اور مرضعہ ہوتی تو یقیناً اس کا یہی حال ہوتا جو کہ یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ بڑا ہی ہولناک وقت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ دودھ پیتا بچہ اپنی ماں کو سب سے زیادہ عزیز اور سب سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ اور ماں کے پیٹ کا حمل دنیا میں خوف کی وجہ سے کبھی نہیں گرتا خواہ وہ کتنا بڑا خوف کیوں نہ ہو۔ مگر وہاں پر اور اس روز یہ دونوں چیزیں وقوع پذیر ہوں گی کہ دودھ پلانے والی عورتیں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گرجائیں گے۔ سو اس سے اس دن کی شدت اور ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
5 اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا : اتنا سخت اور اس قدر ہولناک کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال اس جہاں میں ممکن نہیں۔ سو وہ ایسا دن ہوگا کہ اس دن ہول اور دہشت سے لوگوں کا یہ حال ہوگا جو یہاں بیان فرمایا جارہا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ شدت ہول سے لوگوں کی عقلیں اڑ جائیں گی اور وہ مدہوش نظر آئیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ اس کے خوف سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ سو اس روز کی شدت اور ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور ان کی یہ مدہوشی کسی نشہ آور چیز کی وجہ سے نہیں ہوگی۔ بلکہ اس دن کی شدت اور ہولناکی ہوگی جو ان کو اس طرح مدہوش اور پاگل بنا کر رکھ دے گی۔ سو اس سے اس یوم کی شدت اور ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:36 اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے والوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں "۔ چناچہ کچھ تو اس کے پاکیزہ بندوں کو اس کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ کچھ فرشتوں کو اس کی بیٹیاں مانتے ہیں۔ کچھ اس کے کلام معجز نظام کا انکار کرتے اور اسے اساطیر اور افسانے قرار دیتے ہیں۔ اور کچھ اس کی قدرت میں شک اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اور کچھ کا کہنا ہے کہ وہ مرجانے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا وغیرہ وغیرہ۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور ایسے لوگوں کا جدال اور جھگڑا اور بحث مباحثہ کسی علم اور دلیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض عقلی ڈھکوسلوں، خودساختہ مفروضوں اور بےبنیاد حجت بازیوں کی بناء پر ہوتا ہے۔ اور " علم " یہاں پر نکرہ استعمال فرمایا گیا ہے جو عموم و شمول کا فائدہ دیتا ہے۔ سو ان لوگوں کے پاس جیسا کہ آگے آیت نمبر 8 میں وضاحت آرہی ہے نہ عقل و فطرت کی کوئی ہدایت ہے اور نہ قرآن اور کسی دوسری آسمانی کتاب کی کوئی روشنی اور دلیل۔ بلکہ محض اٹکل پچو باتوں، بےبنیاد مفروضوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں کی بنا پر جھگڑا کرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کا یہی حال کل تھا اور یہی آج ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
7 خدائے رحمان سے منہ موڑ کر شیطان سرکش کی پیروی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ محض شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں "۔ اور وہ ان کو جدھر بلائے یہ ادھر ہی چل دیتے ہیں اور طرح طرح کے خود ساختہ ڈھکوسلوں کی بناء پر یہ اس کی بات مان لیتے ہیں خواہ وہ شیطان سرکش جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ عام طور پر مفسرین کرام کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ نصر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ مشرکین مکہ کا ایک بڑا سرغنہ تھا۔ لیکن الفاظ کا عموم اس کو اور اس جیسے تمام سرکش شیطانوں کو شامل ہے جو بھی راہ حق و ہدایت سے روکے وہ اس میں داخل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ " کل " کا لفظ اسی عموم و شمول کو ظاہر کرتا ہے۔ اور شیاطین انس اور شیاطینِ جن کا آپس میں بڑا گہرا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ شیاطینِ جن شیاطین انس ہی کو اپنی فتنہ انگیزیوں کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیاطینِ جن القاء کرتے ہیں اور شیاطین انس ان کے اس القاء کو آگے مختلف فلسفوں کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور ان کو رو بہ عمل لانے کے لیے طرح طرح کے جال بنتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:48 شیاطین کی ڈیوٹی اضلال و افساد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسا شخص پیروی کرتا ہے اس شیطان سرکش کی " جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو بھی اس سے دوستی رکھے گا وہ اس کو گمراہ کر دے گا اور اس کو دوزخ کی راہ پر ڈال دے گا۔ یعنی قضائے الہٰی میں کہ جو بھی کوئی اس شیطٰنِ سرکش کے پیچھے چلے گا وہ اس کو راہ حق و ہدایت سے بہکا اور بھٹکا کر دوزخ کی راہ پر ڈال دے گا۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ پھر بھی اس کے پیچھے چلے جارہے ہیں۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو ایسے سرکش شیطانوں کی پیروی کرنا اور ان کے پیچھے چلنا ابدی ہلاکت اور دوزخ کی راہ پر چلنا ہے۔ کیونکہ شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تھی کہ اس کو اس کام کے لیے قیامت تک مہلت دی جائے جو اس کو دے دی گئی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تھا کہ جو تجھے اپنا مددگار اور راہنما بنائیں گے اور تیرے پیچھے چلیں گے۔ میں ان کو اور تم سب کو جہنم میں جھونک دوں گا۔ سو اسی حقیقت کو یہاں پر { کتب علیہ } کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا جس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ شیطان کی ڈیوٹی اور اس کا کام ہی دوسروں کو گمراہ کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
9 شیطان کی دوستی کا انجام دوزخ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کی دوستی و پیروی کا انجام دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرکے اور دوزخ کی راہ پر ڈال کر چھوڑے گا۔ طرح طرح کے وسوسوں اور شکوک و شبہات کے ذریعے۔ خواہ وہ شیطان انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔ (تفسیر کبیر وغیرہ) ۔ سو انسان کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ دیکھے اور غور کرے کہ وہ کس کی پیروی کرتا اور کس کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ اور بچنے کی کوشش کرے شیطان کی دوستی اور اس کی پیروی سے۔ کیونکہ جس نے اس سے دوستی رکھی اور اس کی پیروی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ اس کو گمراہ کر کے اور دوزخ میں پہنچا کر چھوڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:510 اِمکان بعث کی دلیل خود تمہاری اپنی جانوں سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کوئی شک ہو تو خود اپنی جانوں میں ہی غور کرلو۔ اس سے تم کو خود حق اور حقیقت سے آگہی ہوجائے گی اور تمہیں یقین ہوجائے گا کہ جو کچھ تمہارا رب فرماتا ہے وہی حق اور صدق ہے۔ سو خود اپنے وجود میں غور کرنے سے تمہارا یہ شک زائل ہوجائے گا اور تمہیں خود یقین ہوجائے گا کہ جو قادر مطلق تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کرسکتا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے اور پیدا کرنا چاہیئے۔ تاکہ حکمت تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہاں منکرین کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں شک ہو حالانکہ وہ اس کے پکے اور قطعی طور پر منکر تھے۔ سو اس میں یہ درس عظیم ہے کہ انکار آخرت کیلئے جرم و یقین کی کوئی بنیاد انسان کیلئے ہوسکتی ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ وہ شک ہی کرسکتا ہے اور بس۔
11 انسان کی تخلیق مٹی سے اور اس کی دو صورتوں کا ذکر : سو انسان کو خود اپنے وجود اور اپنی تخلیق میں دعوت غور و فکر دینے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تمہیں پیدا کیا ۔ بےجان ۔ مٹی سے "۔ کہ تمہارے باپ آدم کو براہ راست اسی مٹی سے بنایا۔ نیز تمہاری پیدائش جس مادہ تولید سے ہوتی ہے وہ بھی طرح طرح کی ان غذاؤں سے حاصل ہوتا اور بنتا ہے جو اسی مٹی سے پیدا ہوتی ہیں۔ تو اس طرح بھی تمہاری پیدائش بالواسطہ طور پر مٹی ہی سے ہوتی ہے۔ سو اس سے تم لوگ اپنے خالق ومالک کی عظیم الشان قدرت اور بےنہایت حکمت کا اندازہ کرو اور دیکھو کہ کہاں یہ بےجان اور بےحس و حرکت مٹی اور کہاں تم جیسے عقل و شعور کے مالک انسان جو اس سے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ پھر بھی اس قادر مطلق اور مہربان مطلق کا انکار اور اس کی قدرت بےنہایت میں شک کرنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تمہارا وجود ایک عظیم الشان سامان عبرت و بصیرت ہے۔ اسی سے حق تمہارے لیے پوری طرح واضح ہوسکتا ہے بشرطیکہ تم اس میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لو۔
12 خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے لیے کھول کر بیان کردیا تاکہ تم جان سکو کہ جو قادر مطلق پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے وہ یقیناً دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے کہ دوبارہ پیدا کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یعنی عام قاعدے اور ضابطے کے مطابق اور تمہاری عقلوں کے اعتبار سے۔ ورنہ اس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ کے اعتبار سے تو سب ایک برابر ہے کہ وہاں بات اسباب و وسائل کی نہیں ہوتی بلکہ حکم و ارشاد کی بات ہوتی ہے۔ جو چاہا ہوگیا۔ جس کا حکم دیا وہ موجود ہوگیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّمَا اَمْرُہ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہ کُنْ فَیَکُوْن } ۔ (یاسین : 82) یعنی " اس کی شان یہ ہے کہ وہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو فرماتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے "۔ نیز جب تمہاری تخلیق کے ان مختلف مراحل میں اس خالق کل اور مالکٍِ مطلق کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ نیز جس وحدہ لا شریک نے تم کو اس قدر اہتمام اور ایسے پر حکمت طریقے سے پیدا فرمایا اور وجود بخشا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تم کو یونہی بیکار چھوڑ دے اور تم سے اپنی نعمتوں کے بارے میں کوئی پرسش نہ کرے ؟ ایسے کار عبث سے اس کی ذات اقدس بہت بلند وبالا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو لازما تم لوگوں سے ان نعمتوں کے بارے میں ایک دن پوچھ ہوگی۔ وہ ہے قیامت کا وہ یوم فصل جس نے بہرحال بپا ہو کر رہنا ہے۔ سو یہ دلائل بیک وقت توحید خداوندی اور رسالت وآخرت کے دلائل ہیں ۔ والحمد للہ -
13 رحموں کے اندر قرار پکڑنا بھی اسی کی مشیت پر موقوف ہے : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کسی حمل کا وقت پر پیدا ہونا اور کسی کا اس سے پہلے گر جانا وغیرہ سب کچھ تابع ہے اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے۔ اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان تمام اطوار و احوال میں ایک اور بڑا عظیم الشان درس ہے کہ انسان اول سے آخر تک ہر حال میں اور ہر موقع پر اس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ کے تابع ہے۔ اس کا نہ کوئی ارادہ ہے نہ اختیار۔ تو پھر اپنے اس قادر مطلق خالق ومالک کی قدرت مطلقہ اور اپنے اس عجز و بےبسی کو بھول کر اپنی خودمختاری کے زعم میں مبتلا ہوجانا کس قدر بڑی حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان اول سے آخر تک قدرت کی رحمتوں اور عنایتوں میں ڈوبا ہوا ہے اور اس کا وجود ہر مرحلے اور موڑ پر اپنے خالق ومالک کی قدرت وحکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا زندہ ثبوت ہے۔
14 انسان کے خود اپنے وجود میں ایک داستان عبرت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے خود اپنے وجود میں عروج وزوال کی ایک داستان عبرت و بصیرت موجود ہے۔ سو انسان ان تمام مراحل اور سب قوتوں اور قدرتوں سے گزر کر پھر انتہائی عاجزی کی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔ پس جو ذات اقدس و اعلیٰ انسان پر یہ تمام احوال و عوارض طاری کرنے پر قادر ہے وہ اسے دوبارہ پیدا کیوں نہیں کرسکتی ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو انسان کے خود اپنے وجود کے اندر عروج وزوال کی عظیم الشان داستان عبرت و نصیحت موجود ہے مگر یہ غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَفِی اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ } ۔ (الذاریات :21) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
15 اِمکان بعث کی دلیل زمین سے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ امکان بعث کی ایک اور دلیل مردہ پڑی ہوئی زمین کا جی اٹھنا ہے۔ سو بارش سے پہلے یہ زمین مردہ پڑی ہوتی ہے۔ کہ نہ اس میں کسی سبزہ و ہریالی کا کوئی نام و نشان ہوتا ہے اور نہ کسی زندگی اور روئیدگی کے کوئی آثار و مظاہر۔ لیکن جونہی باران رحمت کے حیات آفریں چھینٹے اس پر پڑتے ہیں یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اور اس پر طرح طرح کی پیداواریں نمودار ہوجاتی ہیں۔ سو اپنی جانوں سے آگے بڑھ کر تم لوگ اگر اپنے پاؤں کے نیچے پڑی اس زمین میں صحیح طور پر غور و فکر کرو تو ان تمام غیبی حقائق کی تصدیق تمہارے سامنے آجائے جنکی دعوت تمہیں قرآن حکیم دے رہا ہے۔ لیکن مشکلوں کی مشکل یہی ہے کہ لوگ اس میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ یا تو وہ حیوانوں کی طرح اس کے خزانوں سے فائدے اٹھاتے ہیں اور کبھی سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے یا اس سے بھی نیچے گر کر وہ اسی زمین کی پوجا کرنے لگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جا گرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
16 زمین سے خوش منظر پیداواروں کا نکلنا : قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی حکمت کا ایک اور عظیم الشان مظہر ہے۔ پس جو قادر مطلق مردہ زمین کو اس طرح زندگی بخش کر اس سے یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ یقیناً انسانوں کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ نیز جس نے تمہاری جسمانی ضرورتوں کی تکمیل اور تمہاری ظاہری کھیتیوں کی آبادی اور ہریالی کا اس طرح انتظام فرمایا، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل اور تمہارے دلوں کی باطنی کھیتیوں کی آبادی و ہریالی کا انتظام نہ فرمائے ؟ جب کہ باطنی ضرورتوں کی تکمیل ظاہری ضرورتوں کی تکمیل سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ سو اسی لئے اس قادر مطلق اور واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ نے اپنے انبیائے کرام کی پاکیزہ اور مقدس جماعت کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتابیں اتاریں۔ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ایسی مقدس تعلیمات سے نوازا جن کا خلاصہ و نچوڑ اب قرآن حکیم کی صورت میں تمہارے سامنے موجود ہے۔ جو تمام آسمانی کتابوں کی جامع اور ان کے اصولی مضامین کی امین و پاسدار اور ان کی " مھیمن " کتاب ہے۔ اور جس کو قیامت تک کی سب دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کیلئے مینارہ رشد و ہدایت بنا کر اتارا گیا ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اس کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنانا اور اپنا راہبرو راہنما بنانا، دلوں کی دنیا کی آبیاری اور ہریالی کا سامان کرنا اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ مند ہونا ہے۔ اور اس سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا، دلوں کی دنیا کو اجاڑنا اور پھر ان کو ابدی خسارے کے ہولناک گڑھے میں ڈالنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 22:617 یہ سب کچھ اس بناء پر کہ اللہ ہی حق ہے : اور اس کے سوا جو بھی اور جتنے بھی معبود لوگوں نے طرح طرح کے ناموں سے ازخود گھڑ رکھے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ کارسازو کار فرما اور مختار و متصرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو انسان اگر اپنی پیدائش اور اپنی زندگی کے مختلف مراحل ہی میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو اس کو نظر آئے گا اور یہ حقیقت پوری طرح اس کے سامنے واضح اور آشکارا ہوجائیگی کہ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کرتا ہے۔ اور اس میں اس کے سوا اور کسی کا ارادہ شامل نہیں۔ وہی وحدہ لاشریک اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ سب کچھ کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا لوگوں نے جو اور طرح طرح کے مختلف ناموں سے معبود گھڑ رکھے ہیں وہ سب ان کے اوہام و خرافات کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے کسی کی بھی نہ کوئی اصل ہے نہ حقیقت۔ وہ سب کچھ خرافات ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
18 اللہ ہی زندہ کرتا ہے مردوں کو : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بیشک وہی زندہ کرتا ہے مردوں کو جو اس مردہ زمین کو زندگی بخش کر اس سے طرح طرح کی چیزیں پیدا فرماتا اور انسانوں اور دوسری بیشمار جاندار چیزوں کو زندگی سے مشرف فرماتا ہے۔ سو انسان اگر صحیح طور سے خود اپنے بارے میں غور و فکر سے کام لے تو اس کو نظر آئے گا کہ وہ وحدہ لاشریک آج بھی انسان کو اور دوسری طرح طرح کی جاندار چیزوں کو زندگی بخش رہا ہے اور مردوں کو زندہ کر رہا ہے۔ اور یہ عمل لگاتار اور ہر طرف اور ہر وقت جاری ہے۔ آخر انسان جن غذاؤں سے وقوع پذیر ہوتا ہے وہ مردہ نہیں تو اور کیا ہیں ؟ سو وہ جب چاہے گا مردوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
19 اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ کوئی بھی چیز نہ اس کے ارادہ و مشیت سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ اس کی قدرت مطلقہ سے خارج۔ وہ جو چاہے جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ قادر مطلق جب پانی کے معمولی سے قطرے سے انسان جیسی عاقل بالغ مخلوق کو پیدا فرماتا ہے اور زمین کو خشک اور چٹیل ہوجانے کے بعد پھر گل و گلزار کردیتا ہے اس کے لیے اس انسان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 22:720 اور قیامت نے بہرحال آکر رہنا ہے : کہ عقل و نقل اور عدل و حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ آئے اور ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے اور عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ اور اس طرح حکمتوں بھری اس کائنات کے مقصد تخلیق کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ ورنہ حکمتوں بھری اس کائنات کا وجود عبث اور بیکار قرار پاتا ہے جو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی حکمت مطلقہ کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ پس قیامت نے بہرحال اپنے وقت پر آ کر رہنا ہے۔ اس میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اللہم فزدنا ایمانا بہا و یقینا و استعدادا لہا ۔ پس عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 22:821 اللہ کے بارے میں جھگڑنے کی بدبختی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں "۔ اور وہ اس کی قدرت قاہرہ اور حکمت باہرہ سے متعلق طرح طرح کے سوالات اٹھاتے اور شکوک و شبہات پیدا و پیش کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان ظالموں کے باطن ایسے سیاہ ہوگئے کہ یہ اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے ایسے کھلے اور واضح مظاہر خود اپنی ذوات میں اور اپنے گرد و پیش میں پھیلی بکھری کائنات میں دیکھنے کے باوجود اسی وحدہ لاشریک کے حقوق و اختیارات اور اس کی ذات وصفات کے بارے میں جھگڑے کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مشرکین اگرچہ خداوند قدوس کے وجود اور اس کی ذات اقدس واعلیٰ کے منکر نہیں تھے مگر وہ اس کے ساتھ دوسرے بہت سے شرکاء بھی مانتے تھے۔ اور ان کے لیے بھی خدائی صفات کا دعویٰ کرتے تھے۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے مشرکانہ فلسفے گھڑتے تھے۔ جیسا کہ آج بھی مشرکوں کے یہاں پایا جاتا ہے۔ اور مشرک کہتے ہی اس کو ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو مانتا ہو مگر اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک جانتا ہو۔ سو ایسا ماننا نہ ماننے کے برابر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس بنا پر ایسے لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے جھگڑے کرتے ہیں۔
22 اور جھگڑے بھی بغیر کسی سند اور دلیل کے : محض اٹکل پچو باتوں، فرضی وہمی فلسفوں اور بےبنیاد مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بنیاد پر۔ اور حق و حقیقت سے آنکھیں میچ کر اور غافل و لاپرواہ بن کر۔ والعیاذ باللہ ۔ نہ ان کے پاس مشاہدہ پر مبنی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ نہ عقل سلیم کی اور نہ نقل صحیح یعنی کسی آسمانی کتاب و وحی کی کوئی دلیل ہوتی ہے۔ بلکہ محض ڈھکوسلے اور مفروضے ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز یہ لوگ پیش کرتے ہیں وہ یہ ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے پایا ہے۔ لہذا ہم اپنی اس میراث کو ترک نہیں کرسکتے۔ یعنی جہاں انہوں نے اپنی جہالت کی بنا پر کوئی مکھی ماری تھی ہم بھی وہاں پر مکھی مارتے رہیں گے خواہ یہ بات عقل و نقل کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔
Ayah 22:923 اِعراض و استکبار کا نتیجہ ضلال واضلال ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ بہکا سکے اللہ کی راہ سے دوسروں کو۔ اور اس طرح وہ ان کو بھی محروم کر دے حق و ہدایت کے نور سے۔ تاکہ یہ دونوں آپس میں ہمرنگ و ہم مشرب ہوجائیں اور بالآخر دونوں ہلاکت و تباہی کے نہایت ہی عمیق اور ہولناک گڑھے میں جاگریں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کبر و غرور اور اعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسا شخص جس کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دست بردار ہونے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس کے پندار پر سخت چوٹ لگتی ہے اور اس کا انتقام وہ اپنے کبر و غرور کا مظاہرہ کر کے لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے وہ شانے جھٹک کر منہ موڑ لیتا ہے اور اس طرح وہ اپنی گمراہی کو پکا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ ضلال اور اضلال کے ڈبل جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
24 ایسے لوگوں کیلئے بڑی رسوائی ہے دنیا کی زندگی میں : قتل و قید وغیرہ کی طرح طرح کی شکلوں میں۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی بڑائی کے زعم اور گھمنڈ کی بناء پر حق سے منہ موڑا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کبر و غرور اور اعراض و اسکتبار کی بناء پر ان کیلئے دنیا میں رسوائی کا عذاب ہوگا کہ جزا جنس عمل سے ہوتی ہے۔ اور اس پر بس نہیں کہ دنیا میں رسوائی کا عذاب ہوگیا اور چھوٹ گئے۔ نہیں بلکہ ان کیلئے اصل عذاب تو آخرت کا عذاب ہوگا جو کہ بڑا ہی سخت اور نہایت ہولناک عذاب ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں پر زیر بحث رسول کے مخالفین ہیں اور رسولوں کے مخالفین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر بھی واضح فرمایا گیا ہے یہی رہا ہے کہ اگر ایسے لوگ باز نہیں آتے اور اپنی مخالفت پر اڑے اور جمے ہی رہتے ہیں تو اتمام حجت کے بعد وہ اس دنیا میں بھی شکست اور ذلت و خواری سے دوچار ہوتے ہیں اور آخرت میں ایسے لوگ دوزخ کے عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے لوگوں نے اپنے باطن میں حسد، جلن اور حق دشمنی کا جو الاؤ تیار کر رکھا تھا اور جس کی وہ اپنے باطن میں برابر پرورش کرتے رہے اس کا طبعی تقاضا اور منطقی انجام یہی تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 22:10–1125 اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا اپنے بندوں پر : بلکہ وہ تو کرم ہی کرم فرماتا ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بندے خود اس سے منہ موڑ لیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ نہ وہ کسی کو بغیر جرم کے سزا دیتا ہے اور نہ کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیتا ہے۔ اور نہ ہی وہاں اس کا کوئی خدشہ اور امکان ہے کہ جرم کسی کا ہو اور سزا کسی اور کو ملے۔ سو ایسی کوئی بھی صورت وہاں متصور نہیں۔ مگر وہ کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا دیئے بغیر چھوڑتا بھی نہیں کہ یہ اس کی شان عدل کے تقاضوں کیخلاف ہے۔ لہذا اب تم لوگ اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بھگتان بھگتو ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 22:12–1332 غیر اللہ کو پکارنا انتہاء درجے کی گمراہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص اللہ کے سوا ایسی بےحقیقت چیزوں کو پکارتا ہے جو اس کو نہ کوئی نفع دے سکیں نہ نقصان۔ یہی ہے انتہاء درجے کی گمراہی کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی ہستیوں کو پوجے پکارے جن کے معبود بننے کا کوئی امکان ہی نہ ہو۔ کہ معبود برحق تو بہرحال ایک ہی ہے۔ اور جن میں کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسی بےحقیقت چیزوں کو معبود قرار دینا اور انکو پوجنا پکارنا دائمی ہلاکت و تباہی کا سامان اور خود اپنی تذلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے پکارتے ہیں جن کے اختیار میں نہ کسی طرح کا کوئی نفع پہنچانا ہے نہ نقصان۔ کہ نفع و نقصان کے سب اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں جو اس پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے خالق ومالک ہے۔ اور ہر چیز کا نفع و نقصان اسی وحدہ لا شریک کے ہاتھ میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 22:1435 جنتیوں کیلئے عظیم الشان نہریں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح کی دولت رکھنے والے ایسے خوش نصیبوں کو ایسی عظیم الشان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے عظیم الشان نہریں جاری ہونگی۔ یعنی دودھ کی، شہد کی اور شراب طہور کی۔ اور صاف ستھرے پانی کی۔ اور پانی بھی ایسا جس میں کہیں کوئی سڑانڈ پیدا نہ ہو۔ اور شراب ایسی کہ نہ اس سے کوئی خرابی پیدا ہو اور نہ کسی طرح کا کوئی فتور آئے۔ اور شہد ایسا کہ جس میں کوئی کدورت اور آمیزش نہ ہو۔ اور دودھ ایسا کہ جس میں کبھی کوئی تغیر اور بدلاؤ نہ آئے۔ جیسا کہ سورة محمد کی آیت نمبر 15 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور پھر ان نعمتوں میں ان کا رہنا بھی ہمیشہ کا ہوگا۔ سو یہ ہے اصل اور حقیقی کامیابی جو انسان کو ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی اور حقیقی کامیابی کا حصول انسان کے اپنے ایمان وعمل پر ہے نہ کہ حسب و نسب وغیرہ کے مصنوعی اور خود ساختہ فوارق پر۔
36 بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے : نہ کوئی اسے روک سکتا ہے کہ وہ خالق کل اور مالک مطلق بھی ہے اور حاکم و متصرف بھی۔ جو چاہے کرے۔ مگر چونکہ وہ عادل اور حکیم بھی ہے اس لئے اس کا ہر حکم و ارشاد سراسر عدل و حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں کسی حرف گیری کی کسی گنجائش کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی اس حکمت مطلقہ اور عدل کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کو اس اجر وثواب سے نوازے جس کے وہ اپنے ایمان اور عمل کی بناء پر مستحق ہوں گے۔ اور پھر وہ چونکہ بادشاہوں کا بادشاہ اور احکم الحاکمین، ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین ہے، اس لیے اس کی عطاء و بخشش بھی بےمثال ہوگی ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 22:1537 اللہ سے مایوس اور بدگمان ہونے والوں کو سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرے گا۔ یعنی آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تو وہ آسمان کی طرف رسی تان کر اس مدد کو قطع کر دے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے کی جاتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس نصرت و مدد کو رکوا دے جو اس کی طرف سے اس کے رسول کے لئے کی جاتی ہے کہ اپنے رسولوں کی مدد کرنے کا اس نے قطعی وعدہ فرما رکھا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الاَشْہَادُ } ۔ (المومن :51) ۔ نیز { ثُمَّ لْیَقْطَعْ } کا دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایسا شخص رسی تان کر پھانسی پر لٹک جائے اور اپنے اس غیظ و غضب میں اپنی جان کا خاتمہ کر دے کہ وہ اللہ کی مدد کو نہیں روک سکتا۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، مدارک، خازن اور محاسن وغیرہ) ۔ اس میں اور بھی کئی احتمال و اقوال موجود ہیں وہ انشاء اللہ ہم اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا اور اس کی توفیق مل گئی۔ لیکن یہ سب اقوال و احتمال اس صورت میں ہیں جبکہ { ینصرہ } کی ضمیر منصوب کا مرجع رسول کو قرار دیا جائے۔ لیکن اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ اس کا مرجع " من " کا کلمہ موصولہ ہو جو کہ اس آیت کریمہ کے شروع میں وارد ہوا ہے۔ سو مطلب یہ ہوگا کہ جو کوئی بدبخت اس بدگمانی میں مبتلا ہو کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرے گا اور اس بنا پر وہ اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بنا لے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ بلکہ اپنے آپ ہی کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالے گا۔ اس لیے ایسے لوگوں کے لیے اس میں تنبیہ ہے۔ بعض حضرات اہل علم نے اسی احتمال کو اختیار کیا ہے اور یہی سیاق وسباق کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سوء ظن اور انحراف کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
38 خدا کے ساتھ بدگمانی رکھنے والے کی تجہیل و تحمیق : سو ایسے بدبخت شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ خود دیکھ لے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو لے جاسکتی ہے جو اس کو غصہ دلاتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور یقیناً نہیں کہ ایسا کرنا نہ کسی کے بس میں ہے اور نہ ایسے ہوسکتا ہے۔ تو پھر حق سے منہ موڑنے کا نتیجہ و فائدہ کیا ؟ سوائے اپنی محرومی اور بدنصیبی کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سلامتی کی راہ یہ ہے کہ سلسلہ وحی پر کڑھنے اور اس کو بند کرانے کی فکر میں پڑنے کی بجائے اللہ کی رسی یعنی قرآن حکیم پر صدق دل سے ایمان لاکر اور اس کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ کو اپنایا جائے۔ یہ تقریر اوپر کے دونوں احتمالوں میں سے پہلے احتمال کی بنا پر ہوگی۔ جبکہ دوسرے احتمال کی صورت میں { فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَائِ } ۔ یعنی آسمان کی طرف رسی تاننا آخری اور انتہائی تدبیر کر دیکھنے کے لیے اسی طرح کا ایک استعارہ ہوگا جس طرح ہماری زبان میں تھگلی لگانے کا محاورہ ہے۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 35 میں بھی اسی طرح ایک استعارہ گزر چکا ہے۔ سو مطلب یہ ہوگا جو بدبخت اس طرح کی بدگمانی میں مبتلا ہوں کہ اللہ ان کی کوئی مدد فرمائے گا اور اس بنا پر وہ دوسرے من گھڑت سہاروں کو اپنا ماویٰ و مرجع بنالیں وہ جہاں چاہیں آوارہ گردی کریں اور جس جوہڑ سے چاہیں اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کریں لیکن وہ یاد رکھیں کہ انسانی فطرت کے اندر جو پیاس ہے وہ ہر جوہڑ سے بجھنے والی نہیں۔ وہ صرف ایمان کے حوض کوثر ہی سے بجھ سکتی ہے۔ اور اس کے اندر جو خلا ہے وہ ہر اینٹ پتھر سے نہیں بھرا جاسکتا۔ اس کو اگر بھرا جاسکتا ہے تو اللہ وحدہ لا شریک ہی کی یاد دلشاد سے بھرا جاسکتا ہے۔ سو بڑے ہی احمق اور مت کے مارے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس طرح کی کسی بدگمانی میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:1639 ہدایت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ سو وہی توفیق دیتا ہے کہ اس کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ کو اپنایا جائے۔ کیونکہ ہدایت کی دولت جو سب سے بڑی دولت ہے وہ حق تعالیٰ کی طرف سے اس کی بےنہایت رحمت و فیاضی کی بناء پر ملتی تو بالکل مفت ہے لیکن اس کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق ہے جس کا تعلق انسان کے باطن اور اس کے دل سے ہے۔ اور دلوں کی حالت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے وہ حق و ہدایت کے نور سے انہی کو نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے جو اپنے باطن میں اس کے لئے طلب صادق رکھتے ہیں۔ اسی لئے { یَہْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ } کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ہدایت اسی کو بخشتا ہے جو ہدایت چاہتا ہے۔ سو ہدایت کی دولت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور اس کے ارادہ پر موقوف ہے۔ اور وہ اس دولت سے انہی کو نوازتا ہے جو اس کے لیے اپنا اندر ارادہ اور طلب صادق رکھتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 22:17–1840 اصل فیصلہ قیامت ہی کے روز : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہی سب کے درمیان فیصلہ فرمائے گا قیامت کے دن۔ یعنی عملی طور پر اور آخری فیصلہ کہ ایمان والوں کو جنت میں داخل فرما دے گا اور کفر والوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ ورنہ علمی طور پر فیصلہ تو وہ ان کے درمیان اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعے اس دنیا میں ہی فرما چکا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور حق کو باطل سے پوری طرح نکھار کر بیان فرما دیا ہے مگر یہ دنیا چونکہ " دارالجزاء " نہیں " دارالعمل " ہے۔ اس لیے یہاں پر سب کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ سو آج جو مختلف قومیں اور جماعتیں حق اور اہل حق کے خلاف دندناتی پھرتی ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ایسے ہی بچے رہیں گے۔ نہیں بلکہ ان سب کے درمیان اصل فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا جو کہ آخری، قطعی اور عملی فیصلہ ہوگا۔
Ayah 22:1947 کافروں کیلئے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے ہیں۔ سو اپنے اختیار کردہ کفر و شرک کی بناء پر آگ کے یہ کپڑے آج بھی ان لوگوں کے جسموں پر موجود ہیں مگر امتحان و آزمائش کے تقاضوں کے پیش نظر آج وہ نظر نہیں آرہے۔ کل جب محنت و مجاہدہ کی اس دنیا سے گزر کر یہ لوگ آخرت کے اس دارالجزاء میں پہنچیں گے جو کہ عالم مشاہدہ ہوگا تو یہ سب پوشیدہ حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے اور دوزخ کی وہ آگ ان کو چاروں طرف سے آ گھیرے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { سَرَابِیْلُہُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی وُجُوْہَہُمُ النَّارُ } ۔ (ابراہیم : 50) ۔ نیز دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { لَہُمْ مِنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ } ۔ (الاعراف :41) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور " پھر کپڑے کاٹ دیئے گئے ہیں " کہ اس ارشاد ربانی میں یہ بلاغت اور استعارہ بھی ہے کہ جس طرح کپڑا انسان کے ناپ اور اس کی جسمانی ساخت کے مطابق اور اس کے کے برابر کاٹا جاتا ہے، اسی طرح ان کے یہ دوزخی کپڑے بھی انکے جرائم کے مطابق کاٹے جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر بھی اس کی وضاحت کردی ہے ۔ والحمدللہ ۔ بہرکیف کافروں کیلئے دوزخ کی آگ کا ہولناک لباس ہوگا اور اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمانا تحقق وقوع کیلئے ہے۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و انحراف کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور پاک رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 22:20–2348 کافروں کے عذاب کی شدت اور ہولناکی کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پگھل پگھل جائے گا وہ سب کچھ جو کہ ان کے پیٹوں کے اندر ہوگا اور ان کی کھالیں بھی "۔ اور جلنے اور پگھلنے کے بعد یہ سب کچھ دوبارہ اسی طرح ہوجائے گا اور اس طرح ان کو ملنے والا یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا۔ یعنی ایسا نہ ہوگا کہ آگ سے جل کر یہ ختم ہوجائیں اور جان چھوٹ جائے۔ جیسا کہ دنیا میں آگ سے جلنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہاں وہ جلتے ہی رہیں گے اور مرنے بھی نہیں پائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَا یَقْضٰی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتَوْا وَلَا یَخَفّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِہَا } ۔ (فاطر : 36) ۔ بلکہ اس طرح جل جانے کے بعد وہ پھر دوبارہ پہلی حالت میں کر دئیے جائیں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنَاہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ } ۔ (النسائ :56) ۔ اور سنن ترمذی وغیرہ کی روایت میں ہے ۔ " ثُمَّ یُعَادُ کَمَا کَانَ " ۔ یعنی اس کو پھر دوبارہ ایسے ہی کردیا جائے گا جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ (المراغی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا میں روئے زمین کی ساری دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے جو سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ اللہم زدنا منہ و ثبتناعلیہ -
Ayah 22:2452 پاکیزہ قول کی ہدایت ایک عظیم الشان نعمت : ان کو پاکیزہ قول کی ہدایت (و توفیق) مل گئی تھی۔ یعنی کلمہ توحید کی جو کہ اصل اساس و بنیاد ہے تمام خوبیوں اور جملہ محاسن و محامد کی۔ (مدارک، جلالین، معارف اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ کہ اسی کلمہ طیبہ کے ذریعے قرآن حکیم کے ان خزائن تک انسان کو رسائی حاصل ہوتی ہے جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کے کفیل وضامن اور امین و پاسدار ہیں۔ اور اسی قول طیب کے نتیجے اور اس کے صلہ وثمرہ میں اہل ایمان کو جب آخرت میں جنت اور اس کی بےمثال نعمتوں سے نوازا جائے گا تو ان کی زبان پر اپنے رب کی حمد وثناء کے ترانے جاری ہوجائیں گے اور وہ طرح طرح کے الفاظ و کلمات کے ذریعے اپنے رب خالق ومالک اور منعم و وہاب کے شکر سے رطب اللسان ہوجائیں گے۔ کبھی جھوم جھوم کر وہ اس طرح کہیں گے ۔ { الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہ وَاَوْرَثَنَا الاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیَثُ نَشَائُ } ۔ (الزمر : 74) اور کبھی وہ دنیاوی غموں سے رہائی و نجات کو یاد کرکے اور جنت کی ان اعلیٰ وارفع اور دائمی و سرمدی نعمتوں کو دیکھ کر جن سے ان کو سرفراز کردیا گیا ہوگا سراپا شکر وسپاس بن کر کہیں گے ۔ { اَلْحَمْدُ اللّٰہِ الّذِیْ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ، الَّذِیْ اَجَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ لَا یَمَسُّنَا فِیْہَا نَصَبٌ وَلا یَمَسُّنَا فِیْہَا لُغُوْبٌ } (فاطر : 34 ۔ 35) اور کبھی وہ ہدایتِ حق اور توفیق خیر وسعادت کی اس نعمت کو یاد کر کے جو کہ ان کو دنیا میں نصیب ہوئی ہوگی اپنے خالق ومالک کی حمد و ثنا میں اس طرح گویا ہو نگے ۔ { الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہِذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلا اَنْ ہَدَانَا اللّٰہُ } ۔ (الاعراف : 43) ۔ دوسری طرف ان کو سلامتی کے اس گھر ۔ دارالسلام ۔ میں سلام اور سلامتی والے میٹھے میٹھے اور رس گھولتے کلمات کے سوا اور کوئی ایسا کلمہ نہیں سننا پڑے گا جو لغو و بیکار یا گناہ کی آلودگی رکھنے والا ہو۔ جیسا کہ سورة واقعہ میں فرمایا گیا ۔ { لا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّ لا تَأثِیْمًا، اِلا قِیْلاً سَلامًا سَلامًا } ۔ (الواقعۃ : 25 -26) ۔ اور پھر سلامتی والے یہ کلمات جن کا وہاں پر دور دورہ ہوگا یہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ان کی آپس کی دعاء وہاں پر یہی ہوگی جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلامٌ } ۔ (یونس : 10) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { تَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلامٌ } ۔ (ابراہیم : 23) ۔ اور حق تعالیٰ کی طرف سے بھی ان کو سلامتی والا یہی کلمہ سننے کو ملے گا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { سَلامٌ قَوْلا مّنْ رَّبِّ رَّحِیْم } ۔ (یسٓن : 58) ۔ سو ان تمام کلمات طیبات سے بہرہ مندی اور ان تمام نعمتوں سے سرفرازی انسان کو اسی کلمہ طیبہ کلمہ توحید کی بناء پر نصیب ہوگی جس کے ذریعے وہ دین حق اسلام کے حظیرئہ قدس میں داخل ہوتا ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کلمہ یعنی کلمہ توحید کس قدر عظیم الشان اور جلیل القدر کلمہ ہے۔ یہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی کلید و مفتاح اور باب جنت کی کنجی ہے ۔ کما ورد ذلک فی صحاح الاحادیث ۔ اور اسی کیلئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو اپنی زندگی کے خاتمے کے موقع پر اس پاکیزہ کلمے کا ذکر و ورد نصیب ہوگیا وہ مراد کو پا گیا اور جنت میں داخل ہوگیا۔ چناچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے " مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلامِہ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ " ۔ اللہ تعالیٰ راقم آثم کو اور راقم آثم کے جملہ متعلقین کو یہ سعادت و توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ اسی لئے روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں عرض کیا کہ مالک ! مجھے کوئی ایسا خاص ذکر بتادیں جس کے ذریعے میں آپ کو یاد کیا کروں۔ تو آپ (علیہ السلام) کو اس کے جواب میں یہی کلمہ ارشاد فرمایا گیا۔ تو آپ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مالک میں تو اپنے لئے کوئی خاص ذکر چاہتا تھا اور یہ کلمہ تو ہر کوئی پڑھتا ہے۔ تو جواب ملا کہ موسیٰ یہ کلمہ ایسا عظیم الشان کلمہ ہے کہ اگر اس کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور ساتوں زمینوں اور ساتوں آسمانوں اور ان کے اندر کی سب مخلوق کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو یہ ان سب پر حاوی نکلے گا ۔ " لَوَزَنَتْہُنَّ " ۔ فالحمد لِلّٰہِ الَّذی شَرَّفَنَا بہذہ الکلمۃ العظیمۃ الجلیلۃ وبالایمان بہا ۔ الحمد لِلّٰہِ کہ آیت کریمہ کی اس تفسیر اور تفصیل سے جو ہم نے یہاں پر اختیار کی ہے حضرات علماء و مفسرین کرام کے وہ سب مختلف اقوال جمع ہوجاتے ہیں جو انہوں نے اس قول طیب کی تعیین و تفسیر کے بارے میں ذکر فرمائے ہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس پاکیزہ کلمہ کلمہ توحید کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
53 صراط حمید سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ہدایت مل گئی تھی پاکیزہ قول کی اور ان کو ہدایت مل گئی تھی خدائے ستودہ صفات کے راستے کی۔ یعنی اسلام کی جو کہ منبع ہے ہر خیر کا اور مصدر ہے ہر بھلائی کا۔ اور جو کفیل وضامن ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کا۔ اور اسی سے ان کو اس طریق محمود کی توفیق و سرفرازی نصیب ہوتی ہے جس پر چل کر یہ دنیاوی زندگی بھی پاکیزہ اور محمود بنتی ہے اور جس سے مومن صادق کو وہ اقوال مرضیہ اور افعال محمودہ نصیب ہوتے ہیں جو اس کو حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ سے سرفراز و بہرہ مند کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے معاشرے میں ایک محمود اور پسندیدہ انسان بن جاتا ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ جنت کی اس پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ ماحول میں پہنچتا ہے جہاں اس کا کام ہی اپنے رب کی حمد و ثنا سے سرفراز ہونا ہوگا۔ اور وہاں وہ ایسے بلاتکلف حمد و ثنا کریں گے جیسا کہ سانس لیتے ہیں۔ سو صراط حمید یعنی دین اسلام دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل وضامن ہے۔ اور یہی صراط حمید ہے جو انسان کو اپنی منزل مقصود سے سرفرازی کی راہ روشن کرتا ہے اور یہی شاہراہ اس کو دار المقامۃ تک پہنچائے گی۔ اور اللہ ہمیشہ حق و ہدایت کی اس راہ پر ثابت قدم اور مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔